9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم اللہ کے رسول کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ نے اس کی مدد کی ہے اور اس وقت کی ہے جب کافروں نے اسے اس حال میں گھر سے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرا تھا اور دونوں غار میں چھپے بیٹھے تھے ، اس وقت اللہ کے رسول نے اپنے ساتھی سے کہا تھا ” غمگین نہ ہو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے “ پس اللہ نے اپنا سکون وقرار اس پر نازل کیا اور پھر ایسی فوجوں سے مددگاری کی جنہیں تم نہیں دیکھتے اور بالآخر کافروں کی بات پست کی اور اللہ ہی کی بات ہے جس کیلئے بلندی ہے اور اللہ غالب آنے والا حکمت والا ہے

اگر تم اس کے رسول کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد کرے گا ؟ 57: کیا تم اس وقت مدد کرنے سے اس لئے باز رہے کہ تمہارے خیال میں وقت موزوں نہیں تھا ؟ تمہیں کس چیز نا بتایا کہ یہ وقت موزوں نہیں ہے کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تم کو نکلنے کا حکم کس نے دیا ؟ اللہ کے رسول نے جس کی کوئی حڑکت اور جس کا کوئی کام رضائے الٰہی کے خلاف نہیں ہوتا۔ حالات موافق ہوتے لیکن رضائے الٰہی نہ ہوتی تو پھر ؟ اگر اس وقت تم کو حالاتت کی ناموافقت روک رہی ہے تو آخر موافق حالات کون پیدا کرتا ہے ؟ حالت کتنی ہی مجبوری کی تھی لیکن جب دفاع ملت کا وقت آجائے تتو اس طرح کی کوئی مجبوری مجبوری تسلیم نہیں کی جاسکتی اور غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ ادائے فرض کی راہ بہرحال آسانیوں اور راحتوں کی راہ نہیں ہے اس میں مشکلیں اور مصیبتیں جھیلنی ہی پڑتی ہیں۔ ہاں ! یقیناً اس راہ کی مصیبتیں عارضی ہوتی ہیں اور نتائج کی کامرانیاں دوامی اس لئے تم اللہ کے رسول کی مدد نہ کر کے خود اپنا نقصان کرو گے۔ رہی رسول کے اعلان کی بات تو اس نے حکم الٰہی کے مطابق یہ اعلان کیا ہے اور وہ خود اس کی مدد کرے اور اس کے سچے بندے ہر حال میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس کی مدد اللہ نے اس وقت بھی فرمائی جب وہ صرف دو ساتھی تھے : 58: یہ وقت تو وہ ہے کہ تیس ہزار آدمیوں کا لشکر اس کے ساتھ ہے۔ اللہ نے تو اس کی اس وقت بھی مدد فرمائی جب اس کے ساتھ صرف ایک ہی آدمی تھا اور اس طرح وہ دو آدمی ہو کر ایک غار میں چھپے بیٹھے تھے۔ اس میں ہجرت مدینہ کی طرف اشارہ ہے۔ احادیث میں ہے کہ کفار مکہ نے جب باقاعدہ شورہ کر کے بنی اعظم و آخر ﷺ کو ٹھکانے لگانے کا عہد کرلیا اور جس رات کو اس واقعہ کے لئے منتخب کیا بالکل اسی رات جب کہ کفار نے آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور رات زیادہ گزر گئی تو قدرت الٰہی نے ان سب کو بیخبر کردیا آپ ﷺ ان سب کو اونگھتا دیکھ کر باہر تشریف لائے اور سیدھے ابوبکر صدیق ؓ کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں ان کو ساتھ لے کر مدینہ چلنے لگے تتو کعبہ کو دیکھا اور فرمایا : ” مکہ تو مجھ کو دنیا سے زیادہ عزیز ہے لیکن تیرے فرزند مجھ کو یہاں رہنے نہیں دیتے۔ “ (صحیح بخاری باب الہجرت) ابو بکر صدیق ؓ سے پہلے ہی قرار داد ہوچکی تھی دونوں صاحب پہلے جبل ثور کے ایک غار میں جا پوشیدہ ہوئے۔ یہ غار آج بھی موجود ہے اور بوسہ گاہ خلائق ہے جو مکہ سے تین میل داہنی جانب ہے اور پہاڑ کی چوٹی تقریباً ایک میل بلند ہے (زرقانی ص 300) ابوبکر صدیق ؓ کے بیٹے عبداللہ جو نوخیز نوجوان تھے شب کو غار میں ساتھ سوتے اور صبح منہ اندھیرے شہر چلے جاتے اور پتہ لگاتے کہ قریش کیا مشورہ کر رہے ہیں جو کچھ خبر ملتی رات کو آکر نبی اعظم و آخر ﷺ سے عرض کردیتے۔ ابوبکر صدیق ؓ کا غلام کچھ رات گئے بکریاں چرا کر لاتا اور آپ ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ ان بکریوں کا دودھ پی لیتے تین دن تک آپ ﷺ کی یہی غذا رہی لیکن ابن ہشام نے یہ بھی لکھا ہے کہ سیدہ اسماء جو ابوبکر صدیق ؓ کی بڑی صاحبزادی تھیں روزانہ شام کو گھر سے کھانا پکا کر غار میں پہنچا آتی تھی اور اسی طرح آپ ﷺ کی تین راتیں غار میں گزریں۔ (صحیح بخاری باب الہجرتۃ) جس رات نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے نکلے تھے جب صبح کو قریش کی آنکھیں کھلیں تو آپ ﷺ کے پلنگ پر حضرت علی ؓ کو سویا ہوا پایا۔ ظالموں نے حضرت علی ؓ کو پکڑ کر اور حرم میں لے جا کر کچھ دیر محبوس رکھا اور پھر چھوڑ دیا ازیں بعد نبی کریم ﷺ کی تلاش میں نکلے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار کے دھانہ تک آگئے۔ ان کے قدموں کی آہٹ پا کر ابوبکر صدیق ؓ گھبرائے اور غم زدہ ہوئے اور نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ اب دشمن اس قدر قریب آگیا ہے کہ اپنے قدم پر ان کی نظر پڑجائے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا : لا تحزن ان اللہ معنا ۔ ابوبکر گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے اور ہم اس کے پروگرام کے مطابق مکہ سے نکلے ہیں وہ کبھی ہم کو مکہ والوں کے ہاتھ میں نہیں دے گا۔ صاحب ضیاء نے اس جگہ خوب نوٹ فرمایا اور شیعہ حضرات کی ریزش ناک کو انہی کے گالوں پر مل دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ : بعض شیعہ مصنّفین نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی شخصیر کو داغ دار کرنے کے جنون میں آیت طیبہ پر اس طرح طبع آزمائی کی ہے کہ دل لرز اٹھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت صدیق ؓ کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے تم اس آیت طیبہ کو پیش کرتے ہو اور کہتے ہو کہ آپ کو سفر ہجرت میں رفاقت کی سعادت حاصل ہوئی لیکن تمہارا یہ قول بےبنیاد ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ابوبکر ؓ نے رفاقت کی ہوتی تو اسے وجہ شرف کہا جاتا لیکن یہ تو از خود ساتھ ہو لئے تھے اور حضور ﷺ نے اس لئے ان کو ساتھ چلنے سے نہیں روکا کہ مبادا وہ کفار کو مطلع کریں اور اس طرح گرفتار کروادیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی توفیق ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو انسان ایسی ہی بےسروپا باتیں کرنے لگتا ہے مکہ مکرمہ سے ہجرت کا پروگرام بڑی رازداری سے طے پایا۔ جب کفار قبائل کے نوجوان حضور ﷺ کے کاشانہ اقدس کا محاصرہ کئے ہوئے تھے تو حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ان کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے تشریف لے گئے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس راز سے حضرت ابوبکر ؓ کو کس نے آگاہ کیا یا حضور ﷺ کو حضرت صدیق ؓ پر کامل اعتماد تھا ورنہ اپنے دشمن کو ایسے رازوں سے آگاہ کرنا قطعاً قرین دانش مندی نہیں اور اگر حضرت علی ؓ نے آگاہ کیا تو ماننا پڑے گا کہ آپ کو بھی حضرت صدیق ؓ کے صدق و وفا پر پورا بھروسا تھا اس لئے آگاہ کیا اور اگر ان کو منافق سمجھتے ہوئے (العیاز باللہ) آگاہ کیا تو پھر حضرت علی ؓ کی وفاداری بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔ یعنی آپ نے اس راز کو افشاء کر کے حضور ﷺ کو مشکلات میں مبتلا کرنے کا آغاز کردیا اور اس لا یعنی بات کو کوئی ایماندار قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ صدیق ؓ کا ایمان وہ ایمان ہے جس پر کدا کو رسول خدا ﷺ کو اور شیر خدا کو مکمل اعتماد ہے۔ اس لیے ان کو اس راز سے آگاہ بھی کیا اور شریک سفر ہونے کی سعادت بھی ارزانی فرمائی گئی۔ جب حضرت صدیق ؓ کے ایمان کی گواہی علیم بذات الصدور خدا نے دی اور نبی کریم ﷺ نے دی اور علی مرتضیٰ ؓ نے تصدیق کی اگر آج کا بےعمل مسلمان صدیق اکبر ؓ پر زبان طعن دراز کرنے پر جرات کرتا ہے تو وہ اپنا ہی کچھ بگاڑتا ہے ، صدیق اکبر ؓ کی شان میں کمی نہیں ہوسکتی۔ خود اس فرقہ کے علماء نے ان کے اس زعم باطن کی تردید کی ہے۔ چند حوالے ملاحظہ فرمائیے۔ علامہ فتح اللہ کاشانی اپنی تفسیر منہج الصادقین میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں : پس پیغمبر ﷺ شب پنج شبہ در شہر مکہ امیر المومنین رابر جائے خود میخوابانید ، و خود از خانہ ابوبکر در فاقت او بیرون آمد بداں غار توجہ نمود۔ ترجمہ : رسول کریم ﷺ نے پنج شبہ کی رات کو مکہ مکرمہ میں امیر المومنین کو اپنی جگہ پر سونے کا حکم دیا اور خود ابوبکر ؓ کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں ہمراہ لے کر باہر آئے اور اس غار کا قصد فرمایا۔ مصنف حملہ حیدری ، علامہ باذل نے واقعہ ہجرت کے بارے میں جو لکھا ہے وہ درج ذیل ہے۔ شاید ان دوستوں کے لئے سرمہ چشم بصیرت کا کام دے۔ چنیں گفت راوی کہ سالار دیں چوں سالم بحفظ جہاں آفریں زنزدیک آں قوم پر مکر رفت بسوئے سرائے ابوبکر فرت راوی کہتا ہے کہ دین کے سالار اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں اس مکار قوم کے محاصرے سے باہر نکلے اور حضرت ابوبکر ؓ کے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ نئے ہجرت او نیز آمادہ بود٭کہ سابق رسولش خبردادہ بود حضور ﷺ نے انہیں سفر ہجرت کی خبردے دی تھی اس لئے وہ ساز و سامان کے ساتھ تیار بیٹھے تھے۔ نبی بردرخانہ اش چوں رسید٭بگو شش ندائے سفر درکشید نبی کریم ﷺ جب ان کے گھر پہنچے تو انہوں نے سفر کرنے کی ندا سنی۔ چوں بو بکر ازاں حال آگاہ شد ٭زخانہ بوں رفت و ہمراہ شد حضرت ابوبکر ؓ جب اس حال سے خبردار ہوئے تو اپنے گھر سے روانہ ہو کر حضور ﷺ کے ہمراہ ہوگئے۔ ان دونوں حوالوں سے یہ واضح ہوگیا کہ نبی کریم ﷺ نے خود حضرت صدیق ؓ کو اپنے ہجرت کے ارادہ سے آگاہ کردیا تھا اور انہی بھی حکم دیا ہوا تھا کہ وہ بھی اس سفر میں ہم رکاب ہونے کے لئے تیار رہیں۔ حضور ﷺ کفار کے محاصرہ سے بخیریت نکل کے سیدھے حضرت صدیق ؓ کے گھر آئے اور انہیں ہمراہ لے کر مکہ سے مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آکر میں حضرت امام حسن عسکری کی روایت پیش خدمت ہے امید ہے آپ کے اس ارشاد سے اس تاویل باطل کا طلسم ٹوٹ کر رہ جائے گا۔ تفسیر حسن عسکری میں مروی ہے کہ جب کفار نے حضور ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو جبرئیل (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچایا۔ کفار کی ریشہ دوانیوں کی اطلاع دی اور یہ پیغام الٰہی بھی گوش گزار گیا وامرک ان تستضحب ابا بکر ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ اس پر خطر سفر میں ابوبکر ؓ کو اپنے ہمراہ لے جائیں۔ کیا اب بھی آپ قاضی نور اللہ سوستری کی بات مانیں گے یا گیارہویں امام حضرت امام حسن عسکری (رح) کے ارشاد کو تسلیم کریں گے۔ معترضین کی کج ادائی کے کرشمے اسی پر ختم نہیں ہوتے بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہویں اور کہتے ہیں کہ مان لیا ابوبکر ؓ کو حضور ﷺ ساتھ لے گئے تھے اور انہوں نے راستے کی صعوبتیں بھی برداشت کیں لیکن ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے ثابت ہو کہ ان کی نیت بھی خالص تھی اور جب تک خلوص نیت نہ ہو کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی مقبول نہیں ہوتا اس لئے حضور ابوبکر ؓ کا سفر ہجرت میں ہم رکاب ہونا ان کے لئے ہرگز باعث فضیلت نہیں۔ یا سبحان اللہ ! اس ندرت فکر کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے۔ دو پہر کے وقت اگر کوئی شخص طلوع آفتاب کی دلیل طلب کرے تو اس میں اتنا اچنھبا نہیں جتنا ہمارے ان دوستوں کے اس ارشاد میں ہے۔ وہ شخص جو ایک کامیاب تاجر ہے جس کے پاس مال و ثروت کی فراوانی ہے جسے ہر قسم کی عزت و آسائش میسر ہے ، بچے ہیں ، بچیاں ہیں ، وہ ان سب چیزوں کو ٹھکرا کر ایک ایسی ہستی کا ساتھ دیتا ہے جس کو شہید کرنے کے منصوبے بن چکے ہیں۔ عرب کا بچہ بچہ اس کے خون کا پیاسا ہے ، خطرات کے مہیب بادل ہر طرف سے بڑھتے چلے آرہے ہیں۔ جو شخص ان سنگین حالات میں جان ہتھیلی پر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے محبوب کی سنگت اختیار کرتا ہے اس کے خلوصنیت پر شک کرنے سے انسان کو شرم آنی چاہئے۔ مزید برآں غار میں تین چار روز قیام رہتا ہے اس عرصہ میں حضرت ابوبکر ؓ کا بیٹا عبداللہ ہر روز شام کو حاضر ہوتا ہے اور اہل مکہ کے ارادوں سے آگاہ کرتا ہے ، ان کی صاحبزادی اسماء ہر روز کھانا لے کر آتی ہے ، ان کا غلام عامر بن خیرہ دن بھر ریوڑ چراتا ہے شام کے وقت اسے ہانکتا ہوا غار کے قریب آکر ڈیرا جماتا ہے ، دودھ دوھتا ہے ، اسے گرم کرتا ہے اور خدمت اقدس میں پیش کرتا ہے۔ ابوبکر ؓ کا سارا خانوادہ اس جاں نثاری اور خڈمت گزاری کا مظاہرہ اس وقت کر رہا ہے جب مکہ والوں نے حضور ﷺ کو زندہ پکڑ کر کرنا یا شہید کردینے کے لئے ایک سو سرخ اونٹوں کے انعام کا اعلان کردیا ہے۔ عرب کے کئی طالع آزما شہسوار اس انعام کے لالچ میں اپنے سبک رفتار گھوڑوں پر سوا ہو کر حضور ﷺ کی تلاش میں اس علاقہ کے چپہ چپہ کو چھان رہے ہیں ادھریہ خاندان ہے جس کا صرف ایک فرد نہیں بلکہ تمام افراد بچے ، بچیاں حتیٰ کہ زر خرید غلام سب کے دل میں ایک ہی سودا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حبیب اور ان کا محبوب بخیر و عافیت منزل مقصود پر پہنچ جائے۔ انسانیت اور اس کی اخلاقی قدروں پر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص کی حسن نیت پر شک کیا جائے اور شک کرنے والے ایسے لوگ ہوں جنہیں راہ حق میں کبھی کانٹا تک چبھنے کی سعادت بھی نصیب نہ ہوئی ہو۔ پھر کہتے ہیں کہ لغت عرب میں صاحب کا معنی ہے ساتھی ، رفیق ، ہم نشین۔ اس لفظ میں شرف و فضیلت کی کوئی وجہ نہیں۔ ایک کافر ایک مومن کا ، ایک فاسق ایک پارسا کا ساتھی اور ہم نشین ہو سکتا ہے جیسے اس آیت میں ہے : قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ ہُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ (18 : 38) یعنی ” جب اس نے اپنے صاحب ( ساتھی) کو کہا جب وہ اس سے گفتگو کر رہا تھا کیا تم اس خدا کا انکار کرتے ہو جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ “ اس آیت میں صاحب کا لفظ ہے اور اس سے مراد کافر ہے۔ سورۃ یوسف میں یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ” اے قید خانے کے دو ساتھیو۔ “ (12 : 41) اور دو دونوں بھی کافر تھے بلکہ اہل عرب تو حیوان کو بھی انسان کا صاحب (ساتھی) کہہ دیا کرتے۔ ان الحمار مع الحمار مطیۃ ۔ واذا خلوت بہ فبش الصاحب اگر ان دوستوں کی یہ بات تسلیم کرلی جائے تو پھر صرف ” صاحب “ کا لفظ ہی نہیں بلکہ بہت سے الفاظ اپنی عظمت و شرف سے محروم ہوجائیں گے۔ ایمان کے لفظ کو ہی لیجئے اس کا معنی تصدیق کرنا ہے یہ تصدیق اللہ تعالیٰ کی توحید کی بھی ہوسکتی ہے اور طاغوت و حبت کی بھی۔ آیت ملاحظہ ہو۔ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ (4 : 51) ترجمہ : ” کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کی طرف جنہیں دیا گیا حصہ کتاب سے (وہ اب) ایمان لائے ہیں جبت اور طاغوت پر۔ “ اس طرح ہجرت کا لغوی معنی ہے کسی شہر کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں چلے جانا یہ ترک وطن اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب کی رضا کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور کسی دنیوی منفعت کے لئے ، کسی عورت سے شادی رچانے کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح عبادت اللہ تعالیٰ کی بھی ہو سکتی ہے اور معبودان باطل کی بھی۔ وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ ۔ ” وہ اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع۔ “ اگر وہ صاحب ، اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے باعث شرف نہیں تو پھر ایمان ، ہجرت ، عبادت اور دیگر اسلامی مصلحات بھی شرف و فضیلت سے بےبہرہ ہوں گے اور کسی کو مومن ، مہاجر ، عابد کہنے سے اس کی قطعاً عزت افزائی نہیں ہوگی۔ درحقیقت ان الفاظ میں عزت و شرف ان کے لغوی معنوں کے اعتبار سے نہیں بلکہ ان کے متعلقات سے ہے۔ ایمان جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ہوگا۔ ہجرت جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی۔ عبادت جب اللہ تعالیٰ کی ہوگی تو یہ کلمات معزز و ذیشان ہوں گے اسی طرح صاحب کے لفظ میں فضیلت نہیں بلکہ جس کا وہ صاحب ہے یعنی سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات۔ اسی نسبت نے اس لفظ کو بھی چار چاند لگا دیئے ہیں اور جو صاحب کا لفظ کا مصداق ہے یعنی صدیق اکبر ؓ ۔ اس کو بھی وہ رفعتیں اور سرفرازیاں بخشی ہیں جن کے سامنے فلک الافلاک کی بلندیاں بھی ادب سے سر جھکائے ہوئے ہیں۔ ازراہ انصاف آپ ہی بتائیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے محبوب کی صحبت و معیت اور ایک کافر و فاسق کی صحت و معیت یکساں ہے ؟ کوئی صاحب ایمان ایسا کہنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ نیز حضرت صدیق ؓ کی اس سنگت اور رفاقت کو جس انداز سے بیان کیا گیا ہے وہ بھی اپنے اندر ایک خصوصی شان رکھتی ہے۔ ثانی اثنین کے دو لفظوں میں غور فرمائیے۔ اس قسم کے عدد کا ذکر لغت عرب میں دو طرح سے کیا جاتا ہے کہتے ہیں ثانی اثنین ، ثالث ثلاثہ ، رابع اربعہ و غیرہا یعنی دو میں سے دوسرا ، تین میں سے تیسرا ، چار میں سے چوتھا ، اس صورت میں پہلا عدد دوسرے عدد کا جزو اور حصہ ہوتا ہے اور اس میں داخل ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ثالث اثنین ، رابع ثلاثہ ، خامس اربعہ یعنی دو کو تین بنانے والا ، تین کو چار اور چار کو پانچ بنانے والا۔ اس صورت میں یہ عدد پہلے عدد میں داخل نہیں ہوتا۔ اب اسے اس میں داخل کیا جا رہا ہے پہلے صرف دو تھے۔ اس عدد کے اضافہ سے اب دو تین ہوگئے۔ پہلے صرف تین تھے بعد میں اضافہ ہوا اب وہ تین چار بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ثانی اثنین فرمایا یعنی پہلے جو دو موجود تھے ان دونوں میں سے دوسرا یہ یگانت ، یہ رفاقت ، یہ صحبت خدا شاہد ہے حضرت صدیق اکبر ؓ کا ہی حصہ ہے۔ ان کلمات کے مفہوم کو خود زبان رسالت ؓ نے یوں بیان فرمایا ہے اور اس کے بعد شاید کسی قسم کی ہرزہ سرائی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اسی فرقہ کے ایک فاضل علامہ فتح اللہ کاشانی اپنی تفیری منہج الصادقین میں اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ” چوں ابوبکر درغار کفار رابدید ، مضطرب شد و بسیار خائف گشت و گفت یا رسول اللہ ! اگر کسے از مشرکان ورزیر قدم خودنگہ کند ہر آئینہ مارا۔ حضرت ﷺ فرمود وما ظنک باثنین اللہ ثالثہا۔ “ ترجمہ : ” جب ابوبکر ؓ سے غار میں سے کفار کو دیکھا تو انہیں بڑا اضطراب لاحق ہوا اور اندیشہ پیدا ہوا عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! اگر مشرکین میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی جگہ دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ! ان دو کے بارے میں تیرا کیا حال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔ “ اس سے بڑی عزت افزائی کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ ع یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے ہمارے یہ کرم فرمالَا تَحْزَنْ کے لفظ سے حضرت صدیق ؓ پر الزامات و مطاعن کی بوچھاڑ شروع کردیتے ہیں آپ بھی سنئے اور ان کی روش بیدار کی داد دیجئے۔ کہتے ہیں کہ ” یہ حزن جس سے حضرت ابوبکر ؓ کو منع کیا جارہا ہے یہ طاعت تھا یا معصیت ، طاعت تو ہو نہیں سکتا ورنہ اس سے منع نہ کیا جاتا۔ اللہ اور اس کا رسول نیک کاموں سے نہیں روکا کرتے۔ لازماً یہ حزن معصیت ہوگا۔ اس آیت سے ابوبکر ؓ کا عاصی اور گنہگار ہونا ثابت ہے نہ کہ آپ کی فضیلت۔ جواباً عرض ہے کہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل کو حزن اور خوف سے روکا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا : لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى اے موسیٰ خوف نہ کرو تم ہی سربلند ہوگے۔ (20) حضرت لوط کو فرشتوں نے کہا لا تحزن انا منجوک واھلک ۔ اے لوط ! حزن نہ کرو ہم تمہیں اور تمہارے اہل و عیال کو نجات دینے والے ہیں۔ خود سرور عالم ﷺ کو فرمایا : لا یحزنک قولھم۔ اے پیغمبر اسلام ! کفار کی باتیں آپ کو حزین و غمگین نہ کریں۔ دوسری جگہ ارشاد ہے : قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ ” اے حبیب ! ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو کفار کی باتیں غمزدہ کردیتی ہیں۔ “ کیا ہم ان محققین سے یہ دریافت کرسکتے ہیں کہ ان آیات کی روشنی میں انبیاء کرام (علیہم السلام) بلکہ سید الانبیاء والرسل ﷺ کے بارے میں ان کا فتویٰ کیا ہے ؟ یہ خوف اور حزن جس سے انبیاء کا روکا جا رہا ہے طاعت تھا یا معصیت ؟ طاعت تو ہو نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی سے نہیں روکتا اور یہاں خوف و حزن سے روکا جا رہا ہے لازماً معصیت ہوگا۔ اب فرمائیے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ حزن اور خوف امور طبیعہ میں سے ہیں۔ بڑے سے بڑا آدمی بھی ان سے دو چار ہوتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی دلجوئی لا تخف اور لَا تَحْزَنْ کہہ کر فرماتا ہے۔ نیز حضرت صدیق ؓ کو حزن و ملال اپنی ذات کے لئے ہرگز نہ تھا اگر انہیں اپنی جان پیاری ہوتی اور اپنا آرام عزیز ہوتا تو وہ اس پر خطر سفر میں سنگر ہی نہ کرتے انہیں اگر کوئی غم تھا یا اگر کوئی حزن تھا ، اگر کوئی اندیشہ تتھا تو فقط یہ کہ ان کے ہادی و مرشد محمد رسول اللہ ﷺ کو مبادا کوئی گزند پہنچے ورنہ یہ بزم عالم درہم برہم ہوجائے گی۔ گلشن ہستی میں خاک اڑنے لگے گی ، عروس گیتی کا سہاگ لٹ جائے گا۔ ارض و سماء کی یہ رونقیں ، یہ روشنیاں ، یہ بہاریں ہمیشہ کے لئے ناپید ہوجائیں گے ، اپنے محبوب کو خطرے میں گھرا دیکھ کر صدیق ؓ کے حزن و ملال کی حد نہ رہی۔ حضور پر نور ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا اے میرے یار غار ! غم نہ کر بیشک اللہ تعالیٰ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ جب ہمارے ساتھ ہمارا اللہ ہے تو یہ کفار ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مَعَنَا کا لفظ بھی غور طلب ہے۔ معیت الٰہی کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک معیت علم ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہرچیز کو جانتا ہے اور اپنے علم کے ذریعہ ہرچیز کے ساتھ ہے ، جیسے اس آیت میں ہے : اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ 1ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا 1ۚ (58 : 8) ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، کوئی تین آدمی مشورہ کرنے والے نہیں ہوتے جبکہ وہ ان کا چوتھا نہ ہو اور نہ پانچ مشورہ کرنے والے ہوتے ہیں جب کہ وہ ان کا چھٹا نہ ہو اور نہ اس تعداد سے کم ہوتے ہیں نہ زیادہ۔ وہ ہر صورت میں ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں بھی مشورہ کر رہے ہوں۔ “ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے ایسی معیت میں کوئی فضیلت نہیں بلکہ اس میں تہدید اور سرزنش ہے خبردار ! اگر تم نے نافرمانی کی تو ہماری گرفت سے تم بچ نہیں سکتے۔ معیت الٰہی کی دوسری قسم وہ ہے جو متقین اور محسنین کو حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری ہے : اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ہُمْ مُّحْسِنُوْنَ (رح) 00128 ” بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور ان کے ساتھ ہے جو نیکو کار ہیں۔ “ اس معیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ان کی دستگیری کرتا رہتا ہے اور اپنے لطف سے ان کو نوازتا رہتا ہے۔ معیت الٰہی کی تیسری قسم وہ ہے جو انبیاء وہ رسل کو میسر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر دشمن کے مقابلہ میں ان کی تائید و نصرت فرماتا ہے۔ ہر میدان میں وہ کامیاب و سرفراز ہوتے ہیں اور کفر و باطل کے سرغنے ذلیل و رسوا ہوتے ہیں اور ان تمام اقسام سے اعلیٰ وارفع معیت الٰہی کی وہ قسم ہے جو سید الانبیء و الرسم ﷺ کے لئے مخصوص ہے۔ حضور ﷺ نے اپنے یار غار کو ان اللہ معنا فرما کر اسی خصوصی معیت میں شرکت کی سعادت ارزانی فرمائی۔ ایسی حالت سے نکال باہر لانے والا اللہ اب بھی اس کی مدد کرے گا : 59: یہ بات کہنے کو دو لفظ ہیں جن کا بولنا کچھ مشکل نہیں لیکن سننے والے حالات کا پورانقشہ سامنے رکھ کر ذرا دیکھیں کہ محض مادیات پر نظر رکھنے والے لوگوں سے یہ اطمینان ممکن ہی نہیں اس کا سبب کیا تھا ؟ اس کا سبب وہی تھا جو قرآن کریم نے اس جملہ میں ادا کردیا کہ ” اللہ نے اپنا سکون وقرار اس پر نازل کیا اور پھر ایسی فوجوں سے اس کی مدد فرمائی کہ جنہیں تم نہیں دیکھتے اور بالاخر کافروں کی بات کو پست کر دکھایا اور اللہ ہی کی بات ہے جس کے لئے بلندی ہے اور اللہ غالب آنے والا حکمت والا ہے۔ “ یہ لشکر کیا تھے ؟ پورے عالم کی قوتیم الٰہی لشکر ہیں اس لئے اس سے مراد فرشتے بھی ہو سکتے ہیں اور عالم دنیا کی وہ مدد بھی جو ایک مطلئن دل کو حاصل ہوتی ہے اور اس دنیا کی کوئی چیز اس کو مسخر نہیں کرسکتی اور جس کا نتیجہ خود اللہ نے بیان کردیا کہ ” بالاخر کفر کا کلمہ پست ہو کر رہا اور اللہ ہی کا بول بالا ہوا۔ “ اس کی اس طرح کی مدد کا راز اتنا پوشیدہ ہے کہ اس کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی بلکہ اس کو صرف اور صرف اہل بصیرت ہی دل کی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور ہجرت کے واقعات جو قلمبند کئے گئے ہیں ان کا مطالعہ کر کے دیکھو تو بات یقیناً واضح ہوجائے گی کہ حکمت الٰہی کی کیا کیا کرشمہ سازیاں ہیں اور وہ کس انداز میں دنیا کی ہر ایک چیز سے اپنے بندوں کی مدد فرماتا رہتا ہے۔
Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

