Sunan Abu Dawood 4981

ادب کا بیان

4981Sunan Abu Dawood

سابقہ کا اضافہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ: قُمْ أَوْ قَالَ: اذْهَبْ، فَبِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ.

عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرم ﷺ کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے (خطبہ میں) کہا:من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے ... (ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ) آپ نے فرمایا: کھڑے ہوجاؤ یا یوں فرمایا: چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو ١ ؎۔

Adl bin Hatim said: A speaker gave sermon before the prophet ﷺ . He said: he who obeys Allah and his Prophet will follow the right course, and he who disobeys them. He (The prophet) said: get up; he said: go away, a bad speaker you are.

Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس خطیب کو اس لئے برا کہا کہ اس نے من يعصهما کہہ کر اللہ اور رسول دونوں کو ایک ہی ضمیر میں جمع کردیا تھا، خطبہ میں باتوں کو تفصیل سے کہنے کا موقع ہوتا ہے، اور سامعین میں ہر سطح کے لوگ ہوتے ہیں، مقام کا تقاضا تفصیل کا تھا یعنی: من یعص اللہ ویعص رسولہ کہنے کا، تاکہ کسی طرح کا التباس نہ رہ جاتا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٨٥٠) (صحیح )