Ayah 9:64منافقین کو جس بات کا کھٹکا تھا وہ ہو کر رہی :
88: فرمایا منافقوں کو پردہ دری کا اندیشہ رہتا تھا اور وہ بات ہو کر رہی ، ان کو خوف تھا تو صرف اس بات کا کہ کہیں ان کے نفاق کو ظاہر نہ کردیا جائے۔ فرمایا : بلاشبہ جس بات کا تم کو اندیشہ تھا وہ ہو کر رہی اور ہم نے اپنے رسول ﷺ کو تمہارے کاموں کی اطلاع دے دی اور ان میں سے بعض کے نام تک بتلا دیئے اور ان کے انداز گفتگو سے بھی مطلع فرمایا۔
چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ فرمائے گا (جو وہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں) اور (اے پیغمبر اسلام ! ) اگر ہم چاہیں تو آپ کو وہ لوگ دکھلا دیں تاکہ آپ ان کے چہروں سے ان کو پہچان لیں اور انداز کلام سے تو آپ ﷺ ان کو پہچان ہی لیں گے اور (اے لوگو ! ) اللہ کو تو تمہارے سارے اعمال کا علم ہے۔ “ (محمد 47 : 29 ، 30)
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ اے مدینہ والو ! اب تمہارا یہاں کوئی ٹھکانا نہیں پس اب لوٹ چلو اور ان میں سے ایک جماعت نبی (کریم) سے اجازت مانگنے لگی اور کہنے لگی کہ ہمارے گھر تو کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں پڑے تھے (یہ کہہ کر) در اصل وہ بھاگنا چاہتے تھے۔ “ (الاحزاب 33 : 13)
” ہمارے گھر خطرے میں ہیں “ ان کی زبانیں کہہ رہیں تھیں اور اللہ نے ان کے دلوں کی باتوں کو رسول اللہ ﷺ پر ظاہر کردیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ ” حالانکہ وہ خطرے میں نہیں تھے “ اس طرح زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں کوئی سورت نازل ہوجائے اور جو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ انہیں جتا دے ، اے پیغمبر اسلام ! تم ان سے کہہ دو کہ تم تمسخر کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ وہ سب بات نکال کر ظاہر کردینے والا ہے جس کا تم کو اندیشہ رہتا ہے۔ “ اور اس دل کے کھٹکا کو ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ ” کچھ دال میں کالا ہے۔ “
Ayah 9:65اگر آپ ﷺ ان سے پوچھ لیں تو کہیں گے کہ ہم تو ایسے ہی مذاق کر رہے تھے :
89: ” نَخُوْضُ “ کے متعلق ہم قبل ازیں عرض کرچکے ہیں کہ یہ بات سے بات نکالتے اور بال کی کھال ادھیڑنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یہ گویا ان کا عذر گناہ بد تراز گناہ ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھ لیں کہ تم ایسی باتیں کر رہے تھے ؟ تو جھٹ جواب دیں گے معاذ اللہ ! استہزاء استغفر اللہ ؟ ہم تو ایسے ہی ہنسی اور مذاق کی باتیں کر رہے تھے ! بس ان کا یہ کہنا تھا کہ قرآن نے ان کو یہیں سے پکڑ لیا کہ اچھا ! تم کو مذاق اور ٹھٹھہ کے لئے اللہ اور اس کا رسول ہی نظر آیا۔ یہی بات اس موقع پر ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی تیاری کے لئے ارشاد فرمایا اور ظاہر ہے کہ وہ رومیوں سے جنگ تھی۔ ان لوگوں نے اس بات کو مذاق بنالیا اور پھبتیاں اڑانے لگے ایک اٹھتا اور اپنی مجلس میں کہتا کہ دیکھو ! چشم بد دور اب شہنشاہ روم سے جنگ لڑنے چلے ہیں۔ دوسرا اس طرح اپنا بیان داغ دیتا کہ ” ان کے وہاں پہنچنے کی دیر ہے رومی فوجین ان کی وہ درگت بنائیں گی کہ چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔ “ پھر تیسرے کی باری آتی تو وہ بولتا کہ یار مزا آجائے گا جب ان کے ہاتھ پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اور اوپر سے کھڑے برس رہے ہوں گے۔
اس طرح یہ لوگ اپنی خاص مجلسوں میں باتیں کرتے اور پھر جب نبی کریم ﷺ کے پاس حاضری دیتے تو سارے مل کر وہاں گربہ مسکین کی طرح حاضر ہوتے اور دست بستہ عرض کرتے یا رسول اللہ ! ہم تو وہاں بیٹھے صرف دل لگی کر رہے تھے ان کو جواب سنایا جا رہا ہے کہ : ” کم بختو ! کیا اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کوئی نہیں رہا جس کے ساتھ دل تم دل لگی کرسکو۔ “ قرآن کریم نے دوسری جگہ انہی لوگوں کو سمجھانے کی سر توڑ کوشش کی ہے اور بڑے درد مندانہ طریقہ سے ان کو سمجھایا ہے لیکن مثل ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا کہ :
” اور اپنے رب کی طرف رجوع ہوجاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آجائے پھر (اس وقت) تمہاری مدد نہ کی جائے گی۔ اور (اے لوگو ! ) اس بہترین (کتاب) کی پیروی کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے قبل اس کے کہ تم پر اچانک آفت آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو کہ یہ آفت کہاں سے آگئی ؟ ) ۔ (باخبر کیوں کیا جاتا ہے ؟ اس لیے کہ) کہیں کوئی متنفس یہ (نہ) کہنے لگے کہ افسوس ہے اس کوتاہی پر جو میں اللہ کے بارے میں کرتا رہا اور میں تو صرف ہنسی ہی اڑاتا رہا (اور میں کتنا ناسمجھ نکلا ؟ ) ۔ یا کوئی کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھ کو راہ (حق) دکھاتا تو میں بھی پرہیزگاروں میں ہوتا (اور انعام پاتا) ۔ عذاب کو دیکھ کر یہ کہنے لگے کہ کاش مجھے (دُنیا میں) پھر ایک بار واپس جانا ہو تو میں (بڑے) نیک کام کرنے والوں میں ہوجاؤں۔ ہاں ! (کچھ نہیں تیرے پاس میرے احکام پہنچے تھے پھر تو نے ان کو جھٹلایا اور گھمنڈ کیا اور تو کافر کا کافر ہی رہا (تیرا شیطان تجھ پر غالب آیا) اور آپ ﷺ قیامت کے دن ان لوگوں کے چہرے سیاہ دیکھیں گے جو اللہ پر جھوٹ باندھتے رہے (اور بہتان لگاتے رہے) کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا دوزخ نہیں ؟ (کیوں نہیں ، دوزخ ہی ہونا چاہیے اور دوزخ ہی ہوگا) “ (الزمر 39 : 54 تا 60)
Ayah 9:66آج عذر پیش نہ کرو بلکہ سن لو کہ آیات الٰہی کا تمسخر کھلا کفر ہے :
