9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

آپ ﷺ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں آپ ﷺ اگر ستر مرتبہ بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں جب بھی اللہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا ، یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ دائرہ ہدایت سے نکل جانے والوں پر کبھی راہ نہیں کھولتا

منافقین کے حق میں سخت گیری کی تاکید مزید اور استغفار کی ممانعت : 106: پیچھے آیت 73 میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین پر سختی کرنے کا حکم فرمایا۔ اس آیت نے اس سختی کی تشریح فرما دی کہ وہ سختی آپ کس طرح فرمائیں ؟ حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ تو سراپا رحمت و شفقت تھے اس وجہ سے ان منافقین کی تمام شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے باوجود ان کی اصلاح اور نجات میں لگے رہے اور ان کی فلاح آپ ﷺ کو اس قدر عزیز تھی کہ آپ ان کے لئے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ برابر اپنے رب کریم سے مغفرت طلب کرتے تھے یعنی دوسرے مسلمانوں کے ساتتھ ساتھ ان نام کے مسلمانوں کی اصلاح و فلاح کی دعائیں بھی کرتے رہتے تھے لیکن ان کی شقاوت اس قدر بڑھ گئی کہ یہ اس بات کو بھی گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ کوئی دوسرا بھی اسلام کی خیر خواہی کرے بلکہ یہ لوگ ہر خیرا خواہ کے حوصلہ کو پست کرتے رہے۔ اب آپ کو اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ آئندہ ایسے لوگوں کے لئے آپ مغفرت کی دعا مطلق نہ کریں لیکن اگر آپ کریں گے بھی تو اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کو کسی حال میں بھی بخشا نہیں جائے گا اور تاکید کے لئے اللہ نے فرمایا کہ آپ ستربار بخشش طلب کریں تو بھی ان کو نہیں بخشا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ یہاں ستر بار سے عدد گنتی مراد نہیں بلکہ کثرت مراد ہے کہ آپ چاہیں کتنی بھی بخشش ان کے لئے طلب کریں ان کو ہرگز ہرگز نہیں بخشا جائے گا کیونکہ ان کا حا تمہ ہی منافقت پر ہونے والا ہے اور فیصلہ علم الٰہی کا ہے۔ ” اگر ستر مرتبہ بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں جب بھی اللہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا۔ “ اس لئے کہ مغفرت کی بنیاد یعنی ایمان ہی سرے سے مفقود ہے اور منافقین کے حق میں دعا اور عدم دعا دونوں عدم نفع کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافقین مدینہ کا رئیس و سردار تھا لیکن اس کا بیٹا عبداللہ سچا مومن اور مخلص تھا۔ باپ کے مرنے پر آکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں اس کا جنازہ پڑھانے کی درخواست کی۔ آپ اٹھے اور حضرت عمر ؓ نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کی عرض کرنے کا باوجود آپ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ علاوہ ازیں اپنا پیراہن عطا کرنے کی روایات بھی موجود ہیں۔ آپ ﷺ کے جنازہ پڑھانے کے بعدو لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ الخ آیت نازل ہوئی جو آگے آرہی ہے۔ ان آیات اور آپ ﷺ کے اس عمل سے لوگوں کے سارے طبقات نے بہت سے مسائل اخذ کئے ہیں۔ صوفیائے کرام نے اپنے مزاج کے مطابق ، علمائے کرام نے اپنے مزاج کے مطابق ، مفتیوں نے اپنے مزاج کے مطابق ، مفسرین نے اپنے مزاج کے مطابق ، سیاسیی مزاک کے لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اور محققین نے اپنے مزاج کے مطابق اور اسی طرح متقدمین نے اپنے مزاج کے مطابق لیکن ہم ان ساری باتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ غور کرو کفر و نفاق کتنی سخت چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے پیغمبر بر حق اور وہ بھی نبی اعظم و آخر ﷺ تک کی سفارش بےاثر رہتی ہے اس لئے اس سے اللہ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہئے۔ نیز یہ کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی موجودگی میں نفاق تھا اور آج بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کی حقیقت کو ذرا تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا جائے۔ قرآن کریم نے ” کفر “ کی طرح ” نفاق “ کا بھی جا بجا ذکر کیا ہے اور منافقوں کے اعمال و خصائل کی سب سے زیادہ تفصیل اسی صورت میں ملتتی ہے۔ پس ضروری ہے کہ ٹھیک طور پر سمجھ لیا جائے کہ نفاق کی حقیقت کیا ہے اور منافقوں کی جماعت کس طرح کی جماعت تھی ؟ 1۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ فکر و عمل کا کوئی گوشہ ہو تین طرح کے آدمی ضرور ہوتے ہیں : 1 ۔ مستعد اور صالح طبیعتیں ، یہ ہر اچھی بات کو پہچان لیتی اور قبول کرلیتی ہیں اور پھر سر گرم عمل بھی ہوجاتی ہیں۔ 2 ۔ مفسد طبیعتیں ، انہیں ہر اچھی بات سے انکار ہوتا ہے۔ کوئی سیدھی بات ان کے اندر اترتی نہیں۔ 3 ۔ درمیانی گروہ ، ہر بات کو سن لینے اور مان لینے کے لئے تیار ہوجاتا ہے لیکن فی الحقیقت اس کے اندر تیاری نہیں ہوتی وہ قدم اٹھا دیتا ہے مگر چلنا نہیں چاہتا اور چلتا ہے تو پہلے ہی قدم پر لڑکھڑا جاتا ہے۔ اس میں پہلے گروہ کی مستعدی نہیں ہوتی کہ جو بات مان لی اسے ٹھیک ٹھیک مان لے اور عمل کرے۔ اس میں دوسرے گروہ کی بےباکی و جرات بھی نہیں ہوتی کہ یکسو ہو کر صاف صاف انکار کردے۔ پس گو وہ سمجھتا ہے کہ ایک راہ اختیار کرلی ہے لیکن فی الحقیقت دونوں راہوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہوتا۔ جہاں تک اقرار کا تعلق ہے قبول کرنے والوں میں ہوتا ہے ، جہاں تتک اذھان و عمل کا تعلق ہے منکروں کی سی جماعت میں۔ مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ 1ۖۗ لَاۤ اِلٰى ہٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى ہٰۤؤُلَآءِ (4 : 143) جزم و یقین اور عزم و عمل پہلے گروہ کا خاصا ہے۔ انکار و حجود دوسرے کا اور شک و تذبذب اور بےعملی کا تعطل تیسرے کا۔ بعینہ یہی حال ایمان و عمل کے دائرہ کا بھی ہے۔ یہاں بھی طبیعت انسانی کی یہ تینوں حالتیں ظہور میں آتی ہیں۔ مستعد طبیعتیں قبول کرلیتی ہیں۔ ” یہ مومن ہیں “ مفسد انکار کرتے اور مخالفت میں سرگرم ہوجاتے ہیں ” یہ کافر ہیں “ کچھ لوگ قبول کرلیتے ہیں لیکن فی الحقیقت قبولیت کی روح ان کے اندر نہیں ہوتی۔ ” یہ منافق ہیں۔ “ 2۔ قرآن نے کفر کی طرح نفاق کے اعمال و خصائص بھی پوری تفصیل کے ساتھ بیان کئے کیونکہ کفر کی طرحنفاق بھی محض عہد نزول ہی کی پیداوار نہ تھا ، ہمیشہ ظہور میں آنے والی گمراہی تھی اور انسان کی گمراہیاں کسی خاص عہد و نسل کی نہیں بلکہ نوع انسانی کی گمراہیاں ہوتی ہیں ی۔ 3۔ ایک عام غلط فہمی یہ پھیلی ہوئی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں ، منافقوں کا گروہ کافروں کا کوئی خاص سازشی گروہ تھا جو جاسوسوں کی طرح بھیس بدل کر مسلمانوں میں رہنے لگا تھا ، باہر نکلتا تو مسلمان بن جاتا ، اکیلے میں ہوتا تو اپنے اصلی بھیس میں لوٹ آتا حالانکہ ایسا سمجھنا قرآن و حدیث کی صاف صاف تصریحات کو جھٹلانا ہے۔ ان لوگوں نے اسلام بطور اپنے دین و اعتقاد کے اسی طرح اختیار کرلیا تھا جس طرح دوسرے مسلمانوں نے۔ چناچہ اسی سورت کی آیت (74) میں ہے کہ : وَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ اسلام لا کر پھر کفر کی باتیں کیں وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے تھے۔ ان کی بیویاں انہیں مسلمان سمجھتی تھیں ، ان کے بچے انہیں مسلمان سمجھتے تھے ، ان کے گھر کا ہر فرد یقین کرتا تھا کہ ہم مسلمان ہیں۔ وہ نماز پڑھتے تھے ، روزہ رکھتے تھے۔ اسلام کے طریقے پر اولاد کی پرورش کرتے تھے۔ عبداللہ بن ابی منافقوں کا سرغنہ تھا لیکن اس کا لڑکا منافق نہ تھا ، مخلص مومن تھا۔ اسی طرح تمام منافوں کی اولاد احفاد مخلصوں کی جماعت نکلی جہاں تک کسی دین کو بطوع ایک دین کے اختیار کے لینے کا تعلق ہے ، کوئی بات ایسی نہ تھی جو بظاہر ان کے مسلمان ہونے کے خلاف ہو تاہم قرآن نے فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں کیونکہ اسلام کا گھونٹ تو انہوں نے پی لیا تھا لیکن حلق کے پیچھے نہیں اترا تھا۔ کسی تعلیم کو اختیار کرلینے کے بعد یقین و عمل کی جو روح پیدا ہونی چاہئے تھی اس سے یک قلم محروم تھے۔ اخلاص اور صداقت کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ وہ اللہ کا کلام سنتے مگر اس لئے نہیں کہ عمل کریں بلکہ اس لیئے کہ محض سنتے رہیں۔ وہ نماز پڑھتے مگر بےدلی کے ساتھ ، وہ خیرات کرتے مگر مجبور ہو کر۔ ان کے دلوں میں دین سے زیادہ دنیا کا عشق تھا۔ اسلام کے جو احکام ان کے شخصی اغراض کے خلاف نہ ہوتا تو وہ سب سے پہلے مومن تھے ، جب کبھی قربانیوں کا موقع آجاتا تو سب سے آخری صفوں میں بھی دکھائی نہ دیتے۔ جہاد کے تصور سے ان کی روحیں لرز جاتیں۔ انفاق کا حکم ان کے لئے پیام موت ہوتا۔ اسلام کے دشمنوں سے سازگاریاں رکھنے میں انہیں کچھ تامل نہ ہوتا۔ وہ سمجھتے تھے دونوں طرح ملے رہنے ہی میں مصلحت ہے اگر بازی الٹ پڑی اور دشمن فتح مند ہوگئے تو ان کے پاس بھی اپنی جگہ بنی رہے گی۔ ایمان و کفر کی طرح نفاق کی تمام حالتیں بھی یکساں نہیں اور نہیں تھیں چونکہ اصل کے اعتبار سے یہ حالت بھیا نکار ہی کی ایک اقرار نما صورت ہے اس لئے جب بڑھتی ہے تو انکار قطعی ہی کی طرف بڑھتی ہے اور اسی کے خصائص رونما ہونے لگتے ہیں کسی میں کم ، کسی میں زیادہ۔ چناچہ اس عہد کے منافقوں کی حالت یکساں نہ تھی۔ عبداللہ بن ابی کا نفاق ہر منافق کا نفاق نہ تھا۔ خود قرآن نے اسی صورت کی آیت (101) میں اس طرف اشارہ کیا ہے : وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ 1ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ 1ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ 1۫ کسی کے نفاق کا رخ زیادہ تر اس طرف تھا کہ ہجرت سے جی چراتے تھے ، کسی پر انفاق مال شاق تھا ، کوئی جہاد سے بچنا چاہتا تھا ، کسی پر نماز کا قیام سخت گزرتا تھا ، کوئی ایسا تھا کہ احکام الٰہی اور آیات قرآنی کی ہنسی اڑاتا تھا اور اس تاک میں تھا کہ اگر مسلمانوں پر کوئی آفت آپڑے تتو کھلم کھلا دشمنوں کے ساتھ ہوجا۔ تاہم یہ قطعی ہے کہ ان سب نے اسلام بطور اپنے دین و طریقہ کے قبول کرلیا تھا اور مسلمانوں ہی میں سمجھے جاتے تھے۔ یہ بات نہ تھی کہ محض ایک سازشی گروہ بھیس بدل کر مسلمانوں میں آملا ہو اور مسلمانوں میں سے نہ ہو۔ 4۔ اب غور کرو ، یہاں منافقوں کے اعمال و خصائص کیا کیا بیان کئے ہیں : (ا) جب راہ حق میں جان و مال کی قربانی کا وقت آتا تو طرح طرح کے حیلے بہانے نکالتے اور کہتے ہمیں گھر بیٹھ رہنے کی اجازت مل جائے۔ (ب) مسلمانوں میں ہمیشہ فتنہ پھیلاتے۔ کمزور اور ناسمجھ آدمیوں کو گمراہ کرتے۔ ادھر کی بات ادھر کو لگاتے۔ (ج) جب کبھی جماعت کے لئے کوئی نازک وقت آجاتا تو اس طرح کی باتیں نکالتے کہ دوسروں کے دل بھی کمزور پڑجاتے اور کوئی نہ کوئی فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔ چناچہ احد میں انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس موقع پر بھی کمی نہیں کی۔ (د) دینداری کے بھیس میں اپنا نفاق چھپاتے اور کہتے ، اس کام میں ہمارے لئے فتنہ ہے اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ (ہ) مسلمانوں کی مصیبت ان کے لئے مصیبت نہیں ہوتی اور نہ ان کی خوشی ان کے لئے خوشی۔ (و) وہ کوئی جماعتی معاملہ پیش آجائے تو اس کا ہاتھ نہ دیتے اور طرح طرح کی فتنہ اندازیاں کرتے پھر اگر کوئی حادثہ پیش آجاتاتو کہتے ہم نے پہلے ہی یہ معلوم کرلی تھی اس لئے ساتھ نہیں دیا تھا اور پھر بجائے اس کے کہ قوم کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھیں۔ دل میں خوش ہوتے کہ چلو اچھا ہوا ، کامیاب ہوئے۔ (ز) نماز پڑھیں گے تو اس بےدلی سے کہ معلوم ہوگا ایک بوجھ آپڑا ہے اور چاہتے ہیں کسی نہ کسی طرح ٹپک کر الگ ہوجائیں۔ (ح) نیکی کی راہ میں خوش دلی سے کبھی خرچ نہ کریں۔ کنجوسی ان کی سب سے بڑی علامت ہے۔ (ط) قسمیں کھا کھا کر یقین دلائیں گے کہ ہمیں مخالف نہ سمجھو حالانکہ دل میں نفاق بھرا ہوا ہے۔ (ی) چونکہ دلوں میں کھوٹ ہے ، اس لئے ڈرے سہمے رہتے ہیں اور بہت سے کال دل کی خواہش سے نہیں بلکہ محض جماعت کے خوف سے کرتے ہیں۔ (ک) چونکہ راہ حق کی آزمائشیں پیش آتی رہتی ہیں اور دل میں اخلاق و یقین نہیں ہے اس لئے بسا اوقات صورت حال سے ایسے مضطرب ہوجاتے ہیں کہ اگر چھپ بیٹھنے کی کوئی جگہ مل جائے تو فوراً رسی تڑا کا بھاگ کھڑے ہوں۔ (ل) غرض کے بندے ہیں۔ ان کی خوشنودی اور ناراضگی کا سارا دارومدار دنیا اور دنیا کا حصول ہے۔ اگر صدقات کی تقسیم میں انہیں بھی کچھ دے دیا جائے تو خوش رہیں گے ، نہ دیا جائے تو بگڑ بیٹھیں گے۔ (م) چونکہ ایمان اور راستی سے محروم ہیں ، اس لئے حق و ناحق کی کچھ پروا نہیں۔ جس طرح بھی ملے مال و دولت حاصل کرنی چاہئے۔ صدقات و خیرات کے مستحق نہیں لیکن اس کے حصول کے خواہش مند رہتے ہیں۔ (ن) اگر ان کی ہوائے نفس کے خلاف کوئی فیصلہ ہو تو فوراً طعنہ زنی پر اتر آئیں کہ دوسروں کی طرف داری کی جاتی ہے۔ (س) پیغمبر اسلام محض مومنوں کا اخلاص پہچانتے اور انہیں قابل اعتماد سمجھتے تھے۔ یہ بات منافقوں پر شاق گزرتی تھی کہ بعضوں نے کہا وہ کان کے کچے ہیں اور لوگوں کی باتوں میں آجاتے ہیں۔ (ع) جب دیکھتے ہیں ، ان کی منافقانہ روش پر عام برہمی پیدا ہوگئی تو قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو یقین دلاتے اور انہیں اپنے سے راضی رکھنا چاہتے قرآن کہتا ہے ، ان کی حق فراموشی دیکھو۔ انہیں خدا کی تو کچھ پروا نہیں کہ بدعملیاں کئے جاتے ہیں لیکن انسانوں کی اتنی پروا ہے کہ جونہی ان کی نگاہیں بدلی ہوئی نظر آئیں ، لگے خوشامد کرنے اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر یقین دلانے۔ فی الحقیقت انسانی گمراہی کی بوالعجبیوں میں سے ایک عجیب بوالعجبی یہ ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھنے کا مدعی ہوتا ہے اور اجنتا ہے کہ اس کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ تاہم ہر طرح کی معصیتیں کئے جائے گا اور ایک لمہہ کے لئے اسے یہ خیال نہ ہوگا کہ میں کیا کر رہا ہوں ؟ لیکن جونہی انسانوں کی نظر میں اس کی معصیتیں نمایاں ہوئیں ، اس کے ہوش و حواس گم ہوجائیں گے اور ہزار طرح کے جتن کرے گا کہ کہیں وہ اسے برا نہ سمجھنے لگیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فی الحقیقت اسے خدا کی ہستی کا یقین نہیں کیونکہ اگر یقین ہوتا ، اسی درجہ کا یقین ، جس درجہ کا یقین انسانوں کی موجودگی پر رکھتا ہے ، تو ممکن نہ تھا کہ اس سے بےپروا ہوجاتا۔ قرآن کہتا ہے یہی حالت نفاق کی حالت ہے۔ (ف) دین کے بارے میں ان کی زبانیں چھوٹ ہیں لیکن جب پکڑے جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے بطور تفریح اور مزاح کے ایک بات کہہ دی تھی۔ سچ مچ تو ہمارا مطلب یہ نہ تھا۔ قرآن کہتا ہے ، یہ عذر گناہ بد تزار گناہ ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوا تم اللہ ، اس کی آیتوں کی ، اس کے رسول کی ہنسی اڑاتے ہو۔ (ص) جس طرح مومن مرد اور عورت راہ حق میں ایک دوسرے کے رفیق و معاون ہیں ، اسی طرح منافق راہ نفاق میں ایک دوسرے کے رفیق و معاون ہیں۔ (ق) کذب گوئی ان کا شعار ہے۔ صریح ایک بات کہیں گے اور پھر انکار کردیں گے۔ (ر) بعضوں کا یہ حال ہے کہ عہد کرتے ہیں خدایا ، اگر تو ہم پر فضل کرے تو ہم تیری راہ میں خیرات کریں گے اور نیکی کی زندگی بسر کریں گے لیکن جب اللہ فضل کرتا ہے تو پھر بےتامل بخیلی پر اتر آتے ہیں اور کچھ اس کی راہ میں نہیں نکالتے۔ اس کی طرف سے رخ پھیرے رہتے ہی۔ (ش) ان کا ایک وصف یہ ہے کہ خود تو کچھ کریں گے نہیں لیکن کرنے والوں کے خلاف زبان کھولنے میں ہمیشہ بےباک رہیں گے۔ مثلاً اگر خوش حال آدمیوں نے بڑی بڑی رقمیں راہ حق میں نکالیں تو کہیں گے ، دکھاوے کے لئے یا دنیوی غرض کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ اگر کوئی غریب آدمی اپنی محنت مزدوری کی کمائی میں سے چار پیسے نکال کر رکھ دے تو اس کی ہنسی اڑائیں گے کہ واہ اچھی خیرات کی۔ (ت) راہ حق میں محنتیں ، مشقتیں برداشت کرنا ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ غزوہ تبوک کا معاملہ سخت گرمی میں پیش آیا تھا ، اس لئے لوگوں سے کہتے تھے اس گرمی کہاں جاتے ہو ؟ (ث) ایمان کے ضعف نے انہیں مردانگی کے احساس و غیرت سے بھی محروم کردیا ۔ جب لوگ قوم وملت کی راہ میں جان و مال قربان کرتے ہیں اور تو وہ عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور ذرا بھی نہیں شرماتے۔ (خ) بعض لوگ دین داری کے بھیس میں ایسی راہیں نکالتے ہیں کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ہو اور ان کے مقاصد کو نقصان پہنچے۔ مثلاً ایک مسجد بنائی اور پیغمبر اسلام ﷺ سے عرض کیا ، آپ اس میں نماز پڑھا دیں تو ہمارے لئے برکت وسعادت ہو۔ مقصود یہ تھا کہ اپنے اجتماع کے لئے ایک نیا حلقہ پیدا کریں اور مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ہو۔ (ذ) کچھ لوگ ایسے ہیں جو نفاق کی حالت میں شب و روز رہتے رہتے بڑے مشق ہوگئے ہیں۔ دوسرے اتنے مشاق نہیں جو مشاق ہیں تم انہیں تاڑ نہیں سکتے۔ (ض) کوئی سال نہیں گزرتا کہ ان کے لئے تنبیہہ و اعتبار کی کوئی نہ کوئی بات ظہور میں نہ آجاتی ہو لیکن غفلت کا یہ حال ہے کہ نہ تو توبہ کرتے ہیں ، نہ عبرت پکڑتے ہیں۔ 5۔ سورة آل عمران ، نساء ، الانفال ، احزاب ، محمد ، فتح ، حدیہ ، مجادلہ اور حشر میں بھی منافقوں کے اعمال و خصائص بیان کئے گئے ہیں اور ایک پوری سورت منافقون انیی کے حالات میں ہے۔ چاہئے کہ اس موقع پر فہرست سے مدد لے کر وہ تمام مقامات بھی دیکھ لئے جائیں۔ 6۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ سورة بقر کی آیت (8) وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا ہُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۘ008 میں اور اس کی بعد کی آیتوں میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے ، اس سے مقصود منافقوں کی یہ جماعت نہیں ہے بلکہ یہود ونصاریٰ ہیں جو ایمان اللہ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقتاً ایمان کی روح ان میں باقی نہیں رہی تھی۔ فی الحقیقت یہ حالت بھی نفاق ہی کی حالت ہے۔ جو ایک مدت کے جمود و اعراض کے بعد پیروان مذاہب پر طاری ہوجاتی ہے لیکن مقصود اس سے مدینہ کے منافق نہیں ہیں ا۔ 7۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئ کہ ان احادیث کا مطلب کیا ہے جن میں نفاق کی خصلتیں بیان کی گئی ہیں اور فرمایا ہے جس میں یہ خصلت ہو تو سمجھ لو نفاق کی خصلت آگئی مثلاً : اربع من کن فیہ ، کان منافقا خالصا ومن کانت فیہ خصلۃ منھن کانت فیہ خصلۃ من النفاق (بخاری) ولو صلیٰ ولاں وزعم انہ مسلم (مسلم) یعنی چار خصلتیں ہیں جس میں یہ چاروں جمع ہوجائیں وہ پورا منافق ہے اور جس میں کوئی ایک خصلت پائی جائے تو سمجھ لو نفاق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی۔ مسلم کے الفاظ میں یہ بھی ہے ” اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو ، روزہ رکھتا ہو اور اس زعم میں ہو کہ مسلمان ہے “ پھر دو خصلتیں بیان کی ہیں جو سچے مومن میں نہیں ہونی چاہئیں مثلاً : امانت میں خیانت ، جھوٹ بولنا ، وعدہ خلافی ، غصہ میں آکر بےقابو ہوجانا۔ تو معلوم ہوا نفاق کوئی ایسی حالت نہ تھی جو صرف آنحضرت ﷺ کے زمانہ ہی میں ظہور پذیر ہوئی ہو اور نہ منافقوں کا گروہ کوئی ایسا گروہ تھا جو محض چھپے کافروں کا ایک سازشی گروہ ہو۔ یہ ایمان و عمل کی کمزوری کی ایک زیادہ سخت حالت ہے اور جس طرح اس زمانہ میں تھی اسی طرح ہر زمانے میں ہو سکتی ہے اور ہوتی رہی ہے۔ آج اگر مسلمانوں کی اکثریت اپنے ایمان و عمل کا احتساب کرے تو اس کو معلوم ہوجائے کہ نفاق کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں وہ اپنے ہی وجود میں اسے دیکھ سکتی ہے۔ 8۔ یہ جو قرآن نے انسان کے عقائد و اعمال کی تین حالتیں قرار دیں۔ ایمان ، کفر ، نفاق تو فی الحقیقت عام ہستی کے تمام گوشوں میں اصلاً تین ہی حالتیں پائی جاتی ہیں یا تو تکوین کی حالت ہوگی یا پھر دونوں کی درمیانی حالت خود اپنے وجود ہی کو دیکھ لو یا زندگی ہے یا موت یا بیماری ، بیماری کو نہ تو زندگی کی صحیح حالت کہ سکتے ہیں ، نہ ہی موت قرار دے سکتے ہیں۔ دونوں کے بین بین ہے لیکن رخ اس کا موت ہی کی طرف ہے۔ قلب و روح کا بھی یہی حال ہوا ، ایمان زندگی ہے۔ کفت مور ہے اور نفاق بیماری۔ یہ مقام مہمات قرآنی میں سے ہے لیکن : گر نو یسم شرح آں بیحد شود ! مثنوی ہفتاد من کاغذ شود !
Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے وہ اس بات پر خوش ہوئے کہ اللہ کے رسول کی خواہش کے خلاف اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں یہ بات ناگوار ہوئی کہ اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں انہوں نے لوگوں سے کہا تھا اس گرمی میں کوچ نہ کرو ، تم کہو دوزخ کی آگ کی گرمی تو کہیں زیادہ گرم ہوگی اگر انہوں نے سمجھا ہوتا