(مسلمانو ! سازوسامان کے بوجھ سے) تم ہلکے ہو یا بوجھل جس حال میں نکل کھڑے ہو اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

تم کسی حال میں بھی ہو لیکن جب جہاد کا حکم دیا جائے تو ہر حال میں نکل کھڑے ہو : 60: مطلب یہ ہے کہ تم کسی حال میں بھی ہو جب جہاد کا حکم آجائے اور اس کا اعلان کردیا جائے پھر دنیا کا کوئی بندھن ، کوئی مجبوری اور کوئی عذر تمہیں میدان جہاد کا رخ کرنے سے باز نہ رکھے جیسا کہ روح البیان میں ہے کہ ” تم جوان ہو یا بوڑھے ، فقیر ہو یا امیر ، سوار ہو یا پیادے ، تندرست ہو یا بیمار ، تنہا ہو یا عیال دار ہر حالت میں دعوت جہاد پر لبیک کہتے ہوئے رزم گاہ حق و باطل میں شریک ہوجاؤ ۔ “ اگر دشمن عامل ہلہ بول دے اور خلیفہ وقت جہاد عام کا اعلان کر دے تو پھر ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جہاد میں شریک ہو اور اگر دشمن ملک کے کسی ایک حصہ پر چڑھائی کرے تو وہاں کے لوگوں کا فرض ہے کہ خلیفہ وقت کے حکم کی تعمیل میں جہاد کے لئے تیار ہوجائیں ورنہ بعض اوقات گنہگار ہوں گے اور بعض حالات میں میدان کار زار میں نہ نکلنا کفر کے مترادف ہوگا۔ گویا اس آیت میں تاکید کے طور پر اس حکم کا اعادہ فرمادیا کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے تم لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دے دیا تو تم پر نکلنا ہر حال میں فرض ہوگیا اور اس حکم کی تعمیل ہی میں تمہاری ساری بھلائی کا انحصار ہے۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر تمہارا بلاوا کسی ایسی بات کیلئے ہوتا جس میں قریبی فائدہ نظر آتا اور ایسے سفر کیلئے جو آسان ہوتا تو یہ لوگ بلا تامل تمہارے پیچھے ہو لیتے لیکن انہیں راہ دور کی دکھائی دی اور تم سے قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم مقدور رکھتے تو ضرور تمہارے ساتھ نکلتے ، یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں

ان لوگوں کو قریبی فائدہ نظر آتا تو اسی وقت نکل کھڑے ہوتے : 61: غزوہ تبوک کا ذکر ہو رہا ہے اور تبوک مدینہ سے 14 منزل پر ہے گویا ہزار میل سے بھی زیادہ کی مسافت۔ ان کو یہ بھی نظر آتا تھا کہ مسافرت بڑی طویل ہے اور دشمن بہت قوی ہے اس لئے ان حالات کو دیکھ کر ان کے دل ڈر گئے اور خوف کھا گئے ہیں اور پاؤں بوجھل ہوگئے ہیں اور ایسی حالت ہوچکی ہے کہ گویا وہ سنتے ہی ایک بہت بڑی مشقت میں دب کر رہ گئے ہیں۔ اس کی جائے اگر کوئی قریب کا سفر ہوتا اور ذاتی فوائد ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتے تو اس وقت وہ بال نخواستہ ہی سہی تاہم ضرور نکل کھڑے ہوتے لیکن ایسی حالت میں ان کے لئے نکل کھڑا ہونا محال نظر آرہا ہے کہ حالات کا کچھ پتہ نہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور ایسے کام کے لئے یہ قدم اٹھانے کو تیار نہیں کہ جس میں ان کو لینے کے دینے پڑجائیں۔ اس وقت ایک ایک چیز ان کے دل و دماغ کو متاثر کر رہی ہے کہ گرمی کا موسم ہے ، سفر بہت لمبا ہے۔ اس سے پہلے ابھی ابھی یہ لوگ حنین میں آزمائے جا چکے ہیں۔ فصلیں پک کر تیار کھڑی ہیں اور ادھر رومیوں کی فوجیں سامنے ہیں جن کی داستانیں بھی بڑی وحشت ناک ہیں اس لئے ان کو نکلنے کے لئے ایک عذر نہیں بلکہ ان گنت بہانے ہیں لہٰذا وہ ضرور بہانے بنائیں گے اور عذر پیش کریں گے۔ انہوں نے جو عذر پیش کیا وہ کیا تھا ؟ کہ ہم اس سفر کی قدرت نہیں رکھتے : 62: وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم قدرت رکھتے تو ضرور تمہارے ساتھ نکلتے ہماری حالت اس وقت اتنے لمبے سفر پر جانے کی نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے زاد راہ کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس نہیں اور اس طرح سواری کی ضرورت ہے جو ہمارے پاس موجود نہیں اور گھر ، عورتیں اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی موجود نہیں۔ فرمایا یہ اس طرح کے عذر پیش کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اس طرح عذروں میں قطعاً جھوٹے ہیں۔ ان کے یہ سارے عذروں میں سے ایک بھی نہیں جو قابل قبول ہو ان کے سارے بہانے قابل تردید ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ اختیار دیا ہے اس کو انہوں نے اللہ کی راہ میں مقدور بھر استعمال نہیں کیا اس لئے عدم استطاعت کا عذر کبھی بھی قابل قبول نہیں پھر تعجب یہ ہے کہ وہ اس طرح کے عذر پیش کر کے اپنی دانست میں اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور حقیقت میں وہ اپنے آپ کو بچا نہیں رہے بلکہ ہلاکت کے گڑھے میں ڈال رہے ہیں کیونکہ نفیر عام کی صورت میں جہاد سے فرار کی سزا بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ تجھے معاف فرمائے تو نے ایسا کیوں کیا کہ انہیں رخصت دے دی ؟ اس وقت تک رخصت نہ دی ہوتی کہ تجھ پر کھل جاتا کون سچے ہیں اور تو معلوم کرلیتا کون جھوٹے ہیں ؟

