ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابو سلیمان مالک بن حویرث ؓ ہماری مسجد میں آئے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! میں نماز پڑھوں گا مگر میرے پیش نظر نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں: پھر وہ پہلی رکعت میں بیٹھے جس وقت انہوں نے اپنا سر دوسرے سجدے سے اٹھایا۔
Abu Qilabah said: Malik bin al-Huwairith saw that the prophet (may peace by upon him) would not stand at the end of the first or the third rak’ah until he sat down straight.
مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
Tawus said: we asked Ibn Abbas about sitting on heels between the two prostrations. He said: It is the sunnah. We said: We look upon it as a pressure on the foot. He said: This is the sunnah of your Prophet ﷺ
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس ؓ سے پوچھا: دونوں سجدوں کے بیچ میں دونوں قدموں پر اقعاء ١ ؎ (سرین کو ایڑیوں پر رکھ کر پنجے کو کھڑا کر کے بیٹھنا) کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ طاؤس کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تو اسے آدمی کے ساتھ زیادتی سمجھتے تھے تو ابن عباس ؓ نے کہا: یہ تیرے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
Abdullah bin Abi Awfa said: When the Messenger of Allah ﷺ raised his head after bowing, he said: Allah listens to him who praises Him. O Allah, our lord, to Thee be the praise in the heavens and in all the earth, and all that it please Thee to create afterwards. Abu Dawud said: Sufyan al-Thawri and Shubah bin al-Hajjaj reported on authority of Ubaid bin al-Hasan (RA) : There is no mention of the words “after bowing” in this tradition. Sufyan said: we met al-shaikh Ubaid bin al-Hasan; he did not say the words “bowing” in it. Abu dawud said: Shubah narrated this from Abi ‘Ismah, from al-Amash, on the authority of Ubaid, saying: “after bowing”.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اقعاء کی مسنون صورت ہے جو دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک کے ساتھ مخصوص ہے، رہی اقعاء کی ممنوع صورت جس سے حدیث میں روکا گیا ہے، تو وہ کتے کی طرح چوتڑ اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر دونوں پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے بیٹھنا ہے یا تشہد کی حالت میں دونوں قدموں کو گاڑ کر ایڑیوں پر بیٹھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٨ (٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد کہتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری اور شعبہ بن حجاج نے اس حدیث کو عبید بن لحسن ابوالحسن سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں بعد الرکوع نہیں ہے، سفیان کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کے بعد شیخ عبید ابوالحسن سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی اس حدیث میں بعد الرکوع کے الفاظ نہیں کہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے ابوعصمہ سے، ابوعصمہ نے اعمش سے اور اعمش نے عبید سے روایت کیا ہے، اس میں بعد الرکوع کے الفاظ موجود ہیں۔
Abu Saeed Al-Khuri said: When the Messenger of Allah ﷺ said: “ Allah listens to him who praises Him, ” he also said: O Allah, our Lord, to thee be the praise in all heavens. Mu’ammil said ( in his version); “ In all the heavens, and in all the earth, and in all that it pleases Thee to create afterwards. O thou Who art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we are all thy servants, no one can withhold what thou givest or give what Thou withholdest. “The narrators then were agreed on the words: “And riches cannot avail a wealthy person with Thee. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ٥١٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٣، ٣٥٤، ٣٥٦، ٣٨١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سمع الله لمن حمده کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم ربنا لک الحمد ملء السماء اور مومل کے الفاظ ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد أحق ما قال العبد وکلنا لک عبد لا مانع لما أعطيت ، محمود نے اپنی روایت میں: ولا معطي لما منعت کا اضافہ کیا ہے، پھر:ولا ينفع ذا الجد منک الجد میں سب متفق ہیں، بشر نے اپنی روایت میں: ربنا لک الحمد کہا اللهم نہیں کہا، اور محمود نے اللهم نہیں کہا، اور ربنا لک الحمد کہا۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When the Imam says: “Allah listens to him who praised Him, ” say: “O Allah, our lord, to Thee be the praise, “ for if what anyone says synchronises with what the angels say, he will be forgiven his past sins.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٧)، سنن النسائی/الافتتاح ١١٥ (١٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٤٢٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨ (٨٧٧)، مسند احمد (٣/٨٧)، سنن الدارمی/ الصلاة ٧١ (١٣٥٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لک الحمد کہو، کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوجائے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔
Amir said: The people behind the imam should not say: “Allah listens to him who praises Him. ” But they should say: “ Our Lord, to Thee be the praise. ”
عامر شعبی کہتے ہیں : لوگ امام کے پیچھے: سمع الله لمن حمده نہ کہیں، بلکہ ربنا لک الحمد کہیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ used to say between the two prostrations: O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, heal me, and provide for me.
