Ayah 9:16نئے مسلمانوں سے خطاب کہ تم کو بھی اب بغیر آزمائش نہیں چھوڑا جائے گا :
21: اس سنت اللہ کا بیان کہ یہاں جو بھی آتا ہے اس کی ہر طرح سے آزمائش کی جاتی ہے۔ پہلے ایمان لانے والوں کی آزمائش دکھ اور مصیبت میں مبتلا کر کے کی گئی جس امتحان میں کامیابی کے ناطے سے تم کو حکومت و سرداری مل گئی اور مشرکین کو تہس نہس کردیا گیا اب تمہارا امتحان سابقون الاولون کی قربانیوں کے نتیجہ میں حکومت و سرداری دے کر کیا جا رہا ہے اس لئے جب تک تم بھی اس آزمائش سے گزر کر یہ ثابت نہ کردو گے کہ واقعی تم اللہ اور اس کے رسول اور دین اسلام کو اپنی جان و مال اور اپنے بھائی بندوں سے جو ابھی تک مکہ میں ہیں اور ہجرت کر کے مدینہ نہیں آتے اور نہ ہی ہجرت کے ختم ہونے کا ابھی اعلان ہوا بڑھ کر عزیز رکھتے ہو اس وقت تک تم کو سچے مومن قرار نہیں دیا جاسکتا 0 یہ اعلان براءت گویا وہ کٹھیالی ہے جس میں ڈال کر کھرے اور کھوٹے مسلمانوں کو الگ الگ کردیا جائے گا۔ اس وقت تک تو تمہاری پوزیشن یہ ہے کہ اسلام چونکہ مومنین صادقین اور سابقین اولین کی جاں فشانیوں سے غالب آگیا اور ملک پر چھا گیا اس لئے تم مسلمان ہوگئے۔
زیر نظر آیت کی عبارت خود بتا رہی ہے کہ یہ خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے تھے اور ابھی تک ان کو کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا گیا تھا۔ ہاں ! ان کی آزمائش کا پورا وقت چونکہ قریب آرہا تھا اور مکہ فتح ہونے ہی والا تھا جس کے بعد مشرکین سے عام بیزاری کا اعلان کیا گیا لہٰذا ان نئے مسلمانوں کو آزمائش سے قبل چوکنا کیا جا رہا ہے کہ خبردار ! آنے والا وقت تمہارے اسلام کی صداقت کو واضح کردے گا اس لئے خیال رہے کہ کہیں تمہارے قدم ڈگمگا نہ جائیں و۔
رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کو ایک خصوصی ہدایت :
22: اور مزید بعد میں آنے والوں کو بھی آگاہ کردیا کہ مسلمانو ! اچھی طرح سن لو اور یاد رکھو کہ اہل اسلام کے سوا کسی دوسرے کو وَوَلِیْجَةً 1ؕ محرم راز ، دوست اور معتمد نہ بنانا۔ یہ اعلان رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لئے ایک کسوٹی ہے جو ان کے کھرے اور کھوٹے میں امتا از کرتی رہے گی کہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ایسے بےلاگ ہیں کہ انہیں اللہ ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے سوا کسی کی دوستی اور قرابت کی کوئی پروا نہیں اور کون لوگ دوسروں کی خاطر اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو نظر انداز کردینے والے ہیں۔ یہ امتحان ایک سنت اللہ ہے جس سے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو لازماً گزرنا پڑتا ہے اور اس وقت ہم بھی اسے گزر رہے ہیں اس لئے ہمارے سارے سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو اگر وہ سچے مسلمان ہیں تو غور کرنا چاہئے کہ کیا ہم اس امتحان میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں یا ہمارا ہر قدم ناکامی کی طرف اٹھ رہا ہے ؟ اور دن بدن ہم کامیابی کی راہ سے دور ہی ہوتے چلے جا رہے ہیں ؟ ہم پر تو یہ فتویٰ ہے کہ ہم تفسیر بالرائے کر کے دوزخ کا ایندھن بن رہے ہیں لیکن یہ فتویٰلگانے والوں کو کبھی اپنے متعلق بھر غور کرنا چاہئے کہ وہ خود کیا کر رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو امتحان کی اس کسوٹی پر پرکھ کر غث و سمین کو نایاں اور اہل ایمان کی تطہیر کرتا رہتا ہے اگر کسی کو گمان یہ ہے کہ آزمائش انہی لوگوں کے لئے تھی جو صدر اول میں موجود تھے اور ہم خالی امتحان کے دعویٰ ہی پر چھوڑ دیئے جائیں گے تو یہ خیال ایسا ہی ہے جیسے گدھے کے سر پر سینگ۔
اس جگہ یہ بات خاص طور پر نگاہ میں رہے کہ اللہ ، اس کے رسول اور اہل ایمان کا ذکر ایک ہی ساتھ ہوا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس میں کسی تقسیم کی گنجائش نہیں ہے جو شخص اللہ کا وفادار ہونے کا مدعی ہے اس پر لازم و ضروری ہے کہ وہ اس کے رسول اور اس کے ایمان لانے والوں کا بھی اپنے آپ کو وفادار ثابت کرے۔ اگر کوئی شخص اہل ایمان کے مقابلہ میں کسی اور کو اپنا دوست اور معتمد بناتا ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا بھی ساتھی نہیں ہے اگرچہ وہ کتنی ہی بلند آستگی سے اس کا دعویٰ کرے اور کسی بھی مسلمانوں کے گروہ کا قائد و رہنما اور امیر و ناظم اپنے آپ کو سمجھے۔ جب سے یہ ملک تقسیم ہوا اس وقت سے لے کر جن لوگوں کے ہاتھ میں زمام حکومت آتی تہی ان کا فرض تھا کہ وہ اس پر غور کرتے اور آج جن ہاتھوں میں حکومت ہے ان کا فرض ہے کہ وہ غور کریں اور آنے والے کل جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت جائے گی ان پر بھی فرض عائد ہوگا کہ وہ اس کا خیال کر کے اپنے متعلق خود فیصلہ کرلیں کیونکہ حکومت بدلتی آئی ہے ، بدلتی رہے گی لیکن کسوٹی نہ کبھی بدلی اور نہ ہی اب اس کے بدلنے کا کوئی امکان ہے۔ زیر نظر آیت کے مضمون کی مزید تشریح آیت 43 ، 44 میں آرہی ہے اور پیچھے تفسیر عورۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 118 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 9:17مساجد کے متولی ہونے کا حق اہل توحید کے سوا کسی دوسرے کو نہیں ہے :
23: اس وقت تک مسجد حرام یعنی بیت اللہ کی تعمیر و ترقی جن ہاتھوں میں تھی وہ مکمل طور پر شرک میں ڈوب چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا اور نبی کریم ﷺ سے ہجرت کے وقت جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوگیا تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے بیت اللہ اور مسجد حرام سے ان تمام بتوں کو نکال باہر پھینکا جن کی مشرکین عبادت کیا کرتے تھے او ضرورت اس بات کی تھی کہ جس طرح بیت اللہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا ہے اسی طرح باقی تمام رسومات سے بھی اس کو پاک کردیا جائے جو مشرکین نے محض رواج کے طور پر اپنا لی تھیں اور ان کے لئے اختراعی دلیلیں تھیں جن کا کوئی وجود موجود نہیں تھا مثلاً ننگے طواف کرنا اور قربانیوں کے خون کو بیت اللہ کی دیواروں پر ملنا ورغیرہ اس طہارت کی ایک اور صرف ایک ہی صورت تھی کہ مشرکین کا داخلہ مسجد حرام میں ممنوع قرار دیا جائے لیکن یہ بات اس دیئے ہوئ امان کے خلاف تھی اور معائدہ کی پابندی ہر حال میں ضروری تھی لہٰذا فتح مکہ کے دوسرے ہی سال اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت جب ابوبکر صدیق ؓ مدینہ طبیہ سے قائد حج بنا کر روانہ کردیئے گئے یہ آیات کریمات نازل ہوگئیں اور نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی ؓ کو اس مقصد کے لئے بیت اللہ روانہ کیا کہ منیٰ ، عرفات اور حرم بیت اللہ میں یہ اعلان کردیا جائے کہ آئندہ سال سے جاہلیت کی تمام رسوم کا خاتمہ کردیا جائے گا چناچہ نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق یہ آیات کریمات وہاں سارے مقامات پر پڑھ کر سنا دی گئیں اور اس کی مزید تشریح میں سیدنا علی ؓ نے یہ اعلان کیا کہ لا ئحجن بعد العام مشرک ولا یطوفن بلابیت عریان یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرسکے گا اور کوئی ننگا آدمی بیت اللہ کا طواف نہ کرسکے گا۔
