Ayah 33:33جاہلیت کے طور طریقے چھوڑ کر گھروں میں رہنے کی تاکید خداوندی
33 ۔ { و۔ قرن } وائو عاطفہ جمع مونث حاضر اور معروف اصل میں اقررن تھا قوار سے مصدر (باب علم) یا اصل میں اقرون تھا (باپ ضرب ) ٹھہری رہو۔ بیضاوی ، نیشا پوری اور زمحشری نے لکھا ہے کہ یہ صیغہ قاریقار بروزن خاف یخاف سے بنا ہے اور اس کے معنی ہیں جمع رہو۔ لیکن بعض نے وائو کو اصل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وقر یقر وقارا اسے مشتق ہے اور اس کے معنی ہیں سکون وقار سے رہو۔ (نسان ، قاموس)
{ ببرجن } کی اصل ب ر ج ہے مضارع کا صیغہ جمع مونث حاضر اصل میں تتبرجن تھا لیکن قاعدہ کے مطابق ایک تاء حذف کردی گئی ہے اور اس کے معنی ہیں ” تم بنائو سنگھار کرنے لگو “ ” تم دکھاتی پھرو “ ” تم نمائش کرتی پھرو “ { تبرج } بنائو سنگھار کرنا ، دکھانا ، نمائش کرنا ، خود نمائی کرنا بروزن تفعل مصدر ہے۔ ” اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور اظہار زینت کرکے زمانہ جاہلیت کے دسور کے موافق مت پھرو “ آپ کو معلوم ہے کہ 28 آیت سے یہ مضمون تھا اور وہیں ہم نے عرض کیا تھا کہ بلا شبہ مخاطب تو نبی کریم ﷺ کی بیویوں کو کیا گیا ہے لیکن دراصل یہ احکام پوری امت کی عورتوں کے بیان ہو رہے ہیں اور یہ انداز مخاطب اسی طرح ہے جس طرح قرآن کریم میں اکثر مخاطب تو نبی کریم ﷺ ہی کو کیا جاتا ہے لیکن بات پورے معاشرے سے یا پوری مسلم سوسائٹی سے کرنا مقصود ہوتی ہے اور یہ انداز بیان قرآن کریم میں عام ہے۔ چونکہ یہ بات مفسرین نے نہیں لکھی اس لئے ممکن ہے کہ آپ پر شاق گزری ہو لیکن زیر نظر آیت پر ذرا ٹھنڈے دل سے غور کرو کہ کیا یہ حکم خاص نبی کریم ﷺ کی بیویوں کے لئے ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں اور اظہار زینت کرکے زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھریں یا سب مومن مسلم عورتوں کے لئے یہ حکم ہے ۔ ہاں ! کیا ارشاد ہے ؟ بلا شبہ ذکر خاص امہات المومنین ہی کا ہے لیکن حکم عام مومن اور مسلم عورتوں کے لئے ہے اور کوئی مسلم عورت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں اور { تبرج الجاھلیۃ الاولی } سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ پہلی جاہلیت کے بنائو سنگھار سے منع کیا گیا ہے کہ اس کی طرح زینت کا اظہار نہ کرتی پھریں ” تبرج الجاھلیۃ الاخری “ دوسری جاہلیت کے بنائو سنگھار اور اس کی زینت کے اظہار کرنے سے تو منع نہیں کیا گیا اور ہم اس وقت جو بنائو سنگھار نہیں بلکہ دور علم کا بنائو سنگھار ہے اگرچہ یہ دور جاہلیت کو بھی مات کر گیا ہے تو یہ بات دین سے ایک مذاق اور استہزاء ہوگی اور جس کو دین سے استہزاء و مذاق کرنا ہی ہے ان کو کون روک سکتا ہے۔ مغرب زدہ لوگ جو دین کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ تو اڑا ہی رہے ہیں لیکن کم از کم ان کے مذاق کو ہر فرد بشر مذاق ہی سمجھتا ہے اس لئے ان کا مذاق کرنا یا بنانا اس قدر نقصان نہیں پہنچاتا جس طرح کا نقصان علمائے کرام کی اکثریت اور مفتیان دین کی اکثریت پہنچارہی ہے ہمارے ملک کا کوئی اخبار یا رسالہ وہ مذہبی ہو یا سیاسی شاید ہی ہوگا جس نے یہ سوال نہ اٹھایا ہو کہ آیا ملک کی وزیر اعظم عورت ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ یہ سوال کب اٹھایا گیا اس وقت جب ملک کی وزیر اعظم ایک خاتون بن چکی تھی یہ سوال اٹھانے والے بڑے بڑے ذی علم ، صاحب عقل وفکر ، کئی حضرت العلام اور علامہ وفہامہ ، مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر ہیں پھر ہمارے مفتیوں سے 90 فیصدی نے اس کو ناجائز اور حرام قرار دیا تو کم از کم 10 فی صد نے اس کو جائز اور درست بھی قرار دیا اور دونوں ہی نے کتاب وسنت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس مسئلہ پر مستقل کتابیں تحریر ہوئیں اور ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں پمفلٹ شائع ہوئے پھر دونوں طرف کے دلائلوں کو انعام دیئے گئے اور ان کی عزت واکرام میں کتنی زبانیں کھلیں اور کتنے لوگوں نے ان کو داد دی ؟ لیکن ہمارے خیال میں یہ سوال اٹھانا اور اس کا جواب دینا خواہ وہ جواب اکثریت کے مطابق ہو یا اقلیت کے مطابق دین اسلام کے ساتھ ایک طرح کا استہزاء اور مذاق ہے اور یہی وہ استہزاء اور مذاق ہے جس نے ہم کو بہت نقصان پہنچایا ، پہنچارہا ہے اور شاید پہنچاتا ہی رہے گا۔ موجودہ مغربی جمہوریت کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ اس دور کا سب سے بڑا بت ہے۔ اس میں حصہ لینے والے اور اس کے شیدائی کون ہوئے ؟ بلا شبہ وہ سب کے سب خواہ وہ کون ہوں اور کہاں ہوں اور کیسے ہوں مشرک ہوئے۔ اس مغربی جمہوریت کے قانون کے مطابق جو عورت وزیراعظم بنی وہ کن لوگوں کی وزیر اعظم ہوئی ؟ مشرکوں کی ، پھر مشرکوں کے لئے اسلام کا فتویٰ جاری کرکے کیا اسلام کے ساتھ مذاق نہیں کیا گیا تو اور کیا کیا گیا ؟
قرآن کریم کی زیر نظر آیت کے اس صاف اور صریح حکم کی موجودگی میں اس بات کی آخر کیا گنجائش ہے کہ مسلمان عورتیں بنیادی جمہوریت میں بی ڈی ، کونسلوں اور پارلیمنٹ کی ممبر نہیں ، ان کو سفیر بنا کر دوسرے ملکوں میں بھیجا جائے ، وہ بیرون خانہ سوشل سرگرمیوں میں دوڑتی پھیریں ، سرکاری دفتروں میں مردوں کے ساتھ سینہ تان کر بیٹھیں ، کام کریں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں میں مردوں کے ساتھ تعلیم پائیں ، ہسپتالوں میں مردوں کے ساتھ نرسنگ کی خدمت انجام دیں ، ہوائی جہازوں اور ریل کاروں میں ” مسافر نوازی کے لئے استعمال کی جائیں اور تعلیم وتربیت کے لئے امریکہ اور انگلستان میں مردوں کی یونیورسٹیوں میں بھیجی جائیں۔ پھر یہ سارے کام تو عورتیں کریں اور ان کے لئے کسی دیندار سے دیندار کی رگ نہ پھڑکے اور کسی علامہ اور حضرت العلام کا دل نہ دکھے ، کسی مفتی صاحب کو طاقت نہ ہو کہ اس فتنہ کو ختم کرنے کا وہ فتویٰ جاری کریں لیکن جب وہ ان سارے مراحل کو طے کرکے وزیر اعظم کے عہدہ پر فائزیاب ہوجائے تو اس وقت مفتیان دین کو فتویٰ حرکت میں آجائے۔ یہ دین کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے ؟ معاملہ دراصل یہ ہے کہ ہم جس پارٹی کے ساتھ بھی منسلک ہوں اس پارٹی کی عورتوں کا اوپر ذکر کئے گئے سارے کاموں میں باقاعدہ حصہ ہے لہٰذا اس کو تو ہم کفر نہیں کہہ سکتے لیکن کسی عورت کا وزیر اعظم ہونا کسی ایک پارٹی کا مسئلہ ہے اور وہ جس پارٹی کا مسئلہ ہے وہ پارٹی ہماری نہیں لہٰذا اس کے لئے ہم فتویٰ جاری کرسکتے ہیں۔ واہ رے مفتی او واہ رے اسلام کہ آم کے آم گٹھلی کے دام۔
