محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا : تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے ؟ کہا : میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر (میرے گھر والوں میں سے) کسی نے پوچھا : تو ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا : زینب رکھ دو ۔
Muhammad bin Amr bin Ata said: Zainab daughter of Abu Salamah asked him: Which name did you give to your daughter? He replied: Barrah. She said: The Messenger of Allah ﷺ forbade giving this name. I was called Barrah but the Prophet ﷺ said: Do not declare yourselves pure, for Allah knows best those of you who are obedient. He said: we asked; which name should we give her? He replied: Call her Zainab.
اسامہ بن اخدری تمیمی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا : نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے) ۔
Narrated Usamah ibn Akhdari (RA) : A man called Asram was among those who came to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: What is your name? He replied: Asram. He said: No, you are Zurah.
ابوشریح ہانی کندی (رض) سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا : حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے ؟ انہوں نے کہا : میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہوجاتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں ؟ انہوں نے کہا : شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا : ان میں بڑا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا : شریح آپ نے فرمایا : تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔
Narrated Hani ibn Yazid: When Hani went with his people in a deputation to the Messenger of Allah ﷺ , he heard them calling him by his kunyah (surname), AbulHakam. So the Messenger of Allah ﷺ called him and said: Allah is the judge (al-Hakam), and to Him judgment belongs. Why are you given the kunyah AbulHakam? He replied: When my people disagree about a matter, they come to me, and I decide between them, and both parties are satisfied with my decision. He said: How good this is! What children have you? He replied: I have Shurayh, Muslim and Abdullah. He asked; Who is the oldest of them? I replied: Shurayh. He said: Then you are Abu Shurayh. Abu Dawud said: This is Shuraib who broke the chain, and who entered Tustar. Abu Dawud said: I have been told that Shuraib broke the gate of Tustar, and he entered it through tunnel.
سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ کہا : حزن ١ ؎ آپ نے فرمایا : تم سہل ہو، انہوں نے کہا : نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں : تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے) ، عتلہ (سختی) شیطان، حکم (اللہ کی صفت ہے) ، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں) ، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔
Saeed bin Musayyab told that his father said on the authority of his grandfather (Hazn): The Prophet ﷺ asked: What is your name? He replied: Hazn (rugged). He said: You are Sahl (smooth). He said: No, smooth is trodden upon and disgraced. Saeed said: I then thought that ruggedness would remain among us after it. Abu Dawud said: The Prophet ﷺ changed the names al-As, Aziz, Atalah, Shaytan, al-Hakam, Ghurab, Hubab, and Shihab and called him Hisham. He changed the name Harb (war) and called him Silm (peace). He changed the name al-Munbaith (one who lies) and called him al-Mudtaji (one who stands up). He changed the name of a land Afrah (barren) and called it Khadrah (green). He changed the name Shib ad-Dalalah (the mountain path of a stray), the name of a mountain path and called it Shib al-Huda (mountain path of guidance). He changed the name Banu az-Zinyah (children of fornication) and called them Banu ar-Rushdah (children of those who are on the right path), and changed the name Banu Mughwiyah (children of a woman who allures and goes astray), and called them Banu Rushdah (children of a woman who is on the right path). Abu Dawud said: I omitted the chains of these for the sake of brevity.
Notes · وضاحت
١ ؎ : حزن کے معنی سخت اور دشوار گزار زمین کے ہیں اور سہل کے معنی : نرم اور عمدہ زمین کے ہیں حزن کی ضد۔
مسروق کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) سے ملا تو انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : اجدع تو شیطان ہے ۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Masruq said: I met Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) who said: Who are you? I replied: Masruq ibn al-Ajda. Umar then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: al-Ajda (mutilated) is a devil.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٣١ (٣٧٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣١) (ضعیف )
سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے : کیا وہاں ہے وہ ؟ تو جواب دینے والا کہے گا : نہیں (تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے) (سمرہ نے کہا) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔
Samurah bin Jundub reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not call your servant Yasar (wealth), Rabah (profit), Nijih (prosperous) and Aflah (successful), for you may ask; Is he there? And someone says: No. Samurah said: These are four (names), so do not attribute more to me.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا : کیا برکت ہے ؟ تو لوگ کہیں گے : نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If I survive (God willing), I shall forbid my people to give the names Nafi (beneficial), Aflah (successful) and Barakah (blessing). Al-Amash said: I do not know whether he mentioned Nafi or not. When a man comes and asks: Is there Barakah (blessing)? The people say: No. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Zubair on the authority of Jabir from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. This version has no mention of Barakah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٣٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٨٨) (صحیح )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے أخنع اسم کے بجائے أخنى اسم کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں) ۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: The vilest names in Allah’s sight on the Day of resurrection will be that of a man called Malik al-Amlak. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Shuaib bin Abi Hamzah from Abi al-Zinad through different chain of narrators. This version has the words akhna ismin (most obscene name) instead of akhna ismin (the vilest name).