زیر نظر آیت میں بھی یہی اعلان کیا گیا کہ ” مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کی مساجد کی تعمیر کریں کیونکہ مسجد صرف وہی جگہ ہے جو ایک اللہ وحدہ ، لا شریک کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہے اور کفر شرک توحید الٰہی کی ضد ہے وہ عمارت مسجد کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔ عمارت مسجد کا مطلب ظاہری در و دیوار کی تتعمیر کے سوا مسجد کی حفاظت اور صفائی وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے اور مسجد کی باقی تمام ضروریات کے پورا کرنے پر بھی اور عبادت کے لئے مسجد میں حاضر ہونے پر بھی بولا جاتا ہے اور عمرہ کو بھی عمرہ اسی نسبت سے کہا جاتا ہے کہ اس میں بیت اللہ کی زیارت اور عبادتت کے لئے حاضری ہوتی ہے۔ مشرکین مکہ بھی ان تینوں ہی معنوں میں اپنے آپ کو معماع بیت اللہ اور عمارت مسجد حرام کے ذمہ دار سمجھتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ مشرکین کو اللہ کی مساجد کی مارت کا کوئی حق نہیں ہے جب کہ وہ خود اپنے کفر و شرک کے گواہ ہیں ان لوگوں کے اعمال ضبط بلکہ ضائع ہوگئے اور وہ اس شرک پر قائم رہ کر ہمیشہ ہمیشہ آگ جہنم میں رہیں گے جہاں سے ان کا نکلنا ایسا ہی مشکل اور ناممکن ہے جیسا کہ سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا۔
” وہ خود اپنے کفر کا اعتراف کر رہے ہیں “ وہ زبان سے تسلیم کریں یا نہ کریں وہ اپنے مشرکانہ افعال و اعمال کے سبب گویا خود اپنے کفر و شرک کی گواہی دے رہے ہیں اور یہ وہ گواہی ہے جو زبان کی گواہی اور اقرار سے بھی بڑھ کر ہے۔ زیر نظر آیت کے اس فقرہ پر اچھی طرح طور و فکر کرنا چاہئے کہ آج بھی جن لوگوں کے اعمال و افعال ان کے کھلے شرک پر شہادتت دے رہے ہیں اگرچہ بزبان قال تسلیم نہ بھی کریم تو وہ اس کا اعتراف نہ کرنے سے بچ نہیں سکتے۔ اس لئے کہ ان کے اعمال و افعال بول بول کر گواہی دے رہے ہیں کہ یہ لوگ مشرک ہیں ۔ بلکہ بعض باتوں میں آج کل کے مشرک اس قت کے مشرکوں سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور ناموں کے سوا کسی چیز میں کوئی فرق نہیں اور اس غلط فہمی کا ذکر ہم بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں کہ یہ جو عوام میں مشہور و معروف کیا گیا ہے کہ وہ لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے اور آج کہیں بھی مسلمان کہلانے والوں میں یہ چیز نہیں پائی جاتی تو یہ صرف ایک دھوکا ، فریب ہے ، صرف بتوں کی پرستش نہ اس وقت کی جاتی تھی اور نہ آج اس وقت بھی پرستش صاحب بت کی ہوتی ہے اور آج بھی پرستش صاحب قبر کی ہوتی ہے۔ ہاں ! فرق ہے تو صرف یہ کہ ان کی علامت بت ہوتے تھے جو کسی صاحب بت کی نسبت سے تراش لئے جاتے تھے اور آج بھی نسبت صاحب قبر کی طرف ہوتی ہے فی نفسہ قبر کی کوئی پرستش ہیں کرتا۔
مشرک ہی وہ لوگ ہیں جن کا سارا کیا کرایا اکارت چلا گیا :
24: فی نفسہٖ نیکی نیکی ہی ہے اور برائی برائی۔ مشرک قومیں جہاں شرک کرتی ہیں وہاں بہت اچھے کام بھی سرانجام دیتی ہیں۔ غور کرو کہ حاجیوں کو پانی پلانا ، بیت اللہ کا تعمیر کان ، کسی مسجد میں چراغ جلانا ، جھاڑو دینا ، پانی اور صف کا انتظام کرنا۔ بھولے کو راستہ دکھانا ، بیمار کا علاج کرنا ، بھوکے کو کھلانا فی نفسہٖ اچھے کام ہیں اور انہی کو نیکیاں کہا جاتا ہے جب کوئی مشرک انسان ایسے کام سر انجام دے تو اس کو برائی تو تمہیں کہا جاسکتا بلکہ اس کو برائی کہنا خود برائی ہے۔ لیکن بعض برائیاں ایسی برائیاں ہیں کہ وہ ان نیکیوں پر بھی پانی پھیر دیتی ہیں یعنی ان کو ضائع کردیتی ہیں اور کرنے والے کو اس کا کوئی اجر نہیں ملتا۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ عاقبت کا بیج اس کے ایمان میں بویا ہی نہیں گیا اس نے فقط دنیا کی خاطر یہ کام کئے اور دنیا ہی میں اس کا صلہ وصول کرلیا کہ اس کے اچھے کام کو ہر ایک نے اچھا کہا اور یہی اس کے اعمال کا صلہ ہے۔ دوسری مثال آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایک آدمی اپنی ازدواجی زندگی میں بیوی کے سارے حقوق ادا کرے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ زنا سے بھی باز نہ آئے تو اس طرح اس نے سارے حقوق کی ادئیگی کے باوجود کیا اپنی بیوی کے حق میں پانی نہیں پھیرا وہ کون سی بیوی ہے جو اس بات کو برداشت کرتے ہوئے اپنے خاوند کے حقوق کی ادئیگی کو تسلیم کرلے گی اور کون ہے وہ شخص جو اس کی بیوی سے یہ کہہ سکتا ہے کہ جب تیرے حقوق ادا کئے جا رہے ہیں تو تیری بلا سے اگر وہ منہ کالا کرتا ہے تو کیا کرے تو اپنی جگہ پر مطمئن رہے۔ یہ ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو محض تفہیم کے لئے بیان کی گئی ہے ایک انسان اللہ کی عبادت بھی اور غیر اللہ کے وظیفے بھی پڑھے ، اللہ کو حاضر ناظر جاننے کا باوجود دوسرے لوگوں کو بھی حاضر و ناظر اور مشکل کشا کہے تو غور کرو کہ اس نے کیا کیا ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے شرک اور زانی کی مثال ایک ہی طرح سے دی ہے اور ایک ہی طرح سے تخیل کے پیرو دونوں کو قرار دیا ہے کہ دونوں ہی طرح کے لوگ ایک مقام پر بس نہیں کرتے بلکہ دوسرے کی تلاش میں رہتے ہیں۔
مشرک عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں تخفیف ان کے لئے نہیں ہوگی :
25: فرمایا ” اور وہ یعنی مشرک عذاب آتش میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ “ اس کی تشریح پیچھے سورة النساء آیت 28 میں گزر چکی جہاں ارشاد الٰہی ہے کہ ” اللہ یہ بات کبھی بخشنے والا نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسری ہستی کو شریک ٹھہرایا جائے ہاں ! اس کے سوا جتنا گناہ ہیں وہ چاہے تو بخش دے۔ “ (النسا 4 : 48)
بلاشبہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی بس شرک نہ کرے باقی دوسرے گناہ دل کھول کر کرتا رہے بلکہ دراصل اس سے یہ بات ذہن نشین کرانی مقصود ہے کہ شرک جس کو ان لوگوں نے بہت معمولی چیز سمجھ لیا ہے تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے حتیٰ کہ اور گناہوں کی معافی تو ممکن ہے مگر یہ ایسا گناہ ہے کہ معاف نہیں کیا جاسکتا۔ مشرکین مکہ تو خیر جو کچھ تھے وہ تھے ہی علماء یہود شریعت کے چھوٹے چھوٹے احکام کا تو بڑا اہتمام کرتے تھے بلکہ ان کا سارا وقت ان جزئیات کی ناپ تول ہی میں گزرتا تھا اور خوب بال کی کھال اتارتے تھے لیکن شرک ان کی نگاہ میں ایسا ہلکا فعل تھا کہ نہ خود اس سے بچنے کی فکر کرتے تھے نہ اپنی قوم کو مشرکانہ خیالات اور اعمال سے بچانے کی کوشش کرتے اور نہ مشرکین کی دوستی اور حمایت ہی میں انہیں کوئی مضائقہ نظر آتا تھا اور بہت سے لوگوں کا آج بھی یہی حال ہے۔ بلاشبہ ہم نفرت نہیں پھیلانا اہتے لیکن ان بیماروں کو بیمار سمجھ کر ان کے علاج کی فکر کا ضرور مشورہ دیتے ہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بیمار نہیں ہیں اور اس طرح اگر وہ خود علاج کی طرف رغبت نہ کریں اور عذاب الٰہی کی لپیٹ میں آجائیں تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مرے ہوؤں کو مرا ہوا تسلیم کرلینا اور مرا ہوا کہنا کوئی گناہ کی بات ہے بلکہ مرے ہوئے کو ” ہائے ہائے نہ مرے “ کہنا گناہ سمجھتے ہیں اس لئے کسی فی الواقعہ مرے ہوئے کے اس دنیا میں زندہ ہونے کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے جو کبھی ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ اپنے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اور نہ ہونے دیتا ہے۔