رسول اللہ ﷺ کے تبوک کی طرف نکل جانے کے بعد منافقین خوش ہوگئے : 107: ” مخلفین “ ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو جھوٹے عذر پیش کر کے تبوک کی مہم میں شریک ہونے سے گریز کرگئے۔ وہ بزعم خویش تو رسول اللہ ﷺ سے رخصت حاصل کرچکے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے جیسے ان کو رخصت دی اس کی ترجمانی قرآن نے واضح طور پر کردی کہ دراصل وہ پیچھے چھوڑے گئے تھے اور نظر انداز کردیئے گئے تھے اور ان کے باطن کو بھانپ کر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لا یعنی عذرات کو سمجھتے ہوئے رخصت دی تھی جو عین حکمت اور نہایت حد تک عقل و سمجھ کی بات اور فراست نبوی ﷺ تھی۔ پھر ان کی ساری حالت روز روشن کی طرح واضح تھی کہ ایسے لوگ شریک نہ ہوں تو یہی بہتر ہے اگر وہ جنگ کے لئے نکلیں گے تو نہ معلوم کیا گیا گل کھلائیں گے اور مسلمانوں پر بھی ان کا عمل کوئی چھپا ہوا نہ تھا کہ یہ لوگ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ اللہ کا رسول تو اپنے جاں نثاروں کے ساتھ میدان جنگ کے لئے روانہ ہوا اور یہ لوگ بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھے رہنے میں کامیاب ہوئے حالانکہ سچے مسلمانوں کے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی اس لئے ان کے عذر پیش کرنے سے سارے مسلمانوں پر بھی ان کی اصل اصلیت واضح ہوچکی تھی لیکن وہ اپنے پیارے رسول ﷺ کی ہر حرکت پر جاں نثار کرنے کے لئے تابر تھے اس لئے آپ کی طرف سے ان کو اجازت مل جانے سے زبان سے کوئی بات نکالنے کے لئے تیار نہ تھے۔ منافقین خود تو رک ہی گئے لیکن انہوں نے دوسروں کو روکنے کی بھی پوری کوشش کی : 108: چونکہ غزوہ تبوک کا زمانہ شدید گرمی کا زمانہ تھا اس لئے یہ منافقین آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ ” اس گرمی میں کوچ نہ کرو۔ “ ارشاد الٰہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان سے کہئے کہ : ” دوزخ کی آگ کی گرمی تو کہیں اس سے بھی زیادہ گرم ہوگی “ کاش کہ ! انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہوتا۔ یہ تو اس وقت کے منافقین کی حالت تھی لیکن اس زمانہ کے منافقین کی جو حالت ہے وہ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے کہ وہ تو ہر وہ کام جو رسول اللہ ﷺ سے پوری صحت کے ساتھ واضح ہے اس پر بھی تنقید سے نہیں چوکتے اور اسلام کے جتنے ارکان ہیں ان کو ایک ایک پر اعتراض ہے اور وہ فی نفسہ اسلام کے دین ہونے سے انکار تو کر نہیں سکتے اس لئے وہ آئے دنوں اسلام کی ساری عبادات پر اعتراضات کی بوچھاڑ کرتے ہیں اور ٹھٹھہ و مذاق سے باز نہیں آتے ان لوگوں پر اس سے بھی کہیں زیادہ افسوس آتا ہے کہ وہ اسلام کو سمجھتے کے لئے محمد علی رسول نگری اور پرویز علیہ ما علیہ اور اس طرح دوسرے سارے مادر پدر آزاد لوگوں کے محتاج ہیں لیکن ان کو اگر محتاجی برداشت نہیں تو صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی نہیں۔ وہ قرآن کریم کے ماننے کا تو دعویٰ کرتے ہیں لیکن قرآن کریم لانے والے سے بےنیاز ہو جانتا چاہتے ہیں اور ان کو کون سمجھائے کہ قرآن کریم لانے والے سے جن لوگوں کا اعتماد نہ رہا وہ قرآن پر اعتماد قائم رکھ ہی نہیں سکتے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ قرآن کو قرآن یا کتاب اللہ مان ہی نہیں سکتے اور نہ ان کے پاس اس کے سامنے کی کوئی دلیل موجود ہے اور نہ کبھی ہوگی۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

