Ayah 9:33اسلام کی نظر میں ” دین “ کیا ہے ؟ اور دین الٰہی کا غلبہ لازم ہے :
48: زیر نظر آیت اور اس مف ہوں کی دوسری اس آیات میں یہ بات اللہ تعالیٰ نے صاف صاف الفاظ میں ارشاد فرمائی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت کا مقصد محض اس دین کی تبلیغ نہ تھا بلکہ اسے دین کی توعیت رکھنے والے تمام نظام زندگی پر غالب کردینا تھا۔ دوسرے لفظوں میں آپ ﷺ یہ دین اس لئے نہیں لائے تھے کہ زندگی کے سارے شعبوں پر غلبہ تو ہو کسی دین باطل کا اور اس کی قہر مانی کے تحت یہ دین اس حدود کے اندر سکڑ کر رہ جائے جن میں دینی غالب اسے جینے کی اجازت دے دے ، نہیں ، ہرگز نہیں بلکہ اسے نبی کریم ﷺ اس لئے لائے تھے کہ زندگی کا غالب دین یہ ہو اور دوسرا کوئی دین اگر جئے بھی تو ان حدودو کے اندر جئے جن میں یہ اسے جینے کی اجازت دے اور اس کو دین کا غلبہ کہا جاتا ہے۔ اس جگہ ایک بات مزید یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ نبی رحمت ﷺ کا لایا ہوا دین کوئی نیا دین نہیں بلکہ اس دین کی تصویر ہے جو سابق انبیائے کرام لائے تھے چناچہ قرآن کریم نے خود اس بات کی وضاحت دوسرے مقامات پر کردی ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” اللہ نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور جسے اے پیغمبر اسلام ! اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کی ہدایت پر ہم ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ اور یہی بات ان مشرکوں کو سخت ناگوار ہائی ہے۔ “ (الشوریٰ 42 : 13)
جس چیز کو زیر نظر آیت میں ظاہر کرنے موسوم کیا اس کو الشوریٰ کی آیت میں قائم کرنا کہا گیا اس طرح اب ہمارے سامنے دو سوالات ہوئے ایک یہ کہ دین کو ظاہر کرنے یا قائم کرنے سے کیا مراد ہے ؟ دوسرے یہ کہ خود دین سے کیا مراد ہے ؟ جیسے ظاہر کرنے یا قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اب دونوں باتوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے تاکہ ایک بات سمجھی ہوئی بات سارے ایسے مقامات پر کام دے اور یہ بات تو آپ سمجھ ہی گئے کہ ظاہر کرنے اور قائم کرنے کے ایک ہی معنی ہیں خصوصاً دین کے قائم کرنے میں یا ظاہر کرنے میں۔
قائم کرنے کا لفظ جب کسی مادی یا جسمانی چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد بیٹھے کو اٹھانا ہوتا ہے ، مثلاً کسی انسان یا جانور کو اٹھانا یا پڑی ہوئی چیز کو کھڑا کرنا ہوتا ہے جیسے بانس یا ستون کو قائم کرنا یا کسی چیز کے بکھرے ہوئے اجزاء کو جمع کر کے بلند کرنا ہوتا ہے جیسے کسی خالی زمین میں عمارت قائم کرنا لیکن جو چیزیں مادی نہیں بلکہ معنوی ہوتی ہیں ان کے لئے جب قائم کرنے کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد اس چیز کی محض تبلیغ کرنا نہیں بلکہ اس پر کماحقہ عمل در آمد کرنا ، اسے رواج دینا اور اسے عملاً نافذ کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی حکومت قائم کی تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ اس نے اپنی حکومت کی طرف دعوت دی بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ملک کے لوگوں کو اپنا مطیع کر لای اور حکومت کے تمام شعبوں کی ایسی تنظیم کردی کہ ملک کا سارا انتظام اس کا احکرام کے مطابق چلنے لگا۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ ملک میں عدالتیں قائم ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے ہیں کہ انصاف کرنے کے لئے منصف مقرر ہیں اور وہ مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں اور فیصلے دے رہے ہیں نہ یہ کہ عدل و انصاف کی خوبیان خوب بیان کی جارہی ہیں اور لوگ ان کے قائل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح جب قرآن مجید میں حکم دیا جاتا ہے کہ نماز قائم کرو تو اس سے مراد نماز کی دعوت و تبلیغ نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتی ہے کہ نماز کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ نہ صرف خود ادا کرو بلکہ ایسا انتظام کرو کہ وہ اہل ایمان میں باقاعدگی کے ساتھ رائج ہوجائے۔ مسجدیں ہوں ، جمعہ و جماعت کا اہتمام ہو ، وقت کی پابندی کے ساتھ اذانیں دی جائیں ، امام اور خطیب مقرر ہوں اور لوگوں کو وقت پر مسجدوں میں آنے اور نماز ادا کرنے کی عادت پڑجائے۔ اس تشریح کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آسکتی کہ انبیاء (علیہم السلام) کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں بلکہ یہ بھی تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کرلیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے تاکہ اس کے مطابق عمل درآمد ہونے لگے اور ہوتا رہے۔ اس میں شک نہیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آسکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذیریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہی ہے کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد وحید قرار دے بیٹھے۔
اب دوسرے سوال کو لیجئے بعض لوگوں نے دیکھا کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان مشترک ہے اور شریعتیں ان کی مختلف رہی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے : لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا ” ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کردی “ اس لئے انہوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ لامحالہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں بلکہ صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کا ماننا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانا ہے یا حد سے حد اس میں وہ موٹے موٹے اخلاقی اصول شامل ہیں جو سب شریعتوں میں مشترک رہے ہیں۔
یہ ایک بڑی سطحی رائے ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کرلی گئی ہے اور یہ وہی خطرناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ کردی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین و شریعت کی اس تفریق تک جا پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا شریعت کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح (علیہ السلام) کی امت کو خراب کردیا ۔ اس لئے جب شیعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنا کا ہے نہ کہ شیعت کو تو لامحالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی شریعت کو غیر اہم اور اس کی اقامت کو غیر مقصود بالذات سمجھ کر نظر انداز کردیں گے اور صرف ایمانیات اور موٹے موٹے اخلاقی اصولوں کو لے کر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح کے قیاسات سے دین کا مفہوم متعین کرنے کے بجائے آخر کیوں نہ ہم خود اللہ کی کتاب سے پوچھ لیں کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم یہاں دیا گیا ہے آیا اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی ہیں یا شرعی احکام بھی۔ قرآن مجید کا جب ہم تبع کرتے ہیں تو اس میں جن چیزوں کو دین میں شمار کیا گیا ہے ان میں حسب ذیل چیزیں بھی ہمیں ملتی ہیں :
! : وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا ؟ اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ 1ۙ۬ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ005 (البینہ : آیت 5)
” اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا کہ یکسو ہو کر اپنے دین کا للہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دین اور یہی راست رو ملت کا دین ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ اس دین میں شامل ہیں حالانکہ ان دونوں کے احکام مختلف شریعتوں میں مختلف رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام پچھلی شریعتوں میں نماز کی یہی شکل و ہیئت ، یہی اس کے اجزاء ، یہی اس کی رکعتیں ، یہی اس کا قبلہ ، یہی اس کے اوقات اور یہی اس کے دوسرے احکام رہے ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کے متعلق بھی کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ تمام شریعتوں میں یہی اس کا نصاب ، یہی اس کی شرحیں اور یہی اس کی تحصیل اور تقسیم کے احکام رہے ہیں لیکن اختلاف شرائع کے باوجود اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو دین میں شمار کر رہا ہے۔
" : حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ 1۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ 1ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ 1ؕ اَلْیَوْمَ یَىِٕسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ 1ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا 1ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ 1ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 003
” اے مسلمانو ! تم پر حرام : کردیئے گئے ہیں مردار جانور ، خون ، سور کا گوشت ، وہ جانور جو غیر اللہ کے نام سے پکارا جائے ، گلا گھونٹ کر مارا ہوا ، چوٹ لگا کر مارا ہوا ، وہ جو بلندی سے گر کر مر جائے ، وہ جانور جو کسی کے سینگ مارنے سے مر جائے ، وہ جسے درندہ پھاڑ جائے مگر ہاں ! وہ جسے تم ذبح کرلو ، وہ جانور جو کسی تھان پر چڑھا کر ذبح کیا جائے اور یہ بات بھی کہ تیروں اور پانسوں سے آپس میں تقسیم کرو تو یہ گناہ کی بات ہے ، جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ آج تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے ہیں پس ان سے نہ ڈرو بلکہ صرف مجھ ہی سے ڈرو ، آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا “ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب احکام شریعت بھی دین ہی ہیں۔
#: قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ
(التوبہ : 29)
” جنگ کرو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ “
معلوم ہوا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ حلال و حرام کے ان احکام کو ماننا اور ان کی پابندی کرنا بھی دین ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے دیئے ہیں۔
$: اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ 1۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ 1ۚ (النور : 2)
” بدکار عورت اور بدکار مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ (تاکہ اسلامی معاشرہ بدکاری اور بےحیائی سے مکمل طور پر بچ سکے) اور تم کو اللہ کے دین (قانون) میں ان دونوں پر ترس نہ آئے اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو “
مَا کَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ (یوسف : 76)
” یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین میں پکڑ لینے کا مجاز نہ تھا۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ فوجداری قانون بھی دین ہے۔ اگر آدمی خدا کے فوجداری قانون پر چلے تو وہ خدا کے دین کا پیرو ہے اور اگر بادشاہ کے قانون پر چلے تو وہ بادشاہ کے دین کا پیرو ۔
یہ چار تو وہ نمونے ہیں جن میں شریعت کے احکام کو بالفاظ صریح دین سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن گناہوں پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی دھمکی دی ہے (مثلاً زنا ، سود خواری ، قتل مومن ، یتیم کا مال کھانا ، باطل طریقوں سے لوگوں کے مال لینا وغیرہ) اور جن جرائم کو خدا کے عذاب کا موجب قرار دیا ہے (مثلاً عمل قوط لوط اور لین دین میں قوم شعیب (علیہ السلام) کا رویہ) ان کا سد باب لازماً دین ہی میں شمار ہونا چاہئے ، اس لئے کہ دین اگر جہنم اور عذاب الٰہی سے بچانے کے لئے نہیں آیا تو اور کس چیز کے لئے آیا ہے ؟ اسی طرح وہ احکام شریعت بھی دین کا حصہ ہونے چاہئیں جن کی خلاف ورزی کو خود فی النار کا موجب قرارد یا گیا ہے۔ مثلاً میراث کے احکام ، جن کو بیان کرنے کے بعد آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ :
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا 1۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ (رح) 0014 (النساء : 14)
” لیکن جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور اس کی ٹھہرائی ہوئی حد بندیوں سے باہر نکل گیا تو وہ آگ کے عذاب میں ڈالا جائے گا ، وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا اور اس کیلئے رسوا کرنے والا عذاب ہوگا۔ “
اسی طرح جن چیزوں کی حرمت اللہ تعالیٰ نے پوری شدت اور قطعیت کے ساتھ بیان کی ہے مثلاً ماں۔ ، بہن اور بیٹی کی حرمت ، شراب کی حرمت ، چوری کی حرمت ، جوئے کی حرمت ، جھوٹی شہادت کی حرمت ، ان کی تحریم کو اور قیامت دین میں شامل نہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ غیر ضروری احکام بھی دے دیئے ہیں جن کا اجراء مقصود نہیں ہے۔ علی ھذا القیاس جن کاموں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے مثلاً روزہ اور حج ، ان کی اقامت کو بھی محض اس بہانے اقامت دین سے خارج نہیں کیا جاسکتا کہ رمضان کے 30 روزے تو پچھلی شریعتوں میں نہ تھے اور کعبے کا حج تو صرف اس شریعت میں تھا جو اولاد ابراہیم (علیہ السلام) کی اسماعیلی شاخ کو ملی تھی۔
