Sunan Abu Dawood 4997

ادب کا بیان

4997Sunan Abu Dawood

غیر موجود چیزوں پر جو اپنے پاس نہ ہوں فخر کرنا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارَةً تَعْنِي ضَرَّةً هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ لَهَا بِمَا لَمْ يُعْطِ زَوْجِي ؟ قَالَ: الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔

Asma, daughter of Abu Bakr, told of a woman who said: Messenger of Allah! I have a fellow-wife; will it be wrong for me to boast of receiving from my husband what he does not give me? He replied: the one who boasts of receiving what he has not been given is like him who has put on two garments of falsehood.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ١٠٧ (٥٢١٩)، صحیح مسلم/اللباس ٣٥ (٢١٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣) (صحیح )