Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 162 of 265

3230Sunan Abu Dawood

قبر ستان میں جوتا پہن کر جانا

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ بَشِيرٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَهَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا اسْمُكَ ؟، قَالَ: زَحْمٌ، قَالَ: بَلْ أَنْتَ بَشِيرٌ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا، ثَلَاثًا، ثُمَّ مَرَّ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا، وَحَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةٌ، فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ، فَقَالَ: يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ، وَيْحَكَ، أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ، فَنَظَرَ الرَّجُلُ، فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَلَعَهُمَا، فَرَمَى بِهِمَا.

رسول اللہ ﷺ کے غلام بشیر ؓ (جن کا نام زمانہ جاہلیت میں زحم بن معبد تھا وہ ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ ، انہوں نے کہا: زحم، آپ ﷺ نے فرمایا: زحم نہیں بلکہ تم بشیر ہو کہتے ہیں: اسی اثناء میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ کا گزر مشرکین کی قبروں پر سے ہوا، آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: یہ لوگ خیر کثیر (دین اسلام) سے پہلے گزر (مر) گئے ، پھر آپ ﷺ مسلمانوں کی قبروں پر سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے خیر کثیر (بہت زیادہ بھلائی) حاصل کی اچانک آپ ﷺ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو جوتے پہنے قبروں کے درمیان چل رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: اے جوتیوں والے! تجھ پر افسوس ہے، اپنی جوتیاں اتار دے اس آدمی نے (نظر اٹھا کر) دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے ہی انہیں اتار پھینکا۔

Narrated Bashir, the Client of the Messenger of Allah: Bashirs name in pre-Islamic days was Zahm ibn Mabad. When he migrated to the Messenger of Allah ﷺ . He asked: What is your name? He replied: Zahm. He said: No, you are Bashir. He (Bashir) said: When I was walking with the Messenger of Allah ﷺ he passed by the graves of the polytheists. He said: They lived before (a period of) abundant good. He said this three times. He then passed by the graves of Muslims. He said: They received abundant good. The Messenger of Allah ﷺ suddenly saw a man walking in shoes between the graves. He said: O man, wearing the shoes! Woe to thee! Take off thy shoes. So the man looked (round), When he recognized the Messenger of Allah ﷺ , he took them off and threw them away.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١٠٧ (٢٠٥٠)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٦ (١٥٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٣، ٨٤، ٢٢٤) (حسن )
3231Sunan Abu Dawood

قبر ستان میں جوتا پہن کر جانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيد، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ.

انس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب بندہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹنے لگتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے ۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ as saying: When a servant (of Allah) is placed in his grave, and his Companions depart from him, he hears the stepping sound of their shoes.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦٧ (١٣٣٨)، ٨٦ (١٣٧٣)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٨ (٢٠٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٢٦، ٢٣٣)، ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (٤٧٥١، ٥٧٥٢) (صحیح )
3232Sunan Abu Dawood

کسی ضرورت کی بنا پر میت کو قبر سے نکالا جا سکتا ہے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ، فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ، فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا، إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ.

جابر ؓ کہتے ہیں میرے والد کے ساتھ ایک اور شخص کو دفن کیا گیا تھا تو میری یہ دلی تمنا تھی کہ میں ان کو الگ دفن کروں گا تو میں نے چھ مہینے بعد ان کو نکالا تو ان کی داڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین سے لگے ہوئے تھے میں نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں پائی۔

Narrated Jabir: A man was buried with my father. I had a desire at heart for that (place for my burial). So I took him out after six months. I did not find any change (in his body) except a few hair that touched the earth.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١١٠) (صحیح الإسناد )
3233Sunan Abu Dawood

میت کی تعریف بیان کرنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاءُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی خوبیاں بیان کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: وجبت جنت اس کا حق بن گئی پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: وجبت دوزخ اس کے گلے پڑگئی پھر فرمایا: تم میں سے ہر ایک دوسرے پر گواہ ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : People with a bier passed by the Messenger of Allah ﷺ . They (the companions) spoke highly of him. He said: Paradise is certain for him. Then some people with another (bier) passed by him. They spoke very badly of him. He said: Hell is certain for him. He then said: Some of you are witness to others.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٥٠ (١٩٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٨)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩١)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٤٦٦، ٤٧٠، ٤٩٩، ٥٢٨) (صحیح )
3234Sunan Abu Dawood