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز کی تعلیم سے متعلق مسئ صلا ۃ کی حدیث میں رسول اکرم ﷺ رکوع سے پیٹھ اوپر کرتے ہوئے :سمع الله لمن حمده پڑھتے تھے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے: کسی آدمی کی نماز پوری نہیں ہوتی حتی کہ وہ یہ اور یہ کرے، اس حدیث میں کہ پھر رکوع کرے پھر: سمع الله لمن حمده کہے حتی کہ اچھی طرح کھڑا ہوجائے (ابوداود)۔ اس کے بعد آپ ﷺ حالت قیام میں ربنا ولک الحمد پڑھتے، آپ ﷺ نے اس کا حکم امام اور مقتدی سب کو یہ فرما کردیا کہ: صلوا کما رأيتموني أصلي۔ آپ ﷺ فرماتے تھے: امام کو اس کی اقتداء ہی کے لئے بنایا گیا ہے، فرمایا: اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو اللہم ربنا ولک الحمد کہو، اور اس کی تعلیل ایک دوسری حدیث میں یوں کی ہے کہ جس آدمی کا قول ملائکہ کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے ماضی کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اس تفصیل کے مطابق امام اور مقتدی سب کو دونوں دعا پڑھنی چاہیے، بعض ائمہ جیسے شعبی کا مذہب ہے کہ مقتدی سمع الله لمن حمده نہ کہیں صرف ربنا ولک الحمد پر اکتفا کریں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے کہتے تھے۔
Narrated Asma daughter of Abu Bakr (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: One of you who believes in Allah and in the Last Day should not raise her head until the men raise their heads (after prostration) lest they should see the private parts of men.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٩٥ (٢٨٤، ٢٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٤ (٨٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٤٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٥، ٣٧١) (حسن )
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ اپنا سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک کہ مرد نہ اٹھا لیں، اس اندیشہ سے کہ ان کی نظر کہیں مردوں کے ستر پر نہ پڑے ١ ؎۔
Al-Bara said: The prostration observed by the Messenger of Allah ﷺ , his bowing, and his sitting between the two prostrations were nearly equal.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابتداء اسلام میں لوگ بڑی تنگدستی اور محتاجی میں تھے، اکثر کو ایک تہبند یا چادر کے علاوہ دوسرا کپڑا میسر نہ ہوتا تھا، جسے وہ اپنی گردن پر باندھ لیتے تھے، جو بیک وقت کرتے اور تہبند کا کام دیتا تھا، کپڑوں کی تنگی کے باعث سجدہ میں ستر کے کھل جانے کا اندیشہ رہتا تھا، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو مردوں کے بعد سر اٹھانے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٨، ٣٤٩) (صحیح) (عروہ نے اسماء کے مولی کی متابعت کی ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے )
براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا رکوع، سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا سب قریب قریب برابر ہوتے تھے۔
Anas bin Malik (RA) said: I did not offer prayer behind anyone more brief than the one offered by the Messenger of Allah ﷺ and that was perfect. When the Messenger of Allah ﷺ said: “Allah listens to him who praises Him, ” he stood long we thought that he had omitted something; then he say takbir (Allah is most great) and prostrate, and would sit between the two prostrations so long that we thought that he had omitted something.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، رسول اللہ ﷺ جب سمع الله لمن حمده کہتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ ﷺ کو وہم ہوگیا ہے، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم لوگ سمجھتے کہ آپ ﷺ کو وہم ہوگیا ہے۔
Al-Bara bin Azib said: I witnessed Muhammed ﷺ –Abu Kamil’s version has the wording: The Messenger of Allah ﷺ -during his prayer. I found his standing like his bowing and prostration and his moderation in bowing was like that of his prostration, and his sitting between the two prostration and his prostration (and his sitting between the salutation) and going away ( after finishing the prayer) were nearly equal to one another. Abu Dawud said: Musaddad said: His bowing and his moderation in bowing and prostration, and his prostration and his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between the salutation and going away (after finishing the prayer) were nearly equal.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ٣٢٢، ٦٢١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٦٤ (٧٠٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٥)، مسند احمد (٣/٢٠٣، ٢٤٧)، سنن الدارمی/ الصلاة ٤٦ (١٢٩٥) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے محمد ﷺ کو (اور ابوکامل کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو) حالت نماز میں بغور دیکھا، تو میں نے آپ ﷺ کے قیام کو آپ کے رکوع اور سجدے کی طرح، اور رکوع سے آپ کے سیدھے ہونے کو آپ کے سجدے کی طرح، اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ کے بیٹھنے کو، اور سلام پھیرنے اور نمازیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنے کو، پھر دوسرے سجدہ سے قریب قریب برابر پایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مسدد کی روایت میں ہے، آپ ﷺ کا رکوع اور دونوں رکعتوں کے درمیان آپ کا اعتدال پھر آپ کا سجدہ پھر دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا اور پھر دوسرا سجدہ پھر آپ کا سلام پھیرنے اور لوگوں کی طرف چہرہ کرنے کے درمیان بیٹھنا، یہ سب تقریباً برابر ہوتے تھے۔
