Sunan Abu Dawood

All 5,295 hadiths in order · Page 164 of 265

3268Sunan Abu Dawood

کیا لفظ قسم بھی یمین میں داخل ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ، فَذَكَرَ رُؤْيَا، فَعَبَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْسِمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ ؓ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر ؓ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر ؓ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Abu Hurairah narrated that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: I had a dream last night, and he then mentioned it. So Abu Bakr interpreted it. The Prophet ﷺ said: You are partly right and partly wrong. He then said: I adjure you, Messenger of Allah, may my father be sacrificed on you, do tell me the mistake I have committed. The Prophet ﷺ said: Do not adjure.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الرؤیا ٩ (٢٢٩٣)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١٠ (٣٩١٨)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٣، ١٣٧٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ٤٧ (٧٠٤٦)، صحیح مسلم/الرؤیا ٣ (٢٢٦٩)، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٢) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (٤٦٣٢) (صحیح )
3269Sunan Abu Dawood

کیا لفظ قسم بھی یمین میں داخل ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرِ الْقَسَمَ زَادَ فِيهِ، وَلَمْ يُخْبِرْهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ ﷺ نے انہیں (تعبیر کی غلطی) نہیں بتائی ١ ؎۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators. In this version there is no mention of the word qasam (oath). It has the words: He did not inform him.

Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے تعبیر کی غلطی نہ بتانے میں کوئی مصلحت رہی ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٨) (ضعیف) (یہ سند سلیمان بن کثیر کی وجہ سے ضعیف ہے، وہ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں لیکن پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے )
3275Sunan Abu Dawood

جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّالِبَ الْبَيِّنَةَ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلَى، قَدْ فَعَلْتَ، وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يُرَادُ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیا، اس کے پاس گواہ نہ تھا تو آپ ﷺ نے مدعی علیہ سے قسم کھانے کے لیے کہا، اس نے اس اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تم نے کیا ہے (یعنی جس کام کے نہ کرنے پر تم نے قسم کھائی ہے اسے کیا ہے) لیکن تمہارے اخلاص کے ساتھ لا إله إلا الله کہنے کی وجہ سے اللہ نے تجھے بخش دیا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ آپ ﷺ نے اسے کفارہ کا حکم نہیں دیا ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Two men brought their dispute to the Prophet ﷺ . The Prophet ﷺ asked the plaintiff to produce evidence, but he had no evidence. So he asked the defendant to swear. He swore by Allah There is no god but He. The Messenger of Allah ﷺ said: Yes, you have done it, but you have been forgiven for the sincerity of the statement: There is no god but Allah. Abu Dawud said: This tradition means that he did not command him to make atonement

Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ کبائر اخلاص کے ساتھ کلمۂ توحید پڑھنے پر معاف کردیئے جاتے ہیں۔ ٢ ؎: کیونکہ یہ ایسا گناہ ہے جسے کفارہ مٹا نہیں سکتا اس کا کفارہ صرف توبہ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے خمس ليس لهن کفارة: الشرک بالله وقتل النفس بغير حق وبهت مؤمن والفرار يوم الزحف ويمين صابرة يقتطع بها مالا بغير حق۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٥٤٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥٣، ٢٨٨، ٢٩٦، ٣٢٢، ٢/٧٠) ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة (٣٦٢٠) (صحیح )
3279Sunan Abu Dawood

قسم کے کفارہ میں میں کونسا صاع معتبر ہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبٍ بِنْتِ ذُؤَيْبِ بْنِ قَيْسٍ الْمُزَنِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَسْلَمَ، ثُمَّ كَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَخٍ لِصَفِيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ حَرْمَلَةَ: فَوَهَبَتْ لَنَا أُمُّ حَبِيبٍ صَاعًا، حَدَّثَتْنَا عَنِ ابْنِ أَخِي صَفِيَّةَ، عَنْ صَفِيَّةَ: أَنَّهُ صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَرَّبْتُهُ، أَوْ قَالَ: فَحَزَرْتُهُ فَوَجَدْتُهُ مُدَّيْنِ وَنِصْفًا بِمُدِّ هِشَامٍ.

