Ayah 9:112مومنوں کے مختلف اوصاف بیان فرما کر ان کی پہچان آسان کردی :
147: یہ صفات جو اس آیت میں بیان ہوئیں کن لوگوں کی ہیں ؟ اگرچہ یہاں خبر واضح نہیں کی گئی لیکن کیوں واضح نہیں ؟ محض اس لئے کہ زور کلام خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ان ہی لوگوں کے اوصاف ہیں جو فی الحقیقت سچے مومن ہیں اور انہیں کو خوشخبری پہنچائی جا رہی ہے اور وہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا چکایا ہے۔ اس جگہ ان کی سات صفات بیان کی گئی ہے اور ان کے مدارج کا بیان ہے جس کو اختصار کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے :
1۔ ” اَلتَّآىِٕبُوْنَ “ یعنی وہ لوگ جو اپنی توبہ میں سچے اور پکے ہوتے ہیں۔ بار بار توبہ کرتے اور توڑتے ہی نہیں رہتے اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنے دکھ اور سکھ میں اس کو یاد رکھتے ہیں اور اپنی لغزشوں اور غفلتوں پر نادم رہتے ہیں اور اس ندامت کا اظہار بھی وہ اللہ ہی کے سامنے کرتے ہیں تاکہ دکھاوے کی زد میں نہ آئیں۔
2۔ ” الْعٰبِدُوْنَ “ وہ اللہ کی عبادت میں سرگرم رہتے ہیں اس طریقہ سے کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کا سختی کے ساتھ انکار بھی کرتے ہیں اور ان کی ساری بندگیاں اور نیاز مندیاں صرف اور صرف اللہ ہی کے لئے ہوتی ہیں۔ عبادت سے مقصود عبادت خاص بھی ہے اور عام بھی۔ خاص عبادت کیا ہے ؟ وہی جو خاص وقتوں اور خاص شکلوں کی عبادت جو دین حنیف نے قرار دے دی ہے اور اسے پورے اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور عام یہ کہ انسان کی فکری حالت عبادت گزار نہ ہوجائے اور پھر وہ جو کچھ بھی سنے ، جو کچھ بھی کہے ، جو کچھ بھے کرے ، سب میں ایک عابدانہ روح کام کر رہی ہو ، عبادت کا مفہوم بڑا وسیع ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں کچھ لوگوں نے بڑی سخت ٹھوکر کرھائی ہے وہ خاص وقتوں اور شکلوں کی عبادت سے منحرف ہوئے اور دقیق تاویلوں کا اور وہ کمبل سمجھ کر دیچھ کو ہاتھ ڈال بیٹھے۔ اب وہ کمبل کو چھوڑتے ہیں لیکن وہ ریچھ ان کو نہیں چھوڑتا۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ٭ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
3۔ ” الْحٰمِدُوْنَ “ وہ جو اپنی فکر اور اپنے قول سے اللہ کی محدود ستائش کرنے والے ہیں۔ فکر سے حمد و سرتائش کیا ہوئی ؟ یہ ہوئی کہ وہ بحکم آیت : وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ۚ (3 : 191) آسمان و زمین کی خلقت میں غور و فکر کرتے اور ان تمام کار فرمائیوں کی معرفت حاصل کرتے ہیں جو اس کی محمودیت و جمال پر دلالت کرتی ہیں اور قول سے حمد و ستائش یہ ہوئی جو اس فکری حالت کا قدرتی نتیجہ ہے کیونکہ جس ہستی کی محمودیت دل و دماغ میں جائے گی ضروری ہے کہ زبان سے بھی بےاختیار اس کی حمد و ثنا کے ترانے نکلنے لگیں۔
4۔ ” السَّآىِٕحُوْنَ “ اس لفظ کے معنوں میں بہت وسعت ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے مترجمین نے ترجمہ میں اور مفسرین نے تفسیر میں بہت کچھ بیان کیا ہے اور پھر ایک دوسرے کی تردید میں زیادہ وقت صرف کردیا ہے لیکن ہماری نزدیک وسعت کے پیش نظر تفہیم میں اختلاف ممکن بھی ہے اور کوئی گناہ بھی نہیں تاہم اختلاف میں اس قدر شدت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم نے سیاحت ہی کے معنوں اور مف ہوں کو پسند کیا ہے لیکن وہ سیاحت جو درویشوں اور راہبوں کے حصے میں آئی وہ نہیں بلکہ وہ سیاحت جو نشانات الٰہی کے دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے وہ نشانات انعامات الٰہی کی صورت میں ہوں یا عذاب الٰہی کی صورتوں میں۔ جو ساح یسیح سے ہے جیسا کہ اس سورت کے شروع میں ہے : فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ میں آیا ہے اور جس کی تشریح دوسری جگہ قرآن کریم نے فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ (3 : 137) سے خود کردی ہے یعنی زمین میں عبرت و نظر کے لئے گردش کرتے ہیں اور علم کی تلاش میں نکلتے ہیں اور راہ حق میں جہاد کرتے اور جدوجہد کرتے ہوئے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ کا رخ کرتے ہیں اور اس طرح حج کے لئے خشکی اور تری کی مسافتیں قطع کرتے ہیں۔
5۔ ” الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ “ وہ جو اللہ کے سامنے جھک جاتے ہیں اور رکوع و سجود سے کبھی نہیں تھکتے اور یہ رکوع و سجود کی حالت ان کے جسم پر بھی طوری ہوتی ہے اور قلب پر بھی اور زبان پر بھی اور پھر ان کے جسم کے روئیں روئیں میں نظر آنے لگتی ہے اور ان کے جسم کی کوئی حرکت اور ان کے دل کی کوئی دھڑکن اس سے خالی نہیں ہوتی جس سے اس کا اظہار نہ ہوتا ہو۔
6۔ ” الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ “ وہ جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے رکوتے ہیں اور خود مجسمہ نیکی ہوتے ہیں جہاں سے برائی کبھی پھوٹتی ہی نہیں اور پھر وہ صرف اپنے ہی نفس کی اصلاح پر قانع نہیں ہوجاتے بلکہ دوسروں کی بھی اصلاح کرتے ہیں اور دنیا میں حق و عدالت کے نشر و قیام کو اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی میں وہ ذرا بھی سستی نہیں کرتے۔
7۔ ” الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ 1ؕ “ وہ ان تمام حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں جو اللہ نے انسان کے لئے ٹھہرا دی ہیں اور یہ ان کا آخری وصف ہے جو اس جگہ بیان ہوا اور حقیقت میں یہی آخری مقام ہے۔ قرآن کریم کی اصطلاح یہ ہے کہ تمام واجبات و حقوق کو خواہ وہ افراد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں خواہ جماعتی زندگی سے متعلق ہوں وہ حدود اللہ سے تعبیر کرتا ہے یعنی یہ حدیں جو مقرر کردی گئیں ان کے ٹوٹنے سے انسانی امن وسعادت کی بنیادوں کا ٹوٹ جانا لازم آتا ہے اور تشریح اس کی اس جگہ سما نہیں سکتی۔
یہ کل سات وصف ہوئے اور اس جگہ وہ جس ترتیب سے بیان کئے گئے ہیں وہ بذاتہ قابل غور ہیں گویا نفس انسانی کے تز کہ و ترقی کے سات درجے ہیں یا آپ ان کو سات طبقے کہہ لیں جو یکے بعد دیگرے ٹھیک اسی ترتیب سے سلوک ایمانی میں پیش آتے ہیں۔ جب کوئی انسان راستی و ہدایت کی راہ میں قدم اٹھانے لگا تو قدرتی طور پر پہلا قدم توبہ وانابت ہی کا ہوگا یعنی پچھلی غفلتوں اور گمراہیوں سے خواہ وہ کفر کی ہوں ، خواہ نفاق کی اور خواہ معاصی و زلات کی بہرحال ان میں سے جس سے بھی دوچار ہے باز آئے گا اور آئندہ کے لئے ان سے بچنے کا عہد کرے گا اور اپنے سارے دل اور ساری روح سے اللہ کی طرف رجوع ہوجائے گا اور یہی توجہ کی حقیقت ہے۔ پھر اگر توبہ سچی ہوگی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ کی بندگی اور نیاز مندی کی سرگرمی پیدا ہوجائے۔ پس یہ دوسری منزل ہوئی یا سلوک ایمانی کا دوسرا طبقہ پھر چونکہ عبادت گزاری کی زندگی کا لازمی نتیجہ ہے کہ فکر اور ذکر کا مقام حاصل ہوجائے اور ” ملک السموت والارض ؟ ؟ “ کا مشاہدہ معرفت کا دروازہ کھل جائے اس لئے تیسری منزل تمحید و تسبیح کی منزل ہوئی یعنی اللہ کی حمد و ثنباء کے جوش سے معمور ہوجانے کی منزل جس کے متعلق قرآن کریم کی آیت اس طرح بولتی ہے کہ : ” رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا 1ۚ “ (3 : 191) پھر اگر توبہ وانابت کا تنبہ ، عبادت کا ذوق و شوق اور تمحید و تسبیح کا عرفان کامل درجہ کا ہے تو ممکن نہیں کہ وہ مومن صادق کو گھر میں چین سے بیٹھنے دے ضروری ہے کہ وطن و مکان کی الفت کی زنجیریں ٹوٹیں اور سیر و سیاحت میں قدم سرگرم ہوجائیں پس یہ چوتھی منزل ہوئی اور اس طرح ” السَّآىِٕحُوْنَ “ کا درجہ چوتھا درجہ ہوا یا چوتھا طبقہ ہوا۔
ان چار منزلوں سے جو کاروان عمل گزر گیا اس نے اصلاح نفس کی مسافت طے لر لی پس اب پانچویں منزل ” الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ “ کی ہوئی یعنی بندگی و نیاز مندی میں پورے ہوگئے اور اللہ کے آگے سر نیاز ہمیشہ کے لئے جھک گیا۔ اب ” الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ “ کا مقام انہیں حاصل ہوگیا یعنی اپنی تعلیم و تربیت کا معاملہ پورا کر کے دوسروں کے لئے معلم و مربی ہوجائںْ گے چناچہ چھٹی منزل یہی ہوئی اور اس سے آخری منزل کے ڈانڈے مل گئے جو ” الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ 1ؕ “ کا مقام ہے یہاں پہنچ کر ان کے تمام اعمال حود الٰہی کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں وہ خود اپنے اعمال میں بھی حدود اللہ کی کامل نگہداشت رکھتے ہیں اور اپنے وجود سے باہر بھی ان کا نفاذ و قیام کی نگہبانی کرتے ہیں۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نیک مقصد سے سیر و سیاحت کرنا سچے مومنوں کا بہترین عمل ہے اور ان اعمال میں سے ہے جن کے ذریعہ وہ ایمان کے مدارج طے کرتے ہیں اور ان کے خصائص ایمانی کامل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جس سرعت کے ساتھ صدر اول کے مسلمان تمام دنیا میں پھیل گئے اس کی کوئی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی اور جب تک اسلام کی عملی روح زندہ رہی ان سے بڑھ کر زمین کی مسافتیں قطع کرنے والی کوئی قوم نہ تھی۔ وہ سیاحت کو سیاحت سمجھ کر نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ کی عبادت سمجھتے تھے اور فی الحقیقت سیاحت نہ صرف ایک تنہا عبادت ہے بلکہ کتنی ہی عبادتوں کا مجموعہ ہے۔ گھر بار چھوڑنا ، عزیز و اقارب کی جدائی برداشت کرنا ، سفر کی مشقتوں میں پڑنا ، قدم قدم پر مال خرچ کرنا ، آب و ہوا کی ناموافقت ، اجنبیوں سے محبت و معاملت اور پھر ان تمام موانع و مشکلات میں عزم و عمل کا استوار رہنا ، ایثار و تحمل کے کتنے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں تب کہیں جا کر یہ عمل انجام پاتا ہے۔
سورة تحریم میں یہی وصف مسلمان عورتوں کے لئے بھی فرمایا جیسا کہ ارشاد ہوا : مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓىِٕحٰتٍ (66 : 5) اللہ کی فرمانبردار ، برائیوں سے پرہیز کرنے والیاں ، عبادت گزار ، سیاحت سے سرگرم اور پھر روایات و آثار سے روز روشن کی طرح عایں ہے نہ صرف صحابہ کرام ؓ کی بیبیاں بلکہ خود پیغمبر اسلام ﷺ کی ازواج مطہرات بھی جنگ میں نکلتی تھیں ، مجاہدین کی خدمت انجام دیتی تھیں ، ہجرت میں ساتھ نکلتی رہیں اور دوسرے ملکوں میں آباد ہونے میں ساتھ رہیں۔
جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ بعض لوگوں کو اس پر تعجب ہوا کہ سیر و سیاحت کا شمار بھی خصائص ایمانی میں ہے ؟ اس لئے ” السَّآىِٕحُوْنَ “ اور ” سٰٓىِٕحٰتٍ “ کے لغوی اور مصطلحہ معنی سے گریز کرنے لگے لیکن فی الحقیقت ان کا تعجب خود محل تعجب ہے۔ قرآن کریم نے ہجرت کو ایمان کا بہترین عمل قرار دیا ہے جو گھر بار چھوڑ کر نکلنا ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے فرمایا : اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا (9 : 41) نکل کھڑے ہو سروسامان ” ہلکے “ ہو یا ” بوجھل “ اور اس طرح حج ہر مستطیع مسلمان پر وہ مرد ہو یا عورت فرض کردیا جو باشندگان مکہ کے علاوہ سب کے لئے بڑی سے بڑی سیاحت ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ : یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ0027 (22 : 27) حج کی سواریاں دنیا سے ہر دور دراز مسافر طے کرتی ہوں آئیں گی۔
اس طرح جگہ جگہ زور دیا کہ ملکوں کی سیر کرو ، پچھلی قوموں کے آثار و باقیات سے عبرت پکڑو ، ان کے عروج وزوال کے حالات و بواعث کا کھوج لگاؤ جیسے ارشاد فرمایا کہ : اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ؕ (12 : 109) کیا انہوں نے ملکوں کی سیر نہیں کی کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے پچھلی قوموں کا خاتمہ کس طرح ہو اور کیسی حالتوں سے وہ دو چار ہوئے ؟ اللہ کی ضرورت اور حکمت کی ان نشانیوں پر غور کرو جو زمین کے چپہ چپہ میں پھیلی ہوئی ہیں فرمایا : ” وَ کَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ ہُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ 00105 “ (12 : 105) اور آسمان و زمین میں قدرت الٰہی کی کتنی ہی نشانیوں ہیں کہ لوگ ان پر سے گزر جاتے ہیں اور گردن اٹھ اکر بھی نہیں دیکھتے ؟ اور اس سورت میں یہ حکم آگے آرہا ہے کہ طلب علم کے لئے گھروں سے نکلو اور علم کے مرکزوں میں پہنچو اور تجارت کے سفر کو بھی فضل اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہاں تک کہ حج کے موقع پر بھی اس کی اجازت دی جیسا کہ فرمایا : ” لیس علیکم جناح ان تبتغو ۔۔۔۔ ؟ ؟ “ (12 : 105) اور تمہارے لئے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ اگر تم اللہ فضل بھی حاصل کرنا چاہو یعنی تجارت کرسکتے ہو۔ پھر جب سیر و سیاحت کے لئے یہ صریح حکم موجود ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہاں اس وصف کی موجودگی موجب تعجب ہو ؟ اور اس کی طرح طرح کی تاویلیں کی جاتی ہیں اس ضمنی بیان کے بعد رخ پھر انہی منافقوں ہی کی طرف پھر رہا ہے۔
Ayah 9:113پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں کو منافقین کے لئے دعائے مغفرت کی آخر کیا ضرورت ہے ؟