کچھ لوگوں نے رخصت طلب کی اور آپ ﷺ نے ان کو رخصت دے دی : 63: اس آیت میں گویا پانچویں قسم کے لوگوں کا بیان شروع ہوا جو عرف عام میں منافق کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ جن کے لئے غزوہ تبوک کے معاملہ ایک آخری اور فیصلہ کن آزمائش ثابت ہوا تھا اس نے ظاہر داری اور نمائش کے سارے پردے چاک کردیئے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ اس سورت کو الفاضحہ کے نام سے بھی پکارتے تھے کیونکہ اس نے منافقوں کے بھدے کھول کر ان کی فضیحت کردی۔ منافقوں کے متعلق آپ پیچھے سورة آل عمران کی آیت 173 میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مومنوں سے ممتاز کر کے آشکارا کردینے کا وعدہ فرمایا تھا چناچہ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ایسے مرحلے پیش آتے رہے جن میں نفاق کے چہروں کو بےنقاب ہونا پڑا اور اس سلسلہ کا آخری مرحصہ یہی غزوہ تبوک تھا۔ جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس موقعہ پر ناموافق حالات سے عام مسلمانوں کی سرگرمیاں بھی ابتدا میں کچھ دھیمی ہی رہی تھیں لیکن منافقوں کی حالت بالکل دوسری تھی۔ یہ حکم ان کے لئے پیام موت تھا اس لئے حیلے بہانے تراشنے لگے ہر شخص ایک نیا بہانہ گھڑ کر لاتا اور کہتا کہ ویسے تو مجھے چلنے میں کوئی عذر نہیں مگر مشکل ہے یہ کہ فلاں کام ناگزیر ہوگیا ہے ، فلاں بات ناقابل حل ہو رہی ہے ، فلاں الجھاؤ سلجھایا نہیں جاسکتا اب جیسا کہ آپ ﷺ کا حکم ہو اور اس طرح کی باتوں سے مقصود ان کا یہ تھا کہ جھوٹی سچی مجبوریاں سنائیں گے تو پیغمبر اسلام ﷺ کا اخلاق ایسا نہیں ہے کہ کسی کو مجبور کر کے لے جانا چاہیں۔ آپ ﷺ کی رحمت در آفت ہمیشہ رسی ڈھیلی چھوڑ دیتی تھی لہٰذا وہ یہ عذر پیش کرتے وقت یہ خیال رکھتے کہ ایسا کرنے سے آپ ہمیں اجازت دے دیں گے کہ چلو اگر تم مجبور ہو تو نہ چلو۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ پمبرر اسلام ! ان کے حیلے بہانے سنتے اور یہ دیکھ کر کہ یہ لوگ بخوشی چلنے کے لئے تیار نہیں ، کہہ دیتے اچھا تمہیں رخصت ہے۔ فرمایا اگر رخصت نہ دی ہوتی تو آپ پر ان کی اصل حقیقت واضح ہوجاتی : 64: فرمایا اگر آپ نے ان کو یہ رخصت نہ دی ہوتی تو ان کی پوزیشن مزید کھل کر سامنے آجاتی اب انہوں نے اپنا بھرم قائم رکھا اور اس رخصت کی آڑ میں اپنے آپ کو چھپانے میں کسی حد تک کامیاب ہوگئے اور ان میں سے بعض ایسے ہی تھے جنہوں نے بات بنانے کے لئے یہ بھی کہا کہ یہ مال حاضر ہے۔ آپ لے لیں لیکن ہمارا نکلنا اس وجہ سے مشکل ہے اور اس کے ساتھ بھی کوئی فرضی دشواری ظاہر کردیتے جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے کہ اگر کوئی ایسی بات ہوتی کہ فوری فائدہ دکھائی دیتا اور سفر بھی درکار نہ ہوتا تو ان کے نفاق کو چھپنے کی آڑ مل جاتی جیسی کہ اس سے قبل ان کو بار بار مل چکی تھی۔ فرمایا اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ فوراً تیرے پیچھے قدم اٹھا لیتے اور ظاہر میں حکم کی تعمیل کرتے اور دل میں دنیا کی طمع اور مکر و عذر کی چالیں ہوتیں جیسا کہ انہوں نے احد وغیرہ میں کیا تھا مگر اس وقت انہیں مشکل یہ آپڑی کہ معاملہ دور کا نکل آیا کہ عرب سے باہر دور دراز کا سفر در پیش تھا اور سفر کی مشقتیں بھی بڑی ہی سخت تھیں اور حالات کا بھی کچھ پتہ نہ تھا اس لئے اس موقعہ پر وہ بےبس ہو کر رہ گئے اور دکھاوے کے لئے بھی ساتھ نہ نکل سکے اور اللہ کی طرف سے بھی یہی فیصلہ کن آزمائش تھی جس نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا اور جب کبھی راہ حق میں کوئی سخت آزمائش آجاتی ہے تو منافقوں کے چہرے اس طرح بےنقاب ہوجایا کرتے ہیں۔ اس لئے زیر نظر آیت میں پیغمبر اسلام ﷺ کو متنبہ فرما دیا گیا کہ رحمت و درگزر کی بھی ایک حد ہوتی ہے خیال رہے کہ اب یہ اس کے مستحق نہیں رہے کہ ان کی رسی اتنی ڈھیلی چھوڑ دی جائے۔ آپ ﷺ ذرا توقف کرتے تو ان کا جھوٹ اور سچ بالکل واضح ہوجاتا اور آپ کو معلوم ہوجاتا کہ یہ عذر ان کے بالکل غلط اور جھوٹے تھے اور اس طرح بات کھول کر ان کی پوزیشن بالکل واضح ہوجاتی۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی تجھ سے اجازت کے طلبگار نہ ہوں گے کہ اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے جہاد کریں اور اللہ جانتا ہے کہ کون متقی ہیں

سچے مومن کبھی بھی آپ سے اس طرح اجازت طلب نہ کریں گے : 65: پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ جہاد میں ہلکے اور بوجھل ہو کر نکلنے کا حکم دیا تھا کیوں ؟ اس لئے کہ جہاد کی استعداد رکھنے والے اور نہ استعداد رکھنے والے سب کو نکلنے کی ہدایت دی تھی کیونکہ نوجوان نکل چلنے میں ہلکا ہوتا ہے اور معمر آدمی بوجھل کیونکہ سرگرم عمل آدمی فوراً اٹھ کھڑا ہوگا اور کسل مند کے قدم بوجھل ہوں گے۔ جس کے علائق زیادہ ہیں وہ اپنے آپ کو اتنا ہلکا نہیں پائے گا جتنا ایک مجرد آدمی یا کم علائق رکھنے والا اس طرح کوئی سروسامان میں ہلکا ہوگا ، کوئی اسلحہ جنگ سے بھاری ہوگا چناچہ روایت میں آیا ہے کہ ابو راشد حرانی کہتے ہیں میں نے مقداد بن اسود کو حمص میں دیکھا وہ جنگ کے لئے نکل رہے تھے میں نے کہ اللہ نے تمہیں معذور ٹھہرا دیا ہے مطلب یہ تھا کہ آپ بوڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفروا خفافاً وثقالا کا کیا جواب ہے ؟ حیان ابن زید سے مروی ہے کہ میں نے افس جاتے ہوئے فوج میں ایک نہایت بوڑھے آدمی کو دیکھا جس کی بھنویں آنکھوں پر آگری تھیں میں نے متعجب ہو کر کہا کہ کیا اللہ نے معذوروں کو معاف نہیں فرمادیا ؟ تو اس نے کہا کہ اللہ نے تو ہمیں ہر حال میں نکلنے کا حکم دیا ہے اور یہی بات ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے۔ اس آیت میں مزید وضاحت فرمادی کہ اے پیغمبر اسلام ! جن لوگوں کے دلوں میں ایمان کی لگن ہے بھلا وہ ایسے کام میں جو سراسر انہی کے فائدہ کا ہے وہ آپ سے کیوں کر اجازت مانگیں گے ؟ اور کیوں اس کے انتظار میں بیٹھیں گے ؟ ان کے لئے تو صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ادائے فرض کا وقت آگیا اور جسے ایمان عزیز ہے وہ ادائے فرض کے لئے مستعد ہوجاتے ہیں اجازت تو وہی طلب کریں گے جن کے دلوں میں سچا ایمان نہیں اور جو شک کے روگی ہیں تاکہ ان کو کوئی نہ کوئی بھاگنے کی راہ مل جائے۔ جو صحیح معنوں میں اس اجازت کے مستحق ہیں ان کو بھی اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہوگی کیونکہ مجاہدین کو کمان کرنے والا خود سمجھے گا کہ اس آدمی کو جہاد میں شریک نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اس قابل نہیں چناچہ ایسے لوگوں کو خود بخود اجازت مل جائے گی بلکہ وہ کوئی بہانہ کریں گے تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ ہمیں جہاد میں شریک ہونے کا موقع مل جائے اور وہ عذر موجود ہونے کے باوجود کوئی راہ نکالنے کی کوشش کریں گے کہ ہم اس سعادت سے محروم نہ رہیں۔ چناچہ اس کی مثالیں احادیث و روایات میں موجود ہیں۔
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

