Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 44 of 265

863Sunan Abu Dawood

جو شخص اچھی طرح رکوع و سجود ادا نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قَالَ: أَتَيْنَا عُقْبَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ أَبَا مَسْعُود، فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا فِي الْمَسْجِدِفَكَبَّرَ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ جَافَى بَيْنَ مِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَجَلَسَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ أَيْضًا، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِثْلَ هَذِهِ الرَّكْعَةِ فَصَلَّى صَلَاتَهُ. ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.

سالم براد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری ؓ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق بتائیے تو وہ مسجد میں ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے الله اکبر کہا، پھر جب وہ رکوع میں گئے تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنے اپنے مقام پر جم گیا، پھر انہوں نے سمع الله لمن حمده کہا اور کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی جگہ پر آ کر ٹھہر گیا، پھر الله اکبر کہہ کر سجدہ کیا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں اور اپنی دونوں کہنیوں کے درمیان فاصلہ رکھا یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور بیٹھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنے مقام پر آ کر ٹھہر گیا، پھر دوبارہ ایسا ہی کیا، پھر چاروں رکعتیں اسی کی طرح پڑھیں (اس طرح) انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Anas ibn Hakim ad-Dabbi said that he feared Ziyad or Ibn Ziyad; so he came to Madina and met Abu Hurairah. He attributed his lineage to me and I became a member of his lineage. Abu Hurairah said (to me): O youth, should I not narrate a tradition to you? I said: Why not, may Allah have mercy on you? (Yunus (a narrator) said: I think he narrated it (the tradition) from the Prophet ﷺ :) The first thing about which the people will be called to account out of their actions on the Day of Judgment is prayer. Our Lord, the Exalted, will say to the angels - though He knows better: Look into the prayer of My servant and see whether he has offered it perfectly or imperfectly. If it is perfect, that will be recorded perfect. If it is defective, He will say: See there are some optional prayers offered by My servant. If there are optional prayer to his credit, He will say: Compensate the obligatory prayer by the optional prayer for My servant. Then all the actions will be considered similarly.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٩٣ (١٠٣٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٩، ١٢٠، ٥/٢٤٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٨(١٣٤٣) (صحیح )
864Sunan Abu Dawood

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان کہ فرائض کا نقصان نوافل سے پورا کرلیا جائے گا

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: خَافَ مِنْ زِيَادٍ، أَوْ ابْنِ زِيَادٍ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَنَسَبَنِي، فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: يَا فَتَى، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ يُونُسُ: وَأَحْسَبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الصَّلَاةُ، قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا جَلَّ وَعَزَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ، قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَاكُمْ.

انس بن حکیم ضبی کہتے ہیں کہ وہ زیاد یا ابن زیاد سے ڈر کر مدینہ آئے تو ان کی ملاقات ابوہریرہ ؓ سے ہوئی، انس کہتے ہیں: ابوہریرہ ؓ نے اپنا نسب مجھ سے جوڑا تو میں ان سے جڑ گیا، پھر وہ کہنے لگے: اے نوجوان! کیا میں تم سے ایک حدیث نہ بیان کروں؟ انس کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بیان کیجئے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، یونس کہتے ہیں: میں یہی سمجھتا ہوں کہ ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے پوچھ تاچھ کی جائے گی وہ نماز ہوگی، ہمارا رب اپنے فرشتوں سے فرمائے گا، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے میرے بندے کی نماز کو دیکھو وہ پوری ہے یا اس میں کوئی کمی ہے؟ اگر پوری ہوگی تو پورا ثواب لکھا جائے گا اور اگر کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا: دیکھو، میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہے؟ اگر نفل ہوگی تو فرمائے گا: میرے بندے کے فرض کو اس کی نفلوں سے پورا کرو، پھر تمام اعمال کا یہی حال ہوگا ۔

The above-mentioned tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٢ (١٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٠٠، ١٥٥٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٨٩ (٤١٣)، سنن النسائی/الصلاة ٩ (٤٦٤)، مسند احمد (٢/٤٢٥، ٢/٩٠، ٤/١٠٣) (صحیح )
865Sunan Abu Dawood

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان کہ فرائض کا نقصان نوافل سے پورا کرلیا جائے گا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے گذشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔

Narrated Tamim ad-Dari (RA) : Tamim reported this tradition from the Prophet ﷺ as (Hadith No 863). This version adds: Then zakat will be considered in a similar way. Then all the actions will be considered accordingly.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢٢٠٠) (صحیح) (پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک مبہم راوی رجل من بنی سلیط ہے )
866Sunan Abu Dawood

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان کہ فرائض کا نقصان نوافل سے پورا کرلیا جائے گا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْمَعْنَى، قَالَ: ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ.