اچھا یہ تھوڑا سا ہنس لیں پھر انہیں اپنی ان بدعملیوں کی پاداش میں بہت کچھ رونا ہے جو یہ کماتے رہے ہیں

اب ہنستے ہیں پھر روئیں گے گھر جا کے جھاٹا کھوئیں گے : 109: زیر نظر آیت میں ہنسنے کا تعلق اس دنیا سے ہے اور رونے کا تعلق عالم آخرت سے اور ظاہر ہے کہ اس دنیا کی ہرچیز کو فنا ہے اور عالم آخرت قبا کا نام ہے جس کو کبھی فنا نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ہنسنے کی آخر مدت ہی کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ جتنی بھی ہوگی وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہی ہوگی اور اس طرح آخرت اس دنیا کے مقابلے میں کثیر ہی ہوگی۔ گویا یہ لوگ موسم گرما سے بھاگ کر کہاں گئے ؟ جہنم کی آگ میں کود گئے تو پھر ان کو اپنے اس کرتوت سے کیا حاصل ہوا ؟ وہ ایسا کر کے فائدع میں رہے یا سراسر نقصان میں ؟ معلوم ہوا کہ یہ لوگ فہم و بصیرت سے عاری ہوچکے ہیں اس لئے اپنی اس شامت اور بدبختی پر خوش ہو رہے ہیں گویا انمہوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے کہ اس وقت ہنس رہے ہیں اور جب عالم آخرت کے ابدی گھر میں پہنچیں گے تو یہ لوگ سر پیٹ کر رہ جائیں گے۔ لیکن اس سر پیٹنے کا فائدہ ؟
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

دیکھو اللہ نے تمہیں ان کے کسی گروہ کی طرف (صحیح سلامت) لوٹا دیا اور پھر (کسی موقعہ پر) انہوں نے نکلنے کی اجازت مانگی تو اس وقت تم کہہ دینا نہ تو تم میرے ساتھ کبھی نکلو اور نہ کبھی میرے ساتھ ہو کر دشمن سے لڑو تم نے پہلی مرتبہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ (گھروں میں) بیٹھے رہو

جب آپ لوٹ کر واپس آئیں گے تو یہ لوگ آئندہ شامل ہونے کے وعدے کریں گے : 110: زیر نظر آیت ایک پیش گوئی کے طور پر کہی گئی جو بالکل سچ ثابت ہوئی۔ فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! جب آپ لوٹ کر مدینہ واپس جائیں گے تو یہ اجازت طلب کرنے والے آپ کے پاس لوٹ کر آئیں گے اور کہیں گے کہ اس سفر میں تو ہم ان حالات کے تحت ساتھ نہ دے سکے لیکن آئندہ اگر ایسا موقع آیا تو ہم صف اول میں ہوں گے اور ان کا ایسا کہنا محض آپ کو خوش کرنے کے لئے ہوگا ان کی نیت میں جہاد کرنا مطلق نہیں ہے اس لئے آپ ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیجئے کہ پہلے تم نے جان بوجھ کر میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور اب تمہیں بطور سزا جہاد کی توفیق سے محروم کردیا گیا ہے بلکہ اب اگر لشکر اسلام کہیں جہاد پر روانہ ہوا اور تم جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ بھی کرو گے تو کبھی کامیاب نہ ہوگے اور یہ بات تم کو شہ دینے کے لئے کہی گئی ہے اور وقت آنے پر یہ بالکل سچی ثابت ہوگی اس لئے کہ کہا جاتا ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے اور جن کے سال گنے گئے ہوں ان کے دانت دیکھنے کی ضرورت کیا ؟ ہم جو بات کہہ رہے ہیں تم اس کو غلط کر کے دکھاؤ لیکن ایسا ممکن ہی کب ہے ؟ تم نے پہلی مرتبہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو اب پیچھے رہ جانے والوں ہی میں رہو گے : 111: آیت کے اس حصہ نے مزید تاکید کردی کہ یہ جو وعدہ کریں گے اور باتیں بنائیں گے وقت آنے پر ان کو کبھی پورا نہیں کرپائیں گے۔ اگر انہوں نے پہلی مرتبہ عذر گھڑ لئے ہیں اور پھر ان میں اپنے خیال سے کامیاب بھی رہے تو آئندہ جب وقت آئے گا اس سے زیادہ عذرات پیش کریں گے اور وہ عذرات بھی پہلے عذروں کے مقابلہ میں زیادہ سخت ہوں گے کیونکہ اب وہ عذر گھڑنے میں ماہر ہوچکے ہوں گے۔ مع الخالقین ای مع الفاسدین یعنی فساد بپا کرنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہے کہ تم سب ایک ہی جنس کے لوگ ہو جن کو منافق کہا جاتا ہے تم کرتے کچھ ہو اور کہتے کچھ ہو اور ہم کو سو فی صد یقین ہے کہ تم جو کہو گے وہ کبھی نہیں کرو گے اس لئے چونکہ تم کہہ رہے ہو کہ آئندہ وقت آیا تو پیش پیش ہوں گے اس لیے تم کو اس کہے کے مخالف کرنا ہے اور وہ یہی کہ تم کبھی بھی نہیں نکل پاؤ گے اور اس کے متعلق ہم نے کہا کہ تمہارے سے توفیق ہی سلب کرلی گئی ہے۔ ڈھول کی طرح تم جتنا بجو گے اتنے ہی اندر سے خالی ہوگے اور ڈھول کا خاص وصف یہی ہے۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور ان میں سے کوئی مر جائے تو تم کبھی اس کے جنازہ پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے رہنا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اسی حالت میں مرے کہ ہدایت سے باہر تھے

