عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نماز فجر میں ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھے، آپ نے قرآت شروع کی تو وہ آپ پر دشوار ہوگئی، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟ ، ہم نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں تو ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: سورة فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔
Nafib. Mahmudb. Al-Rabi Al-Ansari said: “Ubadah bin al-Samit came to late to lead the morning prayer. Abu Nuaim, the Muadhdhin, pronounced the takbir and he led the people in prayer. Then Ubadah came and I was with him. We Joined the row behind Abu Nuaim, while Abu Nuaim was reciting the Quran loudly. Then Ubadah began to recite the Umm al-Quran (I. e Surah al Fatihah). When he finished, I said to Ubadah: I heard you reciting the Umm al-Quran while Abu Nuaim was reciting Quran loudly. He replied: yesgt; The Messenger of Allah ﷺ led us in a certain prayer in which the Quran is recited loudly, but he became confused in the recitation. When he finished he turned his face to us and said: Do you recite when I recite the Quran loudly? Some of us said: we do so; this is why I said to myself: What is that which confused me (in the recitation of) the Quran. Do not recite anything from the Quran when I recite it loudly except the Umm al-Quran.
Notes · وضاحت
١ ؎: جب اسے هَذَّ يَهُذُّ کا مصدر هَذًّا مانا جائے تو اس کے معنی پڑھنے والے کا ساتھ پکڑنے کے لئے جلدی جلدی پڑھنے کے ہوں گے، اور اگر هذا کو اسم اشارہ مانا جائے تو ترجمہ یوں کریں گے ” ایسا ہی ہے “۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی الصلاة ١١٥ (٣١١)، (تحفة الأشراف: ٥١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢)، (حسن) (ابن خزیمة نے اسے صحیح کہا ہے (٣ ؍ ٣٦- ٣٧) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے بھی حسن کہا ہے (٢ ؍ ١٦٤) ابن حجر نے نتائج الافکار میں حسن کہا ہے )، ملاحظہ ہو: امام الکلام تالیف مولانا عبدالحی لکھنوی (٢٧٧- ٢٧٨ )
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت ؓ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کردی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورة فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ ؓ سے کہا: میں نے آپ کو (نماز میں) سورة فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہوگیا، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟ ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورة فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو ۔
The above mentioned tradition has been transmitted through a different chain of narrators by Ubadah bin al-Samit like the version of al-Rabib Sulaiman. This version adds: Makhul used to recite Surah al Fatihah al-kitab quietly in the prayer in which the imam recites the Quran loudly when he observes the period of silence. If he does not observe the period of silence, recite it before him (i. e before his recitation), or along with him or after him; do not give it up in any case.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٢٩ (٩٢١)، (تحفة الأشراف: ٥١١٦) (صحیح) (اہل علم نے اس حدیث کے بارے میں لمبی چوڑی بحثیں کی ہیں، ملاحظہ ہو: تحقيق الکلام في وجوب القرائة خلف الإمام للعلامة عبدالرحمن المبارکفوري، وإمام الکلام للشيخ عبدالحي اللکهنوي، و ضعيف أبي داود (9/ 318 )
اس طریق سے بھی عبادہ ؓ سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کی طرح روایت مروی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ مکحول مغرب، عشاء اور فجر میں ہر رکعت میں سورة فاتحہ آہستہ سے پڑھتے تھے، مکحول کا بیان ہے: جب امام جہری نماز میں سورة فاتحہ پڑھ کر سکتہ کرے، اس وقت آہستہ سے سورة فاتحہ پڑھ لیا کرو اور اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا اس کے بعد پڑھ لیا کرو، کسی حال میں بھی ترک نہ کرو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ finished a prayer in which he had recited (the Quran) loudly, he asked: Did any of you recite along with me just now? A man replied: Yes, Messenger of Allah. He said: I am wondering what is the matter with me that I have been contended with reciting the Quran. He said: When the people heard that from the Messenger of Allah ﷺ they ceased reciting (the Quran) along with him at the prayers in which he recited aloud. Abu Dawud said: This tradition reported by Ibn Ukaimah has also been narrated by Mamar, Yunus, and Usamah bin Zaid on the authority of al-Zuhri similar to the tradition of Malik.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥١١٤) (ضعیف) (مکحول نے عبادہ ؓ کو نہیں پایا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک نماز سے جس میں آپ نے بلند آواز سے قرآت کی تھی پلٹے تو فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرآت کی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تبھی تو میں (دل میں) کہہ رہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ کشمکش کی جا رہی ہے ۔ زہری کہتے ہیں: جس وقت لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا تو جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے تھے، اس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآت کرنے سے رک گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer, that was, we think, the dawn prayer, He further narrated this tradition up to the words “what is the matter with me that I have been contended with in (the recitation of) the Quran. ” Abu Dawud said: Musaddad in his tradition said that Mamar said: The people ceased to recit (the Quran) at the prayer in which the Messenger of Allah ﷺ recited aloud. Ibn al-Sarh said in his version that Mamar reported from al-Zuhrl on the authority of Ab Hurairah. Then the people ceased (to recite behind the imam). Another version says: Sufyan said: Al-Zuhrl spoke a word that I could not hear. Then Mamar said; He said: Then people ceased (to recite the Quran) Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Abd al-Raman bin Ishaq on the authority of al-Zuhrl. This version ends at the words: “What is the matter with me that I am contended with in (the recitation of) the Quran. Al-Awza’ I also narrated it on the authority of al-Zuhri. This version has: Al-Zuhrl said: The Muslims took lesson from that and thenceforth they did not recite (the Quran) at the prayer in which he (the Prophet) recited a loud. Abu Dawud said: I heard Muhammad bin Yaya bin Faris say: The words “ the people ceased to recite (the Quran)” is a statement of al-zuhri.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣١٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٨ (٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٣ (٨٤٨، ٨٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٠(٤٤)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٨٤، ٢٨٥، ٣٠٢، ٤٨٧) (صحیح )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، ہمارا گمان ہے کہ وہ نماز فجر تھی، پھر اسی مفہوم کی حدیث ما لي أنازع القرآن تک بیان کی۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ معمر نے کہا: تو لوگ اس نماز میں قرآت سے رک گئے جن میں رسول اللہ ﷺ جہری قرآت کرتے تھے، اور ابن سرح کی روایت میں ہے کہ معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: فانتهى الناس یعنی لوگ (قرآت سے) رک گئے، عبداللہ بن محمد زہری کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا کہ زہری نے کوئی بات کہی، جسے میں سن نہ سکا تو معمر نے کہا وہ یہی فانتهى الناس کا کلمہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی روایت آپ ﷺ کے قول ما لي أنازع القرآن پر ختم ہے اور اسے اوزاعی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، اس میں یہ ہے کہ زہری نے کہا: اس سے مسلمانوں نے نصیحت حاصل کی، چناچہ جس نماز میں آپ جہری قرآت کرتے، آپ کے ساتھ قرآت نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس کو کہتے ہوے سنا ہے کہ فانتهى الناس زہری کا کلام ہے ١ ؎۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ led (us) in the noon prayer, and a man came and recited behind him Glorify the name of thy Lord, the Most High (Surah 87). When he finished (the prayer), he said: Which of you recited? They (the people) said: A man (recited). He said: I knew that some one of you confused me in it (in the recitation of the Quran). Abu Dawud said: Abu al-Walid said in his version: Shubah said: I asked Qatadah (RA) : Did Saeed not say: Listen attentively to the Quran? He replied: (Yes), but that applies to prayer in which it (the Quran) is recited aloud. Ibn Kathir said in his version: I said to Qatadah (RA) : Perhaps he (the Prophet) disliked it (recitation). He said: If he had disliked it, he would have prohibited it.
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ فانتهى الناس کے جملہ کو معمر کبھی ابوہریرہ ؓ کا کلام قرار دیتے ہیں، اور کبھی زہری کا، لیکن زہری کے دوسرے تلامذہ سفیان، عبدالرحمن بن اسحاق، اوزاعی اور محمد بن یحییٰ بن فارس نے اسے زہری کا کلام قرار دیا ہے۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی تو ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے پیچھے سبح اسم ربک الأعلى کی قرآت کی، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم میں کس نے قرآت کی ہے؟ ، لوگوں نے کہا: ایک شخص نے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ایسا محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالولید نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا تو میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا سعید کا یہ کہنا نہیں ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم خاموش رہو؟ انہوں نے کہا: یہ حکم اس وقت ہے، جب قرآت جہر سے ہو۔ ابن کثیر نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا: گویا آپ نے اسے ناپسند کیا تو انہوں نے کہا: اگر آپ کو یہ ناپسند ہوتا، تو آپ اس سے منع فرما دیتے ١ ؎۔
Imran bin Husain reported that the prophet of Allah ﷺ led them in the noon prayer. When he finished it, he said: Which of you did recite the surah “ Glorify the name of thy lord, the Most High” (Surah lxxxvii.) A man said: I. He said: I knew that some one of you confused me in it (i. e in the recitation of the Quran).