عبدالرحمٰن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ام حبیب بنت ذؤیب بن قیس مزنیہ قبیلہ بنو اسلم کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں پھر وہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کے بھتیجے کے نکاح میں آئیں، آپ نے ہم کو ایک صاع ہبہ کیا، اور ہم سے بیان کیا کہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کے بھتیجے سے روایت ہے، اور انہوں نے ام المؤمنین صفیہ سے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین کہتی ہیں کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا صاع ہے۔ انس ؓ کہتے ہیں: میں نے اس کو جانچا یا کہا میں نے اس کا اندازہ کیا تو ہشام بن عبدالملک کے مد سے دو مد اور آدھے مد کے برابر پایا ١ ؎۔

Narrated Safiyyah bint Huyayy: Ibn Harmalah said: Umm Habib gave us a sa and told us narration from the nephew of Safiyyah on the authority of Safiyyah that it was the sa of the Prophet ﷺ . Anas ibn Ayyad said: I tested it and found its capacity two and half mudd according to the mudd of Hisham.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے تو ایک صاع پانچ رطل کا ہوا یہ صاع حجازی کہلاتا ہے اور صاع عراقی (٨) رطل کا ہوتا ہے یعنی (٤) مد کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٣) (ضعیف الإسناد )
3280Sunan Abu Dawood

قسم کے کفارہ میں میں کونسا صاع معتبر ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا مَكُّوكٌ، يُقَالُ لَهُ: مَكُّوكُ خَالِدٍ، وَكَانَ كَيْلَجَتَيْنِ بِكَيْلَجَةِ هَارُونَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: صَاعُ خَالِدٍ صَاعُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ.

محمد بن محمد بن خلاد ابوعمر کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک مکوک ١ ؎ تھا اسے مکوک خالد کہا جاتا تھا، وہ ہارون کے کیلجہ (ایک پیمانہ ہے) سے دو کیلجہ کے برابر تھا۔ محمد کہتے ہیں: خالد کا صاع ہشام یعنی ابن عبدالملک کا صاع ہے۔

Narrated Muhammad bin Muhmmad bin Khattab Abu Umar (RA) : We had a makkuk which was called Makkuk Khalid. Its capacity was two measurements according to the measurements of Harun. The narrator said: The sa of Khalid was the sa of Hisham bin Abd al-Malik.

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک پیمانہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٣٣٥) (صحیح )
3281Sunan Abu Dawood

قسم کے کفارہ میں میں کونسا صاع معتبر ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ أَبُو عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: لَمَّا وُلِّيَ خَالِدٌ الْقَسْرِيُّ أَضْعَفَ الصَّاعَ، فَصَارَ الصَّاعُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ قَتَلَهُ الزِّنْجُ صَبْرًا، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ أَبُو دَاوُدَ يَدَهُ، وَجَعَلَ بُطُونَ كَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ اللَّهُ بِكَ، قَالَ: أَدْخَلَنِي الْجَنَّةَ، فَقُلْتُ: فَلَمْ يَضُرَّكَ الْوَقْفُ.

امیہ بن خالد کہتے ہیں جب خالد قسری گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صاع کو دو چند کردیا تو ایک صاع (١٦) رطل کا ہوگیا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن محمد بن خلاد کو حبشیوں نے سامنے کھڑا کر کے قتل کردیا تھا انہوں نے ہاتھ سے بتایا کہ اس طرح (یہ کہہ کر) ابوداؤد نے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے باطن کو زمین کی طرف کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ان کو خواب میں دیکھا تو ان سے پوچھا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ انہوں نے کہا: اللہ نے مجھے جنت میں داخل فرما دیا، تو میں نے کہا: پھر تو آپ کو حبشیوں کے سامنے کھڑا کر کے قتل کئے جانے سے کچھ نقصان نہ پہنچا۔

Narrated Umayyah bin Khalid: When Khalid al-Qasri was made ruler (of Hijaz and Kufah), he doubled the measure of sa. The sa then measured sixteen rotls. Abu Dawud said: Muhammad bin Muhammad bin Khattab was slain by Negroes in confinement. He said while signing with his hand: in this way. Abu Dawud extended his hand and turned his palms towards earth and said: I saw him in the dream and asked him: How did Allah deal with you ? He replied: He admitted to Paradise. I said: Your detention did not harm you.

Notes · وضاحت
١ ؎: خالد قسری کا یہ عمل دلیل نہیں ہے، عراقی صاع (٨) رطل کا ہوتا ہے، حجازی نبوی صاع (٥) رطل کا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٦٠٦) (صحیح )
3282Sunan Abu Dawood(3283)

مومن باندی کا بیان (جو کفارہ میں آزاد کرنے کے لائق ہو

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جَارِيَةٌ لِي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا ؟، قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا، قَالَ: أَيْنَ اللَّهُ ؟، قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا ؟، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ. حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ: أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْهُ أَنْ يَعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَرْسَلَهُ، لَمْ يَذْكُرِ الشَّرِيدَ.