جس طرح ان کی نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت ہے اسی طرح ان کی قبر پر کھڑا ہونا بھی : 112: منافقین نے جب جنگ تبوک میں شرکت نہ کر کے اپنے آپ کو آشکارا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام ﷺ کو حکم دیا کہ اب آپ بھی ان کے ساتھ پہلے کی سی نرمی روا نہ رکھیں بلکہ ان کو اچھی طرح واضح طور پر ظاہر ہونے دیں کہ سارے لوگ ان کے چہروں کو شناخت کرلیں اور یہ بھی کہ آئندہ ایسے لوگوں کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیں اور ان کی قبر پر کھڑے ہو کر ان کے لئے دیا بھی نہ کریں اس لئے کہ ان کی گمراہی اور ان کے نفاق نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا کہ رحمت الٰہی کبھی ان کی طرف مائل ہو اور جب رحمت الٰہی ان کی طرف کبھی مائل ہی نہ ہوگی یہ فیصلہ الٰہی ہے تو اللہ کے فیصلے کے خلاف اس سے اپیل کرنے کا آخر فائدہ ؟ کیا اللہ کبھی اپنے عہد کا خلاف بھی کرے گا ؟ ہرگز نہیں زمین و آسمان اپنی جگہ سے ٹل سکتے ہیں لیکن فیصلہ الٰہی کبھی نہیں بدل سکتا۔ نہ اللہ خود بدلتا ہے اور نہ کسی کو بدلنے دیتا ہے۔ وہ موم کی ناک نہیں کہ آپ جدھر چاہیں موڑ لیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرنے والا ابدی دوزخی ہے ، یہ فیصلہ الٰہی ہے : 113: اسلام کے اندر رہ کر مختلف مذہبی پارٹیاں تو پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ بذاتہ کفر و شرک ہے اس لئے اسلام فی نفسہ ایک خاص گروہ اور پارٹی ہے اور جو بھی اس سے الگ ہوگا وہ عنداللہ الگ کردیا جائے گا اس چیز کی ہدایت زیر نظر کی گئی ہے اس لئے پہل استغفار کی ممانعت ہوئی ، پھر نماز جنازہ سے روکا گیا اور پھر استغفار کے لئے اس کی قبر پر کھڑے ہونے سے بھی منع کردیا گیا اور اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ اپنے مسلم اعزہ کے لئے دعائے استغفار کرنے اور ان کی نماز جنازہ ادا کرنا اور ان کی قبر پر دعائے استغفار کے لئے حاضر ہونا جائز اور درست ہے لین ان سے دعائے استغفار کرانا اور محض زیارت کے لئے ان کے پاس حاضر ہونا اور اس طرح ان کی قبروں پر حاجت و ضرورت طلب کرنے کے لئے کھڑے ہونا حرام فعل ہے۔ پھر لوگوں کی قبروں پر پھول چڑھانا ان سے مغفرت طلب کرنے کے لئے ان کی قبروں پر جانا ، اپنی حاجات طلب کرنے کے لئے ان کی قبروں پر جانا یہ سب گناہ کے کام ہیں لیکن افسوس کہ اس وقت مسلمانوں کی اکثریت ہر وہ قول ہر وہ فعل کرنے کی عادی ہوچکی ہے جس کی اسلام میں ممانعت ہے اور ہر وہ قول و عمل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کرے گی جس کے کرنے کی تائید آئی ؟ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ لوگوں نے اپنی خواہشات اور دل لگیوں کا نام اسلام رکھ لیا ہے اور پھر ان رسومات پر اس طرح جم گئے ہیں کہ گویا یہی اسلام کی جان ہیں اور پھر ضد ہی ضد میں اتنے پکے ہوگئے ہیں کہ اسلام ان کو کفر نظر آنے لگا ہے اور کفر ان کی نظروں میں عین اسلام ہے۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور ان کی اولاد پر تمہیں تعجب نہ ہو یہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ چاہتا ہے مال و اولاد کے ذریعے انہیں عذاب دے اور ان کی جان اس حالت میں نکلے کہ سچائی کے منکر ہوں

اے پیغمبر اسلام یا اے مخاطب ! ان کے مال و اولاد پر تم کو تعجب نہ ہو : 114: اس میں تعجب کی بات کیا ہے ؟ تعجب کی بات یہ کہ جب یہ لوگ مبغوض و مردود ہیں تو ان پر یہ نعمتیں کیوں ؟ فرمایا ان کی آزمائش کے لئے یہ مال ، اولاد ان کو مزید بےراہ کرتی ہے یا سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے لیکن اکثر ہوتا ایسا ہی ہے کہ اللہ کے انعامات ان کے لئے ترقی و عروج کی کمندیں نہیں بلکہ غلامی ان کے پھندے ثابت ہوتے ہیں اور یہ لوگ اللہ کے انہی انعامات کے باعث دنیا میں بھی اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی موت بھی کفر و نفاق ہی پر ہوتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مال و اولاد کی قدر و قیمت بھی ایمان ہی کے ساتھ ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ مال بھی بخشے اور اولاد سے بھی نوازے وہ ملت کے لئے بڑی دولت ہیں اگر ان کو ایمان و اخلاص بھی نصیب ہوجائے تو ہر یہی خواہ ملت ایسے لوگوں کو ادر و قیمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس لئے کہ جان و مال دونوں سے اسلام کی جو خدمت ان کے امکان میں ہوتی ہے دوسروں کے امکان میں نہیں ہوتی۔ ان منافقین میں بھی ایسے صاحب مال و اولاد موجود تھے جو اسلام کی بڑی خدمت اور آخرت میں بڑے مراتب حاصل کرسکتے تھے اور نبی اعظم و آخر ﷺ بھی دل سے متمنی تھے کہ وہ لوگ ایمان و اخلاص سے بہرہ ور ہوں کہ اپنی ان نعمتوں کا صحیح حق ادا کریں اور اللہ کے ہاں مراتب عالیہ حاصل کریں لیکن سارے جتن کرنے کے بعد بھی جب یہ لوگ راہ راست کی طرف نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ سے فرامیا کہ متعجب نہ ہوں یہی انعامات الٰہی ان لوگوں کے لئے باعث رحمت ہونے کی بجائے باعث زحمت اور لعنت ہوں گے۔ مال و اولاد کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا ہے کہ انسان زیادہ تر انہی کے مفاد کی خاطر ایمان کے تقاضوں سے منہ موڑ کر منافقت اور فسق و نافرمانی میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی یہی چیزیں اچھے بھلے انسانوں کو بھی بےعقل اور ناسمجھ بنا کر رکھ دیتی ہے اور پھر خاص ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو پہلے ہی راہ راست پر نہیں بلکہ فسق و فجور پر ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس میں مزیدبڑھ جائیں گے اور اپنی آخرت کو برباد کرلیں گے اور بجائے ایک فائدہ مند چیز کے ان کے لئے نقصان ہی کا باعث ہوگی۔ زیر نظر آیت کے پیچھے اس سورت کی آیت 55 کے طور پر بھی گزر چکی ہے لہٰذا وہاں سے بھی ملاحظہ فرمالیں۔ یعنی حاشیہ 77 کو دیکھ لیں اور دوسری جگہ مسلمانوں کو چوکنا کیا گیا ہے کہ دیکھو : ” تم لوگوں کو تمہارے مال اور اولادیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں جو لوگ ایسا کریں گے وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ “ (المنافقون 63 : 9) منافقین کے لئے مال و اولاد اللہ کے عذاب کا باعث ہیں : 115: ” اللہ یہ چاہتا ہے “ کہ مال و اولاد کے ذریعہ انہیں عذاب دے اور ان کی جان اس حالت میں نکلے کہ وہ سچائی کے منکر ہوں ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے اس ارادے اور چاہت سے مراد اس کی مشیت تکوینی ہی ہو سکتی ہے اس جگہ دنیا میں ان کے لئے جس عذاب کا حوالہ ہے اس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسول اللہ ﷺ کے مکذبین کے لئے مقرد ہوچکا تھا کہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے اور ان کو اس دنیا میں چھپنے کے لئے جگہ بھی نہیں ملے گی اور پھر انجام کار وہ وقت آیا کہ فی الواقعہ جو اللہ نے فرمایا تھا وہ ہو کر رہا اور انہی مالوں اور اولادوں کے باعث دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے۔ اس جگہ یہ مضمون تاکید کے لئے آیا ہے ورنہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا پیچھے اس سورت کی آیت 55 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة اس بارے میں اترتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ ہو کر جہاد کرو تو جو لوگ ان میں مقدور والے ہیں وہی تجھ سے رخصت مانگنے لگتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجئے کہ گھر میں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہیں

جب کوئی حکم نازل ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ جہاد کرو تو ان پر شاق گزرتا ہے : 116: زیر نظر آیت میں لفظ ” سُوْرَةٌ “ اپنے اصطلاحی معنوں میں نہیں آیا یعنی اس سے پوری سورت مراد نہیں ہے بلکہ جہاد کا حکم مراد ہے یعنی جب بھی کبھی ان کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان لوگوں کا ماتھا ٹھنکتا ہے اور تیوریاں چڑھ جاتی ہیں اور بجائے اس کے کہ یہ لوگ جہاد کی تیاری کریں یہ بہانے تراشنے کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کردیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر جو لوگ ان میں سے صاحب مال و جائیداد ہیں اور اولاد کی بھی کثرت رکھتے ہیں سب سے سب بیمار پڑجاتے ہیں اور پھر کوئی ان میں سے ذہنی مریض ہوجاتا ہے اور کوئی جسمانی ، کسی کو کوئی تکلیف پڑجاتی ہے اور کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور پھر عذر تراشنے شروع کردیتے ہیں اور جب تک آپ اس جہاد کی طرف نکل نہیں جاتے ان کی حالت دیدنی ہوتی ہے اور آپ ﷺ سے رخصت طلب کرنے میں بھی یہ لوگ بہت ماہر ہیں اور آپ بھی ایسوں کو رخصت دے کر بڑی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہیں کہ نہ بانس رہے گا نہ بانسری بجے گی۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

