Sunan Abu Dawood 840

نماز کا بیان

840Sunan Abu Dawood

سجدہ میں جاتے ہوئے زمین پر پہلے گھٹنوں کو رکھے یا ہاتھوں کو

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: (Does) one of you kneel down in his prayer as a camel kneels down (i. e. put his knees before his hands).

Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے اور کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے وليضع رکبتيه قبل يديه (یعنی وہ ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے) لیکن محدث عبدالرحمن مبارک پوری، علامہ احمد شاکر، شیخ البانی وغیرہ نے ابن القیم کے اس خیال کی تردید کی ہے اور ابن خزیمہ کا کہنا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت كنا نضع اليدين قبل الرکبتين فأمرنا بالرکبتين قبل اليدين (پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا) انتہائی ضعیف ہے قطعاً قابل استدلال نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٦٩)، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩١)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٤ (١٣٦٠) (صحیح )