Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 248 of 265

4973Sunan Abu Dawoodصحیح

خطبہ میں اما بعد کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ.

زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں خطبہ دیا تو أما بعد کہا ١ ؎۔

Zaid bin Arqam said that the Prophet ﷺ addressed them, saying: To proceed (amma ba’d)

Notes · وضاحت
١ ؎ : أما بعد کا کلمہ حمد و صلاۃ کے بعد کہا جاتا ہے، آپ ﷺ اس کلمہ کا استعمال کرتے تھے ، اس سے متعلق روایت تقریباً بارہ صحابہ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٦٨٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/فضائل علي ٤ (٢٤٠٨) (صحیح )
4974Sunan Abu Dawoodصحیح

کرم اور زبان کو پیچ وار گفتگو سے بچانے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ: الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: حَدَائِقَ الْأَعْنَابِ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی (انگور اور اس کے باغ کو) كرم نہ کہے ١ ؎، اس لیے کہ كرم مسلمان مرد کو کہتے ہیں ٢ ؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you should Call (grapes) karm, for the karm is a Muslim man, but call (grapes) garden of grapes (hada’iq al-a’nab).

Notes · وضاحت
١ ؎ : چونکہ كرم یعنی انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے لوگ عمدہ اور بہتر سمجھتے ہیں اس لیے انگور کا نام كرم رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرما دیا تاکہ کبھی بھی شراب کی بہتری خیال میں نہ آئے۔ ٢ ؎ : عرب رَجُلٌ کَرْمٌ اور قَوْمٌ کَرْمٌ کہتے ہیں رَجُلٌ کَرِیْمٌ اور قَوْمٌ کِرَامٌ کے معنی میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٦٣٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأدب ١٠١ (٦١٨٢) ، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٢ (٢٢٤٩) ، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٤٦٤، ٤٧٦) (صحیح )
4975Sunan Abu Dawoodصحیح

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي وَأَمَتِي، وَلَا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ: رَبِّي وَرَبَّتِي، وَلْيَقُلِ الْمَالِكُ: فَتَايَ وَفَتَاتِي، وَلْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ: سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي، فَإِنَّكُمُ الْمَمْلُوكُونَ، وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی (اپنے غلام یا لونڈی کو) عبدي (میرا بندہ) اور أمتي (میری بندی) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی (اپنے آقا کو) ربي (میرے مالک) اور ربتي (میری مالکن) کہے بلکہ مالک یوں کہے : میرے جوان ! یا میری جوان ! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں : سيدي (میرے آقا) اور سيدتي (میری مالکن) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: None of you must say: My slave (abdi) and My slave-woman (amati), and a slave must not say: My lord (rabbi or rabbati). The master (of a slave) should say: My young man (fataya) and My young woman (fatati), and a slave should say My master (sayyidi) and My mistress (sayyidati), for you are all (Allahs slave and the Lord is Allah, Most High.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٤٢٩، ١٤٤٥٩، ١٤٥٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العتق ١٧ (٢٥٥٢) ، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٣ (٢٢٤٩) ، مسند احمد (٢/٤٢٣، ٤٦٣، ٤٨٤، ٤٩١، ٥٠٨) (صحیح )
4976Sunan Abu Dawoodصحیح

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں یہ ہے فرمایا : اور چاہیئے کہ وہ سيدي (میرے آقا) اور مولاى (میرے مولی) کہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version does not mention the Prophet ﷺ i. e, it does not go back to him. It has: He must say: “My master” (sayyidi) and “My patron” (mawlaya).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٢) (صحیح )
4977Sunan Abu Dawoodصحیح

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدٌ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے (یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ١ ؎۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: Do not call a hypocrite sayyid (master), for if he is a sayyid, you will displease your Lord, Most High.

Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ تم نے اسے سید کہہ کر اس کی تعظیم کی حالانکہ وہ تعظیم کا مستحق نہیں اور اگر وہ ان معانی میں سے کسی بھی اعتبار سے سید نہیں ہے تو تمہارا اسے سید کہنا کذب و نفاق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الیوم واللیة (٢٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٤٦، ٣٤٧) (صحیح )
4978Sunan Abu Dawoodصحیح

اپنے نفس کی طرف خباثت منسوب کرنا صحیح نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلْيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي.

سہل بن حنیف (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی میرا نفس خبیث ہوگیا نہ کہے، بلکہ یوں کہے میرا جی پریشان ہوگیا ۔

Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif quoted his father as saying: None of you must say Khabuthat nafsi (My heart is heaving), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٠٠ (٦١٨٠) ، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٤ (٢٢٥١) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٥٦) (صحیح )
4979Sunan Abu Dawoodصحیح

اپنے نفس کی طرف خباثت منسوب کرنا صحیح نہیں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: جَاشَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي.