معاویہ بن حکم سلمی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ایک لونڈی ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مارا ہے، تو رسول ﷺ نے اس تھپڑ کو عظیم جانا، تو میں نے عرض کیا: میں کیوں نہ اسے آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ میں اسے لے کر گیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان کے اوپر، آپ ﷺ نے (پھر) پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے ۔

Narrated Muawiyah bin al-Hakam al-Sulami (RA) : I said: Messenger of Allah, I have a slave girl whom I slapped. This grieved the Messenger of Allah ﷺ . I said to him: Should I not emancipate her? He said: Bring her to me. He said: Then I brought her. He asked: Where is Allah ? She replied: In the heaven. He said: Who am I ? She replied: You are the Messenger of Allah. He said: Emancipate her, she is a believer.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم:(٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٨) (صحیح ) شرید سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کردینے کی وصیت کی تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے ایک مومنہ لونڈی آزاد کر دوں، اور میرے پاس نوبہ (حبش کے پاس ایک ریاست ہے) کی ایک کالی لونڈی ہے۔۔۔ پھر اوپر گزری ہوئی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ خالد بن عبداللہ نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کیا ہے، شرید کا ذکر نہیں کیا ہے۔ سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩)، دی/ النذور ١٠ (٢٣٩٣) (حسن صحیح )
3284Sunan Abu Dawood

مومن باندی کا بیان (جو کفارہ میں آزاد کرنے کے لائق ہو

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ ؟، فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِأُصْبُعِهَا، فَقَالَ لَهَا: فَمَنْ أَنَا ؟، فَأَشَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ، يَعْنِي أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص ایک کالی لونڈی لے کر آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ذمہ ایک مومنہ لونڈی آزاد کرنا ہے، آپ ﷺ نے اس (لونڈی) سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ تو اس نے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی آسمان کے اوپر ہے) پھر آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور آسمان کی طرف اشارہ کیا یعنی (یہ کہا) آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے (لونڈی لے کر آنے والے شخص سے) کہا: اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : A man brought the Prophet ﷺ a black slave girl. He said: Messenger of Allah, emancipation of believing slave is due to me. He asked her: Where is Allah ? She pointed to the heaven with her finger. He then asked her: Who am I ? She pointed to the Prophet ﷺ and to the heaven, that is to say: You are the Messenger of Allah. He then said: Set her free, she is a believer.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٣٥٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩١) (حسن لغیرہ) (اس کے راوی مسعود ی اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد ہی روایت لی ہے لیکن معاویہ سلمی کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے) (الصحیحة: ٣١٦١، تراجع الألباني: ١٠٧ )
3287Sunan Abu Dawood

نذر ماننے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ عُثْمَانُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَى عَنِ النَّذْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَيَقُولُ: لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّذْرُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل (کی جیب) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ١ ؎۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade to make a vow. He said: It has not effect against fate, it is only from the miserly that it is means by which something is extracted. Musaddad said: The Messenger of Allah ﷺ said: A vow does not avert anything (i. e. has no effect against fate).

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں منجانب اللہ جو فیصلہ ہوچکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آسکتی، اس لئے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر شدہ امر میں کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/القدر ٦ (٦٦٠٨)، الأیمان ٢٦ (٦٦٩٣)، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٣٩)، سنن النسائی/الأیمان ٢٤ (٣٨٣٢، ٣٨٣٣)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٢)، (تحفة الأشراف: ٧٢٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦١، ٨٦، ١١٨)، دی/النذور ٥ (٢٣٨٥) (صحیح )
3288Sunan Abu Dawood

