Supplications for Travelling

سفر کی دعائیں26 duas

1Traveler’s Supplication for Family Membersمسافر گھر والوں کو دعا دے

Traveler’s Supplication for Family Members

مسافر گھر والوں کو دعا دے

اَسْتَوْدِعُكُمْ اللهَ الَّذِیْ لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُهُ

I place you in the trust of Allah, Whose trust is never misplaced.

میں تمہیں الله کے سپرد کرتا ہوں جس کے پاس رکھی گئی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں ۔

( سنن ابن ماجہ:2825)

2The Family’s Supplication for the Travelerگھر والے مسافر کو دعا دیں

The Family’s Supplication for the Traveler

گھر والے مسافر کو دعا دیں

اَسْتَوْدِعُ ﷲَ دِیْنَكَ وَ اَمَانَتَكَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِكَ

I place your religion, your faithfulness and the ends of your deeds in the trust of Allah.

میں تیرا دین، تیری امانت اور تیرے عمل کا اختتام ﷲ کے سپرد کرتا ہوں ۔

(سنن الترمذی:3443)

3The Family’s Supplication for the Travelerگھر والے مسافر کو دعا دیں

The Family’s Supplication for the Traveler

گھر والے مسافر کو دعا دیں

زَوَّدَكَ اللهُ التَّقْوٰی وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَیَسَّرَ لَكَ الْخَیْرَ حَیْثُ مَا كُنْتَ

May Allah endow you with taqwa, forgive your sins and facilitate all good for you, wherever you be.

الله تجھے تقوٰی کا توشہ عطا کرے ، تیرے گناہ معاف کرے، اور جہاں کہیں بھی تو ہو تیرے لیے خیر کو آسان کرے۔

(سنن الترمذی: 3444)

4When a Transport Begins to Fail or Stumbleسواری کے ٹھوکر کھانے پر

بِسْمِ الله

In the name of Allah.

الله کے نام سے ۔

(سنن أبی داؤد:4982 )

Background & narration

A Companion رضي الله عنه narrated that he was riding behind the Prophet ﷺ when the mount stumbled. He said, "May the devil be destroyed." The Prophet ﷺ replied, "Do not say, 'May the devil be destroyed,' because when you say this, the devil grows as large as a house and says, 'It was by my power that this happened.' Instead, say: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ (In the name of Allah), because when you say this, the devil shrinks until he becomes as small as a fly." ]Sunan Abi Dawood: 4982[.

٭ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺکے پیچھے سوار تھا ۔ آپ کی سواری کو ٹھوکر لگی تومیں نے کہا : شیطان برباد ہو ۔آپ نے فرمایا : ''شیطان برباد ہو،نہ کہو کیونکہ جب تم ایسا کہتے ہو تو شیطان گھر جتنا بڑاہوجاتاہے اور کہتا ہے :میری طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ اس کی بجائے کہو: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ۔ کیونکہ جب تم ایساکہتے ہوتوشیطان چھوٹا ہوجاتاہے یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہوجاتاہے ''۔ [ سنن أبی داود: 4982]

5After Sitting on a Rideسواری پربیٹھنے کے بعد

After Sitting on a Ride

سواری پربیٹھنے کے بعد

اَلْحَمْدُ لِله

All praise is for Allah.

تمام تعریفیں الله تعالیٰ کے لیے ہیں ۔ (ایک بار)

Background & narration

٭ علی بن ربیعہ aسے روایت ہے کہ میں علی tکے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہe کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہe ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[

6After Sitting on a Rideسواری پر بیٹھنے کے بعد

After Sitting on a Ride

سواری پر بیٹھنے کے بعد

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ‎﴿١٣﴾‏ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ‎﴿١٤﴾‏

Exalted is He who has subjected this to us, and we could not have [otherwise] subdued it. And indeed we, to our Lord, will [surely] return.

پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔

الزّخرف 13-14

Background & narration

"٭ علی بن ربیعہ aسے روایت ہے کہ میں علی tکے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہe کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہe ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[ "

7After Sitting on a Rideسواری پر بیٹھنے کے بعد

After Sitting on a Ride

سواری پر بیٹھنے کے بعد

اَلْحَمْدُ لِلهِ ×3

All praise is for Allah (3 times)

تمام تعریفیں الله تعالیٰ کے لیے ہیں ۔ (تین مرتبہ)

Recite 3 times

0 / 3 · tap the circle to count

Background & narration

"٭ علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہﷺ ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[ "

8After Sitting on a Rideسواری پر بیٹھنے کے بعد

After Sitting on a Ride

سواری پر بیٹھنے کے بعد

اَللهُ اَكْبَر×3

Allah is the greatest (3 times)

ﷲ سب سے بڑا ہے ۔ (تین مرتبہ)

Recite 3 times

0 / 3 · tap the circle to count

Background & narration

"٭ علی بن ربیعہ aسے روایت ہے کہ میں علی tکے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہe کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہe ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[ "

9After Sitting on a Rideسواری پر بیٹھنے کے بعد

After Sitting on a Ride

سواری پر بیٹھنے کے بعد

سُبْحَانَكَ اِنِّیْ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ

Exalted are You, indeed I have wronged myself, so forgive me, for indeed none forgives sins except You.

پاک ہے تُو، بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے، پس تُو مجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔

( سنن الترمذی:3446)

Background & narration

"٭ علی بن ربیعہ aسے روایت ہے کہ میں علی tکے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہe کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہe ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[ "

10After Sitting on a Rideسواری پر بیٹھنے کے بعد

After Sitting on a Ride

سواری پر بیٹھنے کے بعد

رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُكَ

O Lord, forgive my sins, for none forgives sins except You.

اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا

[Sunan al-Tirmidhi:3446]

[سنن الترمذی:3446]

Background & narration

٭ علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں علی کے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہe کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہe ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[

11Supplications for Beginning the Journeyآغازِ سفر کی دعائیں

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْاَلُكَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰهُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَهُ ، اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ وَّعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ

Allah is the greatest, Allah is the greatest, Allah is the greatest. Exalted is He who has subjected this to us, and we could not have [otherwise] subdued it. And indeed we, to our Lord, will [surely] return. O Allah, we ask You for righteousness and taqwa in this journey of ours, and we ask You for deeds which please You. O Allah, facilitate our journey and let us cover its distance quickly. O Allah, You are The Companion on the journey and The Successor over the family. O Allah, I take refuge with You from the difficulties of travel, from a sorrowful scene, and I take refuge in You from an ill-fated return to my wealth and family.

الله سب سے بڑا ہے، الله سب سے بڑا ہے، الله سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے الله ! ہم اس سفر میں آپ سے نیکی ، تقوٰی اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو آپ کوپسند ہو۔ اے الله! ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے الله ! آپ اس سفر میں( ہمارے ) ساتھی ہیں اور ہمارے اہل وعیال میں ہمارے خلیفہ ہیں ۔اے الله ! میں سفر کی تکلیف سے ، برے منظر سے اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں

(صحیح مسلم:3275 )

Background & narration

Ibn Umar رضي الله عنه narrates that when the Messenger of Allah ﷺ would set out on a journey and mount his camel, he would say "Allahu Akbar" three times, then recite: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَا وَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ... (Glory be to the One who has made this [ride] subservient to us, for we would not have been able to control it ourselves, and surely to our Lord, we will return.) Then he would make the following supplication: ٠ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی... (O Allah, we ask You for piety and righteousness in this journey and deeds that please You. O Allah, make this journey easy for us and shorten its distance. O Allah, You are the companion on the journey and the guardian over our families. O Allah, I seek refuge with You from the hardship of this journey, the bad scenes we might witness, and from returning in a bad state in terms of our wealth and family.) And when he would return from the journey, he would recite the same supplication but with the addition of the words: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ (We are returning, repenting, worshiping, and praising our Lord). ]Sahih Muslim: 3275[.

