Sunan Abu Dawood 909

نماز کا بیان

909Sunan Abu Dawood

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ.

ابوذر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ حالت نماز میں بندے پر اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہیں دیکھتا ہے، پھر جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لیتا ہے ۔

Abu Saeed al-Khudri said: The mark of earth was seen on the forehead and nose of the Messenger of Allah ﷺ who had led the people I prayer. Abu Ali said: Abu Dawud did not recite this tradition when he recited his collection (of sunan) for the fourth time.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السھو ١٠ (١١٩٦)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٤ (١٤٦٣) (حسن) (اس کے راوی ابو الأحوص لین الحدیث ہیں، بعض لوگوں کے نزدیک مجہول ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٤٣/م، و صحیح الترغیب: ٥٥٢-٥٥٤ )