90: ان سے کہا جا رہا ہے کہ باتیں نہ بناؤ ۔ تمہارا یہ عذر گناہ تمہارے گناہ سے بھی بدتر ہے اگر کوئی گروہ اللہ کا 1 اس کے رسول اور اس کی آیات کو ہنسی مذاق اور دل لگی کا کھلونا بنالے تو اس کے مجرم ہونے کے لئے اور کیا کچھ چاہئے ؟ یہی تو وہ چیز ہے جو ایمان کے اظہار کے بعد کھلے کفر کا اعلان ہے۔ تم نے ایمان کا دعویٰ کیا تھا تو اس کا حق تو یہ تھا کہ تم اپنے عمل سے اس کا ثبوت فراہم کرتے لیکن عمل سے جو تم نے ثبوت پیش کیا ہے وہ سراسر کفر ہے اس لئے کہ اللہ کے رسول اور اس کی آیات کا مذاق اور ٹھٹھہ کھلا ہوا کفر ہے اس کی مزید تشریح دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد سوم تفسیر سورة الانعام کی آیت 70 ملاحظہ کریں۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ منافقین کی بہت ٹولیاں تھیں جن کے نفاق کی نوعتیں بھی الگ الگ تھیں۔ زیر نظر آیت میں بھی اس کی نشاندہی کی گئی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ : ” اگر ہم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کردیں تاہم ایک گروہ کو ضرور عذاب دیں گے۔ “ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ ان میں سے بعض ٹولیاں تو بہت ہی خطرناک ہیں اور ” وہی مجرم ہیں۔ “ گویا یہ وہ لوگ تھے جو منافقوں کے سردار اور ان کی کمان کرنے والے تھے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے ایسی ایسی چالیں چلیں کہ ان میں سے ایک چال بھی اگر کامیاب ہوجاتی تو کھلے معاندین کی تمام چالوں پر بھاری ہوتی۔ اس لئے محاورہ ہے کہ ” گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔ “ انہی لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا جا رہا ہے کہ اگر بعض کو معاف بھی کردیں تو بعض کو ضرور عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ چناچہ آگے اس سورت میں ان کے بعض کا مزید ذکر آئے گا اور اس جگہ ہم انشاء اللہ ان کی چالوں کی مزید وضاحت کریں گے اور ان کا جو حشر ہوا اس کا ذکر بھی کیا جائے گا۔
Ayah 9:67منافق مرد ہوں یا عورتیں ایک دوسرے کے مکمل طور پر مددگار و معاون ہیں :
91: اس وقت تک منافقین اپنے دعویٰ ایمان کے باعث مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے ہوئے تھے یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی علامات بیان کر کے ان کی نشاندہی کی جا رہی ہے فرمایا : ” منافق مرد ہوں یا عورتیں سب کا مزاج یکساں ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برائی کا حکم دیتے ہیں اور اچھی باتوں سے روکتے ہیں بدعات کے رواج دینے میں پیش پیش ہیں یہاں تک کہ کھلے طور پر بدعات کا نام سنتیں رکھ لیا ہے۔ یہ وہی ہیں جو ہرے برے نظریہ اور ہرے برے فعل کی ترویج و اشاعت میں بڑے چست ہیں اور کہیں سے بھی نیکی کی کرن پھوٹے تو تلملا جاتے ہیں اور ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ برائی کو نیکی کا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں اور نیکی کو برائی کا رنگ دے کر اس سے روکتے ہیں اس لئے کہ کوئی شخص فی نفسہ نیکی کو نیکی مان کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نیکی ہے لیکن اس کے قریب مت جانا بلکہ وہ ہمیشہ نیکی کو برائی کا لباس پہنچائے گا اور لوگوں کو باور کرائے گا کہ یہ نیکی نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھو برائی ہے۔ اگر نیک کام میں ان سے مالی اعانت کا مطالبہ کیا جائے تو خواہ ان کے ہاں روپیہ کی فراوانی ہو ان کی مٹھیاں مکمل طور پر بند ہی رہتی ہیں اور انہیں کبھی اس بات کی توفیق نہیں ہوتی کہ اس کے لئے کوئی پائی پیسہ خرچ کریں بلکہ وہ دوسروں کو خرچ کرتے دیکھ کر غش کھا جاتے ہیں اور طرح طرح کی باتیں بناتے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے اپنے غرز عمل سے یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں اللہ یاد نہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ رب العزت نے بھی ان بدنصیبوں کو اپنی خاص رحمت و عنایت سے فراموش کردیا ہے جہاں دوسروں کے لئے اللہ کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں کہ جب وہ چاہیں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں وہاں ان کی طرف کھلنے والا دروازہ بند کردیا گیا ہے گویا باہر کوئی سائل موجود ہی نہیں جس کی طرف دست جود و سخا دراز کرنا مطلوب ہو یہی وجہ ہے کہ ایسے انسانوں کی خدا فراموشی انسان کو خود فراموش بنا دیتی ہے اور یہ جرم جتنا بڑا ہے اس کی سزا بھی اتنی ہی بڑی اور سنگین ہونی چاہئے تھے۔ اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ کے ہاں فراموش کردیئے گئے یعنی آخرت کی بھلائی سے وہ مکمل طور پر محروم ہوگئے اور یہی وہ سزا ہے جو ساری سزاؤں سے بڑی ہے۔
Ayah 9:68منافقوں کو بھلا دیئے جانے کی مزید وضاحت فرمادی گئی کہ وہ ” بھلا دینا “ کیا ہے ؟
92: فرمایا اللہ کی رحمت و عنایت کے مستحقین کی فہرست سے تو ان کا نام خارج کر ہی دیا گیا ہے کیونکہ اس کی ان کی خواہش ہی نہ تھی اور نہ ہی یہ مسئلہ ان کے ذہین دماغ میں آنے والا ہے کہ آخرت بھی کوئی چیز ہے اور ہمیں اپنی ان حرکتوں کا اللہ کے ہاں جواب بھی دینا ہے۔ جس کا فطرتی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا اور یہی ہے کہ دوزخ کے دھکتے ہوئے انگارے ان کا راستہ دیکھ رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ عمر بھی کوشاں رہے اور اس کی آرزو می وہ دن رات عملاً بےقرار رہے سو اب ان کی یہ خواہش پوری کرنے کے لئے ان سے پختہ وعدہ کیا جارہا ہے کہ انہیں جہنم میں ابدی جگہ قرار دے دی جائے گی اور جہاں سے ان کو کبھی بھی نکالا نہیں جائے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ یہ بات قبل ازیں کتنی ہی دفعہ واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ہونا اس کی رحت سے دوری کا دوسرا نام ہے۔
