9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی جانب سے دل کا سکون وقرار نازل فرمایا اور ایسی فوجیں اتار دیں جو تمہیں نظر نہ آتی تھیں اور ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی اور یہی جزا ہے ان لوگوں کی جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں

اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر جو احسان فرمایا اس کا مزید ذکر : 38: وادی حنین میں جو کچھ پیش آیا زیر نظر آیت کا اسلوب بیان اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا محض بطور تنبیہ و تذکر پیش آیا اس تنبیہہ کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے قدم جما دیئے اور وہ اس طرح کہ اللہ نے اپنے رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے مخلص جاں نثاروں پر سکینت کا ذکر فرما کر حالت کی نزاکت کو مزید واضح کردیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے چند جاں نثار ساتھی جو اپنے قدموں پر پختگی سے جمے رہے اور بھاگنے والوں کو آواز اس طرح دی گویا بھاگنے کی کوئی وجہ موجود ہی نہ تھی۔ بھاگنے والوں کے قدم رک گئے اور وہ اس طرح جمع ہوگئے جس طرح کسی نے کوئی بہت بڑا جال پھینک کر ساری مچھلیوں کو اکھٹا کردیا ہو۔ پھر کیا تھا کہ سب صحابہ کرام ؓ نے مل کر ایسا حملہ کیا کہ دشمن کے چھکے چھڑا دیئے اور وہ اس طرح بھاگ کھڑ ہوئے کہ گویا وہ بھاگنے ہی کے لئے اس جگہ جمع ہوئے تھے فرمایا یہ کفارکا بھاگ جانا دراصل ان کے لئے اپنے کئے کی سزا میں عمل میں آیا اور ان کی سزا کا نافذ کرنے والا اللہ ہی تھا جو دراصل فاعل حقیقی ہے اور فتح و نصرت سب اسی کے حکم سے ہے۔ مسلمانوں کو تنبیہہ بھی کردی اور کفار کو ان کے انجام تک بھی پہنچا دیا۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس پر چاہے گا اپنی رحمت سے لوٹ آئے گا اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا رحمت والا ہے

ابھی تک کفر پر قائم رہنے والوں میں سے بعض کے اسلام قبول کرلینے کی پیش گوئی : 39: فرمایا بنی تفیف اور ہوازن نے شکست کھانے کے باوجود اگر ابھی تک کفر نہیں چھوڑا تو ہم تم کو قبل از وقت بطور پیش گوئی اطلاع دیتے ہیں کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اسلام کی طرف رغبت کریں گے اور یقیناً مسلمان ہوجائیں گے اللہ جس کو چاہے توبہ کی توفیق عطا فرمادے کیونکہ اس کا قانون مشیت اپنا کام کرتا ہی رہتا ہے اور یہی کچھ ہوا ابھی ایک مہینہ پورا نہیں گزرا تھا کہ تفیف و ہوازن کے لاتعداد لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کو قبول کیا اور ہوازن کے چودہ سرداروں کا یک وفد زہیر بن صرف کی قیادت میں آپ ﷺ کے پاس آیا جن میں نبی کریم ﷺ کے رضاعی چچا ابویرقان بھی تھے انہوں نے حاضر ہو کر عرض کیا ہماری اکثریت مسلمان ہوچکی ہے اس لئے ہماری درخواست ہے کہ ہمارے اہل و عیال اور اموال ہمیں واپس دے دیئے جائیں اس درخواست میں کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! جو مصیبت ہم پر پڑی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں۔ آپ ہم پر احسان فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے یہ موقع بہت ہی مشکل تھا کیونکہ ایک طرف ان لوگوں پر رحم و کرم کا تقاضا یہ تھا کہ ان کے سارے قیدی اور مکمل اموال واپس کردیئے جائیں اور دوسری طرف یہ کہ سارا مال اور لوگ قریش مکہ ہی میں تقسیم کردیئے گئے تھے ہو ابھی ابھی مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اعظم و آخر ﷺ نے بخاری شریف کی روایت کے مطابق ان کو یہ جواب دیا کہ میرے ساتھ کتنے مسلمانوں کا لشکر ہے جن میں یہ اموال تقسیم کردیئے گئے ہیں میں سچی اور صاف بات کو پسند کرتا ہوں اس لئے آپ کو اختیار ہے کہ ان دونوں چیزوں یعنی اموال اور اپنے لوگوں میں سے ایک تم کو واپس کی جاسکتی ہے جس کو آپ پسند کریں۔ ان لوگوں کو قیدیوں کی واپسی کو پسند کیا تو رسول اللہ ﷺ نے تمام صحابہ کرام ؓ کو جمع کر کے ایک خطبہ دیا جس میں حمد و ثنا کے بعد فرمایا : ” یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آئے ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے قیدی ان کو واپس دے دیئے جائیں۔ تم میں سے جو لوگ خوش دلی کے ساتھ اپنا حصہ واپس دینے کے لئے تیار ہوں وہ احسان کریں اور جو اس کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم ان کو یعنی نبی ثقیفہ و ہوازن کو آئندہ اموال فے میں سے اس کا بدلہ دے دیں گے۔ “ آپ ﷺ کی آواز پر شیدائیوں نے لبیک کہی اور مختلف اطراف سے آوازیں بلند ہوئیں کہ ہم خوش دلی کے ساتھ سب قیدی واپس کرنے کے لئے تیار ہیں مگر عدل و انصار اور حقوق کے معاملہ میں احتیاط کے پیش نظر۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی مختلف آوازوں کو کافی نہ سمجھا اور فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کون لوگ اپنا حق چھوڑنے کے لئے خوش دلی سے تیار ہوئے اور کون ایسے ہیں جو شرم شرمی خامش رہے ہیں۔ معاملہ لوگوں کے حقوق کا ہے اس لئے ایسا کیا جائے کہ ہر جماعت اور خاندان کے سردار اپنی اپنی جماعت کے لوگوں سے الگ الگ صحیح بات معلوم کر کے مجھے بتائیں۔ اس کے بعد سارے خاندانوں کے سرداروں نے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ سب لوگ خوش دلی سے اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ تب نبی کریم ﷺ نے یہ سب قیدی ان کو واپس کردیئے۔ اس طرح آیت 27 کی پیش گوئی بھی پوری وہئی اور سول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کا امتحان بھی ہوگیا جس میں سارے کے سارے صحابہ ؓ بحمداللہ پاس ہوئے۔ اس واقعہ کی تفصیلات میں عوام اور حکومت دونوں کے لئے بیشمار ہدایات ہیں۔ جو شخص ان عبارات پر غور و فکر کرے گا وہ یقیناً اس میں ہدایت پائے گا اور جوں جوں گہری نظر ڈالی جائے گی انشاء اللہ اس کی بصیرت اس واقع کی روشنی میں دور دور تک کام کرے گی اور خصوصاً جو لوگ خاندانوں اور جماعتوں کے سردار ہیں ان کو اس میں سے بہت کچھ میسر آئے گا۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے مسلمانو ! حقیقت حال اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ مشرک نجس ہیں (گویا شرک نے ان کے دلوں کی پاکیزگی صلب کرلی ہے) پس چاہیے کہ اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں اور اگر تم کو فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو تو گھبراؤ نہیں اللہ چاہے گا تو عنقریب تمہیں اپنے فضل سے تونگر کر دے گا اللہ سب کچھ جاننے والا ، حکمت رکھنے والا ہے