ابن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہe جب سفر پر نکلنے کے لیے اپنی اونٹنی پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر پڑھتے پھر فرماتے: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَاوَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ،اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ،اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ. پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم ا س کوقابومیں لانے والے نہیں تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی ، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جوتجھے پسند ہو۔ اے اللہ!ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو اس سفر میں( ہمارا )ساتھی ہے اور اہل وعیال میں خلیفہ ہے ۔اے اللہ ! بے شک میں سفر کی تکلیف ، برے منظر اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اور جب واپس لوٹتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ. ہم لوٹنے والے ہیں ،تو بہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ ]صحیح مسلم:3275[

12Suplication till the Traveller Enters the Cityشہر میں داخل ہو تے تک مسلسل پڑھنا

آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ

We return, repent, worship and praise our Lord.

ہم لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں،عبادت کرنے والے ہیں،اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔

(صحیح البخاری:3085 )

Background & narration

Ibn Umar رضي الله عنه narrates that when the Messenger of Allah ﷺ would set out on a journey and mount his camel, he would say "Allahu Akbar" three times, then recite: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَا وَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ... (Glory be to the One who has made this [ride] subservient to us, for we would not have been able to control it ourselves, and surely to our Lord, we will return.) Then he would make the following supplication: ٠ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی... (O Allah, we ask You for piety and righteousness in this journey and deeds that please You. O Allah, make this journey easy for us and shorten its distance. O Allah, You are the companion on the journey and the guardian over our families. O Allah, I seek refuge with You from the hardship of this journey, the bad scenes we might witness, and from returning in a bad state in terms of our wealth and family.) And when he would return from the journey, he would recite the same supplication but with the addition of the words: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ (We are returning, repenting, worshiping, and praising our Lord). ]Sahih Muslim: 3275[.

"ابن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہe جب سفر پر نکلنے کے لیے اپنی اونٹنی پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر پڑھتے پھر فرماتے: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَاوَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ،اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ،اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ. پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم ا س کوقابومیں لانے والے نہیں تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی ، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جوتجھے پسند ہو۔ اے اللہ!ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو اس سفر میں( ہمارا )ساتھی ہے اور اہل وعیال میں خلیفہ ہے ۔اے اللہ ! بے شک میں سفر کی تکلیف ، برے منظر اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اور جب واپس لوٹتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ. ہم لوٹنے والے ہیں ،تو بہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ ]صحیح مسلم:3275[ "

13After Boarding a Boatکشتی پر بیٹھنے کے بعد

بِسْمِ اللهِ مَجْرِهَا وَمُرْسٰهَا اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْم ۝

In the name of Allah is its course and its anchorage. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful.

الله کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا ربّ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

(هود:41 )

Background & narration

(Surah Hud 41)

]ہود:41[

14Traveler’s supplication at dawnسفر کے دوران صبح کے وقت مانگی جانے والی دعا

سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللهِ وَحُسْنِ بَلاَئِهِ عَلَیْنَا ، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَاَفْضِلْ عَلَیْنَا عَائِذًا بِاللهِ مِنَ النَّارِ

He who listens has heard the praise of Allah and (the confession of) His favours upon us. Our Lord, be with us, bestow favours upon us. I seek refuge in Allah from the fire.

سن لیا سننے والے نے الله کی حمدکو اور ہم پر اس کی نعمتوں کی خوبی کے اقرار کو۔ اے الله ! ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر فضل کرمیں آگ سے الله کی پناہ لیتا ہوں ۔

(صحیح مسلم:6900)

Background & narration

Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that when the Prophet ﷺ would set out on a journey in the morning, he would say: ٠ سَمِعَ سَامِع بِحَمْدِ اللّٰہِ وَحُسْنِ بَلَائِہِ عَلَیْنَا... (A listener has heard the praise of Allah and the acknowledgment of His bounties upon us. O our Lord, be with us and bestow Your favor upon us, as we seek refuge in Allah from the fire.) ]Sahih Muslim: 6900[.

