Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 249 of 265

4993Sunan Abu Dawoodضعیف

مسلمانوں کے ساتھ خوش گمانی رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُهَنَّا أَبِي شِبْلٍ، قال أبو داود: وَلَمْ أَفْهَمْهُ مِنْهُ جَيِّدًا، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ شُتَيْرٍ، قَالَ نَصْرٌ: ابْنِ نَهَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَصْرٌ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ، قال أبو داود: مُهَنَّا ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: To harbour good thoughts is a part of well-conducted worship. (This is according to Nasrs version). Abu Dawud said: Mahna is reliable and he is from Basrah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٣٤٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠٤، ٤٠٧، ٤٩١) (ضعیف )
4994Sunan Abu Dawoodصحیح

مسلمانوں کے ساتھ خوش گمانی رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ وَقُمْتُ فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، قَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قال: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا أَوْ قَالَ: شَرًّا.

ام المؤمنین صفیہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید (رض) کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا : تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا : سبحان اللہ، اللہ کے رسول ! (یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کرسکتے ہیں) آپ نے فرمایا : شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون (رگوں میں) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا : کوئی بری بات نہ ڈال دے ١ ؎۔

Safiyyah said: The Messenger of Allah ﷺ was in the I’TIKAF (seclusion in the mosque). I came to visit him at night. I talked to him, got up and turned my back. He got up with me to accompany me. He was living in the house of Usamah bin Zaid. Two men of the Ansar passed by him. When they saw the Messenger of Allah ﷺ , they walked quickly. The prophet ﷺ said: Be at ease; she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Glory be to Allah, Messenger of Allah! He said: The devil flows in man as the blood flows in him. I feared that he might inject something in your hearts, or he said “evil” (instead of something).

Notes · وضاحت
١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں میری نسبت سے ان دونوں کے دل میں کوئی بات ایسی پیدا ہوگئی جو ان کے کفر و ارتداد کا سبب بن گئی تو یہ دونوں تباہ و برباد ہوجائیں گے، اس لئے ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ نے ظن و شک والے امر کی وضاحت کردی تاکہ یہ دونوں صحیح و سلامت رہیں کیونکہ آپ کو اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٠١) (صحیح )
4995Sunan Abu Dawoodضعیف

وعدہ وفا کرنا شیوہ مسلم ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلَمْ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ.

زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کرسکے اور وعدے پر نہ آسکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔

Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man makes a promise to his brother with the intention of fulfilling it and does not do so, and does not come at the appointed time, he is guilty of no sin.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ١٤ (٢٦٣٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٩٣) (ضعیف) (سند میں ابو وقاص مجہول راوی ہیں )
4996Sunan Abu Dawoodضعیف

وعدہ وفا کرنا شیوہ مسلم ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحَمْسَاءِ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعٍ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ، وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ، فَنَسِيتُ ثُمَّ ذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَجِئْتُ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ، فَقَالَ: يَا فَتًى، لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُكَ، قال أبو داود: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: هَذَا عِنْدَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أبو داود: هَكَذَا بَلَغَنِي، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أبو داود: بَلَغَنِي أَنَّ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ رَوَاهُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ.

عبداللہ بن ابو حمساء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم ﷺ سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین (دن) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا : اے جوان ! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں ۔

Narrated Abdullah ibn AbulHamsa: I bought something from the Prophet ﷺ before he received his Prophetic commission, and as there was something still due to him I promised him that I would bring it to him at his place, but I forgot. When I remembered three days later, I went to that place and found him there. He said: You have vexed me, young man. I have been here for three days waiting for you. Abu Dawud said: Muhammad bin Yahya said: This is, in our opinion, Abd al-Karim bin Abdullah bin Shaqiq (instead of from Abd al-Karim from Abdullah bin Shaqiq). Abu Dawud said: In a similar way I have been informed by Ali bin Abdullah. Abu Dawud said: I have been told that Bishr bin al-Sarri transmitted it from Abdullah bin Shaqiq.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٤٥) (ضعیف الإسناد )
4997Sunan Abu Dawoodصحیح

غیر موجود چیزوں پر جو اپنے پاس نہ ہوں فخر کرنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَةً تَعْنِي ضَرَّةً هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ لَهَا بِمَا لَمْ يُعْطِ زَوْجِي ؟ قَالَ: الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ.

اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا : جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔

Asma, daughter of Abu Bakr, told of a woman who said: Messenger of Allah! I have a fellow-wife; will it be wrong for me to boast of receiving from my husband what he does not give me? He replied: the one who boasts of receiving what he has not been given is like him who has put on two garments of falsehood.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٠٧ (٥٢١٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٣٥ (٢١٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣) (صحیح )
4998Sunan Abu Dawoodصحیح

مذاق ومزاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْمِلْنِي، قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ، قال: وَمَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ.

انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا : میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔

Narrated Anas ibn Malik: A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! give me a mount. The Prophet ﷺ said: We shall give you a she-camels child to ride on. He said: What shall I do with a she-camels child? The Prophet ﷺ replied: Do any others than she-camels give birth to camels?

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٥٧ (١٩٩١) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٦٧) (صحیح )
4999Sunan Abu Dawoodضعیف

مذاق ومزاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، فَلَمَّا دَخَلَ تَنَاوَلَهَا لِيَلْطِمَهَا، وَقَالَ: أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْجِزُهُ، وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ: كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ، قال: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَهُمَا قَدِ اصْطَلَحَا، فَقَالَ: لَهُمَا أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ فَعَلْنَا قَدْ فَعَلْنَا.

نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے : سنو ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ ﷺ پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم ﷺ انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے (یعنی ان کے گھر نہیں گئے) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہوگئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے : آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کرلیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔

Narrated An-Numan ibn Bashir: When Abu Bakr asked the permission of the Prophet ﷺ to come in, he heard Aisha (RA) speaking in a loud voice. So when he entered, he caught hold of her in order to slap her, and said: Do I see you raising your voice to the Messenger of Allah? The Prophet ﷺ began to prevent him and Abu Bakr went out angry. The Prophet ﷺ said when Abu Bakr went out: You see I rescued you from the man. Abu Bakr waited for some days, then asked permission of the Messenger of Allah ﷺ to enter, and found that they had made peace with each other. He said to them: Bring me into your peace as you brought me into your war. The Prophet ﷺ said: We have done so: we have done so.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١١٦٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٧٢، ٢٧٥) (ضعیف الإسناد )
5000Sunan Abu Dawoodصحیح

مذاق ومزاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّ وَقَالَ: ادْخُلْ، فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قال: كُلُّكَ فَدَخَلْتُ.

عوف بن مالک اشجعی (رض) کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا : اندر آجاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : پورے طور سے چناچہ میں اندر چلا گیا۔

Awf bin Malik al-Ashjai said: I came to the Messenger of Allah ﷺ at the expedition to Tabuk when he was in a small skin tent. I gave him a salutation and he returned it, saying: come in. I asked: the whole of me Messenger of Allah? He replied: The whole of you. So I entered.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١٥ (٣١٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٤٢ (٤٠٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٩٠٠٣، ١٠٩١٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٢) (صحیح )
5001Sunan Abu Dawoodضعیف

مذاق ومزاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: أَدْخُلُ كُلِّي مِنْ صِغَرِ الْقُبَّةِ.

عثمان بن ابی العات کہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو یہ پوچھا کہ کیا پورے طور پر اندر آجاؤں تو اس وجہ سے کہ خیمہ چھوٹا تھا۔

Uthman bin Abu Atikah said: The only reason why he asked whether the whole of him should come in was because of the smallness of the tent

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩١٨، ١٩٠٠٣) (ضعیف الإسناد )
5002Sunan Abu Dawoodصحیح

مذاق ومزاح کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے دو کانوں والے !۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ addressed me as: O you with the two ears.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٤٦ (١٩٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٧، ١٢٧، ٢٤٢، ٢٦٠) (صحیح )
5003Sunan Abu Dawoodصحیح

مذاق سے کسی کی چیز لینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَاشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: لَعِبًا وَلَا جِدًّا، وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا، لَمْ يَقُلْ ابْنُ بَشَّارٍ: ابْنَ يَزِيدَ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یزید بن سعید (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ١ ؎۔ سلیمان کی روایت میں ( لاعبا ولا جادا کے بجائے) لعبا ولا جدا ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ (ضرورت پوری کر کے) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہا ہے۔

Narrated Abdullah ibn as-Saib ibn Yazid: The Messenger of Allah ﷺ said: None of you should take the property of his brother in amusement (i. e. jest), nor in earnest. The narrator Sulayman said: Out of amusement and out of earnest. If anyone takes the staff of his brother, he should return it. The transmitter Ibn Bashshar did not say Ibn Yazid, and he said: The Messenger of Allah ﷺ said.

Notes · وضاحت
١ ؎ : حقیقت میں لینے کی ممانعت کی وجہ تو ظاہر ہے کہ یہ چوری ہے اور ہنسی میں لینے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ چیز سامان والے کی ناراضگی اور اس کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٣ (٢١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢١) (حسن )
5004Sunan Abu Dawoodصحیح

مذاق سے کسی کی چیز لینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى حَبْلٍ مَعَهُ، فَأَخَذَهُ فَفَزِعَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا.

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ١ ؎۔

Narrated Abdur Rahman ibn Abu Layla (RA) : The Companions of the Prophet ﷺ told us that they were travelling with the Prophet ﷺ . A man of them slept, and one of them went to the rope which he had with him. He took it, by which he was frightened. The Prophet ﷺ said: It is not lawful for a Muslim that he frightens a Muslim.

Notes · وضاحت
١ ؎ : بطور مذاق بھی ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس میں ایذا رسانی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٦٢) (صحیح )
5005Sunan Abu Dawoodصحیح

گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ، وَكَانَ يَنْزِلُ الْعَوَقَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال أبو داود: هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَةِ بِلِسَانِهَا.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے (گھاس کھانے میں) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بےسوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Exalted, hates the eloquent one among men who moves his tongue round (among his teeth), as cattle do.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٧٢ (٢٨٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٥، ١٨٧) (صحیح )
5006Sunan Abu Dawoodضعیف

گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ صَرْفَ الْكَلَامِ لِيَسْبِيَ بِهِ قُلُوبَ الرِّجَالِ أَوِ النَّاسِ، لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کرلے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل (عبادت) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: On the Day of resurrection Allah will not accept repentance or ransom from him who learns excellence of speech to captivate thereby the hearts of men, or of people.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٠) (ضعیف) ( سند میں عبداللہ بن مسیب لین الحدیث ہیں )
5007Sunan Abu Dawoodصحیح

گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَعَجِبَ النَّاسُ يَعْنِي لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ لَسِحْرٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ دو آدمی ١ ؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑگئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ٢ ؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ إن من البيان لسحرا کہا یا إن بعض البيان لسحر کہا۔

Abdullah bin Umar (RA) said: When two men who came from the east made a speech and the people were charmed with their eloquence, the Messenger of Allah ﷺ said: In some eloquent speech there is magic.

Notes · وضاحت
١ ؎ : ان دونوں آدمیوں کے نام زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی آمد کا و واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ ٢ ؎ : یہ خوبی اگر حق کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو ممدوح ہوتی ہے اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو مذموم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٧ (٥١٤٦) ، الطب ٥١ (٥٧٦٧) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٨١ (٢٠٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٢٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦، ٥٩، ٦٢، ٩٤، ٤/٢٦٣) (صحیح )
5008Sunan Abu Dawoodصحیح

گفتگو میں منہ بگاڑنا برا ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، أَنَّهُ قَرَأَ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، وَحَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ عَمْرَو ابْنَ الْعَاصِ، قال يَوْمًا وَقَامَ رَجُلٌ فَأَكْثَرَ الْقَوْلَ، فَقَالَ عَمْرٌو: لَوْ قَصَدَ فِي قَوْلِهِ لَكَانَ خَيْرًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَوْ أُمِرْتُ أَنْ أَتَجَوَّزَ فِي الْقَوْلِ، فَإِنَّ الْجَوَازَ هُوَ خَيْرٌ.

ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور (اس سے پہلے) ایک شخص کھڑے ہو کر بےتحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا : اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔

One day when a man got up and spoke at length Amr ibn al-As said If he had been moderate in what he said: It would have been better for him. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I think (or, I have been commanded) that I should be brief in what I say, for brevity is better.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٧٤٧) (حسن الإسناد )
5009Sunan Abu Dawoodصحیح

شعرگوئی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا، قال أَبُو عَلِيٍّ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ وَجْهُهُ: أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبَ، فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا، قال: كَأَنَّ الْمَعْنَى: أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ: أَنْ يَمْدَحَ الْإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ، ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الْآخَرِ، فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں : مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا : اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں : اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات (تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کردیا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu Ali said: I have been told that Abu Ubaid said: It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to another of his speech, as if he spelled the audience by it.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٢ (٦١٥٥) ، صحیح مسلم/الشعر ح ٧ (٢٢٥٧) ، سنن الترمذی/الأدب ٧١ (٢٨٥١) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ١ (٣٧٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٨٨، ٣٣١، ٣٥٥، ٣٩١، ٤٨٠) (صحیح )
5010Sunan Abu Dawoodصحیح

شعرگوئی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ،عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً.

ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔

Ubayy bin Kaab reported the Prophet ﷺ as saying: In poetry there is wisdom.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩ (٦١٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤١ (٣٧٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٢٥، ١٢٦) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٨ (٢٧٤٦) (صحیح )
5011Sunan Abu Dawoodصحیح

شعرگوئی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا.

ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار حكم ١ ؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A desert Arab came to the Prophet ﷺ and began to speak. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: In eloquence there is magic and in poetry there is wisdom.

Notes · وضاحت
١ ؎ : یہاں حُکْم ، حِکْمَتْ کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٩ (٢٨٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤١ (٣٧٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٦١٠٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٩، ٣١٣، ٣٢٧، ٣٣٢) (صحیح )
5012Sunan Abu Dawoodضعیف

شعرگوئی کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا، فقال صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، فَالرَّجُلُ يَكُونُ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَهُوَ أَلْحَنُ بِالْحُجَجِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ، فَيَسْحَرُ الْقَوْمَ بِبَيَانِهِ فَيَذْهَبُ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، فَيَتَكَلَّفُ الْعَالِمُ إِلَى عِلْمِهِ مَا لَا يَعْلَمُ فَيُجَهِّلُهُ ذَلِكَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، فَهِيَ هَذِهِ الْمَوَاعِظُ وَالْأَمْثَالُ الَّتِي يَتَّعِظُ بِهَا النَّاسُ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: إِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا، فَعَرْضُكَ كَلَامَكَ وَحَدِيثَكَ عَلَى مَنْ لَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ وَلَا يُرِيدُهُ.

بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں (یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے) ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں ۔ تو صعصہ بن صوحان بولے : اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل (پیش کرنے) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چناچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چناچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: In eloquence there is magic, in knowledge ignorance, in poetry wisdom, and in speech heaviness. Sasaah ibn Suhan said: The Prophet of Allah ﷺ spoke the truth. His statement In eloquence there is magic means: (For example), there is a right due from a man who is more eloquent in reasoning than the man who is demanding his right. He (the defendant) charms the people by his speech and takes away his right. His statement In knowledge there is ignorance means: A scholar brings to his knowledge what he does not know, and thus he becomes ignorant of that. His statement In poetry there is wisdom means: These are the sermons and examples by which people receive admonition. His statement In speech there is heaviness means: That you present your speech and your talk to a man who is not capable of understanding it, and who does not want it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٧٩، ١٨٨١٧) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن ثابت ابوجعفر مجہول اور صخر بن عبداللہ لین الحدیث ہیں )