Ayah 9:69منافقوں سے خطاب کہ تمہارا یہ حال کوئی نئی بات نہیں تمہارے پیشوا بھی ایسے ہی تھے :
93: منافقین کو اب براہ راست مخاطب فرما کر تنبیہہ کی جارہی ہے کہ جو مالو اولاد اور اقتدار تم کو دیا گیا اور جن چیزوں پر تم فیفتہ ہو کر یہ چلتر کر رہے ہو اس سے تم کو یہ غزہ نہ ہو کہ اللہ کے ہاں تم مقبول ہوگئے ہو۔ ہرگز نہیں بلکہ اللہ کے ہاں تم بلاشبہ مبغوض ہوا اس لئے کہ اللہ کی مقبولیت اور مبغوضیت کا یہ نشان مطلق نہیں۔ اس لئے کہ تم سے پہلے بھی جو قومیں گزری ہیں ان کو تم سے بھی زیادہ اللہ نے دے رکھا تھا لیکن کیا ہوا ؟ ان کے لئے اس دنیا سے جتنا فائدہ اٹھانا مقصود تھا جب انہوں نے اتنا فائدہ حاصل کرلیا تو ان کی صفیں لپیٹ دی گئیں اور وہ تباہ و برباد ہو کر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوچکے اب تمہاری باری ہے تو انہی کی طرح تم بھی اپنے حصہ سے فائدہ حاصل کر رہے ہو اور انہی کی طرح موشگافیاں اور بوا الفضولیاں بھی کر رہے ہو اس لئے یقیناً تمہاری تباہی کی گھڑی بھی تمہارے سروں پر منڈلا رہی ہے جس طرح ان کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوئے تمہارے بھی یقیناً برباد ہوجائیں گے اور جس طرح پہلے نامراد ہوئے تم بھی ہوجاؤ گے۔ یہ دنیوی عزت و جاہ اور مال و متاع کا قانون الٰہی اس طرح نہیں کہ یہ صرف انہی کو دیا جائے جو اللہ کے فرمانبردار اور نیک لوگ ہوں بلکہ قانون مشیت اس کے لئے بالکل مختلف ہے اس لئے اس کو آخرت کی کامیابی پر منطبق نہیں کیا جاسکتا ہے یہی وہ دھوکا ہے جو پہلوں نے کھایا اور اسی نے تم کو تباہ و برباد کردیا ہے اور یہی وہ گھاٹا ہے جو کبھی پورا ہونے والا نہیں۔ کیونکہ اس دنیا میں کوئی روز روز نہیں آئے گا بلکہ فقط ایک ہی بار اس امتحان گاہ میں آنا ضروری تھا اور انہی اعمال کے نتیجہ کا نام آخرت ہے جس کا بعد موت نہیں ہے۔
ہاں ! منافقین و معاندین اور منکرین کے وہ اعمال جو فی نفسہ اچھے کہلاتے ہیں اور ان میں سے جو انہوں نے اس دنیا میں انجام دیئے وہ ان کا اجر اس دنیا میں حاصل کرچکے اس لئے آخرت وہ اجر وثواب حاصل نہیں کرسکیں گے اس لئے کہ وہ مکمل طور پر ضائع ہوگئے اور اس ضیاع کا باعث بھی وہ خود ہی ہوئے کیونکہ وہ نام و نمود چاہتے تھے آخرت پر تو ان کا یقین ہی نہیں تھا اس لئے نام و نمود کی نمائش انہوں نے کرلی اور ان کی یہ ساری شہرت ان کے انہی اعمال کا نتیجہ ہے اس کو آخرت کی کامیابی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہر عمل کا نتیجہ عمل کرنے والے کی نیت کے ساتھ آویزاں کردیا گیا ہے۔
اے اہل نفاق ! ایک بار پھر سن لو کہ اس محفل ہستی میں تمہارا وجود کوئی اچننبھا نہیں تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزر چکے ہیں جو قوت و طاقت اور مال و دولت میں تم سے کہیں زیادہ تھے انہیں بھی سمجھانے والوں نے بہترا سمجھایا لیکن زندگی کے اعلیٰ اور پاکیزہ مقصد کو سمجھنے سے ان کی خام عقلیں قاصر رہیں اور وہ جسمانی لذتوں اور شہوانی خواہشوں میں کھو کر رہ گئے اور زندگی کی قیمتی گھڑیاں یونہی برباد کر کے اس دنیا سے چلے گئے اور ان کا انجام بھی حسرت ناک اور دردناک ہوا اور آج وہی روش تم نے اختیار کر رکھی ہے اس لئے تمہارا بھی وہی عبرت ناک انجام ہونے والا ہے اور یہ بات ان کی سمجھ میں آئی اور نہ تمہاری میں آئے گی۔
Ayah 9:70منافقوں کے آنے والے گروہ نے جانے والے گروہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی :
94: یہ آیت گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کر رہی ہے کیونکہ اس میں چند گزشتہ قوموں کا نام لے کر ان کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے ان تمام اقوام کی سرگزشتیں سورة الاعراف میں گزر چکیں اور آئندہ اس جلد میں سورة ہود کی تفسیر میں دوبارہ آئیں گی اور ہم نے ان کی پوری سرگزشتوں اور ان کے نتائج کو سورة ہود میں ذکر کیا ہے۔ یہ وہی قومیں ہیں جن کی عظمت و سطوت کی داستانیں اور پھر ان کی تباہی و بربادی کے قصے خود ان کے ہاں بچے ، بچے کی زبان پر جاری تھے۔ اصحاب مدین کے متعلق ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ اس سے ہر جگہ مراد قوم شعیب ہے اور الٹائی گئی بستیوں سے مراد لوط (علیہ السلام) کی بستیاں ہیں۔
ان قوموں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ان پر ظلم و زیادتی نہیں تھی بلکہ ان کے انبیائے کرام (علیہم السلام) نے ان کو صحیح راستہ بتایا اور پھر وقتاً فوقتاً ان کو ان کی غلط روی پر متنبہ کرنے کے لئے مزید انبیائے کرام بھی بھیجے گئے۔ آسمانی ہدایت کی رشنی ان کے سامنے حق و باطل کو نمایاں کرتی رہی لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اسی راہ پر چلنے کے لئے مصر رہے جو ہلاکت کے گہرے غار میں لے جانے والی تھی اور پھر انجام کار وہ اسی غار میں جاگرے۔ اب تم خود فیصلہ کرلو کہ قصور وار کون ہے ؟ کیا رب العزت نے ان کے ساتھ بےانصافی کی یا وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے نکلے۔
