نماز کو ہلکا کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ.
ایک صحابی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: اللهم إني أسألک الجنة وأعوذ بک من النار اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ١ ؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ہم بھی اسی ٢ ؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں ۔
Jabir narrated the story of Muadh and said: The prophet ﷺ said to a youth: My nephew, what do you do in prayer? He replied: I recited fatihat al-katab and I ask Allah for paradise and seek his refuge from hell-fire I do not understand well your sound and the sound of Muadh. The prophet ﷺ said: I and Muadh go around both (paradise and Hell-fire), or he said something similar.