Narrated Abu Masud al-Badri (RA) : The Prophet ﷺ said: A mans prayer does not avail him unless he keeps his back steady when bowing and prostrating.
ابومسعود بدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کی نماز درست نہیں، جب تک کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ کرلے ۔
Abu Hurairah said: When the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque, a man also entered it and prayed. He then came and saluted the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ returned the salutation and said to him: Go back and pray, for you have not prayed. The man returned and prayed as he prayed before. He then came to Prophet ﷺ and saluted him. The Messenger of Allah ﷺ said to him: “ And upon you be peace. “ Go back and pray, for you have not prayed. He did so three times. Then the man said: By Him who has sent you (as a Prophet) with truth; I cannot do better than this; so teach me. He said: When you get up to pray, utter the takbir (Allah is most great); then recite a convenient portion of the Quran; then bow and remain quietly in that position; then sit and remain quietly in that position; then raise yourself and stand erect: then prostrate yourself and remain quietly in that position; then sit and remain quietly in that position; then do that throughout all your prayer. Abu Dawud said: Al-Qanabi reported this tradition from Saeed bin Abi Saeed on the authority of Abu Hurairah. This version has the wording in the last: When you do this, then your prayer is completed. If you omit anything form this, you omit that much from your prayer. This version also has the wording: when you get up for praying, perform the abulation perfectly.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٤ (٢٦٥)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٨ (١٠٢٨) والتطبیق ١٤٤ (١١١٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٦ (٨٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٩، ١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٨ (١٣٦٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص اس نے نماز پڑھی پھر آ کر رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ، پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ شخص واپس گیا اور پھر سے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر آ کر سلام کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اور تم پر بھی سلامتی ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تین بار ایسا ہوا، پھر اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نماز پڑھنا نہیں جانتا تو آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو (پہلے) تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھو، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ، اس کے بعد اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے قعدہ میں بیٹھو، اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو ۔ قعنبی نے عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة کہا ہے اور اس کے اخیر میں یوں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز مکمل ہوگئی، اور اگر تم نے اس میں کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں کم کیا ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کامل وضو کرو ١ ؎۔
Narrated Rifaah ibn Rafi (RA) : A man entered the mosque. . . . . . He then narrated the tradition like the one narrated in (No. 855). This version is as follows: The Prophet ﷺ said: The prayer of anyone is not perfect unless he performs ablution perfectly; he should then utter the takbir, and praise Allah, the Exalted, and admire Him; he should then recite the Quran as much as he desires. He should then say: Allah is Most Great. Next he should bow so that all his joints return to their proper places. Then he should say: Allah listens to the one who praises Him, and stand erect. He should then say: Allah is most great, and should prostrate himself so that all his joints are completely at rest. Then he should say: Allah is most great; he should raise his head (at the end of prostration) till he sits erect. Then he should say: Allah is most great; then he should prostrate himself till all his joints return to their proper places. Then he should raise his head and say the takbir. When he does so, then his prayer is completed.