زیر نظر آیت جس پر حاشیہ 23 تا حاشیہ 25 گزر رہے ہیں ایک بار پھر نظر میں لائیں اور دیکھیں کہ وہ ہماری کیا راہنمائی کرتی ہے۔ قریش مکہ کو بیت اللہ کو مجاوری اور حاجیوں کے کاروبار کے منصرم ہونے کا بڑا غرور تھا اور اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب ایک جماعت اعتقاد و عمل کی حقیقت سے محروم ہوجاتی ہے تو اس طرح کی رسوم و مظاہر کو ہر طرح کی بزرگی وسعادت کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہے چناچہ آج کل مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے کسی بزرگ کی سجادہ نشینی ، کسی مزار کی مجاوری ، کسی زیارت گاہ کا متولی ہونا جو اثر و رسوخ رکھتا ہے وہ بڑے سے بڑے اور بہتر سے بہتر مومن و متقی کو بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ ایک صالح و متقی مسلمان کو کوئی نہیں پوچھے گا لیکن ایک فاسق و فاجر مجاور یا متولی درس گاہ کی ہزاروں آدمی قدم بوسی کریں گے۔ اس جگہ اس گمراہی کا ازالہ کیا گیا ہے اور یہی مضمون مسلسل کئی آیات میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا اصل نیکی یہ نہیں ہے کہ حاجیوں کو پانی پلانے کی سبیل لگا دی یا خانہ کعبہ میں روشنی کردی اصل نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لایا اور جس نے اعمال حسنہ انجام دیئے۔
فی زمانہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ محرم میں سبیلیں لگانے والے سبیلیں لگا کر اور جشن میلاد پر چراغان کرنے والے چراغانم کر کے کس چیز کی نمائش کرتے ہیں اور لوگ ان کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ وہ خانقاہیں اور دربار جو اس وقت اس ملک عزیز میں سب سے زیادہ بدکاری کے اڈے ہیں ان کو کس طرح متبرک مقامات سمجھا جاتا ہے۔ علی ہجویری (رح) ، سلاطن باھو (رح) اور شہباز قلندر کے مزاروں پر کیا ہو رہا ہے اور اس ملک عزیز کے عوام تو عوام خواص ان مقامات کو کیا سمجھتے ہیں ؟ ان کے انتظامات میں کیا کچھ نہیں کیا جا رہا ہے اور شرک و کفر کے اڈوں کی کس طرح حفاظت کی جارہی ہے۔ یہ اور اس طرح کی مزید کتنی ہی چیزیں ہیں جو صاحب نظر لوگوں کی نظروں کے سامنے ہو رہی ہیں اور کوئی لب کشائی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ الایہ کہ وہ زبان کھولے گا تو اس کا کوئی نیا حسن و خوبی ہی اس کی زبان پر ہوگا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ سب کو یہ محاورہ ازبر ہے کہ ” دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر کوئی عقلمندی نہیں۔ “ قرآن کیا کہتا ہے ؟ ان کی بلا سے کیونکہ وہ متبرک کتاب بھی تو آخر چوم کر ناک اور ماتھے ہی پر لگانے کے لئے رہ گئی ہے اس لئے کہ سوائے چند گستاخوں کے کون ہے جو اس کتاب پاک کے ساتھ یہی کچھ نہیں کر رہا اور کون ہے جو اس سے انکار کرے ؟
مزید تشریح کے لئے تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء 48 کی تفسیر کا مطالعہ کریں۔
Ayah 9:18مسجدوں کے آباد کرنے کا حق کن لوگوں کو دیا گیا ہے ؟
26: مسجدوں کو آباد کرنے کا حق صرف اور صرف ان لوگوں کو ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائیں ، نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی اور سے نہ ڈریں۔ مطلب یہ ہے کہ مسجدین آباد کرنے کا ان کو حق ہے جو اعمال و افعال کے لحاظ سے بھی توحید الٰہی کے پابند ہوں اور شرک کے قریب بھی نہ جائیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام صفات کے حامل وہی لوگ ہیں جو سچے دل سے ایمان لائے لیکن کتنی احتیاط سے کام لیا گیا کہ اس جگہ ایمان والوں کا نام نہیں لیا بلکہ ان صفات کا ذکر فرمایا جو منصب تولیت کے لئے بنیادی شرائط کی حیتد رکھتی تھیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوجائے کہ یہ منصب کسی گروہ یا خاندان کا اجارہ نہیں کہ وہ ایسا نام رکھ لیں اور چاہیں جو کرتے رہیں۔ غور کیجئے کہ اگر اس جگہ ایمان والوں کا ہی نام لیا جاتا یعنی اے مسلمانو ! کہا جاتا تو آج کتنے لوگ ہیں جو مسلمان کہلاتے ہیں لیکن ان کا یہ نام صرف ایک ظاہری شناخت ہی کا کام دیتا ہے۔ جیسے یہودی اور عیسائی کا اور وہ کونسی بدعملی ہے جو مسلمان کہلانے والے میں نہیں پائی جاتی۔
قرآن کریم میں کتنی جگہ ہیں جہاں ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے لیکن اس جگہ ایسا کیوں نہ کیا گیا ؟ صرف اس لئے کہ علم الٰہی میں یہ موجود تھا کہ اس جگہ ایمان والوں کو مخاطب کر کے کچھ کہا گیا تو کتنے ہی لوگ ہوں گے جو صرف ایمان والوں کے سے نام رکھ کر مسلمان کہلائیں گے لیکن وہ لوگ فعل سے مسلمان کہلانے کے حق دار نہیں ہوں گے اور مساجد کی تعمیر کرنے سے ان کی مراد بھی توحید الٰہی کی تبلیغ نہیں ہوگا بلکہ اس سے ان کا مقصد اسلامی ترقیوں کو روکنا ہی ہوگا وہ ظاہر میں کچھ ہوں گے اور ان کا باطن کچھ اور ہوگا اور آگے چل کر ” مسجد ضرار “ کے وقعع نے اس کی عمل صورت بھی پیش کردی اور یہ کام کرنے والے بھی بظاہر مسلمان ہی کہلاتے تھے اور اپنی تعمیر کا نام بھی انہوں نے مسجد ہی رکھا تھا لیکن اسلام نے ان کی اس مسجد کو منہدم کرنے کا حکم دیا اور نبی کریم ﷺ کو ایسی مسجد میں نماز ادا کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرما دیا۔ تفصیل اپنی جگہ پر آئے گی۔
پوری وضاحت کے ساتھ یہ اعلان کردیا کہ جس گروہ میں یہ صفات مفقود ہوں وہ گروہ یا خاندان اس منصب کا دعویٰ دار نہیں ہو سکتا ۔ پھر اس جگہ شرک کی نفی کی بھی صورت برائی جو نہایت ہی حساس قسم کی ہے فرمایا : وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ یعنی ان لوگوں کے اندر کسی غیر اللہ کا خوف نہ پایا جاتا ہو۔ ظاہر ہے کہ خوف سے مراد وہ خوف ہے جو کسی غیر اللہ کو بذات خود ناغہ وضار ماننے سے پیدا ہوتا ہے اور یہی خوف شرک ہے گویا اس جگہ شرک کی نگی اس کے اصل محرک کے نفی سے کی ہے اور یہی خوف شرک کا اصل سبب ہے اور آج ان اسلامی ممالک کا تجزیہ اس لحاظ سے کیا جائے جو اسلام کے سب سے بڑے علمبردار نظر آتے ہیں اور جن کے اسلام کا سکہ سارے عالم اسلام کے لوگوں نے تسلیم کیا ہے تو کیا وہ بھی مسلمان نظر آتے ہیں ؟ آپ کس ملک کا نام لے سکتے ہیں کہ وہ سوائے اللہ کے کسی دوسرے کا کوئی ڈر اپنے اندر نہیں رکھتا ؟