ابو ہریرہtسے روایت ہے کہ نبی کریمe جب صبح کے وقت سفر کرتے تو فرماتے تھے: ٠ سَمِعَ سَامِع بِحَمْدِ اللّٰہِ وَحُسْنِ بَلَائِہِ عَلَیْنَا،رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَاَفْضِلْ عَلَیْنَا عَائِذًا بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ. سن لیا سننے والے نے اللہ کی حمد اور اس کی نعمتوں کی خوبی کے اقرار کو ۔ اے ہمارے رب ! ہمارے ساتھ رہ اور ہم پر فضل کر ، اس حال میں کہ ہم آگ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ]صحیح مسلم:6900[

15During the Journey While Ascendingدورانِ سفر بلندی پر چڑھتے ہوئے

اَللهُ اَكْبَرُ

Allah is the greatest

الله سب سے بڑا ہے۔

(صحیح البخاری:2994 )

Background & narration

Jabir رضي الله عنه narrates that when they would ascend to a high place, they would say: ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ (Allah is the Greatest), and when they descended into a low place, they would say: ٠ سُبْحَانَ اللّٰہِ (Glory be to Allah). ]Sahih al-Bukhari: 2994[.

جابرtبیان کرتے ہیں کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو کہتے ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ کہتے اور جب نشیب میں اترتے توکہتے ٠ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔ اللہ پا ک ہے۔ ]صحیح البخاری:2994[

16While Descending:دورانِ سفر بلندی سے نیچے اترتے ہوئے

سُبْحَانَ اللهِ

Glory be to Allah

الله پا ک ہے۔

(صحیح البخاری:2994 )

Background & narration

"Jabir رضي الله عنه narrates that when they would ascend to a high place, they would say: ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ (Allah is the Greatest), and when they descended into a low place, they would say: ٠ سُبْحَانَ اللّٰہِ (Glory be to Allah). ]Sahih al-Bukhari: 2994[. "

"جابرtبیان کرتے ہیں کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو کہتے ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ کہتے اور جب نشیب میں اترتے توکہتے ٠ سُبْحَانَ اللّٰہِ۔ اللہ پا ک ہے۔ ]صحیح البخاری:2994[ "

17When a Transport Begins to Fail or Stumbleسواری کے ٹھوکر کھانے پر

بِسْمِ الله

In the name of Allah.

الله کے نام سے ۔

(سنن أبی داؤد:4982 )

Background & narration

A Companion رضي الله عنه narrated that he was riding behind the Prophet ﷺ when the mount stumbled. He said, "May the devil be destroyed." The Prophet ﷺ replied, "Do not say, 'May the devil be destroyed,' because when you say this, the devil grows as large as a house and says, 'It was by my power that this happened.' Instead, say: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ (In the name of Allah), because when you say this, the devil shrinks until he becomes as small as a fly." ]Sunan Abi Dawood: 4982[.

٭ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺکے پیچھے سوار تھا ۔ آپ کی سواری کو ٹھوکر لگی تومیں نے کہا : شیطان برباد ہو ۔آپ نے فرمایا : ''شیطان برباد ہو،نہ کہو کیونکہ جب تم ایسا کہتے ہو تو شیطان گھر جتنا بڑاہوجاتاہے اور کہتا ہے :میری طاقت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ اس کی بجائے کہو: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ۔ کیونکہ جب تم ایساکہتے ہوتوشیطان چھوٹا ہوجاتاہے یہاں تک کہ مکھی کے برابر ہوجاتاہے ''۔ [ سنن أبی داود: 4982]

18While Entering a Town / Cityشہر میں داخل ہوتے وقت

رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا ‎﴿٨٠﴾‏

My Lord, cause me to enter a sound entrance and to exit a sound exit and grant me from Yourself a supporting authority.

اے میرے رب! مجھے سچائی کے مقام پر داخل کر اور مجھے سچائی کے مقام ہی سے نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے مددگار قوت مہیا فرما۔

(بني اسرائيل:80 )

Background & narration

(Bani Israel 80)

]بنی اسرآء یل80:[

19While Entering a Town / Cityشہر میں داخل ہوتے وقت

اَللَّھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَمَااَظَلَّتْ وَرَبَّ الْاَرَضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقَلَّتْ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا اَذَرَّتْ وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَااَضَلَّتْ اِنِّیْ اَسْاَلُكَ خَیْرَهَا وَخَیْرَ مَا فِیْهَا وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِیْهَا

O Allah, Lord of the seven heavens and all that they envelop, Lord of the seven earths and all that they carry, Lord of the winds and all whom they whisk away, Lord of the devils and all whom they misguide. I ask You for the goodness of this village and for all the goodness found within it and I take refuge with You from the evil of this village and from all the evil found within it.

