9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور خرچ کرنے کی قبولیت سے وہ محروم نہیں کیے گئے مگر اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے انکار کیا وہ نماز کے لیے نہیں آتے مگر کاہلی کے ساتھ اور مال خرچ نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ خرچ کرنے کی ناگواری ان کے دلوں میں بسی ہوئی ہے

جذبہ اخلاص کے ساتھ اس کے دین کی خدمت کرتے ہیں۔ اس قبولیت سے وہ خود محروم ہوئے ہیں محروم کئے نہیں گئے : 76: وضاحت فرمادی کہ خرچ کرنے کی قبولیت سے وہ محروم کئے نہیں گئے بلکہ خود اپنے اعمال کے باعث محروم ہوئے ہیں اور کسی چیز سے محروم ہونا اور محروم کیا جانا میں بہت بڑا فرق ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان کے جو تقاضے ہیں ان میں سے یہ کسی تقاضے کو بھی پورا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ اگر نمازوں میں آتے ہیں تو مارے باندھے محض دکھاوے کے لئے آتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر نمازوں میں شامل نہ ہوں تو مسلمانوں کے اندر اپنے آپ کو شامل رکھنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے اس طرح اور وہ اپنے دینی کاموں میں خرچ کرتے ہیں تو خدمت دین کے لئے نہیں بلکہ بادل نخواستہ محض اس لئے کہ مسلمانوں کے اندر شمار کئے جاتے رہیں اور اگر طوعاً بھی خرچ کرتے ہیں تو اس لئے کہ ان کی مالداری اور فیاضی کا مظاہرہ ہو اور یہ امر ملحوظ رہے کہ جس طرح نمائش کی نماز مجبورانمہ دوسروں کو دکھانے کے لئے ہوتی ہے اس طرح نمائش کا انفاق بھی ہوتا ہے۔ ہم نے سورة النساء 4 کی آیت 143 میں یہ پوری تفصیل لکھ دی ہے۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

ان کے پاس مال و دولت ہے اور صاحب اولاد ہیں (یہ بات) تجھے متعجب نہ کرے یہ تو اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ نے مال و اولاد ہی کی راہ سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دینا چاہا ہے اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں گی کہ ایمان سے محروم ہوں گے

ان لوگوں کا مال و دولت تم کو تعجب میں نہ ڈال دے وہ تو ان کے لئے باعث عذاب ہے : 77: اللہ تعالیٰ کے دین کی پیہم مخالفت کے باوجود ان کے پاس دولت کی فراوانی تھی اور اولاد کی کثرت کی وجہ سے گھروں میں بڑی چہل پہل رہتی تھی ممکن تھا کہ کوئی سادہ لوح ان کی ظاہری آن بان کو ان کے راہ راست پر ہونے کی نشانی خیال کرے اس لئے واضح فرمادئیں کہ یہ دنیوی ٹھاٹھ باٹھ ان کی بربادی کا باعث بنے گی کیونکہ وہ اس کی محبت میں یوں مدہوش رہیں گے کہ عمر بھر انہیں حق قبول کرنے کی فرصت نہ ملے گی اور اس کفر پر ان کا دم نکلے گا کیا ان سے بھی بڑھ کر کوئی بدنصیب ہو سکتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ہر وہ نعمت جو یاد الٰہی سے غافل کردے اور اس کے محبوب کی محبت کے ولولے کو سرد کردے تو یہ فی الحقیقت بہت بڑا عذاب ہے اور پھر وہ تکلیف جو کسی غافل کو ہوشیار کردے اور یاد الٰہی کی طرف راغب کردے دراصل بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کو کہتے ہیں کہ گرا پر نہ گرا اگر نہ گرتا تو گرجاتا۔ لڑا پر نہ لڑا اگر نہ لڑتا تو لڑ جاتا۔
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور اللہ کی قسمیں کھا کر وہ تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ ایک گروہ ہے ڈرا سہما ہوا

وہ تم میں سے ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے مطلق نہیں : 78: سچ ہے کہ جن لوگوں کے پاس کردار کی حقیقت نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو معتبر ثابت کرنے کے لئے قسمیں کھاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حقیقت میں ان کی یہ قسمیں ہمیشہ غلط ہی ہوتی ہیں کیونکہ وہ جھوٹ کو چھپانے کے لئے قسموں کا سہارا لیتے ہیں اور اس بات کو نہیں سمجھتے کہ جھوٹ کبھی قسمیں کھانے سے سچ نہیں ہوجاتا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ایمان اور یقین ہی وہ قوت ہے جو شرف انسانی کی نگہبان ہے اور اسے ایک مسلک پر ثابت قدم رکھتی ہے اور جہاں یہ مفقود ہو وہاں انسان مصلحت اندیشی کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ جاتا ہے اس لئے جدھر ہوا کا رخ دیکھتا ہے ادھر ہو لیتا ہے۔ جس میں دقتی سلامتی نظر آتی ہے وہی چولا بدل لیا۔ ایسی حالت میں وہ انسان مستحکم چٹان نہیں رہتا جو حوادثات کے طوفان سے ٹکڑا کر بھی اپنی جگہ سے نہیں سرکتی بلکہ وہ اسے بےبس تنکے کی طرح ہو کر رہ جاتا ہے جسے پانی کی تند موجیں جدھر چاہتی ہیں بہا کرلے جاتی ہیں۔ منافقین کی بھی یہی حالت تھی دلوں میں تو اسلام کی دشمنی تھی لیکن اسلامی حکومت کے علاوہ ان کے لئے کوئی اور پناہ گاہ بھی نہ تھی اس لئے وہ کھل کر اسلام کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے تھے لہٰذا وہ ایک بےضمیر آدمی کی طرح قسمیں اٹھا اٹھا کر اپنے آپ کو ملت اسلامی کا ایک فرد ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب ان کا مکر و فریب ہے یاد رکھو ان کا تم سے کوئی واسطہ نہیں یہ محض مجبوری کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں انہیں کوئی سر چھپانے کی جگہ مل جائے تو فوراً تم سے سارے تعلقات توڑ دیں اور وہاں چلے جائیں۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر انہیں پناہ کی کوئی جگہ مل جائے یا کوئی غار یا کوئی چھپ بیٹھنے کا سوراخ تو تم دیکھو کہ یہ فوراً اس کا رخ کریں اور حالت یہ ہو کہ گویا رسّی کو توڑ کر بھاگے جا رہے ہیں

اگر ان کے پاس کوئی ٹھکانا اور ہوتا تو تمہاری کبھی پروا نہ کرتے : 79: یہ اوپر کے مضمون کی مزید وضاحت فرمادی مطلب اس کا یہ ہے کہ ان کو آج اگر کوئی جائے پناہ ، کوئی غار یعنی پوشیدہ ہوجانے کی جگہ مل جائے جہاں اپنے مفادات کو یہ لوگ محفوظ کرسکیں تو ایک دن بھی یہ تمہارے ساتھ رہنا پسند نہ کریں۔ تمہارے ساتھ رہنا اور اس کا دعویٰ کرنا تو ان کی مجبوری ہے اگر ان کی مجبوری کا کوئی حل موجود ہو تو یہ رسی تڑا کر بھاگ نکلیں ، بےلگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ کر یہاں سے نکل جائیں تم ان کو دیکھتے ہی دیکھتے رہ جاتے۔ خیریت رہی کہ ان کے پاس کوئی اور ٹھکانہ نہ ہے اس لئے اس خوف اور بزدلی نے ان کو تمہارے ساتھ رہنے کا عزم دھراتے رہنے پر مجبور کردیا ہے اور وہ اپنی مجبوری کے ہاتھوں بندھے بیٹھے ہیں۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں کہ مال زکوٰۃ بانٹنے میں تجھ پر عیب لگاتے ہیں پھر حالت ان کی یہ ہے کہ اگر انہیں اس میں سے دیا جائے تو خوش ہوجائیں نہ دیا جائے تو بس اچانک بگڑ بیٹھیں

