Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 45 of 265

883Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: خُولِفَ وَكِيعٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَرَوَاهُ أَبُو وَكِيعٍ، وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا. عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تو «سبحان ربي الأعلى»کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں:

اس حدیث میں وکیع کی مخالفت کی گئی اور اسے ابو وکیع اور شعبہ نے ابواسحاق سے ابوسحاق نے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عباس ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔

Aishah said: A man used to pray on the roof of his house. When he recited the verse “Is not He able to bring the dead to life?” [Surah al-Qiyamah: 42] he would say: ”Glory be to You, then, why not?” the prophet asked him about it. He replied: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said: Ahmad (b. Hanbal) said: It is pleasing to me that one should recite in the obligatory prayer those supplications which have occurred in the Quran.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٧١) (صحیح )
884Sunan Abu Dawood

نماز میں دعا مانگنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: كَانَ رَجُل يُصَلِّي فَوْقَ بَيْتِهِ، وَكَانَ إِذَا قَرَأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 قَالَ: سُبْحَانَكَ فَبَلَى. فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ: يُعْجِبُنِي فِي الْفَرِيضَةِ أَنْ يَدْعُوَ بِمَا فِي الْقُرْآنِ.

موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں ایک صاحب اپنی چھت پر نماز پڑھا کرتے تھے، جب وہ آیت کریمہ أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتى (سورة القيامة: ٤٠) پر پہنچتے تو سبحانک کہتے پھر روتے، لوگوں نے اس سے ان کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد نے کہا: مجھے بھلا لگتا ہے کہ آدمی فرض نماز میں وہ دعا کرے جو قرآن میں ہے۔

Saad reported that he heard his father or his uncle say ; I witnessed the Prophet ﷺ while offering prayer. He used to stay in his bowing and his prostration as long as one uttera the words “Glory be to Allah and praise be to Him” three times.

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة القيامة: (٤٠ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٠) (صحیح )
885Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِفَكَانَ يَتَمَكَّنُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا.

سعدی کے والد یا چچا کہتے ہیں کہ میں نے نماز میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ رکوع اور سجدہ میں اتنی دیر تک رہتے جتنی دیر میں تین بار: سبحان الله وبحمده کہہ سکیں۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you bows, he should say three time,: Glory be to my mighty Lord, and when he prostrates, he should say: Glory be to my most high Lord three times. This is the minimum number. Abu Dawud said: The chain of this tradition is broken. The narrator Awn did not see Abdullah (bin Masud).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٨، ١٦١، ١٧٦، ٢٥٣، ٢٧١، ٥/٦) (صحیح )
886Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ الْأَهْوَازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ، وَإِذَا سَجَدَ فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا وَذَلِكَ أَدْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ، عَوْنٌ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اسے چاہیئے کہ تین بار: سبحان ربي العظيم کہے، اور یہ کم سے کم مقدار ہے، اور جب سجدہ کرے تو کم سے کم تین بار: سبحان ربي الأعلى کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عون نے عبداللہ ؓ کو نہیں پایا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you recites By the fig and the olive (Surah 95) and comes to its end Is not Allah the best judge? (verse 8), he should say: Certainly, and I am one of those who testify to that. When one recites I swear by the Day of Resurrection (Surah 75) and comes to Is not that one able to raise the dead to life? (verse 40), he should say: Certainly. And when one recites By those that are sent (Surah 77), and comes to Then in what message after that will they believe? (Surah 50), he should say: We believe in Allah. The narrator Ismail (ibn Umayyah) said: I beg to repeat (this tradition) before the Bedouin (who reported this tradition) so that I might see whether he (was mistaken). He said: My nephew, do you think that I did not remember it? I performed sixty hajj (pilgrimages); there is no hajj but I recognize the came on which I performed it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٢ (٢٦١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠ (٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٠) (ضعیف) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے، یعنی عون کی ملاقات عبداللہ بن مسعود ؓ سے نہیں ہوئی )
887Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، سَمِعْتُ أَعْرَابِيًّا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ مِنْكُمْ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ فَانْتَهَى إِلَى آخِرِهَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ سورة التين آية 8 فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، وَمَنْ قَرَأَ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَانْتَهَى إِلَى أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 فَلْيَقُلْ: بَلَى، وَمَنْ قَرَأَ وَالْمُرْسَلاتِ فَبَلَغَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50 فَلْيَقُلْ: آمَنَّا بِاللَّهِ. قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ذَهَبْتُ أُعِيدُ عَلَى الرَّجُلِ الْأَعْرَابِيِّ وَأَنْظُرُ لَعَلَّهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَتَظُنُّ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ، لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً مَا مِنْهَا حَجَّةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص سورة والتين والزيتون پڑھے اسے چاہیئے کہ جب اس کی آخری آیت والتين والزيتون پر پہنچے تو: بلى وأنا على ذلک من الشاهدين کہے، اور جو سورة لا أقسم بيوم القيامة پڑھے اور أليس ذلک بقادر على أن يحيي الموتى پر پہنچے تو بلى کہے، اور جو سورة والمرسلات پڑھے اور آیت فبأى حديث بعده يؤمنون پر پہنچے تو آمنا بالله کہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: (میں نے یہ حدیث ایک اعرابی سے سنی) ، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا تاکہ یہ حدیث پھر سے سنوں اور دیکھوں شاید؟ (وہ نہ سنا سکے) تو اس اعرابی نے کہا: میرے بھتیجے! تم سمجھتے ہو کہ مجھے یہ یاد نہیں؟ میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور ہر حج میں جس اونٹ پر میں چڑھا تھا اسے پہچانتا ہوں۔