اے علمائے اسلام اور اے مفتیان دین متین اگر تم صحیح معنوں میں علماء اسلام اور مفتیان دین ہوتے تو آخر یہ جمہوریت ہی کیوں ہوتی ؟ اور اگر وہ ناگزیر تھی تو تم اس جمہوریت کے دلدادہ کیوں ہوتے ؟ تمہاری اس میں شمولیت ہی کیوں ہوتی ؟ اس وزارت عظمیٰ سے پہلے جتنے مراحل غیر اسلامی عورتیں گزرتی ہیں وہ کیوں کر گزر جاتیں ؟ اے علماء اسلام اور مفتیان دین متین تم جس جس پارٹی میں شامل ہو کیا ان پارٹیوں کی عورتیں ان مراحل میں شامل نہیں ؟ اگر ہیں اور یقینا ہیں تو کیا وہ سب کی سب بنات الاسلام ہیں جو اسلام کے مطابق رواں دواں ہیں ؟ اے علمائے اسلام اور مفتیان دین تمہارا فتویٰ سبحان اللہ ! اگر کوئی شخص کتے کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرے تو اس کا گوشت پاک ہے لیکن کھانا اس کا حرام ہے۔ حقے کا پانی پاک ہے اور وضو اس سے جائز نہیں وہ کونسی چیز ہے جو پاک پانی پڑنے سے ناپاک ہوجاتی ہے ؟
مختصر یہ کہ فتویٰ دیتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ برائی ختم ہوجائے نہ یہ کہ فقہی موشگافیوں سے فتویٰ پوچھنے والا لاجواب ہوجائے۔ علم کا اپنا ایک تقاضا ہے وہ پورا ہونا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ فتویٰ پوچھنے والا کتاب وسنت کے مطابق اپنی تفہیم کرسکے نہ یہ کہ وہ مفتی کے رعب میں آکر صرف سر ہلاتا رہے اور نہ مفتی اس طرح کا فتویٰ صادر کرے کہ صرف پوچھنے والے کی غرض پوری ہوجائے جو رعایت وہ تلاش کررہا ہے وہ اس کو بہم پہنچا دی جائے اور نہ ہی مستغنی کے گڑ ڈالنے پر فتویٰ میٹھا اور نمک ڈالنے پر کڑوا ہوجائے لیکن افسوس کہ اس وقت یہی کچھ ہورہا ہے جو سیدھا اور صاف دکھائی دے رہا ہے اور اس کے بعد ارشاد الٰہی پر غور کرو فرمایا ” نمازوں کو قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہو “۔ پہلے دو حکموں کے بعد تین حکم جو دیئے گئے یہ بھی اگرچہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے لیکن حکم ان سب کا بھی عام ہے جو ساری ایمان والی عورتوں کے لئے ضروری ہے اور جو بھی ان احکام کی خلاف ورزی کرے وہ مستوجب سزا ہے چاہے وہ امہات المومنین ہوں یا کوئی دوسری عورت اسلامی معاشرہ کے ساتھ تعلق رکھنے والی بلکہ صاف اور واضح بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں کے متعلق تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نمازوں کو ادا نہ کریں ؟ اگر ان کے پاس مال و دولت موجود ہو تو وہ زکوٰۃ ادا نہ کریں اور نہ ہی وہ نبی کریم ﷺ کے نبوت و رسالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرسکتی تھیں تو ظاہر ہے کہ ان کو مخاطب کرکے اور اصل مومن عورتوں ہی کو حکم دیاجارہا ہے کہ وہ ان کاموں میں ذرا بھی سستی نہ کریں۔ اب سمجھ میں آجائے گا کہ آخر عام حکم مطلوب تھا تو اس کو خاص کیوں کیا گیا ؟ اس لئے کہ اس عام حکم میں بعض خاص باتیں بھی تھیں جو صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی بیویوں ہی کو مخاطب کرکے کہی جانا ضروری تھیں اس لئے گویا کہ پروانہ انہی کے نام موسوم کیا گیا تاکہ ان کے لئے جو مخصوص احکام دیئے جائیں ان کی ادائیگی کو بھی وہ اپنے لئے لازم اور فرض سمجھیں اور اچھی طرح جان لیں کہ ان فرائض کی ادائیگی سے ان کو وہ خاص انعام بھی میسر آئے گا یعنی دیا جائے گا جو محض امہات المومنین ہی کے لئے خاص ہے۔