148: احادیث و آثار سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس عہد کے مسلمانوں کے کلمہ حق کے رشتے پر دنیا کے سارے رشتے قربان کردیئے تھے انہیں ان عزیزوں اور رشتہ داروں سے لڑنے میں ایک لمحہ کے لئے بھی تامل نہیں ہوا جنہوں نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اس وقت حالت ہی ایسی ہوگئی تھی کہ کلمہ حق کا ساتھ دنیا کے تمام رشتوں ، علاقوں کو خیر باد کہہ دیا تھا لیکن اسلام کے جو دشمن لرٹے ہوئے قتل ہوگئے یا اپنی موت مرگئے ان کی حالت زندوں سے مختلف ہوگئی تھی کیونکہ اب وہ زندہ نہ تھے کہ مسلمانوں پر ظلم و ستن کرتے یا ان کے خلاف لڑتے۔ اس لئے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ جب اللہ کے رسول ﷺ کی دعا مقبول ہے تو کیوں نہ ہم اپنے ان عزیزوں کے لئے دعاء مغفرت کی التجاء کریں جو مر چکے ہیں ؟ جب کہ خود قرآن کریم میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلقنازل ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی تھی حالانکہ ان کا باپ مومنوں کا مخالف تھا جب کہ دوسری جگہ ارشاد ہوا : وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ0086 (26 : 86)
اس لئے زیر نظر آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمایا نہ تو پیغمبر سزاوار ہے کہ ایسا کرے اور نہ مومنوں کو اگرچہ وہ ان کے عزیز و اقارب ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ جب ان پر یہ بات روشن ہوئی کہ وہ دوزخی ہیں تو پھر انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اللہ کے فیصلے کے خلاف وہ زبان کھولنے کی جسارت کریں۔ ان پر یہ بات روشن کس طرح ہوئی تھی ؟ اللہ کی وحی سے اگر تعین کے ساتھ کسی کی نسبت نازل ہوچکی ہو یا ان کے ان اعمال سے جن پر کی زندگوروں کا خاتمہ ہوا۔ یہ ظاہر ہے کہ وہ بیس برس تک داعی حق اور دعوت حق کے جانی دشمن رہے اور کفر و جحود اور ظلم و طغیان کی کوئی شرارت ایسی نہیں ہے جو انسان کرسکتا ہے اور انہوں نے نہ کی ہو پھر ان کی زندگی کا خاتمہ بھی اس عالم میں ہو اور اپنے اعمال بد پر ایک لمحہ کے لئے شرمندہ نہ ہوئے جن لوگوں کی حالت ایسی رہ چکی ہو ان کے دوزخی ہونے سے زیادہ اور کون سی بات روشن ہو سکتی ہے ؟ ہاں ! جن لوگوں نے دعوت حق کو قبول تو نہیں کیا لیکن داعی حق محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی دعوت کی مخالفت نہیں کی بلکہ ایک عرصہ تک ہر ممکن مدد فرمائی ہے ان کی حالت بلاشبہ مختلف ہے اور جب وہ اپنی اس روش پر مرگئے تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور اس باب میں دعائے مغفرت کی ضرورت اس لئے نہیں کہ کسی کی دعائے مغفرت کرنے سے کسی کی نجات بہرحال منحصر نہیں اور حقیقت حال اس جگہ اللہ ہی کے سپرد کر کے خاموش ہوجانا زیادہ بحث و تمحیص سے بہتر اور انسب ہے اور یہی راہ سعادت کی راہ کہلاتی ہے۔
Ayah 9:114ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی وقت تک ہی دعا کرتے رہے جب تک باپ زندہ تھا :
149: اس آیت 114 نے اس شبہ کا ازالہ کردیا جو بعض طبائع کو ہوا تھا۔ فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعائیں کی تھیں تو وہ اس وقت تک تھیں جب تک آپ کا باپ زندہ رہا اس لئے کہ اسی وقت تک جب تک وہ زندہ رہا امید باقی تھی کہ وہ اپنی شقاوت سے باز آجائے اور کسی موڑ پر بھی وہ باز آسکتا تھا اس لئے کہ تک ان کا باپ زندہ رہا وہ مایوس نہ ہوئے اور برابر دعائیں مانگتے رہے اور یہ بات انہوں نے وہاں سے نکلتے وقت ہی باپ سے کہہ دی تھی جب وہ اس سے الگ ہوئے تھے اور وہ اپنی بات کے پکے تھے لیکن جب وہ اپنے کفر و جحود پر مر گیا تو ان پر واضح گویا کہ وہ اپنی روش سے باز آنے والا نہ تھا اس وقت وہ بھی اپنی طلب سے باز آگئے۔ قرآن کریم نے سورة مریم اور سورة الممتحنہ میں ان کے اس دعا کرنے کے وعدہ کا ذکر فرمایا ہے۔
چنانچہ سورة مریم میں ہے کہ :
جب ان کے باپ نے غصہ میں آ کر انہیں نکل جانے کی دھمکی دی اور صاف صاف کہہ دیا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! اگر تو اپنی روش سے باز نہ آیا تو میں تجھ کو سنگسار کرا دوں گا تو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : سَلٰمٌ عَلَیْكَ 1ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ 1ؕ اِنَّهٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا 0047 (19 : 47) اچھا میں جاتا ہوں تجھ پر سلامتی ہو اب میں اپنے پروردگار سے تیرے لیے بخشش کی دعا کروں گا۔ بلاشبہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے اور اسی طرح الممتحنہ میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے تمام خاندان سے سارے تعلقات قطع کردیئے تھے مگر صرف اتنا واسطہ اپنے باپ سے رکھا تھا کہ : لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ 1ؕ (60 : 4) میں ضرور تیری بخشش کا طلب گار رہوں گا اس سے زیادہ تیرے لئے میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے اور خود پیغمبر اسلام ﷺ کا بھی یہی حال تہا کہ دشمنان حق کے لئے ان کی زندگی میں برابر طلبگار بخشش رہے کہ ابھی امید منقطع نہیں ہوئی تھی۔ جنگ احد میں جب ان کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تھا تو زبان مقدس پر یہی دعا جاری تھی کہ : رب اغفرلی لقومی فانھم لا یعلمون ، اے اللہ اے میرے رب ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ جانتے نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ قرآن کریم نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات ان کے مناقب و فضائل میں شمار کی ہے اور جا بجا بطور نمونہ کے پیش کی ہے کیونکہ کتنا ہی ناموافق حالات ہوں مگر حالات سے مایوس نہ ہونا اور اپنے ماں باپ کے لئے ہر حال میں خیر طلب کرتے رہنا جن کی محبت و شفقت انسان کی پرورش کا ذریعہ ہوتی ہے ایمان و راستی کے بہترین اعمال میں سے ہے چناچہ سورة ابراہیم میں جہاں ان کی وہ مقبول دعائیں نقل کی ہیں جو امت مسلمہ کے ظہور اور بیت اللہ کی آبادی کے لئے کی تھیں وہاں یہ دعا بھی نقل کی ہے : رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ (14 : 41) اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے باپ کو بھی اور ان سب کو بھی جو ایمان لائے۔ اس آیت سے اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہوجانا چاہئے کہ یہ جو ہمارے ہاں زندوں کے لئے نہیں فقط مردوں کے لئے دعائے خیر کرنے کا رواج ہے اس کی اسلام میں کوئی اصل نہیں اور یہ کہ دعا زندوں کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے بجائے مردوں کے۔ اس نظر سے ایک دفعہ پھر اس مضمون کا مطالعہ کرلو بات خود بخود انشاء اللہ واضح ہوجائے گی نیز کرائے پر دعا کرنے ، کرانے اور کچھ لوگوں کو دعا مانگنے اور منظور کرانے کا ٹھیکہ دار سمجھنا یہ بھی بالکل فضول اور لغو ہے اس طرح دعا کے لئے کوئی جگہ ، دن ، وقت اور دعا کے ساتھ اور بہت سے اہتمام کرنے کی بھی کوئی حقیقت نہیں یہ سب یاروں کے پیٹ کا دھندا ہے اس لئے ان بدعات سے جہاں تک ہو سکے بچنا ہی مناسب ہے۔