Narrated Anas ibn Malik: I did not offer behind anyone after the Messenger of Allah ﷺ a prayer like the prayer offered by the Messenger of Allah ﷺ than this youth, i. e. Umar ibn Abdul Aziz. We estimated reciting glorification ten times in his bowing, and in his prostration ten times. Abu Dawud said: Ahmad bin Salih said: I asked him (Abdullah) whether the name Manus is correct of Mabus. He replied: Abd al-Razzaq used to say Mabus, but I remember Manus (i. e. the narrator Wahb bin Manus). These are the words of Ibn Rafi. It has also been narrated by Ahmad from Saeed bin Jubair on the authority of Anas bin Malik (RA) .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/التفسیر ٨٣ (٣٣٤٧)، مسند احمد ٢/٢٤٩، (تحفة الأشراف: ١٥٥٠) (ضعیف) (اس کا راوی اعرابی مبہم شخص ہے )
888Sunan Abu Dawood

رکوع اور سجود میں قیام کی مقدار

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَابْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ، وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: قُلْتُ لَهُ: مَانُوسٌ أَوْ مَابُوسٌ، قَالَ: أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ: مَابُوسٌ، وَأَمَّا حِفْظِي: فَمَانُوسٌ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ. قَالَ أَحْمَدُ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک ؓ کو یہ کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو سعید بن جبیر کہتے ہیں: تو ہم نے ان کے رکوع اور سجدہ میں دس دس مرتبہ تسبیح کہنے کا اندازہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح کا بیان ہے: میں نے عبداللہ بن ابراہیم بن عمر بن کیسان سے پوچھا: (وہب کے والد کا نام) مانوس ہے یا مابوس؟ تو انہوں نے کہا: عبدالرزاق تو مابوس کہتے تھے لیکن مجھے مانوس یاد ہے، یہ ابن رافع کے الفاظ ہیں اور احمد نے (اسے سمعت کے بجائے عن سے یعنی: عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالک روایت کی ہے) ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Ibn Abbas reported the Prophet ﷺ as saying: I have been commanded - according to the version of Hammad: Your Prophet ﷺ was commanded - to prostrate on seven (bones), and not to fold back the hair or the clothing.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٧٦ (١١٣٦)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٢-١٦٣) (ضعیف) (اس کی سند میں وہب بن مانوس مجہول الحال راوی ہیں )
889Sunan Abu Dawood(893)

جب امام کو سجدہ کی حالت میں پائے تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ، وَابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔

Ibn Abbas reported the prophet ﷺ as saying: I have been commanded, and sometimes the narrator said: Your prophet ﷺ was commanded to prostrate on seven limbs.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو اود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٠٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن النسائی/المواقیت ٢٩ (٥٥٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٩١ (١١٢٣)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣(١٥)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (حسن) ( اس حدیث کو ابن خزیمہ (١٦٢٢) نے اپنی صحیح میں تخریج کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، ان کی موافقت ذھبی نے کی ہے (١ ؍ ٢١٦) لیکن اس کے راوی یحییٰ بن ابی سلیمان لیَّن الحدیث ہیں، ابن حبان اور حاکم کی توثیق کافی نہیں ہے، لیکن حدیث مرفوع اور موقوف شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: (صحیح ابی داود ٤ ؍ ٤٧۔ ٤٨)، نیز حدیث کا دوسرا ٹکڑا ومن ادرک الخ صحیح ومتفق علیہ ہے )
890Sunan Abu Dawood(889)

سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُ. قَالَ حَمَّادٌ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حماد بن زید کی روایت میں ہے: تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ کہ آپ نہ بال سمیٹیں اور نہ کپڑا ١ ؎۔

Abbas bin Abd al-Muttalib said that he heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: when a servant (of Allah) prostrates himself, the seven limbs, i. e, his face, his palms, his knees and his feet prostrate along with him.

Notes · وضاحت
١ ؎: نماز میں بالوں کو پگڑی وغیرہ میں سمیٹنا یا جوڑا باندھنا مکروہ ہے اسی طرح مٹی وغیرہ سے بچانے کے لئے کپڑوں کا سمیٹنا بھی درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩)، ١٣٤ (٨١٠)، ١٣٧ (٨١٦)، ١٣٨ (٨١٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٣)، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤)، ٤٣ (١٠٩٧)، ٤٥ (١٠٩٩)، ٥٦ (١١١٦)، ٥٨ (١١١٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح )
891Sunan Abu Dawood(890)

سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُمِرْتُوَرُبَّمَا قَالَ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ آرَابٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور کبھی راوی نے کہا: تمہارے نبی اکرم ﷺ کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Both hands prostrate as the face prostrates. When one of you puts his face (on the ground) he should put his hands too (on the ground). And when he raises it, he should raise them too.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤) (صحیح )
892Sunan Abu Dawood(891)

سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ.

عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ١ ؎، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; when you come to pray while we are prostrating ourselves, you must prostrate yourselves, and do not reckon it anything (rak’ah) he has been present at the prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: چہرہ میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں سجدے میں پیشانی کا زمین پر لگنا ضروری ہے اس کے بغیر سجدے کا مفہوم پورے طور سے ادا نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ٩١ (٢٧٢)، سنن النسائی/التطبیق ٤١ (١٠٩٥)، ٤٦ (١١٠٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٥)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠٦) (صحیح )
893Sunan Abu Dawood(892)

سجدہ میں کن اعضاء کو زمین سے لگانا چاہیے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ، قَالَ: إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ، فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو چاہیئے کہ دونوں ہاتھ بھی رکھے اور جب چہرہ اٹھائے تو چاہیئے کہ انہیں بھی اٹھائے ۔

Abu saeed al-Khudri said: The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah ﷺ due to the prayer in which he led the people.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٣٩ (١٠٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٥٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦) (صحیح )
894Sunan Abu Dawood

ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر (شب قدر میں) اس نماز کی وجہ سے جو آپ نے لوگوں کو پڑھائی، مٹی کا اثر دیکھا گیا۔

The above mentioned tradition has also been transmitted by Mamar through a different chain of narrators to the same effect.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤١ (٦٦٩)، ١٣٥ (٨١٣)، ١٥١ (٨٣٦)، ولیلة القدر ٢ (٢٠١٦)، ٣ (٢٠١٨)، والاعتکاف ١ (٢٠٢٧)، ٩ (٢٠٣٦)، ١٣ (٢٠٤)، صحیح مسلم/الصوم ٤٠ (١١٦٧)، سنن النسائی/التطبیق ٤٢ (١٠٩٦)، والسھو ٩٨ (١٣٥٧)، (تحفة الأشراف: ٤٤١٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف ٦ (٩)، مسند احمد (٣/٩٤)، ویأتي برقم: (١٣٨٢) (صحیح )
895Sunan Abu Dawood

ناک اور پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، نَحْوَهُ.

اس سند سے بھی معمر سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔

Narrated Al-Bara ibn Azib: Al-Bara described to us (the nature of prostration). He placed his hands (palms), reclined on his knees, and raised his hips; he said: This is how the Messenger of Allah ﷺ used to prostrate himself.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٤١٩ )
896Sunan Abu Dawood

سجدہ کا طریقہ

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍفَوَضَعَ يَدَيْهِ، وَاعْتَمَدَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ، وَقَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ.

