9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

لیکن جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے تو بلاشبہ اس نے ان کی ناپاکی پر ایک اور ناپاکی بڑھا دی (انجام کار) وہ مر گئے اور اس حالت میں مرے کہ ایمان سے قطعی محروم تھے

روگی دلوں کا روگ مزید بڑھ جاتا ہے اور وہ کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں : 161: لیکن ہاں ! جن کے دلوں میں نفاق کے روگ ہے ان کی اس نجاست پر مزید نجاست کے ردے پر ردے چڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کی زندگی کے کسی مرحلہ میں بھی توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی یہاں تک کہ اسی حالت کفر میں ان کو ایک دن فرشتہ اجل آدبو چے گا اور وہ گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن کریم کی آیات سے اہل ایمان کے ایمان میں درجہ بدرجہ زیادتی ہونا اور اہل نفاق کے نفال کا غلیظ سے غلیظ تر ہونا محض استعارہ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ قرآن کریم کا ہر حکم اہل ایمان کے لئے ایک میدان مسابقت کھولتا ہے اور جب وہ اس میدان کی بازی جیت لیتے ہیں تو ان کی قوت ایمانی میں مزید دوسرے میدان جیتنے کے لئے قوت ، عزم اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے برعکس اہل نفاق ایک محرومی کے بعد دوسری محرومی اور ایک پسپائی کے بعد پسپائی کی ذلتیں سہتے سہتے ایمان کی آختی رمق سے بھی خالی ہوجاتے ہیں اور ان کے دلوں پر نفاق پر نفاق کی اتنی مؤتی تہیں جم جاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل کے اندر جتنی صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں سب ان کے نیچے دب دبا کر مردہ ہوجاتی ہے۔ غور کرو کہ بارش ایک جیسا برستی ہے لیکن کھیت کی سبزی اس سے رات ہی رات میں ہری بھری ہو کر لہلہانے لگتی ہے اور گندگی کے ڈھیر پر اس بارش کا جو اثر ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس کا تعفن ہزار گنا بڑھ جاتا ہے اور وہاں سے گزرنے والوں کو ناک بند کرنا پڑتی ہے۔ کیا بارش ایک ہی طرح کی تھی یا نہیں ؟ ایک ہی بارش کا نتیجہ دونوں مختلف کیوں رہا ؟
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ نہیں دیکھتے کہ کوئی برس اس سے خالی نہیں جاتا کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ آزمائش میں نہ ڈالے جاتے ہوں پھر بھی یہ ہیں کہ نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں

منافقوں کے ذکر سے غفلت انسانی کی ایک عام تصویر پیش فرمادی : 162: بلاشبہ بلائیں اور مصیبتیں تکوینی طور پر تازیانہ غیبی ہوتی ہیں جن کا کام انسان کو اللہ کی طرف لانا ہی ہوتا ہے ۔ اس آیت 126 میں اگرچہ منافقوں کا ذکر ہے لیکن قرآن کریم کے تمام بینات کی طرح اس جگہ بھی مقصود یہ ہے کہ غفلت انسانی کی ایک عام تصویر سامنے آجائے۔ افراد کی زندگی ہو یا جماعتت کی لیکن ہر ہلاکت و بربادی کے بعد تم سراغ لگاؤ گگے تو پاؤ گے کہ ان کی ہلاکت اچانک ان پر نہیں آگری تھی وہ مدتوں تک ان پر منڈلاتی رہی لیکن اتری نہیں۔ وہ اپنی آمد کی علامتیں بھیجتی رہی ان کی زندگی کا کوئی برس ، کوئی مہینہ بلکہ کوئی دن ان سے خالی نہیں گیا لیکن جب یہ تنبی ہیں بیکار ہوگئیں اور وہ غفلت و گمراہی سے باز نہ آئے تو پھر ان پر اتر آئی کیونکہ یہ ان ” اجل “ تھی اور پھر جب اجل آجائے تو وہ ٹل نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ کے روحانی قونین بھی اس کے جسمانی قونین کی طرح ہیں تم بر پرہیزی کرتے ہو تو فوراً نہیں مر جاتے البتہ موت کا پیام آنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ پیام کیا ہے ؟ بیماریاں جو موت کی طرف سے آنے لگتی ہیں تاکہ تمہیں بر وقت ہوشیار کردیں۔ اگر تم ہوشیار ہوگئے تو وقتی طور پر وہ رک جائے گی ۔ نہ ہوئے تو پھر تمہارے سرہانے آکھڑی ہوگی ٹھیک ایسا ہی معاملہ جماعتوں اور قوموں کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور ایسا ہی معاملہ افراد کی معنوی سعادت و شقاوت کا بھی سمجھو جو نصیحت پکڑے تے اور باز آجاتے ہیں وہ سنت الٰہی کے مطابق ہلاکت سے بچ جاتے ہیں اور جو مصر رہتے ہیں ہلاک ہوجاتے ہیں یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے جا بجا امہال ، تربص اور استمتاع سے بھی تعبیر کیا ہے اور اس مضمون میں بہت وسعت رکھی گئی ہے۔ ہم نے اشارہ کردیا ہے سمجھنے والے انشاء اللہ سمجھیں گے اور اسی کو حرز جان بنائیں گے۔ باں ! ایک بات مزید وہ یہ کہ اس جگہ ” مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ “ سے کوئی عدد متعین مراد نہیں بلکہ ایک محاورہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ نزول قرآن کے وقت منافقین آپ ﷺ کی مجلس سے نکل جانا چاہتے ہیں : 163: ” اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ تم پر کسی کی نگاہ تو نہیں۔ “ یہ منظر اس وقت کا ہے جب منافقین بھی پیغمبر اسلام ﷺ کی مجلس میں شریک ہوتے اور آپ ﷺ پر وحی نازل ہونا شروع ہوتی تو منافق یہ منظر دیکھ کر وہاں سے کھسکنا شروع کردیتے ، کیوں ؟ اس لئے مثل ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا ، ان کو یہ کھٹکا رہنا کہ شاید اس وقت آپ ﷺ پر کوئی ایسا پیغام نازل ہوجائے جس سے ہمارے کاموں پر تبصرہ ہو یا ہماری دلی حالت سے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کردیا جا رہا ہو پھر جب وحی ہوجائے گی تو آپ ﷺ اس کو بیان فرمائیں گے تو اس میں کوئی ایسی بات ہوئی تو ہماری خوب گت بنے گی۔ انہی اوہام میں وہ وہاں سے اٹھ جانا چاہتے اور اٹھتے وقت ادھر ادھر دیکھتے کہ ہمارے اٹھنے سے کسی پر کیا اثر پڑتا ہے اور کون ہماری طرف اس وقت دیکھ رہا ہے اور خصوصاً یہ کہ کوئی مومن تو ہمیں اٹھتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ؟ اور اس طرح قرآن کریم نے ان کی اندرونی حالت کو واشگاف الفاظ میں بیان کردیا جس سے نبی کریم ﷺ کی مجلس سے ان کا تنفر ثابت ہوگیا کہ وہ اگر مجلس میں جاتے بھی تھے تو بہت بچ بچا کر اور قوم پھونک پھونک کر لیکن ان کی یہی حالت ان کی حقیقت کو سب کے سامنے کھول کر رکھ دیتی تھی کہ وہ اصل میں کیا ہیں ؟ ایسی ہی حالت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ : کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پاگئے ۔
Ayah 9:127

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورة نازل ہوتی ہے (جس میں منافقوں کا ذکر ہوتا ہے) تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ تم پر کسی کی نگاہ تو نہیں ؟ پھر منہ پھیر کر چل دیتے ہیں اللہ نے ان کے دل ہی پھیر دیئے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ سے کورے ہیں