اُنہوں نے پسند کیا کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی پس یہ کچھ سمجھتے نہیں

جس سنگت کو انہوں نے پسند کیا وہ اسی کے قابل تھے : 117: ان کے ڈھانچے تو مردوں کے سے نظر آتے ہیں اور اتنے اتنے بڑے جو ان دکھائی دیتے ہیں ان کو دیکھو رشک آتا ہے لیکن ان کے اندر دل مردوں کے نہیں بلکہ عورتوں کے ہیں اس لئے انہوں نے مردوں کے سے کام کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ عورتوں ہی کی صحبت اختیار کرنے کی کوشش کی اور اس بات پر راضی ہوئے کہ جب کبھی جہاد کا حکم سنا تو دل ہار کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے مرد ہو کر غازیوں اور مجاہدوں کی ہم سفری اور ہم رکابی کی بجائے اپنے لئے یہی پسند کیا کہ عورتوں کی طرح گھروں میں بیٹھیں اور ان کی اس مردانگی کی موت کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ کہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا کہ اب نہ وہ کوئی صحیح بات سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی عزم و ہمت سے کام لے سکتے ہیں۔ یہ کاغذی گھوڑے ہیں جن کے اندر بھس بھرا ہے اس لئے وہ کبھی اپنی حیثیت کو نہیں سمجھ سکیں گے اور ایک وقت آئے گا کہ ان کی دنیوی زندگی کی تاؤ اس طرح ڈوب جائے گی اور یہ مہر زدہ لوگ احکام جہاد کی مصلحتوں اور حکمتوں کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن اللہ کے رسول نے اور انہوں نے جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے جہاد کیا یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے نیکیاں ہیں اور یہی ہیں کہ کامیاب ہوئے

ایمان والے لوگ کبھی جہاد سے جی نہیں چرائیں گے۔ 118: اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے سچے شیدائیوں اور پکے اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان ہو رہا ہے جس سے مقصود مخلصین کی تحسین بھی ہے اور منافقین کو غیرت دلانا بھی کہ مرد ہو کر نامردوں کے سے کام کرتے ہو۔ ذرا دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہونے والوں کی طرف بھی آنکھ بھر کر دیکھو اور ان کی نظروں سے نظریں بھی ملا لو شاید تمہیں حیاء آجائے اور خربوزے کو دیکھ کر ہی خربوزہ رنگ پکڑنے لگے۔ آج کل کے ” غلامان رسول “ ، ” عاشقان رسول “ ، ” محبان رسول “ ، اور ” غلامان مصطفیٰ “ کہلانے والوں کو بھی غور کرنا چاہئے کہ حقیقت میں محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں ، عاشقوں ، محبوبوں کا مقام کیا ہے اور ان کے کام کیا ہیں ؟ اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟ کیا خالی نام رکھ لینے سے کبھی حقیقت بھی بدل جایا کرتی ہے ؟ کیا گدھے کو شیر کی کھال پہنا کر شیر بنایا جاسکتا ہے ؟ ذرا غور کرو کہ ایمان والوں کے ساتھ نبی رحمت ﷺ کا ذکر آنا ان کی ہمت افزائی اور قدر افزائی کے لئے کتنا بڑا اعزاز ہے جو مسلمانوں کی فلاح و کامیابی کا باعث ہوا۔
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اس لیے وہ کبھی خشک ہونے والے نہیں) یہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ ہے بہت بڑی فیروزمندی

دنیا تو دنیا ہی ہے اللہ نے ان کے لئے آخرت میں کیا کچھ تیار کر رکھا ہے : 119: دنیوی زندگی کا ایک اپنا مقام ہے لیکن آخر وہ ہے ہی کتنی ؟ فرمایا ان کی دنیوی زندگی میں جو فلاح و کامیابی ہے اس کے مقابلہ میں ابھی جو کچھ آخرت کی مہمانی کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ ایسا ہے کہ کسی آنکھ نے اس کو دیکھا اور کسی کان نے اس کو سنا اور کسی دل نے اسے ابھی تک محسوس نہ کیا ہے کیونکہ وہ محسومات کی چیزیں نہیں اور اصل کامیابی تو وہی ہے جو آخرت میں ان کے حصے میں آئے گی جس کو بیان کرنے کے لئے نہ الفاظ مل سکتے ہیں اور نہ ہی وہ قلم کی نوک پر آسکتے ہیں اور کتنے بخت اور ہیں وہ لوگ جن کا ذکر قرآن کریم جگہ جگہ انہی استعارات میں کر رہا ہے۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور اعرابیوں میں سے عذر کرنے والے تمہارے پاس آئے کہ انہیں بھی اجازت دی جائے اور جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا وہ گھروں ہی میں بیٹھے رہے سو معلوم ہو کہ ان میں سے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی انہیں عنقریب عذاب دردناک پیش آئے گا

شہر تو شہر دیہاتوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو عذر پیش کرتے ہیں : 120: ” الْاَعْرَابِ “ اعرابی کی جمع ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو شہروں کی بجائے دیہاتوں یا جھونپڑیوں میں رہنے والے ہیں یعنی صحرائی علاقوں کے بادیہ نشین جو شہروں کے مقامات میں آباد تھے۔ معذرین وہ لوگ ہیں جو عذر تو نہ رکھتے ہوں لیکن اس کے باوجود عذر پیش کریں (اذہری لغوی ، لسان العرب) معتذر اور معذر میں فرق یہ ہے کہ معتذر وہ ہے کہ جس کو ممکن ہے کہ عذر ہو اور اس طرح یہ بھی کہ کوئی عذر نہ ہو یعنی جس پر عذر کا شک ہو کہ شاید عذر اس کو ہے یا نہیں ہے لیکن معذر کے لئے یقین ہے کہ اس کو فی الواقعہ کوئی عذر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ عذر پیش کرتا ہے۔ (تاج) یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر لوگوں کی دیکھا دیکھی اسلام قبول کرلیا لیکن ابھی تک ان کے اندر اسلام رچا بسا نہیں تھا اور دوسرے یہ کہ مرکز سے دوری کے باعث ان کی تعلیم و تربیت کا بھی صحیح بندوبست نہ تھا اس لئے ” الْاَعْرَابِ “ کا ترجمہ گنوار لوگ بھی کیا جاتا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” الْاَعْرَابِ “ نسل اسماعیل (علیہ السلام) کو کہا جاتا تھا لیکن بعد میں اس لفظ سے مراد صر دیہاتیوں پر ہونے لگا۔ اس طرح وہ دیہاتی لوگ جو نبی کریم ﷺ کے پاس کوئی عذر نہ ہونے کے باوجود عذر لے کر آئے انہیں بھی آپ ﷺ نے اجازت دے دی اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا یہ سمجھتے ہوئے اجازت دے دی کہ یہ لوگ جو اپنی بات کے سچے نہیں اگر یہ جماعت میں شامل ہوگئے تو راستے میں بھی اور میدان جنگ میں پہنچ کر بھی یہ کسی نہ کسی تکلیف کا باعث ہو سکتے ہیں اس لئے ان کا نہ جانا جانے سے بہر حال بہتر ہے اور خصوصاً جب وہ خود جانے کو تیار نہیں تو ہم ان کو لے جا کر کیا کریں گے۔ گویا ان لوگوں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی منافقت اختیار کرلی : 121: فرمایا : ” ان میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی انہی عنقریب عذاب دردناک پیش آئے گا۔ “ کہ دنیا میں وہ سارے مسلمانوں کی نظروں سے گرجائیں گے اور آخرت میں دوزخ سے دوچار ہوں گے اور وہی ان کی کھاری جلا کر رکھ دے گی اور اس سے وہی لوگ نجات حاصل کرسکیں گے جو اس دنیوی زندگی میں اپنا آپ سنبھل گئے اور توبہ کر کے یہاں سے رخصت ہوئے اور جو اس حالت کفر میں مرے ان کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہوگا جس سے مخصلی ممکن ہی نہیں۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

ناتوانوں پر ، بیماروں پر اور ایسے لوگوں پر جنہیں خرچ کے لیے کچھ میسر نہیں (کچھ گناہ نہیں) ہے (اگر وہ دفاع میں شریک نہ ہوں) بشرطیکہ اللہ اور اس کے رسول کی خیرخواہی میں کوشاں رہیں (کیونکہ ایسے لوگ نیک عمل سے الگ نہیں ہوتے) پھر ایسے نیک عملوں پر الزام کی کوئی وجہ نہیں اللہ بڑا بخشنے والا رحمت والا ہے