ابواسحاق کہتے ہیں کہ براء بن عازب ؓ نے ہمیں سجدہ کرنے کا طریقہ بتایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک لگائی اور اپنی سرین کو بلند کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح سجدہ کرتے تھے۔

Anas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying; Adopt a moderate position when prostrating yourselves, and see that none of you stretches out his forearms (on the ground) like a dog.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی شریک ضعیف ہیں )
897Sunan Abu Dawood

سجدہ کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو ١ ؎ اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔

Maimunah said: When the Prophet ﷺ prostrated himself, he kept his arms so far away from his sides that if a lamb had wanted to pass under his arms, it could have done so.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٨ (٥٣٢)، والأذان ١٤١ (٨٢٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٧٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٩ (١٠٢٩)، والتطبیق ٥٠ (١١٠٤)، ٥٣ (١١١١)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢١ (٨٩٢)، مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ١٩١، ٢٠٢، ٢١٤، ٢٣١، ٢٧٤، ٢٧٩، ٢٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦١) (صحیح )
898Sunan Abu Dawood

سجدہ کا طریقہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو دونوں ہاتھ (بغل سے) جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے دونوں ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : I came to the Prophet ﷺ from behind. I saw the whiteness of his armpits and he kept his arms away from his sides and raised his stomach (from the ground).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٦ (٢٣٨)، سنن النسائی/التطبیق ٥٢ (١١١٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣١، ٣٣٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٩ (١٣٧٠) (صحیح )
899Sunan Abu Dawood

سجدہ کا طریقہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ التَّمِيمِيِّ الَّذِي يُحَدِّثُ بِالتَّفْسِيرِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَلْفِهِ فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ وَهُوَ مُجَخٍّ قَدْ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ کے پیچھے سے آیا (اور آپ سجدے میں تھے) تو میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ ﷺ اس طرح سجدہ کئے ہوئے تھے کہ اپنے دونوں بازو پسلیوں سے جدا کئے ہوئے تھے اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے ہوئے تھے۔

Narrated Ahmar ibn Jaz (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ prostrated himself, he kept his arms far away from his sides so much so that we took pity on him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ١/٢٩٢، ٣٠٢، ٣٠٥، ٣١٦، ٣١٧، ٣٣٩، ٣٤٣، ٣٥٤، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح )
900Sunan Abu Dawood

سجدہ کا طریقہ

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ حَتَّى نَأْوِيَ لَهُ.

احمر بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے یہاں تک کہ ہمیں (آپ کی تکلیف و مشقت پر) رحم آجاتا۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: when one of you prostrates himself, he should not stretch out his forearms ( on the ground) like a dog and he should join both of his thighs.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩ (٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠، ٤/٣٤٢، ٥/٣١) (حسن صحیح )
901Sunan Abu Dawood

سجدہ کا طریقہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَفْتَرِشْ يَدَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ وَلْيَضُمَّ فَخْذَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے اور چاہیئے کہ اپنی دونوں رانوں کو ملا کر رکھے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Companions of the Prophet ﷺ complained to the Prophet ﷺ about the hardship when they kept their forearms far away from their sides while prostrating. He said: Take help with the elbows (by spreading them on the ground and sticking them to the sides).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٨٥ (٢٦٩)، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٢)، مسند احمد (٢/٣٨١) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٣٧/٢ )
902Sunan Abu Dawood

سجدہ میں کہنیوں کو زمین پر لگانے کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اشْتَكَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا انْفَرَجُوا، فَقَالَ: اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے آپ سے شکایت کی کہ جب لوگ پھیل کر سجدہ کرتے ہیں تو سجدے میں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: زانو (گھٹنے) سے مدد لے لیا کرو ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Saeed ibn Ziyad ibn Subayh al-Hanafi said: I prayed by the side of Ibn Umar and I put my hands on my waist. When he finished his prayer, He said: This is a cross in prayer; the Messenger of Allah ﷺ used to forbid it.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹیک دیا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٠٠ (٢٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣٩، ٤١٧) (ضعیف) ( محمد بن عجلان کی اس حدیث کو سمی سے ان سے زیادہ ثقہ، اور معتبر رواة نے مرسلا ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٩ ؍ ٨٣٢ )