اے الله! اے ساتوں آسمانوں کے رب اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہے اور ساتوں زمینوں کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھایا ہے اور ہواؤں کے رب اور جو کچھ انہوں نے اڑایا ہے اور شیطانوں کے رب اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے بے شک میں تجھ سے اس بستی کی خیر اور جو اس میں ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے اور ان چیزوں کے شر سے جو اس میں ہے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

(السلسلة الصحیحة:2759)

Background & narration

Abu Lubabah bin Abd al-Mundhir رضي الله عنه narrated that when the Prophet ﷺ intended to enter a village, he would recite this supplication before entering: ٠ اَللَّھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَمَا اَظَلَّتْ وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقَلَّتْ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا اَذَرَّتْ وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضَلَّتْ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَہَا وَخَیْرَ مَا فِیْہَا وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا فِیْہَا. "O Allah, Lord of the seven heavens and what they have overshadowed, Lord of the seven earths and what they have carried, Lord of the winds and what they have scattered, and Lord of the devils and those they have misled, I ask You for the good of this town and the good of what is in it, and I seek refuge with You from its evil and the evil of what is in it." ]Al-Silsilah al-Saheehah: 2759[.

ابو لبابہ بن عبد المنذرtسے روایت ہے کہ رسول اللہe جب کسی گاؤں میں داخل ہونا چاہتے تو اس میں داخل ہونے سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے: ٠ اَللَّھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَمَا اَظَلَّتْ وَرَبَّ الْاَرْضِیْنَ السَّبْعِ وَمَا اَقَلَّتْ وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا اَذَرَّتْ وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا اَضَلَّتْ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ خَیْرَہَا وَخَیْرَ مَا فِیْہَا وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا فِیْہَا. اے اللہ! اے ساتوں آسمانوں کے رب اور جن چیزوں پر انہوں نے سایہ کیا ہے اور ساتوں زمینوں کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھایا ہے اور ہواؤں کے رب اور جو کچھ انہوں نے اڑایا ہے اور شیاطین کے رب اور جنہیں انہوں نے گمراہ کیا ہے ۔بے شک میں تجھ سے اس بستی کی خیر اورجو اس میں ہے اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شرسے اور ان چیزوں کے شر سے جو اس میں ہے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ] السلسلة الصحیحة: 2759[

20When Disembarkingکسی جگہ اُترتے وقت

رَّبِّ أَنزِلْنِي مُنزَلًا مُّبَارَكًا وَأَنتَ خَيْرُ الْمُنزِلِينَ ‎﴿٢٩﴾‏

My Lord, let me land at a blessed landing place, and You are the best to accommodate [us].

اے میرے رب! مجھے برکت والی جگہ اتار اور آپ سب سے اچھا ٹھکانہ دینے والے ہیں۔

(المؤمنون : 29)

Background & narration

When arriving at a place (Muminoon 29)

کسی جگہ اُترتے وقت ]المؤمنون29:[

21When stopping at a placeکسی جگہ پڑاؤ ڈالتے وقت

اَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

I seek refuge in the complete, perfect words of Allah from the evil of what He has created.

میں تمام مخلوق کے شر سے الله کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں۔

(صحیح مسلم:6878)

Background & narration

"When stopping at a place Khuwlah bint Hakim Salmiyah (may Allah be pleased with her) narrated that she heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say: 'Whoever stops at a place and recites this supplication: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ nothing will harm him until he departs from that place.'" [Sahih Muslim: 6878]

کسی جگہ ٹھہرنے کے وقت ٭ خولہ بنت حکیم سُلَمِیَّہ rسے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ e کو فرماتے ہوئے سنا : ''جو شخص کسی جگہ پر اترے پھریہ دعا پڑھے : ٠ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ. ]صحیح مسلم6878:[ تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ ا س جگہ سے کوچ کرجائے'' ۔

22When Seeing Someone Afflicted By Misfortuneمصیبت زدہ کو دیکھ کر

اَلْحَمْدُ لِله الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا

Praise is for Allah, Who saved me from that which He tested you with and favoured me over much of His creation.