اس وقت پوری دنیا کے ظالم ترین ممالک میں سب سے بڑا ظالم ملک یو۔ ایس۔ اے امریکہ ہے اور دنیا میں جتنا اسلامی ممالک ہیں ان میں سے کسی ایک کا بھی نام نہیں لیا جاسکتا جو اس ظالم ملک کے سامنے تہ زانو نہ ہوچکا ہو۔ یہی مطلب ہے قرآن کریم کے اس فقرہ کا کہو لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ ؟ اگر امریکہ فی الواقعہ غیر اللہ ہے تو پھر اس سے ڈرنے والے کون ہوئے ؟ تولیت مسجد حرام کی پہلی شرط کیا تھی ؟ جس کا آخری نتیجہو لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ بیان ہوا ہے اور اگر پہلی شرط ہی پوری نہ ہوئی تو باقی شرائط کا کیا ہوگا ؟
انجام کار فائز المرام ہونے والا گروہ کون ہے ؟
27: یعنی اوپر ذکر کی گئی صفات کے حامل لوگ ہی ہوں گے جن کے باب میں یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ منزل مقصود پر پہنچیں گے اور کامیاب و کامران ہوں گے اور ایسے لوگ ہوں گے جو عنداللہ فائز المرام قرار پائیں گے۔ قرآن کریم ہی دنیا میں وہ کتاب ہے جو اپنے ماننے والوں کی صحیح راہنمائی کرتی ہے بشرطیکہ کوئی اس کو اس طرح مانے جو اس کے ماننے کا حق ہے اور یہی وہ کتاب ہدایت ہے جو اپنے نزول کے وقت سے لے کر سارے ادوار کے لوگوں کے لئے ایک جیسی راہنمائی کرتی آئی ہے ، کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ جو اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرے گا وہی کامیاب و کامران ہوگا۔ بلاریب یہ دنیوی ترقیوں کے لئے بھی راہنما ہے اور اخروی درجات بھی اس سے بلند ہوتے ہیں۔ اللہ نے جو خالق کائنات ہے اس نے تصرف کے لئے جو قانون بنایا ہے ہر وہ شخص جو اس کے مطابق عمل کرے گا وہ یقیناً مستفید ہوگا اور جو اس سے انحراف کرے گا وہ خائب و خاسر ہوگا۔ سچے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ دنیوی اور دینی دونوں ترقیوں کے لئے بےخوف و خطر کام کریں اور ان کے دل میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کا ڈر مطلق موجود نہ ہو جو ان کی طرف ایک بار گہری آنکھ سے دیکھے وہ اس کو دوبارہ آنکھ اٹھانے کا موقع نہ دیں اور جو پیار کی نگاہ سے دیکھے اس کی حقیقت کو سمجھ کر ایک سچے مومن کی نظر سے اس کو دیکھیں فرمایا ” شایہ یہی لوگ ہیں جن سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ راہ پانے والے ثابت ہوں گے۔ “ ” عَسٰۤى “ کے لفظ نے مزید وضاحت کردی کہ یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں اس میں قدم قدم پر مشکلات اور آزمائشیں ہیں۔ صرف وہی لوگ ہیں جو جادہ مستقیم پر استوار رہ سکتے ہیں جن کے پاس توفیق الٰہی کا زاد راہ ہو اور جن کو اللہ سے استعانت کا سہارا حاصل ہو۔ وہ فرد ہوگا تو فرد کی کامیابی اس کے قدم چومے گی اور جماعت ہوگی تو یقیناً جماعت بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگی اور بعض اوقات افراد مرتے ہیں تو قومیں زندگی پاجاتی ہیں اور انہیں افراد کے متعلق قرآنی فیصلہ یہ قرار پایا کہ وہ ” مردہ “ نہیں بلکہ وہ تو ” زندہ جاوید “ ہیں اور وہ کبھی بھی نہیں مریں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ مر کر زندہ ہوچکے اگرچہ تم ان کی زندگی کو نہ سمجھتے ہو اور یہ کہ وہ تمہاری اس مرنے والی زندگی سے بےنیاز ہوچکے ہیں۔ اب موت تمہارے لئے ہے ان کے لئے نہیں۔
پھر غور کرو کہ زیر نظر آیت میں جو مومن صادق کی تعریف بیان کی ہے اس میں ایمان باللہ اور قارم صلوۃ اور اداء زکوٰۃ کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ” اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ مانا “ جس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے نزدیک اسلام کے فکری اور عملی ارکان میں سے ایک رکن یہ بھی ہے اور جس دل میں ماسوا اللہ کی دہشت موجود ہو وہ مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں اور یقیناً وہ اسلام کا نام لینے سے مخلص نہیں ہو سکتا۔ اپنی ذات کے متعلق غور خود فرما لیں شاید یہ غور آپ کے لئے مفید ثابت ہو۔ اللہ کرے کہ مفید ہی ثابت ہو۔
Ayah 9:19حاجیوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا اچھا کام ہے لیکن آخر کتنا ؟
28: مشرکین مکہ کو اپنے جن اعمال پر بہت ناز تھا اور وہ اپنی امتیازی حیثیت قائم کئے ہوئے تھے ان میں سے ایک حجاج کو پانی پلانے اور ٹھنڈا اور میٹھے پانی کی سبیلیں لگانے کا کام بھی تھا اور زیر نظر آیت میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ پانی پلانا بلاشبہ ایک نیکی ہے لیکن اس نیکی کا تصور دینے والا آخر کون ہے ؟ اللہ ، تو پھر اللہ ہی سے دوسروں کو شریک کیا جا رہا ہے اور ان شریک ٹھہرانے والوں کے ساتھ یہ نیکی بھی کیا نیکی ہی کہلائے گی ؟ شفقت و رحمت کو کون غلط کہہ سکتا ہے ؟ لیکن آپ کی ساری شفقت اس قاتل ہی کے لئے کیوں ؟ جس کو اس نے قتل کیا ہے کیا وہ شفقت و رحمت کا مستحق نہیں ؟ حج کیوں قائم کیا گیا ؟ اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے لئے۔ ایک مرکز پر جمع ہو کر اجتماعی کاموں کے لئے۔ غور و فکر اور خالصۃً اللہ کی عبادت قائم کرنے کے لئے پھر اللہ کے باغیوں اور اللہ کی الوہیت میں شریک کرنے والوں کو پانی پلا کر اللہ کے ساتھت شرک کرنے کے لئے ان کی طاقت کو مزید بڑھانے سے نیکی حاصل ہوگی ؟ کیا ڈاکہ زنی کرنے والوں کی مدد کر کے ان کے ڈاکہ کو کامیاب کرا دینا نیکی ہی کہلائے گا ؟ کیا قوم کے عریبوں کا خون چوس چوس کر مال و دولت کے ڈھیر اکھٹے کرنے والوں سے چاول کی پلیٹ وصولص کر کے تمہارے جزاک اللہ کہہ دینے سے وہ عنداللہ جزا کے مستحق قرار پائیں گے یا تم بھی ان کے حرام مال میں شریک ہو کر ایک گناہ کے مرتکب قرار پاؤ گے ؟
اس جگہ لفظسِقَایَةَ کا استعمال ہوا جس کا ترجمہ ہمارے سارے مترجمین نے ” پنی پلانا “ ” پانی کی سبیل لگانا “ ہی کے کئے ہیں اور اس میں حجاج کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنا بھی اس میں شامل کیا ہے لیکن آگے چل کر سورة یوسف کی آیت 70 میں بھیسقَایَةَ ہی کا لفظ آیا ہے جس سے مراد ” پانی پینے کا برتن “ لی گئی ہے اور ترجمہ پیالہ یا کٹورا کیا گیا ہے۔ ایسا کیوں کیا گیا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ جو چیز چوری ہوئی اس کو صاع قرآن کریم میں کہا گیا ہے اور جو کچھ بنیامین کے سامان سے میسر آیا وہ بھی صاع ہی تھا لیکن ہمارے مفسرین نے سِقَایَةَ اور صاع کو ایک ہی چیز قرار دیا اس کی کیا ضرورت تھی ؟ پھر تعجب پر تعجب یہ ہوا کہ بادشاہ وقت کے پانی پینے کا پیالہ اور غلہ ماپنے کا آلہ ایک چیز کو قرار دیا اور بڑی وضاحت سے لکھا کہ بادشاہ کے پانی پینے کا برتن وہی تھا جس سے غلہ ماپا جاتا تھا۔ پھر اس برتن کی خوبصورتی اور قیمتی ہونے کا بیان شروع کیا تو لکھا کہ وہ جو ہرات سے مرصع کیا گیا تھا جو بہت ہی بڑا قیمتی تھا۔