دراصل ساری غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ آیت : لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا (ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کردی) کا الٹا مطلب لے کر اسے یہ معنی پہنا دیئے گئے ہیں کہ شریعت چونکہ ہر امت کے لئے الگ تھی اور حکم صرف اس دین کے قائم کرنے کا دیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے درمیان مشترک تھا اس لئے اقامت دین کے حکم میں اقامت شریعت شامل نہیں ہے حالانکہ درحقیقت اس آیت کا مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ سورة مائدہ میں جس مقام پر یہ آیت آئی ہے اس کے پورے سیاق وسباق کو آیت 41 سے آیت 50 تک اگر کوئی شخص بغور پڑھے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس نبی کی امت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی وہ اس امت کے لئے دین تھی اور اس کے دور نبوت میں اسی کی اقامت مطلوب تھی اور اب چونکہ سیدنا محمد ﷺ کا دور نبوت ہے اس لئے امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اس دوت کے لئے دین ہے اور اس کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔ ان شریعتوں کا اختلاف تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی بھیجی ہوئی شریعتیں باہم متضاد تھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جزئیات میں حالات کے لحاظ سے کچھ فرق رہا ہے۔ مثال کے طور پر نماز اور روزے کو دیکھئے ، نمام تمام شریعتوں میں فرض رہی ہے مگر قبلہ ساری شریعتوں کا ایک نہ تھا اور اس کے اوقات اور رکعات اور اجزای میں بھی فرق تھا۔ اسی طرح روزہ ہر شریعت میں فرض تھا مگر رمضان کے 30 روزے دوسری شریعتوں میں نہ تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ مطلقاً نماز اور روزہ اقامت دین میں شامل ہے مگر ایک خاص طریقے سے نماز پڑھنا اور خاص زمانے میں روزہ رکھنا اقامت دین سے خارج ہے بلکہ اس سے صحیح طور پر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر نبی کی امت کے لئے اس وقت کی شریعت میں نماز اور روزے کے لئے جو قاعدے مقرر کئے گئے تھے انہی کے مطابق اس زمانے میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا دین قائم کرنا تھا اور اب اقامت دین یہ ہے کہ ان عبادتوں کے لئے شریعت محمدیہ میں جو طریقہ رکھا گیا ہے ان کے مطابق انہیں ادا کیا جائے۔ انہیں دو مثالوں پر دوسرے تمام احکام شریعت کو بھی قیاس کرلیجئے۔
قرآن مجید کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر پڑھے گا اسے یہ بات صاف نظر آئے گی کہ یہ کتاب اپنے ماننے والوں کو کفر اور کفار کی رعیت فرض کر کے مغلوبانہ حیثیت میں مذہبی زندگی بسر کرنے کا پروگرام نہیں دے رہی ہے بلکہ یہ اعلانیہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے ، اپنے پرو وں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دین حق کو فکری ، اخلاقی ، تہذیبی اور قانونی و سیاسی حیثیت سے غالب کرنے کے لئے جان لڑا دیں اور ان کو انسانی زندگی کی اصلاح کا وہ پروگرام دیتی ہے جس سے بہت بڑے حصے پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جاسکتا ہے جب حکومت کا اقتدار اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو۔ یہ کتاب اپنے نازل کئے جانے کا مقصد یہ بیان کرتی ہے کہ : اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ 1ؕ (النساء : 105)
” اے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو اس روشنی میں جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے۔ “ اس کتاب میں زکوٰۃ کی تحصیل و تقسیم کے جو احکام دیئے گئے ہیں وہ صریحاً اپنے پیچھے ایک ایسی حکومت کا تصور رکھتے ہیں جو ایک مقرر قاعدے کے مطابق زکوٰۃ وصول کر کے مستحقین تک پہنچانے کا ذمہ لے۔ (التوبہ : 60۔ 103) اس کتاب میں سود کو بند کرنے کا جو حکم دیا ہے اور سود خودی جاری رکھنے والے کے خلاف جو اعلان جنگ کیا گیا ہے (البقرہ : 275 : 279) وہ اسی صورت میں رو بعمل آسکتات ہے جب ملک کا سیاسی اور معاشی نظام پوری طرح اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو۔ اس کتابت میں قائل سے قصاص لینے کا حکم (البقرہ : 178) چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم (المائدہ : 38) زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم (النور : 2۔ 3) اس مفروضے پر نہیں دیا گیا ہے کہ ان احکام کے ماننے والے لوگوں کو کفار کی پولیس اور عدالتوں کے ماتحت رہنا ہوگا۔ اس کتاب میں کفار سے قتال کا حکم (البقرہ : 190۔ 216) یہ سمجھتے ہوئے نہیں دیا گیا ہے کہ اس دین کے پیرو کفر کی حکومت میں فوج بھرتی کر کے اس حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس کتاب میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ( التوبہ : 29) اس مفروضے پر نہیں دیا گیا ہے کہ مسلمان کافروں کی رعایا ہوتے ہوئے ان سے جزیہ وصول کریں گے اور ان کی حفاظت کا ذمہ لیں گے اور یہ معاملہ صرف مدنی سورتوں ہی تک محدود نہیں ہے۔ مکی سورتوں میں بھی دیدہ بینا کو اعلانیہ یہ نظر آسکتا ہے کہ ابتدا ہی سے جو نقشہ پیش نظر تھا وہ دین کے غلبہ و اقتدار کا تھا نہ کہ کفر کی حکومت کے تحت دین اور اہل دین کے ذمہ بن کر رہنے کا۔
Ayah 9:34زر پرستوں نے دوسروں کے اموال کو ہڑپ کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ؟
49: زیر نظر آیت میں خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب کر کے علمائے یہود و نصاریٰ کی حالت بیان کردی تاکہ مسلمان اس سے نصیحت پکڑیں لیکن اس سے مسلمان علمائے کرام نے کتنی نصیحت حاصل کی اس کا فیصلہ آپ خود فرمالیں اس مضمون کو پڑھتے جائیں اور فیصلہ ساتھ ساتھ کرتے جائیں ممکن ہے کہ کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکیں۔
چونکہ پچھلی آیت میں احبارو رہبان کا ذکر کیا گیا تھا اس لئے آیت (34) میں خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کی حالت بیان فرمائی ہے تاکہ اس سے نصیحت پکڑیں۔
قرآن نے یہاں اور متعدد مقامات میں یہود و نصاریٰ کے علماء و مشائخ کی ایک بہت بڑی گماہی یہ بتلائی ہے کہ ناجائز طریقہ پر لوگوں کا نام کھا لینے میں بےباک ہوگئے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ٹھیک طور پر سمجھ لیا جائے۔ اس سے مقصود کیا ہے ؟ یہ مقصود تو ہو نہیں سکتا کہ وگ لوگوں کے مال پر اعلانیہ ڈاکے ڈالتے تھے ضرور کوئی ایسی بات ہی ہوگی جو ان کی روزانہ زندگی کے اعمال میں داخل ہوگئی تھی اور جس کا نتیجہ اکل اموال بالباطل تھا۔
یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی حلقوں اور اداروں کی تاریخ اب منضبط ہوچکی ہے اس پر نظر ڈالی جائے تو بیشمار باتیں سامنے آئیں گی لیکن خصوصیت کے ساتھ حسب ذیل امور قابل غور ہیں :
! بادشاہوں اور امیروں کی مطلب براریوں کے لئے حلال کو حرام ، حرام کو حلال بنا دیتے اور اس کے فتوے دے کر انعام و اکرام لیتے۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شریعت کے کسی حکم سے انکار کردیتے تھے بلکہ یہ ہے کہ اس کے حکموں کو تور مروڑ کر یا طرح طرح کے حیلے بہانے نکال کر ایسی صورتیں نکال لیتے کہ امیروں کی ہوائے نفس پوری ہوجائے۔ مثلاً کوئی امیر اپنے کسی دشمن سے انتقام لینا چاہتا ہے تو یہ اس کے کفر کا فتویٰ تیار کر کے دے دیتے کہ شرعاً اسے قتل کرنا جائز ہے۔ بیوی سے نجات حاصل کرنی چاہتے تو فتویٰ دے دیتے کہ نکاح قائم نہیں رہا ہے۔ اگر کسی روپیہ پضیسہ والے سے کوئی ایسی بات ہوجاتی جس کی شرح میں تعزیر ہے اور وہ روپیہ دے کر بچنا چاہتا تو مسئلہ کی کوئی ایسی صورت کھینچ تان کر بنا دیتے کہ تعزیر ساقط ہوجاتی۔
بادشاہوں اور امیروں کے نکاح و طلاق کے بارے میں پوپ اور کارڈ ینلوں کی دین فروشیاں تاریخ یورپ کے ایسے مشہور واقعات ہیں کہ محتاج بیان نہیں۔
" ناجائزطریقہ پر مال کھانے کی ایسی صورتیں نکالتے کہ مثلاً فلاں جماعت کافروں اور بت پرستوں کی جماعت ہے۔ ان کا مال دھو کے فریب سے بھی کھالیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ثواب ہے ۔ چناچہ علمائے یہود کا مشرکین عرب کی نسبت ایسا ہی فتویٰ تھا۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے : ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ 1ۚ (3 : 75)
معاملات و قضایا میں رشوت لے کر فیصلے کرتے۔ قرون وسطیٰ میں پوپ سے لر کر کسی گاؤں کے ایک پادی تک جس طرح بات بات میں رشوتیں لیا کرتے تھے وہ رایخ کے مسلمات میں سے ہے۔
راہبو میں سے جو شخص زیادہ شہرت حاصل کرلیتا ، لوگ سمجھتے اسے روحانی تسلط و تصرف کا مقام حاصل ہوگیا اور وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ پس ہر طرح کی حاجتیں لے کر اس کے پاس آتے اور وہ ان سے طرح طرح کی نذریں لے کر انہیں یقین دلا دیتا کہ تمہاری حاجت روائی کا سامان ہوگا ط۔
تمام مذہبی اعمال و رسوم کے لئے باقاعدہ قیمتیں مقرر کردی تھیں اور اس غرض سے کہ آمدنی کے وسائل زیادہ سے زیادہ بڑھیں ہمیشہ نئی نئی رسمیں اور نیو نئی تقریبات نکالتے رہے نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی زندگی کے تمام اعمال خریدو فروخت کا معاملہ بن گئے۔ کوئی نماز پڑھے تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ خرچ کرے ، روزہ رکھے تو اس کے لئے نذانہ نکالے ، شادی غمی ہوجائے تو اس کے لئے فیس مقرر ، وعظ و نصیحت کی محفل کرنی چاہئے تو اس کے لئے باقاعدہ رقوم۔ حتیٰ کہ کوئی خدا سے دعا بھی نہیں کرا سکتا جب تک کہ اس کا مقررہ نذرانہ ادا نہ کردے۔
کتاب اللہ کے علم و تعلم کو صرف اپنے ہی طبقہ کے لئے مخصوص کرلیا کہ یہ عوام کے سمجھنے کی چیز نہیں۔ صرف تبرکا سن کر ثواب کما لینے کی چیز ہے اور پھر جو بہ نیت ثواب سننا چاہے ، اسے معاوضہ لے کر سنانے لگے۔ چناچہ علمائے یہود نے تورات خوانی کو پیشہ بنا لیا تھا اور رومن کھتیولک چرچ کے راجب آج تک ایک ایک گھر میں جا کر انجیل سناتے اور اس کی قیمت وصول کرتے ہیں۔
عوام میں یہ اعتقاد پیدا کردیا کہ نجات کا سررشتہ انہی کے ہاتھ میں ہے ، جسے چاہیں بخش دیں ، جسے چاہیں نہ بخشیں اور پھر اس غرض سے اعتراف گناہ کا طریقہ رائج کیا یعنی ہر عیسائی کے لئے ضروری ہوگیا کہ کسی پادری کے سامنے جو اس غرض سے مقرر ہو اپنے گناہوں کا اقرار کرے اور وہ اسے مسیح کے نام پر بخش دے۔ اصلاح کے بعد نئے کلیسانے یعنی پروٹسٹنٹ نے اس سے انکار کردیا لیکن کیتھولک کلیسا کے معتقدین میں آج تک رائج ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر جلب زر کا یہ طریقہ نکالا گیا کہ مغفرت کے پروانے فروخت کئے جانے لگے یعنی جو شخص ایک خاص مقررہ قیمت ادا کردیتا اس نجات کا مقدس پروانہ مل جاتا اور اس پروانہ کے حصول کا مقصد یہ سمجھا جاتا کہ اب کتنے ہی معاصی و جرائم کئے جائیں ، آسمان میں کوئی پرستش نہ ہوگی۔ مورخین نے تصریح کی ہے کہ اس تجارت کو اس قدر فروغ ہوا تھا کہ کاروباری آدمیوں نے پوپ سے اس کی فروخت کا ٹھیکہ لینا شروع کردیا تھا۔
” لوتھر “ کے دل میں سب سے پہلے اسی معاملہ نے خلش پیدا کی تھی۔
( طرح طرح کے تبرکات اور آثار بنائے تھے اور عوام کے دلوں میں اعتقاد پیدا کردیا تھا کہ جس کسی نے ان کی زیارت کرلی یا انہیں چھو لیا اسے دین دو دنیا کی ساری برکتیں مل گئیں۔ مثلاً لکڑی کا کوئی ٹکڑا جس کی نسبت یقین دلایا جاتا تھا کہ یہ اس صلیب کا ہے ، جس پر حضرت مسیح علیہ اسللام کو سولی دی گئی تھی یا کسی سینٹ کا ناخن یا کوئی کپڑا یا تسبیح۔ لوگ ان کی زیارت کرتے اور مقررہ نذریں ادا کرتے۔ ان تبرکات پر ہیکل بھی تعمیر کئے جاتے تھے جو آج تک موجود ہیں۔
) اکل اموال لباطل ایک بڑا ذریعہ مقابر و مشاہد کی مجاوری بھی ہوئی۔ چناچہ عیسائیوں میں یہ معاملہ اس قدر بڑھا کہ حج و زیارت کا مرکز یہی مقامات بن گئے اور ایک دنیا کی دولت وہاں سمٹ آئی۔
چونکہ دین میں اخلاص باقی نہیں رہا تھا اس لئے جب کبھی دیکھتے کہ شریعت کا کوئی حکم ان کی دنیا پرستیوں میں رک ہے تو فوراً کوئی نہ کوی شرعی حیلہ نکال لیتے۔ قرآن نے اصحاب سبت کے حیلہ کا ذکر کیا ہے (7 : 163) اور اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ انہیں سود کے لین دین سے روکا گیا تھا مگر وہ بلاتامل کھانے لگے (4 : 161) اس باب میں تورات کا حکم کیا تھا اور علماء یہود نے کس طرح یکے بعد دیگرے حیلے نکالے ، اس کی تشریح البیان میں ملے گی۔
جو مر جائے ، اسے ثواب پہنچانے اور اس کے گناہوں کا کفارہ دلانے کے لئے مقررہ رقمیں وصول کرتے اور اس غرض سے طرح طرح کی رسمیں رائج کردی تھیں چناچہ یہودیوں اور کیتھولک عیسائیوں میں آج تک رائج ہیں۔
سب سے آخر مگر سب سے اول یہ کہ دین کی ساری باتوں کو یک قلم دکانداری اور پیشہ بنا لیا تھا اور ان کی پوری زندگی ہر معنی میں دکانداری کی زندگی ہوگئی تھی۔ عالم اور درویش ہونے کے معنی ہی یہ ہوگئے کہ دین اور خدا کے نام سے پیشہ کی روٹی کھانے والے ، علم دین کا پڑھنا پڑھانا ، مسائل دین کی تعلیم ، فتویٰ نویسی ، ہدایت و وعظ ، قراءت و ذکر ، کوئی ایسا کام نہ تھا جو بغیر دنیوی معاوضہ کے کیا جاتا ہو۔
