Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 46 of 265

903Sunan Abu Dawood

نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صَبِيحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَفَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ.

زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ١ ؎، اس سے رسول اللہ ﷺ منع فرماتے تھے ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn ash-Shikhkhir: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying and a sound came from his breast like the rumbling of a mill owing to weeping.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الاقعاء کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے متعلق کوئی روایت یہاں درج نہیں کی ہے، ابن عباس ؓ کی إقعاء والی روایت اس سے پہلے الإقعاء بين السجدتين باب (١٤٣) کے تحت گزری۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ١٢ (٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٤)، وقد أخرجہ: حم (٢/٣٠، ١٠٦) (صحیح )
904Sunan Abu Dawood

نماز میں رونے کا بیان

حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى مِنَ الْبُكَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن شخیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے چکی کی آواز کے مانند آواز آتی تھی۔

Zaid bin Khalid al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who performs ablution and performs his ablution well, and then he offers two rak’ahs of prayers in a way that he does not forget ( anything in it), will be forgiven all his past sins.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل ٤٤ (٣٠٥)، سنن النسائی/السھو ١٨ (١٢١٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٥، ٢٦) (صحیح )
905Sunan Abu Dawood

نماز میں وساوس اور خیالات آنے کی کراہت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ان میں وہ بھولے نہیں ١ ؎ تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔

Uqbah. B Amir al-Juhani reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Any one performs ablution and performs the ablution perfectly and then offers two rak’ahs of prayers concentrating on them with his heart and face but paradise will necessarily fall to his lot.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حضور قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے دنیاوی خیالات اور نماز سے غیر متعلق امور ذہن میں نہیں لاتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٧) (حسن )
906Sunan Abu Dawood

نماز میں وساوس اور خیالات آنے کی کراہت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے اور اپنے دل اور چہرے کو پوری طرح سے متوجہ کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ۔

Narrated Al-Miswar ibn Yazid al-Maliki (RA) : The Messenger of Allah ﷺ recited - Yahya (sub narrator) said: Sometimes al-Miswar said: I prayed along with the Messenger of Allah ﷺ and witnessed that he recited - the Quran during the prayer and omitted something (i. e. some verses inadvertently) which he did not recite. A man said to him: Messenger of Allah, you omitted such-and-such verse. The Messenger of Allah ﷺ said: Why did you not remind me of it? The narrator Sulayman said in his version: He (the man) said: I thought that it (the verse) was repealed.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ٦ (٢٣٤)، سنن النسائی/الطھارة ١١١ (١٥١)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣)، سنن الدارمی/الطھارة ٤٣ (٧٤٣) (صحیح )
907Sunan Abu Dawood

امام لقمہ دینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى الْكَاهِلِيِّ، عَنْ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَحْيَى، وَرُبَّمَا قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا. قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ. وقَالَسُلَيْمَانُ: قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ.

مسور بن یزید مالکی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں قرآت کر رہے تھے، (یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے) تو آپ ﷺ نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا (نماز کے بعد) ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہوگئی ہیں۔ سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہوگیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب ؓ سے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ ، ابی نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں (لقمہ دینے سے) کس چیز نے روک دیا؟ ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ said: Ali, do not instruct the imam during the prayer. Abu Dawud said: The narrator Abu Ishaq heard only for traditions from al-Harith, this tradition is not one of them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٧٦٦، ١١٢٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٤) (حسن )
908Sunan Abu Dawood

امام لقمہ دینے کا بیان

Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah, the Most High, continues to turn favourably towards a servant while he is engaged in prayer as long as he does not look to the side (by turning the neck), but if he does so, He turns away from him.

908Sunan Abu Dawood

امام کو بتانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْالْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ، لَا تَفْتَحْ عَلَى الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ الْحَارِثِ إِلَّا أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ لَيْسَ هَذَا مِنْهَا.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی! تم نماز میں امام کو لقمہ مت دیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابواسحاق نے حارث سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں اور حدیث ان میں سے نہیں ہے۔

Aishah said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about looking to the sides during prayer. He said: It is something which the devil snatches from a servant’s prayers.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث اعور نہایت ضعیف راوی ہے، نیز یہ حدیث ابواسحاق نے حارث سے نہیں سنی )
909Sunan Abu Dawood

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ.