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے (الحجرات : ١١) ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا : اے فلاں، تو لوگ کہتے : اللہ کے رسول ! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی ولا تنابزوا بالألقاب۔
Narrated Abu Jubayrah ibn ad-Dahhak (RA) : This verse was revealed about us, the Banu Salimah: Nor call each other by (offensive) nicknames: ill-seeming is a name connoting wickedness (to be used of one) after he has believed. He said: When the Messenger of Allah ﷺ came to us, every one of us had two or three names. The Messenger of Allah ﷺ began to say: O so and so! But they would say: Keep silence, Messenger of Allah! He becomes angry by this name. So this verse was revealed: Nor call each other by (offensive) nicknames.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ تفسیر القرآن ٤٩ (٣٢٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٥ (٣٧٤١) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٦٩، ٢٦٠، ٥/٣٨٠) (صحیح )
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ (رض) نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر (رض) نے ان سے کہا : کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو ؟ ١ ؎ وہ بولے : میری یہ کنیت رسول اللہ ﷺ نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ٢ ؎ چناچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Zayd ibn Aslam quoted his father as saying: Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) struck one of his sons who was given the kunyah Abu Isa, and al-Mughirah ibn Shubah had the kunyah Abu Isa. Umar said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah Abu Abdullah? He replied: The Messenger of Allah ﷺ gave me this kunyah. Thereupon he said: The Messenger of Allah ﷺ was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah Abu Abdullah until he died.
Notes · وضاحت
١ ؎ : عمر (رض) نے ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے اس وجہ سے منع کیا کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ لوگ اس وہم میں نہ مبتلا ہوجائیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی کوئی باپ تھا ، یہی وجہ ہے کہ عمر (رض) نے کہا کہ یہ کنیت رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ ٢ ؎ : مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ عام مسلمان ہیں، اور یہ نہیں معلوم کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے میرے بیٹے !۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said to him: My sonny. Abu Dawud said: I heard Yahya bin Main praising the transmitter Muhammad bin Mahbub, and he said: He transmitted a large number of traditions.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر (رض) سے مروی ہیں، اور انس بن مالک (رض) کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو) ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Call yourselves by my name, but do not use my KUNYAH (surname). Abu Dawud said: Abu Salih has transmitted it in a similar way from Abu Hurairah, and similar are the traditions of Abu Sufyan from Jabir, of Salim bin Abl al-Ja’d from Jabir, of Sulaiman al-Yashkuri from Jabir, and of Ibn al-Munkadir from Jabir and similar others and Anas bin Malik (RA).
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ (رض) سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is called by my name, he must not be given my kunyah (surname), and if anyone uses my kunyah (surname), he must not be called by my name. Abu Dawud said: Ibn Ajlan transmitted it to the same effect from his father on the authority if Abu Hurairah. It has also been transmitted by Abu Zarah from Abu Hurairah in two different versions. And similar is the version of Abdur-Rahman bin Abi Amrah from Abu Hurairah. This version is disputed: Al-Thawri and Ibn Juraij transmitted it according to the version of Abu al-Zubair; and Maqil bin Ubaid Allah transmitted it according to the version of Ibn Sirin. It is again dispted on Musa bin Yasar from Abu Hurariah, transmitting it in two versions: Hammad bin Khalid and Ibn Abi Fudaik varied in their versions.