اس وقت اس کا ذکر محض اس وجہ سے کیا گیا تاکہسِقَایَةَ کے لفظ کا ترجمہ ذہن نشین ہوجائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ قرآن کریم نے اس کو پانی پلانے کے معنوں میں استعمال کیا ہے جس کا صاف صاف مطلب کھانے پینے کے انتظان اور کسی کی دعوت کرنے کے نکلتے ہیں اور خودر و نوش پر اس کا استعمال ہوتا ہے اور مفسرین نے بھی اس جگہ لکھا ہے : قال الحسن ؓ کانت السقایۃ بنبیذ الذبیب وعن عمرانہ وجد نبیذ السقیاۃ من الذبیب شدیدا فکسر منہ بالماء ثلاثا ۔ (کبیر امام رازی (رح) سورة توبہ) واعلم ان السقایۃ فعل (الکشاف بحوالہ امام رازی (رح) فی الکبیر) وسقی الحاج یوجب نوعا من انواع الفضیلۃ (امام رازی (رح) وقیل ان المشرکین کین قالوا الیھود۔۔۔ نحن نقاۃ الحاج و عمارۃ المسجد الحرام فنحن افضل ام محمد وا صحابہ ؟ فقالت الیھود انتم افضل ( امام رازی (رح)
بیت اللہ کی عمارت کا بنانا صحیح معنوں میں ایمان لانے والوں کے برابر نہیں ہو سکتا :
29: روایات میں ہے کہ مشرکین مکہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس پر فخت کیا کرتے تھے کہ ہم مسجد حرام کی آبادی اور حجاج کو پانی پلانے کا انتظام کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کسی کا عمل بھی کیا ہو سکتا ہے ؟ اس طرح سیدنا عباس ؓ جب بدر میں قید کر لئے گئے تو ان کے مسلمان اعزہ و اقارب نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی تو انہوں نے اس وقت فخریہ طور پر کہا کہ آپ لوگ ایمان و ہجرت کو اپنا بڑا سرمایہ فضیلت سمجھتے ہیں مگر ہم بھی و مسجد حرام کی عمارت اور حجاج کو پانی پلانے کی اہم خدمات سر انجام دیتے ہیں حالانکہ ان کے برابر اور کون سا عمل اچھا ہو سکتا ہے ؟ اس طرح طلحہ بن شیبہ اور حضرت علی ؓ کی آپس میں کفتگو میں طلحہ نے کہا تھا کہ مجھے وہ فضیلت حاصل ہے جو تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے کہ بیت اللہ کی چابی میرے ہاتھ میں ہے اگر چاہوں تو بیت اللہ کے اندر جا کر رات گزار سکتا ہوں۔ اس لئے کہ بیت اللہ کے اندر داخل ہوجانا ان کے ہاں ایک بہت بڑی فضیلت کی بات تھی۔ زیر نظر آیت میں ان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ کیا تمت نے حجاج کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی عمارت کی دیکھ بھال کرنے کو اس شخص کر برابر قرار دیا ہے جو کہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو حالانکہ اللہ کے نزدی تو یہ لوگ کبھی برابر نہیں ہو سکتا۔ مقصود آیت یہ ہے کہ ایمان باللہ اور ایمان بالاخرت اور جہاد فی سبیل اللہ میں سے ہر ایک افضل ہے۔ سِقَایَةَ الْحَآجِّ اور عمارت مسجد الحرام سے۔ یعنی ایمان بھی دونوں سے افضل ہے اور جہاد بھی۔ ایمان کے افضل ہونے سے مشرکین کی بات کا جواب ہوگیا اور جہاد کے افضل ہونے سے ان مسلمانوں کی آپس میں گفتگو کا جواب ہوگیا جو عمارت مسجد حرام اور سِقَایَةَ الْحَآجِّ کو جہاد سے افضل سمجھتے تھے۔
یہ تو اس وقت کی بات تھی جب نزول قرآن ہو رہا تھا اور خود نبی اعظم و آخر ﷺ اس دنیا میں صحابہ ؓ کے اندرموجود تھے اور آج کیا قرآن وہی قرآن نہیں ہے اور اس کے احکام ویسے ہی احکام نہیں ہیں جسا کہ اس وقت تھے ؟ یقیناً ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گے تو پھر اس وقت اس حکومت کو جو آل سعود کے نام سے دنیا کے اس خطہ میں موجود ہے جس خطہ میں بیت اللہ موجود ہے اور حجاج کرام آج بھی اس کی حاضری کے لئے جوق در جوق حاضر ہوتے ہیں کیا انہوں نے فقط اس انتظام و انصرام ہی کو دین کا سب سے بڑا اہم کام نہیں سمجھا رکھا ؟ اور اس فضیلت کو وہ اپنائے نہیں بیٹھے ؟ کیا انہوں نے کبھی غور کیا کہ ایمان باللہ ، ایمان بالاخرت اور جہاد اس کام سے بہرحال افضل و انسب ہیں۔ کیا ان کا فرض دفاع اسلام کو مضبوط کرنا نہیں ہے ؟ کیا اپنے دفاع کے لئے غیر مسلموں کو سہارا بنانا اچھا عمل ہے ؟ وہ علمائے اسلام اللہ کے ہاں کیا جواب دیں گے جو حکومت آل سعود کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ تم قرآن کریم کروڑوں کی تعداد میں شائع کر کے ہم کو مفت میں سپلائی کرتے رہو اور ہم ان قرآن کریم کے نسخوں کو بیچ کر کھائیں گے اور آل سعود کے لئے دعائیں کریں گے اور ان کے گن گائیں گے کہ وہ ایک نہایت ہی اچھی اور بہتر حکومت ہے کہ قرآن کریم کی اشاعت اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ بلاشبہ قرآن کریم کی اشاعت ایک اچھا عمل ہے لیکن ایمان باللہ ، ایمان بالاخرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلہ میں رکھ کر ذرا دیکھیں اور قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم کیا کہتا ہے اس کا نگاہ میں رکھ کر بات کریں ؟ دشمن کس گھات میں لگا ہے اور آپ کیا کر رہے ہیں کیا ” ہنوز دلی دور است “ کہنے والوں کا انجام آپ نے نہیں دیکھا ؟ کیا غیر مسلموں کے سہارے زندہ رہنا شرک نہیں کہلاتا ؟
مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرما دیا کہ اللہ کے نزدیک حاجیوں کا انتظام و انصرام اور عمارت بیت اللہ کی دیکھ بھال کا عمل اور ایمان باللہ ، ایمان بالاخرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کے برابر نہیں ہیں۔ ہر لحاظ سے ایمان باللہ ، ایمان بالاخرت اور جہاد فی سبیل اللہ پہلے اعمال سے افضل و اعلیٰ ہیں اور افضل و اعلیٰ ہی رہیں گے۔ اصول کبھی فروع کے تابع نہیں ہو سکتے ہمیشہ فروع ہی اصولوں کے تابع ہوتے ہیں۔ ایمان باللہ ، ایمان بالاخرت اور جہاد فی سبیل اللہ اسلام کے اصول ہی اور حجاج کرام کا انتظام و انصرام اور دیکھ بھال بیت اللہ فروع ہیں اسی طرح قرآن کریم کی اشاعت بھی فروع اصول اسلام میں سے ہے۔ اصول درست ہوں گے تو فروع کی قیمت ہوگی اصلو ہی نہ رہے تو فروع کی کیا قیمت ہوگی ؟ فرمایا لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ 1ؕ کہ اللہ کے نزدیک تو وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اس جگہ بعض روایات کی روشنی میں مفسرین نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ” ذکر اللہ “ بہر حال جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہے لیکن افسوس کہ انہوں نے ” ذکر اللہ “ سے مراد اللہ ، اللہ کا ورد اور وظائف ہی مراد لئے ہیں حالانکہ ” ذکر اللہ “ وہ چیز ہے جو پوری انسانی زندگی پر محیط ہے اور ہر کام اللہ کی رضا کے مطابق ہونا ہی اصل میں ” ذکر اللہ “ ہے۔ اللہ ، اللہ اور دوسرے سارے جائز وردو وظائفاسی کے تابع ہیں۔ اس لئے دفاع اسلام کو مضبوط کرنا بھی فی الواقعہ ” ذکر اللہ “ ہی ہے کیونکہ اللہ کا نام جس سے بلند ہوگا وہی اصل ” ذکر اللہ “ ہے بلکہ اسلام کی سربلندی سے بڑھ کر اور کوئی چیز بھی ” ذکر اللہ “ نہیں ہو سکتی۔ غور کیجئے کہ بدر کی کامیابی اور فتح مکہ سے کیا اللہ کا ذکر بلند نہیں ہوا ؟
اللہ ظلم کرنے والوں کو کبھی آخرت کی راہ نہیں کھولتا :