قبروں کی زیارت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيَسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا، فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ visited his mothers grave and wept and cause those around him to weep. The Messenger of Allah ﷺ then said: I asked my Lords permission to pray for forgiveness for her, but I was not allowed. I then asked His permission to visit her grave, and I was allowed. So visit graves, for they make one mindful of death.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٦)، سنن النسائی/الجنائز ١٠١ (٢٠٣٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٨ (١٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤١) (صحیح )
3235Sunan Abu Dawood

قبروں کی زیارت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے ۔

Narrated Buraidah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: I forbade you to visit graves, but you may now visit them, for in visiting them there is a reminder (of death).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧)، والأضاحي ٥ (١٩٧٧)، والأشربة ٦ (١٩٩٩)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٠ (٢٠٣٤)، الأضاحي ٣٦ (٤٤٤١)، الأشربة ٤٠ (٥٦٥٤، ٥٦٥٥، ٥٦٥٦، ٥٥٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
3236Sunan Abu Dawood

عورتوں کا قبروں کی زیارت کرنا ممنوع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور اس پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ cursed women who visit graves, those who built mosques over them and erected lamps (there).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٢٢ (٣٢٠)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٩ (١٥٧٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٩، ٢٨٧، ٣٢٤، ٣٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی ابو صالح باذام ضعیف ہیں لیکن اس میں صرف چراغ جلانے والی بات ضعیف ہے، بقیہ دو باتوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
3237Sunan Abu Dawood

جب قبروں پر سے گذرے تو کیا کہے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان گئے تو فرمایا: السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بکم لاحقون سلامتی ہو تم پر اے مومن قوم کی بستی والو! ہم بھی انشاء اللہ آ کر آپ لوگوں سے ملنے والے ہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ went out to the graveyard and said: Peace be upon you, inhabitants of the dwellings who are of the community of the believers. If Allah wills we shall join you.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطھارة ١٢ (٢٤٩)، سنن النسائی/الطھارة ١١٠ (١٥٠)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٦ (٤٣٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ٦ (٢٨)، مسند احمد (٢/٣٠٠، ٤٠٨) (صحیح )
3238Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ، فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ: كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: خَمْسُ سُنَنٍ كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، أَيْ يُكَفَّنُ الْمَيِّتُ فِي ثَوْبَيْنِ وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، أَيْ إِنَّ فِي الْغَسَلَاتِ كُلِّهَا سِدْرًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَكَانَ الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جسے اس کی سواری نے گردن توڑ کر ہلاک کردیا تھا، وہ حالت احرام میں تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اس کے دونوں کپڑوں (تہبند اور چادر) ہی میں دفناؤ، اور پانی اور بیری کے پتے سے اسے غسل دو، اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث میں پانچ سنتیں ہیں: ١۔ ایک یہ کہ اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ یعنی احرام کی حالت میں جو مرے اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے گا۔ ٢۔ دوسرے یہ کہ اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو یعنی ہر غسل میں بیری کا پتہ رہے۔ ٣۔ تیسرے یہ کہ اس (محرم) کا سر نہ ڈھانپو۔ ٤۔ چوتھے یہ کہ اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ۔ ٥۔ پانچویں یہ کہ پورا کفن میت کے مال سے ہو ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : To the Messenger of Allah ﷺ was brought man wearing ihram who was thrown by his she-camel and has his neck broken and had died. He then said: Shroud him in his two garments, was him with water and lotus leaves, but do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection saying the talbiyah. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: There are five rules of the law (sunan) in this tradition: Shroud him in his two garment, that is, the dead should be shrouded in his two garments. Wash him with water and lotus leaves, that is, washing all times should be with lotus leaves. Do not bring any perfume near him. The shroud will be made from the property (of the dead).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرض کی ادائیگی ثلث وصیت کی تنفیذ، اور وراثت کی تقسیم کفن دفن کے بعد بچے ہوئے مال سے ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥)، ٢١ (١٢٦٧)، جزاء الصید ٢٠ (١٨٤٩)، ٢١ (١٨٥٠)، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦)، سنن الترمذی/الحج ١٠٥ (٩٥١)، سنن النسائی/الجنائز ٤١ (١٩٠٥)، المناسک ٤٧ (٢٧١٤)، ٩٧ (٢٨٥٦)، ١٠١ (٢٨٦١)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٩ (٣٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٦٦، ٢٨٦)، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) (صحیح )
3239Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، وَأَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ أَيُّوبُ: ثَوْبَيْهِ، وَقَالَ عَمْرٌو: ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: قَالَ أَيُّوبُ: فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ عَمْرٌو: فِي ثَوْبَيْهِ، زَادَ سُلَيْمَانُ وَحْدَهُ: وَلَا تُحَنِّطُوهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ اسے دو کپڑوں میں کفناؤ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان نے کہا ہے کہ ایوب کی روایت میں ثوبين کے بجائے ثوبيه (اسی کے دونوں کپڑے میں) ہے اور عمرو نے ثوبين کا لفظ نقل کیا ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ ایوب نے في ثوبين اور عمرو نے في ثوبيه کہا ہے، اور تنہا سلیمان نے ولا تحنطوه (اسے خوشبو نہ لگاؤ) کا اضافہ کیا ہے۔