Ayah 9:115ہدایت کے بعد اللہ کسی قوم کو گمراہ نہیں کرتا ہوں ! لوگ خود ہی گمراہی کی طرف دوڑتے ہیں :
150: ” اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ایک گروہ کو ہدایت دے کر پھر گمراہ قرار دے تاوقتیکہ ان پر وہ ساری باتیں واضح نہ کردے جن سے انہیں بچنا چاہئے۔ “ پس اس قاعدہ کے مطابق جب تک تم کو استغفار مشرکین سے ممانعت نہیں کی گئی تھی اس استغفار کی یہ سزا تمہیں مل نہیں سکتی کہ تم میں گمراہی کا مادہ پیدا کردیا جائے۔ ” ناجائز افعال کا خاصہ ہے کہ ان کے کرنے مے قلب میں ایک ظلمت پیدا ہوجاتی ہے جس سے گمراہی کا مادہ غریبہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس پر نظر کر کے مومن خائف تو ہو سکتا ہے کہ ہم کو اس استغفار ناجائز سے کہیں یہ ضرر مذکور نہ پہنچا ہو اس کے متعلق تسلی فرمائی گئی ہے کہ یہ اثر کسی فعل میں اس کے ممنوع ہونے کے بعد ہے نہ کہ قبل ممنوع ہونے کے کیونکہ عدم جواز بعد نہی کے حادث ہے۔ “ (ماجدی)
گزشتہ آیات کے نزول سے پہلے مسلمان اپنے مشرک والدین اور رشتہ داروں کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتے تھے۔ جب زیر نظر آیت کا حکم نازہ ہوا تو اندیشہ ہوا کہ آج تک ہو ہم مشرکوں کے لئے استغفار کرتے رہے ہیں اس کی وجہ سے اللہ میاں کی ناراضگی کا شکار نہ ہوجائیں ان کے اس اندیشہ کو دور کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی کہ کوئی کام اس وقت گناہ ہوتا ہے جب یہ علم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے سے منع فرما دیا ہے اور جب تک یہ پتہ نہ چلے اس وقت تک یہ عمل گناہ نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حکم عدولی اور نافرمانی کی وجہ سے انسان رفتہ رفتہ گمراہی کے عمیق غار میں جا گرتا ہے۔ (قرطبی)
Ayah 9:116اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے زندہ کرنا اور مارنا اور مدد کرنا وہی سب کا رفیق و مددگار ہے :
151: ایک قابل غور امر اس آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے اس لئے تم بھی غور کرلو فائدہ میں رہو گے فرمایا آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے ، وہی جلاتا ہے ، وہی مارتا ہے۔ اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ یہاں جسمانی موت وحیات کا کوئی ذکر نہ تھا اس لئے اس جگہ مقصود یہ ہے کہ نجات و بخشش کا رشتہ اس کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اجسام کی موت وحیات اس کے حکم سے ہے اس طرح روح کی ہدایت و شقاوت کا معاملہ بھی اسی کے حکم پر موقوف ہے اور اس کے حکم سے مقصود اس کے ٹھہرائے ہوئے قانون ہیں۔ ان قوانین کے مطابق کسی کی راہ سعادت کی راہ ہوتی ہے کسی کی شقاوت کی اور ان کے خلاف کبھی کوئی ظہور میں نہیں آسکتی۔ ” اور اللہ کے سوا کوئی یار و مددگار نہیں۔ “ اس لئے مغفرت و منفعت کی جو بھی خاصیت پیدا ہوتی ہے اس مسبب الاسباب اور فاعل حقیقی کی مشیت و ارادہ سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے بعد ذکر پھر تبوک کا چل پڑا ہے جو پہلے بھی ایک حد تک چلتا آتا ہے۔
Ayah 9:117تبوک میں شرکت نہ کرنے کے باعث جو لوگ پیچھے چھوڑے گئے تھے ان کا ذکر :
152: پیچھے آپ آیت 102 میں پڑھ چکے ہیں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو محض سستی و کاہلی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرسکے تھے اس لے انہوں نے کوئی عذر بھی پیش نہیں کیا تھا بلکہ صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں کوئی عذر نہ تھا الایہ کہ ہم سے سستی ہوئی اور شامل نہ ہوسکے اس لئے ان کا فیصلہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اللہ پر چھوڑ دیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ ان کے فیصلہ کا اعلان فرما رہا ہے چونکہ آیت 102 میں فرمایا تھا کہ انہیں رحمت الٰہی کا امیدوار رہنا چاہئے چونکہ قبولیت کا مقتضی یہ تھا کہ ان کے دلوں کے زخم دھوئے جائیں اور عزت و اکرام کی مرہموں ساے تسکیں پائیں اس لئے پیرایہ بیان ایسا اختیار کیا گیا کہ ان کے سارے دکھوں کا مداوا ہوگیا اور انہوں نے اس لغزش کی وجہ سے اپنی اصلی جگہ کھو دی تھی یعنی جو مقبولوں کے ساتھ ان کا شمار تھا ان کی صف سے باہر ہوگئے تھے۔ پس قبولیت توجہ کا مثردہ سنایا گیا تو اس طرح کہ پہلے خود پیغمبر اسلام ﷺ کا نام آیا ، پھر مہاجرین و انصار کا اور پھر انہی کے ضمن میں ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا گیا اور رحمت الٰہی کی توجہ یکساں غور پر سب کے لئے کہی گئی تاکہ اب کوئی اس حلقہ سے باہر نہ رہے جن سے قصور ہوا تھا وہ بھی محسوس کرنے لگیں کہ رحمت و قبولیت کی ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔
گدایاں را ازیں معنی خبر نیست ٭ کہ سلطان جہاں باماست امروز
توبہ کے معنی رجوع ہونے اور لوٹنے کے ہیں۔ اللہ کا اپنی رحمت کے ساتھ لوٹنا کاہلوں کے لئے یہ ہے کہ مزید رحمت و اکرام ہو قصور مندوں کے لئے یہ کہ قبولیت و مغفرت ہو۔ بلاشبہ وہ ان کے حق میں بہت شفیق ہے ، بڑا ہی رحمت والا ہے۔
Ayah 9:118اللہ ان تین پیچھے چھوڑے گئے لوگوں پر بھی لوٹ آیا کہ وہی لوٹ آنے والا ہے :
153: جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے والوں میں تین لوگ وہ تھے جن کے معاملہ کو موخر کردیا گیا تھا جن کے نام گرامی اس طرح تھے۔ 1 : کعب بن مالک ؓ ، 2 : مرارہ بن ربیع ؓ اور بلال بن امیہ ؓ ۔ بخاری اور مسلم میں ان کے واقعہ کی پوری تفصیل درج ہے۔ جس کے راوی خود حضرت کعب ؓ ہیں اور ان کا مختصر واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
ان تینوں سے بھی غزوہ تبوک میں کوتاہی ہوئی اور شریک نہ ہوئے لیکن جب نبی کریم ﷺ واپس مدینہ تشریف لائے اور ساتتھ نہ دینے والے اپنے عذر پیش کر کے معافی مانگنے لگے تو انہوں نے کوئی خاص عذر پیش نہیں کیا اور تسلیم کرلیا کہ ہماری سستی اور کاہلی تھی کہ اس سعادت سے محروم رہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم حکم الٰہی کا انتظار کرو ، پھر تمام مسلمانوں کو حتیٰ کہ ان کی بیویوں کو بھی حکم ہوا کہ ان سے ملنے جلنے کے تمام تعلقات منقطع کرلو چناچہ اچانک انہوں نے پانے آپ وک اس حالت میں پایا کہ مدینہ اور اطراف مدینہ کی پوری آبادی نے ان کی طرف سے رخ پھیرلیا تھا۔ ان کے عزیز و اقارب تک ان کے سلام کا جواب نہیں دیتے تھے۔ آخر جب پورے پچاس دن اسی حالت میں گزر گئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں قبولیت توبہ کی بشارت ملی۔