وگ لوگ جو فی الواقعہ معذور ہیں یعنی بیمار اور کمزور وہ ایسے ہی مستثنیٰ ہیں : 122: اس آیت میں معذرین اور معذورین میں فرق واضح فرما دیا تاکہ نہ تو ہر بہانہ باز اپنے کو معذور بنا سکے اور نہ کسی واقعی معذور پر نفاق کی تہمت لگائی جاسکے۔ فرمایا وہ لوگ جہاد کے لئے تو بےقرار ہیں لیکن اپنی ناداری و مفلسی کے باعث سواری کا بندوبست کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اور جب آپ ﷺ کے پاس سواری کی درخواست لے کر آتے ہیں تو آپ ﷺ بھی ان کو کہتے ہیں کہ میرے پاس بھی اس وقت سواری کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ اس طرح وہ حقیقی طور پر معذوریں ہیں۔ ان وجوہ کی بناء پر اگر یہ جہاد میں شریک نہ ہو سکیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں ہے بشرطیکہ یہ اللہ کے رہیں اور اس کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین کے خیرا خواہ ہوں اور وہ لوگ بھی ان میں شامل ہیں جو مریض ہیں یا اس قدر بوڑھے ہوچکے ہیں کہ اب جنگ نہیں لڑ سکتے گناہ سے بری صرف وہی لوگ ہوں گے جو اپنی کمزوری ، بیماری یا غربت کے سبب سے میدان جنت تک نہیں پہنچ سکے اور اپنے گھروں اور بستروں پر بیٹھے بیٹھے اپنے مالک حقیقی سے دعائیں کر رہے ہیں اور اپنی محرومی پر ان کی آنکھیں اشک بار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے لوگ معذور ہیں اور ان کے عذر قبول کر لئے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ اجر وثواب میں برابر کے حق دار ہیں اور وہ اپنے حق سے محروم نہیں کئے جاسکتے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا بہت ہی مہربان ہے۔
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

نہ ان لوگوں پر کچھ گناہ ہے جن کا حال یہ تھا کہ تیرے پاس آئے کہ ان کے لیے سواری بہم پہنچا دے اور جب آپ ﷺ نے کہا کہ میں تمہارے لیے کوئی سواری نہیں پاتا تو وہ لوٹ گئے لیکن ان کی آنکھیں اشکبار ہو رہی تھیں کہ افسوس ہمیں میسر نہیں کہ اس راہ میں کچھ خرچ کریں

وہ معذور جو اپنے عذر پر اشک بہا رہے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس بھی اشک شوئی کی کوئی چیز نہیں : 123: یہ وہ زمانہ ہے کہ جب غزوہ تبوک کی تیاری مکمل طور پر شروع ہوگئی تو وہ غریب و نادار مسلمان جن کے دلوں میں راہ حق میں جان دینے کے ہزاروں ارمان مچل رہے تھے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم دل و جان سے جہاد کے لئے تیار ہیں لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہم نادار ہیں ، اتنی طاقت نہیں کہ سواری کا بندوبست کریں ، ازراہ مہربان کوئی سواری کا بندوبست فرمادیں کہ ہم بھی آپ کے ساتھ شریک جہاد ہو سکیں اور پھر آپ نے جب ان کو یہ بتایا کہ بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں کہ تمہاری سواری کا بندوبست کیا جاسکے تو انہیں اتنا صدمہ پہنچا کہ ان کی آنکھیں مسلسل اشکبار ہوگئیں اور ان کو اپنی ناداری کا جتنا غم آج ہوا زندگی بھر کبھی اتنا نہیں ہوا تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ دل میں خوش ہوتے کہ جان چھوٹی سو لاکھوں پایا اور خیال کرتے کہ آج افلاس بھی ہمارے کام آگیا۔ الٹا ان کی آنکھوں نے آنسو بہانے شروع کردیئے کہ کاش ! ان کے پاس سواری کے لئے آج کوئی چیز موجود ہوتی تو وہ اس کو خرچ کردیتے۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

سارا الزام تو در اصل ان پر ہے جو تجھ سے اجازت مانگتے ہیں حالانکہ مالدار ہیں انہوں نے پسند کیا کہ گھروں میں رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہیں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ، پس وہ جانتے بوجھتے نہیں ......

سارا گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت طلب کرتے ہیں حالانکہ ان کو کوئی عذر نہیں : 124: سارے کا سارا گناہ تو ان کو رچشموں پر ہے جو دیکھتے ہوئے ان کو دیکھے ہو کر رہ گئے ہیں اور آپ ﷺ سے اجازت طلب کرنے کے لئے آرہے ہیں جب کہ کوئی عذر اجازت طلب کرنے کا ان کے پاس نہیں اور وہ چاہتے تو خود بھی شریک ہوتے اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شریک کرسکتے تھے یعنی ان کی سواری کا بندوبست بھی کرسکتے تھے لیکن وہ جہاد سے جی چرا کر گھر بیٹھ گئے اور اجازت مانگی تو بھی اس طرح کہ شاید وہ اس قابل بھی نہ تھے کہ اجازت طلب کرنے کے لئے حاضر ہوں۔ انہوں نے بہت بڑا کام کیا کہ طاقت نہ ہونے کے باوجود وہ کسی کے سہارے اجازت مانگنے کے لئے حاضر ہوگئے لیکن جب آپ ﷺ تیاری مکمل کر کے مدینہ سے نکل گئے تو یہ لوگ بغلیں جانے لگے اور ان کی خوشیوں کی کوئی انتہا نہ رہی کہ انہوں نے اپنی معذوری کا اظہار کر کے اجازت نامہ حاصل کرلیا۔ فرمایا اصل حقیقت بھی سنتے جائیے کہ : ” اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کچھ نہیں جانتے اور یہ جاگتے ہوئے سوگئے ہیں ان کو جگانا بہایت مشکل ہے اس لئے ان کو جگانے کی ضرورت بھی نہیں۔ “ سارا گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت طلب کرتے ہیں حالانکہ ان کو کوئی عذر نہیں :
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو وہ آئیں گے اور تمہارے سامنے معذرتیں کریں گے ، تمہیں چاہیے کہ اس وقت کہہ دو کہ معذرت کی باتیں نہ بناؤ اب ہم تمہارا اعتبار کرنے والے نہیں اللہ نے ہمیں پوری طرح تمہارا حال بتلا دیا ہے اب آئندہ اللہ اور اس کا رسول دیکھے گا تمہارا عمل کیسا رہتا ہے اور پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو ظاہر وپوشیدہ ہر طرح کی باتیں جاننے والا ہے پس وہ تمہیں بتلائے گا کہ کیا کچھ کرتے رہے ہو

تمہاری واپسی پر یہ لوگ پھر چاپلوسی کے لئے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوں گے : 125: یہ بغلیں بجانے والے پہلے تو یہ کہا کرتے تھے کہ اب ان شیروں میں سے ایک بھی واپس آنے والا نہیں یہاں سے یہ نکلے تو بس گئے کچھ راہ کی نذر ہوجائیں گے اور جو بچیں گے ان کو رومی ہڑپ کر جائیں گے۔ ارے رومیوں اور پارسیوں کے خلاف یہ لوگ کیا جنگ کریں گے ۔ سانپ کی موت آتی ہے تو وہ خود نکل کر چورا ہے کی طرف آجاتا ہے اور یہی حال ان لوگوں کا ہونے والا ہے لیکن جب آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی بخیر و عافیت واپس آگئے تو راستے ہی میں ان معذرین کی خبر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ ایمان والوں کو سنادی کہ یہ منافق اب تمہارے پاس اپنے اخلاص کا یقین دلانے کے لئے اور شرکت نہ کرسکنے کی تاویلیں پیش کرنے کے لئے تمہارے پاس جوق در جوق آنا شروع ہوجائیں گے لیکن خیال رہے کہ تم انہیں صاف صاف سنا دینا کہ اس مکر و فریب کو اب رہنے دو ۔ اللہ نے ہمیں تمہارے سارے کرتوتوں سے آگاہ کردیا ہے اور تمہاری چالاکیوں کو ہم اچھی طرح سجھ چکے ہیں اور اب ہم تمہاری باتوں میں آنے والے نہیں اور یہ بات گویا رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو بطور پیش گوئی کہی جا رہی ہے کہ جب لشکر اسلام واپس مدینہ پہنچے گا تو منافقین اپنے اپنے عذرات لے کر حاضر ہوں گے اور تم خیال رکھنا مومن ایک ہی بل سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا اور پھر یہ بات یعنی ان عذرات کو قبال کرنا نادانی ہے۔ اس لئے آپ ﷺ ان سے دو ٹوک کہہ دیں کہ بھائی یہ معاملہ اب براہ راست تمہارا اور تمہارے اللہ کا ہے ہم کو اس نے تمہارے عذرات قبول کرنے سے منع فرمایا ہوا ہے وہی تم کو بتائے گا کہ اب تم کو کیا کرنا ہے ؟ یہ لوگ اپنے عذرات کو پیش کرتے وقت قسمیں کھ کھا کر چھوٹ کو سچ کر دکھاتے ہیں :
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم لوٹ کر ان سے ملو گے تو ضرور یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ ان سے درگزر کرو سو چاہیے کہ تم ان سے درگزر ہی کرلو ، (یعنی رخ پھیر لو) یہ ناپاک ہیں ان کا ٹھاکانا دوزخ ہوگا ، اس کمائی کا نتیجہ جو یہ (اپنی بدعملیوں سے) کماتے رہے