30: زیر نظر آیت کے آخری فقرہ پر ایک بار پھر نظر کرو۔ فرمایا : وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ0019 کہ ” اللہ ظلم کرنے والوں پر کبھی آخرت کی راہ نہیں کھولتا۔ “ یہاں ظلم کرنے والوں سے مراد کون ہیں ؟ وہی جن لوگوں نے حجاج کی خدمت اور بیت اللہ کی تعمیر اور دیکھ بھال کو ایمان باللہ ، ایمان بالاخرت اور جہادفی سبیل اللہ پر فوقیت دی تھی گویا ہر فرع کو اصول پر فوقیت دینے والا ظالم ہے اس طرح فرع کو اصول اور اصول کو فرع بنا دینے والا انسان ظالم ہے خواہ وہ کوئی وہ اور یہ کوئی فقیق اور باریک بات نہیں بلکہ بالکل واضح ہے کہ ایمان سارے اعمال کی بنیاد اور ان سب سے افضل ہے اور یہ جہاد بہ نسبت عمارت مسجد اور سِقَایَةَ الْحَآجِّ کے افضل ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو سمجھ نہیں دیتا اس لئے وہ ایسی کھلی اور ظاہری باتوں میں بھی کچ بحثی کرتے رہتے ہیں اور آنے والی آیت اس کی مزید تشریح پیش کر رہی ہے۔ اللہ کرے کہ کوئی سمجھنے والو بھی ہو۔
Ayah 9:20اللہ کے نزدیک درجات میں بڑے کون لوگ ہیں ؟
31: اس آیت میں ایک بار پھر واضح کردیا کہ اللہ کے نزدیک بزرگی و فضیلت کا معیار کیا ہے ؟ فرمایا سب سے بڑا درجہ انہی کا ہے جنہوں نے سچائی کی راہ میں ہر طرح کی قربانیاں کیں اور ایمان و عمل کی آزمائش میں پورے اترے ، تمہارے گھڑے ہوئے تقدس و بزرگی کی مناسب اور رواجی برائیاں اور بزرگیاں اللہ کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آج کل مسلمانوں کی عام مذہبی ذہنیت کس درجہ اسلام سے دور ہوگئی ہے۔ جاہلیت عرب کی طرح وہ بھی رواجی نیکیوں کو حقیقی اسلامی نیکیوں پر ترجیح دینے لگے ہیں ایک فاسق و فاجر امیر محرم میں سبیل لگا دیتا ہے یا ربیع الاول میں دھو دھام سے جشن میلاد میں اپنے ہاتھی ، گھوڑوں اور مشعلوں کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے یا کسی مسجد ، درس گاہ اور خانقاہ اور مزار پر بجلی کی روشنی کرا دیاتا ہے تو تمام مسلمان اس کی حمد و ثنا کا غلغلہ مچا دیتے ہیں اور علمائے اسلام کے نام سے یاد کئے جانے والے اپنے خطبوں اور وعظوں میں اس کی مثالیں پیش کرتے ہیں اور کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے ایمان و عمل اور ایثار فی سبیل اللہ کا کیا حال ہے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ رواجی نیکیاں اللہ کے نزدیک نیکیاں نہیں ہیں نیکی کا معیار صرف ایمان و عمل صالح اور ایمان و عمل صالح کی راہ میں ایثار ہے۔
Ayah 9:21اللہ کی کامل خوشنودی کی بشارت انہی لوگوں کے لئے خاص ہے :
32: ایسے لوگ ہیں جن کو ان کا پروردگار خوشخبری سناتا ہے اپنی رحمت اور رضا کی اور ایسی جنتوں کی جن میں ان کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والی نعمتیں ہوں گی اور یہ لوگ بھی ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے ان کو ایسی جگہ سے کبھی نکالا نہیں جائے گا بلاشبہ اللہ کے پاس بہت ہی بڑا اجر ہے۔ آیت بیس میں تین چیزوں کا ذکر تا یعنی ایمان ، جہاد اور ہجرت اور اس جگہ ان تینوں پر بشارت بھی تین ہی چیزوں کی دی گئی۔ فرمایا رحمت ، فضوان اور خلود فی الجنۃ ان لوگوں کے انتظار میں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ رحمت ایمان پر مرتب ہے ایمان نہ ہو تو آخرت میں اللہ کی رحمت و مہربانی سے کوئی حصہ نہیں مل سکتا اور رضوان جو بہت ہی اعلیٰ مقام ہے جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ تمام نفسانی خطوط و تعلقات ترک کر کے اللہ کے راستے میں جان و مال نثار کرنا اور رب العزت کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انتہائی قربانی پیش کرتا ہے لہٰذا اس کا صلہ بھی انتہائی ہونا چاہئے اور وہ تعالیٰ کی رضاکا مقام ہے جس سے بڑا اور کوئی صلہ نہیں ہو سکتا۔ فہی ہجرت تو وہ رضائے الٰہی کی خاطر وطن مالوف اور گھر بار چھوڑنے کا نام ہے اس لئے مہاجر کو خوشخبری دی گئی کہ تیرے وطن سے بہتر وطن اور تیرے گھر سے بہت گھر تجھ کو ملے گا جس میں ہمیشہ اعلیٰ درجہ کی آسائش و راحت سے رہنا ہوگا اور جس سے پھر ہجرت کرنے کی کبھی نوبت نہ آئے گی۔
Ayah 9:22وہ لوگ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کا اجر عنداللہ محفوظ ہے :
33: مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں کی طرح ان نعمتوں کے لئے زوال نہیں ہے اور اس کامیابی کے بعد مزید کسی دوسری کامیابی کی خواہش انسان میں موجود ہی نہ ہوگی اور جس طرح دنیاوی نعمتوں سے کبھی انسان کا دل نہیں بھرتا بلکہ وہ خوب سے خوب تر کا خیال رکھتا ہے اور اس کی ترقی کی منزلیں کبھی ختم ہونے میں نہیں آتیں یہی وجہ ہے کہ وہ ایک لحاظ سے بد اطمینانی کا شکار رہتا ہے اور اپنی جدوجہد کو تیز سے تیز تر کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہوتا ہے۔ یہ کیفیت آخرت کی کامیابی کے بعد ممکن نہیں یہ دنیا ہی کی نعمتیں ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ :
یا صاحبی لا تغترر بتنعم ۔ فالعمر ینفد و نعیم یزول
بلاشبہ اس دنیوی زندگی کا سارا مزہ اس میں ہے کہ اس کی کسی چیز کو ثبات نہیں اور زندیگ کے بعد موت لازم ہے۔ ہاں ! اگر صرف موت نہ ہوتی تو اس زندگیکا کوئی لطف اور مزہ نہ رہتا۔ لیکن آخرت کی زندیگ کا سارا لطف اور مزہ اس کی ابدی زندگی ہی میں ہے۔ خصوصاً ان کے لئے جو اللہ کی رضامندیوں کو حاصل کرنے والے قرار ائے اور کامیاب قرار دیئے گئے اور ان کو مزید کسی جدوجہد کی ضرورت نہ رہے گی اور یہی اس ابدی زندگی کا سارا راز ہے کہ وہاں خواہشوں کا اختام ہوجائے گا۔ اس لئے قرآن کریم نے اس کو اجر عظیم قرار دیا ہے۔
Ayah 9:23ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیزسمجھنے والوں کو کبھی دوست نہ بنانے کی تاکید :
34: پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ آیت 16 میں فرمایا تھا کہ ایسا نہ سمجھو کہ اتنے ہی میں چھوڑ دیئے جاؤ گے جتنا کچھ ہوچکا ہے بلکہ ابھی ایمان و عمل کی آزمائشیں باقی ہیں اب اس جگہ سچے مومنوں کی فضیلت بیان کرنے کے بعد زیر نظر آیت میں خصوصیت کے ساتھ توجہ دلائی کہ ایمان کا دعویٰ اور ایمان کے دشمنوں سے موالات ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اگر باپ اور بھائی بھی دشمنوں میں سے ہوں جب بھی تم کو ان سے کوئی علاقہ نہیں رکھنا چاہئے اور یہ حکم جماعتی زندگی کے لئے ہے خصوصاً جس میں دارالحرب یا دارالکفر اور دارالسلام کے درمیان کی دیوار بھی حائل ہو۔ انفرادی زندگی اور ایک ملک کی سکونت کے احکام اس سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ اس حقیقت کو نہ سمجھنے کے باعث لوگوں نے بہت زبردست غلطیاں کی ہیں اور انجام کار اسلام کے چہرہ پر بڑے بد نما داغ لگانے کا باعث ہوئے ہیں۔
اوپر گزر چکا ہے کہ یہ سورت 9 ہجری میں نازل ہوئی تھی اور ابتدائی آیتیں سال کے آخری مہینوں یعنی حج کے مہینوں میں اعلان عام کی غرض سے مشتہر کی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ مکہ فتح ہوچکا تھا اور جنگ حنین نے دشمنوں کی رہی سہی قوت بھی ختم کردی تھی۔ غزوہ تبوک میں تئیس ہزار مسلمانوں نے شرکت کی تھی اور جزیرہ عرب میں مسلمانوں کے سوا اور کوئی قوت نظر نہیں آتی تھی تاہم صورت حال کے بعض پہلو ایسے تھے جو کمزوری سے خالی نہ تھے مثلاً :