قرآن نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کی اس گمراہی کی طرف اس لئے اشارہ کیا تاکہ واضح ہوجائے ان کا ایمان سے محروم ہوجانا اور دین حق کا عملاً ترک کردینا اور دراصل ان کے علماء و مشائخ کی ان گمراہیوں اور دنیا پرستیوں کا نتیجہ تھا لیکن آج مسلمان اور مسلمانوں کے علماء ومشائخ اپنی حالت پر نظر ڈالیں اور طور کریں کہ کیا وہ بھی ٹھیک ٹھیک احبارو رہبان کے قدم بہ قدم نہیں چل رہے ہیں ؟ اور کیا اکل اموال بالباطل کی یہ تمام صورتیں کسی نہ کسی بھیس میں یہاں بھی کام نہیں کر رہی ہیں ؟ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) نے آج سے دو سو برس پہلے فوزالکبیر میں لکھا تھا کہ اگر حیاء یہود کی حالت دیکھنی چاہتے ہو تو آج کل کے علماء کو دیکھ لو اور اگر عیسائیوں کے رہبان کا نقشہ کھینچنا چاہتے ہو تو آج کل کے مشائخ کے سامنے بیٹھ کر کھینچ لو۔
قرآن نے اس آیت میں یہ بات تمام احبارو رہبان کی طرف منسوب نہیں کی بلکہ اکثر کی طرف منسوب کی ہے اور اس طرح کے مواقع میں اس کا عام انداز یہی ہے۔ مثلاً اہل کتاب ہی کی نسبت دوسری جگہ فرمایا ہے : وان اکثر کم فسقون (5 : 62) تم میں سے اکثر فاسق ہیں۔ یہ نہیں کہا کہ تمت سب فاسق ہو کیونکہ اگر ایسا کہا جاتا تو گو اس اعتبار سے حق ہوتا کہ اکثریت کا حکم کل ہی کا ہوتا ہے لیکن پھر بھی حقیقت حال کی پوری تعبیر نہ ہوتی اور یہ مطلب نکالا جاسکتا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا ایک ایک فرد بلا استثناء اسی طرح کا ہوگیا ہے حالانکہ ان میں خال خال ایماندار اور مخلص افراد بھی موجود تھے۔ یہ بات نہ تھی کہ پوری امت میں ایک فرد بھی نیک راہ پر نہ رہا ہو۔
Ayah 9:35ایسے زر پرستوں کا قیامت کے روز کیا حال ہوگا :
50: ایک حدیث جو ابوہریرہ ؓ نے روایت کی اس آیت کی تفسیر میں کفایت کرتی ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا : (ما من صاحب ذھب و فضة لا یودی منھا حقھا الا اذا کان یوم القیامة سفخت لہ سفاخ من نار فاحمی علیھا فی نار جھنم فیکوی بھا جنبہ و جبینہ و ظھرہ کلما یودت ایدت لہ) جس شخص کے پاس سونا اور چاندی ہو لیکن وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اس کی تختیاں بنائی جائیں گی اور انہیں آتش جہنم میں گرم کر کے اس شخص کے پہلو ، پیشانی اور پشت پر داغ لگائے جائیں گے پھر جب وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی انہیں پھر گرم کرلیا جائے گا۔
مفسرین اسلام نے اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ سونے اور چاندی کا ایک ساتھ ذکر کر کے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ تعین نصاب کے لئے سونے اور اندی کو اکٹھا بھی کیا سکتا ہے اور ملانے کے بعد ایک نصاب بنا کر اس کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے اور یہ بھی کہ سونے سے الگ اور چاندی میں سے الگ زکوٰۃ نہیں ہوگی بلکہ دونوں جنسوں کی زکوٰۃ ایک ہی جنس سے ادا ہوجائے گی اور اس طرح چاندی اور سونا تو ثمنیث کے متعین ہیں اور دوسرے اموال کا اندازہ اس سونے اور چاندی کے ذریعہ سے لگایا جاسکتا ہے اور یہی حال مال تجارت کا ہے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا لفظ عام ہے اس میں فرض زکوٰۃ اور نفلی خیرات اور دوسرے تمام واجب و مستحب صدقات بھی شامل ہیں۔ ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص بامید ثواب اپنے بال بچوں پر صرف کرتا ہے وہ بھی خرچ کرنے والے کے لئے صدقہ ہی ہوتا ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
اسی طرح ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یک وہ دینار جس کو تو رات الٰہی (جہاد) میں خرچ کرتا ہے اور ایک وہ دینار جو تو کسی غلام کی آزادی کے لئے صرف کرتا ہے۔ ایک وہ دینار ہے جو تو کسی مسکین کو خیرات کرتا ہے اور ایک وہ دینار ہے جو تو اپنے بال بچوں کی ضرورت میں سرف کرتا ہے اور ان سب میں سے زیادہ ثواب والا دینار وہ ہے جو تو اپنے بال بچوں کی جائز ضروریات میں صرف کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو سونے چاندی کا مالک اس کا حق یعنی زکوٰۃ ادا نہ کرے گا قیامت کے روز اس سونے چاندی سے اس کے لئے آگ کی چٹانیں بنائی جائیں گی اور دوزخ کی آگ میں ان کو دھکا کر اس شخص کے پہلو ، پیشانی اور پشت پر داغ لگائے جائیں گے اور پورا دن ایسا ہی ہوتا رہے گا اگرچہ کچھ ٹھنڈی پڑجائیں گی تو دوبارہ ان کو پتایا جائے گا اور داغ لگائے جائیں گے اور یہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا اور اس طرح اونٹوں کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان کی زکوٰۃ کے متعلق بھی اس طرح فرمایا کہ قیامت کے روز ایک کھلے میدان میں اس کو لٹا کر اونٹوں کو اس پر چھوڑ دیا جائے گا تاکہ وہ اس کو روندتے رہیں اور اس طرح کا عذاب اس کو دیا جائے گا اور یہ حدیث بہت لمبی ہے جو مسلم نے روایت کی ہے۔
ابوذر ؓ کی روایت میں ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص کے پاس اونٹ یا گائے یا بھینسیں یا بھیڑ بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوٰۃ نصاب کے مطابق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن ان کو بڑا عظیم الجثہ خوب موٹا تازہ بنا کر لایا جائے گا اور یہ جانور اپنے مالک کو اپنے موزوں یعنی کھروں سے روندیں گے اور سینگوں سے ماریں گے جب پچھلی جماعت روندتی ہوئی اس کو گزر جائے گی تو اگلی جماعت لوٹ کر دوبارہ روندنے کے لئے آجائے گی اور یوں ہی اس وقت تک ہوتا رہے گا کہ لوگوں کا فیصلہ ہوجائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
علمائے اسلام نے بیان کیا ہے کہ جس مال میں سے زکوٰۃ ادا کردی گئی ہو باقی مال کبھی خزانہ نہیں ہو سکتا اس میں یاد رکھنا چاہئے کہ جو لوگ اپنے مالوں کو کاروبار اور تجارت میں لگائے تھے ہیں ان کے وہ مال جو کاروبار اور تجارت میں مصروف ہوں وہ یقیناً اکتساب دولت ہے اور جائز اور درست ہے کوئی مذموم نہیں بلکہ محمود و افضل ہے اور جائز کاروبار میں روپیہ لگانا حلال طریقوں سے مال کھانا یقیناً خزانہ میں نہیں آتا لیکن وہ اموال تجارت میں نہ لگائے جائیں ان کو ناجائز اور حرام کاری میں صرف کیا جاتا اگرچہ اس سے مال زیادہ ہوا ہے وہ یقیناً خزانہ کی مد میں آتا ہے اور اس کا وہی حکم ہے جو اوپر گزر گیا۔ صحابہ کرام ؓ میں سے جو غنی تھے ان کی تجارت کے حلا ات بھی تفصیل سے مذکور ہیں اور کوئی شخص حرام طریقوں سے مال جمع نہیں کرتا تھا اور تفصیلات اس کی بہت طویل ہیں اس طرح اموال کو جمع رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان خطوط کے مطابق مال سرف کریں اور کمائیں جو اسلام نے حلال اور جائز قرار دیئے ہیں۔