126: جیسا کہ آپ پچھلے بڑی تفصیل سے پڑھ چکے کہ منافق کی علامات میں سے ایک علامت اس کے جھوٹ بولنے کی بھی ہے اور وعدہ خلافی کرنے کی بھی اب تمہارے پاس ایک اور صرف ایک راستہ باقی رہ گیا ہے کہ تم زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے اپنے اللہ کو اور اس کے رسول کو اخلاص و اطاعت کے ذریعہ راضی کرلو لیکن اس کے لئے وقت خرچ ہوگا اور اگر تم نے کوئی عملی اقدام کیا تو تمہاری توبہ کا حال سب لوگوں پر کھل جائے گا اور اللہ تو پہلے ہی تمہاری ہر حرکتت سے اچھی طرح واقف ہے کہ تم رفع الوقتی کر رہے ہو یا فی الحقیقت تمہارے دلوں میں کچھ تبدییہ آئے گی۔ اس طرح تمہیں ایک ایک بات پر دس دس قسمیں کھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ الٹا اس سے تمہارے نفاق کی پختگی واضح ہوتی رہے گی۔ ایک جھوٹی بات کو ہزار قسمیں بھی سچ نہیں بنا سکتیں اور یہ ہمارے پاس تمہارے عذرات سننے کا کوئی وقت نہیں تم اپنے کام کرو اور ہمیں اپنا کام کرنے دو ۔
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ ان سے راضی ہوجاؤ سو اگر تم راضی بھی ہوگئے تو اللہ ان سے کبھی راضی ہونے والا نہیں جو (دائرہ ) ہدایت سے باہر ہوگئے ہیں

یہ قسمیں کیوں کھاتے ہیں ؟ اس لئے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ : 127: فرمایا یہ دفع الوقتی چاہتے ہیں ان کو کوئی مجبوری لاحق نہ تھی اور نہ ہے لیکن یہ حلف اٹھا کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کو فلاں فلاں مجبوری تھی اور تم اس طرح سمجھ لو کہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان سے کبھی راضی نہیں ہوگا کیونکہ یہ لوگ صحیح معنوں میں ایمان کی حالت سے نکل چکے ہیں اور یہ مسئلہ علم الٰہی کا ہے پھر جب علم الٰہی میں موجود ہے کہ یہ دل کے کھوٹے ہیں تو آخر اللہ ان سے راضی کیوں گا ؟ اس آیت نے بھی رسول اللہ ﷺ کے غیب جاننے کی نفی فرمادی اس لئے ہمارے ان بھائیوں کو اس پر غور کرنا چاہئے جو دن رات صرف آپ ﷺ کے غیب جاننے کی دلیلیں گھڑتے رہتے ہیں اور پھر ان کا مقصد بھی یہ دلیلیں گھڑ کر پیش کرنے سے محض اپنی اختراعی اور بناوٹی حالت کو قائم رکھنے کے لئے ہے تاکہ اپنی پارٹی قائم رکھ کر پارٹی سے وہ فوائد حاصل کرتے رہیں جو پارٹی ہی کے ساتھ وابستہ ہیں خواہ وہ پارٹی حق پر قائم ہو یا ناحق پر تشکیل پائی ہو جیسا کہ اس وقت ساری سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کا حال ہے کہ ان کے پاس حق نام کی کوئی چیز مشکل ہی سے ہوگی تاہم وہ پارٹیوں کے باعث وہ فوائد حاصل کر رہے ہیں جو کسی پارٹی کے تشلیل پانے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ گویا اس وقت اپنا دنیوی حق وصول کرنے کے لئے بھی کسی نہ کسی دنیوی پارٹی کے ساتھ وابستہ ہونا ضروری ہے خواہ وہ کنجروں اور ہیجڑوں ہی کی کیوں نہ ہو۔ جس شخص میں کچھ بھی صلاحیت موجود ہے کہ وہ چند آدمی خواہ وہ ڈوم ڈانگری ہی کیوں نہ ہوں اکٹھے کرسکتا ہے وہ ان کو اکٹھا کر کے خود کا لیڈر ہو کر اپنے لئے اور اپنی پارٹی کے لئے اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر جو چاہے کر دکھائے اگرچہ انسانیت نام کی کوئی چیز اس میں موجود نہ ہو بلکہ اس ملک عزیز میں یہی کچھ ہو رہا ہے جس سے مخصلی کی کوئی صورت دود دود تک نظر نہیں آتی۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

اعرابی کفر [ و نفاق میں سب سے زیادہ سخت ہیں اور اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کی نسبت سمجھا جائے دین کے ان حکموں کی انہیں خبر نہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیے ہیں اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

اعرابی کفر و نفاق میں کچھ زیادہ ہی سخت ہوتے ہیں : 128: ” الْاَعْرَابِ “ اپنے کفر و نفاق میں کچھ زیادہ سخت ہوتے ہیں ، آخر کیوں ؟ اس لئے کہ وہ سخت مزاج بھی ہوتے ہیں اور تند خومزاج بھی ۔ اس آیت میں خاص دیہاتی عربوں کا ذکر کا گیا اور ان میں سے جو منافق تھے وہ اپنی منافقت میں مدینہ کے شہری منافقوں سے بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ آج ہماری زبان میں ان لوگوں کو اعرابی ہی کہا جاتا ہے وہ دھینگا مشتی کرسکتے ہیں ، عقل و فکر نام کی کوئی چیز ان کے پاس موجود ہی نہیں اور دھینگا مشتی کی ایک اپنی زبان ہے اور دھینگا مشتی وہی سمجھ سکتا ہے۔ عقل و فکر کی بات اس کے لئے نہایت دشوار ہوتی ہے۔ ود اور دو کو چار کہنے والا اس کو کبھی پسند نہیں آیا وہ ہمیشہ دو اور دو کو تین یا پانچ کہنے والے کے ساتھی ہوتے ہیں اور یہ بات ان کی سمجھ میں بہت جلد آجاتی ہے۔ دیوار بنانے کا ان کو قطعاً علم نہیں لیکن گرانا وہ خوب جانتے ہیں اور پھر جب گرانے پر آتے ہیں تو ہاتھوں سے نہیں ہمیشہ سینہ کے زور سے گرا دیتے ہیں۔ ان کی زبان اور ان کی لغت بالکل الگ تھلگ ہے۔ ان پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور اعرابیوں ہی میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے جرمانہ سمجھتے ہیں اور منتظر ہیں کہ تم پر کوئی گردش آجائے ، حقیقت یہ ہے کہ بری گردش کے دن تو انہی پر آنے والے ہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

اعرابی راہ الٰہی میں خرچ کرنے کو ایک تاوان سمجھتے ہیں : 129: یہ لوگ امور خیر میں جو کچھ کرتے ہیں مجبوراً اور سین پتھر رکھ کر کرتے ہیں اور تاوان سمجھ کردیتے ہیں۔ ایک آنہ خرچ کرنے کے لئے سو سو بار سوچتے ہیں اور کبھی آنہ کو دیکھتے ہیں کبھی اس کو جس پر خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی تجوریوں کے منہ کھلیں گے تو اس وقت جب ان کا کوئی عزیز یا بیٹا یا بھائی کسی کو قتل کر دے گا۔ کسی مقدمہ میں دھر لیا جائے گا ، چشم بدور اگر ایسا نہیں تو پھر اس وقت جب ان کے کسی بھائی یا بیٹے نے اغوا کرلیا یا کسی دوسرے کی زمین پر ناجائز قابض ہوگیا تو ان کاموں پر خرچ کرنے کو فخر سمجھیں گے اور اگر اس سے بھی بچ گئے تو پھر بیاہ شادی کی رسومات پر کنجروں اور شوموں کو لٹائیں گے اور اس رح ان کی انا کو تسکین ہوگی اور پھر سب سے بڑھ کر وہ مسلمانوں اور نیک لووں کو دیکھتے ہی جل بھن کر رہ جائیں گے۔ ان کو دیکھت ہی ان کے چہرے بل کھائیں گے اور خیال کریں گے کہ کوئی صورت ایسی ہو کہ یہ بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوجائے اور گردش زمانہ کی لپیٹ میں آجائے۔ اس معاملہ میں سر توڑ کوشش کریں گے اور اگر مشیت ایزدی سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچ گئی تو گویا ان کی عید ہوگئی ۔ ” الدَّوَآىِٕرَ 1ؕ “ دائرہ کی جمع ہے اور دائرہ وہ مصیبت ہے جس سے نجات نہ ہو سکے یا بہت ہی مشکل ہو۔ قرآن کریم نے فرمایا آپ ان سے کہہ دیجئے کہ دراصل زمانہ کے گردش تو ساری کی ساری آپ پر ہے کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ یہ اصول خداوندی ہے کہ وہ مجرموں کی ساری باتیں انہیں پر الٹ دیتا ہے اور یہی کچھ اس جگہ ہوا اور یہ پیش گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔ دن بدن اسلام کی فتح مندیوں میں وسعت ہوتی گئی اور منافقین کی حسرتیں دل دہی دل میں رہیں اور وہ ہر لحاظ سے ذلیل و خوار ہوئے اور آج بھی یہ حقیقت ہے کہ ہمیشہ کسی کا بد خواہ فاسد اور بدجیں خود ہی گرفتار بلا ہوتے ہیں بشرطیکہ انسان اللہ کی رضا کے لئے ذرا صبر و سکون سے کام لے۔