A similar tradition has also been narrated by Ibn Abbas through a different chain of narrators. This version has: Shroud him in two garments. Abu Dawud said: The narrator Sulaiman said the Ayyub said: his two garments, Amr said: tow garments, Ibn Ubaid said that Ayyub said: in two garments and Amr said: in his two garments. Sulaiman alone added: do not put any perfume on him.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٣٧، ٥٥٨٢) (صحیح )
3240Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ، بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ: فِي ثَوْبَيْنِ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے سلیمان کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے اس میں في ثوبين ہے۔

A similar tradition has also been narrated by Ibn Abbas through a different chain of transmitters to the effect as narrated by Sulaiman saying: in two garments.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٢) (صحیح )
3241Sunan Abu Dawood

جو شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے اس کی تجہیز وتکفین کس طرح ہوگی

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ایک محرم کو اس کی اونٹنی نے گردن توڑ کر ہلاک کردیا، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو اور کفن پہناؤ (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپو اور اسے خوشبو سے دور رکھو کیونکہ وہ لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : A man wearing ihram was thrown by his she-camel and had his neck broken and he died. He was brought to the Messenger of Allah ﷺ , and he said: Wash and shroud him, but do not cover his head and do not put any perfume on him, for he will be raised on the Day of Resurrection saying the talbiyah.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٤٩٧) (صحیح )
3242Sunan Abu Dawood

جھوٹی قسم کھانے کا گناہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ كَاذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بِوَجْهِهِ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی دباؤ میں آ کر (یا دیدہ و دانستہ) جھوٹی قسم کھالے تو چاہیئے کہ اس کے سبب وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ١ ؎۔

Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: If anyone swears a false oath in confinement, he should make his seat in Hell on account of his (act).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دنیا میں اس کا کوئی کفارہ نہیں آخرت میں اسے یہ سزا دی جائے گی کہ وہ جہنم میں ڈالا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، ١(تحفة الأشراف: ١٠٨٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٤١) (صحیح )
3243Sunan Abu Dawood