Ayah 9:36جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے عنداللہ بارہ مہینوں ہی کی تقدیم جاری ہے :
51: اس آیت میں قمری مہینوں کی عظمت و اہمیت واضح کی گئی ہے یعنی خالق کائنات نے جب سے یہ کائنات تخلیق کی ہے اس وقت ہی سے اس کائنات کے خالقن نے ایک محکم اور پکا نظام قائم کردیا ہے جو پوری زندگی سے سال اور مہینوں کا حساب ایک عامی سے عامی آدمی کے لئے بھی واضح کرتا رہتا ہے اس لئے یہ نظام کائناتی اور آفاقی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ 1ؕ (یونس 10 : 5) ” (وہی ہے جس نے) چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کردیں تاکہ تم اس سے برسوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرو۔ “ یہی الٰہی تقدیم ہے جو نوشتہ الٰہی میں موجود ہے اور اس دن سے جاری اور نافذ ہے جس دن سے خالق کائنات نے اس آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کی کوئی کائناتی شہادت ان تقدیموں میں سے کسی بھی تقدیم کے حق میں نہیں ہے جو انسان نے بنائی ہیں۔ یہ الٰہی کیلنڈر ہر مہینے میں افق پر نمایاں ہو کر اپنے ہر روز بدلنے والے نمایاں اور چمک دار نشانوں کے ذریعہ سے دونوں ، مہینوں اور سالوں کا حساب بتاتا رہتا ہے اور کبھی اس میں ‘ کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ فی کتاب اللہ یعنی کتاب اللہ میں جس میں اس کائنات کے متعلق تمام احکام و قوانین مندرج ہیں یہ حکم بھی مندرج ہوا کہ اس میں قمری مہینوں کے حساب سے بارہ مہینوں کا سال ہوگا۔
اس وقت جو ہمارے ہاں سشمی نظام قائم ہے اور اس کے مطابق کیلنڈر تیار کئے جاتے ہیں جب تک جنتری اور کیلنڈر سے مدد نہ لی جائے کوئی شخص آفاق سے دیکھ کر نہیں بتا سکتا کہ آج کون سی تاریخ ہے چاند اگر آج نظر نہ آیا تتو کل نظر آکر یہ بتا دے گا کہ آج چاند کی پہلی یا دوسری ہے اور اس طرح 14 تاریخ تک ہر رات یہ بات بتا دی کہ آج کونسا دن ہے پھر پندرہ اور اس کے بعد بھی وقت کے گزرنے کے ساتھ کسی جنتری اور کیلنڈروں کی مدد کے بغیر ہر دن کو آفاق ہی سے دیکھ کر بتایا جاسکتا ہے اور اس طرح 28 تھی اس لئے آج 29 ہے پھر چاند آگیا تو نیا مہینہ ورنہ گزشتہ کل پچھلے مہینہ کی آخری تاریخ تھی۔ لہٰذا کل یقیناً پہلی ہوگی۔ اگر چاند کی طرف خیال نہ کیا جائے تو اور کوئی چیز ایسی نہیں جو آفاقی طور پر دلالت کرے کہ آج فلاں تاریخ ہے اور پھر فرمایا کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں اس لئے ان میں کمی بیشی ممکن نہیں اور اس طرح ان مہینوں میں کمی یا بیشی کرنا خدائی کیلنڈر میں ردو بدل کرنا ہے جو کسی کے کرنے سے ممکن نہیں ہے اور اس طرح کرنے سے کائنات کے نظام میں بھی خلل واقع ہوگا اور اس طرح رضائے الٰہی کے بھی خلاف ہے۔ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ 1ۙ۬ یعنی یہی صحیح اور فطری اور کائناتی دینی تقدیم ہے اور یہ بھی کہ جس طرح اسلام دین قیم ہے اس کی یہ شہادت آفاق وانفس میں بھی موجود ہے لہٰذا یہ قمری جنتری یہ اصل دینی جنتری ہے کیونکہ اس کی شہادت آفاق میں موجود ہے۔ ” ان حرمت کے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو “ مطلب یہ ہے کہ ان کی حرمت کے خلاف کوئی کام نہ کرو نہ ان میں کسی قسم کا ردوبدل کرو اگر تم نے خود پہل کر کے ان حرمت کے مہینوں میں کوئی جنگ چھیڑی تو اس سے اللہ کا تم کچھ نہیں بگاڑو گے بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرو گے اس لئے کہ اللہ نے ان مہینوں کو جب محترم ٹھہرایا ہے تو تمہارے ہی مفاد کے لئے ٹھہرایا ہے اس طرح اگر تم ان میں کوئی ردوبدل کرو گے تو یہ بھی تم اپنے آپ ہی نقصان کرو گے اس لئے کہ ان مہنواں کے اندر جو اللہ نے برکتیں رکھی ہیں تم ان سے اپنے کئے کے باعث محروم ہوجاؤ گے۔
مشرک من حیث الجماعت تمہارے دشمن ہیں اس بات کا تم خیال رکھو :
52: مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم ان مہینوں کے حدود و حرمت کے لحاظ رکھتے ہوئے مشرکین سے جنگ کرو اور یہ جنگ ان مشرکن سے من حیث الجماعتت ہو اس بنیاد پر ان کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہ کیا جائے کہ ان میں سے کس کس کے ساتتھ کیا کیا رشتہ داری ، قرابت اور دوستی ہے یا خاندان اور قبیلہ کی بنا پر کس قبیلہ سے ہمدردی ہے یا ان میں سے کس گروہ کے ساتھ کوئی سیاسی فائدہ وابستہ ہے یا تجارتی اور معاشی مفاد ہمارا پایا جاتا ہے اس قسم کے تمام تعلقات و مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام مشرکین کے خلاف بلا استثناء جنگ کرو اس لئے کہ خود ان کا رویہ تمہارے ساتھ عملاً یہی ہے کہ وہ تمہارے من حیث الجماعت دشمن ہیں۔ وہ کسی مسلمان کے باب میں نہ کسی قرابت کا پاس رکھنے کے لئے تیار ہیں نہ عہد و پیمان کا۔ اس لئے اب وقت ہے کہ تم بھی ان کے من حیث الجماعتت دشمن بنو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کرو ہاں ! محترم مہینوں کا ضرور پاس رکھو اور ان میں کوئی جنگ پہل کر کے مت چھیڑو ہاں ! دفاعی جنگ یعنی اگر تم پر وہ حملہ انہی حرمت کے مہینوں میں کردیں تتو پھر تم کو بھی اجازت ہے اور یاد رکھو کہ اللہ اپنے انہی بندوں کے ساتھ ہے جو اس کی حدود وقیود کا پاس رکھنے والے ہیں اور اب جب کہ اعلان براء 4 ہوچکا ہے تتو یہ اس لئے نہیں کہ رشتتہ داریوں اور دوستیاں اور تعلقات جو دنیوی طرف کے تماہرے درمیان قائم ہیں ان کا پاس کیا جائے یہ اعلان الٰہی ہے اس میں کسی کی رو رعایتت نہیں کی جائے گی اور یہ مشرکین کے خلاف جہاد عام ہے۔ ہاں ! ایک بار جب امن قائم ہوگا تو اس وقت کے احکامات بھی علیحدہ ہوں گے اور فی الواقع ایسا ہی ہوا اور آنے والی آیت میں عربوں کی رسم ” نسی “ کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس حرمت کے متعلق ہے۔
Ayah 9:37" نسی “ کی حقیقت کیا ہے اور لوگوں نے اس کو کیا بنادیا ؟