ان تین صحابہ ؓ میں سے کعب بن مالک ؓ نے خود اپنی سرگزشت تفصیل کے ساتھ بیان کی وہ کہتے ہیں تمام جنگوں میں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور اس موقع پر بیے نکلنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ایک کے بعد ایک دن نکلتے گئے اور اسی خیال میں رہا کہ اپنے معاملات بنٹا لوں تو نکلوں۔ یہاں تک کہ آج کل ہوتے ہوتے پورا وقت نکل گیا اتنے میں خبر اڑی کہ نبی کریم ﷺ واپس آرہے ہیں تب میری آنکھیں کھلیں لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ آپ ﷺ حسب معمول پہلے مسجد میں تشریف لائے اور جو لوگ کوچ میں شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے جو کچھ ظاہر کیا نبی رحمت ﷺ نے قبول کیا اور ان کے دلوں کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔ جب میری طرف متوجہ ہوئے تو مجھ سے نہ ہوسکا کہ کوئی جھوٹی معذرت بنا کر کہہ دیتا۔ جو کچھ سچی بات تھی صاف صاف عرض کردی۔ آپ نے سن کر فرمایا : ” اچھا جاؤ اور انتظار کرو یاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔ “ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ اور بھی کسی کو ایسا حکم ہوا ؟ لوگوں نے کہا ہاں ! مرارہ بن ربیع اور بلال بن امیہ کو۔
اس کے بعد جب رسول اللہ ﷺ کا حکم ہوا کہ ہم تینوں سے کوئی بات چیت نہ کرے تو سب نے منہ پھیرلیا۔ اچانک دنیا کچھ سے کچھ ہوگئی گویا کل تک جس دنیا میں تھا اب وہ دنیا ہی نہیں رہی تھی۔ میرے دونوں شریک ابتلا گھروں میں بند ہو کر بیٹھ رہے تھے لیکن میں سخت جان تھا اس حالت میں بھی روز گھر سے نکلتا ، مسجد میں حاضری دیتا ، جماعت میں شریک ہوتا اور پھر ایک گوشہ میں سب سے الگ بیٹھ جاتا ، اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کے بعد میں قریب جا کر رسول اللہ ﷺ کو سلام عرض کرتا اور پھر اپنے جی میں کہتا کہ دیکھوں سلام کے جواب میں آپ ﷺ کے لبوں پر حرکت ہوتی ہے یا نہیں ؟ آپ ﷺ گوشہ چشم سے کبھی کبھی دیکھ لیتے لیکن جب میری نگاہ حسرت اٹھتی تو نظر کا رخ پھرجاتا۔
بہر تسکین دل نے رکھ لی ہے غنیمت جان کر٭ وہ جو وقت نماز کچھ جنبش تیرے ابرو میں ہے
ایک دن شہر سے باہر نکلا تو قتادہ ؓ کے باغ میں پہنچ گیا یہ میرا چیچرا بھائی تھا اور اپنے تمام عزیزوں میں اسے زیادہ محبوب رکھتا تھا۔ میں نے سلام کیا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اپنے دل میں محبت رکھتا ہوں ؟ اس پر اس نے میری طرف رخ نہیں کیا لیکن جب میں نے یہی بات بار بار دہرائی تو اس نے صرف اتنا کہا : ” اللہ و رسولہ علم “ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ تب مجھ سے ضبط نہ ہوسکا اور بےاختیار آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔
وہاں سے واپس ہوا تو راستہ میں شام کا ایک نبطی مل گیا وہ لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ کوئی ہے جو کعب بن مالک ؓ تک پہنچا دے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تو اس نے بادشاہ غسان کا ایک خط نکال کر میرے حوالے کیا۔ اس میں لکھا تھا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے تمہارے آقا نے تم پر سختی کی ہے۔ تم ہمارے پاس چلے آؤ ہم تمہاری قدر و منزلت کریں گے۔ خط پڑھ کر میں نے کہا یہ ایک اور نئی مصیبت آئی گویا پچھلی بلائیں کافی نہ تھیں۔ پھر جب اس حالت میں چالیس رائیں گزر گئیں تو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک آدمی آیا اور کہا ، حکم ہوا کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ ، میں نے کہا طلاق دے دوں ؟ کہا نہیں صرف علیحدگی کا حکم ہے اور بلال اور مرارہ کو بھی ایسا ہی حکم ہوا ہے۔ اس پر میں نے اپنی بیوی کو اس کے میکے بھجوا دیا۔ جب دس دن اور گزر گئے تو پچاسویں رات پر صبح آئی۔ میں اپنے مکان کی چھت پر نماز پڑھ کر بیٹھا ہوا تھا اور ٹھیک ٹھیک وہی حالت تھی جس کی تصویر اللہ کے کلام نے کھینچ دی ہے ، زندی سے تنگ آگیا تھا اور اللہ کی زمین میں اپنی ساری پہنائیوں پر میرے لئے تنگ ہوگئی تھی۔ اچانک کیا سنتا ہوں کہ کوئی آدمی کوہ سلع پر سے پکار رہا ہے : ” کعب من مالک بشارت ہو ! تمہاری توبہ قبول ہوگئی۔ “
چہ مبارک سحرے بود وچہ فرخندہ شبے ٭ آں شب قدر کہ ایں تازہ براتم دادند !
اب لوگ جوق در جوق مجھے مبارک باد دینے کے لئے دوڑے۔ ایک آدمی گھوڑا دوڑاتے ہوئے آیا لیکن بشارت کی آواز اس سے بھی زیادہ تیز ثابت ہوئی تھی۔ میں مسجد میں حاضر ہوا تو حضور نبی کریم ﷺ لوگوں کے حلقہ میں بیٹھے تھے۔ آپ ﷺ کا قاعدہ تھا کہ جب خوش ہوتے تو چہرہ اقدس چمکنے لگتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔ ہم لوگوں کو یہ بات معلوم تھی اس لئے ہمیشہ آپ ﷺ کے چہرہ پر نگاہ رکھتے تھے ۔ چناچہ میں نے دیکھا تو اس وقت بھی چہرہ مبارک چمک رہا تھا۔ فرمایا کعب ! تجھے آج اس دن کے ورود کی بشارت دیتا ہوں جو تیری زندگی کا سب سے بہتر دن ہے۔ میں نے عرض کی یہ بات آپ ﷺ کی جانب سے ہوئی یا اللہ کی وحی سے ؟ فرمایا اللہ کی وحی سے۔ (صحیحین)
اس تفصیل کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ یہ معاملہ بہت اہم تھا اور اس میں ہم مسلمانوں کے لئے بڑی ہی عبرت و موغطت ہے۔ امام احمد بن جنبل ؓ کی نسبت منقول ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت انہیں اس قدر نہیں رلاتی تھی جس قدر یہ آیت اور کعب من مالک ؓ کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ :
1۔ خدمت حق میں تساہل ایک مومن کے لئے کیسا سخت جرم ہے کہ ایسے مخلص اور مقبول صحابی ؓ بھی اس درجہ سرزنش کے مستحق ہوئے اور تمام مسلمانوں کو ان سے قطع علائق کا حکم دیا گیا۔
2۔ مسلمانوں کی اطاعت و امتثال کا کیا حال تھا کہ جونہی انقطاع علائق کا حکم ہوا تمام شہر نے بیک وقت رخ پھیر کیا۔ چوری چھپے بھی کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی حتیٰ کہ ان کے محبوب سے محبوب عزیزوں کو بھی یہ خیال نہ گزرا کہ ایک لمحہ کے لئے اس پر عمل نہ کریں یا کم از کم تعمیل میں نرمی و تساہل سے کام لیں۔ ابو قتادہ ؓ کا جواب خود کعب بن مالک ؓ کی زبان سے سن چکے ہیں جب انہوں نے کہا کہ تم تو اس سے بیخبر نہیں ہو سکتے کہ میں سچا مسلمان ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو دوست رکھتا ہوں۔ پھر مجھ سے رخ کیوں پھیرلیا ؟ تو ابو قتادہ ؓ نے صرف یہی کہا کہ : ” اللہ و رسولہ اعلم “ ان تینوں لفظوں میں اس عہد کے مسلمانوں کی ذہنیت کی پوری تصویر اتر آتی ہے یعنی مجھے معلوم تو سب کچھ ہے ، جانتا ہوں کہ تم پکے اور سچے مسلمان ہو لیکن اپنے جاننے کا کیا کروں ؟ جاننا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے اور اس کا حکم یہی ہے کہ تم سے کوئی واسطہ نہ رکھوں۔
اس اطاعت کے لئے نہ تو کوئی مادی قوت کام میں لائی گئی تھی ، نہ عمال حکومت کا ڈر تھا ، نہ قانون و عدالت کا ، صرف ایک شخص کے لبوں نے حرکت کی تھی اور اتنی بات سب کو معلوم ہوگئی تھی کہ ان کی مرضی یہی ہے۔ بس اتنی بات کا معلوم ہونا ہی اس لئے کافی تھا کہ سب کے دل مجسم اطاعت و امتثال بن جائیں۔