کسی کا مال مارنے کی خاطر (جھوڑی) قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: احْلِفْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ وَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی بات پر جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہڑپ لے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا ۔ اشعث ؓ کہتے ہیں: قسم اللہ کی آپ ﷺ نے یہ بات میرے ایک مقدمے میں (جو میرے اور ایک یہودی کے درمیان تھا) فرمائی تھی، میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا تو میں اس کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قسم کھا کر میرا مال ہڑپ کرلے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں (سورۃ آل عمران: ٧٧) آخیر تک نازل فرمائی ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: He who swears an oath in which he tells a lie to take the property of a Muslim by unfair means, will meet Allah while He is angry with him. Al-Ashath said: I swear by Allah, he said this about me. There was some land between me and a Jew, but he denied it to me; so I presented him to the Prophet ﷺ . The Prophet ﷺ asked me: Have you any evidence? I replied: No. He said to the Jew: Take an oath. I said: Messenger of Allah, now he will take an oath and take my property. So Allah, the Exalted, revealed the verse, As for those who sell the faith they owe to Allah and their own plighted word for a small price, they shall have no portion in the hereafter.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدعی علیہ جب انکار کرے تو مدعی کے ذمہ گواہ پیش کرنا ہوگا ورنہ مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المساقاة ٤ (٢٣٥٦)، والخصومات ٤ (٢٤١٦)، والرھن ٦ (٢٥١٥)، والشہادات ١٩ (٢٦٦٦)، ٢٠ (٢٦٦٩)، ٢٣ (٢٦٧٣)، ٢٥ (٢٦٧٦)، تفسیر آل عمران ٣ (٤٥٤٩)، الأیمان ١١ (٦٦٥٩)، ١٧ (٦٦٧٦)، الأحکام ٣٠ (٧١٨٣)، التوحید ٢٤ (٧٤٤٥)، صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٨)، سنن الترمذی/البیوع ٤٢ (١٢٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٨ (٢٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٧) (صحیح )
3244Sunan Abu Dawood

کسی کا مال مارنے کی خاطر (جھوڑی) قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي كُرْدُوسٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ، اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، وَهِيَ فِي يَدِهِ، قَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي، اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقْتَطِعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضُهُ.

اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں کندہ کے ایک آدمی اور حضرموت کے ایک آدمی نے جھگڑا کیا اور دونوں اپنا مقدمہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! میری زمین کو اس شخص کے باپ نے مجھ سے چھین لی تھی اور اب وہ زمین اس شخص کے قبضہ میں ہے، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس بیّنہ (ثبوت اور دلیل) ہے؟ اس نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے قسم دلانا چاہوں گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ یہ میری زمین ہے جسے اس کے باپ نے مجھ سے غصب کرلی تھی، (یہ سن کر) کندی قسم کھانے کے لیے تیار ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے (اس وقت) فرمایا: جو شخص کسی کا مال قسم کھا کر ہڑپ کرلے گا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا (یہ سنا تو) کندی نے کہا: یہ اسی کی زمین ہے۔

Narrated Al-Ashath ibn Qays: A man of Kindah and a man of Hadramawt brought their dispute to the Prophet ﷺ about a land in the Yemen. Al-Hadrami said: Messenger of Allah, the father of this (man) usurped my land and it is in his possession. The Prophet asked: Have you any evidence? Al-Hadrami replied: No, but I make him swear (that he should say) that he does not know that it is my land which his father usurped from me. Al-Kindi became ready to take the oath. The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone usurps the property by taking an oath, he will meet Allah while his hand is mutilated. Al-Kindi then said: It is his land.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الکبری ٤٧ (٦٠٠٢)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٩ (٢٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢١١، ٢١٢) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة (٣٦٢٢) (صحیح )
3245Sunan Abu Dawood

کسی کا مال مارنے کی خاطر (جھوڑی) قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَاكَ، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظَالِمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ.

وائل بن حجر حضرمی ؓ کہتے ہیں کہ حضر موت کا ایک شخص اور کندہ کا ایک شخص دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی ایک زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: واہ یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے میں خود اس میں کھیتی کرتا ہوں اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے حضرمی سے پوچھا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو تمہارے لیے اس کی جانب سے قسم ہے (جیسی وہ قسم کھالے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا) ، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول: وہ تو فاجر ہے کسی بھی قسم کی پرواہ نہیں کرتا، کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (وہ کچھ بھی ہو) تمہارے لیے تو بس اس سے اتنا ہی حق ہے (یعنی تم اس سے بس قسم کھلا سکتے ہو) پھر وہ قسم کھانے چلا، تو اس کے مڑتے ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو اگر کسی کا مال ہڑپ کرنے کے لیے اس نے جھوٹی قسم کھالی تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے منہ پھیرے ہوگا ١ ؎۔