ہر قسم کی تعریف اس الله کے لیے ہے جس نے مجھے اس مصیبت سے عافیت میں رکھا جس میں تجھے مبتلا کیا ہے اور اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سے بندوں پر اس نے مجھے فضیلت عطا فرمائی ۔

( سنن ابن ماجہ:3892)

Background & narration

When seeing someone in distress Abdullah bin Umar (r.a) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever comes across a person suffering from a calamity and recites this supplication: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہِ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِےْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِےْلًا. then the one who recites this will be protected from that affliction, regardless of what it is.” [Sunan Ibn Majah: 3892]

مصیبت زدہ کو دیکھ کر ٭ عبد اللہ بن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:''جس کو اچانک کوئی مصیبت میں مبتلاشخص مل جائے اور وہ(دیکھنے والا)یہ دعا پڑھ لے : ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہِ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِےْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِےْلًا. تو وہ اس مصیبت سے محفوظ رہے گا خواہ کوئی سی مصیبت ہو''۔ ]سنن ابن ماجہ:3892[

23While Entering a Marketبازار جاتے ہوئے

لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِهِ الْْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی كُلِّ شَىْءٍ قَدِیْر

There is no true deity except Allah, alone, He has no partners. To Him belongs the dominion, and to Him is due all praise. He gives life and causes death. He is Living and does not die, in His Hand is all good, and He has power over all things.

الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کی تعریف ہے ، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ زندہ ہے کبھی نہیں مرے گا، بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

(سنن الترمذی:3428 )

Background & narration

When entering the marketplace Saalim bin Abdullah bin Umar (r.a) narrated from his father, who narrated from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever recites this supplication upon entering the marketplace: ٠ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر. (There is no god but Allah, alone, without any partner. His is the dominion, and His is the praise. He gives life and causes death, and He is ever-living and does not die. In His hand is all good, and He is powerful over all things), Allah will record for him one million good deeds, forgive one million sins, and raise him one million levels.” [Sunan al-Tirmidhi: 3428] In another narration: “A house will be built for him in Paradise.” [Sunan al-Tirmidhi: 3429]

بازار جاتے ہوئے ٭ سالم بن عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ اپنے والد سے ،وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے: ٠ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر. تو اللہ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے،دس لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجات بلند فرماتا ہے''۔ ]سنن الترمذی:3428[ اور ایک روایت میں ہے کہ:'' اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے''۔ ]سنن ا لترمذی:3429[

24Supplications for Beginning the Journeyآغازِ سفر کی دعائیں

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْاَلُكَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰهُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَهُ ، اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ وَّعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ

Allah is the greatest, Allah is the greatest, Allah is the greatest. Exalted is He who has subjected this to us, and we could not have [otherwise] subdued it. And indeed we, to our Lord, will [surely] return. O Allah, we ask You for righteousness and taqwa in this journey of ours, and we ask You for deeds which please You. O Allah, facilitate our journey and let us cover its distance quickly. O Allah, You are The Companion on the journey and The Successor over the family. O Allah, I take refuge with You from the difficulties of travel, from a sorrowful scene, and I take refuge in You from an ill-fated return to my wealth and family.

الله سب سے بڑا ہے، الله سب سے بڑا ہے، الله سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے الله ! ہم اس سفر میں آپ سے نیکی ، تقوٰی اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو آپ کوپسند ہو۔ اے الله! ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے الله ! آپ اس سفر میں( ہمارے ) ساتھی ہیں اور ہمارے اہل وعیال میں ہمارے خلیفہ ہیں ۔اے الله ! میں سفر کی تکلیف سے ، برے منظر سے اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں

(صحیح مسلم:3275 )

Background & narration

Ibn Umar رضي الله عنه narrates that when the Messenger of Allah ﷺ would set out on a journey and mount his camel, he would say "Allahu Akbar" three times, then recite: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَا وَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ... (Glory be to the One who has made this [ride] subservient to us, for we would not have been able to control it ourselves, and surely to our Lord, we will return.) Then he would make the following supplication: ٠ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی... (O Allah, we ask You for piety and righteousness in this journey and deeds that please You. O Allah, make this journey easy for us and shorten its distance. O Allah, You are the companion on the journey and the guardian over our families. O Allah, I seek refuge with You from the hardship of this journey, the bad scenes we might witness, and from returning in a bad state in terms of our wealth and family.) And when he would return from the journey, he would recite the same supplication but with the addition of the words: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ (We are returning, repenting, worshiping, and praising our Lord). ]Sahih Muslim: 3275[.

