رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُكَ
O Lord, forgive my sins, for none forgives sins except You.
اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا
[Sunan al-Tirmidhi:3446]
[سنن الترمذی:3446]
Background & narration
٭ علی بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں علی کے پاس تھا،ان کے لیے سواری لائی گئی تاکہ وہ سوار ہوں، انہوں نے جب پاؤں رکاب پر رکھا تو تین بار کہا: ٠ بِسْمِ اللّٰہِ. پھر جب اس کی پیٹھ پر چڑھ گئے توکہا: ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ. پھر کہا: ٠ سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِےْنَoوَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ o پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری ) کو ہمارے لیے مسخر کیا ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ]الزّخرف13-14:[ ٠ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ( 3 بار) ٠ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ( 3 بار) پھر کہا: ٠ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ قَدْظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ. پاک ہے تُو،بے شک میں نے (تیری نافرمانی کر کے ) اپنے نفس پر ظلم کیاہے،پس تُومجھے معاف فرما دے کیونکہ تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ۔ پھر ہنس دیے،میں نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہe کو ایسا ہی کرتے دیکھا جیسا میں نے کیا اورپھر آپ ہنس دیے تو میں نے پوچھا : یا رسول اللہe ! آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے فرمایا:''بے شک تیرا رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے: ٠ رَبِّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّہُ لَا یَغْفِرُالذُّ نُوْبَ غَیْرُکَ. اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو کوئی اور نہیں بخش سکتا۔ ]سنن الترمذی:3446[