ابوذر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔

Abu Saeed al-Khudri said: The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah ﷺ who had led the people I prayer. Abu Ali said: Abu Dawud did not recite this tradition when he recited his collection (of sunan) for the fourth time.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ١٠ (١١٩٦)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٤ (١٤٦٣) (حسن) (اس کے راوی ابو الأحوص لین الحدیث ہیں، بعض لوگوں کے نزدیک مجہول ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٤٣/م، و صحیح الترغیب: ٥٥٢-٥٥٤ )
910Sunan Abu Dawood

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آدمی کے نماز کے ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بندے کی نماز سے شیطان کا اچک لینا ہے (یعنی اس کے ثواب میں سے ایک حصہ اڑا لیتا ہے) ۔

Jabir bin Samurah said (this is the version of the narrator Uthman): The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque and saw there some people praying raising their hand towards the heaven. (This Is the common version:) He said: People must stop raising their eyes to the heaven. The narrator Musaddad said: During prayer, otherwise their sight will be taken away.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٣ (٧٥١)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٩١)، سنن النسائی/السھو ١٠ (١١٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٦١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٦١ (٥٩٠)، مسند احمد (٦/٧، ١٠٦) (صحیح )
911Sunan Abu Dawood

ناک پر سجدہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَرُئِيَ عَلَى جَبْهَتِهِ وَعَلَى أَرْنَبَتِهِ أَثَرُ طِينٍ مِنْ صَلَاةٍ صَلَّاهَا بِالنَّاسِ. قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَقْرَأْهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْعَرْضَةِ الرَّابِعَةِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جس سے آپ کی پیشانی اور ناک پر مٹی کے نشانات دیکھے گئے۔

Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ assaying: What is the matter that people raise their (Upwards) in prayer. He then said sternly: They should stop doing that, otherwise their sight will be snatched away.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٨٩٤، (تحفة الأشراف: ٤٤١٩) (صحیح )
912Sunan Abu Dawood

نماز میں کسی طرف دیکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَهَذَا حَدِيثُهُ، وَهُوَ أَتَمُّ، عَنْالْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ عُثْمَانُ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِيهِ نَاسًا يُصَلُّونَ رَافِعِي أَيْدِيهِمْ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ يَشْخَصُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ. قَالَ مُسَدَّدٌ فِي الصَّلَاةِ: أَوْلَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبْصَارُهُمْ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آجائیں ورنہ (ہو سکتا ہے کہ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے ۔

Aishah said: the Messenger of Allah ﷺ once prayed with a sheet of cloth upon him. It had prints and paintings. He said: The prints of this (sheet) distracted my attention; take it to Abu Jahm and bring a blanket to me.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٦ (٤٣٠)، سنن النسائی/ السہو ٥ (١١٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٢٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٨ (١٠٤٥)، مسند احمد (٥/١٠٨) (صحیح )
913Sunan Abu Dawood

نماز میں کسی طرف دیکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْفَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ ، پھر اس سلسلہ میں آپ نے بڑی سخت بات کہی، اور فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔

The above-mentioned tradition has also been narrated by Aisha (RA) through a different chain of transmitters. This version adds: He (the prophet) took a kind of sheet of cloth known as kurdi which belongs to Abu Jahm. The people told him; Messenger of Allah, the (former) sheet of cloth was better than this kind of kurdi sheet.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩٢ (٧٥٠)، سنن النسائی/السھو ٩ (١١٩٤)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٦٨ (١٠٤٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٢، ١١٥، ١١٦، ١٤٠، ٢٥٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٧ (١٣٣٩) (صحیح )
914Sunan Abu Dawood

نماز میں کسی طرف دیکھنا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اس چادر کے نقش و نگار نے نماز سے غافل کردیا، اسے ابوجہم کے پاس لے جاؤ (ابوجہم ہی نے وہ چادر آپ کو تحفہ میں دی تھی) اور ان سے میرے لیے ان کی انبجانی چادر لے آؤ ۔