ان میں کچھ ایسے ہیں کہ مال زکوٰۃ کی غلط تقسیم کا آپ ﷺ پر عیب لگاتے ہیں : 80: مال دار منافقین کا معاملہ تو وہ تھا جو پچھلی آیت میں گزر چکا اب یہ ان منافقین کا حال ہے جو کمزور قسم کے تھے یعنی جن کے ہاں مالی ریل پیل نہیں تھی ان کو صرف اس حالت ہی نے مسلمانوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا ان کا حال یہ تھا کہ اگر ان کو مال زکوٰۃ اور صدقات کی دوسری مددوں میں سے خوب مال مل جاتا تو خوش ہوتے اور ہاں میں ہاں ملاتے رہتے اور اگر کسی وجہ سے جتنا مال مل جانے کی ان کو امید ہوتی اتنا نہ مل سکتا تو روٹھ جاتے اور دوسرے مسلمانوں کے علاوہ خود نبی کریم ﷺ کی ذات پر بھی الزام تھوپ دیتے اور عیب چینی شروع کردیتے کہ دوسروں کو تو فیاضی سے دیا جا رہا ہے لیکن ان کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس کی کئی ایک شکلیں ہو سکتی تھیں مثلاً ایک سال ان کو ایک خطیر رقم مل گئ اور آنے والے سال میں اتنی رقم نہ ملی تو انہوں نے پچھلے سال ملنے والی رقم کو اپنا حق سمجھ لیا اور الزام کی ایک شکل پیدا کرلی۔ اس طرح کسی جنگ میں سے مال غنیمت آیا تو اس کی تقسیم میں سے ان کو زیادہ مل جانے کی امید ہوئی اور اگر ان کی امید کے مطابق یا اس سے زیادہ مل جاتا تو خوش ہوجاتے لیکن اگر ان کی اپنی تجویذ شدہ رقم سے کم ملتا تو کوئی نہ کوئی الزام دھر دیتے اور انہوں نے کبھی یہ خیال نہ کیا کہ ادھر تقسیم کرنے والے اللہ کے رسول ﷺ ہیں جن کی کوئی حرکت بھی اپنی ذاتی خواہش اور مرضی سے نہیں ہوتی بلکہ وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ عین مرضی الٰہی کے مطابق کرتے ہیں پھر ان کو کیا حق ہے کہ وہ اس طرح کی باتیں بنائیں۔ حالانکہ اگر وہ حسن ظن سے کام لیتے تو یہ ان کے حق میں اچھا ہوتا لیکن آخر وہ حسن ظن سے کام لیتے کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا تعلق تو ایمانیات سے ہے اور ایمان کی دولت سے تو وہ پہلے ہی محروم تھے وہ تو اسلام کے لباس میں محض دفعہ الوقتی کے لئے ملبوس تھے۔ ان کے پاس ایمان کی دولت تھی کہاں ؟ ان کا مقصد تو محض حاصل کرنا تھا اوہ ان کو مل جاتا تو خوش ہوجاتے اور اگر نہ ملتا یا توقع کے مطابق نہ ملتا بلکہ اس سے کم ملتا تو آپ ﷺ کی ذات اقدس پر بھی زبان دراز کرنے سے باز نہ آتے اور زبان طعن دراز کرنے لگتے۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر ایسا ہوتا کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دے دیا اس پر راضی ہوجائے اور کہتے ہمارے لیے اللہ بس کرتا ہے ، اللہ اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائے گا اور اس کا رسول بھی ، ہمارے لیے تو بس اللہ ہی غایت و مقصود ہے

جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اگر اس پر راضی ہوجاتے تو یہ بات ان کے حق میں مفید ہوتی : 81: زیر نظر آیت میں لفظ لَوْ کا جواب محذوف ہے اور یہ عربی زبان میں عام ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے کہ : وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا ۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا اگر وہ اس پر خوش ہوجاتے تو یہ بات ان کے حق میں اچھی ہوتی اور وقت آنے پر ان کو مزید بھی ملتا لیکن وہی بات کہ وہ ایسا اس وقت کرتے جب ایمان کی دولت بھی ان کو نصیب ہوتی وہ تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہوئے تھے اور ان کا مطلب بھی فقط وہ انعام حاصل کرنا تھا جو شہیدوں کے لئے رکھا گیا ہے۔ جب انکو وہ نہ ملا تو ہو جز بز ہوگئے اور ایسے لوگوں کی اس وقت بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جتنی سیاست ہے وہ سارے کی ساری انہی خطوط پر چل رہی ہے جس پارٹی سے کسی کی غرض پوری ہوتی ہے وہ اس کی پارٹی ہے اور وہ جو کچھ کرے وہ من حیث الکل جائز اور درست ہے اور اگر اس کی اپنی غرض اس سے پوری نہیں ہوتی تو وہ پارٹی سراسر ظالم اور ناانصاف ہے کیوں ؟ محض اس لئے کہ اس کے نزدیک اس کی غرض کا پورا ہونا عین انصاف اور اس کی غرض کا پورا نہ ہونا عین ظلم ہے۔ آپ سیاسی پارٹیوں کا تجزیہ کریں تو یہی کچھ پائیں گے اور اگر مذہبی گروہ بندیوں کا تجزیہ کریں تو یہی کچھ اس سے حاصل ہوگا۔ اس منافقت کے کان تو ہم مدت سے کاٹ چکے ہیں جس منافقت کا ذکر قرآن کریم نے جگہ جگہ کیا ہے فرق صرف یہ ہے کہ ان منافقوں کا ذکر ہماری تاریخ می ، تفاسیر میں اور اسلامی لٹریچر میں آچکا ہے لہٰذا ان کا نام لینا تو قرآن کریم کی تفسیر ہوگی اور اس دور کے منافقین جو گزشتہ سارے منافقین کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں چونکہ ان کا نام کسی تاریخ کی کتاب اور کسی تفسیر میں دستیاب نہیں لہٰذا ان کی ترجمانی کے لئے ہمارے علماء کرام یہ فتویٰ صادر کریں گے کہ ایسی تفسیر بالرائے ہے اور تفسیر کرنے والے جہنمی اور اس طرح کا فتویٰ صادر فرما کرا دراصل وہ اپنا حق ان سے وصول کرنا چاہتے ہیں جن پر یہ فتویٰ چسپاں ہوتا تھا تاکہ ان کا نام اسلام کی فہرست میں صرف موجود ہی نہیں بلکہ سرفہرست موجود رہے اور یہی کچھ ہو رہا ہے۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقہ کا مال تو اور کسی کے لیے نہیں ہے ، صرف فقیروں کے لیے ہے اور مسکینوں کے لیے اور ان کے لیے جو اس کی وصولی کے کام پر مقرر کیے جائیں اور یہ کہ ان کے دلوں میں الفت پیدا کرنا ہے اور یہ کہ ان کی گردنیں جکڑی ہیں ، نیز قرضداروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں مسافروں کے لیے یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی بات ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

زکوٰۃ و صدقات کے مستحقین کی فہرست جو قرآن کریم نے مقرر فرمادی : 82: زیر نظر آیت نمبر ساٹھ (60) مصارف زکوٰۃ کے باب میں اصل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بعض مہمات واضح ہوجائیں۔ 1۔ ہم نے ترجمہ میں ” فقر “ اور ” منافقین “ کے لئے دوسرے الفاظ اختیار نہیں کئے کیونکہ عربی میں ” فقر “ اور ” مسکنت “ سے مقصود احتیاج کی دو مختلف حالتیں ہیں اور ضروری ہے کہ ان کی لغوی نوعیت بجنسہ قائم رکھی جائے۔ فقیر اور مسکین دونوں سے مقصود ایسے لوگ ہیں جو محتاج ہوں لیکن فقر عام ہے اور مسکنت کی حالت خاص ہے۔ فقیر اسے کہیں گے جس کے لئے ضروریات زندگی کے لئے کچھ بھی نہیں لیکن مسکین وہ ہے جس کی احتیاج ابھی اس آخری درجہ تک تو نہیں پہنچی مگر پہنچ جائے گی اگر خبر گیری نہ کی جائے مثلاً سوسائٹی کے ایسے افراد جو مختلف اسباب سے مفلس ہوگئے ہیں یا وسائل معیشت کا اہتمام نہیں کرسکتے۔ ان کے جسم پر اجلے کپڑے ابھی باقی ہیں۔ گھر میں تھوڑا بہت سامان بھی نکل آئے گا ممکن ہے دو چار روپے بھی جیب میں موجود ہوں اگر انہیں آج کھانا نہ ملے تو بھوکے نہیں رہیں گے ، کل نہ ملے تو برتن بیچ لیں گے ، پرسوں نہ ملے تو کپڑے فروخت کر ڈالیں گے لیکن پھر اس کے بعد تو کوئی وسیلہ معاش سامنے نہیں دیکھتے۔ فقیر اور مسکین میں اس لحاظ سے بھی فرق ہے کہ فقیر کو سوال کرنے میں عار نہیں ہوتا لیکن مسکین کو اس کی خودداری اور عفت نفسی طلب والحاح کی اجازت نہیں دیتی۔ صحیحین کی ایک حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے مسکین کی یہ تعریف کی ہے کہ : الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفعنم فیتصدق علیہ ، ولا یقوم فیسال الناس ۔ جسے ایسے وسائل میسر نہیں کہ تونگر کردیں جس کا فقر ظاہر نہیں کہ لوگ خیرات دیں جو خود سوال کے لئے کھڑا نہیں ہوتا کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور پھر اسی حدیث میں سورة بقرہ کی آیت (273) کی طرف اشارہ فرمایا کہ : یَحْسَبُهُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ 1ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ 1ۚ لَا یَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا 1ؕ ۔ ان کی خود داری کا یہ حال ہے کہ ناواقف خیال کرے کہ یہ تو تونگر ہیں ، تم انہیں ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو مگر وہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر کبھی سوال نہیں کرتے۔ بلاشبہ ایسے علماء دین جو سورة بقرہ کی آیت متذکرہ صدر کے مصداق ہوں کہ : الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ (2 : 273) یعنی دین کی تعلیم و خدمت کے لئے وقف ہوگئے ہوں اور فکر معیشت کے لئے وقت نہ نکال سکیں ، مساکین میں داخل ہیں بشرطیکہ انہوں نے تعلیم دین کو حصول زر کا پیشہ نہ بنا لیا ہو ، ما یحتاج سے زیادہ نہ لیتے ہوں اور کسی حال میں خود سائل و ساعی نہ ہوتے ہوں نیز وہمام افراد جو ان کی طرح خدمت دین و امت کے لئے وقف ہوجائیں اور معیشتکا کوئی سامان نہ رکھتے ہوں۔ قوم کے تمام ایسے افراد جن پر وسائل معیشت کی تنگی کی وجہ سے معیشت کے دروازے بند ہو رہے ہیں اور اگرچہ وہ خود پوری طرح مساعی ہیں لیکن نہ تو نوکری ہی ملتی ہے نہ کوئی اور راہ معیشت نکلتی ہے یقیناً مساکین میں داخل ہیں اور اس مد کے اولین مستحق ہیں لیکن اس کا انتظام اس طرح ہونا چاہئے کہ ان کی خیر گیری بھی ہوجائے اور ساتھ ہی ان میں بےکاری کی عادت اور اپاہج بھی پیدا نہ ہو۔ یہ بات نہ صرف ان کی اعانت میں بلکہ تمام مستحقین کی اعانت میں ملحوظ رہنی چاہئے۔ ایسے افراد جو خوشحال تھے لیکن کاروبار کی خرابی کی وجہ سے یا کسی اور ناگہانی مصیبت کی وجہ سے مفلس ہوگئے ہیں اگرچہ اپنی پچھلی حیثیت کی بنا پر معذور سمجھے جاتے ہیں۔ حکماً مساکین میں داخل ہیں اور ضروری ہے کہ اس مد سے ان کی خیرگیری کی جائے۔ 2۔ ان مصارف کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ہر رقم ان سب میں وجوباً تقسیم کی جائے یا یہ ہے کہ خرچ انہی میں کی جاسکتی ہے جس مصرف میں خرچ کرنا ضروری ہے ، اسی میں خرچ کی جائے ؟ تو اس بارے میں فقہاء نے اختلاف کیا لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ تمام مصارف میں بکی وقت تقسیم کرنا ضروری نہیں جس وقت جیسی حالت اور جیسی ضرورت ہو اسی کے مطابق خرچ کرنا چاہئے اور یہی مذہب قرآن و سنت کی تصریحات اور وح کے مطابق ہے۔ ائمہ اربعہ میں صرف امام شافعی (رح) اس کے خلاف گئے ہیں۔ 3۔ یہ آٹھ مصارف جس ترتیب سے بیان کئے گئے ہیں اگر غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ معاملہ کی قدرتی ترتیب یہی ہے۔ سب سے پہلے ان دو گروہوں کا ذکر کیا جو استحقاق میں سب سے زیادہ مقدم ہیں کیونکہ زکوٰۃ کا اولین مقصود انہی کی اعانت ہے یعنی فقراء اور مساکین۔ پھر اس گروہ کا ذکر کیا جس کی موجودگی کے بغیر زکوٰۃ کا نظام قائم نہیں رہ سکتا اور اس اعتبار سے اس کا تقدم ظاہر ہے لیکن چونکہ اس کا استحقاق بالذات نہیں تھا اس لئے اولین جگہ نہیں دی جاسکتی تھی پس دوسری جگہ پائی یعنیالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا پھر الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ کا درجہ ہوا کہ ان کے دل ہاتھ میں لینا ایمان کی تقویت اور حق کی اشاعت کے لئے ضروری تھا۔ پھر غلاموں کو آزاد کرانے اور قرض داروں کو بار قرض سے سبکدوش کرانے کے مقاصد نمایاں ہوئے جو نسبتاً موقت اور محدود تھے پھر فی سبیل اللہ کا مقصد رکھا گیا کہ اگر مستحقین کی پچھلی جماعتیں کسی وقت مفقود ہوگئی ہوں یا کم ہوئی ہوں یا مقتضیات وقت نے ان کی اہمیت کم کردی ہو یا مال زکوٰۃ کی مقدار بہت زیادہ ہوگئی ہو تو ایک جامع و حاوی مقصد کا دروازہ کھول دیا جائے جس میں دین و امت کے مصالح کی ساری باتیں آجائیں۔ سب کے آخر میں ابْنِ السَّبِیْلِ کی جگہ ہوئی کیونکہ تقدم میں یہ سب سے کم اور مقدار کے لحاظ سے بہت ہی محدود صورت میں پیش آنے والا مصرف تھا۔ 4۔ قرآن کی اصطلاح میں وہ تمام کام جو براہ راست دین و ملت کی حفاظت وتقویت کے لئے ہوں سبیل اللہ کے کام ہیں اور چونکہ حفظ و صیانت امت کا سب سے زیادہ ضروری کام دفاع ہے اس لئے زیادہ تر اطلاق اسی پر ہوا پس اگر دفاع درپیش ہے اور امام وقت اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ مد زکوٰۃ سے مدد لی جاتے تو اس میں خرچ کیا جائے گا اور دین و امامت کے عام مصالح ہیں مثلاً قرآن اور علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت میں ، مدارس کے اجزاء و قیام میں ، دعاۃ مبلغین کے قیام و ترسیل میں ، ہدایت و ارشاد و امت کے تمام مفید وسائل میں۔ 5۔ دنیا میں کوئی دین نہیں جس نے محتاجوں کی اعانت اوت ابناء جنس کی خدمت کی تلقین نہ کی ہو اور اسے عبادت یا عبادت کا لازمی جزء قرار نہ دیا ہو لیکن یہ خصوصیت صرف اسلام کی ہے کو وہ صرف اتنے ہی پر قانع نہیں ہوا بلکہ ہر مستطیع مسلمان پر ایک خاص ٹیکس مقرر کردیا جو اسے اپنی تمام آمدنی کا حساب کر کے سال بہ سال ادا کرنا چاہئے اور پھر اسے اس درجہ اہمیت دی کہ اعمال میں نماز کے بعد اسی کا درجہ ہوا اور قرآن نے ہر جگہ دونوں عملوں کا ایک ساتھ ذکر کر کے یہ بات واضح کردی کہ کسی جماعت کی اسلامی زندگی کی سب سے پہلی شناخت یہی دو عمل ہیں ، نماز اور زکوٰۃ۔ اگر کوئی جماعت بہ حیثیت جمات کے انہیں ایک قلم ترک کردے گی تو اس کا شمار مسلمانوں میں نہ ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے مانعین زکوٰۃ سے قتال کیا اور حضرت ابوبکر ؓ نے کہا واللہ لا قاتلن من فرق بین الصلوٰۃ و زکوٰۃ۔ (متفق علیہ) بلاشبہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مواعظ اس بارے میں بہت دور تک چلے گئے ہیں۔ انہوں نے صرف یہی نہیں کہا کہ اتنا دے دو بلکہ کہا سب کچھ دے دو لیکن چونکہ اسلام کی طرح کوئی معین نظم قائم نہیں کیا اس لئے یہ تعلیم محض زہد و ترک دنیا کا ایک اعلیٰ مقام بن کر رہ گئی اور مسیحیت کے صدر اول کے سوا ( جب کہ کلیسائی بنیاد باہمی اخوت و اشتراک پر تائم کی گئی تھی) کوئی زمانہ ایسا ظہور میں نہ آساک کہ عیسائیوں میں اس تعلیم کے نتائج نے نشو ونما پایا ہو۔ 6۔ پھر اس باب میں اس کی ایک دوسری خصوصیت بھی ہے ، یعنی وہ علت جو نہ صرف زکوٰۃ کے لئے بلکہ تمام صدقات و خیرات کے لئے قرار دی گئی اور جس کی وجہ سے اس معاملے نے بالکل ایک دوسری ہی نوعیت اختیار کرلی۔ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ 1ؕ (59 : 7) تاکہ ایسا نہ ہو کہ مال و دولت صرف دولت مندوں کے گروہ بہی میں محصور ہو کر رہ جائے۔ یعنی زکوٰۃ کا مقصد یہ ہے کہ دولت سب سے پھیلے۔ سب میں بٹے ، کسی ایک گروہ کی ٹھیکہ داری نہ ہوجائے اور اس سورت کی آیت (24) میں گزر چکا ہے : وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ 1ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ0034 ۔ ” جو لوگ چاندی اور سونا خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کے لئے اگر کوئی بشارت ہو سکتی ہے تو یہی کہ عذاب دردناک کی بشارت دے دو “ اور حدیث : (بعث معاذ الی الیمین) میں زکوٰۃ کا مقصد یہ فرمایا کہ : توخز من اغنیائھم فترد فی فقرائھم (رواہ الجماعہ) ان کے دولت مندوں سے وصول کی جائے اور پھر ان کے محتاج افراد میں لوٹائی جائے۔ ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ قرآن کی راح دولت کے احتکار و اختصاص کے خلاف ہے یعنی وہ نہیں چاہتا کہ دولت کسی ایک گروہ کی ٹھیکہ داری میں آجائے یا سوسائٹی میں کوئی ایسا طبقہ پیدا ہوجائے جو دولت کو خزانہ بنا بنا کر جمع کرے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ دولت ہمیشہ سیر و گردش میں رہے او زیادہ سے زیادہ تمام افراد قوم میں پھیلے اور منتسم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ورثہ کے لئے تقسیم و اسہام کا قانون نافذ کردیا اور اقوام عالم کے عام قوانین کی طرح یہ نہیں کیا کہ خاندان کے ایک ہی فرد کے قبضے میں رہے۔ جونہی ایک شخص کی آنکھیں بند ہوئیں اس کی دولت جو اس وقت تک تنہا ایک جگہ میں تھی اب وارثوں میں بٹ کر کئی جگہوں میں پھیل جائے گی اور پھر ان میں سے ہر وارث کے وارث ہوں گے اور اسے بانٹتے اور پھیلاتے رہیں گے۔ اور پھر یہی وجہ ہے کہ اس نے سود کا لین دین حرام کردیا اور قاعدہ یہ ٹھہرایا کہ : یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ اللہ سود کا جذبہ گھٹانا چاہتا ہے ، خیرات کا جذبہ بڑھانا چاہتا ہے یعنی یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں۔ جس قوم میں سود کا جذبہ ابھرے گا اس کے غالب افراد شقاوت و محرومی میں مبتلا رہیں گے جس قوم میں خیرات کا جذبہ ابھرے گا اس کا کوئی فرد محتاج و مفلس نہیں رہے گا۔ اور اسی لئے اس نے سود کے معاملہ کو اتنی اہمیت دی کہ فرمایا جو لوگ اس پر مصر رہیں گے وہ اللہ اور اس رسول کے خلاف اعلان جنگ کریں گے : فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ 1ۚ (2 : 279) کیونکہ اس معاملہ پر جماعت کی بنیادی فلاح موقوف تھی اور ضروری تھا کہ اسے ایمان وانقیاد کا معیار قرار دیا جاتا اور یہی وجہ ہے کہ سورة بقرہ میں انفاق کا حکم دینے کے بعد متصاماً فرمایا : یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ 1ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا 1ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ 00269 (2 : 269) یعنی یہ بات کہ اپنی کمائی ایک ایک حصہ دوسرے افراد جماعت دے دینا ، کھونا نہیں ہے ، پانا ہے ، بہت دقیق بات ہے۔ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو صاحب حکمت ہیں۔ اور جس کسی نے حکمت کی دولت پائی تو اس نے بڑی سے بڑی بھلائی پالی ، وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۔ 7۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور صحابہ کرام ؓ کی عملی زندگی کے مطالعہ کے بعد مجھے اس حقیقت کا پورا اذعان ہوگیا ہے کہ اسلام کے بنائے ہوئے اجتماعی نقشہ میں دولت اور وسائل دولت کے احتکار و اکتناز کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ” احتکار “ یہ کہ دولت کا کسیا یک طبقہ ہی میں محصور ہوجانا۔ اکتناز یہ کہ دولت کے بڑے بڑے خزانوں کا افراد کے پاس جمع ہوجانا اس نے سوسائٹی کی نوعیت کا جو نقشہ بنایا ہے اگر ٹھیک ٹھیک قائم ہوجائے اور صرف چند خانے ہی نہیں بلکہ تمام خانے اپنی اپنی جگہ بن جائیں تو ایک ایسا اجتماعی نظام پیدا ہوجائے گا جس میں نہ تو بڑے بڑے کروڑ پتی ہوں گے ، نہ مفلس و محتاج طبقے بلکہ ایک طرح کے درمیانی حالت غالب افراد پر طاری ہوجائے گی۔ بلاشبہ زیادہ سے زیادہ کمانے والے افراد موجود ہوں گے کیونکہ سعی و کسب کے بغیر کوئی مومن زندہ ہی نہیں رہ سکتا لیکن جو فرد جتنا زیادہ کمائے گا اتنا ہی زیادہ انفاق پر مجبور ہوگا اور اس لئے افراد کی کمائی جتنی بڑھتی جائے گی اتنی ہی زیادہ جماعت بہ حیثیت جماعت کے خوشحال ہوتی جائے گی۔ قابل اور مستعدافراد زیادہ سے زیادہ کمائیں گے لیکن صرف اپنے لئے نہیں کمائیں گے بلکہ تمام افراد یا قوم کے لئے کمائیں گے۔ یہ صورت پیدا نہ ہو سکے گی کہ ایک طبقہ کی کمائی دوسرے طبقوں کے لئے محتاجی و مفلسی کا پیام ہوجائے جیسا کہ اب عام طور پر ہو رہا ہے۔ یہ بات کہ قرآن کی تعلیم کے مطابق دنیا میں کس طرح کی مدنیت اور اجتماعیت پیدا ہو سکتی ہے ؟ جس درجہ اہم ہے ، اتنی ہی زیادہ دقیق بھی ہے۔ 8۔ اگر مسلمان آج اور کچھ نہ کریں صرف زکوٰۃ کا معاملہ ہی احکام قرآنی کے مطابق درست کرلیں تو بغیر کسی تامل کے دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی تمام اجتماعی مشکلات و مصائب کا حل خود بخود ہوجائے گا۔ 9 لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے یا تو احکام قرآنی کی تعمیل یک قلم ترک کردی ہے یا پھر عمل بھی کر رہے ہیں تو اس طرح کہ فی الحقیقت عمل نہیں کر رہے ہیں۔ قرآن نے زکوٰۃ کا معاملہ ایک خاص نظام سے وابستہ کردیا ہے اور اسی نظام کے قائم پر اس کے تمام مقاصد و مصالح کا حصول موقوف ہے۔ زکوٰۃ ایک ٹیکس ہے ، بالکل اسی طرح کا ٹیکس جس طرح آج کل انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ پس اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ نہ تھا کہ ہر شخص خود ہی اپنا انکم ٹیکس نکالے اور خود خرچ بھی کر ڈالے بلکہ یہ تھا کہ حکومت اپنے کلکٹروں اور عاملوں کے ذریعہ ہر شخص سے وصول کر کے بیت المال میں جمع کرے اور پھر ضروریاتت وقت کے مطابق جس مصرف کو مقدم دیکھے اس میں خرچ کرے۔ جب ایک شخص نے حکومت کے مقررہ عامل کو اپنی زکوٰۃ دے دی اس کی زکوٰۃ ادا ہوگئی چناچہ اس لئے کلکٹروں اور عاملوں کی تنخواہ کا بار پھر اسی فنڈ پر ڈال دیا اور صاف صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا جو کارندے وصولی کے لئے مقرر ہیں ان کے لئے ضروری مصارف اگر ادائیگی کے لئے یہ بات ضرور نہ ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مصارف کی مد میں مستقاماً عمال حکومت کا ذکر کیا جاتا۔ اور پھر یہی وجہ ہے کہ صاف وصریح لفظوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اس باب میں عمال حکومت کی اطاعت کریں اور بلاعذر زکوٰۃ ان کے حوالہ کردیں حتیٰ کہ اگر عمال ظالم ہوں یا بیت المال کا روپیہ ٹھیک طور پر خرچ نہ ہو رہا ہو جب بھی اصلاح حال کی سعی کے ساتتھ ادائیظو کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔ یہ نہیں کرنا چاہئے کہ زکوٰۃ خود خرچ کر ڈالی جائے۔ روایت میں ہے کہ لوگوں نے کہا : ان قوما من اصحاب الصدقۃ یعتدون علینا۔ عمال کا ایک گروہ صدقہ لینے میں ہم پر زیادتیاں کرتا ہے کیا اس کا مقابلہ کریں ؟ فرمایا نہیں ! (ابو داؤد) سعد بن وقاص کی روایت میں صاف صاف موجود ہے ادفعوا الیہم ماصلوا جب تک وہ نماز پڑھتے ہیں زکوٰۃ انہیں دیتے رہو۔ بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظام خلافت بدل گیا اور حاکم ظلم و تشدد پر اتر آئے تو بعض لوگوں کو خیال ہوا ایسے لوگ ہماری زکوٰۃ کے کیوں امین سمجھے جائیں ؟ لیکن تمام صحابہ ؓ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوٰۃ انہی کو دینی چاہئے۔ یہ کسی نے نہیں کہا کہ خود اپنے ہاتھ سے خرچ کر ڈالو۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک شخص نے پوچھا اب زکوٰۃ کسے دیں ؟ کہا وقت کے حاکموں کو۔ اس نے کہا : اذا یتخذوں بہا ثیا باوطیبا ۔ وہ تو زکوٰۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر خرچ کر ڈالتے ہیں فرمایا ” وہ اگرچہ ایسا کرتے ہوں مگر دو انہی کو۔ ‘ (ابن ابی شیبہ) کیونکہ زکوٰۃ کا معاملہ بغیر نظام کے قائم نہیں رہ سکتا۔ صدر اول سے لے کر آخر عہد عباسیہ تک یہ نظام بلا استثناء قائم رہا لیکن ساتویں صدی ہجری میں جب تاتاریوں کا سیلاب تمام اسلامی ماملک میں امڈ آیا اور نظام خلافت معدوں ہوگیا تو سوال پیدا ہوا کہ اب کیا کرنا چاہئے ؟ فقہاء حنفیہ کے جس قدر شروح و متون اور کتب فتویٰ آج کل متداول ہیں زیادہ تر اسی دور میں یا اس کے بعد لکھے گئے ہیں اس وقت پہلے پہل اس بات کی تخم ریزی ہوئی کہ زکوٰۃ کی رقم بطور خود خرچ کر ڈالی جائے کیونکہ غیر مسلم حاکموں کو نہیں دی جاسکتی مگر ساتھ ہی فقہاء نے اس پر بھی زود دیا کہ جن ملکوں میں اسلامی حکومت قائم نہیں رہی ہے اور اعادہ حالت فوراً ممکن نہیں وہاں مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ کسی اہل مسلمان کو اپنا امیر مقرر کرلیں تاکہ اسلامی زندگی کا نظام قائم رہے ، معدوم نہ ہوجائے۔ لیکن افسوس ہے کہ بعد کو بتدریج اس نظام کی اہمیت سے مسلمان غافل ہوتے گئے اور رفتہ رفتہ یہ حالت ہوگئی کہ لوگوں نے سمجھ لیا زکوٰۃ نکالنے کا معاملہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ خود حساب کر کے ایک رقم نکال لیں اور پھر جس طرح چاہیں خود ہی خرچ کر ڈالیں حالانکہ جس زکوٰۃ کی ادائیگی کا قرآن نے حاکم دیا ہے اس کا قطعاً یہ طریقہ نہیں ہے اور مسلمانوں کی جو جماعت اپنی زکوٰۃ کسی امین زکوٰۃ یا بیت المال کے حوالے کرنے کی جگہ خود ہی خرچ کر ڈالتی ہے وہ دیدہ دانستہ حکم شریعت سے انحراف کرتی ہے اور یقیناً عنداللہ اس کے لئے جواب دہ ہوگی۔ 10۔ اسلام نے اجتماعی زندگی کا ایک پورا نقشہ بنایا تھا جہاں اس کے چند خانے بگڑے سمجھ لو پورا نقشہ بگڑ گیا۔ چناچہ اس ایک نظام کے فقدان نے مسلمانوں کی پوری اجتماعی زندگی مختل کردی ہے۔ لوگ اصلاح کے لئے طرح طرح کے ہنگامے بپا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انجمنوں اور قومی چندوں کے ذریعہ وقت کی مشکلوں اور مصیبتوں کا علاج ڈھونڈ نکالیں گے حالانکہ مسلمانوں کے لئے اصلی سوال یہ نہیں ، سوال یہ ہے کہ اپنے گم گشتہ طریقہ کا کھوج لگائیں۔ درازی شب و بیادری من ایم ہمہ نیست٭ زبخت من آرید تاکجا خقست اگر محض دولت مند افراد کے عطیوں اور قومی انجمنوں کے نظام سے قوم کا اقتصادی مسئلہ حل ہو سکتا تو آج یورپ اور امریکہ سے بڑھ کر کون ہے جو ان دونوں باتوں کا انتظام کرا سکتا ہے ؟ لیکن معلوم ہے کہ ان کا کوئی قومی فنڈ اور کوئی قومی نظام بھی نچلے طبقوں کی بےکاری اور متوسط طبقہ کا افلاس روک نہ سکا اور اب اجتماعی مسئلہ کا ہلاکت آفتیم خطرہ ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے ، اصل یہ ہے کہ افراد کی وقتی فیاضیاں کتنی ہی زیادہ ہوں قوم کی اجتماعی زندگی کے قیام کے لئے کبھی کفیل نہیں ہو سکتیں اس صورت حال کا علاج صرف وہی ہے جو اسلام نے چودہ سو برس پہلے تجویز کیا تھا یعنی قانون سازی کے ذریعہ قوم کی پوری کمائی کا ایک خاص حصہ کمزور افراد کی خبر گیری کے لئے مخصوص کردینا کہ توخذ من اغنیائھم فترد فی فقرائھم اور کی لایکون دولۃ بین الا غنیاء منکم ۔ 11۔ بہرحال یہ بات یاد رہے کہ زکوٰۃ کی نوعیت عام خیرات کی سی نہیں ہے بلکہ یہ اپنے پورے معنوں میں ایک انکم ٹیکس ہے جو اسلامی حکومت نے ہر کمانے والے فرد پر لگا دیا ہے بشرطیکہ اس کی کمائی اس کی ذاتی ضروریات زندگی سے زیادہ ہو موجودہ زمانے کے انکم ٹیکسوں میں اور اس میں صرف دو باتوں کا فرق ہے ایک یہ کہ اپنی نوعیت میں یہ زیادہ وسیع ہے یعنی صرف کاروبار کی گھٹتی بڑھتی آمدنی ہی پر عائد نہیں ہوتا بلکہ اندوختہ پر بھی واجب ہوجاتا ہے۔ اگرچہ اس سال کوئی نئی آمدنی نہ ہوئی ہو نیز اس طرح کی تمام ملکیتیں بھی اس میں داخل ہیں جو بڑھنے کی استعداد رکھتی ہوں مثلاً مویشی دوسری یہ کہ مقصد کے لحاظ سے یہ ایک خاص مصرف رکھتا ہے ، جس کی مختلف صورتیں معین کردی گئی ہیں۔ اسٹیٹ کو حق نہیں کہ ان مصارف کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرے۔ 12۔ قرآن نے یہودیوں کی اس گمراہی کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے احکام شرع کی تعمیل سے بچنے کے لئے شرعی حیلے نکال لئے تھے افسوس ہے کہ مسلمانوں نے بھی اس گمراہی میں حصہ لیا حتیٰ کہ حیلہ کا معاملہ بعض کتب فقہ کا ایک مستقل باب بن گیا۔ ازاں جملہ ایک حیلہ زکوٰۃ کے باب میں بھی مشہور ہے۔ طریقہ اس کا یہ بتلایا جاتا ہے کہ جو شخص زکوٰۃ سے بچنا چاہے وہ کسی آدمی سے بخش دینے اور بخشوا لینے کا فرضی معاملہ کرلے اور قبل اس کے کہ برس پورا ہو اپنا تمام مال اس کے نام ہبہ کردے۔ پھر وہ برس ختم ہونے سے پہلے وہی مال اس کے نام ہبہ کردے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ دونوں پر سے باوجود مالدار ہونے کے زکوٰۃ ساقط ہوجائے گی۔ مثلاً شوہر اپنی بیوی سے رجب کے مہینے میں کہہ دے کہ میں نے اپنے مال تجھے ہبہ کردیا۔ اس نے کہا قبول کیا ، اب شوہر پر زکوٰۃ نہیں رہی کیونکہ قبل اس کے کہ سال تمام ہو وہ صاحب نصاب نہ رہا۔ البتہ بیوی پر پڑگئی بشرطیکہ بارہ مہینے گزر جائیں لیکن وہ بارہ مہینے کیوں گزرنے دے گی ؟ وہ جمادی الثانی میں شوہر سے کہہ دے گی میں نے تمام مال اب تمہیں ہبہ کردیا۔ اس طرح اس نیک بخت پر سے بھی زکوٰۃ ساقط ہوجائے گی۔ قصہ کو تہ گشت ورنہ درد سر بسیار بود ! لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ احکام شرع کی تعمیل میں اس طرح کی حیلہ بازیاں نکالنی فسق و ضلالت کا انتہائی مرتبہ ہے اور جو شخص اس طرح کی مکاریاں کر کے احکام الٰہی سے بچنا چاہتا ہے اس کی معصیت ان لوگوں سے بدر جہا زیادہ ہے جو سیدھی سادی طرح ترک اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ بات کہ ایک شخص سے جرم ہوگیا محض جرم ہے مگر یہ بات کہ ایک شخص جرم کو بےجرمی و پاک عملی بنا کر کرتا ہے صرف جرم ہی نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے اور صرف اس کی عملی زندگی ہی کو نہیں بلکہ ایمان و فکر کو بھی تاراج کردینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جونہی اس طرح کے حیلوں کے چرچا پھیلا تمام سلف امت نے اس پر انکار عظیم کیا اور ائمہ و فقہاء میں کوئی نہیں جس نے انہیں جائز رکھا ہو۔ 13۔ ایک اور غلط فہمی اس باب میں پھیل گئی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں ، اپنے مفلس رشتہ داروں کی خیر گیری کا یہی طریقہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقوم سے ان کی مد د کی جائے۔ بلاشبہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ غیروں سے پہلے اپنے محتاج رشتہ داروں کی خبر لے اور قرآن نے صدقات و خیرات کے معاملہ میں جو اصلاحات کی ہیں من جملہ ان کے ایک بڑی اصلاح یہ ہے کہ رشتہ داروں کی اعانت کو بھی خیرات قرار دے دیا بلکہ خیرات کا سب سے پہلا اور بہتر مصرف : قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ (2 : 215) لیکن زکوٰۃ جو خیرات کی ایک خاص قسم ہے اس لئے واجب نہیں کی گئی کہ لوگ خیرات کی دوسری قسموں سے ہاتھ روک لیں اور محتاج رشتہ داروں کی مدد کا بوجھ بھی اسی پر ڈال دیں ، زکوٰۃ وہی دے گا جو صاحب استطاعت ہو اور اگر ایک شخص خوشحال ہے اور اس کے رشتہ دار تنگی و محتاجی میں مبتلا ہوگئے ہیں تو بہ حیثیت مسلمان ہونے کے اس کا فرض ہے کہ ان کی خبرگیری کرے۔ اگر نہیں کرے گا تو یقیناً عنداللہ جواب دہ ہوگا کیونکہ صلہ رحمی کا حق خدا کا ٹھہرایا ہوا حق ہے : وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ 1ؕ (4 : 1) بلاشبہ اس کی خبرگیری اس کے لئے خیرات کا بہترین عمل ہوگی لیکن خبرگیری ہر حال میں اس کا اسلامی فرض ہے۔ یہ طریقہ کسی خاص حال میں بھی شرعی نہیں ہو سکتا کہ باوجود خوشحال ہونے کے اپنے رشتہ داروں کو فقر و فاقہ میں چھوڑ دیا جائے اور پھر اگر کچھ دیا بھی جائے تو اسے زکوٰۃ کی مد میں شمال کرلیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے کوئی خاص اسلامی عمل ہی نہیں ترک کردیا ہے بلکہ ان کی پوری زندگی غیر اسلامی ہوگئی ہے ان کی فکری حالت غیر اسلامی ہے ، ان کی عملی حالت غیر اسلامی ہے ، ان کا دینی زاویہ نگاہ غیر اسلامی ہوگیا ہے وہ اگر اسلامی احکام پر عمل بھی کرنا چاہتے ہیں تو غیر اسلامی طریقہ سے اور یہ دینی تنزل کی انتہا ہے۔ فَمَالِ ہٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا 0078 (4 : 78) 14۔ ایک عام اور سب سے زیادہ مہلک غلط فہمی یہ پھیل گئی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں زکوٰۃ دے دینے کے بعد انفاق و خیرات کے تمام اسلامی فرائض ختم ہوجاتے ہیں۔ جہاں ایک شخص نے رمضان میں اٹھنیوں اور روپیوں کی پڑیاں باندھ کر تقسیم کے لئے رکھ دیں سال بھر کے لئے اسے ہر طرح کے انسانی و اسلامی تقاضوں سے چھٹی مل گئی۔ حالانکہ ایسا سمجھنا یک قلم اسلام کو بھلا دینا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو جس طرح کی زندگی بھر کرنے کی تلقین کی ہے وہ محض اپنی اور اپنے بیوی بچوں کے پیٹ ہی کی زندگی نہیں ہے ، بلکہ منزل ، خاندانی ، معاشرتی ، جماعتی اور انسانی فرائض کی ادائیگی کی ایک پوری آزمائش ہے اور جب تک ایک انسان اس آزمائش میں پورا نہیں اترتا اسلامی زندگی کی لذت اس پر حرام ہے۔ اس پر اس کے نفس کا حق ہے ، اس کے والدین کا حق ہے ، رشتہ داروں کا حق ہے ، بیوی بچوں کا حق ہے ، ہمسایہ کا حق ہے اور پھر تمام نوع انسانی کا حق ہے۔ اس کا فرض ہے کہ اپنی استطاعت اور مقدور کے مطابق یہ تمام فرائض ادا کرے اور انہی فرائض کی ادائیگی پر اس کی زندگی کی ساری دنیوی اور اخروی سعادتیں موقوف ہیں : وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْـًٔا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ 1ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ (4 : 36) یہ تمام فرائض ادا نہیں کئے جاسکتے جب تک کہ انفاق و خیرات کے لئے انسان کا ہاتھ کشادہ نہ ہوجائے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اعمال میں سے کسی عمل پر اتنا زور نہیں دیا جس قدر نماز اور انفاق پر اور منافقوں کی سب سے بڑی پہچان اس صورت میں یہ بتلائی کہ ان کی مٹھیاں بند رہتی ہیں۔ انفاق کے لئے کھلتی نہیں : وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ 1ؕ(9 : 67) اور اگر کچھ دیتے بھی ہیں تو مجبور ہو کر : وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ ہُمْ کٰرِهُوْنَ 0054 (9 : 54) اور مومنوں کی نسبت فرمایا : یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً (2 : 274) مومن وہ ہیں جن کا ہاتھ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ رات دن ، پویشدہ اور ظاہر ہر حال میں سرگرم انفاق رہتے ہیں۔ نیز فرمایا یہ شیطانی خیال ہے کہ خرچ کرنے سے ہم محتاج ہوجائیں گے اور اس راہ میں بخل ” فحش “ ہے یعنی سخت قسم کی برائی اور اللہ انفاق کا حکم دے کر تمہیں مغفرت اور خوشحالی کی راہوں پر لگاتا ہے : اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ 1ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا 1ؕ(2 : 268) پس یہ سمجھنا کہ جہاں سال میں ایک مرتبہ زکوٰۃ کا ٹیکس دے دیا انفاق فی سبیل اللہ کے تمام مطالبات پورے ہوگئے ، صریح قرآن کی تعلیم سے اعراض کرنا ہے۔ زکوٰۃ تو ایک خاص قسم کا ٹیکس ہے اور ایک خاص مقصد کے لئے لگایا گیا ہے جو سال میں ایک مرتبہ دینا پڑتا ہے لیکن ہماری زندگی کا ہر چوبیس گھنٹہ ہم نے انفاق کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر ہم اسلامی زندگی کا توشہ لے کر دنیا سے جانا چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ حسب استطاعت اس کے تمام مطالبات پورے کریں۔ 15۔ دنیا میں دولت اور وسائل دولت کا احتکار اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ ضروری تھا اس کا رد عمل پیدا ہو چناچہ اٹھارویں صدی میں موجودہ سو شلزم کی بنیادیں پڑیں اور رفتہ رفتہ اس نے کمیونزم کی انتہائی صورت اختیار کرلی اور روس میں کچھ ہی دیر چل کر دم توڑ گیا اور اس وقت چین وغیرہ میں کٹا پھٹا چل رہا ہے۔ اس پر قدرتی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم سرمایہ داری کے مقاصد مٹانا چاہتا ہے اور دولت کی تقسیم کا حامی ہے تو کیا یہی سوشلزم نہیں ؟ بالکل نہیں اس لئے کہ قرآن کریم کی تعلیم کا رخ بالکل الگ ہے۔ بلاشبہ کہا جاسکتا ہے کہ سو شلزم نے قرآن سے راہنمائی حاصل کی ہو لیکن اس کا صحیح رخ بہرحال وہ نہ سمجھ سکا اس لئے یہ دو صورتیں الگ الگ ہیں اور ضروری ہے کہ دونوں کا فرق ملحوظ رکھا جائے۔ ایک صورت یہ ہے کہ دولت اور وسائل کا احتکار روک دیا جائے اور ہر کمانے والے فرد کو قانون سازی کے ذریعہ مجبور کیا جائے کہ اپنی آمدنی کا ایک خاص حصہ کمزور افراد کے لئے نکالے۔ نیز اسٹیٹ کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے کہ کوئی فرد ضروریات زندگی سے محروم نہ رہے لیکن ساتھ ہی یہ اصل بھی تسلیم کی جائے کہ معیشت کے لحاظ سے تمام افراد و طبقات کی حالت یکساں نہیں ہو سکتی اور یہ عدم یکسانیت اکثر حالتوں میں قدرت ہے کیونکہ سب کی دماغی استعداد اور جسمانی طاقت یکساں نہیں اور جب استعداد یکساں نہیں تو ناگزیر ہے کہ جدوجہد معیشت کے ثمرات بھی یکساں نہ ہوں۔ بہ الفاظ دیگر انفرادی ملکیت کا حق تسلیم کرلیا جائے کہ جو جس قدر حاصل کرسکتا ہے وہ اس کا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ صرف دولت کا احتکار ہی نہ روکا جائے بلکہ دولت کی انفرادی ملکیت بھی ختم کردی جائے اور ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں اجباری قوانین کے ذریعہ اقتصادی اور معیشی مساوات کی حالت پیدا کردی جائے۔ مثلاً وسائل دولت تمام تر قومی ملکیت ہوجائیں ، انفرادی قبضہ باقی نہ رہے اور جسمانی و دماغی استعداد کے اختلاف سے معیشت کا مختلف ہونا بنائے حق تسلیم نہ کیا جائے۔ اس لئے اگر نظام سرمایہ داری صحیح نہیں تو سوشلزم کو بھی درست نہیں کہا جاسکتا۔ قرآن نے جو صورت اختیار کی ہے وہ پہلی ہے اور سوشلزم جس بات کے لئے ساعی ہے وہ دوسری ہے۔ دونوں کا مقصد یہ ہے کہ انسانی اکثریت کی شقاوت دور کی جائے۔ دونوں نے علاج بھی ایک ہی تجویز کیا ہے یعنی دولت کا اکتناز روکا جائے لیکن دونوں کا طریق کار ایک نہیں ایک اختلاف معیشت سے تعرض نہیں کرتا اورا سے قائم رکھ کر راہ نکالتا ہے ، دوسرا اسے مٹا دینا چاہتا ہے۔ پہلا قرآنی نظام ہے اور دوسرا سوشلزم۔ اسلام اور سوشلزم کا یہ اختلاف اگرچہ محض درجہ (ڈگری) کا اختلاف معلوم ہوتا ہے لیکن تہ میں مبدء کا اختلاف بھی موجود ہے۔ سوشلزم کا نظریہ یہ ہے کہ مدارج معیشت کا اختلاف کوئی قدرتی اختلاف نہیں ہے لیکن قرآن میں اس طرح کے اشارات جا بجا پائے جاتے ہیں کہ یہ اختلاف قدرتی ہے اور ضروری تھا کہ ظہور میں آئے وہ کہتا ہے اگر یہاں سب کی حالت یکسان ہوجاتی تو تزاحم و تنافس کی حالت پیدا نہ ہوتی اور اگر یہ حالت پیدا نہ ہوتی تو انسان کی قدرتی قوتوں کے ابھرنے اور ترقی پانے کے لئے کوئی شے محرک بھی نہ ہوتی اور اجتماعی زندگی کی وہ تمام سرگرمیاں ظہور میں نہ آتیں جن سے یہ تمام کارخانہ چل رہا ہے۔ سوشلزم انسانی اختراع ہے اور قرآنی نظام خالق کائنات کا دیا ہوا۔ افسوس کہ انسانی اختراع کا تجربہ اس ملک عزیز میں بھی کیا گیا لیکن قرآن کریم کے دیئے ہوئے نظام کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا۔ قرآنی نظام معیشت کے لئے درج ذیل آیت پر غور کرو۔ فرمایا : وَ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ 1ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (رح) 00165 (6 : 165) اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور بعض کو بعض پر مرتبے دیئے تاکہ جو کچھ تمہیں دیا ہے ، اس میں تمہیں آزمائے ، بلاشبہ تمہارا پروردگار ( بدعملیوں کی) فوراً سزا دینے والا ہے اور بلاشبہ وہ بڑا بخش دینے والا ، رحمت والا ہے۔ اس آیت میں تین باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے : اولاً خدا نے انسانی زندگی کا کارخانہ کچھ اس طرح چلایا ہے کہ یہاں ہر گوشہ میں ایک طرح کی جانشینی کا سلسلہ جاری رہتا ہے یعنی ایک فرد اور گروہ جاتا ہے ، دوسرا فرد اور گروہ اس کی جگہ لیتا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج سعی کا وارث ہوتا ہے۔ ثانیاً : درجے کے لحاظ سے سب یکساں نہ ہوئے بعض اوپر ہوئے بعض ان سے نیچے۔ ثالثاً : مدارج معیشت کی بلندی و پستی اس لئے ہوئی تاکہ انسان کے عمل و تصرت کے لئے آزمائش کی حالت پیدا ہوجائے اور ہر فرد اور ہر گروہ کو موقع دیا جائے کہ اپنی سعی و کاوش سے جو درجہ حاصل کرسکتا ہے ، حاصل کرلے آخر میں فرمایا : خدا کا قاننو جزاء سست رفتار نہیں یعنی سعی و طلب کی اسی امتحان گاہ سے جزاء عمل کا معاملہ وابستہ ہے جیسے جس کے اعمال ہوں گے ویسے ہی نتائج اسی کے حصے میں آئیں ہے۔ اسی طرح جا بجا قان میں پاؤ گے : وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ 1ۚ(16 : 71) خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں برتری دی ہے : نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ (43 : 32) دنیوی زندگی کی معیشت ہم نے لوگوں میں تقسیم کردی اور اس کا کارخانہ ایسا بنا دیا کہ سب ایک ہی درجہ میں نہیں ہیں کوئی کسی درجہ میں ہے ، کوئی کسی درجہ میں۔ بہر حال قرآن نے اجتماعی مسئلہ کا جو حل تجویذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مدارج معیشت کی مساوات قائم نہیں کرنا چاہتا لیکن حق معیشت کی مساوات ضرور قائم کرتا ہے ، یعنی وہ کہتا ہے یہ بات ضروری نہیں کہ سب کو ایک ہی طرح پر سامان معیشت ملے لیکن یہ ضروری ہے کہ ملے سب کو اور سعی و ترقی کی راہ یکساں طور پر سب کے سامنے کھل جائے ، اس نے ہر طرح کے نسلی ، خاندانی ، جغرافیائی اور طبقاتی امتیاز مٹا دیئے۔ اس نے زندگی کے ہر میدان میں انسانی مساوات کا اعلان کردیا۔ اس نے وہ تمام رکاوٹیں دور کردیں جو سوسائٹی کے اونچے طبقے نے کمزور افراد کی خوشحالی و ترقی کی راہ میں پیدا کردی تھیں۔ اس نے قانون سازی کے ذریعہ دولت کا احتکار و اختصاص روک دیا ۔ اس نے زندگی کے ہر گوشہ میں دولت کے اکتناز کی جگہ دولت کی تقسیم پر زور دیا ، اس نے اس بات سے قطعاً انکار کردیا کہ دولت مندی بجائے خود کوئی حق ہے ، اس نے بےاعتدالانہ سرمایہ داری کی تمام راہیں روک دیں۔ اس نے سود کی ہر شکل حرام کردی ، اس نے جوئے کو کسی حال میں جائز نہ رکھا۔ پھر ان تمام باتوں سے بڑھ کر یہ کہ انسانی زندگی کے اعمال حق میں انفاق فی سبیل اللہ کو سب سے نمایاں جگہ دی اور ہر کمانے والے فرد کو سالانہ ٹیکس کے ذریعہ مجبور کردیا کہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ دوسروں کے لئے بھی نکالے۔ بس یہ نقشہ ہے جو اسلام نے اجتماعی نظام کا بنایا ہے۔ لیکن سوشلزم صرف اتنے پر قانع نہیں رہنا چاہتا وہ آگے بڑھ کر انفرادی ملکیت ختم کر کے اس کی جگہ قومی ملکیت کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کی یہ دعوت بھی یقیناً غیر فطری ہے یہی وجہ ہے کہ جب اس نے سر نکالا اس کے سر پھوڑ نے والے اس کے گرد ہوگئے اور ہر طرف سے اس پر مار پڑی کہ اب وہ دم توڑتا نظر آرہا ہے حالانکہ اس کے مفاسد نظام سرمایہ داری کے مفاسد سے بہر حال کافی حد تک کم تھے۔ جس طرح نظام خلافت کو ختم کر کے شاہی نظام کا تجربہ کیا گیا اور اس کی جگہ اب جمہوریت نے لے لی حالانکہ یہ جمہوریت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ایک فرد کی حکومت نہ ہو بلکہ ایک جماعت کی ہو حالانکہ جس قدر ایک فرد کی حکومت میں فاسد تھے اس سے سو گنا زیادہ مفاسد اس جماعتی حکومت میں موجود ہیں اور حقیقی نظام وہی شورائی ہے کہ شوریٰ ایک فرد کا محاسبہ کرے اور اس کو سیدھا رکھے اور پوری عوام کو اس سے بالکل الگ رکھا جائے۔ اس وقت دونوں نظام پھنسے ہوئے ہیں نظام معیشت بھی اور نظام حکومت بھی لیکن ان دونوں کا صحیح حل صرف اور صرف قرآن کریم کی تعلیمات ہی سے مکن ہے دیکھتے ہیں کہ وہ وقت کب آتا ہے۔ تاہم اب فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کو موقع دیا جائے۔ وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ (رح) 0088
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور انہی میں ہیں جو اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں یہ شخص تو بہت سننے والا ہے ، تم کہو ہاں ! وہ بہت سننے والا ہے مگر تمہاری بہتری کے لیے ، وہ اللہ پر یقین رکھتا ہے اور وہ مومنوں کی بات پر بھی یقین رکھتا ہے اور وہ ان لوگوں کے لیے سرتار سر رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو آزار پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے لیے عذاب ہے ، عذاب دردناک

