سجدہ کا طریقہ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ.
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سجدے میں اعتدال کرو ١ ؎ اور تم میں سے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
Maimunah said: When the Prophet ﷺ prostrated himself, he kept his arms so far away from his sides that if a lamb had wanted to pass under his arms, it could have done so.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنی ہیئت درمیانی رکھو اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلووں سے جدا ہوں اور پیٹ ران سے جدا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٨ (٥٣٢)، والأذان ١٤١ (٨٢٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٧٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٩ (١٠٢٩)، والتطبیق ٥٠ (١١٠٤)، ٥٣ (١١١١)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢١ (٨٩٢)، مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ١٩١، ٢٠٢، ٢١٤، ٢٣١، ٢٧٤، ٢٧٩، ٢٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦١) (صحیح )