نذر ماننے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ، وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَكُمْ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ النَّذْرُ الْقَدَرَ بِشَيْءٍ لَمْ أَكُنْ قَدَّرْتُهُ لَهُ، وَلَكِنْ يُلْقِيهِ النَّذْرُ الْقَدَرَ قَدَّرْتُهُ، يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَخِيلِ، يُؤْتِي عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُؤْتِي مِنْ قَبْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کہتا ہے:) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لاسکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو لیکن نذر اسے اس تقدیر سے ملاتی ہے جسے میں نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، یہ بخیل سے وہ چیز نکال لیتی ہے جسے وہ اس نذر سے پہلے نہیں نکالتا ہے (یعنی اپنی بخالت کے سبب صدقہ خیرات نہیں کرتا ہے مگر نذر کی وجہ سے کر ڈالتا ہے) ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: A vow does not provide for the son of Adam anything which I did not decree for him, but a vow draws it. A Divine decree is one which I have destined, it is extracted from a miser. He is given what he was not given before.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم ﷺ نے صراحۃً اسے اللہ کی طرف مرفوع نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٨٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان ٢٦ (٦٦٩٢)، صحیح مسلم/النذر ٢ (١٦٤٠)، سنن الترمذی/النذر ١٠ (١٥٣٨)، سنن النسائی/الأیمان ٢٥ (٣٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٥ (٢١٢٣)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٤٢، ٣٠١، ٣١٤، ٤١٢، ٤٦٣) (صحیح )
3289Sunan Abu Dawood

کسی گناہ کے کام کی منت مان لینا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ، فَلَا يَعْصِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے تو اللہ کی اطاعت کرے اور جو اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانے تو اس کی نافرمانی نہ کرے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone vows to obey Allah, let him obey Him, but if anyone vows to disobey Him, let him not disobey Him.

Notes · وضاحت
١ ؎: گویا معصیت کی نذر نہیں پوری کی جائے گی کیونکہ یہ غیر مشروع ہے، لیکن کفارہ دیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٢٨ (٦٦٩٦)، ٣١ (٦٧٠٠)، سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٦)، سنن النسائی/الأیمان ٢٦ (٣٨٣٧)، ٢٧ (٣٨٣٨، ٣٨٣٩)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور ٤ (٨)، مسند احمد (٦/٣٦، ٤١، ٢٢٤)، سنن الدارمی/النذور ٣ (٢٣٨٣) (صحیح )
3300Sunan Abu Dawood

کسی گناہ کے کام کی منت مان لینا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، قَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلَا يَقْعُدَ، وَلَا يَسْتَظِلَّ وَلَا يَتَكَلَّمَ، وَيَصُومَ، قَالَ: مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَقْعُدْ، وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا، تو لوگوں نے بتایا: یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں، نہ سایہ میں آئے گا، نہ بات کرے گا، اور روزہ رکھے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ بات کرے، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : While the Prophet ﷺ was preaching a man was standing in the sun. He asked about him. They said: He is Abu Israil who has taken a vow to stand and not to sit, or go into shade, or speak, but to fast. Thereupon he said: Command him to speak, to go into the shade, sit and complete his fast.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان ٣١ (٦٧٠٤)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢١ (٢١٣٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٩١) (صحیح )
3290Sunan Abu Dawood(3291)

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ. حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ شَبُّويَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، يَعْنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ: حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَتَصْدِيقُ ذَلِك مَا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: أَفْسَدُوا عَلَيْنَا هَذَا الْحَدِيثَ، قِيلَ لَهُ: وَصَحَّ إِفْسَادُهُ عِنْدَكَ، وَهَلْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ أَمْثَلَ مِنْهُ يَعْنِي أَيُّوبَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath. The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Shabbuyah say: Ibn al-Mubarak said about this tradition that Abu Salamah had transmitted it. This indicates that al-Zuhri did not hear it from Abu Salamah. Ahmad bin Muhammad said: This is verified by what Ayyub bin Sulaiman narrated to us. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: I have corrupted this tradition for us. He was asked: Do you think that it is correct that this tradition has been corrupted? Has any person other than Ibn Abi Uwais transmitted it ? He replied: Ayyub was similar to him in respect of reliability, and Ayyub transmitted it.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ٢ (١٥٢٤)، سنن النسائی/الأیمان ٤٠ (٣٨٦٥-٣٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٦ (٢١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٤٧) (صحیح ) اس سند سے بھی ابن شہاب سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں میں نے احمد بن شبویہ کو کہتے سنا: ابن مبارک نے کہا ہے (یعنی اس حدیث کے بارے میں) کہ ابوسلمہ ؓ نے بیان کیا ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ زہری نے اسے ابوسلمہ ؓ سے نہیں سنا ہے۔ احمد بن محمد کہتے ہیں: اس کی تصدیق وہ روایت کر رہی ہے جسے ہم سے ایوب یعنی ابن سلیمان نے بیان کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اس حدیث کو ہم پر فاسد کردیا ہے ان سے پوچھا گیا: کیا آپ کے نزدیک اس حدیث کا فاسد ہونا صحیح ہے؟ اور کیا ابن اویس کے علاوہ کسی اور نے بھی اسے روایت کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایوب یعنی ایوب بن سلیمان بن بلال ان سے قوی و بہتر راوی ہیں اور اسے ایوب نے روایت کیا ہے۔ انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٠) (صحیح )
3292Sunan Abu Dawood