رہی یہ بات کہ وہ انعام کیا ہے ؟ تو فرمایا ” اے نبی کریم ﷺ کے اہل بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی آلودگی دور کردے اور تم کو اچھی طرح پاک وصاف رکھے “۔ رجس کیا ہے ؟ رجس کے معنی ناپاکی ، پلید ، گندہ ، عقوبت ، عذاب اور بلا کے ہیں جس کی چار صورتیں بیان کی جاتی ہیں ا۔ (1) طبیعت کی جہت سے۔ (2) عقل کی جہت سے۔ (3) شرع کی جہت سے۔ (4) ان تینوں جہتوں سے۔ کہا گیا ہے کہ رجس شرعی جوا اور شراب ، رجس عقلی شرک اور لحم خنزیر اور تینوں کا مجموعہ میتۃ (مردار) ہے ۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کی محبت بھی اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے بڑھ جائے وہ رجس ہے خواہ وہ کچھ ہو اور کوئی ہو اور یہی وہ چیز ہے جس میں اللہ تعالیٰ اہل بیت کی تطہیر چاہتا ہے اور اس سے اہل بیت کی تطہیر مقصود بالذات تھی جو بحمد اللہ ہوگئی اور بلا شبہ وہ پہلے ہی مرحلہ میں ہوگئی اور اس جگہ اس کا اعلان کیا جارہا ہے تاکہ سب لوگ جو اس وقت موجود تھے وہ بھی کان کھول کر سن لیں اور آنے والے بھی جوں جوں آتے جائیں غور وخوض کے ساتھ سنتے جائیں اور یقین جانیں کہ اہل بیت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت اس قدر بھردی گئی تھی کہ ان کے سامنے کسی چیز کی کوئی حقتقا نہ تھی اور وہ ہرچیز پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو دنیا وآخرت کی ہر ایک چیز پر اولیت دیتے تھے۔ دیکھو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ نے اعلان کیا تھا کہ اگر تم دنیا کا مال اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آئو میں تم کو دے کر رخصت کردوں تو ان میں سے ایک بھی نہ تھی جس نے دنیا کی دولت کو ترجیح دی ہو بلکہ ہرچیز پر انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو اولیت دی اور اس چیز کو قرآن کریم نے رجس قرار دیا جس سے اہل بیت کی تطہیر کردی گئی اور اس تطہرچ کا اعلان رب ذوالجلال والا کرام نے قرآن کریم میں کردیا جو رہتی دنیا تک پڑھا پڑھایا ، دیکھا دکھایا اور سمجھا سمجھایا جاتا رہیگا جس کی تفصیل قرآن کریم میں اس طرح کی گئی کہ وہ ہدایات جو موجب تطہیر ہوئیں یہ ہیں ، زینت دنیوی کا ترک کرنا ، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت وفرمانبرداری کرنا ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر ، گھروں میں ٹھہرنا اور بےضرورت باہر نہ نکلنا ، محاسن ظاہری وباطنی کی نمائش نہ کرنا ، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا وغیرہ وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کی تعریف کتنے سادہ الفاظ میں فرمادی اور ان کے دلوں کو تسلی دیتے ہوئے ان سے کہہ دیا کہ اے نبی کی بیویو ! تمہارے انہی سادہ حجروں کو اللہ تعالیٰ کے نزول وحی کے لئے چن لیا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جس سے شاہی محلات بھی محروم ہیں اس لئے تم اس نعمت کی قدر کرو اور جو وحی نازل ہوتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی کے جو حسین مناظر تمہیں دیکھنے نصیب ہوتے ہیں ان کو لوح دل پر نقش کرلو اور اللہ تعالیٰ کی بندیوں کو سیرت محمدی سے آگاہ کرتی رہو۔ یہ ہی اس آیت کا سیاق وسباق اسے دیکھنے کے بعد یہ تسلمی کرنا ہی پڑتا ہے کہ آیت کے اس جملہ { انما یرید اللہ } میں بھی وہی مخاطب ہیں جن سے پہلے اور بعد میں خطاب ہورہا ہی اور بلا شبہ وہ ازواج مطہرات ہی ہیں ؓ اور اہل بیت سے بھی وہی مراد ہیں۔ قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور لغت تین ماخذ ہیں اور تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ اہل بیت کا لفظ اول بی بی پر آئے گا اور ثانیا اولاد پر اور اس سے زیادہ وسعت دے کر اس کو امت کے برگزیدہ لوگ بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں۔ اور جیسا کہ واثلہ کی حدیث میں ہے کہ میں نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ! کیا میں اہل بیت میں سے ہوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا انت من اھلی تو بھی میرے اہل میں سے ہے۔ بلا شبہ فرقہ وارانہ تعصب سے بلند اور خالی الذہن ہوکر اگر ان آیات کا مطالعہ کیا جائے تو ان آیات کا یہی مفہوم ہے جو بلا تکلف سمجھ میں آتا ہے اللہ تعالیٰ ستیاناس کریاس فرقہ وارانہ تعصب کا کہ وہ حق فہمی کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ سبائی اولاد جن کو عام طور پر شیعہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ان کو اس بات پر اصرار ہے کہ اہل بیت میں ازواج مطہرات داخل نہیں اور اس سے مراد صرف حضرات خمسہ ہیں جن کو وہ پنج تن کے نام سے یاد کرتے ہیں یعنی خود نبی اعظم وآخر ﷺ ، حضرت علی ؓ ، سید فاطمہ ؓ اور حسن ؓ ، حسین ؓ اور پھر وہ اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے خود ساختہ دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔
ان کے دلائل کیا ہیں ؟ وہ دلائل جس کو ہم نے خود ساختہ کہا ہے یہ ہیں ، لیکن ان دلائل کے الفاظ ان کے نہیں ہیں :
ا) ان کا کہنا ہے کہ آیت کے اس جملہ میں ضیردیں مذکر ذکر کی گئی ہیں عنکم اور یطھرکم کہ اگر ان کا مرجع ازواج مطہرات ہوتیں تو مونث کی ضمیریں ذکر کی جاتیں عنکم کی بجائے عنکن اور یطھر کم کی بجائے یطھرکن کے الفاظ اسلعما ہوتے۔
ب) وہ کہتے ہیں کہ آیت کے اس حصہ میں ” بیت “ واحد مذکر ہے اور یہ چیز ازواج کی نفی کرتی ہے کیونکہ دوسری جگہ جہاں ان کے گھروں کا ذکر ہے وہاں بیت کی جمع بیوت مذکور ہے جیسے { وقرن فی بیوتکن } اور { واذکرن مایتلی فی بیوتکن }
ج) ان کی سب سے بڑی اور وزنی بات جو انہوں نے اس سلسلہ میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ { انما } حصر کے لئے آتا ہے یعنی جو چیز اس کے بعد مذکور ہے اس کے لئے یہ فعل ثابت ہے اور جو مذکور نہیں اس سے یہ فعل منفی ہے نیز ارادہ کی دو قسمیں ہیں ارادہ محفہ یعنی وہ ارادہ جس کو مراد کا پایا جانا یا نہ پایا جانا مستلزم نہیں دوسرا وہ ارادہ جس کے ساتھ مراد کا پایا جانا ضروری ہے یعنی ایسا ارادہ جس پر تطہیر اور اذہاب رجس ضرور مترتب ہوگا اس مقام پر ارادہ محفہ نہیں ہے کیونکہ ایسا ارادہ تو ہر مومن کے لئے ہے کہ وہ ہر ناپاکی سے منزہ ہو ظاہری اور باطنی نجاستوں سے اس کا دامن حیات پاک ہو۔ اہل بیت کی اس میں کوئی خصوصیت نہیں حالانکہ یہ مقام مدح اہل بیت کا ہے۔ یہاں تو کسی ایسی چیز کا ذکر ہونا چاہیے جو ان کے ساتھ مخصوص ہو اور وہ ارادہ کا دوسرا معنی ہے جس سے ان حضرات کی عصمت ثابت ہوتی ہے لیکن ازواج کی عصمت کا کوئی بھی قائل نہیں ہے یہاں وہی لوگ مراد ہوں گے جن کی عصمت ثابت ہے اور وہ یہ حضرات خمسہ ہی ہیں اس لئے ثابت ہوا کہ یہاں اہل بیت سے مراد ازواج نہیں ہیں۔