تمیم داری ؓ نے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اس میں ہے: پھر زکاۃ کا یہی حال ہوگا، پھر تمام اعمال کا حساب اسی طرح سے ہوگا ۔

Musab b Saad said: I prayed by the side of my father. I put both of my hands between my knees (in bowing condition). He prohibited me from it. I then repeated; so he said: Do not do so, because we used to do so. But we were prohibited to do that, and commanded to put our hands on the knees.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٢ (١٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٣) (صحیح )
867Sunan Abu Dawood

رکوع و سجود کے احکام اور رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَال أَبُو دَاوُد وَاسْمُهُ وَقْدَان، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ فَعُدْتُ، فَقَالَ: لَا تَصْنَعْ هَذَا، فَإِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ.

مصعب بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے (رکوع میں) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کرلیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں۔

Abdullah (bin Masud) said: When any of you bows, he should spread his arms on his thighs and clap both his palms (Placing them between the knees), as if I am seeing the variation of the fingers of the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١٨ (٧٩٠)، صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٠ (٢٥٩)، سنن النسائی/الافتتاح ٩١(١٠٣٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧ (٨٧٣)، تحفة الأشراف (٣٩٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ١٨١، ١٨٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٨ (١٣٤١) (صحیح )
868Sunan Abu Dawood

رکوع و سجود کے احکام اور رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے دونوں بازؤوں کو اپنی رانوں پر بچھا لے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق کرے ١ ؎، گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں۔

Narrated Uqbah ibn Amir: When Glorify the name of your mighty Lord was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: Use it when bowing, and when Glorify the name of your most high Lord was revealed, he said: Use it when prostrating yourself.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر انہیں دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنے کو تطبیق کہتے ہیں، یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا، ممکن ہے عبداللہ بن مسعود ؓ کو اس کے منسوخ ہونے کا علم نہ ہوا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤)، سنن النسائی/المساجد ٢٧ ( ٧٢٠)، والإمامة ١٨ (٨٠٠)، والتطبیق ١ (١٠٣٠، ١٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٤) (صحیح )
869Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى، قَالَ أَبُو سَلَمَة مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ: عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ: اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں جب آیت کریمہ: فسبح باسم ربک العظيم اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو (سورۃ الواقعۃ: ٧٤) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کرلو ، پھر جب سبح اسم ربک الأعلى اپنے بہت ہی بلند رب کے نام پاکیزگی بیان کرو (سورۃ الاعلی: ١) اتری تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کرلو ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The above (No 868) tradition has also been reported through a different chain of narrators by Uqbah ibn Amir to the same effect. This version adds: When the Messenger of Allah ﷺ bowed, he said: Glory and praise be to my mighty Lord three times, and when he prostrated himself, he said: Glory and praise be to my most high Lord three times. Abu Dawud said: We are afraid the addition of the word praise is not guarded.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠ (٨٨٧)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٤) (ضعیف) ( عمّہ سے مراد ایاس بن عامر ہیں جو غیر معروف ہیں، اور جن کی توثیق صرف عجلی اور ابن حبان نے کی ہے، اور یہ دونوں متساہل ہیں، ابن حجر نے ان کو صدوق لکھا ہے، حالانکہ موسیٰ کے علاوہ ان سے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، امام ذھبی کہتے ہیں کہ (ليس بالقوي) یہ قوی نہیں ہیں ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ( ٩ ؍ ٣٣٧)
870Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى أَوْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، بِمَعْنَاهُ زَادَ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، ثَلَاثًا وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ، ثَلَاثًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ نَخَافُ أَنْ لَا تَكُونَ مَحْفُوظَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: انْفَرَدَ أَهْلُ مِصْرَ بِإِسْنَادِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ: حَدِيثِ الرَّبِيعِ وَحَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.