3۔ پھر یہ بھی دیکھو کہ مسلمانوں کی باہمی اخوت و محبت کا کیا حال تھا ؟ اس سختی کے ساتھ حکم کی تعمیل تو سب نے کی لیکن ساتھ ہی ان کی مصیبت کے غم سے کوئی دل خالی بھی نہ تھا۔ سب کے دلوں کو لگی تھی کہ ان کی توبہ قبول ہوجائے پھر جونہی قبولیت کا اعلان ہوا ایک پر ایک دوڑنے لگا کہ ان سختی کشان عشق کو سب سے پہلے میری زبانی مثردہ قبولیت ملے۔ کوہ سلع پر سے جس نے پکار کر سب سے پہلے بشارتے سنائی تھی حضرت کعب ؓ نے گو اس کا نام نہیں لیا لیکن وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے۔
Ayah 9:119مسلمانوں کو سچائی کا ساتھ دینے کی تلقین الٰہی :
154: غور کرو کہ پیچھے ان تین پاک بازوں کا ذکر کیا گیا تھا جنہوں نے سچ کے ساتھ جھوٹ ملانے سے پرہیز کیا اگرچہ وہ ان کے لئے ایک آزمائش کا باعث ہوا تاہم منافقت کے داغ سے وہ بالکل صاف و پاک نکلے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھوٹ بولنے کی گستاخی سے وہ بچ گئے اور اللہ نے ان کے اس عمل کو کتنی قبولیت بخشی اور اس کا ابر رحمت کس طرح ان پر برسا اور ان کے کشف ایمان کو شاداب کرگیا۔ اب زیر نظر آیت میں عام مسلمانوں کو انہی کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کی جارہی ہے کیونکہ حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان سے خطا ہوجائے تو اعتراف جرم اور اظہار ندامت کے بعد عفو و درگزر کی التجا کرے۔ ہمارے پیارے رسول ﷺ کا ارشاد گرامی بھی اس جگہ گوش ہوش سے سن لو اور یاد رکھو۔ فرمایا : علیکم بالصدق فان الصدق یھدی الی البر وان البر یھدی الی الجنۃ چما یزال رجل یصدق ویتحری الصدق حتی یکتب عنداللہ صدیق۔ ” ہمیشہ سچ بولا کرو کہ سچ بولنا نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان جب سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی پوری کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور سے اس کو صدیق کا لقب عطا فرما دیا جاتا ہے۔ “ ہمارے مفسرین نے اس آیت سے اجماع امت کے حجت شرعی ہونے پر دلیل پکڑی ہے اور اسی سے عارفین نے شیوخ کامل اور ائمہ مجتہدین کی اقتداء اور صحبت کا اشارہ سمجھا ہے اور اسی سے محبت صالحین کی ترغیب اخذ کی ہے اور ہر ایک نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق اس کو تیتر کی زبان بنانے کی کوشش کی ہے لیکن اس آیت سے جو اصل سبق حاصل ہوتا ہے وہ اوپر ہم نے بیان کردیا کہ ” سانچ کو آنچ نہیں “ اور یہ کہ سچ کڑوا ضرور ہے لیکن نجات بھی اسی میں ہے۔
Ayah 9:120سورة التوبہ کا مکمل خلاصہ اس آیت نے پیش کردیا :
155: ایمان والوں کے لئے یہ ہرگز زیبا نہیں کہ وہ تو آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ، موسم کی ناسازیوں کا مقابلہ کرتا ، جہاد کی طرف پیش قدمی کرتا چلا جا رہا ہو۔ یہ حکم قیامت تک ہے مطلب یہ ہے کہ جب بھی خلہفک وقت جہاد عام کا حکم فرمادے تو سب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے جہاد کے لئے نکلیں۔ اگرچہ اصل مخاطب اول اس وقت کے مسلمان ہی ہیں کیونکہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : ” مدینہ کے باشندوں کو اور ان اعرابیوں کو جو مدینہ کے اطرات میں بستے ہیں لائق نہ تھا کہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دیں جیسا کہ اس وقت کے بعض مسلمان کہلانے والوں نے اپنی منافقت کے باعث کیا یا دوسرے لوگو نے جو باوجود سچے مسلمان ہونے کے سستی اور کاہلی سے کام لیتے ہوئے نکلنے میں تساہل سے کام لیا اور پیچھے گئے ۔ “ فرمایا : ” یہ بات بھی ان کے لائق نہ تھی کہ پیغمبر اسلام کی جان کی پروا نہ کر کے اپنی جانوں کی فکر میں پڑجائیں۔ “ آیت کے اس حصہ نے ان لوگوں کے سارے عذروں پر پانی پھیر دیا جو غزوہ تبوک میں نہ نکلے۔ فرمایا انہوں نے جو بھی عذر کئے دراصل ان عذروں کی کوئی حقیقت نہیں تھی بلکہ ان کو اصل فکریہ لاحق تھی کہ رومیوں سے جنگ کرنا آسان نہیں ہے اور وہاں تک جانا بھی نہایت مشکل ہے اور اس وقت جانوں کو بہت خطرہ ہے بلکہ یقیناً ان جانے والوں سے کوئی شخص مشکل ہی بچ کر واپس آئے گا اور حالات کا تقاضا بھی اس وقت نکلنے کا نہیں ان کی ان ساری باتوں کا جواب یہ دیا گیا کہ تم نے اپنی جانوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کی جان سے زیادہ افضل اور زیادہ قیمتی سمجھا کہ وہ اپنے سچے ساتھیوں سمیت نکل کھڑ ہوئے اور تم لوگ مشورے ہی کرتے رہ گئے۔ حالانکہ مسلمانوں کو اگر وہ ایمان کے دعویٰ میں سچے تھے تو ” اللہ کی راہ میں جو مصیبت بھی ان کو پیش آتیوہ ان کے لئے ایک نیک عمل شمار کی جاتی۔ “ جو ان کے لئے اس دنیا میں فائدہ مند ثابت ہوتی اور ان کی آخرت کو سنوارا کر رکھ دیتی اور موت و زندگی کا فیصلہ تو جو ہونا تھا وہ ہوچکا ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص وقت آنے پر موت سے بچ جائے اگر کسی کو اللہ کی راہ میں شہادت نصیب ہوجائے تو اس سے بڑا اعزاز آخر کیا ہے اور اگر ان کی زندگی ابھی باقی ہے تو وہ یقیناً ابھی مر ہی نہیں سکتے۔ کیا میدان جنگ میں جا کر کوئی شخص واپس نہیں آتا ؟ اگر آتے ہیں تو وہ وہی ہیں جن ابھی مرنا نہیں تھا اور جن کو مرنا تھا وہ اگر جنگ میں شریک نہ بھی ہوتے تو بھی ان کے لئے موت لازم تھی۔ ” وہ لوگ سفر میں اگر پیاس برداشت کرتے اور ہر محنت جو وہ اٹھاتے اور ہر مخمصہ جس میں وہ پڑتے۔ “ ان کے درجات اخروی کو بلند کرتا اور وہ دین و دنیا میں کامیاب و کامران ہوتے۔
اچھا اگر وہ شریک نہیں ہوئے تو اب ان کو موت تو نہیں آئے گی ؟ لیکن اگر موت پھر بھی آئے گی تو ان کو معلوم نہیں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے اور اللہ کی راہ میں دکھ اور مصیبت برداشت کرنے والا اس شخص سے ہزار بار بہتر ہے جس کو ایک کانٹا بھی نہیں چبھا فرمایا : ” ان کے لئے ہر وہ قدم جو وہاں چلتا جہاں چلنا کافروں کے لئے غیظ و غضبن کا باعث ہوتا اور ہر وہ چیز جو دشمنوں سے پاتے یہ سب کچھ ان کے لئے نیک عمل ثابت ہوتا۔ “ یہ مقتضائے مقبولیت و محبوبیت ہوتا کیونکہ اموت اضطراریہ بھی مثل اعمال اختیار یہ موجب ثواب قرار دیئے گئے۔ حالانکہ یہ اعمال و کیفیات اضطراری تھ ہیں بھی نہیں۔ جہاد میں چلنا تو بہرحال تمام تر اختیاری تھا ، تھکن جو کچھ حاصل ہوتی وہ اس عمل اختیاری کا ایک لازی نتیجہ تھا۔ فرمایا ” اللہ نیک کرداروں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ “ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ میں کسی تخلف کا کبھی امکان ہی نہیں کیونکہ تخلف وعدہ کمزوری ہے اور اللہ کمزوری سے پاک ہے اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا اپنے وعدہ کو پورا کرنا کمزوری خیال کیا ہے دراصل وہ عقل و فکر کے خود کمزور ہیں اس لئے ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اس لئے وہ طاقت کو کمزوری اور کمزوری کو طاقت خیال کرتے ہیں اور یہ اسی لئے ہے۔ مثل ہے کہ ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔ اس آیت میں گویا اللہ تعالیٰ نے سورة ” التوبہ “ کا پورا خلاصہ بیان کردیا ہے بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا بھی ہو اور پھر سمجھانے والا بھی۔