Narrated Sahl ibn al-Hanzaliyyah (RA) : The iqamah for the morning prayer was pronounced and the Messenger of Allah ﷺ began to offer prayer while he was looking at the mountain-pass. (Abu Dawud elaborated that the Prophet had sent a horseman to the mountain-pass at night in order to keep watch. )

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٤ (٣٧٣)، والأذان ٩٣ (٧٥٢)، واللباس ١٩ (٥٨١٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٥ (٥٥٦)، سنن النسائی/القبلة ٢٠ (٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ١ (٣٥٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة ١٨(٦٧)، مسند احمد (٦/٣٧، ٤٦، ١٧٧، ١٩٩، ٢٠٨)، ویأتي ہذا الحدیث فی اللباس (٤٠٥٣) (صحیح )
915Sunan Abu Dawood

نماز میں کسی طرف دیکھنا

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: وَأَخَذَ كُرْدِيًّا كَانَ لِأَبِي جَهْمٍ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْخَمِيصَةُ كَانَتْ خَيْرًا مِنَ الْكُرْدِيِّ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے ابوجہم کی کردی چادر لے لی، تو آپ سے کہا گیا: اللہ کے رسول! وہ (باریک نقش و نگار والی) چادر اس (کر دی چادر) سے اچھی تھی ۔

Abu Qatadah said: The Messenger of Allah ﷺ was leading the people in prayer with Umamah daughter of Zainab daughter of the Messenger of Allah ﷺ (in his lap). When he prostrated, he put her down and when he got up (after prostration) he lifted her up.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٣، ١٧٠٢٣)، ویاٹی ہذا الحدیث في اللباس (٤٠٥٢)، (حسن )
916Sunan Abu Dawood

نماز میں اِدھر ادھر دیکھنے کی اجازت

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ هُوَ أَبُو كَبْشَةَ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.

سہل بن حنظلیہ ؓ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔

Narrated Abu Qatadah (RA) : We were sitting in the mosque when the Messenger of Allah ﷺ came upon us carrying Umamah daughter of Abul As ibn ar-Rabi. Her mother was Zaynab daughter of the Messenger of Allah ﷺ . She (Umamah) was a child and he (the Prophet) was carrying her on his shoulder. The Messenger of Allah ﷺ led (the people) in prayer while she was on his shoulder. When he bowed he put her down and took her up when he got up. He kept on doing so until he finished his prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٥١) (صحیح )
917Sunan Abu Dawood

نماز میں کوئی کام کرنا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے تھے ١ ؎۔

Abu Qatadah al-Ansari said: I saw the Messenger of Allah ﷺ leading the people in prayer with Umamah daughter of Abu al-As on his neck (shoulder). When he prostrated, he put her down. Abu Dawud said: The narrator Makhramah did not hear from his father except one tradition.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر لڑکا یا لڑکی تنگ کرے اور نماز نہ پڑھنے دے تو اس کو گود میں اٹھا کر یا کندھے پر بٹھا کر نماز پڑھنی درست ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠٦ (٥١٦)، والأدب ١٨ (٥٩٩٦)، صحیح مسلم/المساجد ٩ (٥٤٣)، سنن النسائی/المساجد ١٩ (٧١٢)، والإمامة ٣٧ (٨٢٨)، والسھو ١٣ (١٢٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٤(٨١)، مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٠، ٣١١)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٣ (١٣٩٣) (صحیح )
918Sunan Abu Dawood

نماز میں کوئی کام کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَا عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع کو اپنے کندھے اٹھائے ہوئے تھے، امامہ کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ تھیں، امامہ ابھی چھوٹی بچی تھیں، وہ آپ ﷺ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع کرتے تو انہیں اتار دیتے پھر جب کھڑے ہوتے تو انہیں دوبارہ اٹھا لیتے، اسی طرح کرتے ہوئے آپ نے اپنی پوری نماز ادا کی۔