اعلان عام کہ مشرک ناپاک ہیں وہ حدود حرم میں داخل نہ ہونے دیئے جائیں : 40: اس سورة مبارکہ کے شروع ہی میں کفار و مشرکین سے اعلان براءت کیا گیا تھا اور یہ اس اعلان براءت کے سلسلہ کی آخری ہدایت ہے جس کا ذکر شروع سے چلا آرہا ہے۔ اس اعلان میں فرمایا گیا کہ ” مشرکین نجس ہیں۔ “ نجس۔ نجاست پلیدی کو کہتے ہیں وہ پلیدی بھی جو ظاہری طور پر نظر سے محسوس ہو اور وہ بھی جو صرف بصیرت ہی سے معلوم ہو یعنی باطنی ناپاکی (امام راغب) اس جگہ مراد بصیرت سے معلوم ہونے والی ناپاکی ہی مراد لی جاسکتی ہے۔ مشرک خواہ کتنا ہی صاف ستھرا اور نہایا دھویا اور صاف لباس پہنے ہو ، ہر حال میں ناپاک ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ناپاکی سے مراد باطنی ناپاکی ہی لی جاسکتی ہے کیونکہ ان کے عقائد ناپاک ہیں اور شرک فی نفسہٖ سب سے بڑء ناپاکی ہے اور مسجد الحرام کو اللہ نے توحید کا ایک پاکیزہ نشان بتایا ہے اس لئے مشرکوں کے عقائد کی اب وہاں کوئی گنجائش نہیں۔ مشرکوں کو جو حرم پاک سے روک دیا گیا ہے تو یہ حکم صرف حج کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ مشرک اور کافر کو مکمل طور پر رکاوٹ ہے کہ وہ احرام محتروم میں داخل نہیں ہو سکتا اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس حکم کی پوری پوری پابندی کریں اور کسی غیر مسلم مشرک اور کافر کو حرم میں داخل نہ ہونے دیں۔ یہ پابندی حرم بیت اللہ کے ساتھ خاص ہے اور اس میں حکمت یہ رکھی گئی ہے کہ تا قیامت یہ مرکز اسلامی ہی کی تصرف میں رہے اور کبھی کسی غیر مسلم کے تصرف میں نہ آئے۔ فتح مکہ کے بعد سے غیر مسلموں کا تصرف تو بیت اللہ سے ختم ہو ہی چکا تھا لیکن 9 ہجری کے حج تک ان کو یہ مہلت حاصل رہی کہ وہ حج کے لئے آتے اور اپنے طریقے کے مطابق حج کے مراسم بھی ادا کرتے اور اس حکم میں اس کا اعلان کردیا گیا کہ اس سال کے حج بیت اللہ کے بعد کوئی مشرک حرم میں داخل ہی نہیں ہو سکے اور آج سے مشرکین کو مکمل طور پر حرم محترم سے نکل جانے کا حکم عام ہے۔ اس جگہ اب کبھی مشرکانہ پوجاپاٹ کی اجازت نہیں گی۔ سیٹیاں اور تالیاں بجا بجا کر ننگے طواف کرنے اور اس قسم کی دوسری لغورس میں قطعاً بند ہیں۔ مسلم مکاتب فکر میں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے کہ آیا کسی مسجد میں بھی کافرو مشرک داخل نہیں ہو سکتا یا یہ حکم بیت اللہ کے ساتھ خاص ہے اگرچہ بعض نے ساری مسجدوں میں غیر مسلموں میں داخلہ ممنوع قرار دیا ہے تاہم صحیح اور سیدھی بات یہی ہے کہ یہ حکم حرم بیت اللہ کے ساتھ خاص ہے کیونکہ خود پیغمبر اسلام کا یہودی اور مشرکوں سے ہر طرح کی معاشرت رکھنا ، ایک ساتھ کھانا پینا ، ان کی دعوتوں میں جانا اور انہیں دعوتوں میں بلانا حتیٰ کہ انہیں مسجد الیبا کے اندر ٹھہرانا ثابت ہے اس لئے بالاتفاق یہ حکم صرف بیت اللہ سے تعلق رکھتا ہے عام مساجد میں غیر مسلموں کے لئے کوئی شرعی ملک نہیں ہاں ! شرکیہ عبادت کی اجازت کسی مسجد میں بھی نہیں دی جاسکتی۔ البتہ اللہ کی عبادت ایسے طریقے پر جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو دی جاسکتی ہے۔ بلکہ آپ ﷺ نے دی بھی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو اپنے طریقہ پر عبادت کی اجازت اس لئے دی تھی کہ ان کا صرف قبلہ الگ تھا اور انکی عبادت میں کوئی شرک کی بات موجود نہ تھی۔ آج کل مسلمان کہلا کر جو لوگ شرک کے مرتکب ہوتے ہیں چونکہ وہ عرف عام میں مسلمان ہی کہلاتے ہیں اس لئے ان کو فقط حرم محترم میں کوئی شرک کا کام کرنے کی اجازت نہیں دی سکتی اور حکومت اسلامی کا فرض ہے کہ وہ اگر کوئی ایسی بات ان میں دیکھے تو سختی سے ان کو روکے اور اگر وہ باز نہ آئیں تو ان کو فوراً وہاں سے نکل جانے کا حکم دے۔ ہاں ! اس آیت سے اس طرح کے مسائل نکالنا کہ مشرک و کافر اگر ساتھ چھو جائے تو کیا حکم ہے ؟ اگر اس سے ہاتھ لگ جائے تو کیا کرے ؟ اگر اس کے ساتھ کوئی علیک سلیک کرے تو کیا فتویٰ ہے ؟ وہ کسی سے علیک سلیک کریں تو کیا کیا جائے ؟ یہ اور اس طرح کے سارے سوالات بلاشبہ لغو ہیں اور جن لوگوں نے ایسے مسائل کو اٹھایا ہے وہ علم سے بلاشبہ بالکل کورے ہیں۔ مرکز اسلامی یعنی بیت اللہ میں ان کی آمد سے روک ایسے مسائل کی قطعاً متحمل نہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کی طرف جس حکم کی نسبت کی جاتی ہے وہی حقیقت میں صحیح اور حق ہے کہ : لا یحجن بعد العام مشرک یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے یا حج نہیں کرسکتا خواہ حج اکبر ہو یا حج اصغر یعنی عمرہ اور یہ حکم اس طرح کا ہے جیسے خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ : (لا احل المسجد لحائض ولا جنب) یعنی مسجد میں داخل ہونا کسی حائضہ عورت یا جنبی عورت و مرد کا منع ہے۔ ممانعت عام مساجد کے لئے ہے جب تک کہ علت دور نہ ہوجائے اور حرم میں داخلہ کی ممانعت ہر مشرک و کافر کے لئے ہے جب تک کہ علت دور نہ ہوجائے یعنی وہ مسلمان نہ ہو۔ حج ایک عبادت ہے کاروبار نہیں اور روزی رساں سب کا اللہ تعالیٰ ہے : 41: زیر نظر آیت کے تحت جب کفار و مشرکین کا داخلہ حرم میں ممنوع قرار پایا تو اہل مکہ کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اس طرح حجاج کی تعداد کم ہوگی تو مسلمانوں کے لئے معاشی مسئلہ پیدا ہوگا اس کا جواب ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ اگر تم کو معاشی مشکلات کا اندیشہ ہے تو سمجھ لو کہ نظام معاشی پوری مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اگر وہ چاہے گا تو وہ تم کو ان سب کفار و مشرکین سے مستغنی کر دے گا اور حالات کے لحاظ سے بھی اللہ نے سارا ملک ہی مسلمانوں کا کردیا اور مشرک ڈھونڈنے سے بھی وہاں نہیں ملتا اور اس طرح مختلف بلاد و امصار سے تجارتی سامان آنے لگا۔ بارشیں ہونے لگیں اور وہ علاقے جو میدانی ہیں ان میں باقاعدہ زراعت ہونے لگی جس سے پیدا وار بڑھ گئی۔ فتوحات و غنائم کے دروازے کھول دیئے گئے۔ اہل کتاب اور دوسرے غیر مسلموں سے جزیہ کی وصولی ہونے لگی اور اس وقت ہر جانے والا اچھی طرح دیکھ سکتا ہے کہ دنیا کی وہ کیا چیز ہے جو وہاں میسر نہیں۔ انعامات الٰہی کی اب بھی بارش اس طرح جاری وساری ہے بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ہے اگرچہ حکومت اسلامی نگاہ سے دیکھنے والوں کے لئے بہت سی ایسی سستیاں کر رہی ہے جو ایک اسلامی حکومت کے لئے کسی طرح بھی جائز اور درست نہیں خصوصاً اسلامی مرکزیت کی حیثیت سے جو اس کو قدرتاً اور فطرتاً عطا کردی گئی ہے انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے کسی وقت بھی اس کا رخ سیدھا کرسکتا ہے اور ہم اس سے دعا کرسکتے ہیں اور وہی کرتے رہیں گے۔ سارے علم اور پوری حکمت کا وہ خود مالک ہے اور سب کچھ اسی کے دست قدرت میں ہے۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ نہ تو اللہ پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر ، نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے کتاب الٰہی میں حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہی سچے دین پر عمل پیرا ہیں تو ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنی خوشی سے جزیہ دینا قبول کرلیں اور ان کی سرکشی ٹوٹ چکی ہو