Narrated Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami (RA) : On the Authority of his father: A man from Hadramawt and a man of Kindah came to the Messenger of Allah ﷺ . Al-Hadrami said: Messenger of Allah, this (man) took away forcibly from me the land which belongs to my father. Al-Kindi said: It is my land in my possession, and I cultivate it, he has no right to it. The Prophet ﷺ then said to al-Hadrami (RA) : Have you any proof ? He said: No. He then said: So for you is his oath. He said: Messenger of Allah, he is liar, he does not care for which he is taking the oath. He does not refrain himself from anything. The Prophet ﷺ said: You will have nothing from him except that. He went to take an oath for him. When he turned his back, the Messenger of Allah ﷺ said: If he takes an oath on the property to take it away by unfair means, he will meet Allah while He is unmindful of him.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی طرف التفات نہیں فرمائے گا، بندے کے لئے اس سے بڑھ کر کیا عذاب ہوگا کہ اس کا مالک اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (١٣٩)، سنن الترمذی/الأحکام ١٢ (١٣٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٧) ویأتی ہذا الحدیث فی القضا (٣٦٢٣) (صحیح )
3246Sunan Abu Dawood

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر کے سامنے جھوٹی قسم کھانا گناہ عظیم ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نِسْطَاسٍ مِنْ آلِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص میرے منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے گا اگرچہ ایک تازی مسواک کے لیے کھائے تو سمجھ لو اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا یا یہ کہا: جہنم اس پر واجب ہوگئی ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: One should not take a false oath at this pulpit of mine even on a green tooth-stick; otherwise he will make his abode in Hell, or Hell will be certain for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: گو جھوٹی قسم کھانا بروقت اور ہر جگہ گناہ ہے، پر مقدس جگہوں اور مقدس وقتوں میں ان کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٩ (٢٣٢٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٨ (١٠)، مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح )
3247Sunan Abu Dawood

غیر اللہ کی قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلْفِهِ: وَاللَّاتِ، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی قسم کھائے اور اپنی قسم میں یوں کہے کہ میں لات کی قسم کھاتا ہوں تو چاہیئے کہ وہ لا إله إلا الله کہے، اور جو کوئی اپنے دوست سے کہے کہ آؤ ہم تم جوا کھیلیں تو اس کو چاہیئے کہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے (تاکہ شرک اور کلمہ شرک کا کفارہ ہوجائے) ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone swears on oath is the course which he says: By al-Lat he should say: There is no god but Allah, and that if anyone says to his friend: Come and let me play for money with you, he should give something in charity (sadaqah).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠)، الأدب ٧٤ (٦١٠٧)، الاستئذان ٥٢ (٦٣٠١)، الأیمان ٥ (٦٦٥٠)، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٨)، سنن الترمذی/الأیمان ١٧ (١٥٤٥)، سنن النسائی/الأیمان ١٠ (٣٨٠٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح )
3248Sunan Abu Dawood

غیر اللہ کی قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not swear by your fathers, or by your mothers, or by rivals to Allah; and swear by Allah only, and swear by Allah only when you are speaking the truth.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الأیمان ٥ (٣٨٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٨٣) (صحیح )
3249Sunan Abu Dawood

باپ داداکی قسم کھانے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے ۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ found Umar al-Khattab in a caravan while he was swearing by his father. So he said: Allah forbids you to swear by forefathers. If anyone swears, he must swear by Allah or keep silence.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ١ (١٦٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٥٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٧٤ (٦١٠٧)، الأیمان ٤ (٦٦٤٧)، سنن الترمذی/الأیمان ٨ (١٥٣٣)، سنن النسائی/الأیمان ٤ (٣٣٩٩)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٤)، موطا امام مالک/النذور ٩ (١٤)، مسند احمد (٢/١١، ٣٤، ٦٩، ٨٧، ١٢٥، ١٤٢) (صحیح )