آیت 127 ، 128: انسانیت کے ساتھ محسن انسانیت کی شفقت و محبت ، رحمت و مودت کا بیان : 164: فرمایا : ” تمہارے پاس ایک رسول آگیا جو تم ہی میں سے ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کسی غیر قوم یا غیر وطن کے انسان نہیں جن پر پورا اعتماد نہ کیا جاسکتا ہو بلکہ وہ تم ہی میں سے ایک انسان ہیں تم ان کے حسب و نسب ، کردار و اخلاق ، اندرونی اور بیرونی زندگی کے ہر ہر حال سے واقف ہو اور ان کی امانت و دیانت کے معترف ہو اور آپ ﷺ کی کوئی چیز تم پر پوشیدہ نہیں ، آپ ﷺ کا بچپن ، جوانی اور ادھیڑ عمر سب سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ سوال یہ ہے کہ ” کم “ کی ضمیرجمع مخاطب دونوں جگہ کس کی جانب ہے ؟ یعنی رسول اللہ ﷺ کس کے درمیان آئے ہیں ؟ بعض نے کہا کہ مخاطب عرب ہیں کہ آپ ﷺ اہل عرب کے درمیان بھیجے گئے لیکن قول محقق یہ ہے کہ خظاب ساری نوع انسانی سے ہے کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت تنہا عرب کی جانب نہیں بلکہ سارے عالم کی جانب تھی۔ ایک بات زیر نظر آیت میں یہ سمجھائی گئی ہے کہ مشرک قوموں اور مشرک مزاج گروہوں کی سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ منصب رسالت پر کوئی بشر کیسے مامور ہوسکتا ہے۔ قوم کے افراد کو تکلیف ہو تو مضطرب ہوجاتے ہیں : 165: فرمایا ” تمہارا رنج و کلفت میں پڑنا اس پر بہت شاق گزرتا ہے۔ “ انسانیت کے ساتھ محسن انسانیت کی شفقت و محبت کا یہ عالم ہے کہ کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو تو وہ مضطرب و بےچین ہوجاتے ہیں اور جب تک اس کی تکلیف دور نہ ہو برابر بےچین رہتے ہیں۔ کسی فرد کی بھوک ، پیاس اور کسی طرح کی تنگی و مصیبت ان کے دکھ کا باعث ہوتی ہے۔ یتامی و مساکین اور بیوگان کی تکلیف دور کر رنے میں وہ ہر وقت فعال رہتے ہیں اور پریشان حال کے لئے وہ ملجا و ماویٰ ہیںّ وہی تو ہیں جو قوم کی ترقی کے لئے اپنی جان و جو کھوں میں ڈالنے کے لئے تیار رہتے ہیں : 166: فرمایا : ” وہ تمہاری بھلائی کا بڑا ہی خواہش مند ہے۔ “ وہی ہیں جن کے دل میں یہی ایک جذبہ موجزن ہے کہ قوم کے حالات اچھے ہوجائیں اور دنیوی ترقی کے ساتھ اخروی مصائب و تکالیف سے بھی بچ جائے اور قوم زیادہ سے زیادہ ترقی کرے لیکن یہ ترقی ایسی نہ ہو کہ جس سے دناا تو ان کی سنور جائے آخرت اگرچہ برباد ہو ، نہیں وہ دنیا کی ترقی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کو ضروری اور لازمی قرار دیتے ہیں بلکہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے ہیں اور اسی نظریہ پر قائم رہنے کے لئے وہ ہر وقتت اپنی جان جو کھوں میں ڈالنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور ان کو یہ فکر دن ہو یا رات ہر وقت بر چین رکھتی ہے۔ وہی ہیں جن کو اپنی جان کی کوئی فکر نہیں دوسروں کی حرص ان میں کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے اس لئے سارے انسانوں کا غم ان کو یکساں ہے۔ وہ اگر ماننے والوں سے محبت کرتے ہیں تو مخالفین کے لئے اللہ کی رحمت ہیں۔ داعی اسلام دعوت اسلام کے ساتھ منسلک ہونے والوں کے لئے رؤف و رحیم ہیں : 167: فرمایا : ” وہ مومنوں کے لئے شفقت رکھنے والا اور محبت کرنے والا ہے۔ “ یعنی وہ لوگ جو نبی اعظم و آخر ﷺ کے لائے ہوئے نظام اسلام کے ساتھ منسلک ہوجاتے ہیں ان کے لئے آپ ﷺ کے دل میں رافت و رحمت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے اور وہ ان کے لئے سراپا رحمت بن جاتے ہیں۔ کسی انسان کو اپنی اولاد کی کامیابی و کامرانی کی اتنی فکر نہیں جتنی کہ نبی رحمت ﷺ کے دل میں اپنی امت کے لئے ہے۔ ان کے بس میں ہو تو پوری دنیا میں ایک بھی انسان ایسا نہ رہے جو دین و دنیا میں کامیاب نہ ہو اور خصوصاً جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر تو اس قدر ہے کہ اس میں دن رات گھل رہے ہیں ۔ آپ ﷺ کی سرگزشت بلاشبہ اپنے اندر ایک جذب اور دل ربائی رکھتی ہے جس سے قوم کے اندر والہانہ عشق پیدا ہوتا ہے اس کی تفصیل بہت لمبی ہے جس کے لئے صفحات درکار ہیں۔