عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول ﷺ نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث:بآبائكم تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر ؓ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators to the same effect up to the words by your fathers. This version adds: Umar said: I swear by Allah, I never swore by it personally or reporting it from others.
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر ؓ نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا ۔
Saeed ibn Ubaydah said: Ibn Umar heard a man swearing: No, I swear by the Kabah. Ibn Umar said to him: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who swears by anyone but Allah is polytheist.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ٨ (١٥٣٥)، (تحفة الأشراف: ٧٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤، ٥٨، ٦٠، ٦٩، ٨٦، ١٢٥) (صحیح )
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہوگیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اگر وہ سچا ہے ۔
Referring to the story of a bedouin, Talhah bin Ubaid Allah reported the Prophet ﷺ as saying: He became successful, by his father, if he speaks the truth, he will enter paradise, by his father, if he speaks truth.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٤ (٤٦)، والصوم ١ (١٨٩١)، والشھادات ٢٦ (٢٦٧٨)، والحیل ٣ (٦٩٥٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٢، (١١)، سنن النسائی/الصلاة ٤ (٤٥٩)، الصوم ١ (٢٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ٥٠٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٥ (٩٤) (وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة برقم (391) وليس فيه ” وأبيه “ (اس حدیث میں یہ ٹکڑا ” أفلح وأبيه إن صدق “ شاذ ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ١ ؎۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: He who swears by Amanah (faithfulness) is not one of our number. Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said about the futile oath: It is mans speech in his house: No, by Allah, and Yes, by Allah. Abu Dawud said: Ibrahim al-Saigh, the narrator of this tradition, was a pious man. Abu Muslim killed him at Aranda. When he raised a hammed and heard the call to prayer, he gave it up. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Dawud bin Abi al-Furat from Ibrahim al-Saigh as a statement of Aisha (RA) (not attributed to the Prophet). Similarly, it has been transmitted by al-Zuhri, Abd al-Malik bin Abi Sulaiman and Malik bin Mughul. All of them transmitted it from Ata on the authority of Aisha (RA) on her own statement.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ قسم اللہ کے اسماء وصفات کی کھانی چاہیے، اور امانت اس کے اسماء وصفات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اوامر میں سے ایک امر ہے، اس لیے امانت کی قسم کھانا جائز کام ہوگا، اور اس میں کفارہ نہ ہوگا، امام ابوحنیفہ کے نزدیک امانت کی قسم صحیح ہے، اور اس میں کفارہ واجب ہوگا، کیونکہ امین اللہ کا نام ہے۔
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں (تکیہ کلام کے طور پر) كلا والله وبلى والله (ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی) کہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کردیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آجاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
١ ؎: یمین لغو ایسے قسمیہ الفاظ کو کہا جاتا ہے جو دوران گفتگو لوگوں کی زبان سے بلا قصد و ارادہ جاری ہوجاتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢) (صحیح )
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہوگا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۔ مسدد کی روایت میں: أخبرني عبد الله بن أبي صالح ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Your oath should be about something regarding which your companion will believe you. Musaddad said: Abdullah bin Abi Salih narrated to me. Abu Dawud said: Both of them refer to the same person: Abbad bin Abu Salih and Abdullah bin Abi Salih.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ٤ (١٦٥٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١٩ (١٣٥٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٨)، سنن الدارمی/النذور ١١ (٢٣٩٤) (صحیح )
سوید بن حنظلہ ؓ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر ؓ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھالی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو میں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھالی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔
Narrated Suwayd ibn Hanzalah (RA) : We went out intending (to visit) the Messenger of Allah ﷺ and Wail ibn Hujr was with us. His enemy caught him. The people desisted from swearing an oath, but I took an oath that he was my brother. So he left him. We then came to the Messenger of Allah ﷺ , and I informed him that the people desisted from taking the oath, but I swore that he was my brother. He said: You spoke the truth: A Muslim is a brother of a Muslim.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١١٩)، (تحفة الأشراف: ٤٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (صحیح )
ثابت بن ضحاک ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی ١ ؎، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہوجائے گا جیسا اس نے کہا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے (یعنی خودکشی کرلے) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ٢ ؎۔
Narrated Thabit bin Adh-Dahhak (RA) : That he took oath of allegiance to the Messenger of Allah ﷺ under the tree. The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone swears by religion other than Islam falsely, he is like what has has said. If anyone kills himself with something, he will be punished with it on the Day of Resurrection. A vow over which a man has no control is not binding on him.
Notes · وضاحت
١ ؎: بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، جو صلح حدیببہ کے موقع پر لی گئی۔ ٢ ؎: مثلا یوں کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کروں تو یہودی ہوجاؤں، مثلاً دوسرے کے غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے کی نذر مانے۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں (اگر میں نے فلاں کام کیا) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہوجائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آسکے گا ۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: If anyone takes an oath and says: I am free from Islam; now if he is a liar (in his oath), he will not return to Islam with soundness.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠٣)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٣ (٢١٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور انشاء اللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہوگا ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone swears an oath and makes an exception, he may fulfil it if he wishes and break it if he wishes without any accountability for breaking.
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: والذي نفس أبي القاسم بيده قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ swore an oath strongly, he said: No, by Him in Whose hand is the soul of Abul Qasim.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦، ٦٦) (ضعیف) (اس کے راوی عکرمہ صدوق ہیں، لیکن غلطی کرتے ہیں، اور عاصم بن شمیخ کی صرف عجلی نے توثیق کی ہے، عجلی توثیق رواة میں متساہل ہیں )
عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ لقیط بن عامر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک وفد لے کر گئے، لقیط ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے تمہارے معبود کی ۔
Narrated Laqit ibn Amir: We came to the Messenger of Allah ﷺ in a delegation. The Prophet ﷺ then said: By the age of thy god.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١١٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢) (ضعیف) (اس کے راوی اسود اور ان کے والد عبد اللہ دونوں لین الحدیث ہیں )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو انشاء اللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کرلوں گا جس میں بھلائی ہوگی یا کہا: میں اسے اختیار کرلوں گا جس میں بھلائی ہوگی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا ۔
Narrated Abu Burdah (RA) : On the authority of his father that the Prophet ﷺ said: I swear by Allah that if Allah wills I shall swear on an oath and then consider something else to be better than it without making atonement for my oath and doing the thing that is better. Or he said (according to another version): But doing the thing that is better and making atonement for my oath.
عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کرلو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔
Narrated Abdur-Rahman bin Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said to me: Abdur-Rahman bin Samurah, when you swear an oath and consider something else to be better than it, do the thing that is beter and make atonement for your oath. Abu Dawud said: I heard Ahmad (b. Hanbal) permitting to make atonement before breaking the oath.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے اس میں ہے: تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ ؓ کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں الکفارة قبل الحنث ہے اور بعض میں الحنث قبل الکفارة ہے۔
A similar tradition has been transmitted by Abdur-Rahman bin Samurah through a different chain if narrators. This version has: Make atonement for your oath and then do the thing that is better. Abu Dawud said: The version of this tradition transmitted by Abu Musa al-Ashari, Adi bin Hatim and Abu Hurairah are variant. Some of them indicate breaking the oath before making atonement, and other making atonement before breaking the oath.