د) ان کا کہنا ہے کہ کتب اہل سنت میں بھی ایسی احادیث بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت سے مراد ازواج نہیں بلکہ حضرات خمسہ ہیں جیسے شیخ الطائفہ طوسی نے التبیان میں اور شیخ طبری نے مجمع البیان میں اور اسی فرقہ کے دوسرے مفسرین نے اپنی اپنی تفسیروں میں یہی دلائل کیے ہیں۔ آئیے ان چاروں دلائل کا بنظر انصاف جائزہ لیں پھر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ اگر ازواج مراد ہوتیں تو ضمیریں مونث کی ذکر کی جاتیں۔ اس لئے گزارش ہے کہ آیت کے اس حصہ میں اہل بیت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ مذکر ہے اگرچہ معنی مونث ہے اور عربی زبان میں بسا اوقات معنی کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ، صرف لفظ کے مطابق ضمرہ ذکر کردی جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ سورة ہود کی آیت 73 , 72 , 71 ملاحظہ فرمائیے جہاں فرشتے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حضرت اسحاق کی ولادت کا مژدہ سنا رہے ہیں۔ پاس ہی حضرت سارا کھڑی ہیں۔ آپ وفور مسرت سے ہنس پڑتی ہیں۔ ساتھ ہی اظہار تعجب کرتے ہوئے فرماتی ہیں : { یا ویلتی الدوانا عجوز وھذا بعلی شیخا ان ھذا لشئی عجیب } یعنی میں بوڑھی اور میرا شوہر بھی بوڑھا ، کیا میرے ہاں بچہ ہوگا ؟ یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ فرشتے حضرت سارا کو خطا کرتے ہوئے کہتے ہیں : { اتعجبین من امر اللہ رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت } اے حضرت خلیل کی رفیقہ حیات ! کیا تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر تعجب کررہی ہو۔ اے اہل بیت تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں “۔ { اتعجبین } مونث کا صیغہ ہے لیکن بعد میں اہل بیت کے لفظ کے پیش نظر { علیکم } میں مذکر کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں اسی پارہ کی پہلی آیت میں { من یقنت منکن } پر غور کیجئے۔ { یقنت } مذکر کا صیغہ ہے لیکن بلا اختلاف اس سے مراد ازواج ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ { من تقنت } ہوتا لیکن { من } کے لفظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے { یقنت } فرمایا گیا۔ اس لئے ان کا یہ استدلال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
دوسری دلیل کے بارے میں عرض ہے کہ ازواج مطہرات کے حجروں کی دو حیثیتیں ہیں ایک حتثی تو یہ ہے کہ امہات المومنین کے قیام گاہیں ہیں۔ دوسری حیثیت یہ ہے کہ ان حجروں میں حضور نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات اقامت گزیں ہیں۔ جب ان حجروں کا ذکر ازواج کی قیام گاہوں کی حتثی سے ہو تو انہیں جمع ذکر کیا جاتا ہے اور جب حضور کی نسبت سے ہو تو واحد { وقرن فی بویتکن } میں ہر زوجہ محترمہ کو حکم ہے کہ وہ اپنے اپنے حجرہ میں ٹھہرے۔ اسی طرح { ما یتلی فی بیوتکن } میں بھی ہر بی بی کا حجرہ مراد ہے کیونکہ وحی کا نزول مختلف حجرات میں ہوتا تھا لنک اہل بیت میں ” بیت “ سے مراد حضور اقدس ﷺ کی قیام گاہ ہے اس لئے اس کو واحد ذکر کیا گیا۔