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٥ (٧٥٧)، ١٢٢ (٧٩٣)، والأیمان والنذور ١٥ (٦٢٥١)، صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٤ (٣٠٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٧ (٨٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٧٢ (١٠٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٨٣، ١٤٣٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٧) (صحیح )
علی بن یحییٰ بن خلاد اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، پھر راوی نے گذشتہ حدیث کے مانند روایت ذکر کی، اس میں کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کی نماز مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح وضو نہ کرے، پھر الله أكبر کہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن سے جتنا آسان ہو پڑھے پھر الله أكبر کہے پھر اطمینان و سکون کے ساتھ اس طرح رکوع کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آجائیں، پھر سمع الله لمن حمده کہے اور سیدھا کھڑا ہوجائے، پھر الله أكبر کہے، پھر اطمینان سے اس طرح سجدہ کرے کہ اس کے جسم کے سارے جوڑ اپنی جگہ پر آجائیں، پھر الله أكبر کہے اور اپنا سر سجدے سے اٹھائے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جائے پھر الله أكبر کہے پھر (دوسرا) سجدہ اطمینان سے اس طرح کرے کہ سب جوڑ اپنی جگہ پر آجائیں، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور الله أكبر کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی ۔
Narrated Rifaah ibn Rafi (RA) : This version (of Hadith No 856) adds: The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of any of you is not complete until he performs ablution perfectly, as Allah, the Exalted, has ordered you. He should wash his face and hands up to the elbows, and wipe his head and (wash) his feet up to the ankles. Then he should exalt Allah and praise Him. Then he should recite the Quran as much as it is convenient for him. (Narrator then narrated the tradition like Hammads, No. 856). He said: He then utter the takbir and prostration himself so that his face is at rest. Hammam (sub-narrator) said: Sometimes he reported: So that his forehead is at rest on the ground, and his joints return to their places and are loosened. Then he should say the takbir and then sit right on his hips and erect his back. He described the nature of prayer in this way by offering four rakahs until he finished it. The prayer of any of you is not complete unless he does so.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٤ (٣٠٢)، سنن النسائی/الأذان ٢٨ (٦٦٨)، الافتتاح ١٦٧ (١١٣٧)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٧ (٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٤ مسند رفاعة بن رافع الأنصاري)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ١٠٠، ١٠٢، ٤/٣٤٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٨ (١٣٦٨) (صحیح )
رفاعہ بن رافع ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کی نماز پوری (مکمل) نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ اچھی طرح وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، (یعنی) وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے اور اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر الله اکبر کہے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر قرآن میں سے جو آسان ہو اسے پڑھے ، پھر راوی نے حماد کی حدیث کے مانند ذکر کیا اور کہا: پھر وہ الله اکبر کہے اور سجدہ کرے تو اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے ۔ ہمام کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نے کبھی یوں کہا: اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دے یہاں تک کہ اس کے جوڑ آرام پالیں اور ڈھیلے ہوجائیں، پھر الله اکبر کہے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر سیدھا بیٹھ جائے اور اپنی پیٹھ سیدھی کرلے پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی (پھر فرمایا) : تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے ۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Rifaah bin Rafi. This version goes: When you get up and face the qiblah, what Allah wishes you to recite. And when you bow, put your palms on your knees and stretch out your back. When you prostrate yourself, do it completely ( so that you are at the rest). When you raise yourself then sit on your left thigh.