ام المؤمنین عائشہ (رض) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے : میرا جی پریشان ہوگیا۔

Aishah reported the Prophet ﷺ as saying: None of you should say Ja’shat nafsi (My heart is being agitated), but one should say Laqisat nafsi (My heart is being annoyed).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٨٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأدب ١٠٠ (٦١٨٠) ، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٤ (٢٢٥٠) ، مسند احمد (٦/٥١، ٢٠٩، ٢٨١) (صحیح )
4980Sunan Abu Dawoodصحیح

سابقہ کا اضافہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ.

حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یوں نہ کہو : جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ١ ؎ بلکہ یوں کہو : جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔

Narrated Hudhayfah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not say: What Allah wills and so and so wills, but say: What Allah wills and afterwards so and so wills.

Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ اس جملہ میں اللہ کی مشیت کے ساتھ دوسرے کی مشیت شامل ہے جب کہ اللہ چاہے پھر فلاں چاہے میں ایسی بات نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے چاہنے کے بعد پھر دوسرے کے چاہنے میں کوئی قباحت نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٣٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٤، ٣٩٤، ٣٩٨) (صحیح )
4981Sunan Abu Dawoodصحیح

سابقہ کا اضافہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ: قُمْ أَوْ قَالَ: اذْهَبْ، فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ.

عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرم ﷺ کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے (خطبہ میں) کہا :من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے ... (ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ) آپ نے فرمایا : کھڑے ہوجاؤ یا یوں فرمایا : چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو ١ ؎۔

Adl bin Hatim said: A speaker gave sermon before the prophet ﷺ . He said: he who obeys Allah and his Prophet will follow the right course, and he who disobeys them. He (The prophet) said: get up; he said: go away, a bad speaker you are.

Notes · وضاحت
١ ؎ : علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس خطیب کو اس لئے برا کہا کہ اس نے من يعصهما کہہ کر اللہ اور رسول دونوں کو ایک ہی ضمیر میں جمع کردیا تھا، خطبہ میں باتوں کو تفصیل سے کہنے کا موقع ہوتا ہے، اور سامعین میں ہر سطح کے لوگ ہوتے ہیں، مقام کا تقاضا تفصیل کا تھا یعنی : من یعص اللہ ویعص رسولہ کہنے کا ، تاکہ کسی طرح کا التباس نہ رہ جاتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (١٠٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٥٠) (صحیح )
4982Sunan Abu Dawoodصحیح

سابقہ کا اضافہ

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْرَجُلٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَثَرَتْ دَابَّةٌ، فَقُلْتُ: تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَعَاظَمَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْبَيْتِ، وَيَقُولُ: بِقُوَّتِي، وَلَكِنْ قُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ ذَلِكَ تَصَاغَرَ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الذُّباب.

ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نبی اکرم ﷺ کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا : شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا : یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہوجائے گا، اور کہے گا : میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کرلیا، بلکہ یوں کہو : اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہوجائے گا جیسے مکھی۔

Abu al-Malih reported on the authority of a man: I was riding on a mount behind the prophet ﷺ . It stumbled. Thereupon I said: May the devil perish! He said: do not say; may the devil perish! For you say that, he will swell so much so that he will be like a house, and say: by my power. But say: in the name of Allah; for when you say that, he will diminish so much so that he will be like a fly.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٥٩، ٧١) (صحیح )
4983Sunan Abu Dawoodصحیح

سابقہ کا اضافہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ. ح، وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ، وَقَالَ مُوسَى: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ، قال أبو داود: قَالَ مَالِكٌ: إِذَا قَالَ ذَلِكَ تَحَزُّنًا لِمَا يَرَى فِي النَّاسِ: يَعْنِي فِي أَمْرِ دِينِهِمْ، فَلَا أَرَى بِهِ بَأْسًا، وَإِذَا قَالَ ذَلِكَ عُجْبًا بِنَفْسِهِ وَتَصَاغُرًا لِلنَّاسِ، فَهُوَ الْمَكْرُوهُ الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم سنو ! (اور موسیٰ کی روایت میں یوں ہے، کہ جب آدمی کہے) کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مالک نے کہا : جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، اور جب یہ بات وہ خود پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے، جس سے روکا گیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When you hear. . . . (Musas version has): When a man says people have perished, he is the one who has suffered that fate most. Abu Dawud said: Malik said: If he says that out of sadness for the decadence of religion which he sees among the people, I do not think there is any harm in that. If he says that out of self-conceit and servility of the people, it is an abominable act which has been prohibited.