اہل کتاب کی مذہبی اور سیاسی حالت اور ان کے جرائم کا تذکرہ : 42: مشرکین کے بعد اب اہل کتاب کہلانے والے یہود و نصاریٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ ان کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ اللہ کو مانتے ہیں اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔ آسمانی کتب اور انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت پر ان کا پختہ یقین ہے لیکن ان کا عمل ان کے اس سارے دعویٰ کی تکذیب کرتا ہے۔ اس لئے اب ان کے اس زبانی دعویٰ کا کچھ اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ ہی آخرت پر ان کو کچھ یقین ہے اور نہ ہی ان چیزوں کو وہ حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ حرام ٹھہرانا ان کی اپنی آسمانی کتابوں میں موجود ہے اور نہ ہی ان کا ایمان انبیائے کرام (علیہم السلام) کی لائی ہوئی ہدایات پر ہے اور اسی طرح وہ سچے دین کو بھی قبول نہیں کرتے۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم سے جو معلوم ہوتا ہے وہ تو یہی ہے کہ یہودونصاریٰ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں اور قیامت کے بھی قائل ہونے کا اقرار کرتے ہیں پھر ان چیزوں سے ان کے ایمان کی نفی کیسے کی گئی ؟ حقیقت یہ ہے کہ محض دعویٰ کبھی درست نہیں ہوتا جب تک اس دعویٰ پر دلیل موجود نہ ہو۔ دعویٰ صرف دعویٰ کردینے سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ پہلے دعویٰ کیا جاتا ہے اور پھر اس پر دلیل دے کر دعویٰ ثابت کیا جاتا ہے۔ جس طرح کا ایمان اللہ کے نزدیک مطلوب ہے اس طرح کا ایمان نہ ہوا تو وہ نہ ہونے ہی کے حکم میں ہے۔ یہود و نصاریٰ نے اگرچہ اعلانیہ طور پر توحید الٰہی کا انکار نہیں کیا لیکن عملی طور پر ان کا اعلان آج بھی قرآن کریم میں موجود ہے اور اس طرح آخرت پر جس طرح کا ایمان عنداللہ مطلوب ہے وہ بھی اہل کتاب میں نہیں رہا تھا کیونکہ ان کے اعمال اس بات کی تصدیق کر رہے تھے کہ وہ اس دعویٰ میں بی مطلق جھوٹے ہیں اور اس طرح جن چیزوں کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے وہ ان کو عملی طور پر حرام نہیں سمجھتے اور حلت و حرمت میں جو کچھ مسلمانوں کے ہاں حرام ہے مکمل طور پر وہی اہل کتاب کے ہاں بھی حرام ہے اور جو کچھ اہل اسلام کے ہاں حلال ہے وہی اہل کتاب کے ہاں حلال ہے ہم اس کی مکمل تشریح پیچھے سورة مائدہ اور سورة الانعام میں کرچکے ہیں۔ مثلاً سور جس کو خنزیر بھی کہا جاتا ہے آج بھی اسی طرح حرام لکھا ہے لیکن اہل کتاب کی وہ اس وقت مرغوب غذا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ صرف زبان سے ان چیزوں کا اقرار کرنا اور عملی طور پر ان کے انکار کرنے کا نتیجہ انکار ہی ہوتا اس دعویٰ کی کوئی قیمت نہیں جو دلیل نہ رکھتا ہو اور یہ حال منافقین کا ہے کہ وہ بظاہر اقرار کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرتا اس وجہ سے ان کو مومن نہیں کہا جاسکتا بلکہ منافق کہا جاتا ہے۔ ہاں ! یہ لوگ یعیو منافق اسلام کے اندر داخل ہونے کے باوجود اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں اور وہ اہل کتاب کہلانے کے باوجود اہل کتاب سے خارج کئے جا رہے ہیں اس لئے فرمایا کہ جب مشرکین کی بیخ کنی ہوچکی اور ان کی شرارتوں کے باعث ان کو سزا دی گئی تو اب ان اہل کتاب کہلانے والوں کی شرارتوں کا جواب بھی دینا چاہئے اور ان کو اہل کتاب کی نگاہ سے نہیں بلکہ غیر مسلم اور کافر ہی کی طرح سمجھا جائے گا۔ اگر وہ شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان سے جنگ لڑی جائے گی اور اگر ان کو اسلامی حکومت کے شہری بن کر رہنا ہے تو ان کا شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان سے جنگ لڑی جائے گی اور اگر ان کو اسلامی حکومت کے شہری بن کر رہنا ہے تو ان کا شرارتوں سے باز آنا لازم و ضروری ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کی راہ میں حائل نہ ہوں اور اپنی منافقت پر ہی قائم رہنا چاہتے ہیں تو اسلامی حکومت کو ٹیکس ادا کریں اور ان حدود کے اندر رہیں جو اسلامی قانون نے ان کے لئے متعین کردیا ہے۔ اہل کتاب کے لئے ضروری ہے کہ وہ جزیہ ادا کریں : 43: وہ سب سے پہلی پابندی یہی عائد کرتا ہے کہ وہ جزیہ دینا منظور کرلیں تاکہ یہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ اس بلک کے اندر امن وامان سے رہنا چاہتے ہیں۔ یہ ٹیکس ادا کرنا اس بات کی ظاہری علامت ہے کہ وہ اسلام کے غلبہ کو قبول کرچکے ہیں اور کسی قسم کی مزاحمت کرنا نہیں چاہتے۔ ہاں ! یہ صحیح ہے کہ وہ بطور دین اسلام کو قبول بھی نہیں کرنا چاہتے اور اپنے خود ساختہ دین پر جس کا نام انہوں نے ییہودیت یا عیسائیت رکھا ہے قائم رہنا چاہتے ہیں تو ان کو مجبور کر کے اسلام ان کے اندر ٹھونسا نہیں جائے گا بلکہ ان کو اسلامی ملک کا ایک آزاد شہری ہونے کے حقوق میسر ہوں گے اور ان کی ہر طرح کی نگہداشت کا ذمہ دار اسلام ہوگا۔ جزیہ کیا ہے ؟ جزیہ جزیہ کے لفظی معنی بدلے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں اس سے مراد وہ رقم ہے جو کفار سے ان کی نگہداشت کے ضمن میں وصول کی جاتی ہے۔ گویا جزیہ ایک ٹتیکس ہے جو اسلامی حکومت غیر مسلم افراد سے وصول کرتی ہے تاکہ ان کی نگہداشت کی جاسکے اور یہ ٹیکس بالغ اور کمانے والے افراد پر عائد ہوتا ہے اور حکومت تاس کے عوض اس کی جان و مال اور زن و فرزند کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے اس کی مقردار افرات کی حیثیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔ جس میں چھوڑ اور رعایت کی بہت گنجائش رکھی گئی ہے اور حقیقت میں دیکھا جائے تو اسلام جو اپنے ماننے والوں یعنی مسلمانوں پر ٹیکس عائد کرتا ہے اس سے اس کی مقدار بہت کم رکھی گئی ہے۔ تفصیل کا یہ مقام نہیں وہ غیر مسلموں کے حقوق کے عنوان میں کسی بھی اسلامی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس جگہ ایک سوال یہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ اہل کتاب کو مشرکین سے الگ کیوں رکھا گیا ؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مخاطبین اول قریش مکہ ہی تھے اور انہوں نے ہی نے سب سے پہلے اسلام کی مزاحمت کی۔ اہل کتاب ان کی مدد صرف زبانی کلامی کرتے رہے وہ اس سے پبلے کبھی اسلام کا راستہ روکنے کے لئے سامنے نہ آئے تھے اگرچہ اندر ہی اندر سازشین کرتے رہے تھے اور ان کی سزا بھی پاتے رہے تھے۔ قریش مکہ کی قوت خرم ہوجانے کے بعد انہوں نے بھی قسمت آزمائی کی اس لئے ان کے احکام بھی قریش مکہ کے بعد ہی بیان کئے گئے۔ رہی جزیہ کی بات تو اس کی نوبت ہی اس وقت آئی جب مشرکین مکہ مکمل طور پر اسلام لا چکے تھے اور وہ من حیث الجماعت اسلام کے مقابلہ میں نہیں رہے تھے اگرچہ ان میں سے بعض نے منافقت کا پہلو اختیار کیا تاہم وہ ظاہری طور پر مسلمان ہی سمجھے جاتے تھے کیونکہ انہوں نے اسلام کا اقرار کرلیا تا بعد ازیں جب وہ من حیثیت الجماعت دوبارہ ابھرے تو وہ بھی انہی کفار کے ساتھ شامل کر لئے گئے جو جزیہ دے کر اسلامی حکومت میں امن وامان سے رہنا چاہتے تھے جیسے سائبین کا ایک گرچہ سیدنا عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں جزیہ ادا کرتا رہا تھا۔ عَنْ یَّدٍ ید کے معنی ہاتھ کے ہیں لیکن اس جگہ تمام مفسرین اسلام نے اس کے معنی قوت اور طاقت ہی کے لئے ہیں اور کسی ایک نے بھی اس سے انکار نہیں کیا جس کا مطلب بالکل صاف ہے کہ ہاتھ بمعنی طاقت و قوت استعمال ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مراد اللہ کی طاقت اور قوت ہی لی ہے لیکن اکثر مفسرین کو اس سے شدید اختلاف ہے۔ حالانکہ ایک حقیقت کو حقیقت مان لینے سے قطعاً کوئی سبکی کی بات نہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ کی ذات ان ہاتھوں سے جو ہر کو دو ہاتھ دیئے گئے بالکل پاک اور منزہ ہے اور اس طرح کے اس کے ہاتھ تسلیم نہیں کئے جاسکتے جن سے اللہ تعالیٰ کی ذات بھی کسی کے مثل ثابت ہو کیونکہ اسلام نے اس کی پوری پوری وضاحر کردی ہے کہ اللہ کی مثال کوئی چیز نہیں ہے اور رہی قوت تو اس معاملہ میں مماثلت ممکن ہی نہیں کیونکہ انسان کی قوت عطائی ہے جو اس سے سلب بھی کی جاسکتی ہے اور قوت الٰہی ذاتی قوت ہے اجو کبھی سلب نہیں ہوسکتی۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب ہوں یا دوسرے کافر وہ اسلامی حکومت و اقتدار اور طاقت و قوت کا اقرار کرتے ہوئے عملی طور پر جزیہ ادا کرنے پر خود رضا مند ہوجائیں تو ان کو اسلامی حکومت میں امن وامان کی زندگی میسر آجائے گی اور یہی باتصٰغِرُوْنَ کے لفظ سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ صاغر کے معنی ہیں چھوٹے مرتبے پر راضی ہوجانا یعنی کسی کی محکومیت اختیار کرلینا اور یہ تسلیم کرلینا کہ حکومت کرنا اس کا حق ہے ہمارا نہیں۔ اس طرح مزید وضاحت ہوگئی کہ یہود و نصاریٰ اور دوسرے کفار اگر اپنے اپنے غیر اسلامی نظریات پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو یہ تسلیم کرلیں کہ حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور اسلام کی طاقت و قوت کے سامنے ہم اپنی طاقت و قوت کا مظاہرہ نہیں چاہتے بلکہ امن وامان کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اسلامی مملکت کے انتظامی کاموں میں ہم جزیہ ادا کر کے زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اسلامی حکومت جو ٹیکس ان پر عائد کرتی ہے اس کا نام اسلام میں جزیہ ہے۔ زیر نظر آیت دراصل جنگ تبوک کی تیاریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ عرب کے شمال میں رومن امپائر کی شہ پر عرب کے اہل کتاب ناز کرتے تھے۔ اس لئے ایک لحاظ سے ان کے ناز کو توڑ دیا اور دوسری طرف اسلامی لشکر کی تیاریاں رومن امپائر کی قوت کو توڑنے کی شروع ہوگئیں اور اس کا نام تبوک کی تیاری ہے جس میں مسلمانوں کا تیس ہزار کا لشکر ترتیب دیا گیا تھا۔ زیر نظر آیت 29 کے مضمون پر ایک بار پھر مجموعی نظر ڈال لیں۔ اس میں چند ایک مہمات ہیں جن کو اس جگہ بیان کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے : (ا) آیت (29) میں عرب کے ان یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی تمام معاہدات فسخ کردینے کا حکم دیا ہے ، جنہوں نے یکے بعد دیگرے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کی تھیں اور مسلمانوں کے امن و عافیت کے خلاف ایک بہت بڑا خطرہ بن گئے تھے اور حکم دیا ہے کہ مشرکین عرب کی طرح ان کے خلاف بھی اب اعلان جنگ ہے۔ اسلام کا جب ظہور ہوا تو حجاز میں یہودیوں کی متعدد جماعتیں آباد تھیں ، لیکن عیسائیوں کی کوئی قریبی آبادی نہ تھی وہ یا تو یمن میں تھے یا عرب اور شام کے سرضدی علاقے میں یہودیوں کا جو طرز عمل تھا ، اس کی طرف اشارت گزر چکے ہیں۔ عیسائیوں کی حالت یہودیوں سے مختلف رہی۔ ان کی طبیعت میں جمود اور سختی نہ تھی جو یہودیوں میں طبیعت ثانیہ ہوچکی تھی اس لئے جب انہوں نے اس دعوت کا حال سنا تو مخالفت کا جوش پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی طرف مائل ہونے لگے چناچہ یمن کے عیسائیوں نے ابتداء سے موافقانہ روش اختیار کی تھی اور خود اپنی خوشی سے جزیہ دینا قبول کرلیا تھا۔ پھر خود بخود اسلام نے اپنی راہ وہاں نکال لی ، انہی کے وفد سے وہ مخاطبات ہوئے تھے جو سورة آل عمران میں گزر چکے ہیں۔ عرب سے باہر کے جن عیسائیوں تک اسلام کی دعوت پہلے پہل پہنی ، ان کا بھی یہی حال رہے۔ چناچہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے جو بادشاہ مسلمان ہوا وہ جبش کا عیسائی فرمانروا ” نیگوش “ تھا جسے عرب نجاشی کہا کرتے تھے اور جس کی حق شناسی اور استعداد ایمانی کی مدح خود کلام الٰہی نے کی ہے۔ (5 : 83) اس عہد کے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس اختلاف حال کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے اور اس کی علت بھی واضح کردی ہے۔ (5 : 82) لیکن آگے چل کر جب اسلام کی دعوت زیادہ پھیل گئی تو وہ عیسائی ریاستیں جو عرب اور شام کے سرحدی علاقہ میں قائم ہوگئیں تھیں اور رومی حکومت کے ماتحت تھیں ، اس تحریک کی ترقی گوارا نہ کرسکیں اور رومی شہنشاہی کی پشت گرمی سے معذور ہو کر آمادہ پیکار ہوگئیں۔ سب سے پہلا معاملہ حضرت حارث بن عمیر کی شہادت کا پیش آیا۔ آنحضرت ﷺ نے انہیں دعوت اسلام کا خط دے کر ” موتہ “ بھیجا تھا جہاں کا رئیس شرجیل عمرو غسانی تھا۔ اس نے انہیں بغیر کسی جرم و قصور کے قتل کرادیا۔ اس صریح عذر وظلم نے پیغمبر اسلام کو جنگ پر مجبور کردیا اور ایک فوج 8 ہجری میں روانہ کی گئی اس وقت شہنشاہ قسطنطنیہ بھی شام بھی مقیم تھا اس سے رئیس موتہ نے مدد مانگی اور شاہی فوج بھی میدان میں آگئی۔ تاہم فتح مسلمانوں کی ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد شام کے تمام عرب قبائل نے تہیہ کرلیا کہ مسلمانوں پر حملہ کردیں اور شہنشاہ قسطنطنیہ نے بھی ان کی اعانت کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ شاہی فوجیں شام میں جمد ہونے لگیں اور پیغمبر اسلام ﷺ کو خود دفاع کے لئے نکلنا پڑا۔ یہی دفاعی اقدام ہے جو غزوہ تبوک کے نام سے مشہوا ہوا لیکن جو پیغمبر اسلام تبوک پہنچے تو معلوم ہوا ، مسلمانوں کے اس بےباکانہ اقدام نے دشمنوں کے ارادے پست کردیئے اور اب حملہ کا ارادہ ملتوی ہوگیا۔ اس سورة کی یہ آیتیں اس واقعہ کے بعد ہی نازل ہوئی تھیں اور چونکہ اب مسلمانوں پر اس جانب سے سخت حملہ ہونے والا تھا اور دوسری طرف عرب کے یہودی بھی اپنی سازشوں سے سرگرم تھے اس لئے ناگزیر ہوگیا تھا کہ مشرکین عرب کی طرح ان کے خلاف بھی جنگ کا اعلان کردیا جائے۔ پس اس آیت میں ” جنگ کرو “ کے حکم سے مقصود جنگ کی یہی صورت ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کے تمام یہودیوں پر محض ان کے یہودی اور عیسائی ہونے کی وجہ سے حملہ کردو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں یا جزیہ نہ دیں ، جیسا کہ معترضین اسلام نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ، ایسا مطلب صرف وہی قرار دے سکتا ہے جو پورے قرآن سے ، پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی سے ، صحابہ ؓ کے حلات سے اور تاریخ اسلام سے یک قلم آنکھیں بند کرلے۔ حکم قتال کے ساتھ یہ بات بھی واضح کردی کہ ان جماعتوں کو دعوت حق سے کیوں بغض ہوا اور کیوں راستی و عدالت سے منہ موڑ کر مسلمانوں کی ہلاکت و بربادی کے درپے ہوگئے ؟ چناچہ پہلے اہل کتاب کا نام نہیں لیا بلکہ ان کے چار سلبی وصف بیان کئے یعنی جن لوگوں کے اوصاف کا یہ حال ہے ، ان سے راستی و عدالت اور پاس عہد وقرار کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی اور وہ پیروان حق کی عداوت سے کبھی باز آنے والے نہیں۔ پس اگر ان سے جنگ نہ کی جائے تو چارہ کار کیا رہا ہے ؟ فرمایا ، باوجود اہل کتاب ہونے کے اب ان کا حال یہ ہے کہ نہ تو اللہ پر ایمان باقی رہا ہے نہ آخرت پر ، زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں ، لیکن ان کا ہر عمل اعلان کرتا ہے کہ مومن نہیں۔ پھر اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ حرام کردیا تھا ، اب ان کے لئے حرام نہیں رہا کیونکہ اول تو ہواء نفس سے حیلے نکال کر کتنی ہی حرام چیزیں حلال کرلیں۔ پھر حلت و حرمت کا حق بھی خدا اور رسول کی جگہ اپنے فقہیوں اور پیشواؤں کو دے دیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس دین حق کی انہیں حضرت موسیٰ اور مسیح (علیہما السلام) نے تعلیم دی تھی اسے یک قلم چھوڑ چکے ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے ایمان کی اسی طرح نفی کی ہے جس طرح سورة بقر میں کی ہے کہ : وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا ہُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۘ008 (2 : 8) (ب) اس کے بعد فرمایا : حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ ہُمْ صٰغِرُوْنَ (رح) 0029 یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے اٹھا کر جزیہ دے دیں اور ان کا گھمنڈ ٹوٹ چکا ہو۔ نہ صرف عربی زبان میں یہ محاورہ موجود ہے کہ کسی چیز کو خود اپنے ہاتھ سے دے دینا رضا مندی سے دینا ہوتا ہے۔ مثلاً اردو میں کہیں گے ” تم اپنے ہاتھ سے اٹھا کر جو دے دو گے ، ہم لے لیں گے۔ “ یعنی اپنی خوشی سے جو دے دو ، وہی ہمارے لئے ٹھیک ہے۔ ٹھیک یہی مطلب عربی میں بھی اس ترکیب کا ہوتا ہے۔ پس مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنی خوشی سے جزیہ دینا منظور کرلیں اور ان کا گھمنڈ اور ظلم جس نے انسان کے امن و راحت کو خطرہ میں ڈال دیا تھا ، باقی نہ رہے۔ (ج) : عربی میں جزیہ خراج کے عمنی میں بھی بولا گیا ہے جو اراضی سے وصول کیا جاتا ہے اور ٹیکس کے لئے بھی جو اشخاص پر عائد ہوتا ہے۔ ایران اور روم میں اسی طرح کے ٹیکس لئے جاتے تھے اور عربی کے جن حصوں نے ان کی باجگزاری منظور کرلی تھی وہ اس طرح کے ٹیکسوں سے آشنا ہوگئے تھے۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ نجران (یمن) کے عیسائیوں کا جب وفد آیا تو اس نے خود یہ بات پیش کی کہ ہم مسلمان تو نہیں ہوتے لیکن اطاعت قبول کرلیتے ہیں۔ آپ ہم پر جزیہ مقرر کردیں۔ غالباً کزیہ لینے کا پہلا واقعہ ہے جو تاریخ اسلام میں پیش آیا۔ اس کے بعد بحرین کے یہودیوں اور مجوسیوں سے جزیہ لیا گیا۔ (د) : یہاں جزیہ لینے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اگرچہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ذکر میں آیا لیکن اصلاً حکم تمام غیر مسلموں کے لئے ہے جو اسلامی حکومت کے ماتحت رہنا منظور کرلیں چناچہ صدر اول سے لے کر آخر تک تمام اسلامی حکومتوں کا عمل اسی پر رہا۔ خود آنحضرت ﷺ نے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ صحابہ ؓ نے صابیوں سے لیا اور خلفاء بنو امیہ و عباسیہ کا سندھ کے بندوؤں سے اور پیروان بدھ سے لینا معلوم ہے۔ البتہ عرب کے غیرمسلموں کے بارے میں اختلاف ہوا اور امام ابوحنیفہ (رح) اور قاضی ابو یوسف (رح) اس طرف گئے ہیں کہ ان سے جزیہ پر مصالحت نہیں ہوسکتی لیکن اس بارے میں صحیح مذہب جمہور ہی کا ہے یعنی عرب و عجم کی کوئی تفریق نہیں کیونکہ خود آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ کا عرب کے غیر مسلموں سے جزیہ لینا ایک مسلم واقعہ ہے۔ باقی رہے مشرکین عرب ، تو ان کا سوال عملاً پیدا ہی نہیں ہوا ککیون کہ سورة برات کے نزول کے بعد تمام مشرکین عرب مسلمان ہوچکے تھے اور حکمت الٰہی کا فیصلہ یہی تھا کہ جاہلیت عرب کا شرک پھر کہاں سر نہ اٹھائے۔ (ہ) قرآن نے غیر مسلموں سے جزیہ لینے کا حکم کیوں دیا ؟ اس لئے کہ ہق و انصاف کا مقتضی یہی تھا اور اس لئے کہ وہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کے نظام حکومت میں غیر مسلموں پر اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے جتنا بوجھ مسلمانوں کو اٹھانا پڑے گا۔ اسلام نے مسلمانوں پر جنگی خدمت فرض کردی تھی ، یعنی آج کل کی اصطلاح میں فوضی قانون جبری تھا اور اس لئے ضروری تھا کہ غیر مسلم اسلامی حکومت کے ماتحت شہری زندگی بسر کریں وہ بھی ملک کی حفاظت کے لئے جنگ میں شریک ہوں لیکن اسلام نے اسے انصاف کے خلاف سمجھا کہ اس بارے میں غیر مسلموں پر جبر کیا جائے اس نے یہ بات ان کی مرضی پر چھوڑ دی اور کہا کہ اگر خود اپنی خوشی سے چاہو تو جنگ خدمات میں مسلمانوں کی طرح شریک ہو نہ شریک ہونا چاہو تو اس کے بدلے ایک سالانہ رقم ادا کردیا کرو یہی رقم تھی جو غیر مسلموں کے لئے جزیہ ہوئی۔ فی الحقیقت انسان کے عقائد و جذبات کی آزادی کا یہ ایسا اعتراف تھا جس کا اس عہد میں کوئی دوسری قوم تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ جنگ کے لئے نکلنا ، اپنی جان کو ہتیلی پر رکھ لینا ہے۔ مسلمان ، مسلمانوں کو اس کے لئے مجبو رکر سکتے ہیں لیکن انہیں کیا حق ہے کہ غیر مسلموں کو اس کے لئے مجبور کریں ؟ چنانچہ صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں غیر مسلموں کو جو سرکاری فرامین دیئے گئے ان میں ہم صاف صاف اس کی تصریح پاتے ہیں جو فوج میں شریک ہوگا ، اس سے جزیہ نہیں لیا جائے گا ، جو نہ ہوگا ، اس سے جزیہ لیا جائے گا۔ بعض فرمانوں میں یہاں تک سہولت دی ہے کہ اگر عام طور پر شریک نہیں ہوتے ، صرف ایک برس شریک ہوگئے تو اس برس کی رقم معاف ہوجائے گی۔ طبری نے تاریخ میں اور بلاذری نے فتوح البلدان میں یہ فرامین نقل کئے ہیں۔ یہ تو پہلی علب ہوئی دوسری علت کا یہ حال ہے کہ اسلام نے مسلمانوں پر کئی طرح کے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا تھا۔ زکوٰۃ انہیں ادا کرنی چاہئے۔ عام صدقات و خیرات میں انہیں حصہ لینا چاہئے۔ جنگ پیش آجائے تو اس کا بوجھ بھی اٹھانا چاہئے۔ پس ضروری تھا کہ غیر مسلم رعایا پر بھی ایسا ہی بوجھ ڈالا جاتا ، کیونکہ جہاں تک آزادی و حقوق کا تعلق ہے ان میں اور مسلمانوں میں کوئی امتیاز نہیں کیا گیا تھا لیکن اسلام نے ایسا نہیں کیا غیر مسلموں کو حقوق تو مسلمانوں کی ہی طرح دیئے لیکن مالی بوجھ مسلمانوں کی طرح نہیں ڈالا۔ ان تمام ٹیکسوں کے بدلے جو مسلمانوں پر عائد کئے تھے ، صرف ایک ہی ٹیکس کی ادائیگی ضروری ٹھہرائی یعنی جزیہ کی اور وہ بھی انہیں معاف کردیا جو فوجی خدمت کے لئے تیار ہوجائیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فی الحقیقت غیر مسلموں کے لئے کوئی بوجھ نہ رہا اور حقوق سب کے سب رہے یعنی اگر ایک غیر مسلم ذمی فوجی خدمت سے انکار نہ کرے (جو خود اسی کے وطن کی حفاظت کے لئے ہوگی) تو وہ اسلامی حکومت میں آزادی و حقوق کی ٹھیک ویسی ہی زندگی بسر کرے گا جیسی ایک مسلمان بسر کرسکتا ہے لیکن مسلمان کی طرح اسے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیا اس طرز عمل کی کوئی دوسری نظیر تاریخ عالم سے پیش کی جاسکتی ہے ؟ (و) جہاں تک غیر مسلموں کے مذہبی ، معاشرتی اور شہری حقوق کا تعلق ہے موسیو لیبان کا یہ قول کفایت کرتا ہے کہ ” اسلامی حکومت کے ماتحت غیر مسلم ذمیوں کو وہ سب کچھ حاصل تھا جو کسی قوم کو حاصل ہو سکتا ہے۔ البتہ صرف ایک بات کا حق نہ تھا یعنی وہ خلیفہ نہیں ہوسکتے تھے۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہودیوں نے کہا عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے ، یہ ان کی باتیں ہیں محض ان کی زبان سے نکالی ہوئی ، ان لوگوں نے بھی انہی کی سی بات کہی جو ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کرچکے ہیں ، ان پر اللہ کی لعنت ! یہ کدھر بھٹکے جا رہے ہیں