رسول اللہ ﷺ کو ” ہُوَ اُذُنٌ 1ؕ “ کہنے والوں کی اصل مراد کیا تھی ؟ 83: جس چیز کو ہماری زبان میں ” کان کا کچا “ کہتے ہیں اس چیز کو عربی زبان میں ” ہُوَ اُذُنٌ 1ؕ “ کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہ جو شخص ہر ایک کی بات سن لے اسے ” رجل اذن “ کہتے ہیں ( جوہری امام لغۃ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو ہر ایک کی بات سنے بھی اور اسے مان بھی لے اسے ” رجل اذن “ کہا جاتا ہے۔ (قرطبی) منافقین اکثر یہ کرتے تھے کہ اپنی نجی محفلوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق جو جی میں آتا کہہ دیتے پھر اگر کوئی ان سے کہتا کہ تمہاری باتوں کا علم اگر رسول اللہ ﷺ کو ہوگیا تو تمہاری بڑی فضیحت ہوگی تو وہ بےجھجھک کہہ دیتے کہ میاں اس کی فکر نہ کرو وہ کانوں کے بڑے کچے ہیں اگر کسی نے ہماری کوئی بات آپ ﷺ سے کہہ بھی دی تو کیا ہوگا ؟ ہم جا کر حلفیہ بیان دے دیں گے کہ ہم نے یہ بات ہرگز نہیں کہی تو وہ فوراً ہماری بات کو مان جائیں گے۔ ان کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیں کہ : ” ہاں ! وہ بہت سننے والا ہے مگر تمہاری بہتری کے لئے۔ “ اگر حقیقت ظاہر کردی جائے تو تمہارا نفاق ظاہر ہوجائے اور تم روسیا ہوں کو منگ چھپانے کی جگہ ہی ملے وہ تو محض اس لئے گہرائی میں نہیں جاتا کہ تم نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے اور ایمان والوں کی بات وہ فوراً سچ مان جاتا ہے اس لئے کہ جھوٹ ایمان کے منافی ہے اور پھر یہ بھی کہ اس کو اللہ پر پختہ یقین ہے کہ جب اللہ میرا ساتھی اور نگہبان ہے تو مجھے اس گہرائی میں جانے کی ضرورت کیا ہے کہ کس نے اسلام کے متعلق یا خود پیغمبر اسلام کے متعلق کیا کہا ہے ؟ وہ تو سراسر رحمت و شفقت ہے اس لئے جن لوگوں نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے اور اسلام کو مان چکے ہیں وہ اندر سے کیا کچھ ہوں ان کی بات کا وہ یقین کرتا ہے اور اہل ایمان کی باتوں کا اس کو اعتبار ہے۔ منافقین کے اس تکیہ کلام کا جواب الٰہی : 82: منافقین کے اس جملہ ” ہُوَ اُذُنٌ 1ؕ “ کا جواب ان کو یہ دیا گیا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو سراپا کان سمجھتے ہو تو اس کا وہ پہلو جو تمہارے ذہن و دماغ میں ہے بالکل صحیح نہیں۔ وہ سراپا گوش محض تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔ ان کے کان ہر وقت اس تمنا کے لئے کھلے ہیں کہ ان میں تمہاری اچھی باتوں ، اچھے کاموں ، اچھے ارادوں کی خبریں پڑیں اور ان سے وہ مسرور ہوں وہ تمہاری بری خبریں اور بری سرگوشیاں سننے کے لئے کان نہیں لگائے ہوئے کہ کوئی آئے اور تمہاری کسی بری حرکت کی خبر سنائے اور وہ اسے تمہاری خبر لینے کے لئے اپنے حافظہ میں محفوظظ کرلیں۔ وہ تمہارے لئے اتنے شفیق ہیں جتنا کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے لئے ہو سکتا ہے اس طرح بھی امت کے لئے شفیق و رحیم ہے۔ وہ سارے لوگوں کے لئے جنہوں نے ایمان کا دعویٰ کیا ہے سراسر رحمت ہی رحمت ہیں بلکہ وہ انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے لئے بھی دل میں نعم گوشہ رکھتے ہیں اور ان کو تکلیف پہنچنے سے ان کو دکھ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ایذا دینے والے مستحق عذاب الٰہی ہیں : 85: رہی یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینا کیا ہے ؟ تو سن لو کہ وہ نافرمانی ہے کیونکہ ہر کفر و شرک کی بات اور انسانیت کے خلاف رویہ رسول اللہ ﷺ کی ایذا کا باعث ہے کہ اس سے نبی رحمت ﷺ کا دل دکھتا ہے اور سب سے بڑی اذیت انسان کے لئے اس کے دل کا دکھنا ہی ہے پھر یہ بھی کہ رسول اللہ ﷺ کی اذیت براہ راست اللہ کی اذیت ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی اذیت اللہ کی اذیت ہوئی لہٰذا رسول اللہ ﷺ پر طعن براہ راست اللہ پر طعن ہوا اور سول اللہ ﷺ کی مخالفت اللہ کی مخالفت اس لئے تم خود غور کرلو کہ ان لوگوں کے لئے جو رسول اللہ ﷺ کی اذیت کا باعث ہوئے اللہ کا عذاب ہوگا یا نہیں ؟ قرآن کریم کا فیصلہ تو یہی ہے کہ ” انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے لئے عذاب ہے ، عذاب دردناک۔ “ جس سے وہ یقیناً بچ نہیں سکیں گے۔
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کرلیں حالانکہ اگر یہ واقعی مومن ہوتے تو سمجھتے کہ اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے راضی رکھیں

منافقین کے بارے میں سچے مومنوں کے لئے ایک خاص ہدایتت : 86: اپنے آپ کو زیادہ سمجھدار سمجھنے والے کتنے نادان ہیں کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اپنی معصومیت اور صاف گوئی کو ثابت کرنے کے لئے آسمان و زمین کے کس طرح قلابے ملاتے ہیں لیکن کیا ایسی باتوں سے اللہ اور اس کا رسول خوش ہوجائے گا ؟ کسے ممکن ہے ” یُّرْضُوْهُ “ اس لئے کہ اللہ کی ناراضی رسول اللہ ﷺ کی ناراضی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو خوش کرنے یا ان کے خوش ہونے سے کیا ہوتا ہے جبکہ اللہ اور اس کا رسول ناراض ہو لہٰذا اگر یہ لوگ سمجھدار ہوتے تو اس بات کی فکر کرتے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو۔ فرمایا غور کرو کہ ایمان کے لئے شرط کیا ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کی خوشنودی ہے دوسرے لوگوں سے ناراضگی بھی اچھی چیز نہیں لیکن تاہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا کسی کی ناراضگی ایمان کی منافی نہیں۔ اس میں مومنوں کے لئے بھی ایک ہدایت ہے کہ وہ جو کچھ کریں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لئے کریں کیونکہ دراصل اسی چیز کا نام اسلام و ایمان ہے۔ لیکن ذرا غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ کتنے کام ہیں جو آج ہم محض لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں برادری اور خاندان کے لئے کرتے ہیں اپنی مذہبی گروہ بندی اور سیاست کی خاطر کرتے ہیں حالانکہ ان میں اللہ اس کے رسول ﷺ کی کبھی رضا نہیں ہوتی۔ فرق یہ ہے کہ اس وقت ایسا کرنے والوں کو منافق کہا جاتا تھا ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو قرآن کریم نے منافق کہا ہے لیکن ہمیں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ قرآن کریم ہم کو منافق کہے گا۔ حالانکہ فی نفسہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ قرآن کریم نے اس وقت کے منافقین کا بھی نام لے کر ان کو منافق نہیں کہا بلکہ ان کی حرکات و سکنات اور ان کے اعمال و افعال ہی کے باعث ان کو منافق کہا اور اگر آج ہمارے اعمال و افعال ، حرکات و سکنات وہی ہوں گی جو اس وقت کے منافقین کی تھیں۔ تو ہم بھی اس کی زد سے بچ نہیں سکتے۔ اگر ہم اس زعم میں مبتلا ہیں تو یہ ایک بھول پر مزید بھول ہے اللہ بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا (ابھی تک) انہوں نے یہ بات نہ جانی کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہے اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے ہمیشہ اس میں جلے گا اور یہ بہت ہی بڑی رسوائی ہے

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مقابلہ کرنے والوں کے لئے عذاب جہنم ہے : 87: مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخالف ہوجائے اس سے مخالفت رکھے ، اس سے عداوت کرے۔ جس طرح ” یُّشَاقِقِ “ کا لفظ استعمال ہے اس طرح ” یُّحَادِدِ “ کا گویا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو خوش کرنے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی بجائے مخالفت میں کمر بستہ ہوجائے اور اس چیز کو مقابلہ کہا جاتا ہے پھر اس کی سزا کیا ہوگی ؟ فرمایا : ” اس کے لئے دوزخ کی آگ ہے اور وہ ہمیشہ اس میں جلے گا اور یہ سب رسوائیوں سے بڑی رسوائی ہے جو اس روسیاہ کے حصہ میں آئی۔ “