Notes · وضاحت
١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص لوگوں کی عیب جوئی اور برائیاں برابر بیان کرتا رہے، اور اپنی زبان سے لوگوں کے فساد میں مبتلا ہونے اور ان کی ہلاکت و تباہی کا ذکر کرتا رہے گا تو ایسا شخص بسبب اس گناہ کے جو اسے اپنے اس کرتوت کی وجہ سے لاحق ہو رہا ہے سب سے زیادہ ہلاکت و بربادی کا مستحق ہے، اور بسا اوقات وہ خود پسندی کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٤١ (٢٦٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٢٣، ١٢٧٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧، ٣٤٢) (صحیح )
4984Sunan Abu Dawoodصحیح

عشاء کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَلَكِنَّهُمْ يَعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر أعراب (دیہاتی لوگ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آجائیں، سنو ! اس کا نام عشاء ہے ١ ؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں ٢ ؎۔

Ibn Umar reported the prophet ﷺ as saying: The desert Arabs may not dominate you in respect of the name of your prayer. Beware! It is al-`Isha, but they milk their camels when it is fairly dark.

Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے اپنے قول ومن بعد صلاة العشاء میں عشاء سے تعبیر کیا ہے اس لئے اس کا ترک مناسب نہیں۔ ٢ ؎ : اور اس نماز کو مؤخر کرتے ہیں اسی وجہ سے اسے صلاة العتمة کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٢٢ (٥٤٢) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة ١٣ (٧٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٠، ١٨، ٤٩، ١٤٤) (صحیح )
4985Sunan Abu Dawoodصحیح

عشاء کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَا بِلَالُ، أَقِمْ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا بِهَا.

سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے : اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ ۔

Narrated A man: Salim ibn Abul Jadah said: A man said: (Misar said: I think he was from the tribe of Khuzaah): would that I had prayed, and got comfort. The people objected to him for it. Thereupon he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: O Bilal, call iqamah for prayer: give us comfort by it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٦٤) (صحیح )
4986Sunan Abu Dawoodصحیح

عشاء کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنْ الْأَنْصَارِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: يَا جَارِيَةُ، ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ، قال: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قُمْ يَا بِلَالُ، فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ.

عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی (عیادت) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہوگیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا : اے لڑکی ! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ ۔

Narrated Abdullah ibn Muhammad ibn al-Hanafiyyah (RA) : I and my father went to the house of my father-in-law from the Ansar to pay a sick visit to him. The time of prayer came. He said to someone of his relatives: O girl! bring me water for ablution so that I pray and get comfort. We objected to him for it. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Get up, Bilal, and give us comfort by the prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٦١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٧١) (صحیح )
4987Sunan Abu Dawoodضعیف

عشاء کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسِبُ أَحَدًا إِلَّا إِلَى الدِّينِ.

ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دین کے علاوہ کسی اور معاملے کی طرف کسی کی نسبت کرتے نہیں دیکھا ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I never heard the Messenger of Allah ﷺ attributing anyone to anything except to religion.

Notes · وضاحت
١ ؎ : امام منذری کہتے ہیں کہ شاید ابوداود نے اس باب میں اس حدیث کو اس لیے داخل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کو صرف دین کی طرف منسوب کرتے تھے، تاکہ اس حدیث کے ذریعہ سے لوگوں کو اس بات کی طرف رہنمائی کریں کہ کتاب وسنت میں وارد الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے ، اور لوگوں کو جاہلی الفاظ و عبارات کے استعمال سے روکیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے لفظ عتمہ کی جگہ عشاء کا استعمال کیا اور یہ حدیث منقطع ہے ، زید بن اسلم نے عائشہ (رض) سے نہیں سنا ہے۔ (عون المعبود ١٣/٢٢٧ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٨٨) (ضعیف الإسناد )
4989Sunan Abu Dawoodصحیح

جھوٹ کی شدت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَاالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کرلو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے ہی میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے ۔

Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Avoid falsehood, for falsehood leads to wickedness, and wickedness to hell; and if a man continues to speak falsehood and makes falsehood his object, he will be recorded in Allah’s presence as a great liar. And adhere to truth, for truth leads to good deeds, and good deeds lead to paradise. If a man continues to speak the truth and makes truth his object, he will be recorded in Allah’s presence as eminently truthful.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البروالصلة ٢٩ (٢٦٠٧) ، القدر ١ (٢٦٤٣) ، سنن الترمذی/البر ٤٦ (١٩٧١) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأدب ٦٩ (٦٠٩٤) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٦) ، موطا امام مالک/الکلام ٧ (١٦) ، مسند احمد ١(٣٨٤، ٤٠٥) ، سنن الدارمی/الرقاق ٧ (٢٧٥٧) (صحیح )
4990Sunan Abu Dawoodصحیح

جھوٹ کی شدت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَيْلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهِ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهُ وَيْلٌ لَهُ.

معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، تباہی ہے اس کے لیے، تباہی ہے اس کے لیے۔

Narrated Muawiyah ibn Jaydah al-Qushayri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Woe to him who tells things, speaking falsely, to make people laugh thereby. Woe to him! Woe to him!.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ١٠ (٢٣١٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢، ٥، ٧) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٦ (٢٧٤٤) (حسن )
4991Sunan Abu Dawoodصحیح

جھوٹ کی شدت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مَوَالِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ الْعَدَوِيّ حَدَّثَهُ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا، فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ، قَالَتْ: أُعْطِيهِ تَمْرًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ.

عبداللہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے، وہ بولیں : سنو یہاں آؤ، میں تمہیں کچھ دوں گی، رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ وہ بولیں، میں اسے کھجور دوں گی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : سنو، اگر تم اسے کوئی چیز نہیں دیتی، تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Amir: My mother called me one day when the Messenger of Allah ﷺ was sitting in our house. She said: Come here and I shall give you something. The Messenger of Allah ﷺ asked her: What did you intend to give him? She replied: I intended to give him some dates. The Messenger of Allah ﷺ said: If you were not to give him anything, a lie would be recorded against you.

Notes · وضاحت
١ ؎ : معلوم ہوا کہ جب ماں کے لئے بچہ کو اپنی کسی ضرورت کے لئے جھوٹ بول کر پکارنا صحیح نہیں تو بھلا کسی بڑے کے ساتھ جھوٹی بات کیونکر کی جاسکتی ہے، گویا ازراہ ہنسی ہی کیوں نہ ہو وہ حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٥٣٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤٧) (حسن )
4992Sunan Abu Dawoodصحیح

جھوٹ کی شدت کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْخُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ حُسَيْنٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ، قال أبو داود: وَلَمْ يَذْكُرْ حَفْصٌ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أبو داود: وَلَمْ يُسْنِدْهُ إِلَّا هَذَا الشَّيْخُ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ حَفْصٍ الْمَدَائِنِيَّ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بلا تحقیق) بیان کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حفص نے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں : اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: It is enough falsehood for a man to relate everything he hears. Abu Dawud said: Hafs did not mention Abu Hurairah (in his version). Abu Dawud said: No other transmitter except this old man, that is, Ali bin Hafs al-Madaini related the perfect chain of this tradition.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المقدمة ٣ (٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٦٨، ١٨٥٨٠) (صحیح )
4988Sunan Abu Dawoodصحیح

اس سلسلہ میں بعض مواقع پر اجازت کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا شَيْئًا أَوْ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا.

انس (رض) کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بار (دشمن کا) خوف ہوا، رسول اللہ ﷺ ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، (واپس آئے تو) فرمایا : ہم نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، یا ہم نے کوئی خوف نہیں دیکھا اور ہم نے اسے (گھوڑے کو) سمندر (سبک رفتار) پایا ١ ؎۔

Anas said: The people of Madina were started. The Messenger of Allah ﷺ rode on the horse belonging to Abu Talhah. He said: We did not see anything, or he said: we did not see (find) any fear. I found it (could run) like a river.

Notes · وضاحت
١ ؎ : گویا کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے تشبیہ دی جاسکتی ہے، اگرچہ ان دونوں میں کلی طور پر اشتراک نہ ہو صرف جزوی اشتراک ہو، جیسا کہ آپ ﷺ نے گھوڑے کو محض سبک رفتاری میں اشتراک کی وجہ سے بحر (سمندر) سے تشبیہ دی ، اسی طرح نماز عشاء کو عتمہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ، کیونکہ یہ عتمہ یعنی تاریکی میں پڑھی جاتی ہے، اس استدلال سے محض تکلف ظاہر ہوتا ہے، اس باب میں زیادہ موزوں اور واضح استدلال ابوہریرہ (رض) کی وہ روایت ہے جس کی تخریج بخاری، مسلم اور ترمذی نے کی ہے، اور جس میں یہ الفاظ وارد ہیں : ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٣٣ (٢٦٢٧) ، صحیح مسلم/الفضائل ١١ (٢٣٠٧) ، سنن الترمذی/الجہاد ١٤ (١٦٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٢) ، مسند احمد (٣، ١٧٠، ١٨٠، ٢٧٤، ٢٩١) (صحیح )