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ نے صرف (زور سے پڑھنے) کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلجان قلب کو ناپسند کیا، سورة کی قرأت پر صاد کیا، تو سورة فاتحہ کی قرأت پر بدرجہ اولیٰ پسندیدگی پائی گئی۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورة سبح اسم ربک الأعلى پڑھی ہے؟ ، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to us while we were reciting the Quran, and there were among us bedouins and the non-Arabs. He said: Recite, all is well. In the near future there will appear people who will straighten it (the Quran) as an arrow is straightened. They will recite it quickly and not slowly (or it means that they will get the reward in this world and not in the Hereafter).
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے (یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے ۔
Sahl bin Saad al-Saeedi said: The Messenger of Allah ﷺ one day came out to us while we were reciting the Quran. He said: Praise be to Allah. The Book of Allah is one, and among you are the red, and among you are the white and among you are the black. Recite it before there appear people who will recite it and straighten it as an arrow is straightened. They will get their reward for it in this world and will not get it in the Hereafter.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٧، ٣٩٧) (صحیح )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: الحمداللہ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں، تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے، اس کا بدلہ (ثواب) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا ۔
Narrated Abdullah ibn Abu Awfa (RA) : A man came to the Prophet ﷺ and said: I cannot memorise anything from the Quran: so teach me something which is sufficient for me. He said: Say Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and Allah is most great, and there is no might and no strength but in Allah.: He said: Messenger of Allah, this is for Allah, but what is for me? He said: Say: O Allah have mercy on me, and sustain me, and keep me well, and guide me. When he stood up, he made a sign with his hand (indicating that he had earned a lot). The Messenger of Allah ﷺ said: He filed up his hand with virtues.
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں قرآن میں سے کچھ نہیں پڑھ سکتا، اس لیے آپ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو اس کے بدلے مجھے کفایت کرے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله کہا کرو ، اس نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو اللہ کی تعریف ہوئی، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم کہا کرو اللهم ارحمني وارزقني وعافني واهدني اے پروردگار! مجھ پر رحم فرما، مجھے روزی دے، مجھے عافیت دے اور مجھ کو ہدایت دے ، جب وہ شخص کھڑا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ١ ؎ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے تو اپنا ہاتھ خیر سے بھر لیا ۔
Jabir bin Abdullah said: we used to offer supererogatory prayers and recite supplications while we were standing, and would glorify Allah while bowing and prostrating.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں ہاتھوں کو سمیٹا جس سے اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس نے ان باتوں کو محفوظ کرلیا ہے جن کا رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا ہے جس طرح کوئی عمدہ چیز سمیٹ کر آدمی اسے محفوظ کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ افتتاح ٣٢ (٩٢٥) (تحفة الأشراف: ٥١٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٦، ٣٨٢) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں ہم نفل نماز پڑھتے تو قیام و قعود کی حالت میں دعا کرتے اور رکوع و سجود کی حالت میں تسبیح پڑھتے تھے۔
The above-mention tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Humaid, but he did not mention the word “Supererogatory prayer” This version has: Al-Hasan (al-Basri) would recite fatihat al-kitab in the noon and afternoon prayers while he led in prayer or he was behind the imam and would glorify Allah, and would repeatedly say: “Allah is most great” and “ There is no god but Allah” (i. e takbir and tahlil) equal to the amount one recites al-Qaf (Surah 50) and al-Dhariyat (surah 51).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٠) (ضعیف) (حسن بصری نے جابر ؓ سے نہیں سنا ہے )
حمید سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں راوی نے نفل کا ذکر نہیں کیا ہے، اس میں ہے کہ حسن بصری ظہر اور عصر میں خواہ وہ امام ہوں یا امام کے پیچھے ہوں، سورة فاتحہ پڑھتے تھے اور سورة ق اور سورة ذاریات پڑھنے کے بقدر (وقت میں) تسبیح و تکبیر اور تہلیل کرتے تھے۔