جس طرح قرآن کریم کی چند سورتوں کے علاوہ باقی میں ہر جگہ مومنوں اور نیک لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کے قصص سے اس وقت کے لوگوں کو درس دیا گیا ہے کہ تم سے پہلے نیک لوگوں نے یہ یہ قربانیاں دیں اور ان کو اس طرح انعامات و اکرامات سے نوازا گیا اور ان کی آخری زندگی میں ان کو یہ یہ آسانیاں نصیب ہوں گی اور اس اس انعام کے وہ مستحق قرار پائیں گے اس طرح اس سورت التوبہ اور چند دوسری سورتوں میں اکثر جگہ ذکر تو منافقین و معاندین ہی کا کیا گیا لیکن جملہ معترضہ کے طور پر کہیں کہیں درمیان میں سچے مسلمانوں کا تذکرہ بھی لایا گیا۔ اسی اصول کے تحت آنے والی آیت میں سچے مسلمانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے اور مف ہوں کا رخ اس طرف بدل گیا ہے لیکن ایک دو آیتوں کے بعد پھر وہی ذکر شروع ہوجاتا ہے جو پیچھے چلا آرہا ہے یعنی منافقین اور مخالفین و معاندین کا۔
Ayah 9:71مومن مرد اور عورتیں جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ کی خوشنودی کے لئے ہی کرتے ہیں :
95: زیر نظر آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافق ، مخالف اور کافر جن کے مقابلہ میں مومن و مسلم اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگار و معاون نام رکھنے والے صرف ناموں ہی کا فرق رکھتے ہیں یا ان میں فی الحقیقت کوئی خط امتیاز بھی موجود ہے جس سے ان کی شناخت ہوتی ہے فرمایا ان دونوں گروہوں میں واضح اور بین فرق موجود ہے۔ فرمایا جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا اور اسلام کو اپنا دین ، رسول اللہ ﷺ کو اپنا ہادی و رہنما اور پیر و مرشد تسلیم کیا ان میں ان میں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا واضح فرق موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جو خوش نصیب مرد اور عورتیں دین اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو قبول کرتے ہیں ان میں ایک ایسا انقلاب رونما ہوتا ہے جو ان کے ظاہر و باطن کو بدل کر رکھ دیتا ہے وہ نیکی کو فروغ دینے کے لئے اپنے سارے وسائل وقف کردیتے ہیں اور اپنے راحت و آرام کو قربان کردیتے ہیں اور ضرورت پڑے تو نیکی کا پرچم سر بلند رکھنے کے لئے وہ اپنی جان بھی پوری خوشی اور مسرت کے ساتھ دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں اور ان کا وجود تو باطل کے لئے ایک کھلا چیلنج ہوتا وہ باطل اور برائی کی سروری قبول کرنے سے صاف صاف انکار کردیتے ہیں اور جہاں تک ان کا بس چلتا ہے وہ اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں بالکل دریغ نہیں کرتے۔ یہی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور یہ بھی کلہ وہ صرف اس پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کی اطاعت کے لئے ہر وقت مستعد رہتے ہیں اور وہ اس راہ میں خرچ کرنے کو کبھی تاوان خیال نہیں کرتے بلکہ اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ ان کا ایمان ہوتا ہے کہ جو ہم اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں یہ مال ہمارا مکمل طور پر محفوظ ہو رہا ہے جو تھوڑی مدت کے لئے نہیں بلکہ ایک بہت بڑی مدت کے لئے بڑھتا ہی جائے گا۔
اس آیت نے پیچھے بیان کئے گئے نظام زکوٰۃ میں اس بات کا اضافہ کردیا کہ یہ سمجھنا کہ جب ہم نے سال میں ایک مرتبہ زکوٰۃ کا ٹیکس دے دیا تو انفاق فی سبیل اللہ کے تمام مطالبات پورے ہوگئے صریحاً قرآنی تعلیم سے اعراض کرنا ہے۔ زکوٰۃ تو ایک خاص قسم کا ٹیکس ہے اور وہ ایک خاص مقصد کے لیے لگا گیا ہے جو سال میں ایک مرتبہ دینا پڑتا ہے لیکن ہماری زندگی کا ہر سانس ہم سے انفاق فی سبیل اللہ کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر ہم اسلامی زندگی کا توشہ لے کر دنیا سے جانا چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ حسب استطاعت اس کے تمام مطالبات پورے کریں اور میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کوڑا کوڑا تھو کی عادت نہ بنائیں بلکہ اس پر غور کریں کہ مٹھاس کے لئے کڑواہٹ کرنی لازم و ضروری ہے اور مومن مرد اور مومن عورتیں ہمیشہ اس کا خیال رکھتے ہیں۔
Ayah 9:72مومن مردوں اور عروتوں کا اصل ٹھکانا ” جَنّٰتِ عَدْنٍ 1ؕ“ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے :
96: فرمایا جس طرح کفارو منافقین کے لئے دوزخ ایسی جگہ ہے جہاں سے ان کا نکلنا محال ہے اسی طرح ” جَنّٰتِ عَدْنٍ 1ؕ “ وہ جگہ ہے جہاں مومن مرد اور عورتوں کو رکھا جائے گا۔ ” عَدْنٍ 1ؕ “ وہی چیز ہے جس کو حاصل کرنے کے بعد پھر کبھی اس سے جدائی نہ ہو ہماری زبان میں کان کو معدن کہتے ہیں کیونکہ کی دھات کے نکلنے کی وہ جگہ قرار پاتی ہے اور جوں جوں نکالتے جاؤ وہاں سے وہ چیز نکلتی ہی جائے گی۔ اس نسبت سے اس کو ” جَنّٰتِ عَدْنٍ 1ؕ“ کہا گیا یعنی ایسی جنت جس سے وہ کبھی بھی نکالے نہیں جائیں گے اور پھر اس جنت عدن اور جنت فردوس سے بڑھ کر جو ان کو ملے گا اس کا بھی ذکر خیر کردیا گیا فرمایا وہ جو ان ساری چیزوں سے بڑھ کر حاصل کریں گے وہ ” اللہ تعالیٰ کی رضامندیاں ہیں “ گویا وہ اللہ کے ہاں منظور نظر ہوگئے اس لئے وہ اس خاص انعام کے مستحق قرار لاگئے جو ساری اخروی نعمتوں سے بڑھ کر اور ارفع و اعلیٰ نعمت ہے۔ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ ان کی ساری کاوشیں ، ساری محنتیں ، ساری ریا ضتیں اور ساری آہ و زاریاں اس لئے تھیں کہ اللہ ان سے راضی ہوجائے اور اب ” اللہ کی خوشنودیوں کا ان پر نزول ہوگا۔ “
Ayah 9:73کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے کی دوبارہ تاکید :