تجھ سے اجازت طلب کرنے والے تو وہی ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑگئے ہیں تو اپنے شک کی حالت میں متردد ہو رہے ہیں

اجازت طلب کرنے والے وہی لوگ ہیں جن کے دل شک میں مبتلا ہیں کہ نتیجہ کیا ہوگا : 66: چونکہ مقابلہ بیز نطانی شہنشاہی سے تھا جو مشرق میں رومۃ الکبریٰ کی عظمت کی جانشین تھی اور ابھی حال میں ایران کو شکست دے چکی تھی اس لئے منافقوں کو یقین تھا تو صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کے خاتمے کے دن آگئے ہیں۔ عبداللہ بن ابی بن سلول نے جو منافقوں کا سردار تھا لوگوں کو یقین دلاتا تھا کہ پیغمبر اسلام اس سفر سے لوٹ کر آنے والے نہیں۔ اس لئے رخصت کی درخواستیں بھی وہی لوگ لے کر آتے ہیں جن کا اللہ اور آخرت پر سچا ایمان نہیں ہے بلکہ ان کے دلوں کو شک کا روگ چمٹا ہوا ہے جس کے سبب سے وہ زبان سے تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھی بنے ہوئے ہیں لیکن ان کے دل ڈانواں ڈول ہیں۔ اس آیت میں زیر بحث وہی لوگ ہیں جو خود تو جھوٹے عذرات کی آڑ لے کر اپنے کو معذور ٹھہراتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو اپنے ان عذرات پر مطمئن نہیں کرسکتے اس لئے کہ جہاد کے لئے جو چیزیں عذر بن سکتی ہیں وہ ایسی نہیں ہیں کہ دوسروں سے مخفی ہوں جو لوگ واقعی معذور ہوتے ہیں ان کا عذر یقیناً بد یہی ہوتا ہے اور ہر شخص ان کو دیکھتے ہی معذر ٹھہراتا ہے چناچہ معذورین کا ذکر آگے اس سورت کی آیتت 91 ، 92 میں آنے والا ہے اور وہ وہی لوگ ہیں جو جہاد میں شریک نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود وہ عنداللہ متتقی ٹھہرتے ہیں جیسا کہ اس جگہ فرمایا گیا کہ ” اللہ جانتا ہے کہ کون متقی ہیں۔ “ ا
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر واقعی ان لوگوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کیلئے کچھ نہ کچھ تیاری ضرور کرتے مگر اللہ نے ان کا اٹھنا پسند نہ کیا پس انہیں بوجھل کردیا اور ان سے کہا گیا کہ دوسرے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو

گر واقعی یہ لوگ معذور ہوتے تو ان کا عذر روز روشن کی طرح عیاں ہوتا : 67: واقعات و حالات خود بتا دیتے ہیں کہ یہ آدمی اپنی بات میں کس طرح سچا ہے اور کیا بات اس نے جھوٹ گھڑی ہے۔ اگر غور کرو گے تو تم کو خود بخود سمجھ آجائے گا کہ ان کے سارے عذرات محض بناوٹی ہیں اگر ان کے اندر جہاد کے لئے اٹھنے کا ارادہ موجود ہوتا تو کچھ نہ کچھ سامان تو یہ کر ہی لیتے اگر بھرپور تیاری نہیں تو معمولی سامان بقدر ضرورت مہیا کرلینا تو ان کے لئے کچھ دشوار نہ تھا چونکہ ان کے اندر ہی موجود نہ تھا اور سنت الٰہی ازل سے یہ مقرر ہے کہ جو لوگ نیکی کمانے کے لئے خود اپنے ارادے کو حرکت میں نہیں لائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو توفیق بھی ارزاں نہیں ہوگی۔ ع توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں اور مریضوں کی طرح گھر میں بیٹھا رہنا پسند کیا تو اللہ نے بھی ان کو عزم و حوصلہ سے محروم کردیافَثَبَّطَهُمْ تشبیط کے معنی کسی کو کسی کام سے روک دینے اور بتا دینے کے ہیں اور یہ توفیق کے باب میں سنت الٰہی کا بیان ہے اللہ نے ان کو کیوں محروم رکھا ؟ محض اس لئے کہ وہ اس سے محروم رہنا چاہتے تھے اس لئے گویا طنز کے طور پر کہا گیا کہ ” دوسرے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔ “ رہی یہ بات کہ سنت الٰہی کیا ہے ؟ تو وہ یہ ہے کہ جو یندہ یا بندہ ہوتا ہے جو تلاش کرتا ہے وہ پالیتا ہے۔ ان کے ارادہ ہی میں یہ موجود نہ تھا اگر ہوتا تو وہ بھی کوئی قدم ایسا اٹھاتے جس سے ان کی تیاری معلوم ہوجاتی۔
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ تم میں نکلتے تو تمہارے اندر کچھ زیادہ نہ کرتے مگر خرابی اور ضرور تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کے گھوڑے دوڑاتے اور تم جانتے ہو کہ تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی بات پر کان دھرنے والے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ کون ظلم کرنے والے ہیں

مسلمانوں کو تسلی کہ اگر وہ لوگ نکلتے تو نہ معلوم تمہارے لئے کس مصیبت کا باعث ہوتے : 68: فرمایا انہوں نے سمجھا کہ جان چھوٹی لاکھوں پائے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ پیچھے رہ کر مصیبت سے بچے اور واقعہ یہ ہے کہ ان کا نہ نکلنا ہی تمہارے لئے بہتر ہوا کیونکہ نکلتے تو یہ لوگ فتنوں کے گھوڑے دوڑاتے اور کچے دل کے آدمیوں کو بہکاتے رہتے۔ اس سے پہلی آیت میں فرمایا : ” مگر اللہ کے حضور ان کا اٹھنا ناپسند ہوا۔ “ یعنی اللہ کے علم میں تھا کہ اب یہ لوگ نہیں نکلیں گے اور اللہ نے تمہارے لئے اس میں بہتری دیکھی کہ وہ نہ نکلیں لہٰذا ان کا یہ نکلنا ہی تمہارے لئے اچھا ثابت ہوا۔ تم کو معلوم ہے کہ تمہارے اندر بھی کچھ کان کے کچے لوگ موجود ہیں : 69: ” اور تم جانتے ہو کہ تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی باتوں پر کان دھرنے والے ہیں۔ “ یعنی تم میں کچھ بھولے بھالے مسلمان ایسے بھی ہیں جو ان کی جھوٹی افواہوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہی لوگوں کو ہم کان کے کچے کہتے ہیں کہ وہ باتوں ہی باتوں میں قابو آسکتے ہیں کیونکہ ان میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ان چالاک اور ہوشیار لوگوں کی چالاکی اور ہوشیاری کو سمجھ سکیں۔ فرمایا ” اللہ جانتا ہے کہ کون ظلم کرنے والے ہیں۔ “ یعنی ان ظالموں کو اللہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کی فساد انگیزی کوئی نئی بات نہیں وہ بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں اس لئے عادت کبھی جانے والی چیز نہیں ہے اور یہ پرانے روگی ہیں اور ان کو اس روگ پر ہی موت آئے گی کیونکہ وہ خود کبھی اس روگ کو روگ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں انہوں نے اپنی اس عادت کو سمجھداری کا نام دے رکھا ہے وہ سوئے ہوئے نہیں کہ ان کو کوئی جگا دے گا بلکہ وہ جاگتے سوئے ہوئے ہیں جو کسی کا جگانے سے کبھی نہیں جاگیں گے۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

ان لوگوں نے اس سے پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوششیں کیں اور تمہارے خلاف ہر طرح کی تدبیریں الٹ پلٹ کر آزمائیں یہاں تک کہ سچائی نمایاں ہوگئی اور اللہ کا حکم غالب ہوا اور ایسا ہونا ان کیلئے خوشگوار نہ تھا