1 ۔ مکہ کے طلقاء کا ایک گروہ نیا نیا مسلمانوں میں داخل ہوا تھا جس کا ذکر پیچھے آیت 16 میں کیا گیا یعنی ان باشند گان مکہ کا جنہیں پیغمبر اسلام نے عفو و بخشش کی ایک بےنظیر مثال قائم کرتے ہوئے فتح مکہ کے دن آزاد کردیا تھا اور فرمایا تھا انتم طلقاء آج تم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ یہ ابھی اسلامی زندگی کی پختگی کے محتاج تھے اور ان میں سے بعضوں سے عزیز و اقرباء دشمنوں میں ملے ہوئے تھے۔ جب اعلان جنگ ہوا تو انہیں اپنے قرابت داروں کی فکر ہوئی۔ بعضوں نے جاہلیت کی نسبی و خاندانی مصیبت کی صدا بھی بلند کی جو ابھی پوری طرح ان کے دلوں سے محو نہیں ہوئی تھی۔
2 ۔ منافق اور کچے ایمان کے آدمی بھی ابھی باقی تھے وہ کہنے لگے اب جنگ کے اعلان کی ضرورت کیا ہے ؟ جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوچکا۔
3 ۔ عام مسلمانوں میں بھی فتح و عروج کی وجہ سے کچھ نہ کچھ بےپروائی سی پیدا ہوگئی تھی ، لوگ خیال کرتے ہوں گے اب تم تمام عرب کلمہ حق کے آگے جھک گیا ہے اور دشمنوں میں کچھ دم خم باقی نہیں رہا حالانکہ مشیت الٰہی نے عروج اسلام کا جو نقشہ کھینچا تھا وہ کچھ اور ہی تھا اور اس موقعہ پر طبیعتوں کی بےپروائی نہ صرف مستقبل کے لئے بلکہ موجودہ حالات کے لئے بھی خطرہ سے خالی نہ تھی۔
اندریں صورت ضروری ہوا کہ مسلمانوں کو ایمان و عمل کے عزائم کی ازسر نو تلقین کی جائے اور یاد دلایا جائے کہ آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اب شروع ہوئی ہے۔ ازاں جملہ اس اعلان جنگ کی آزمائش ہے جسے دشمنوں کے عذر و فریب نے ناگزیر کردیا ہے اور ملک کے امن وامان کا استحکام اس کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لئے جہاد ہی کے معاملہ میں بسا اوقات خویش و اقارب ، کنبہ اور برادری کے تعلقات مانع ہوجاتے ہیں۔ اس لئے پوری وضاحت سے فرما دیا گیا کہ جن لوگوں کو ایمان سے زیادہ کفر عزیز ہے ایک مومن انہیں کیسے عزیز رکھ سکتا ہے۔ مسلمان کی شان نہیں کہ ان سے رفاقت اور دوستی کا دم بھرے۔ حتیٰ کہ یہ تعلقات اس کو جہاد سے مانع ہوجائیں ایسا کرنے والے گنہار بن کر اپنے آپ پر ہی ظلم کریں گے اور ظلم ظلم ہی ہے خواہ کوئی اپنی جان پر کرنے والا ہو اور یہ معاملہ تو ویسے ہی اجتماعی ہے انفرادی نہیں اور مزید وضاحت آگے آرہی ہے۔
Ayah 9:24اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محبوب رکھنے کا مطلب :
35: آیت مذکورہ میں براہ راست خطاب اگرچہ ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہجرت فرض ہونے کے وقت دنیوی تعلقات کی محبت سے مغلوب ہو کر ہجرت نہ کی اور اس طرح ان لوگوں سے جو تجارت کے مال و اسباب میں لگے رہے اور تبوک کی طرف بلائے جانے کے باوجود وہ نہ نکلے اور سستی سے کام لیا اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے فتح مکہ کے وقت مکہ کی طرف مسلمانوں کی پیش قدمی کی خبر مکہ والوں کو پہنچانے کی سعی بےجا کی۔ لیکن الفاظ آیت کا عموم تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی محبت اس درجہ ہونا لازم و ضروری ہے کہ دوسرا کوئی تعلق اور کوئی محبت اس پر غالب نہ آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس آیت کو مہمات مواعظ میں سے شمار کرتے ہیں یہ آیت اس باب میں قطی ہے کہ اگر جب ایمانی اور غیر ایمانی کا مقابلہ ہوجائے تو مومن وہ ہے جس کی جب ایمانی پر دنیا کی کوئی محبت اور کوئی علاقہ بھی غالب نہ آسکے۔ زیر نظر آیت میں آٹھ چیزوں کا ذکر کیا ہے اور اگر غور کرو گے تو ایک متمدن زندگی کے تمام علائق ان میں آگئے ہیں نیز جس ترتیب سے ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ علائق کی گہرائیوں کی قدرتی ترتیب یہی ہے۔ فرمایا انسان کی مدنی زندگی کی الفتوں کے بڑے رشتے یہی ہیں اور اپنی جگہ سب مطلوب و ضروری ہیں لیکن اگر محبت ایمانی میں اور ان میں مقابلہ ہوجائے تو پھر مومن وہ ہے جس پر ان تمام الفتوں میں سے کسی الفت کا بھی چادو چل نہ سکے اور کوئی علاقہ بھی اسے اتباع حق سے روک نہ سکے۔
ذرا غور کرو کہ قرآن کریم فطرت انسانی کی کمزوریوں کا کس طرح کھوج لگاتا ہے۔ فرمایا ” اور تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمہیں ڈر لگا رہتا ہے “ یعنی عزائم و مقاصد کی راہ میں کبھی قدم اٹھایا جائے گا تو ناگزیر ہے کہ صورت حال میں انقلاب ہو اور جب انقلاب ہوگا خواہ وہ جنگ کی صورت میں ہو خواہ کسی دوسری صورت میں تو عارضی طور پر کاروبار ضرور بگڑے گا۔ مال و جائیداد کے لئے خطرات ضرور پیدا ہوں گے اور یہی بات مال و دولت کے پرستاتروں پر ہمیشہ شاق گزرتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کاروبار خراب ہوائے گا اور نہیں جانتے کہ اگر راہ حق میں استقامت دکھائیں تو جو کچھ خراب ہوگا وہ بہت تھوڑا ہوگا اور پھر جو کچھ بنے گا وہ بہت زیادہ ہوگا ، وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ ۔
محبت ایمانی کی اسی آزمائش میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جس طرح پورے اترے اس کی شہادت تاریخ میں محفوظ کرلی ہے اور وہ محتاج بیان نہیں بلاشبہ اور بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے سارے دل اور اپنی ساری روح سے ایسی محبت نہیں کی ہوگی جیسی صحابہ کرام ؓ نے اللہ کے رسول ﷺ سے راہ حق میں کی انہوں نے اس محبت کی راہ میں سب کچھ قربان کردیا جو انسان کرسکتا ہے اور پھر اس کی راہ سے سب کچھ پایا جو انسانوں کی کوئی جماعت پاسکتی ہے۔ لیکن مقام فکر یہ ہے کہ آج ہمارا حال کیا ہے ؟ کیا ہم میں سے کسی کو جرات ہو سکتی ہے کہ یہ آیت پڑھی جا رہی ہو وہ ہاتھ ہلا کر اپنے ایمان کا احتساب کرے ؟
ایک بار پھر آیت کا مضمون ذہن میں لاؤ کہ آیت کریمہ میں ہر طرح کے بندھوں کا ذکر فرمایا گیا جن میں انسان اپنے آپ کو اپنی فطرت اور ضرورت کے مطابق بندھا ہوا پاتا ہے۔ ماں باپ کی محبت اپنی اولاد سے اور اولاد کی اپنے ماں باپ سے ، بھائی بہنوں کی باہمی الفت ، میاں بیوی کا گہرا تعلق یہ سب انسانی فطرت کے تقاضے ہیں۔ مال ، کاروبار اور مکانات وغیرہ سے انسان کا لگاؤ اس لئے ہے کہ وہ زندگی بسر کرنے اور اسے عزت و آرام سے گزرنے میں ان کا محتاج ہے ۔ دین اسلام کیونکہ دین فطرت ہے وہ انسان کے طبعی تقاضوں اور اس کی ساری ضروریات کا مناسب خیال رکھتا ہے اس لئے اس نے یہ حکم نہیں دیا کہ سرے سے یہ محبت کے رشتے توڑ ڈالے جائیں اور ان چیزوں سے بالکل توجہ ہی ہٹا لی جائے۔ لیکن چونکہ انسانی زندگی کی غرض وغایت صرف انہیں چیزوں تک محدود نہیں بلکہ ان سے بہت آگے اور بہت بلند ہے اس لئے انسان کو انہی تعلقات اور انہیں اشیاء میں کھو جانے سے روکا ہے اور حکم دیا ہے کہ بلاشبہ ان اشیاء سے محبت و پیار کرو لیکن صرف اس حد تک جب تک یہ چیزیں تمہاری اخروی زندگی اور اس کی ترقی میں حائل نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی محبت سے نہ ٹکرائیں۔ ایثار و شہادت کے میدان میں جانے سے تمہارا راستہ نہ روکیں۔ لیکن اگر زندگی میں خدا نہ کرے ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو پھر ان تعلقات کو اور ان چیزوں کو پائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے آگے نکل جاؤ تب تم اپنے آپ کو ایماندار کہلانے کے حق دارہو۔