97: یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیات ہم کو بتاتی ہیں کہ جہاد صرف اور صرف جنگ لڑنے ہی کا نا نہیں ہے بلکہجَاہِدِ جہد سے ہے جس کے معنی زور لگانا اور کوشش کرنے کے ہیں اور جہاد معنی جنگ کو بھی اس لئے جہاد کہا جاتا ہے کہ دشمن کی طاقت کو کچلنے کے لئے زور لگایا جاتا ہے۔ امام راغب (رح) کہتے ہیں کہ جہاد تین طرح پر ہے۔ دشمن ظاہری سے جہاد ، شیطان سے جہاد اور اپنے نفس سے جہاد اور جَاہِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ 1ؕ اور جَاہِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وغیرہ تینوں قسم کا جہاد شامل ہے اور نبی کریم ﷺ کا بھی ارشاد گرامی ہے کہ : جَاہِدُوْا اھواء کم کما تجاھدون اعداء کم ۔ یعنی اپنی خواہشات نفس سے اس طرح جہاد کرو جس طرح اپنے دشمنوں سے جہاد کرتے ہو اور نبی کریم ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ : جَاہِدُوْا الکفار بایدیکم والسنتکم ۔ یعنی کافروں کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے بھی جہاد کرو اور زبانوں سے بھی جہاد کرو اس طرح جہاد کی بہت سی اقسام مراد لی جاسکتی ہیں جیسے جہاد لسانی اور جہاد قلبی وغیرہ۔
اور اس طرح فرمایا وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ 1ؕ کہ ان پر سختی کرو چونکہ غلظ ، رقت کی ضد ہے اس لئے غلظ کا استعمال قوت اور طاقت پر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے : ” مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا “ مضبوط عہد اور اسی طرح فَاسْتَغْلَظَ کے معنی مضبوط ہونا اور موٹا ہونے کے ہیں۔ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ 1ؕ کے معنی ہوئے ” ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ “ اس لئے کہ اب وہ نرمی کے مستحق نہیں رہے۔ یہ سب کچھ اس لئے بیان کیا گیا کہ ہمارے مفسرین عربی کے کسی لفظ کا ایک معنی جب ایک قرار دیتے ہیں تو دوسری جگہ اگرچہ اس کے وہ معنی مراد نہ ہوں اس کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ زیر نظر آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو تو ظاہر ہے کہ پیچھے مشرکوں اور کافروں کے جہاد کا ذکر تو چلا ہی آرہا تھا اور اس جہاد سے مراد بھی بالاتفاق جہاد بالسیف ہی تھا لیکن باقی قسم کے جہاد بھی یقیناً اس میں شامل تھے لیکن اس جگہ کافروں کے ساتھ منافقوں کو بھی شامل کرلیا اور منافق کی تعریف میں دیکھ چکے ہیں کہ وہ وہی تھے اور ہیں جو زبان سے تو ایمان و اسلام کا اقرار کرتے تھے لیکن عملاً مخالفت پر ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے تاہم کسی زمانہ نبوی ﷺ میں بھی ان کے ساتھ جہاد بالسیف نہیں کیا گیا بلکہ بعض اوقات انہوں نے وہ کام کئے جن کی بناء پر صحابہ ؓ نے عرض بھی کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اس مانفق کی گردن زنی کردینی چاہئے لیکن آپ ﷺ نے منی فرمایا اور کبھی کسی منافق کو صرف نفاق کے باعث قتل نہیں کیا گیا۔
جس کا صاف صاف مطلب یہی ہے کہ پیغمبر اسلام اور دوسرے مسلمانوں کو زیر نظر آیت میں حکم یہ دیا گیا ہے کہ منافقوں کے ساتھ ایک مدت تک آپ نے نرمی اختیار کی اور ان کی شرارتوں سے چشم پوشی کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے ساتھ نہ نکلنے بلکہ ساتھ نکل کر واپس چلے آنے پر بھی کبھی سخت گیری نہ کی گئی بلکہ آج تک ان کے عذتوں کو قبول کیا گیا لیکن اب وہ وقت آگیا کہ منافقوں اور مومنوں کو بالکل الگ الگ کردیا جائے اور ان کا مسلمانوں کے ساتھ ملے رہنے سے جو مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے۔ مطلب بالکل واضح ہے کہ اپنی مجلسوں سے ان کو الگ کردیا جائے اور اپنے قومی رازوں سے ان کو آگاہ نہ ہونے دیا جائے اس لئے کہ ان کو یہ محسوس ہو کہ ہمارے اندر کیا کمزوری ہے اور اس کمزوری کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے اس کا یہی طریقہ ہے کہ عام مسلمان جو صحیح معنوں میں مسلمان ہیں ان کے ساتھ اور نام کے مسلمانوں کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔
نبی اعظم و آخر ﷺ نہایت رقیق القلب اور خلیق عظیم کے مالک تھے۔ آپ ﷺ خلقتاً نعم مزاج تھے بلکہ خود قرآن نے آپ ﷺ کے اس وصف مزاجی کی تعریف کی ہے جس کی تشریح ہم عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 158 میں کرچکے ہیں۔ سخت مزاجی اور سخت کلامی آپ ﷺ میں نہیں تھی اس لئے ہم نے ” سختی سے پیش آؤ “ سے ترجمہ کیا ہے اور اس کا مطلب فقط یہ ہوگا کہ ان سے نرمی اختیار نہ کرو جو آج تک تم کرتے آئے ہو کیونکہ یہ لوگ نرمی سے درست ہونے والے نہیں اگر ایسے ہوئے تو کبھی کے درست ہوگئے ہوتے۔ اب ان سے وہ چشم پوشیاں اور عفو و درگزر نہ کیا جائے جو آج تک آپ کرتے رہے اس لئے کہ یہ اسلام کے دشمن ہیں اسی لئے انہوں نے آج تک اپنے رویہ میں ذرا بھی لچک نہیں ڈالی۔
ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں برباد ہے :
98: ان کا آخری ٹھکانا تو یقیناً جہنم ہے اگر انہوں نے توبہ نہ کی اور باز نہ آئے۔ اس طرح ان کی آخرت کی رسوائی تو یقیناً ہوگئی۔ رہی بات کہ ان کی دنیا میں رسوائی ہوئی یا نہیں ؟ غور کرو کہ جس طریقہ سے قرآن کریم نے ان کا تذکرہ کیا اور کرتا جا رہا ہے اور اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب بھی کسی کو اس میں شک ہو سکتا ہے کہ ان کی دنیا میں رسوائی ہوئی یا نہیں۔ رسوائی اور کیا ہوتی ہے ؟ خود نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ان کے سردار کا نماز جنازہ خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا لیکن اس کے باوجود وحی الٰہی نے دو ٹوک حکم سنا دیا کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ایک دفعہ نہیں اگر ستر بار بھی اس کے لئے بخشش طلب کریں تو اس کو بخشا نہیں جائے گا۔ ان کی تعمیر کردہ مسجد کو ان کی آنکھوں کے سامنے منہدم کردیا گیا۔ ان ساری باتوں کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ ان کی دنیا میں رسوائی ہوئی یا نہیں تو یہ کہنے والے کی مرضی لیکن اس میں شک کی کوئی گنجائش تو باقی نہیں رہ جاتی یقیناً وہ دنیا میں بھی رسوا ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں اور تا قیامت ہوتے رہیں گے اور آخرت بھی ان کی برباد ہوئی اور جہنم کے انگاروں کے سوا ان کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔
Ayahs 9:74–75منافقین نے مخالفت رسول ﷺ میں وہ کونسا کام ہے جو نہیں کیا ؟
99: اوپر آیت 65 اور حاشیہ 89 میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ منافقین اپنی مجالس میں اللہ ، اس کے رسول اور آیات قرآنی کا مذاق اڑاتے تھے لیکن جب ان سے اس سلسلہ میں پوچھ گچھ ہوتی تو صاف انکار کردیتے ہیں اور اگر بہت مجبور ہوتے تو دوہرے مفہوم کی بات کرتے جس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ فلاں آدمی ذو معنی باتیں کرتا ہے اور پنجابی میں کہتے ہیں ” دوگلا “ ہے اور زیادہ ضرورت محسوس کرتے تو فوراً قسمیں کھانے لگتے تاکہ سامعین کو یقین آجائے یا ان کی بات سن کر کم از کم خاموش ہوجائیں اور کبھی کہہ دیتے کہ ہاں ! ہم نے تو ایسے ہی مذاقاً کہا تھا وہ بات کوئی ہم نے دل سے تھوڑی ہی کہی تھی ، دل لگی اور ہنسی کی باتوں پر تو اتنا گہرا نہیں سوچا جاتا۔ زیر نظر آیت میں منافقین کی انہی چالوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی خاص بات اس قسم کی انہوں نے کی ہو جو بعد میں پکڑی گئی تو اس پر انہوں نے قسمیں کھائی ہوں کہ ہم نے تو ایسا نہیں کہا کیونکہ روایات میں ایسی بہت سی باتیں تھیں جو ان کی پکڑی گئی تھیں بلکہ ان کا تو شیوہ ہی یہ تھا کہ مخالفت میں باتیں کرنا اور جب پکڑی جائیں تو قسمیں کھا کھا کر باور کرانا کہ ہم نے ایسی بات بالکل نہیں کہی۔ اس طرح کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ تبوک کی طرف نکلے تو ان منافقین اور ان کے بہی خواہوں کو یہ یقین تھا کہ اب کی دفعہ مسلمان خیریت سے واپس نہیں آئیں گے۔ رومیوں نے انہیں مار مار کر ان کا کچومر نکال دینا ہے لیکن ان کی ساری خوہشات پر پانی پھر گیا جب انہوں نے سنا کہ رومی مقابلہ پر نہیں آئے اور لشکر اسلام بخیریت واپس آرہا ہے تو ان کے کچھ سرغنوں نے ایک سکیم تیار کی اور یہ سکیم بنانے والے 12 لوگ تھے انہوں نے مل کر یہ عہد کیا کہ ایک پہاڑ کی گھاٹی میں بیٹھتے ہیں جب اسلامی لشکر آئے گا تو اس میں نبی آخر الزماں بھی ہوں گے اپنی گھات سے نکل کر فوراً تلواریں چلا دیں گے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا کام تمام کردیں۔ لہٰذا وہ اپنی سکیم کے مطابق وہاں چھپ کر بیٹھ گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کی اس سکیم کی خبر دے دی اور آپ ﷺ اس راستہ سے ہٹ گئے اور ان کی یہ سکیم خاک میں مل گئی بعد میں جب ان سے دریافت کیا گیا تو وہ صاف انکار کرگئے اور اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات بیان کئے گئے ہیں اور اس طرح کے سارے واقعات جو صحیح معنوں میں اس وقت انہوں نے انجام دیئے مراد لئے جاسکتے ہیں اور یہ سب واقعات اس آیت کے ضمن میں آتے ہیں کہ ” منافق اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے ایسا نہیں کیا وہ اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کی چال چلے اور اس بات کا منصوبہ باندھا جس کو وہ سرانجام نہ دے سکے۔ “
ایسا کر کے انہوں نے کس بات کا انتقام لیا ، اس کا کہ ان کے ساتھ نیکی کیوں کی گئی ؟
100 : آیت کے اس حصہ میں ان منافقین کی تنگ ظرفی اور کمینگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے تو ان پر احسان کیا کہ وہ زبان کے ساتھ اسلام کا قرار کر بیٹھے اور اس اقرار کے باعث بانی اسلام نے ان کو مال غنیمت اور صدقات سے دے دے کر مالا مال کردیا اور اب دو گدھوں کی طرح ٹیٹنے دینے لگے اور انہوں نے آہستہ آہستہ مخالفت اسلام پر کمر باندھ لی لیکن وہ جو کچھ کرتے بڑی ہوشیاری اور چالاکی سے کرتے اس لئے جب ان کے دن پھرگئے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی ولداری کے باعث ان کو بہت کچھ دیا اور یہ بھی کہ یہ لوگ اپنی طماعی کے بارث لینے کے لئے سو سو بہانے بھی بناتے تھے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ اتنے ہوشیار تھے کہ ان کے پاس صرف لینے والے ہاتھ تھے دینے والے ہاتھ ان کے پاس موجود ہی نہ تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ لینا جانتے تھے اور دینے کا علم ہی نہیں رکھتے تھے اور اس پر مزید یہ کہ وہ جمع کرسکتے تھے کھانے اور استعمال کرنے کا ان کو پتہ نہیں تھا اس لئے یہ ہوتے ہوتے بہت سے مالدار بن گئے اور اس مالداری کا صلہ اسلام کو انہوں نے یہ دیا کہ اسی کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کردیں۔ اگر آپ برا نہ منایں تاس وقت کے ان منافقین اور وقت کے مولویوں اور امام مسجدوں کا ذرا موازنہ کر کے دیکھیں کہ کیا فرق نکلتا ہے ؟ آپ کو کوئی مسجد شاید ہی ایسی ملے گی جس میں ان لوگوں نے دو پارٹیاں نہ بنائی ہوں اور پھر ایک کو انہوں نے اپنے ہاتھ میں نہ رکھا ہو اور پھر مسجدوں اور عوام کو کھانے کے ایسے ایسے طریقے ایجاد نہ کئے ہوں جن طریقوں سے وہ روپیہ ہضم نہ کر رہے ہوں اور انہی لوگوں کو جن سے یہ تنخواہیں اور چندے وصول کرتے ہیں ان کے یہ بہی خواہ ہوں۔ تعجب ہے کہ ان منافقین کی حرکات اور ان متقین کی علامات آپس میں کیسے مل گئیں اور پھر وہ منافق اور یہ متقین بھی قرار پائے کیا یہ اور اس کھیل سے بڑا کھیل نہ ہوگیا جو انہوں نے کھیلا تھا۔ پھر جس مثالث کے دو زاویئے مل رہے ہوں اس کو کیا کہتے ہیں ؟ اچھا اس کو کیا کہنا چاہئے ؟ اپنے فیصلے سے ہمیں بھی مطلع کردینا۔