Ayah 9:121ان کا ہر خرچ کرنا اور جہاد کے لئے گھر سے نکلنا اللہ کے لئے لکھا جاتا ہے :
156: گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے تاکہ کمزور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ فرمایا وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا زیادہ اور وہ اس راہ میں جو چوٹ بھی کھاتے ہیں اور ان کا جو چر کا بھی دشمن کو لگتا ہے ہر ایک کے بدلے میں ان کا عمل صالح لکھ لیا جاتا ہے اور جزاء کے دن ہر ایک اپنے عمل کا بدلہ بہتر سے بہتر پائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کے ساتھت اچھا سلوک کیا جائے گا اور اسی طرح ان کو بدلہ دیا جائے گا کہ اس وقت ان کو وہ دکھ بھول جائے گا اور یہ حقیقت ہے کہ تنگی کے بعد آسانی آنے والی تنگی اور سختی کے دنوں کو بھلا دیتی ہے لیکن آسانیوں اور آسائشیں اچانک جب سختیوں اور دکھوں میں بدل جائیں تو وہ سختیاں اور دو نہایت ہی تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں اس لئے کہ ان کو گزشتہ آسانیاں اور آسائشیں مزید بڑھا دیتی ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہئے کہ ہر آنے والی گھڑی جانے والی ہے بہتر اور آسان ہو اور یہی بات اس جگہ تفہیم کرائی گئی ہے۔
Ayah 9:122آئندہ کے لئے مسلمانوں کو ہدایت کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں :
157: غزوہ تبوک کی ضرورت خاص تھی اس کے بعد آئندہ کے لئے مسلمانوں کو مستقل ہدایت دی جارہی ہے کہ سارے مسلمان شہر خالی کر کے ہرگز یکبارگی نہ نکل کھڑے ہوا کریں بلکہ ہر ایک گروہ اور خاندان میں سے کچھ لوگ نکلیں اور کچھ لوگ شہر میں رہ جائیں جو پچھلے انتظامات کو چلاتے رہیں اور ایک آدمی اپنی ذنہ داری کا احساس کرے مطلب یہ ہے کہ ایک حصہ جہاد میں مصروف ہو اور دوسرا حصہ عام ملکی اور شہری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شہر اور ملک ہی میں رہے اس طرح گویا ہدایت دی گئی کہ آئندہ ملٹری ڈیپارٹمنٹ اور سول ڈیپارٹمنٹ کو علیحدہ علیحدہ کردیا جائے اور انہی لوگوں میں سے کچھ لوگ تعلیم وتعلیم کے لئے الگ کردیئے جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ بدوی قبائل میں نسبتاً احخام دین سے بیخبر ی زیادہ پائی جاتی ہے کیونکہ یہ لوگ تعلیم و تربیت سے محروم رہتے ہیں اس لئے اب تعلیم کا ایک عام نظام قائم کرنا چاہئے اور ساری باتوں کا خیال ضروری ہے ایسا بھی نہیں ہو سکتا کہ تمام مسلمان گھر بار چھوڑ کر تحصیل علم کے لئے نکل کھڑے ہوں پس ایسا کرنا چاہئے کہ ہر ایک بستی اور ہر گروہ سے کچھ لوگ اس کام کے لئے بھی وقف ہوجائیں وہ تعلیم و تربیت کے مرکز میں رہ کر دین میں بصیرت پیدا کریں اور پھر اپنی آبادیوں میں جا کر دوسروں کو تعلیم دیں۔ قرآن کریم کے یہ ارشادات ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں اول روز ہی سرے تحصیل علم کا عام ولولہ پیدا کردیا تھا حتیٰ کہ انہوں نے ایک صدی کے اندر ہی اندر ایک ایسا عالمگیر نظام قائم کردیا جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ اس وقت دنیا کے اندر جتنی ترقیاں ہوچکی ہیں ان کے پیچھے کسی نہ کسی مسلم کا ہاتھ کام کرتا نظر آئے گا ، لیکن افسوس کہ آج ہم نے اپنے آباء کے وہ کارہائے نمایاں جو انہوں نے سرانجام دیئے تھے ان کو یکسر بھول چکے ہیں اور غیروں پر ہماری نظریں جمی ہوئی ہیں جو قوم مسلم کے مرہون منت اس عروج تک پہنچے ہیں۔ اس چیز کا اس وقت جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن ایسی باتوں کا یہ موقع نہیں اور ہمارے ان اشاروں پر بھی فتویٰ کفر ہے۔
اس جگہ بات دراصل ان مجاہدین کی تھی جو باہر دور دراز جگہوں پر جنگ میں مصروف رہتے تھے فرمایا وہ لوگ بھی جب جہاد سے واپس آئیں تو ان کی تعلیم و تربیت کا بندو بست ہونا نہایت ضروری ہے ” تاکہ وہ محتاط رہیں “ ہر بدی اور بدکاری سے اور اس طرح ساری قوم میں نیک کرداری کا دور دورہ رہے اس ایک ہی جملہ نے کتنا کام کردیا غور کرو کہ آض مہذب و شائستہ قوموں کی فوجیں ہر قسم کے اخلاق کی جن ناگفتہ بہ پستیوں تک پہنچ چکی ہیں اس کا حال کسی سے مخفی ہے ؟ امت اسلامی کو اس قسم کے تمام خطرات سے مستقل نجات میں رکھنا دین کے مہمات امور میں سے ہے۔ قرآن کریم کی مستقل ہدایت ہے کہ مجاہدین اور غیر مجاہدین کو برابر علم دین و دنیا سے بہرہ مند رکھنا نہایت ضروری ہے اور ضرورت کے مطابق تفتہ فی الدین ہر انسان کے لئے لازم و فرض قرار دیا گیا ہے اسی طرح بدکرداری سے منع کرنا اور نیک کرداروں کو پھیلانا بھی اہم فرائض اسلامی سے ہے اس میں کوتاہی کا نتیجہ بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے نیز قوم کے دو گروہ گروہ علماء اور گروہ سیاسی راہنما کوتاہی کے لئے پوری قوم کے سامنے بھی جواب دب ہیں اور وہ عنداللہ بھی مجرم ہیں لیکن اس وقت دونوں ہی گروہ اس سے بےنیاز نظر آتے ہیں۔
Ayah 9:123مسلمانوں کو ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہنے اور سامان جنگ سے غافل نہ رہنے کا حکم :
158: مسلمانوں کو خاص ہدایت دی جارہی ہے کہ تم اپنے ارگرد کے کفار سے جنگ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہو اور ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو اس لئے کہ بھی ان کا یصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور وہ کسی وقت بھی قسمت آزمائی کرسکتے ہیں اس لئے تم بھی اپنی جگہ پر مضبوط ، آمادہ جہاد ، مستعد اور کیل کانٹے سے پوری طرح لیس رہو۔ اس لئے دشمنوں کی ہمت ہی نہ پڑے کہ وہ تمہاری طرف نظر بد سے دیکھیں گویا موجودہ جنگی اصطلاح میں ملت اسلامیہ کو ایک مستقل لام بندی کی حالت میں رہنا چاہئے۔ غِلْظَةً 1ؕ کے معنی اس جگہ شدت اور مضبوطی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دشمن کا رعب و دبدبہ تم پر نہ پڑے بلکہ الٹا تمہارا رعب و دبدبہ ان پر رہے۔ ” کفار کے ان لوگوں سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں۔ “ یہ حکم جہاد میں خاص ترتیب کامل رہا ہے اور اس کے مصالح بالکل ظاہر ہیں کیونکہ قریب کے کافروں و سے کسی وقت بھی غفلت نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کے نتایج نہایت برے نکل سکتے ہیں۔ سیرت نبوی ﷺ کا مطالعہ کرنے والے اس بات کو سمجھتے ہیں نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے خلفائے راشدین نے بہ اختیار خود جتنے بھی جہاد کئے ان میں یہی ترتیب ملحوظ رکھی ہاں ! اس میں یہ بحث اپنی جگہ ایک اہمیت رکھتی ہے کہ اس ترتیب سے مراد ضرو ملک کے لحاظ سے ہے یا شدت کفر کے لحاظ سے کہ مشرکین کے ہوتے ہوئے اہل کتاب سے جہاد نہ کریں یا قریب کو چھوڑ کر بعید پر تاخت نہ کریں بجز اس کے کوئی مصلحت خاص اس کی مقتضی ہو۔