ابن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہe جب سفر پر نکلنے کے لیے اپنی اونٹنی پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر پڑھتے پھر فرماتے: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَاوَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ،اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ،اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ. پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم ا س کوقابومیں لانے والے نہیں تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی ، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جوتجھے پسند ہو۔ اے اللہ!ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو اس سفر میں( ہمارا )ساتھی ہے اور اہل وعیال میں خلیفہ ہے ۔اے اللہ ! بے شک میں سفر کی تکلیف ، برے منظر اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اور جب واپس لوٹتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ. ہم لوٹنے والے ہیں ،تو بہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ ]صحیح مسلم:3275[

25Suplication till the Traveller Enters the Cityشہر میں داخل ہو تے تک مسلسل پڑھنا

آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ

We return, repent, worship and praise our Lord.

ہم لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں،عبادت کرنے والے ہیں،اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔

(صحیح البخاری:3085 )

Background & narration

Ibn Umar رضي الله عنه narrates that when the Messenger of Allah ﷺ would set out on a journey and mount his camel, he would say "Allahu Akbar" three times, then recite: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَا وَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ... (Glory be to the One who has made this [ride] subservient to us, for we would not have been able to control it ourselves, and surely to our Lord, we will return.) Then he would make the following supplication: ٠ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی... (O Allah, we ask You for piety and righteousness in this journey and deeds that please You. O Allah, make this journey easy for us and shorten its distance. O Allah, You are the companion on the journey and the guardian over our families. O Allah, I seek refuge with You from the hardship of this journey, the bad scenes we might witness, and from returning in a bad state in terms of our wealth and family.) And when he would return from the journey, he would recite the same supplication but with the addition of the words: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ (We are returning, repenting, worshiping, and praising our Lord). ]Sahih Muslim: 3275[.

"ابن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہe جب سفر پر نکلنے کے لیے اپنی اونٹنی پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر پڑھتے پھر فرماتے: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَاوَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ،اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ،اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ. پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم ا س کوقابومیں لانے والے نہیں تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی ، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جوتجھے پسند ہو۔ اے اللہ!ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو اس سفر میں( ہمارا )ساتھی ہے اور اہل وعیال میں خلیفہ ہے ۔اے اللہ ! بے شک میں سفر کی تکلیف ، برے منظر اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اور جب واپس لوٹتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ. ہم لوٹنے والے ہیں ،تو بہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ ]صحیح مسلم:3275[ "

26When entering homeگھر میں داخل ہو تے وقت

اَوْبًا اَوْبًا لِرَبِّنَا تَوْبًا لَّا یُغَادِرُعَلَیْنَا حَوْبًا

We are returning, we are returning. We turn in repentance to our Lord, such repentance that leaves us with no sin.

پلٹنے والے ہیں ، پلٹنے والے ہیں ، ہم اپنے رب ہی کے حضور توبہ کرتے ہیں، ایسی توبہ جو ہم پرگناہوں کا کوئی اثر باقی نہ رہنے دے۔

(المعجم الکبیر للطبرانی،ج:11،11735)

Background & narration

When entering the home Ibn Abbas (r.a) narrated that when the Messenger of Allah (ﷺ) would enter upon his family, he would say: ٠ اَوْبًا اَوْبًا لِرَبِّنَا تَوْبًا لَّا یُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْبًا. [Al-Mu'jam al-Kabir by al-Tabarani: 11735]

گھر میں داخل ہوتے وقت ٭ ابن عباسw روایت کرتے ہیں، رسول اللہe ...جب اپنے گھر والوں پر داخل ہوتے تو فرماتے: ٠ اَوْبًا اَوْبًا لِرَبِّنَا تَوْبًا لَّا یُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْبًا. ]المعجم الکبیر للطبرانی:11735[