فرمایا : ” اگر یہ لوگ اب بھی باز آجائیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر گردن موڑیں تو پھر یاد رکھیں کہ اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں عذاب دردناک دے گا اور روئے زمین پر نہ کوئی ان کا کارساز ہونے والا ہے نہ مددگار۔ “ اس طرح ان کی دنیا بھی برباد اور آخرت بھی تباہ ہوگئی۔
وعدے ان کو یاد دلائے جا رہے ہیں لیکن ان کی لغت میں وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہوگیا ؟
101: اس وقت جب انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور بھوک کے سائے تلے رات گزارتے تھے اور اللہ سے جو وعدہ کرتے تھے آج ان کو یاد دلائے جا رہے ہیں کہ ذرا شیشے میں دیکھو وہ تم ہی ہو جو دعائیں کیا کرتے تھے کہ اگر اللہ ہم کو عطا فرمادے تو ہم حاتم طائی بن کر دکھا دیں گے۔ اب اللہ نے تم کو مال دے دیا اور تم حاتم طائی بننے کی بجائے ثعبلہ بن کر رہ گئے اور وہ وقت آیا تو اس طرح منہ پھیر گئے گویا اللہ اور اس کے رسول سے انہوں نے کبھی وعدہ کیا ہی نہ تھا پھر غور کرو کہ ” چل دینا “ کبھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ جس کے بعد مڑ کر آنے کی کوئی توقع ہوتی ہے لیکن یہاں تو ” ہُمْ مُّعْرِضُوْنَ “ کی قید نے واضح کردیا ہے کہ یہ ایسے گئے کہ کبھی مڑ کر پیچھے دیکھیں گے بھی نہیں۔
یہ انسان کی عجیب کمزوری ہے کہ جب تک ایک چیز اس کو حاصل نہیں ہوتی اس وقت تک تو یہ تمنا کرتا ہے کہ اگر مجھے یہ حاصل ہوجائے تو دوسروں کی طرح اس کو کبھی غلط مصرف میں صرف نہیں کروں گا بلکہ اس کو فلاں فلاں جگہ اعلیٰ مقصد میں خرچ کر کے عدل و انصاف کی نظیر قائم کروں گا لیکن اللہ تعالیٰ جب اس کو وہ چیز دے دیتا ہے تو اسے یہ بات یاد بھی نہیں رہتی کہ اس چیز کے لئے اس نے کیا کیا قول وقرار کئے ہیں اور کس طرح اپنی تمناؤں کا اظہار کیا ہے بلکہ اس کو اپنی قابلیت اور ہوشیاری کا ثمرہ سمجھ کر وہ اس کا مالک بن بیٹھتا ہے اور اللہ سے زیادہ اس کو شیطان کے لئے صرف کرتا ہے۔ زیرنظر آیت میں اس چیز کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ دراصل منافق ہوتا ہے اس لئے ذرا پنا تجزیہ کر کے دیکھو کہ وہ کہیں آپ ہی تو نہیں۔ اگر ایسی بات نظر آئے تو اصلاح کا ابھی وقت ہے وہ جن کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اپنا اصلاح کا وقت ضائع کر بیٹھے لیکن آپ کا وقت اصلاح ابھی موجود ہے لیکن اگر آپ مولوی ہیں تو میری خیر نہیں اور اگر عوام ہیں تو اللہ آپ کو درست ہونے کی توفیق عطا فرمائے ، یہ میری دعا ہے۔
Ayah 9:76جب مال مل گیا تو وہ آنکھیں پھیر گئے اور لگے کنجوسی کرنے :
102: اوپر ہم نے حاتم طائی ہونے کی بجائے ثعلبہ ہونے کا ذکر کیا تھا اس لحاظ سے ایک واقعہ سنانا ضروری خیال کیا گیا ہے۔ روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب بنی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مالدار کردے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ثعلبہ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم میری طرح ہو ؟ اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے کے بن جاتے لیکن اس نے پھر وہی عرض کی اور کہنے لگا اگر مجھے دولت مل گئی تو میں یقیناً ہر حق دار کا حق ادا کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ثعلبہ ! تھوڑا مال جس کا تم شکر اد کرسکو اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کا تم شکر ادا کرنے سے قاصر رہو۔ لیکن اس نے پھر وہی بات دہرائی۔ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا : اللھم ارزقہ مالا اے اللہ ! اس کو مال عطا فرما۔ نبی رحمت ﷺ کی دعا کو قبولیت حاصل ہوئی اور ثعلبہ کے لئے مال کی آزمائش نازل ہونا شروع ہوگئی۔ ہوا یہ کہ اس نے چند بکریاں خریدیں اور ان میں اتنی برکت ہوئی کہ اس کو مدینہ کی حویلی چھوڑ کر باہر باڑہ بنان پڑا اور بڑھتے بڑھتے وہ اتنی بڑھ گئیں کہ اس کو شہر سے دور جگہ پر انہیں رکھنا پڑا اور اس ریوڑ کے باعث اس کی حالت یہ ہوئی کہ اس مدینہ آنے کی فرصت ہی کم ملتی اور ہوتے ہوتے اس کی حالت یہ ہوگئی کہ پہلے وہ جمعہ کے دن نظر آتا تھا اور اب عید پر بھی مشکل سے نظر آنے لگا۔ اسی اثناء میں زکوٰۃ کی فرضیت کا اعلان ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے دو عامل اس کے پاس روانہ فرمائے۔ اس نے کہا یہ تو بہت زیادتی ہے تم ذرا آگے سے ہو کر آؤ میں اتنے میں سوچ رکھوں گا۔ وہ دونوں اس کے ہاں سے دوسرے لوگوں کے پاس گئے جن میں سے ایک سلیمی نامی شخص بھی تھے اس نے ثعلبہ کی بات سن لی تھی اس نے اپنے جانوروں میں سے بہتریں جانور زکوٰۃ کے لئے بخوشی پیش کردیئے جب واپسی پر ان عاملوں کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو کہنے لگا ذرا وہ خط دکھاؤ تو دیکھوں اس میں کیا لکھا ہے ؟ اس کو پڑھنے کے بعد کہنے لگا یہ تو جزیہ ہے تم جاؤ میں ذرا سوچ لوں۔ جب وہ عامل بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو ان کی ساری داستان سن کر آپ ﷺ نے فرمایا : ویح ثعلبۃ بن حاطب ، ثعلبہ ہلاک ہوگیا اور سلیمی کے لئے نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اور اس ثعلبہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی نسبت سے ہم نے یہ لکھا تھا کہ وہ حاتم طائی ہونے کے بجائے ثعلبہ بن کر رہ گئے۔
Ayah 9:77اس کا نتیجہ کیا ہوا یہی کہ ان کے دلوں میں نفاق پختہ ہوگیا :
