Sunan Abu Dawood 868

نماز کا بیان

868Sunan Abu Dawood

رکوع و سجود کے احکام اور رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے دونوں بازؤوں کو اپنی رانوں پر بچھا لے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق کرے ١ ؎، گویا میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں۔

Narrated Uqbah ibn Amir: When Glorify the name of your mighty Lord was revealed, the Messenger of Allah ﷺ said: Use it when bowing, and when Glorify the name of your most high Lord was revealed, he said: Use it when prostrating yourself.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر انہیں دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنے کو تطبیق کہتے ہیں، یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا، ممکن ہے عبداللہ بن مسعود ؓ کو اس کے منسوخ ہونے کا علم نہ ہوا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٤)، سنن النسائی/المساجد ٢٧ ( ٧٢٠)، والإمامة ١٨ (٨٠٠)، والتطبیق ١ (١٠٣٠، ١٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤١٤) (صحیح )