اس طریق سے بھی عقبہ بن عامر ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں راوی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے تو تین بار سبحان ربي العظيم وبحمده کہتے، اور جب سجدہ کرتے تو تین بار سبحان ربي الأعلى وبحمده کہتے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وبحمده کا یہ اضافہ محفوظ نہ ہو ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع اور احمد بن یونس کی ان دونوں حدیثوں کی اسناد کے سلسلے میں اہل مصر منفرد ہیں۔

Hudhaifah said that he prayed along with the Prophet ﷺ , and that he said when bowing, “Glory be to my mighty Lord, “ and when prostrated himself, “Glory be to my most high Lord, “ and when prostrated himself, “ Glory be to my most high Lord”’ when he came to a verse which spoke to mercy, he stopped and made supplication, and when he came to a verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں تسبیح تین بار پڑہنے کی بات ہے، مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی، طحاوی، بزار، ابن خزیمہ، (٦٠٤)، طبرانی (کبیر) میں سات صحابہ کرام ؓ سے تین تسبیح وارد ہے (ملاحظہ ہو: صفة صلاة النبي للألباني: 132) وضاحت: مسند احمد، طبرانی، دارقطنی، بیہقی میں سبحان ربي العظيم وبحمده تین بار وارد ہے (ملاحظہ ہو: صفة صلاة النبي للألباني: 133 )
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٩) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل من قومه مبہم راوی ایاس ابن عامر ہیں، جو مجہول ہیں، صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ رکوع و سجود میں سبحانک اللهم ربنا وبحمدک پڑھا کرتے تھے )
871Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُلَيْمَانَ: أَدْعُو فِي الصَّلَاةِ إِذَا مَرَرْتُ بِآيَةِ تَخَوُّفٍ، فَحَدَّثَنِي عَنْسَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُسْتَوْرِدٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، وَفِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ.

شعبہ کہتے ہیں: میں نے سلیمان سے کہا کہ جب میں نماز میں خوف دلانے والی آیت سے گزروں تو کیا میں دعا مانگوں؟ تو انہوں نے مجھ سے وہ حدیث بیان کی، جسے انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، سعید نے مستورد سے، مستورد نے صلہ بن زفر سے اور صلہ بن زفر نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حذیفہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ ﷺ رکوع میں سبحان ربي العظيم کہتے تھے، اور اپنے سجدوں میں سبحان ربي الأعلى کہتے تھے، اور رحمت کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں، اور اللہ سے سوال نہ کیا ہو، اور عذاب کی کوئی آیت ایسی نہیں گزری جہاں آپ نہ ٹھہرے ہوں اور عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔

Aishah said that the prophet ﷺ used to say when bowing and prostrating, “All-Glorious, All-Holy, Lord of the angels and spirit.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٧ (٧٧٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٢ (٢٦٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٧ (١٠٠٧)، والتطبیق ٧٤ (١١٣٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠ (٨٩٧)، ١٧٩(١٣٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٣٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٨٤، ٣٩٤، ٣٩٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩(١٣٤٥) (صحیح )
872Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں سبوح قدوس رب الملائكة والروح کہتے تھے۔

Narrated Awf ibn Malik al-Ashjai (RA) : I stood up to pray along with the Messenger of Allah ﷺ ; he got up and recited Surat al-Baqarah (Surah 2). When he came to a verse which spoke of mercy, he stopped and made supplication, and when he came to verse which spoke of punishment, he stopped and sought refuge in Allah, then he bowed and paused as long as he stood (reciting Surah al-Baqarah), and said while bowing, Glory be to the Possessor of greatness, the Kingdom, grandeur and majesty. : Then he prostrated himself and paused as long as he stood up and recited Surat Aal Imran (Surah 3) and then recited many surahs one after another.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٧)، سنن النسائی/التطبیق ١١ (١٠٤٩)، ٧٥ (١١٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦ /٣٥، ٩٤، ١١٥، ١٤٨، ١٤٩، ١٧٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٤٤، ٢٦٦) (صحیح )
873Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةًفَقَامَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ فَسَأَلَ، وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ فَتَعَوَّذَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ قِيَامِهِ، ثُمَّ قَالَ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِآلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً سُورَةً.

عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے سورة البقرہ پڑھی، آپ ﷺ کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ ﷺ نے رکوع میں: سبحان ذي الجبروت والملکوت والکبرياء والعظمة پڑھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورة آل عمران پڑھی، پھر (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورة پڑھی۔

Narrated Hudhayfah (RA) : Hudhayfah saw the Messenger of Allah ﷺ praying at night. He said: Allah is most great three times, Possessor of kingdom, grandeur, greatness and majesty. He then began (his prayer) and recited Surah al-Baqarah; then he bowed and he paused in bowing as long as he stood up; he said while bowing, Glory be to my mighty Lord, Glory be to my mighty Lord ; then he raised his head, after bowing: then he stood up and he paused as long as he paused in bowing and said, Praise be to my Lord ; then he prostrated and paused in prostration as long as he paused in the standing position; he said while prostrating: Glory be to my most high Lord; then he raised his head after prostration, and sat as long as he prostrated, and said while sitting: O my Lord forgive me. He offered four rakahs of prayer and recited in them Surah al-Baqarah, Aal Imran, an-Nisa, al-Maidah, or al-Anam. The narrator Shubah doubted.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٧٣ (١١٣٨)، سنن الترمذی/الشمائل (٣١٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤) (صحیح )
874Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ کی تسبیح

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَكَانَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَكَانَ قِيَامُهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، يَقُولُ: لِرَبِّيَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ سُجُودُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَكَانَ يَقْعُدُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، وَكَانَ يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِيهِنَّ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ، وَالْمَائِدَةَ، أَوْ الْأَنْعَامَ، شَكَّ شُعْبَةُ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ تین بار الله اکبر ، اور (ایک بار) ذو الملکوت والجبروت والکبرياء والعظمة کہہ رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے قرآت شروع کی تو سورة البقرہ کی قرآت کی، پھر رکوع کیا تو آپ ﷺ کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم کہہ رہے تھے، پھر رکوع سے سر اٹھایا (اور کھڑے رہے) آپ ﷺ کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان لربي الحمد کہہ رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا، اور آپ سجدہ میں سبحان ربي الأعلى کہہ رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے اپنا سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہے جتنی دیر تک سجدے میں رہے تھے، اور اس درمیان رب اغفر لي رب اغفر لي کہہ رہے تھے، اس طرح آپ ﷺ نے چار رکعتیں ادا کیں اور ان میں بقرہ، آل عمران، نساء اور مائدہ یا انعام پڑھی۔ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The nearest a servant come to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication often.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی /الشمائل ٣٩ (٢٧٥)، سنن النسائی/التطبیق ٢٥ (١٠٧٠)، ٨٦ (١١٤٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣٩٥) (صحیح) (حدیث نمبر ( ٨٧١) سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ خود اس کی سند میں ایک مبہم راوی رجل بن بنی عبس ہیں )
875Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ،عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو (سجدے میں) تم بکثرت دعائیں کیا کرو ۔

Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ lifted the curtain (and saw that) the people were standing in rows (of prayers) behind Abu Bakr. He said: O people, there remained nothing that gives good tidings from prophethood except a true dream which a Muslim has himself or which another Muslim has for him. I have been prohibited to recite the Quran while bowing or prostration. As regards owing, exalt the Lord in it, and as to prostration, make supplication with exertion in it, that is worthy of being accepted.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٢)، سنن النسائی/التطبیق ٧٨ (١١٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤١) (صحیح )
876Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشَفَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (مرض الموت میں اپنے کمرہ کا) پردہ اٹھایا، (دیکھا کہ) لوگ ابوبکر ؓ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! نبوت کی بشارتوں (خوشخبری دینے والی چیزوں) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کردیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے ۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ often said while bowing and prostrating himself; “Glory be to Thee, O Allah, out Lord. ” And “Praise be to Thee, O Allah, forgive me, ” Thus interpreting the (command in the Quran).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٧٩)، سنن النسائی/التطبیق ٨ (١٠٤٦)، ٦٢ (١١٢١)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ١ (٣٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٨١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٩)، (١٩٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٧ (١٣٦٤) (صحیح )
877Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے سبحانک اللهم ربنا وبحمدک اللهم اغفر لي کہتے تھے اور قرآن کی آیت فسبح بحمد ربک واستغفره (سورة النصر: ٣) کی عملی تفسیر کرتے تھے۔