Mutarrif said: I and Imran bin Husain offered prayer behind ‘All bin AbI Talib (may Allah be pleased with him). When he prostrated, he uttered the takbir (Allah is most great) and when he bowed, he uttered the takbir and when he stood up at the end of two rak’ahs, he uttered the takbir. When we finished our prayer, Imran caught hold of my hand, and said: He has led us in prayer just now like the prayer offered by Muhammed (may peace by upon him).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٠، ١٨٥١٣) (ضعیف مقطوع ولکن فعلہ صحیح وثابت) (جابر ؓ کا اثر ضعیف ہے، اور حسن بصری کا فعل صحیح ہے، قرأت پر قادر آدمی کے لئے قرأت فرض ہے )
مطرف کہتے ہیں میں نے اور عمران بن حصین ؓ نے علی بن ابی طالب ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو جب وہ سجدہ کرتے تو الله اکبر کہتے، جب رکوع کرتے تو الله اکبر کہتے اور جب دو رکعت پڑھ کر تیسری کے لیے اٹھتے تو الله اکبر کہتے، جب ہم فارغ ہوئے تو عمران ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: ابھی انہوں نے ایسی نماز پڑھی ہے (راوی کو شک ہے) یا ابھی ہمیں ایسی نماز پڑھائی ہے، جیسے محمد ﷺ کی نماز ہوتی تھی۔
Abu bakr bin Abdur-Rahman and abu Salamah said: Abu Hurairah would utter the takbir in every prayer, whether obligatory or non-obligatory, He would utter the takbir when he stood, and he would utter the takbir when he bowed, then he would say: “Allah listens to him who praises Him”; he then would say before prostrating himself; “ Our Lord, to Thee be praise”; then he would say while falling in prostration: “Allah is most great”; he then would utter the takbir when he raised his head after prostration, and then utter the takbir when he prostrated, and then utter takbir the takbir when he stood up at the end of two rak’ahs after sitting down. He used to do so in every rak’ah until he finished his prayer. Then he would say at the end of the prayer: By Him in Whose hands lies my life, I am closer to the Messenger of Allah ﷺ in respect of his prayer. Such was the prayer he used to offer until he departed from the world. Abu Dawud said: Malik, al-Zubaidi and others have narrated so that they form the last words from al-Zuhri on the authority of Ali b, Husain. And this is supported by the version reported by Abd al-A’la from Mamar and Shuaib bin Abi Hamzah on the authority of Al-Zuhri.
زہری کہتے ہیں: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ نے خبر دی ہے کہ ابوہریرہ ؓ فرض ہو یا نفل ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے خواہ فرض ہو یا نفل، نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت تکبیر الله اکبر (تکبیر تحریمہ) کہتے، پھر رکوع کرتے وقت تکبیر الله اکبر کہتے، پھر سمع الله لمن حمده کہتے، اس کے بعد سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولک الحمد کہتے، پھر جب سجدے میں جانے لگتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے میں جاتے تو الله اکبر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو الله اکبر کہتے، پھر جب دو رکعت پڑھ کر اٹھتے تو الله اکبر کہتے، ایسے ہی ہر رکعت میں نماز سے فارغ ہونے تک (تکبیر) کہتے ١ ؎، پھر جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے، اسی طرح آپ کی نماز تھی یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے آخری ٹکڑے یعنی إن کانت هذه لصلاته حتى فارق الدنيا کو مالک اور زبیدی وغیرہ زہری کے واسطہ سے علی بن حسین سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اور عبدالاعلی نے بواسطہ معمر زہری کے دونوں شیوخ ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے ذکر کرنے میں شعیب بن ابی حمزہ کی موافقت کی ہے ٢ ؎۔
Abd al Rahman bin Abza said that he offered prayer along with the Messenger of Allah ﷺ but he did not complete the takbir. Abu Dawud said: This means that when he raised his head after bowing and when he was about to prostrate, he did not utter the takbir, and when he stood up after prostration, he did not utter the takbir.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت کی نماز میں ٢٢ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نماز میں کل (٩٤) تکبیریں ہوئیں جس میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے اور باقی سبھی سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہوجائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہوجائے گی ۔ ٢ ؎: جب کہ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف أخبرني أبو بکر بن عبدالرحمن کہا ہے ابوسلمہ کا ذکر نہیں کیا ہے اور مالک نے ابن شہاب سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے صرف عن أبي سلمة بن عبدالرحمن کہا ہے ابوبکر بن عبدالرحمن کا ذکر نہیں کیا ہے اس کے برخلاف ابن شہاب کے تلامذہ میں سے شعیب بن ابی حمزہ نے ابن شہاب کے دونوں شیوخ کا ذکر کیا ہے اسی طرح عبدالاعلیٰ نے بواسطہ معمر عن زہری دونوں کا ذکر کیا ہے۔
عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ تکبیر مکمل نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے اور جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے اور جب سجدے سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے ١ ؎۔
Narrated Wail ibn Hujr (RA) : I saw that the Prophet ﷺ placed his knees (on the ground) before placing his hands when he prostrated himself. And when he stood up, he raised his hands before his knees.