Abu Qatadah, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , said: While we were waiting for the Messenger of Allah ﷺ for the noon or afternoon prayer, and Bilal had already called him for prayer, he came upon us with Umamah daughter of Abu al-As and daughter of his daughter on his neck. The Messenger of Allah ﷺ stood at the place of prayer and we stood behind him and she (Umamah) (all this time) was in her place. He uttered the takbir and we also uttered. When the Messenger of Allah ﷺ intended to bow, he took her and put her down, and then he bowed and prostrated till he finished his prostration. He then got up and took her and returned he to her place. The Messenger of Allah ﷺ kept on doing that in every rak’ah until he finished his prayer. May peace be upon him.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٤) (صحیح )
919Sunan Abu Dawood

نماز میں کوئی کام کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي لِلنَّاسِ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَسْمَعْ مَخْرَمَةُ مِنْ أَبِيهِ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا.

ابوقتادہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا اور آپ کی نواسی امامہ بنت ابوالعاص ؓ آپ کی گردن پر سوار تھیں، جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو انہیں اتار دیتے تھے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Kill the two black things during prayer, the snake and scorpion.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٤) (صحیح )
920Sunan Abu Dawood

نماز میں کوئی کام کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْعَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَقَدْ دَعَاهُ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بِنْتُ ابْنَتِهِ عَلَى عُنُقِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُصَلَّاهُ وَقُمْنَا خَلْفَهُ وَهِيَ فِي مَكَانِهَا الَّذِي هِيَ فِيهِ، قَالَ: فَكَبَّرَ، فَكَبَّرْنَا، قَالَ: حَتَّى إِذَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْكَعَ أَخَذَهَا فَوَضَعَهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ قَامَ أَخَذَهَا فَرَدَّهَا فِي مَكَانِهَا، فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

صحابی رسول ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں ہم لوگ ظہر یا عصر میں نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے اور بلال ؓ آپ کو نماز کے لیے بلا چکے تھے، اتنے میں آپ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور اس حال میں کہ (آپ کی نواسی) امامہ بنت ابوالعاص ؓ جو آپ کی صاحبزادی زینب ؓ کی بیٹی تھیں آپ کی گردن پر سوار تھیں تو آپ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور ہم لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور وہ اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھی رہیں، جیسے بیٹھی تھیں، ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے الله أكبر کہا تو ہم لوگوں نے بھی الله أكبر کہا یہاں تک کہ جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو انہیں اتار کر نیچے بٹھا دیا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، یہاں تک کہ جب آپ سجدے سے فارغ ہوئے پھر (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا کر (اپنی گردن پر) اسی جگہ بٹھا لیا، جہاں وہ پہلے بیٹھی تھیں، رسول اللہ ﷺ برابر ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہوئے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was praying with his door bolted. I came and asked to have the door opened. He walked and opened the door for me. He then returned to his place for prayer. He (the narrator Urwah) mentioned that the door faced the qiblah.

Takhrij · تخریج
تفرد أبو داود بھذا السیاق، وانظر أصلہ في رقم (٩١٨)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٤) (ضعیف) (اس حدیث میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور انہوں نے روایت عنعنہ سے کی ہے، حدیث میں ظہر یا عصر کی تعیین ہے، نیز بلال ؓ کا ذکر ہے ان کے بغیر اصل حدیث صحیح ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا )
921Sunan Abu Dawood

نماز میں کوئی کام کرنا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز میں دونوں کالوں (یعنی) سانپ اور بچھو کو (اگر دیکھو تو) قتل کر ڈالو ۔

Abdullah (bin Masud) said: We used to salute the Messenger of Allah ﷺ while he was engaged in prayer and he would respond to our salutation, but when we returned from the Negas, we saluted him and he did not respond to us. He said: Prayer demands one’s whole attention

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٩٠)، سنن النسائی/السھو ١٢ (١٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٦ (١٢٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٥٥، ٢٧٣، ٢٧٥، ٢٨٤، ٤٩٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٨ (١٥٤٥) (صحیح )