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِابْنِ أَبِي عَتيِقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ: إِنَّمَا الْحَدِيثُ حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ،عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَرْقَمَ وَهِمَ فِيهِ، وَحَمَلَهُ عَنْهُ الزُّهْرِيُّ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى بَقِيَّةُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ مِثْلَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معصیت کی نذر نہیں ہے (یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں: اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین ؓ سے اور عمران نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہوگیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ ؓ سے انہوں نے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بقیہ نے اوزاعی سے، اوزاعی نے یحییٰ سے، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath. Ahmad bin Muhammad al-Marwazi said: The correct chain of this tradition is: Ali bin al-Mubarak, from Yahya bin Abi Kathir, from Muhammad bin al-Zubair, from his father, on the authority of Imran bin Husain from the Prophet ﷺ Abu Dawud said: By this he (al-Marwazi) means that the narrator Sulaiman bin Arqam had some misunderstanding about this tradition. Al-Zuhri narrated it from him and then transmitted it (omitting his name) from Abu Salamah on the authority of Aisha (RA) . Abu Dawud said: Baqiyyah has transmitted it from al-Auzai from Yahya, from Muhammad bin al-Zubair with a similar chain of Ibn al-Mubarak.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨٢) (صحیح بما قبلہ) (اس سند میں سلیمان بن ارقم ضعیف راوی ہیں اس لئے پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
3293Sunan Abu Dawood

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ أُخْتٍ لَهُ، نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ: مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَرْكَبْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.

عقبہ بن عامر ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور (بطور کفارہ) تین دن کے روزے رکھے ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: Uqbah consulted the Prophet ﷺ about his sister who took a vow to perform hajj barefooted and bareheaded. So he said: Command her to cover her head and to ride, and to fast three days.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأیمان ١٦ (١٥٤٤)، سنن النسائی/الأیمان ٣٢ (٣٨٤٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤) (تحفة الأشراف: ٩٩٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٤٣، ٣/١٤٥، ١٤٧، ١٤٩، ١٥١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبیدا للہ بن زحر سخت ضعیف ہیں اس میں صیام والی بات ضعیف ہے، باقی کے صحیح شواہد موجود ہیں )
3294Sunan Abu Dawood

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ مَوْلًى لِبَنِي ضَمْرَةَ، وَكَانَ أَيَّمَا رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ أَخْبَرَهُ، بِإِسْنَادِ يَحْيَى وَمَعْنَاهُ.

عبدالرزاق کہتے ہیں: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Saeed al-Ruaini with the same chain as narrated by Yahya (b. Saeed) and to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٠) (ضعیف) (عبید اللہ بن زخر کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے )
3297Sunan Abu Dawood

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَخَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بےنیاز ہے، اسے کہو: سوار ہوجائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ ؓ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : That when the Prophet ﷺ was informed that the sister of Uqbah bin Amir had taken a vow to perform Hajj on foot, he said: Allah is not in need of her vow. So ask her to ride. Abu Dawud said: Saib bin Arubah has transmitted a similar tradition. Khalid has also transmitted a similar tradition on the authority of Ikrimah from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ: (٣٢٩٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٩٧، ١٩١٢١) (صحیح )
3296Sunan Abu Dawood

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكَبَ، وَتُهْدِيَ هَدْيًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : That the sister of Uqbah bin Amir took vow to walk on foot to the Kabah. Thereupon the Prophet ﷺ ordered her to ride and slaughter a sacrificial animal.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہی اس نذر کا کفارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٩٧، ١٩١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٩، ٢٥٢، ٣١١)، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٨٠) (صحیح )
3295Sunan Abu Dawood

جب گناہ کی نذر توڑے تو اس کا کفارہ ادا کرے

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْكُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ يَعْنِي أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً، وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا (یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man came to Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, my sister has taken a vow to perform hajj on foot. The Prophet ﷺ said: Allah gets no good from the affliction your sister imposed on herself, so let her perform hajj riding and make atonement for her oath.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١٠، ٣١٥) (ضعیف) (اس کے راوی شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں، اور اس میں بھی کفارہ (بذریعہ صیام) کی بات منکر ہے )