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایتوں سے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے باقی سبھی حرکات میں اللہ اکبر کہنا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٦٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بن عمران لین الحدیث ہیں، نیز حدیث میں اضطراب ہے )
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ١ ؎ اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔
The above-mentioned tradition has also been transmitted by Wail bin Hujr through a different chain of narrators. This version has: When he prostrated himself, his knees fell on the ground before his hands had fallen. Hemmam said: This tradition has also been transmitted by Asim bin Kulaib through a different chain of narrators to the same effect. And one of these two versions, and probably the version narrated by Muhammad bin Juhadah, has the words: When he stood up (after prostration), he stood up on his knees taking the support of his thighs.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام دارقطنی کہتے ہیں: اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی کہتے ہیں: اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان لوگوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ الصلاة ٨٤ (٢٦٨)، سنن النسائی/الإفتتاح ١٢٨ (١٠٩٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩(٨٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٠) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں )
اس سند سے وائل بن حجر ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نماز کی کیفیت مروی ہے، اس میں ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ ﷺ کے گھٹنے ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑتے۔ ہمام کہتے ہیں: مجھ سے شقیق نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے اور عاصم نے اپنے والد سے کلیب نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے اور ان دونوں میں سے کسی کی حدیث میں اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن جحادہ کی حدیث میں یہ ہے: جب آپ ﷺ اٹھتے تو اپنی ران پر ٹیک لگا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بل اٹھتے ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when one of you prostrates himself he must not kneel in the manner of camel, but should put down his hands before his knees.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٢) (ضعیف) قد تقدم ہذا الحدیث برقم (٧٣٦) (عبدالجبار کا اپنے والد وائل سے سماع ثابت نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: (Does) one of you kneel down in his prayer as a camel kneels down (i. e. put his knees before his hands).
Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے اور کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے وليضع رکبتيه قبل يديه (یعنی وہ ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے) لیکن محدث عبدالرحمن مبارک پوری، علامہ احمد شاکر، شیخ البانی وغیرہ نے ابن القیم کے اس خیال کی تردید کی ہے اور ابن خزیمہ کا کہنا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت كنا نضع اليدين قبل الرکبتين فأمرنا بالرکبتين قبل اليدين (پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا) انتہائی ضعیف ہے قطعاً قابل استدلال نہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا ١ ؎ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟ ۔
Abu Qilabah said: Abu sulaiman Malik bin al-Huwairith came to our mosque and said: By Allah, I Shall offer prayer; and I do not intend to pray, but I intend to show you how I saw the Messenger of Allah ﷺ offering prayer. He (the narrator Ayyub) said: I asked Abu Qilabah: How did he pray? He replied: Like the prayer of this head after the last prostration in the first rak’ah, he used to sit, and then stand up.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں لفظ یعمد سے پہلے ہمزۂ استفہام مقدر ہے اسی وجہ سے ترجمہ میں ” کیا “ کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اس طرح نہ بیٹھا کرو۔
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، میرے پیش نظر نماز پڑھانا نہیں بلکہ میں تم لوگوں کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے پوچھا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی؟ تو ابوقلابہ نے کہا: ہمارے اس شیخ۔ یعنی عمرو بن سلمہ کی طرح، جو ان کے امام تھے اور ابوقلابہ نے ذکر کیا کہ ابوقلابہ نے مالک بن حویرث ؓ جب پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو (تھوڑی دیر) بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے ١ ؎۔
Abu Qilabah said: Abu Sulaiman Malik bin al-Huwairth came to our mosque, and said: By Allah, I Shall offer prayer, though I do not intend to pray; I only intend to show you how I saw the Messenger of Allah ﷺ praying. The narrator said: ( He then prayed and) he sat at the end of the first rak’ah when he raised his head after the last prostration.
Notes · وضاحت
وضاحت: اس بیٹھنے کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کا جواب یہ دیا ہے کہ موٹاپے اور کبر سنی کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا تھا، لیکن یہ تاویل بلا دلیل ہے، شیخ البانی (رح) کہتے ہیں: جلسہ استراحت کو اس امر پر محمول کرنا کہ یہ حاجت کی بنا پر تھا عبادت کی غرض سے نہیں ؛ لہٰذا یہ مشروع نہیں ہے۔ جیسا کہ احناف وغیرہ کا قول ہے۔ باطل ہے اور اس کے بطلان کے لئے یہی کافی ہے کہ دس صحابہ رضی اللہ عنھم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز میں داخل کرنے کو تسلیم کیا ہے، اگر انہیں یہ علم ہوتا کہ آپ ﷺ نے اسے ضرورت کی بنا پر کیا ہے تو وہ آپ ﷺ کے طریقہ نماز میں اسے داخل کرنے پر خاموشی اختیار نہ کرتے۔