Notes · وضاحت
١ ؎ : خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے دونوں لفظوں کے ساتھ آئی ہے : اس طرح بھی جیسے محمد بن سیرین نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، جو یہ ہے تسموا باسمي ولا تکتنوا بكنيتي میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو اور اس طرح بھی جیسے ابوالزبیر نے جابر (رض) سے روایت کی ہے، دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ بطریق ابوالزبیر عن جابر میں نبی اکرم ﷺ کا نام اور کنیت الگ الگ رکھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے ، اور بطریق ابن سیرین ابوہریرہ کی روایت سے نام رکھنے کا جواز اور کنیت رکھنے کا عدم جواز ثابت ہو رہا ہے ، صحیح بخاری کی حدیث بطریق سالم بن ابی الجعد عن جابر (رض) : ابن سیرین کی ابوہریرہ سے حدیث کی طرح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٩٨٣، ١٣٦١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٣) (منکر) (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، صحیح بخاری میں سالم بن ابی الجعد نے جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے فرمایا : سمو ا بأسمی ولا تکنوا بکنیتي الأدب ٦١٨٧ )
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ۔
Muhammad bin al-Hanafiyyah quoted Ali as saying: I said: Messenger of Allah! tell me if a son is born to me after your death, may I give him your name and your kunyah? He replied: Yes. The transmitter Abu Bakr did not mention the words I said. Instead, he said: Ali said to the Prophet ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٨ (٢٨٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول ! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا : کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست ؟ ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah! I have given birth to a boy, and call him Muhammad and Abul Qasim as kunyah (surname), but I have been told that you disapproved of that. He replied: What is it which has made my name lawful and my kunyah unlawful, or what is it which has made my kunyah unlawful and my name lawful?
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ ﷺ کی حیات مبارکہ تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٥، ٢٠٩) (ضعیف )
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مرگئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا : کیا بات ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اس کی چڑیا مرگئی، تو آپ نے فرمایا : اے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو ؟ ۔
Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to come to visit us. I had a younger brother who was called Abu ‘Umair by Kunyah (surname). He had a sparrow with which he played, but it died. So one day the prophet ﷺ came to see him and saw him grieved. He asked: What is the matter with him? The people replied: His sparrow has died. He then said: Abu ‘Umair! What has happened to the little sparrow?
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا : تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں (عبداللہ کے بجائے) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں : چناچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Aisha (RA) said: Messenger of Allah! All my fellow-wives have kunyahs? He said: Give yourself the kunyah by Abdullah, your son - that is to say, her nephew (her sisters son). Musaddad said: Abdullah ibn az-Zubayr. She was called by the kunyah Umm Abdullah. Abu Dawud said: Qurran bin Tammam and Mamar all have transmitted it from Hisham in a similar manner. It has also been transmitted by Abu Usamah from Hisham, from Abbad bin Hamzah. Similarly, Hammad bin Salamah and Maslamah bin Qanab have narrated it from Hisham, like the tradition transmitted by Abu Usamah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٠٧، ١٥١، ١٨٦، ٢٦٠) (صحیح )
سفیان بن اسید حضرمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
Narrated Sufyan ibn Asid al-Hadrami (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is great treachery that you should tell your brother something and have him believe you when you are lying.
Notes · وضاحت
١ ؎ : تعریض یا توریہ ایسے لفظ کے اطلاق کا نام ہے جس کا ایک ظاہری معنی ہوا، اور متکلم اس ظاہری معنیٰ کے خلاف ایک دوسرا معنی مراد لے رہا ہو جس کا وہ لفظ محتمل ہو، یہ ایک طرح سے مخاطب کو دھوکہ میں ڈالنا ہے اسی وجہ سے جب تک کوئی شرعی مصلحت یا کوئی ایسی حاجت نہ ہو کہ اس کے بغیر کوئی اور چارہ کار نہ ہو ایسا کرنا صحیح نہیں۔
ابومسعود (رض) نے ابوعبداللہ (حذیفہ) (رض) سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا تم نے زعموا کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا فرماتے سنا ؟ وہ بولے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : زعموا (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بری سواری ہے ١ ؎۔
Abu Masud asked Abu Abu Allah, or Abu Abdullah asked Abu Masud; what did you hear the Messenger of Allah ﷺ say about za’ama (they alleged, asserted, or it is said). He replied: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: it is a bad riding-beast for a man (to say) za’ama (they asserted). Abu DAwud said: This Abu Abdullah is Hudhaifah.
Notes · وضاحت
١ ؎ : چونکہ زعموا کا تعلق ایسے قول اور ایسی بات سے ہے جو غیر یقینی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ ﷺ نے اس لفظ و اپنے مقصد کے لئے سواری بنانے اور اس کی آڑ لے کر کوئی ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے جو غیر محقق ہو اور جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣٣٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١١٩، ٥/٤٠١) (صحیح )