Supplications for Beginning the Journey

Supplications for Beginning the Journeyآغازِ سفر کی دعائیں

اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، اَللهُ اَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْاَلُكَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰهُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَهُ ، اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ وَّعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ

Allah is the greatest, Allah is the greatest, Allah is the greatest. Exalted is He who has subjected this to us, and we could not have [otherwise] subdued it. And indeed we, to our Lord, will [surely] return. O Allah, we ask You for righteousness and taqwa in this journey of ours, and we ask You for deeds which please You. O Allah, facilitate our journey and let us cover its distance quickly. O Allah, You are The Companion on the journey and The Successor over the family. O Allah, I take refuge with You from the difficulties of travel, from a sorrowful scene, and I take refuge in You from an ill-fated return to my wealth and family.

الله سب سے بڑا ہے، الله سب سے بڑا ہے، الله سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے الله ! ہم اس سفر میں آپ سے نیکی ، تقوٰی اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو آپ کوپسند ہو۔ اے الله! ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے الله ! آپ اس سفر میں( ہمارے ) ساتھی ہیں اور ہمارے اہل وعیال میں ہمارے خلیفہ ہیں ۔اے الله ! میں سفر کی تکلیف سے ، برے منظر سے اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں

(صحیح مسلم:3275 )

Background & narration

Ibn Umar رضي الله عنه narrates that when the Messenger of Allah ﷺ would set out on a journey and mount his camel, he would say "Allahu Akbar" three times, then recite: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَا وَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ... (Glory be to the One who has made this [ride] subservient to us, for we would not have been able to control it ourselves, and surely to our Lord, we will return.) Then he would make the following supplication: ٠ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی... (O Allah, we ask You for piety and righteousness in this journey and deeds that please You. O Allah, make this journey easy for us and shorten its distance. O Allah, You are the companion on the journey and the guardian over our families. O Allah, I seek refuge with You from the hardship of this journey, the bad scenes we might witness, and from returning in a bad state in terms of our wealth and family.) And when he would return from the journey, he would recite the same supplication but with the addition of the words: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ (We are returning, repenting, worshiping, and praising our Lord). ]Sahih Muslim: 3275[.

ابن عمرwسے روایت ہے کہ رسول اللہe جب سفر پر نکلنے کے لیے اپنی اونٹنی پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر پڑھتے پھر فرماتے: ٠ سُبْحانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَاھٰذَاوَمَاکُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ،اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ،اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَةُ فِی الْاَھْلِ،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ وَّعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ. پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے لیے مسخر کردیا حالانکہ ہم ا س کوقابومیں لانے والے نہیں تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی ، تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جوتجھے پسند ہو۔ اے اللہ!ہم پراس سفر کو آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔ اے اللہ ! تو اس سفر میں( ہمارا )ساتھی ہے اور اہل وعیال میں خلیفہ ہے ۔اے اللہ ! بے شک میں سفر کی تکلیف ، برے منظر اور اپنے مال اور اہل وعیال میں بری حالت کے ساتھ واپس آنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، اور جب واپس لوٹتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: ٠ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ. ہم لوٹنے والے ہیں ،تو بہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ ]صحیح مسلم:3275[

Found in