اس وقت چونکہ غزوہ تبوک ہوچکا تھا اور یہ بھی معلوم ہے کہ غزوہ تبوک میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی مسلمان بغیر لڑے واپس چلے آئے تھے اس لئے کہ مخالفین آمادہ پیکار نہ ہوئے تھے اندریں صورت اس آیت کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو بطور پیش گوئی مطلع کیا جا رہا ہے کہ گو تبوک میں رومیوں سے مقابلہ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے حملہ کا ارادہ ملتوی کردیا تھا لیکن وہ لوگ پھر تیاریاں کرنے والے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان دفاع کے لئے پوری طرح تیار رہیں لیکن اس سورت میں الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ کا مطلب یہ ہوگا کہ جو دشمن تمہاری سرحد سے متصل ہیں یعنی شام کے رومی اور عرب کے عیسائی قبائل۔ چناچہ چند سالوں کے بعد ایسا ہی ہوا اور یرموک کا معرکہ پیش آیا اس طرح یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ آیت گویا جنگ یرموک کی پیش گوئی کر رہی ہے اور چونکہ رومیوں کا مقابلہ اسی عہد کی سب سے زیادہ طاقت ور اور متمدن شہنشاہیت کا مقابلہ تھا اس لئے فرمایا کہ اس قوت سے لڑو کہ وہ تمہاری سختی محسوس کریں۔ پھر مسلمانوں نے اس حکم کی جس طرح تعمیل کی اس کا اندازہ صرف اس بات سے کیا جاسکتا ہے ہرقل کی فوج بالاتفاق دو لاکھ سے زیادہ تھی اور مسلمان زیادہ سے زیادہ چوبیس ہزار تھے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیشہ کے لئے رومی حکومت کا شام سے خاتمہ ہوگیا۔ آیت کا حکم عام ہے جس میں اتنی وسعت موجود ہے کہ یہ جو بیان ہوا ان میں سے کوئی یا کسی اور واقعہ کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے حکم اپنی جگہ قائم و پختہ ہے اور تا قیامت ہے موجودہ حالات یا آنے والے حالات کی بھی اس سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پھر جو بھی اور جس وقت بھی اس میں سستی و کوتاہی کریں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔
” اور یاد رکھو اللہ ان کا ساتھی ہے جو متقی ہیں۔ “ کے اس جگہ دو پہلو ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہو یعنی تم ان سے جنگ کرنے میں کوئی کمزوری و پست ہمتی نہ دکھاؤ اللہ کی معیت و نصرت اس کے متقی بندوں ہی کو حاصل ہوتی ہے اگر تم تقویٰ پر قائم رہے تو فتح و نصرت تمہاری ہی ہے تمہارے مخالف یقیناً ذلیل و خوار ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ مسلمان متنبہ ہوں کہ کفار سے جنگ اور ان کے معاملے میں شدت اختیار کرنے کا جو حکم دیا جا رہا ہے تو اس میں بھی تم اللہ کی مقررہ کردہ حدود وقیود کی پوری پابندی کرنا کسی مرحلہ میں بھی حدود الٰہی سے تج اور نہ کرنا اللہ صرف اپنے متقی بندوں ہی کا ساتھی ہے۔
زیر نظر آیت کے احکامات پر ایک بار پھر نظر ڈال لو اور پھر ایسے احکامات پر غور کرو جو قرآن کریم میں جگہ جگہ موجود ہیں کہ مومن کی شان کیا ہے ؟ اور آج وہ کیا کر رہا ہے ؟ یہاں بھی بتایا گیا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اسلامی بھائیوں کے ساتھ بڑا نرم خو اور حلما الطبع ہوتا ہے لیکن اسلام کے دشمنوں کے سامنے وہ بپھرا ہوا شری ہے جس کی گرج سے سینوں میں دل پانی پانی ہوجاتے ہیں اور اس بات کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا کہ اشداء علی الکفر رحماء بینھم ؟ ؟۔
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم ٭ دریاؤں کے دل جس سے دل جائیں وہ طوفان
لیکن افسوس کہ آج معاملہ بالکل اس کے برعکس نظر آتا ہے مسلمان آپس میں برسر پیکار نظر آتے ہیں اندرون ملک بھی اور بیرون ممالک بھی اور دوسری کے لئے یہود و نصاریٰ ہی کو اولیت دی جاتی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم میں اس سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے اور آج ہم قرآن کریم کو چھاپ کر مفت تقسیم کرنے اور خوب سے خوب تر بنانے میں مصروف ہیں اور اس پر عمل کرنے کی ہم کو فرصت نہیں۔
Ayah 9:124منافقین کا رویہ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام ﷺ سے :
159: ” اونٹ رے اونٹ تیر کونسی کل سیدھی ؟ “ منافق انسان کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے کہ وہ وعظ سنتا ہے ، لوگوں کا عمل دیکھتا ہے۔ ہاں جی ! جاں جی ! الا پتا ہے لیکن جب بات کرتا ہے تو پھر وہی کا وہی ہوتا ہے جو پہلے تھا اس پر ایک ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا اسی حالت کا اس جگہ بیان ہے۔ فرمایا منافقین مجلس نبوی ﷺ میں مجبوراً جاتے تھے اور مقصود حاضری سے صرف دکھاوا ہوتا تھا وہاں بیٹھ کر وہ سر ہلاتے اور تصدیق کرتے نظر آتے تھے اور ان کا اصل مقصد مسلمانوں کو مطمئن رکھنا ہوتا تھا وہاں ان کو روز بروز قرآن کریم کے نئے نئے مطالبات سے سابقہ پیش آتا اور یہ نئے نئے احکام ان پر بہت شاق گزرتے پھر جب ان کے خلاف کھل کر کہنے کی ان کو جرات نہ ہوتی تو طنزیہ فقرے چست کرتے اور دل کی بھڑاس نکالتے۔ وہ دوسروں کو مخاطب ہوتے تو کہتے کہ بھیا بتاؤ اس نئے حکم سے کن کن لوگوں کا ایمان تازہ ہوا ہے۔ اس طنز و تعریض سے ان کا مقصود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی تحقیر اور مخلق مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ وہ جس مقصد کے لئے یہ بات کرتے اس کا ماحصل تو یہ تھا کہ کوئی بول کر کہہ دے کہ ” کسی کا نہیں۔ “ لیکن اس کے برعکس مومنوں کی طرف سے جو جواب ان کو ملتا وہ یہ تھا کہ : ” ہمارا ایمان تازہ ہوا۔ “
ایمان انہی کا تازہ ہوا جو احکام قرآنی سن کر خوش ہوئے اور عمل کے لئے تیار :
160: بلاشبہ سچے مسلمانوں کی طرف سے ان منافقین کو جو جواب دیا جاتا وہ اس قسم کا ہوتا کہ اے مردہ دلو ! تمہیں اس حیات بخش پیام کی کیا قدر و قیمت ؟ اے کور چشمو ! تمہیں اس نور حق کی تابانیوں کی کیا خبر ؟ اس کی تاثیر پوچھنی ہو تو اہل ایمان سے پوچھئے جن کی روح زندہ ہے اور چشم بصیرت بینا ہے وہ تمہیں بتائیں گے کہ اس ابر رحمت نے ان کی کشت ایمان کو کس طرح شاداب کردیا ہے ان کے سرآج خوشی سے جھوم گئے ہیں اور دل مسرت سے لبریز ہیں اور ان کے چہرے فرط مسرت سے چمک رہے ہیں اور جب وہ سنتے ہیں کہ قرآن کریم میں آج یہ حکم نازل ہوا تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان پر رحمت الٰہی کی ایک اور گھٹا برسی