Abu Hurairah said: The prophet ﷺ used to say when prostrating himself: “O Allah. Forgive me all my sins, small and great, first and last. “ the narrator Ibn al-sarh added: “open and secret. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢٣ (٧٩٤)، ١٣٩ (٨١٧) والمغازي ٥١ (٤٢٩٣)، و تفسیر سورة النصر ١ (٤٩٦٧)، ٢ (٤٩٦٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٤)، سنن النسائی/التطبیق ١٠ (١٠٤٨)، ٦٤ (١١٢٣)، ٦٥ (١١٢٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠ (٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٤٩، ١٩٠) (صحیح )
878Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ. زَادَ ابْنُ السَّرْحِ: عَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنے سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره یعنی اے اللہ! تو میرے تمام چھوٹے بڑے اور اگلے پچھلے گناہ بخش دے ۔ ابن السرح نے اپنی روایت میں علانيته وسره کی زیادتی کی ہے۔

Aishah said; one night I missed the Messenger of Allah ﷺ and when I sought him on the spot of prayer I found him in prostration with his feet raised, and he was saying: ” (O Allah), I seek refuge in Your good pleasure from Your anger, and in Your Mercy from Your Punishment, and I seek refuge from You in You; I am not able to praise You (the way that You deserve to be praised), for You are as You have praised Yourself”.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٦) (صحیح )
879Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجدہ میں دعا کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَسَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک رات (اپنے پاس بستر پر) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ ﷺ سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں: أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک یعنی اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to make supplication during the prayer saying: O Allah, I seek refuge in Thee from the punishment of the grave; I seek refuge in Thee from the trial of the Antichrist; I seek refuge in Thee from the trial of life and the trial of death; O Allah, I seek refuge in Thee from sin and debt. Someone said to him: How often you seek refuge from debt! He replied: When a man is in debt, he talks and tells lies, makes promises and breaks them.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٦)، سنن النسائی/الطھارة ١١٩، باب ١٢٠(١٦٩)، والتطبیق ٤٧ (١١٠١)، ٧١ (١١٣١)، والاستعاذة ٦٢ (٥٥٣٦)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤١)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣١)، مسند احمد (٦/٥٨، ٢٠١) (صحیح )
880Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِفَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ، فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اللهم إني أعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اللهم إني أعوذ بک من المأثم والمغرم یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح (کانے) دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ قرض سے کس قدر پناہ مانگتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی جب قرض دار ہوتا ہے، بات کرتا ہے، تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے، تو اس کے خلاف کرتا ہے ۔

Narrated Abu Layla al-Ansari (RA) : I prayed by the side of the Messenger of Allah ﷺ in the supererogatory prayer and I heard him say: I refuge in Allah from the Hell-Fire; woe to the inmates of the Hell-fire!

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٩ (٨٣٢)، الاستقراض ١٠ (٢٣٩٧)، صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٨٩)، سنن النسائی/السہو ٦٤ (١٣١٠)، الاستعاذة ٩ (٥٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٦٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٥)، مسند احمد (٦/٨٨، ٨٩، ٢٤٤) (صحیح )
881Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ تَطَوُّعٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ.

ابولیلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بغل میں ایک نفل نماز پڑھی تو میں نے آپ کو أعوذ بالله من النار ويل لأهل النار میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور جہنم والوں کے لیے خرابی ہے کہتے سنا۔

Abu Hurairah said; The Messenger of Allah ﷺ got up for the prayer and we also stood up along with him. A Bedouin said said during prayer; O Allah, show mercy to me and to Muhammed and do not show mercy to anyone along with us. When the Messenger of Allah ﷺ uttered the salutation, he said to the Bedouin; you narrowed down a vast (thing). By this he meant the mercy of Allah.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ١٧٩(١٣٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٧) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن أبی لیلی ضعیف راوی ہیں )
882Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ ؓ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایک دیہاتی نے نماز میں کہا: اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا اے اللہ! تو مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو اس دیہاتی سے فرمایا: تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کردیا ، اس سے آپ ﷺ اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔

Ibn Abbas reported; when the prophet ﷺ recited: “Glorify the name of thy Lord, the Most High. ” He would say: ”Glory be to Allah, the most High”. Abu Dawud said; In this tradition the other narrators have differed from the narrator Wakl. This has been narrated by Wakl, and Shubah from Abu Ishaq, from Sa’ld bin Jubair, from Ibn Abbas as his own statement (and not from the Prophet)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (٣٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٤٣) (صحیح )