اے پیغمبر اسلام ! کیا اس سے قبل یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں نہیں کرچکے ؟ 70: زیر نظر آیت میں اس گروہ منافقین کی بعض پچھلی شرارتوں کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے اور ان کے درمیان فساد کرنے کے لئے کیں۔ یعنی معاملہ کچھ اور تھا اور انہوں نے اپنی مطمع سازی اور فتنہ پردازی سے اس کو کچھ کا کچھ بنادیا۔ اس جگہ قرآن کریم نے صرف اجمالی اشارہ لیا اس لئے کہ یہ باتیں پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں سے مخفی نہیں تھیں۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ بدر کے موقع پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی منشاء واضح ہونے کے باوجود کچھ مسلمانوں کو قافلہ تجارت پر حملہ کرنے کی راہ سمجھانے کی کوشش کی اور یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ احد کے موقع پر پہلے تو شہر میں محصور ہو مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا پھر جب ان کا مشورہ قبول نہ ہوا تو عبداللہ بن ابی کی سرداری میں تین سو آدمیوں کو لے کر عین موقع پر الگ تھلگ ہوگئے پھر جنگ کے بعد انہوں نے اپنے ہم خیالوں اور کان کے کچے لوگوں کے پاس نبی اعظم و آخر ﷺ کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا کہ نعوذباللہ آپ ﷺ قوم کی بہی خواہ نہیں کہ ہمارا خیر خواہانہ مشورہ کے خلاف ایک غلط مقام پر لے جا کر ہمارے بھائیوں کو کٹوا دیا اور شکست کا سبب بنے پھر یہی لوگ تھے جنہوں نے جنگ مریسیع کے موقع پر اپنی فتنہ انگیزیوں سے ایئسی صورت پیدا کردی کہ انصار اور مہاجرین کے درمیان تلوار چلتے چلتے رہ گئی۔ پھر ان کی ایک شرارت واقعہ اگک کی شکل میں ظاہر ہوئی جو بات کا بتنگڑ بنانے کی ایک نہایت سخت گھناؤنی مثال ہے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے حنین کے موقع پر تقسیم غنیمت کے معاملہ میں کچھ لوگوں کے دلوں میں اپنی بدطنیتی سے سخت کدورت پیدا کرنے کی بہت بڑی کوشش کی مختصر یہ کہ جو موقع بھی ان کے ہاتھ آیا اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر بار ان کی مفسدانہ سرگرمیوں کے علی الرغم ان کے فتنوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھا اور یہ کچھ وہ اب بھی تمہارے اندر رہ کر کرتے یہ تو اللہ کا خاص فضل و احسان ہوا کہ اس دفعہ ان کو یہ توفیق ہی نہ ہوئی کہ وہ تمہارے ساتھ شریک ہوتے۔ ان کا تخاطب انداز ان کے دلوں کی ساری کدورت ظاہر کررہا ہے : 71: گزشتہ آیات سے معلوم ہوا کہ جماعتی زندگی کے لئے تذبذب اور کچے دل کے لوگوں کی موجودگی بہت مہلک ہوتی ہے خصوصاً جب قوم موت وحیات کی جدوجہد میں مشغول ہو یہی وجہ ہے کہ آزاد سے آزاد قومیں بھی مجبور ہوئیں کہ جنگ کے وقت حکومت کو غیر معمولی اختیارات دے دیں اور اگر شخصی آزادی کے قوانین بھی معطل کردے تو معترض نہ ہوں کیونکہ ایسے وقت میں ایک منافق کی شرارت پوری قوم کو خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔ اس لئے گزشتہ آیات سے یہ سبق حاصل ہو کہ حتیٰ الامکان ایسے افراد کی موجودگی برداشت نہیں کرنا چاہئے کہ ان کی علیحدگی سے جو عارضی شور و شغب ہوگا وہ جماعتی مصالح کے لئے زیادہ مضر ہوگا اگر درخت کی جڑ درست ہے تو جتنا چھانٹو گے اتنا ہی زیادہ پھیلتا جائے گا اور فاسد اعضاء کا الگ کردینا مضر نہیں ہوتا بلکہ چھوڑ دینا جسم کے لئے مہلک ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ، فرمایا بعض منافق کہتے ہیں کہ اس سفر میں نکلنا فتنوں میں پڑا ہے۔ پس ہمیں فتنہ میں نہ ڈالئے بلکہ مدینہ میں بیٹھا رہنے دیجئے۔ اس فتنہ سے ان کا مقصد کیا تھا ؟ اسے اس لئے بیان نہیں کیا کہ صریح قائن واضح کر رہے ہیں اور یہی قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت ہے۔ وہ یقیناً ہر طرح کے متوق اور دہمی خطرات ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہوں گے اور اسے فتنجہ سے تعبیر کرتے ہوں گے۔ مثلاً اس گرمی کے موسم میں ہزاروں آدمیوں کو اس قدر دور سفر پر لے جاناجان بوجھ کر انہیں ہلاک کرنا ہے اور یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ، پھر جہاں جانا ہے وہ دوسروں کا ملک ہے نہیں معلوم وہاں جا کر کن کن برائیوں میں پڑنا پڑے ؟ احادیث میں آیا ہے کہ جب پیغمبر اسلام نے تبوک کا ارادہ کیا تو منافقوں کے ایک سردار جد بن قیس نے کہا : ” عورتوں کے معاملہ میں میں بہت کمزور ہوں ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں بنو اصغیر یعنی رومیوں کی عورتیں دیکھ کر مفتون نہ ہوجاؤں۔ پس مجھے رہ جانے کی اجازت دے دیجئے اور اس فتنہ میں نہ ڈالئے۔ (ابن جریر)
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان (منافقوں) میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں گھر بیٹھا رہوں اور فتنہ میں نہ ڈالیے تو سن رکھو یہ لوگ فتنہ ہی میں گر پڑے اور بلاشبہ دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے

فرمایا یہ جھوٹے بہانے نکالنے کے لئے جھوٹے فتنہ کا ذکر کرتے ہیں حالانکہ یہ کہہ کر وہ اصل فتنہ میں گر پڑے کہ راہ حق میں جہاد کرنے سے جی چرایا اور اس کے لئے جھوٹی ن کی اور پرہیز گاری کی آڑ پکڑی۔ غور کرو گے تو نفاق کی یہ خصلت آج بھی بڑے بڑے مدعیان علم اور مشیخیت میں بولتی نظر آئے گی۔ جھوٹی دینداری اور وہمی پرہیزگاری نے سعی و عزم کی تمام راہیں ان پر بند کردی ہیں اور ود ساعی ہیں کہ امت پر بھی بند کردیں تفصیل اس کی بہت لمبی ہے اپنے اردگرد زمرہ علماء پر گہری نظر ڈال کر خود فیصلہ کرلیں کہ جو کچھ میں نے عرض کیا وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ کیا وہ بڑے بڑے پے ٹینٹ اور سلجھے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں یا نہیں ؟ منبر پر کیا ارشاد ہے اور اپنی نجی زندگیوں میں وہ کیا کرتے ہیں ؟ اپنے مفار کی خاطر وہ قوم کے مفار کو کتنی بار قربان کرچکے ہیں ؟ ان کو دنیوی فوائد حاصل کرنے سے کبھی فرصت ملتی ہے ؟ وہ اس دییہ فائدہ کو فائدہ مانتے اور تسلیم کرتے ہیں جو ان کے لئے دنیوی فائدہ کا باعث ہو جس میں ان کی دنیا کا نقصان ہو اس کو وہ دین کے فائدہ کے لئے براشت کرتے ہیں ؟ غور کرنے سے تم کو بہت کچھ ملے گا۔ ذرا اس کا تجزیہ کر کے دیکھ لو کہ میں نے جو کہا سچ ہے یا نہیں ؟ انشاء اللہ آپ کو نعرہ بلند کرنا پڑے گا۔ بالکل سچ ہے ، سچ ہے۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر تمہیں کوئی اچھی بات پیش آجائے تو وہ انہیں بری لگے اور اگر کوئی مصیبت پیش آجائے تو کہنے لگیں کہ اس خیال سے ہم نے پہلے ہی اپنے لیے مصلحت بینی کرلی تھی اور پھر گردن موڑ کر خوش خوش چل دیں

اے پیغمبر اسلام ! آپ کو بھلائی پہنچے تو ان کے دل جل اٹھتے ہیں : 72: اب ان کے باطن سے پورا پردہ اٹھا کر دکھ دیا۔ فرمایا یہ عذرات اور بہانے تو محض اوپر کا پردہ ہیں ان کے دلوں کے اندر تو صرف تمہاری بدخواہی بھری ہوئی ہے جب تمہیں کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو بڑا دکھ ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی افتاد پیش آجائے تو بہت خود ہو کر لوٹتے ہیں کہ خوب ہوا اور ہم نے تو اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا جیسا کہ بدر میں نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو کامیابی اور سرفرازی میسر آئی تو یہ لوگ حسد اور دکھ سے بھر کر رہ گئے اور جب احد میں کچھ پریشانی کا سامنا ہوا تو خوشیوں سے بغلیں بجاتے رہے اور کہتے رہے کہ اچھا ہوا کہ ہم نے ایسا وقت آنے سے پیشتر ہی جنگ میں عدم شرکت سے اپنا معاملہ درست کرلیا تھا اور اس طرح ہمارا بچاؤ گویا ورنہ ہم بھی میدان میں کام آتے۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دو ہمیں کچھ پیش نہیں آسکتا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے ، وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں

آپ کہہ دیجئے کہ مومنوں کے لئے مصیبت اور راحت دونوں میں خیر ہے : 73: فرمایا ، ان بغلیں بجانے والوں سے کہہ دیجئے یعنی آپ ﷺ ان کو جواب دیجئے کہ ہمیں جو کچھ پیش آئے گا وہ وہی ہوگا جو اللہ نے ہمارے لئے مقدر کردیا ہے وہی ہمارا کر ساز ہے اور ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے کہ اس نے جو کچھ ہمارے لئے لکھ رکھا ہے اس میں ہماری دنیا اور آخرت کی بہبود ہے اگر تم ہمارے لئے کسی مصیبت کے خواہاں ہو تو ہمارا یہ ایمان ہے کہ وہ تمہارے کہنے سے نہیں آئے گی بلکہ ہمارے رب ہی کے چاہنے سے آئے گی اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اس میں ہماری بہتری ہوگی۔ کان کھول کر سن لو کہ اہل ایمان کے لئے مصیبت اور راحت ، دکھ اور سکھ ، موت اور زندگی دونوں ہی میں خیر ہے۔ ایک سے مومن کو صبر اور اپنی کمزوریوں کی اصلاح اور توبہ وانابت کی تربیت حاصل ہوتی ہے اور دوسری سے شکر نعمت ، ادائے حقوق اور احسان کی ترغیب و تشویق ہوتی ہے۔ مومن اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو غازی ہے ، مرتا ہے تو شہید ہوتا ہے۔ ہاں ! تمہارا معاملہ بالکل اس سے الگ ہے بلکہ یوں کہئے کہ اس کے برعکس ہے۔ تم نے جو روش اختیار کی ہے اس کی بناء پر ہم تمہارے لئے دو باتوں میں سے کسی ایک کی توقع رکھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عذاب بھیج دے گا یا ہمارے ہی ہاتھوں تم کو سزاد لوائے گا اور ان دونوں میں سے کسی میں بھی تمہارے لئے خیر نہیں ۔ بات صاف ہوگئی کہ تم ہمارے لئے جس چیز کا انتظار کر رہے ہو اس کا انتظار کرو ہم بھی اب تمہارے لئے دونوں باتوں میں سے ایک کا ظہور کے منتظر ہیں اور یہ ہماری کم ظرفی اور کم دلی نہیں بلکہ حالات و واقعات کے قدرتی نتیجہ کا انتظار ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ وہی ہوگا جو اللہ نے دونوں کے لئے دونوں کے اعلان کے صلہ میں لکھ رکھا ہے۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

تم کہو کہ تم ہمارے لیے جس بات کا انتظار کرتے ہو وہ ہمارے لیے اس کے سوا کیا ہے کہ دو خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے اور ہم تمہارے لیے جس بات کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ اپنے یہاں سے کوئی عذاب بھیج دے یا ہمارے ہی ہاتھوں عذاب دلائے تو اب انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں

معلوم ہوا کہ تم ہماری دو خوبیوں میں سے ایک کے منتظر ہو تو بخوشی رہو : 74: ٹھیک مطلب اس آیت کا یہ ہوا کہ اے منافقو ! تم ہمارے لئے جس بات کے انتظار میں ہو وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم جنگ میں مارے جائیں اور ہم کو شکست ہو۔ لیکن ہمارے لئے تو یہ بھی اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ 1ؕ ہے یعنی دو خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے اور یہی وہ مقام ہے جسے قرآن کریما یامن اور ایمان والوں کی خصوصیت قراد دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کفر کی راہ چلے تو انہیں اس کی سمجھ نہیں۔ دنیا میں جب کبھی کوئی فرد یا جماعت کسی مقصد کے لئے جدوجہد کرتی ہے تو اس کے سامنے امید بھی ہوتی ہے مایوسی بھی ، کامیابی بھی ہوتی ہے ناکامی بھی۔ لیکن قرآن کریم کہتا ہے مومن وہ ہے جس کی جدوجہد میں جو کچھ ہے امید و کامرانی ہی ہے مایوسی و ناکامی کی اس پر پرچھائیں بھی نہیں پڑسکتیں۔ کیونکہ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کے لئے کرتا ہے اور اس کے لئے یہی بات کامیابی نہیں ہوتی کہ کسی خاص منزل تک پہنچ جائے بلکہ اس کی راہ میں چلتے رہنا اور جدوجہد میں لگے رہنا بجائے خود بڑی سے بڑی کامیابی ہے۔ وہ جب اپنا سفر شروع کرتا ہے تو اس لئے نہیں کرتا کہ کسی خاص منزل تک ضرور ہی پہنچ جائے بلکہ صرف اس لئے کرتا ہے کہ کسی کی راہ میں لچتا رہے اور یہ جو کسی کی راہ میں چلتے رہنا ہے تو یہی اس کی اصل منزل مقصود ہے۔ رہواں راخستگی راہ نیست٭ عشق ہم راہ ست وہم خود منزل است دوسرے اگر جدوجہد کرتے ہوئے مرجائیں تو یہ ان کی کامیابی ہے مومن اگر مرجائے تو اس کی بڑی سے بڑی فتح مندی ہے ایسی فتح مندی جس سے بڑی فتح مندی کی وہ اپنے ذات کے لئے آرزو ہی نہیں کرسکتا۔ آنانکہ غم تو برگزیدہ ند ہمہ٭ در کوئے شہادت آدمیدند ہمہ در معرکہ دو کون فتح از عشق است ٭ باآن کہ سیاہ اد شہید ند ہمہ دوسرے اگر لڑیں اور دشمنوں پر غالب نہ آسکیں تو ان کی ہار ہوئی لیکن مومن وہ ہے جو ہار کے معنی ہی سے نا آشنا ہوتا ہے وہ اگر کسی میدان میں غالب نہ آئے جب بھی جیت اسی کی ہے کیونکہ اس کی بار جیت کا معیار میدان جنگ نہیں ہوتا خود اس کی طلب و سعی ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی سعی و طلب میں پورا نکلا تو اس نے میدان مار لیا اگرچہ میدان جنگ میں اس کی لاش ہزاروں لاشوں کے نیچے دبی ہوئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس راہ میں وہ کبھی مر نہیں سکتا اس کی موت بھی اس کی زندگی ہی ہوتی ہے بلکہ پہلی زندگی سے ہزار بار اچھی اور بہتر زندگی وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ یہ جو قرآن کریم نے جا بجا زور دیا ہے کہ مومن کا مقصد سعی صرف اللہ اور اس کے رسول کی سچائی ہے اور مومن کی جہد کا نام ” جہد فی سبیل اللہ “ رکھ دیا تو اس میں یہی حقیقت پوشیدہ ہے یعنی وہ ساری منزلوں سے جو دنیا میں پیش آسکتی ہیں بلند کردیا گیا۔ اب یہاں کی کوئی منزل اس کی منزل مقصود نہیں ہوسکتی کہ اس تک نہ پہنچ سکنا اس کی ناکامی کا فیصلہ کردے اس کے لئے منزل مقصود تو صرف یہ ہے کہ حق کی راہ میں چلتا رہے اور رکے نہیں۔ اس کا ہر قدم جو چلتا رہا فتح مندی ہے اور ہر قدم جو رک گیا نامرادی۔ مختصر یہ کہ ” دو خوبیوں “ سے مقصود یہی حقیقت ہے یعنی فتح مندی یا شہادت اور شہادت بھی فتح مندی ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ ” شہادت یا مالی غنیمت “ جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور حاشاء کہ مال غنیمت کسی مومن کے لئے اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ 1ؕ ہو۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

آپ کہہ دیں کہ تم خوش ہو کر خرچ کرو یا ناخوش ہو کر تمہارا خرچ کرنا کبھی قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ تم ایک ایسا گروہ ہوگئے ہو جو نافرمان ہے

منافق خوشی سے خرچ کریں یا ناخوشی سے ان کے لئے قبولیت نام کی کوئی شے نہیں ہے : 75: منافق اور کافر میں یہی فرق ہے کہ منافق کھلی مخالفت نہیں کرسکتے تھے اس لئے ان کو نمازوں میں حاضری اور جہاد کے لئے چندے دینے پڑتے تھے اور بعض اوقات جنگوں کے لئے بھی نکلنا پڑتا تھا۔ زیر نظر آیت میں منافقین سے اظہار نفرت و کراہت کی جارہی ہے فرمایا کہ ان کو کہہ دو تمہارا کوئی انفاق بھی اب قبول نہیں کیا جائے گا خواہ طوفاً ہو یا کرہاً وہ اللہ کے ہاں ہرگز قبول نہیں۔ انفاق ان کا قبول ہوتا ہے جو رب العزت کے وفادار ہوں جو بدعہد اور غدار ہیں وہ محض مارے باندھے یا دکھاوے اور نمائش کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کے انفاق کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کسی کے مال کا محتاج نہیں کہ جس طرح بھی کوئی اٹھا کردے دے وہ اس کو قبل کرے وہ صرف انہی کے انفاق قبول کرتا ہے جو سچے ایمان اور پورے