بعض مفسرین نے اس جگہ محبت طبعی و اخیارری کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جہاں تک انسان کا اختیار ہے وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے اور اگر بلا اختیار وہ کسی اور سے زیادہ محبت کرے تو حرج نہیں لیکن ہم واضح طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان ہی کیا مسلمان ہے جس کی طبیعت شریعت اسلامی کی پابند نہ ہو اور شریعت اسلامی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح کردی گئی ہے۔ چناچہ نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : (لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولد والناس اجمعین ) جب تک اللہ کا رسول ماں باپ اولاد اور ہرچیز سے زیادہ پیار اور محبوب نہ ہو اس وقت تک انسان مومن نہیں ہو سکتا۔
سچ تو یہ ہے کہ ایمان کا لطف ہی تب آتا ہے جب دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت شعلہ زن ہو۔ اس وقت وہ ساری زنجیریں خود بخودپگھل جاتی ہیں اور سارے حجابات تار تار ہوجاتا ہیں اور ماں باپ اپنے بچوں کے تڑپتے ہوئے لاشے دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں ، عورتیں اپنے شوہروں کے سربریدہ جسم دیکھ کر سجدہ شکر ادا کرتی ہیں اور بہنیں دعائیں مانگتی ہیں کہ اے الٰہ العٰلمین ہمارے ماں جائے بھائی کو شہادت نصیب فرما اس وقت نہ رات کو نیند ستاتی ہے اور نہ دن کو تھکن محسوس ہوتی ہے اور اسلام کے نشہ کی شراب اس طرح مست کردیتی ہے کہ عقل و فکر اور سمجھ سوچ کے ساتھ انسان جان دینے کو جان بچانے پر ترجیح دیتا ہے اور فتویٰ والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں کہ جان بچانا فرض ہے۔ وہ اس طرح کے سارے فتو وں کو بےدریغ بھاڑتے ہوئے تلوار کی نوک پر ناچنا فخر سمجھتا ہے۔
یہی وہ مقام تھا کہ انصار کی ایک عفیفہ کے باپ ، بھائی اور شوہر سب ایک ہی معرکہ میں مارے گئے تھے۔ باری باری اس کا کانوں میں ان سخت ترین حادثوں کی دصدا پڑتی جارتی تھی لیکن وہ ہر بار صرف یہی پوچھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں ؟ لوگوں نے کہا بخیر ہیں اس نے آپ ﷺ کے قریب آکر آپ کا چہرہ مبارک دیکھا اور بےاختیار پکار اٹھی کہ :
A کل میصبۃ بعدک جلل
کہ اے رسول ﷺ ! تیرے ہوتے سب مصیبتیں ہیچ ہیں۔
؎ میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی اور برادر بھی فدا۔ اے شہ دیں تیرے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
دعا کیجئے اے اللہ ! ایسی شراب کا ایک پیالہ ہمیں بھی پلادے۔
اللہ تعالیٰ فاسقوں پر کامیابی کی راہ کبھی نہیں کھولتا :
36: جان دینے کے وقت جان بچانے کی سوچ اور جان دینے کے وقت جان بچانے کا فتویٰ دونوں ہی فسق ہیں اور اس کے مرتکب یقیناً فاسق ہیں اور فاسق ہی وہ ہیں جن کا دوسرا نام نافرمان ہے اور نافرمانوں پر اللہ کامیابی کی راہ کبھی نہیں کھولتا۔ قرآن کریم کی اس آیت کا یہ آخری فقرہ ایسے وقت میں مصلحت اندیشوں کی ساری مصلحتوں پر پانی پھیر دیتا ہے اور کھلے الفاظ میں ان کو ” فاسق “ قرار دیتا ہے۔ اللہ ایسے فسق سے بچائے اور ایسے فاسقوں کی صحبت سے بھی بچائے۔ سچے دل سے دعا کرو کہ اے اللہ ! ہم کو ایسے فسق اور ایسے فاسقوں سے اپنی امان میں رکھیو۔
Ayah 9:25اللہ نے کتنے نازک موقعوں پر تمہاری مدد فرمائی اور خصوصاً حنین کے دن :
37: حنین کیا ہے اور حنین کا دن کیسا دن تھا ؟ حنین ایک وادی کا نام ہے جو مکہ سے تین دن کی مسافق شمال میں واقع ہے۔ اس وادی کے نواح میں تفیف و ہوازن آباد تھے۔ جب نبی اعظم و آخر ﷺ 6 شوال 8 ہجری کو بارہ ہزار مجاہدین جن میں سے دس ہزار مدنی اور دو ہزار مکی تھے کہ ہمراہ مکہ سے نکلے تو 10 شوال کو وادی حنین میں پہنچے۔ وہاں تفیف و ہوازن تقریباً ایک لاکھ کی تعداد میں پہلے ہی مقیم تھے جن کی قیادت مالک بن عوف کے ہاتھ میں تھی۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر تمام موزوں مقامات پر قبضہ کرلیا تھا اور تیر اندازوں کے دستے گھاٹیوں میں جا بجا جما دیئے تھے۔ جب 11 شوال کی صبح طلوع ہوئی اور صحابہ کرام ؓ کی صفیں درست ہوئیں اور دشمن کی طرف پیش قدمی کی تو سامنے سے ہزاروں جوان ٹوٹ بڑے اور تیرو کا مینہ برسنے لگا باوجود اس کے اسلامی لشکر کی تعداد بھی ایک کافی تعداد تھی اگرچہ مخالفین کے لحاظ سے بہت ہی کم تھی تاہم مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ضرور تھا۔ بنی تفیف اور ہوازن کی طرف سے حملہ اتنا شدید ہوا اور اتنا بھاری تھا کہ صحابہ کرام ؓ ادھر ادھر بھاگ نکلے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا ہوا ؟ نبی کریم ﷺ کے ساتھ بعض روایات کے مطابق کل سات آدمی رہ گئے۔ عباس ؓ ، علی ؓ ، فضل بن عباس ؓ ، ابوبکر صدیق ؓ ، اسامہ بن زید ؓ اور ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب۔ یہ حالت دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے پورے زور سے آواز دی یا معذر الانصار ، انا ابن عبدالمطلب ، انا النبی لا کذب ۔ اور اسی طرح حضرت عباس ؓ نے بھی لوگوں کو آواز دی چناچہ وہ سب لوٹ کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور اس شجاعت و بےجگری سے لڑے کہ انجام کار دشمن بھاگ کھڑا ہوا اور اس طرح اسلام کی شکست ہوتے ہوتے فتح میں بدل گئی دشمنوں کی فوج تقریباً ستر لاشیں میدان میں چھوڑ گئی۔ صحابہ کرام ؓ میں صرف چار لوگوں کو شہادت ملی۔ اسیروں کی تعداد تقریباً چھ ہزار کے قریب تھی اور مال غنیمت میں 24 ہزار اونٹ اور چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی آئی۔ نبی کریم ﷺ نے تالیف قلوب کے لئے تقریباً سارا مال غنیمت قریش مکہ میں تقسیم کردیا اور خصوصاً سردار ان قریش کو بہت مال دیا۔ چونکہ میدان حنین میں حالات بہت نازک ہوگئے تھے اور خصوصاً صحابہ کرام ؓ کی اکثریت بھاگ نکلی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مدد کا خصوصاً ذکر فرمایا کہ اللہ نے تمہاری شکست خوردہ حالت کو مکمل طور پر فتح میں بدل کر رکھ دیاحالان کہ تمہاری ایسی حالت ہوچکی تھی کہ زمین اپنی ساری کشادگیوں کے باوجود تم پر تنگ ہو کر رہ گئی تھی اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی ناگفتہ بہ حالت کا ذکر فرمایا تاکہ مسلمان سمجھ لیں کہ اپنی کثرت پر ناز کرنے کی بجائے سارا زور صرف کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر انحصار رکھنا نہایت ضروری ہے اور غرور اور تکبر کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