53: ” نسی “ نس سے ہے جس کے عمنی تاخیر کرنے یا پیچھے ڈال دینے کے ہیں۔ عربوں کے ہاں محاورہ عام ہے کہ ” نساء الداعی ظم الابل “ یعنی چرواہے نے اونٹوں کو پانی پلانے سے چند دنوں کے لئے روک دیا ہے۔ اس سے جن لوگوں نے کبیسہ کا مہینہ مراد لیا ہے تاکہ نظام شمسی اور قمری میں مطابقت کی جائے یہ ان کی اپنی اختراع ہے اس کا کوئی ثبوت قرآن و سنت اور آثار صحابہ ؓ میں موجود نہیں ہے۔ نسی سے مقصود کیا ہے ؟ اسے خود قرآن کریم نے بتلا دیا ہے اور صحابہ کرام ؓ نے بھی اس کی مزید تشریح کردی ہے لیکن بعد کو مفسرین مستشرقین یورپ کو بھی اس مسئلہ پر خصوصیت کے ساتھ توجہ ہوئی کیونکہ انہوں نے خیال کیا کہ اس سے عرب جاہلیت کی تقویمی معلومات پر روشنی پڑے گی۔ چناچہ پوکاک ، دی ساسی ، گاسین دی پر سیول ، اسپرنگر ، ول ہو سن وغیرہ نے اس پر طول طوریل بحثیں کی ہیں اور زمانہ حال کا ایک اطالوی مستشرق پرنس کائناتی بھی اپنی زیر تصنیف تاریخی اسلام کی پہلی جلد میں اس پر بحث کرچکا ہے۔ مستشرقین ہی کی صف میں محمود پاشا فلکی کو بھی شمار کرنا چاہئے جس نے کبسہ کا نظریہ تسلیم کر کے یہ کوشش کی کہ اس عہد کے شمسی مہینوں کی تقویمی حالت مضبوط کی جائے۔
لیکن حق یہ ہے کہ اس نظریہ کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں اور صاف بات وہی معلوم ہوتی ہے جس طرہ خود قرآن نے اشارہ کردیا ہے اور آثار صحابہ ؓ میں اس کی تفصیل موجود ہے۔
عرب میں حضرت اسماعیل کے زمانہ سے یہ بات چلی آتی تھی کہ سال کے چار مہینے امن کے مہینے ہیں۔ ان میں لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔ رجب ، ذوالقعدہ ، ذوالحجہ ، محرم۔ اسی لئے انہیں اشہرالحرام کہتے تھے۔ یعنی حرمت کے مہینے۔ نیزقمری مہینوں کے حساب سے کہ قدرتی حساب ہے حج کا مہینہ بھی متعین تھا اور وہ اسی نام سے پکارا جاتا تھا یعنی ذی الحجہ۔ اسی مہینے کی آٹھویں ، نویں ، دسویں حج کے اعمال و رسوم کے دن سمجھے جاتے تھے۔
ایک مدت تک یہ بات اسی طرح قائم رہی لیکن پھر لوگوں پر اس حکم کی پابندی شاق گزرنے لگی۔ اول تو اس لئے کہ قمری مہینوں کے حساب کی وجہ سے حج کا زمانہ ہمیشہ ایک ہی مومن میں نہیں آتا تھا۔ بدلتا رہتا تھا اور اس کی وجہ سے قریش کی سفر تجارت میں خلل پڑتا۔ ثانیاً امن کے مہینوں کا معاملہ بھی ان کے جنگ جو یا نہ مقاصد کے خلاف واقع ہوا تھا۔ ایک قبیلہ کو دوسرے قبیلہ سے کتنی ہی عداوت ہو اور انتقام کا کتنی ہی موزوں موقع سامنے دیکھے لیکن اس کی جارت نہیں کرسکتا تھا کہ ان مہینوں کی بےحرمتی کر کے اعلان جنگ کردے۔ چونکہ عرب جاہلیت کی طبیعتوں کے لئے نہ تو دینی قیود تھے۔ نہ علمی حدود۔ اس لئے مطلب براری کا ایک ڈھنگ نکال لینے میں انہیں کوئی وقت دقت پیش نہیں آئی وہ ڈھنگ یہ تھا جگ امن کے مہینوں کا معاملہ ان کے قدرتی حساب پر موقوف نہیں رکھا بلکہ اس کے لئے ایک خود ساختہ اعلان ضروری ٹھہرا دیا جو حج کے موقع پر کیا جاتا تھا۔ اس اعلان کے ذریعے حسب ضرورت امن کے مہینے پے چھ ڈل دیتے یا حج کا مہینہ موخر کردیتے۔ مثلاً محرم امن کا مہینہ تھا۔ اعلان کردیا جاتا کہ اس سال محرم صفر میں واقع ہوگا نتیجہ یہ کہ محرم کا حقیقی مہینہ حکماً معدوم ہوجاتا اور اس میں لڑائی شروع ہوجاتی۔ پھر جب یہ فرق بہت دور تک پہنچ جاتا تو اسے لوٹانا شروع کردیتے۔ یہاں تک کہ اصلی مہینوں کی ترتیب پھر قائم ہوجاتی۔
چونکہ یہ طریقہ سر تا سر جہل و فساد پر مبنی تھا اور اس کی وجہ سے نہ تو تقدیم کا کوئی معیار باقی رہا نہ امن و جنگ کے ایام کا اس لئے ضروری تتھا کہ اس کا قطعاً انسداد کردیا جائے اور حج کے لئے ایک معین اور قطعی زمانہ مقرر ہوجائے اگر فی الحقیقت اس معاملہ کی بنیاد کسی حسابی قاعدہ پر ہوتی تتو کوئی وجہ نہ تھی کہ قرآن اسے زیادۃ فی الکفر سے تعبیر کرتا۔
اسلام کا جب ظہور ہوا تو عرب میں قمری مہینوں کا حساب رائج تھا۔ اس نے بھی اپنے اعمال و عبادات کے لئے اسی حساب پر اعتماد کیا کیونکہ انسان کے لیئے مہینوں کا قدرتی حساب یہی ہے۔ چاند چھپتا ہے اور پھر نکلتا ہے اور ہر شخص خواہ کسی متمدن شہر میں رہتا ہو ، خواہ صحرا میں ، معلوم کرسکتا ہے کہ کب مہینہ ختم ہوا اور کب شروع ہوا۔ اس کے لئے نہ تو علم ہیئت کی حساب دانیوں کی ضرورت ہے نہ نقویم کی جدولوں کی۔ علاوہ بریں موسموں اور طلوع و غروب کے وقتوں کی جو تبدیلیاں قدرتی طور پر ہوتی رہتی ہیں وہ اس حساب میں پیش آتی رہتی ہیں۔ مثلاً رمضان اور حج کا مہینہ ہمیشہ گردش میں رہتا ہے ، کبھی کسی موسم میں آتا ہے ، کبھی کسی موسم میں اور اس طرح ہر انسان کو اپیر زندگی میں پورا موقع مل جاتا ہے کہ یہ اعمال ہر طرح کے موسموں اور ان کے تاثرات کے ساتھ انجام دے ، جس میں بیشمار مصلحتیں ہیں اور یہ موقع تفصیل کا نہیں۔
وہ لوگ جن کی نگاہ میں برے کام بھی اچھے نظر آنے لگتے ہیں وہی آج کل پاپولر کہلاتے ہیں :
54: یہ مرض بھی بہت پرانا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی نگاہ باریک بیں میں برے کام بھی اچھے نظر آنے لگتے ہیں وہ اس وقت بھی موجود تھے اور آج بھی ان کی کوئی کمی نہیں بلکہ آج کل نئی اصطلاح میں انہی لوگوں کو پاپولر بھی کہا جاتا ہے ان کا کام کیا ہے ؟ یہی کہ کفر و اسلام میں کسی نہ کسی طرح پیوند کاری کر کے ان دونوں کو ایک کردیا جائے لیکن کسی دور میں نہ ایسا ہوا اور نہ ہی ممکن ہے کہ کبھی ضدین اکھٹی ہوتی ہوں ہاں ! بلاشبہ نا کا ہر ایک سرا دوسرے سے قریب قریب ہوتا ہے لیکن آپس میں کبھی نہیں مل سکتا۔ اس لئے ان دونوں میں پیوند کاری کبھی ممکن نہیں اور آج تک جتنے لوگوں نے اس سلسلہ میں کوشش کی وہ ہمیشہ ناکام ہوئے۔ یہ بات اس لئے کہی جا رہی ہے کہ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا : ” ان کی نگاہوں میں ان کے برے کام خوشنما ہو کر دکھائی دیتے ہیں اور اللہ کبھی منکرین حق پر سیدھی راہ نہیں کھولتا “ رسم نسی سے ردوبدل کرنے والوں نے کبھی کفر و اسلام دونوں کا جوڑ ملا کر اشہر حرم کی گنتی پوری کرنے کی کوشش کی جو ان کو بہت خوشنما نظر آئی لیکن اس کا نتیجہ کبھی درست نہ نکلا اور نہ ہی نکل سکتا تھا۔ فرمایا دراصل یہ ان کی دینداری نہیں بلکہ بدعملی ہے جو ان کی نگاہوں میں خوشنما ہو کر نظر آنے لگی اس کو انہوں نے دین سمجھا اور عنداللہ وہ کافر کے کافر ہی قرار پائے اور اسلام کی ان کو ہوا بھی نہ لگی اور ان کا سارا کیا کرایا اکارت گیا۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔ یہ مرض آج بھی موجود ہے لیکن جو نتیجہ اس کا پہلے نکلا وہی آج بھی سامنے آتا ہے اور آتا رہے گا تفصیل اس کی کسی دوسرے مقام پر ہوگی انشاء اللہ۔ آنے والی آیت کا رخ مکمل طور پر جنگ تبوک کی طرف پھر رہا ہے جو آخر صورت تک برابر چلتا رہے اور اس میں کبھی منافقین کا رخ سامنے لایا جائے گا اور کبھی سچے مومنوں کا کبھی نفاق فی سبیل اللہ کا اور کبھی سستی سے کام لینے والوں کا کبھی زکوٰۃ کے مستحقین کا بیان ہوگا اور منافقین کے اعمال و خصائص کا اور ان ریشہ دوانیوں کا ذکر کیا جائے گا۔
Ayah 9:38غزوات نبوی میں سے ایک اہم غزوہ ، غزوہ تبوک کا تذکرہ :