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع ؓ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ (چہرہ) قبلہ کی طرف کرلو تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہو، پھر سورة فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو ، اور فرمایا: جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں (پیشانی کو) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۔
This tradition has also been transmitted by Rifaah b Rafi through a different chain of narrators. This version has: When you get up to pray, say the takbir, exalting Allah; then recite the Quran as much as it is convenient for you. The version adds: When you sit in the middle of the prayer, do it completely (so that you are at rest) and spread your left thigh; then recite the tashahhud. Then if you get up (again), do in a similar way until you finish your prayer.
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع ؓ نبی اکرم ﷺ سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو (پہلے) الله اکبر کہو، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو ، اور اس میں ہے: جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہوجاؤ ۔
Rifaah bin Rafi has also narrated this tradition through a different chain from the Messenger of Allah ﷺ . This version goes: Then perform ablution in a way Allah, the exalted, has command you, then say the shahadah and get up and say the takbir. Then if you know any of the Quran, recite it; otherwise say: “Praise be to Allah”; “Allah is most great”; “ There is no god but Allah” He ( the narrator) also said in this version: If some defect remains in this, that detect will remain in your prayer.
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (فرمایا) ، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی اس میں ہے: پھر وضو کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، پھر تشہد پڑھو ١ ؎، پھر اقامت کہو، پھر الله اکبر کہو، پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو، ورنہ الحمد لله، الله أكبر، لا إله إلا الله کہو ، اور اس میں ہے کہ: اگر تم نے اس میں سے کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں سے کم کیا ۔
Narrated Abdur Rahman ibn Shibl (RA) : The Messenger of Allah ﷺ prohibited to peck like a crow, and to spread (the forearms) like a wild beast, and to fix a place in the mosque like a camel which fixes its place. These are the wordings of Qutaybah.
عبدالرحمٰن بن شبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوے کی طرح چونچ مارنے ١ ؎، درندے کی طرح بازو بچھانے ٢ ؎، اور اونٹ کے مانند آدمی کے مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ متعین کرلینے سے (جیسے اونٹ متعین کرلیتا ہے) منع فرمایا ہے (یہ قتیبہ کے الفاظ ہیں) ۔
Narrated Uqbah ibn Amr al-Ansari (RA) : Salim al-Barrad said: We came to Abu Masud Uqbah ibn Amr al-Ansari and said to him: Tell us about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . He stood up before us in the mosque and said the takbir. When he bowed, he placed his hands upon his knees and put his fingers below, and kept his elbows (arms) away from his sides, so everything returned properly to its place. Then he said: Allah listens to him who praises Him; then he stood up so that everything returned properly to its place; then he said the takbir and prostrated and put the palms of his hands on the ground; he kept his elbow (arms) away from his sides, so that everything returned to its proper place. Then he raised his head and sat so that everything returned to its place; he then repeated it in a similar way. Then he offered four rakahs of prayer like this rakah and completed his prayer. Then he said: Thus we witnessed the Messenger of Allah ﷺ offering his prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎: کوے کی طرح چونچ مارنے سے مراد ارکان نماز کی ادائیگی جلدی جلدی کرنا ہے۔ ٢ ؎: درندے کی طرح بازو بچھانے سے مراد سجدے میں دونوں ہاتھ کو زمین سے لگانا اور پیٹ کو رانوں سے ملا کر رکھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ١٤٥ (١١١٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٤ (١٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٨، ٤٤٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦٢) (حسن )