103: وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب سے کئے ہوتے وعدوں کی اس طرح خلاف ورزی کی اور برابر جھوٹ بولتے رہے اللہ نے ان کے اس عمل کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر نفاق کی ایسی جڑیں جما دیں جو سرطان کے پھوڑے کی طرح ان کے سارے جسم و دماغ پر چھا گئیں اور ان کو کبھی راہ ہدایت کی توفیق نہ ہوئی اور اس طرح اپنے نفاق پر جمے رہے اور یہ جڑیں اس وقت اکھڑیں گی جب جزائے اعمالل کا مرحلہ سر پر آکھڑا ہوگا مطلب یہ کہ ان کا گوشت و پوست اسی نفاق میں پرورش پاتا رہا اور ان کے دل و دماغ اس نفاق سے غذا حاصل کرتے رہے اس لئے ان کی اصلاح تو درکنار ان کی نسل کی اصلاح بھی مشکل ہی سے ہوگی اور گدھے کا بیٹا گدھا ہی ہوگا اور ساری زندگی انہوں نے جھوٹ بول بول کر اپنی عادت ثانیہ جو بنالی اس کا بدلنا محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
Ayah 9:78کیا ان کو یہ بات بھی یاد نہ رہی کہ اللہ ان کے چھپے رازوں سے واقف ہے :
104: مال و دولت ، اولاد اور اقتدار بعض اوقات انسان کو اندھا کردیتا ہے اور اس کو کچھ بھی سمجھائی نہیں دیتا اور منافقین کی اخروی زندگی کی آنکھ اور دل تو پہلے مجروح ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ اس بیماری کی زد میں ہوتے ہیں لہٰذا ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ یہاں اس بات پر تعجب کیا جا رہا ہے کہ یہ عجیب جنس کے لوگ ہیں کہ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اللہ ان کے سارے رازوں سے واقف ہے اور وہ ساری سرگوشیوں کو جانتا ہے اور پھر ہر روز ان کی گوشمالی بھی کیا جاتی رہی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور کیسے ڈھیٹ ہیں کہ ان کی ساری سرگوشیوں اور نکتہ چینوں سے پردہ اٹھایا گیا تو بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ نفاق کے متعلق آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں وہ جس جماعت یا انسان میں آتا ہے اس کا آسانی سے پیچھے نہیں چھوڑتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس بیماری کے مریضوں نے کبھی اپنی بیماری کو تسلیم نہیں کیا وہ ہمیشہ اپنے آپ کو صحت مند خیال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی اصلاح بھی ممکن نہیں ہوتی۔ چونکہ آج کل بھی یہ مرض عام ہے اور خصوصاً ہر اس گروہ کے اندر ہے جو کسی نہ کسی صورت میں پیشوا یا رہنما اور لیڈر و نمائندہ جیسے ناموں سے موسوم ہوتے ہیں پھر جتنے ہی وہ بڑے ہیں اتنا ہی ان کا نفاق بھی بڑا ہے نہ وہ خود اس مرض کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کو کوئی تسلیم کروانے والا موجود ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ کوئی ایسا بندہ پیدا فرمادے جو کم از کم ان کو باور کراسکے۔
Ayah 9:79عیبوں میں پرورش پانے والے غریب مومنوں پر کس طرح عیب لگاتے ہیں اور کیوں لگاتے ہیں ؟
105: ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ وہ حالات کتنے نازل تھے جن حالات میں نبی اعظم و آخر ﷺ نے تبوک کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ فرمایا اور ظاہر ہے کہ جب اتنا لمبا سفر ہو اور مجاہدین کی تعداد بھی تیس ہزار ہو اور مدت بھی معلوم نہ ہو تو اس کے لئے کتنے سرو سامان کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر آپ ﷺ نے چندہ جمع کرنے کی اپیل فرمائی۔ لبیک کہنے والوں نے تم من دھن سب پیش کردیا لین دیتا کون ہے ؟ وہی جس کے پاس کچھ موجود ہو۔ تبوک کے حالات و واقعات پڑھنے سے بڑے عجیب و غریب انکشاف سامنے آتے ہیں جن کو پڑھ سن کر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ ان سرفروشان اسلام نے کیا کیا مثالیں قائم کیں۔ بہرحال جہاں سینکڑوں ، ہزاروں اور لاکھوں پیش کرنے والے تھے وہاں ایک سیر جو اور آدھ سیر کھجوریں دینے بھی حاضر ہوتے رہے۔ لیکن منافقین کی حالت بڑی عجیب تھی کہ ہاتھ سے کچھ دیتے بھی نہیں تھے اور خوشی اور رضا سے پیش کرنے والوں کو عیب کی نظر سے بھی دیکھتے تھے۔ روایات میں موجود ہے کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف چار ہزار درہم لے کر حاضر ہوئے اور عدی بن حاتم نے ستر وسق کھجوریں پیش کیں اور اس طرح دوسرے مسلمان بھی مال کثیر راہ الٰہی میں پیش کرتے دیکھے تو کہنے لگے کہ یہ لوگ خدا کی راہ میں دینے کے لئے کب لائے ہیں یہ تو محض ریاکاری ہے تاکہ لوگوں کے دلوں پر اتنی سخاوت کا سکہ جما سکیں اور جب کوئی غریب صحابی سیر آدھ سیر پیش کرتا تو اس طرح کی باتیں جیسے انہوں نے ابو عقیل کی ساتھ کیں۔ ابو عقیل ایک غریب اور نادار شخص تھے بڑی تگ و دو کر کے وہ ایک سیر کھجوریں لے کر حاضر ہوئے تو ان نالائقوں نے مذاق اڑایا اور کہنے لگے کہ اس ایک سیر سے کسی لشکر کی ضیافت کا سامان ہوگا۔ مختصر یہ کہ ان کا نفس امارہ نہ تو متمول صحابہ ؓ کی فیاضانہ پیش کشوں سے متاثر ہوا نہ ان کی نادار جاں بازوں کے ایثار سے جو ساری رات کنوئیں سے پانی نکالتے رہتے اور جو کچھ مزدوری ملتی کھجوریں یا جو اسے وہ اپنے دین اسلام کی سربلندی کے لئے اپنے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر کردیتے۔
فرمایا ان عیوب کے اندر رہ کر پرورش پانے والے نے غریب و نادار مسلمانوں کی جو عیب جوئی کی یہ کیوں کی ؟ محض اس لئے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کو مال دے دے کر مال دار بنا دیا اور اب ان کی نظروں میں کچھ بھی نہیں جچتا وہ مسلمانوں سے ٹھٹھا اور مذاق کرتے ہیں لنکث عنقریب ان کی یہ طاقت سلب کرلی جائے گی جس کے بل بوتے وہ یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور یہ گویا اللہ کی طرف سے ان پر مذاق ہوگا یعنی ان کے کئے ہوئے مذاق کا صلہ ، بدلہ اور نتیجہ اور آخرت میں ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