نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صَبِيحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَفَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ.
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ١ ؎، اس سے رسول اللہ ﷺ منع فرماتے تھے ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn ash-Shikhkhir: I saw the Messenger of Allah ﷺ praying and a sound came from his breast like the rumbling of a mill owing to weeping.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الاقعاء کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے متعلق کوئی روایت یہاں درج نہیں کی ہے، ابن عباس ؓ کی إقعاء والی روایت اس سے پہلے الإقعاء بين السجدتين باب (١٤٣) کے تحت گزری۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ١٢ (٨٩٠)، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٤)، وقد أخرجہ: حم (٢/٣٠، ١٠٦) (صحیح )