یہود نے عزیز (علیہ السلام) اور نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جو سراسر کفر ہے : 44 : عزیر وہی ہیں جن کو تورات کی زبان میں عزراء کہا گیا ہے جو یہود میں ایک بہت ؓ بڑے نبی گزرے ہیں ان کی عظمت علمائے طالمود نے بڑی وضاحت سے بیان کی ہے اور ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کے پایہ کا نبی قرار دیا ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) پر رسالت نہ آئی ہوتی تو عزیر (علیہ السلام) یقیناً رسول ہوتے۔ یہود کے عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ ماننے کا ذکر ضرور کیا ہے لیکن یہود نے اس کی سند نہیں مانگی کہ تم عزیر کو کس طرح اللہ کا بیٹا مانتے اور تسلیم کرتے ہو لیکن اس کے برعکس نصاریٰ نے بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ قرار دیا لیکن عیسائیوں سے اس کی دلیل ضرور طلب کی کہ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کیسے قرار دیتے ہو جب کہ وہ مریم کے بطن اطہر سے پیدا ہوا ؟ کیا مریم نعوذ باللہ اللہ کی بیوی بناتے ہو ؟ اگر نہیں تو پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کیوں کر مانتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ ہم ، آپ اور ساری کائنات کی ہرچیز اللہ کی مخلوق ہے اس سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ جب اللہ خالق ہے تو وہ اپنی مخلوق کو سوائے ماں اور باپ کے پیدا کرے یا ماں باپ کے توسط سے جیسے وہ چاہے اس نے دنیا کی ہرچیز کو ماں باپ کے علاوہ پیدا کیا اس سے کس کو انکار ہے ؟ لیکن کیا جن جن کو اللہ نے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا ، کیا وہ اللہ کی اولاد ہیں ؟ ہرگز نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ ولد اور ابن کے لئے ضروری ہے کہ وہ زوجین سے پیدا ہوا ہو اور مخلوق کے لئے زوجین کا ہونا کوئی لازم نہیں چناچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ عیسائیوں سے خود یہ سوال اٹھایا ہے کہ ” اس کے کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے ؟ جب کہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے۔ ہاں ! اس نے ہرچیز کو پیدا کیا ہے اور ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔ “ (الانعام 6 : 101) کیونکہ شریک زندگی یعنی زوجین ہوں گے تو اولاد ممکن ہے اور اگر کسی کی اولاد مقصود ہے تو ظاہر ہے کہ ایک اس ولد کے لئے والد ہوگا جیسا کہ تم اللہ کو قرار دے رہے ہو تو پھر دوسری اس کی شریک زندگی بھی بتاؤ کہ وہ کون ہے ؟ اگر اس کی شریک زندگی تم بھی نہیں مانتے تو پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی اولاد کیوں قرار دیتے ہو جب کہ وہ مریم (علیہ السلام) کے بطن سے پیدا ہوا تم بھی تسلیم کرتے ہو ؟ عقل کے ناخن لو ، بیوقوفی اور بےعقلی کی باتیں مت کرو۔ یہ تو صرف تمہارے منہ کی باتیں ہیں جن کو ” بکواس بازی “ کا نام ہی دیا جاسکتا ہے۔ ایسا دعویٰ جس کے لئے کوئی دلیل ہی موجود نہ ہو وہ سراسر بکواس ہی تو ہوتا ہے جس کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر خالی ایک بات ہے جو بےسوچے سمجھے منہ سے نکالی جا رہی ہے اور ایسی باتوں کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں اور نہ ہی ایسی بات کوئی ایک نظریہ قرار دی جاسکتی ہے یہ ایک ” بھاں “ کی آواز کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس کی پوری تفصیل ہم عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة الاعراف کی آیت 101 کے تحت کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ہاں ! اس جگہ ایک بار پھر ہم زور دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ معجزات کے منکر ہیں اس لئے یہ کسی کو بغیر باپ کے ماننے کے لئے تیار نہیں۔ سراسر بہتان اور جھوٹ ہے۔ ہمارا اعلان ہے کہ ہم بغیر ماں اور باپ کے مخلوق کو مانتے ہیں۔ بغیر باپ کے تخلیق کو تسلیم کرتے ہیں۔ بغیر ماں کے تخلیق کو تسلیم کرتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ اللہ قادر ہے وہ چاہے اب بھی اور جب بھی بغیر ماں باپ کے پیدا کرے۔ بغیر باپ کے پیدا رے بغیر ماں کے پیداکرے۔ دور کیوں جاتے ہو ہمارے مخاطبین میں سے کوئی ایک خواہ وہ کوئی مولوی ہو یا علامہ ، مفتی ہو یا پیر ، عوام میں سے ہو یا خواص میں سے کوئی یہ بات کہہ کر دیکھ لے کہ میرا کوئی باپ نہیں تو ہم بغیر کسی ثبوت کے اس کی بات تسلیم کر کے دستخط کردیں گے کہ یہ صاحب کہہ کر دیکھ لے کہ میرا کوئی باپ نہیں تو ہم بغیر کسی ثبوت کے اس کی بات تسلیم کر کے دستخط کردیں گے کہ یہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ میرا کوئی باپ نہیں اور ہم اس کے اس بیان کو اس کے کہنے پر درست ماننے کے لئے تیار ہیں اور ہمیں کوئی جھگڑا نہیں۔ ہاں ! ہم اس کے ساتھ یہ بھی انہی کی دلیل سے ماننے پر مجبور ہیں کہ یہ صاحب کسی کی اولاد نہیں ہو سکتے ہاں ! اللہ کی مخلوق ہو سکتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ اولاد کے لئے زوجینی یعنی ایک جنس سے متعلق دو صنفوں کا ہونا ضروری ہے اور یہ اللہ کا فیصلہ ہے اس لئے اگر ہم ان صاحب کی بات ماننے کے لئے تیار ہیں تو اللہ کی بات ماننے کا تو ہم نے عہد کیا ہے اس سے انحراف نہیں کرسکتے۔ چونکہ مسیح (علیہ السلام) کو ابن مریم سے قرآن کریم میں تعبیر کیا گیا ہے اس لئے اس کے لئے بھی اصلین کا ہونا ضروری ہے ، ایک ان کی ما۔ مریم اور دوئم جبرئیل (علیہ السلام) جن کو دوسرے لفظوں میں روح القدس سے تعبیر کرتے ہیں جو حمل مسیح کا باعث ہوئے۔ (اثبات توحید از حافظ محمد گولندی (رح) سابق امیر مرکزی امیر جمعیت اہلحدیث پاکستان) یہی بات دوسرے مفسرین نے ثابت کی ہے۔ اس لحاظ سے ہم یہ کہیں گے کہ یہ صاحب جنہوں نے اپنے باپ نہ ہونے کا اقرار کیا ہے ان کے معلق ہم کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ کسی کے ولد یا کسی کے بیٹے بھی نہیں لیکن ایسا کہنا اگر ان کو منظور نہ ہو تو ہم وہی بات کہیں گے جو حافظ صاحب (رح) نے فرمائی کہ اگر ان صاحب کی کوئی ماں ہے تو دوسری طرف بھی کوئی چیز ضرور ہے خواہ وہ کوئی جن بھوت ہے یا کچھ اور جس کا نام ہم نہیں رکھتے وہ صاحب خود ہی رکھ لیں یا علمائے کرام اور مفسرین عظام سے کوئی نام رکھوالیں ، یہ ان کی مرضی۔ ہاں ! ان صاحب کی ماں موجود ہے تو چاہئے کہ اس سے پوچھ لیں اور ہم کو بتادیں کیونکہ ہم مان لینے والے ہیں انکار کرنے والے نہیں۔ رہی حافظ صاحب (رح) کی بات مسیح کے متعلق کہ دو اصلین میں سے ایک اصل جبرئیل (علیہ السلام) ہیں تو وہ ہم اس لئے تسلیم نہیں کرتے کہ ہم مسیح (علیہ السلام) کے متعلق کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں مانتے۔ یہ حق صرف اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور مسیح (علیہ السلام) یا ان کی والدہ مریم کو ہے کسی دوسرے کو مطلق نہیں ، خواہ وہ کوئی ہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ ، عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی ولد نے جو کھچ کہا ہم نے اس کو بسر و چشم قبول کیا اور وہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ عیسائیوں کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہنے میں جو سند طلب کی تو وہ محض اس لئے تھی کہ عیسائیوں کے سارے فرقے اس عقیدہ پر متفق تھے لیکن یہودیوں کا عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہنے پر کوئی مزید بحث نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہودیوں کے سارے فرقوں کا یہ متفقہ عقیدہ نہیں تھا بلکہ یہ اعتقاد صرف ان یہودیوں کا تھا جو یثرب میں آباد تھے چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ سلام بن مشکن ، نعمان بن اوفی ، ابو انس ، شاش بن قیس اور مالک بن حنیف کہ رؤسا یہود میں سے تھے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہم آپ کی کس طرح پیروی کریں جب کہ آپ نے ہمارا قبلہ ترک کردیا اور عزیر کو ابن اللہ نہیں مانتے۔ (ابن جریر) جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ عزیر سے مقصود عزراء ہیں۔ بخت نصر کے حملہ بیت المقدس میں تورات کے تمام نسخے جل گئے تھے اس لئے جب یہودی قید بابل سے چھوڑ کر واپس آئے تو ان کے پاس تورات کا کوئی نسخہ موجود نہ تھا اور ان کی نئی نسل بھی عبرانی زبانی سے نا آشنا ہوچکی تھی یہ حالت دیکھ کر عزراء نے کلدانی حروف میں اور ایسی عبرانی میں کہ کلدانی زبان سے مخلوط تھی ازسر نو تورات کے صحائف لکھے اور یہی نسخہ اصل نسخہ کا بدل سمجھا گیا چونکہ عزراء نے ازسر نو شریعت مرتب کی تھی اور قید بابل کے بعد نئع دور کا دوسرا بانی اس کو کہا گیا چناچہ آج تک یہودیوں کا عام اعتقاد یہ ہے کہ اگر اس عہد میں لوگوں سے قصور نہ ہوا ہوتا تو قزراء بھی وہ سارے معجزات دکھا دیتے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے دکھائے تھے۔ (جیوش انسائیکلو پیڈیا اسم عزراء۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکاکا مقالہ درجات عزراء) یہود و نصاریٰ کی یہ بات بھی دوسرے کافروں کے مشابہ ہے : 45: مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب نے اپنے سے پہلے کفار کی عامیانہ تقلید کی اور اپنے ہم عصر لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یہ کلمہ کفر ایجاد کیا اور بےسوچے سمجھے طوطے کی طرح آج بھی اسی کو رٹے چلے جا رہے ہیں اگر آپ برا نہ مانیں تو آج بھی یہ بیماری قوم مسلم میں عام ہے کہ وہ ایسے عقائد جن کا اسلامی عقائد کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں اس وقت اسلام ہی کے نام سے گردش کر رہے ہیں اور کوئی بھی ان کی اصل حققت کو سمجھنے سمجھانے کے لئے تیار نہیں۔ قرآن کریم نے یُضَاہِـُٔوْنَ کے لفظ استعمال کر کے اس بات کو ہر طرح سے واضح کردیا ۔ ضاحی کے معنی ہیں ” اس نے مشابہت اختیار کی “ کس کی مشابہت کی ؟ فرمایا : قَوْلَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ 1ؕ اپنے سے پہلے کافروں کی مشابہت میں انہوں نے یہ بات کہی۔ یہ ایک ایسی خبر تھی جس کا علم اللہ ہی کے پاس تھا اور جس کی اطلاع آج دنیا کو ہوئی یعنی عیسائیوں نے اللہ کا بیٹا تجویز کرنے میں جن کافروں کی نقل اختیار کی ہے۔ یونانی اور رومی ہیں کیونکہ یونانیوں اور رومیوں کے مذاہب کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ فی الواقع یہ اللہ کا بیٹا بنانے کا عقیدہ ان میں مروج تھا اور وہیں سے پولوس نے اس کو لیا۔ اس نے جب دیکھا کہ یہودی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قبول نہیں کرتے تو اس نے حضرت مسیح کو بعض الفاظ کو جو مجاز اور استعارہ کے طور پر تھے حقیقت پر محمول کر کے اور اصل بنائے مذہب قرار دے کر بت پرستی سے ملتا جلتا ایک مذہب بنادیا جس کی وجہ سے غیر یہودی اقوال کا میلان عیسائیت کی طرف بہت ہوگیا اور ان کے اس جرم کی وضاحت قرآن کریم نے کردی کہ عیسائیوں کا مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دینا ان کی اپنی ایجاد نہیں بلکہ پہلی کافر قوموں کی ریس کر کے انہوں نے یہ مذہب بنا لیا اور عرب کے لوگ بھی چونکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مانتے تھے اس لئے رومیوں ، یونانیوں اور عربوں کے عقیدہ کی مشابہت کر کے پولوس نے ان لوگوں میں اس کو مقبول بنانے کی ایک کوشش کی جو کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ عرب کے یہودیوں کو بھی انہیم کی نقال میں عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تسلیم کرلیا اور اسی طرح عیسائیوں کے نہلے پر انہوں نے دھلہ لگانے کی کوشش کی اور ہوتے ہوتے یہ ایک قومی عقیدہ قرار پا گیا۔ قوموں کی تاریخ ہم کو بتاتی ہے کہ یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور یہی کچھ ہو رہا ہے اور یہی کچھ ہوتا رہے گا کیونکہ ہمیشہ نام بدلے جاتے ہیں تاکہ کاموں میں مشابہت بر قرار رہے اور ایک دوسرے کے ساتھ حجت بازی سے دل بہلایا جاتا رہے۔ ان ساری چیزوں کا انکار لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے جو اتنا آسان کام نہیں آسان یہی ہے کہ ” چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو۔ “ لیکن اسلام اس بات کو نہیں مانتا اس لئے وہ ایسے سارے لوگوں پر لعنت اور پھٹکار کرتا ہے جو موجودہ دور کے مسلمان تو ان کی نسبت آپ خود فیصلہ فرمالیں اس لئے کہ ہم سب بھی تو آخر مسلمان ہیں۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو پروردگار بنا لیا اور مریم کے بیٹے مسیح کو بھی حالانکہ انہیں جو کچھ حکم دیا گیا تھا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک اللہ کی بندگی کرو ، کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی اس کی پاکیزگی ہے اس شرکت سے جو یہ اس کی ذات میں کر رہے ہیں

یہود و نصاریٰ نے احبارو رہبان کو رب بنا لیا لیکن مسلمانوں نے گدی نشینوں کو کیا بنایا : 46: اہل کتاب کے حالات پڑھتے جائیے اور اس وقت قوم مسلم کے حالات پر بھی نگاہ رکھئے کیونکہ اس لئے اہل کتاب کے حالات تم کو سنائے جا رہے ہیں۔ زیر نظر آیت میں اس گمراہی کی طرف اشارہ کیا جو یہود و نصاریٰ کی تمام فکری و عملی گمراہیوں کا سرچشمہ تھی یعنی انہوں نے خدا کو چھوڑ کر اپنے علماء و مشائخ کو پروردگار بنا لیا ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انہیں رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِکہتے ہیں کیونکہ اس طرح تو کبھی کسی نے کسی کو رب نہیں بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے فقیہوں کو اور عیسائیوں نے اپنے پوپ اور اس کے مقرر کئے ہوئے پادریوں کو دین کے بارے میں جو منصب دے دیا ہے وہ اپنے زاہدوں اور درویشیوں کی نسبت جیدا کچھ اعتقاد رکھتے ہیں وہ فی الحقیقت انہیں پروردگار کی مثل بنا لینا ہے۔ چنانچہ خود پیغمبر اسلام ﷺ نے اس کا یہی مطلب قرار دیا۔ عدی بن حاتم طائی جو پہلے عیسائی تھے ، کہتے ہیں کہ جب آنحضرت ﷺ نے براءۃ کی یہ آیت پڑھی تو میں نے عرض کیا ؟ ہم انہیں پوجتے تو نہیں ۔ آپ ﷺ نے کہا کیا ایسا نہیں ہے کہ جس بات کو وہ حرام ٹھہرا دیتے ہیں تم حرام سمجھ لیتے ہو جس بات کو حلال کردیتے ہیں ، حلال مان لیتے ہو ؟ عرض کیا ہوں ! فرمایا یہی انہیں پوجنا ہے۔ (ترمذی والبیہقی فی السنن) اس سے معلوم ہوا کہ اپنے پیشواؤں کو تشریع دینی کا حق دے دینا یعنی اس بات کا ہق دے دینا کہ جو کچھ اپنی خؤاہش اور رائے اور ٹھہرا دیں اس کی بلا چون و چرا تقلید و اطاعت کرنی چاہئے ، قرآن کے نزدیک انہیں رب بنا لینا ہے کیونکہ اس بات کا حق اللہ کے سوا اور اللہ کی وحی کے مبلغ کے سوا کسی کو نہیں۔ پس جب دوسروں کو بھی یہ حق دے دیا گیا تو گویا وہ خدائی میں شریک کر لئے گئے۔ عیسائیوں میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ہوا جس نے پوپ اور اس کی مقرر کئے ہوئے فادرز کو خدا سمجھا ہو اور نہ یہودیوں نے کبھی اپنے ربیوں کو ایسا سمجھا لیکن ان کے عمل کا یہی حال رہا۔ گویا حق و باطل ، حلال و حرام ، عذاب وثواب اور جنت و دوزخ کی تقسیم کا سارا اختیار انہی کے قبضہ میں ہے ۔ وہ جو حلال کردیں حلال ہے ، جو حرام کردیں حرام ہے۔ جسے چاہیں بخشش کا پروانہ دے دیں ، جسے چاہیں محروم ومردود کردیں ، جنت کی کنجی بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔ دوزخ کا داروغہ بھی انہی کے زیر حکم۔ وہ ایسے مقدس ہیں کہ کوئی بات ان کی غلط نہیں ہو سکتی اور اللہ نے انہیں ایسا بااختیار کردیا ہے کہ ان کے حکم سے کوئی بات باہر نہیں۔ ما شئت لا ماشائت الا قدار ۔ فاحکم ، فانت الواحد القھار اس گمراہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ : اولاً : خدا کی کتاب جو اس غرض سے نازل کی گئی تھی کہ لوگ اسے پڑھیں اور اس پر عمل کریں ، یک قلم بےاثر وبے کار ہوگئی کیونکہ اس کی جگہ انسانوں کی رائے اور فیصلوں نے لے لی۔ ثانیاً : ہدایت کا مرکز عملاً خدا کا حکم نہ رہا ، انسانوں کا حکم ہوگیا۔ ثالثاً : دینی پیشواؤں کا ایک گروہ پیدا ہوگیا جو لوگوں کو اندھا بہرا بنا کر جس طرح چاہتا ، اپنے اغراض کے لئے کام میں لاتا۔ رابعاً : انسان کی عیلا ترقی کی تمام راہیں بند ہوگئیں کیونکہ جب لوگوں نے اپنی سمجھ بوجھ سے کام لینا چھوڑ دیا اور اپنے بنائے ہوئے پیشواؤں کا حکم بلا دلیل ماننے لگے کہ یہی معنی تقلید کے ہیں تو ظاہر ہے کہ پھر عقل کی نشونما اور ترقی کے لئے کون سی راہ باقی رہ گئی : خامساً : تو ہم پرستی اور جہل و کو ری کا دروازہ کھل گیا کیونکہ جب اعتقاد و عمل کا دارومدار چند انسانوں کی رائے پر آٹھہرا اور دوسروں کو اس کا حق نہ ملا اپنی عقل و بینش سے کام لیں تو ظاہر ہے کہ عقل و بینش کی جگہ جہل و توہم ہی پھیلے گا اور جو خرافات کسی ٹھہرائے ہوئے پیشوا کی زبان سے نکل جائے گی لوگوں کے لئے دلیل و حجت کا کام دے گی۔ سادساً : دینی پیشوا اچھے انسان ہونے کی جگہ بےپناہ دیوتا بن گئے اور ان کی ساری باتوں نے تقدیس و پاکی کا جامہ پہن لیا کیونکہ جب انہیں اپنے پیروؤں کے لئے حکم و تشریع کی غیر مشروط طاقت مل گئی اور اپنے احکام و اعمال میں یک قلم غیر مسئول ہوگئے تو پھر نفس انسانی کی شرارتیں ان سے جو کچھ بھی کرائیں کم ہیں۔ یورپ کے اس عہد کی تاریخ پر نظر ڈالو جسے مورخ ” ازمنہ وسطی “ کے نام سے پکارتے ہیں بلکہ اس عہد کی بھی جو ” نشاۃ الثانیۃ “ کے نام سے مشہور ہے ، تمہیں یہ بتائج کی ساری نظریں اور مثالیں قدم قدم پر ملنے لگیں گی صرف پوپ کی منصب کی نساماً بعد نسل تاریخ ہی دیکھ لی جائے اس کے لئے کفایت کرے گی۔ قرآن نے جس وقت یہ صدا بلند کی ، عیسائی دنیا تیار نہ تھی کہ اس کا جواب دیتی لیکن بالاخر اس سے اعراض نہ کرسکی۔ اس وقت تو قرآن کی اس دعوت حق کو عیسائیوں نے نہیں سمجھا لیکن یہ تخم ریزی برگوبار لائے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ صلیبی لڑائیوں میں جب یورپ کے عیسائیوں کو مسلمانوں سے ملنے اور اسلام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو اس کے اثرات کام کرنے لگے اور بالاخر لو تھر نے اصلاح کنیہ کی دعوت بلند کی۔ لو تھر اور کلیسا میں بناء نزاع یہ تھی کہ حق کا معیار کیا ہے ؟ کتاب اللہ یا پوپ کا اجتہاد ؟ اور خدا کی کتاب اس لئے ہے کہ پڑھی جائے اور سمجھی جائے یا اس لئے کہ سب کچھ پوپ پر چھوڑ دیا جائے۔ نزاع کی ابتداء نجات کے مسئلے سے ہوتی ہے یعنی نجات کا دارومدار ایمان پر ہے یا پوپ کی سند مغفرت پر ؟ ظاہر ہے کہ یہ حڑف بہ حرف اسی صدائے حق کی بازگشت تھی کہ : اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ! آج یہ واقعہ دنیا کے تاریخی حقائق میں سے سمجھا جاتا ہے کہ یورپ کی تمام ذہنی اور عمی ترقیوں کا دور اصلاح کنیہ کی دعوت سے شروع ہوا۔ یہ سچ ہے لیکن اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ اصلاح کنیہ کی بنیاد اسی دن پڑی تھی جس دن اللہ کے رسول نے نجران کے بشپ کو یہ دعوت اصلاح دی تھی : یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى کَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْـًٔا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ 1ؕ (3 : 64) اور پھر اس دن ، سورة براءت کی یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ اگر چھٹی صدی عیسوی کے عیسائی جہل و تعصب نے اس دع سے انکار نہ کیا ہوتا تو وہ تمام تاریک صدیاں ظہور میں نہ آتیں جن کی وحشت انگیز سرگز شتیں تاریخ کو قلمبند کرنی پڑیں اور ازمنہ مظلمہ کے نام سے پکاری گئیں اور یقیناً یورپ کے علم و عقیلت کی تاریخ چودہویں صدی کی جگہ ساتویں صدی شروع ہوجاتی ! یہ سرگزشت تو عیسائی دنیا کی ہے جسے اس دعوت حق نے مخاطب کیا تھا لیکن خود مسلمانوں کا کیا حال ہوا جنہیں اس دعوت کی تبلیغ سپرد کی گئی تھی ؟ افسوس ہے کہ وہ خود بھی اس گمراہی سے نہ بچ سکے اور انہوں نے بھی تشریع دینی کا حق کتاب و سنت کی جگہ انسانوں کی رائے کے حوالہ کردیا۔ اعتقاداً نہیں عملاً اور سوال یہاں عمل ہی کا ہے نہ کہ اعتقاد کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تمام مفاسد ظہور میں آگئے جن کا دروازہ قرآن نے بند کرنا چاہتا تھا اور اسب سے بڑا فساد یہ پیدا ہوا کہ صدیوں سے ان کی عقیت ترقی یک قلم رہ گئی اور تقلید نے علم و بصیرت کی راہوں سے انہیں دور کردیا۔ حتیٰ کہ اب معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ ایک طرف مسلمانوں کی معاشرتی و اجتماعی زندگی مختل ہورہی ہے کیونکہ اس کی ضرورتوں کے مطابق احکام فقہ نہیں ملتے اور شریعت کو فقہ کے مذاہب مدونہ ہی میں منحصر سمجھا گیا ہے۔ دوسری طرف تمام اسلامی حکومتوں نے قوانین شرع پر عمل در آمد ترک کردیا ہے اور اس کی جگہ یورپ کے دیوانی و فوجداری قوانین اختیار کرنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ دفاتر فقہ و قت کے انتظامی و معاشرتی مقتضیات کا ساتھ نہیں دے سکتے اور کوئی نہیں جو انہیں بتلائے کہ اللہ کی شریعت کا دامن اس نقص سے پاک ہے اور اگر وہ کاتب و سنت کی طرف رجوع کرتے تو انہوں نے اس زمانے کے لئے بھی ویسے ہی اصلاح و افق قوانین مل جاتے جس طرح پچھلے عہدوں کے لئے مل چکے ہیں۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی اور رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں حالانکہ اللہ یہ روشنی پوری کیے بغیر رہنے والا نہیں اگرچہ کافروں کو پسند نہ آئے

غور سے سن لو کہ ” پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ “ 47: غور کرو کہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک اسلام کے اس روشن چراغ کو بجھانے کی کتنی کو ششتین کی گئیں ، یہودیت ، عیسائیت اور شرک و کفر کی دوسری ساری طاقتوں نے سر جوڑ جوڑ کر اعلانیہ مقابلے بھی کئے اور سازشوں کے خطرناک جال بھی بچھائے لیکن اسلام کا نور درخشان ہی رہا اور انشاء اللہ رہے گا۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی ہی تہی اور بڑھتی ہی رہے گی۔ رب العزت یعنی پروردگار عالم کا یہ وعدہ ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت کے آگرات جہانتاب کو گرھن نہیں کرسکتی۔ جہاں تک دلیل وبرہان کا تعلق ہے اسلام غلبہ تمام دوسرے مذاہب پر ہر جگہ اور ہر زمانہ میں مسلم رہا ہے اور جب کبھی ملت اسلامیہ نے احکام الٰہی کو صدق دل سے اپایا تو سیاسی بھی انہی کی کنیز بنا رہا اور جب لبھی انہوں نے احکام الٰہی پر عمل کرنے میں غفلت اور کوتاہی برتی تو ان کا سیاسی زوال شروع ہوگیا اور اس وقت مسلمان اس حالت سے دوچار ہیں لیکن وعدہ الٰہی اپنی جگہ پر آج بھی اس طرح موجود ہے اور موجود رہے گا اور اس حالت سے نکلنے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے ؟ ایک نہیں ہزار لیکن ابھی مسلمان من حیث القوم چونک ہی نہیں رہے۔ رہی یہ بات کہ وہ وقت کب آئے گا ؟ یہ بات یقین سے نہیں کی جاسکتی لیکن ان مع العسر یسرا۔ اس زوال کے بعد کمال لازم ہے اور سنت اللہ کبھی بدلا نہیں کرتی۔ تاریخ اس بات کو بہت دفعہ دہرا چکی ہے اور تاریخ عالم کے ایام کے مقابلہ میں انسانی زندگی کا دور بالکل مختصر سا دور ہے اگر ہم آپ نہ دیکھ سے تو دیکھنے والے بھی انشاء اللہ موجود ہوں گے۔ اگر کافروں کو یہ بات پسند نہ آئے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ رب العزت گردش زمانہ کو ان کی وجہ سے روک دے گا۔ یاد رکھو کہ ” اسلام کا چراغ کبھی پھونکوں سے بجھایا نہیں جاسکتا۔ “