55: تبوک ایک مشہور مقام ہے جو مدینہ اور دمشق کے وسط میں نصف راہ پر مدینہ سے 14 منزل ہے۔ جنگ موتہ کے بعد سے رومی سلطنت نے عرب پر حملہ کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ غسانی خاندان جو شام میں رومیوں کے زیر اثر حکومت کر رہا تھا مذہباً عیسائی تھا اس لئے قیصر روم نے اس کو اس مہم پر متعین کیا۔ مدینہ میں یہ خبریں اکثر مشہور ہوتی رہتی تھیں۔ بنی اعظم و آخر ﷺ کے ایلاء کے واقعہ میں حضرت عمر ؓ سے جب عتبان بن مالک ؓ نے دفعۃً آکر یہ کہا کہ غضب ہوگیا تو انہوں نے اس کلی بات سنتے ہی جو کہا وہ یہ تھا کہ کیوں خیر ہے ؟ کیا غسانغ آگئے ہیں۔ ( بخاری ذکر واقعہ ایلاء)
شام کے نبطی سدوا اگر مدینہ میں روغن زیتوں بیچنے آیا کرتے تھے انہوں نے خبر دی کہ رومیوں نے شام میں لشکر گراں جمع کیا ہے اور فوج کو سال بھر کی تنخواہیں بھی تقسیم کردی ہے اور اس فوج میں لخم ، جذام اور غسان کے تمام عرب بھی شامل ہیں اور مقدمۃ الجیش ، بلقاء تک آگیا ہے۔ مواہب لدنیہ میں طبرانی سے روایت نقل کی ہے کہ عرب کے عیسائیوں نے ہرقل کو لکھ بھیجا تھا کہ محمد ﷺ نے انتقال کیا اور عرب سخت قحط کی وجہ سے بھوکوں مر رہے ہیں اس بناء پر ہرقل نے چالیس ہزار فوج روانہ کی تھی۔ مختصر یہ کہ یہ خبریں تمام عرب میں پھیل گئیں اور قرائن اس قدر قوی تھے کہ غلط ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی اندریں صورت نبی اعظم و آخر ﷺ نے فوج کی تیاری کا حکم دیا۔ سوء اتفاق یہ کہ سخت قحط اور شدت کی گرمی تھی ان اسباب سے لوگوں کا گھر سے نکلنا نہایت شائق تھا۔ منافقین جو بظاہر اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے ان کا پردہ فاش ہو چلا تھا وہ خود بھی جی چراتے تھے اور دوسروں کو بھی روکتے تھے۔ غزوہ تبوک 9 ہجری کے رجب میں شروع ہوا اور 9 ہجری کے رمضان میں ختم ہوا۔
غزوہ تبوک کا اعلان عام اسلام کے فداکاروں کا ایک سخت امتحان تھا اور منافق دعویداروں کا امیتاز بھی اس کے علاوہ لازمی نتیجہ کے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کے مختلف حالات ہوگئے۔ قرآن کریم نے ان میں سے ہر حالت کے متعلق جدا جدا ارشادات بیان فرمائے ہیں جن کا ذکر اس سورت میں آتا رہے گا۔ ان میں سے ایک حالت ان کامل اور مکمل لوگوں کی تھی جو بلا تردد جہاد کے لئے تیار ہوگئے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جو ابتداء میں اگر کچھ تردد میں پڑے لیکن ازیں بعد بالکل ساتھت ہوگئے اور تیسری حالت ان لوگوں کی تھی جو کسی خال اور صحیح عذر کی بناء پر اس جہاد میں شامل نہ ہوسکے۔ چوتھی قسم ان لوگوں کی تتھی جو باوجود کوئی عذر نہ ہونے کے کاہلی اور سستی کے بارث شریک جہاد نہ ہوئے۔ پانچواں طبقہ ان لوگوں کا تھا جو اپنے نفاق کی وجہ سے اس سخت امتحان میں اپنے نفاق کو چھپانہ سکے اور شرکت جہاد سے الگ رہے اور چھٹی قسم ان لوگوں کی تھی جو منافق بھی تھے اور جاسوس بھی اور شرارت کے لئے مسلمانوں کے ساتھ ہو لئے تھے۔ آگے آنے والی آیات میں ان ساری قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ہم انشاء اللہ جگہ جگہ ان کی نشاندہی کرتے رہیں گے تاکہ بات واضح ہوتی جائے۔
ان ساری باتوں کے باوجود شرکت جہاد سے باز رہنے والوں کی تعداد شامل ہونے والوں کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔ بھاری اکثریت ان مسلمانوں ہی کی تتھی جو بخوشی جہاد میں شریک ہوتے تھے اور اپنے سارے منافع اور راحت کو قربان کر کے اللہ کی راہ میں ہر طرح کی مشقت برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے اس طرح اس اسلامی جہاد میں نکلنے والوں کی تعداد تیس بزار تھی جو قبل ازیں کسی جہاد میں بھی نظر نہیں آئی۔ نتیجہ اس جنگ کا یہ ہوا کہ جب ہرقل کو مسلمانوں کی اتنی بڑی جمعیت کے مقابلہ میں آبے کی خبر ملی تو اس پر قدرتاً رعب طاری ہوگیا اور وہ مقابلہ کے لئے نہ آیا ۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت تقریباً 20 دن وہاں انتظار کرنے کے بعد جب مخالف مقابلہ پر نہ آئے تو واپس مدینہ تشریف لے آئے۔
زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو پچھلی بیان کردہ اقسام میں سے چوتھی قسم کے لوگ تھے یعنی باوجود کوئی عذر نہ ہونے کے صرف سستی اور کاہلی کا شکار ہوتئے اور ان کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ : ” اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تمہیں اللہ کے ارستے میں نکلنے کے لیے جاتا ہے تو تم زمین کو لگ جاتے ہو کیا تم آخرت کے بدلے صرف دنیا کی زندگی پر مگن ہوگئے ہو ؟ “ یہ گویا ان کی بیماری تھی جس کا علاج ان کو بتایا گیا کہ یاد رکھو ” دنیوی زنگی سے نفع اٹھانا تو کچھ بھی نہیں کیونکہ وہ بہت قلیل و حقیر ہے۔ “ اس لئے تمہارے یہ رویہ کبھی تمہارے لئے سود مند ثابت نہیں ہوگا کیونکہ فائدہ قلیل کو پسند کرنے والے ہمیشہ فائدہ کثیر سے محروم رہتے ہیں اور یہی حال تمہارا ہوا۔
Ayah 9:39شریک جہاد نہ ہونے والے چوتھی قسم کے گروہ کو تنبیہہ کی گئی :
56: اس آیت میں سستی اور کاہلی اختیار کرنے والوں کو ان کے مرض کا علاج بتایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی تنبیہہ بھی کی جا رہی ہے کہ ” اگر تم جہاد کے لئے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لا کھڑا کرے گا اور اس طرح اسلام کی ہدایت پر عمل نہ کرنے سے تم اللہ کو یا اللہ کے رسول ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔ جو ہوا اس کا ازالہ سوائے معافی کے اور کچھ نہیں ہو سکتا اور معافی طلب کرنے والا ایسا ہی ہوتا ہے گویا کہ اس سے کوئی گناہ سرزد ہی نہیں ہوا۔
غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ عقائد اسلامی کے بنیادی اصول تین ہیں۔ توحید ، رسالت اور آخرت پہلے دو کے بعد تیسرا عقیدہ۔ آخرت ہی وہ عقیدہ ہے جو درحقیقت اصلاح عمل کی روح اور جرائم اور گناہوں کے آگے ایک آہنی دیوار ہے اور یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں امن و سکون اس عقیدہ کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ آج کی دنیا میں مادی ترقیاتت اپنے شباب کو پہنچی ہوئی ہیں اور جرائم کے انسداد کے لئے بھی کسی ملک و قوم میں مادی تدبیروں کی کوئی کمی نہیں۔ قانون کی جکڑ بندی اور اس کے لئے انتظامی مشینری روز بروز ترقی پر ہے پھر اس کے ساتھ یہ بھی آنکھوں دیکھا حال ہے کہ جرائم ہر ملک و قوم میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہے ہیں ، کیوں ؟ صرف آخرت سے غفلت اور اعراض کہ آخرت آخرت کا نام تتو لیا جاتا ہے لیکن آخرت کیا ہے ؟ کسی کو معلوم نہیں اور جب معلوم ہی نہیں تو یقین کیا خاک ہوگا ؟