تیسرا استدلال بھی بڑا انوکھا ہے۔ آپ کی دلیل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ مقام مدح اہل بیت کا ہے۔ حالانکہ یہ مقام مقام مدح نہیں بلکہ مقام موعظت و ارشاد ہے ، جو باتیں اور جو خوبیاں اہل بیت کو اپنانی چاہئیں اور جس ضابطہ حیات کی ا ہیں پابندی کرنی چاہیے اس کا تفصیلی ذکر ہورہا ہے ، اس لئے اس دلیل کی بنیاد ہی درست نہیں۔ نیز عصمت انبیاء کا عقیدہ تو متفقہ عقیدہ ہے لیکن دوسرے حضرات کی عصمت آپ کا اپنا مفروضہ ہے اس پر دلیل کی عمارت کیسے تعمیر کی جاسکتی ہے۔ نیز اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہاں سے عدم عصمت ثابت ہوتی ہے ورنہ تحصیل حاصل لازم آئے گی یعنی جو ہستیاں پہلے ہی معصوم اور ہر طرح کے رجس سے منزہ اور مبرا ہیں ، ان کے متعلق یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو پاک اور طاہر کرنا چاہتا ہے اس کا کوئی مطلب نہیں اور یہ بھی کہ اہل سنت کی کتابوں میں جہاں جہاں یہ احادیث بیان ہوئی ہیں وہیں یا تو خود صاحب کتاب نے جیسے ترمذی وغیرہ اور یا پھر شارحین نے اس کی چھان بین کرکے واضح کردیا ہے کہ ان کی سندات میں ایک یا دو راوی ایسے پائے گئے ہیں جن میں رافطی ، ضعیف ، کذاب ، احمق ، خبیث النفس ، مردود ، ضعیف الحدث ہیں تعجب ہے کہ جن لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ اہل سنت کی کتابوں میں اس طرح کی روایات پائی گئی ہیں ان کو یہ کیوں معلوم نہ ہوا کہ یہ سب کی سب ضعیف اور کمزور ہیں جن میں زیادہ ترحصہ رافضیوں کا ہے جو منافقت کے باعث اسلام میں گھس آنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انہوں نے من گھڑت روایات داخل اسلام کی ہیں اور یہی ان منافقین کا سب سے بڑا کارنامہ ہے جو انہوں نے سرانجام دیا لیکن بحمد اللہ اہل سنت نے اس سارے کوڑے کرکٹ کی حیثیت واضح کردی اور کوئی بات بھی ان کی مبہم نہیں رہنے دی جس کو واضح نہ کرسکے ہوں۔ اندریں صورت ان روایات کو حجت یا دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کو تحریر کرکے اس پر لکیر پھیر دے تو سب جانتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ جن لوگوں نے ان کی تحریرات کو پڑھا ان کو وہ اتنی موٹی لکیر کیوں نظر نہ آئی اور اگر آئی تو انہوں نے کم از کم اس کا ذکر خود ہی کردیا ہوتا تاکہ ان کی دیانت کا پتہ تو چل جاتا کہ وہ دیانت دار ہیں لیکن رفض اور دیانت دونوں ضدین ہیں جو کبھی اکٹھی نہیں آسکتیں البتہ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ رفض اور خیانت قوام ہیں اگر نہیں تو بہرحال دونوں کی جنس ایک ہے۔
معلوم ہوگیا کہ جن روایات میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ آیت صرف حضرات خمسہ کے بارے میں نازل ہوئی یا یہ کہ ازواج مطہرات اس میں داخل نہیں وہ تمام کی تمام روایات قابل حجت نہیں اس لئے ان روایات کے پیش نظر قرآن کریم کی اس نص کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی سیاق وسباق سے جو معنی سمجھے جاتے ہیں ان کا نفی کی جاسکتی ہے۔ خیال رہے کہ احادث اگر صحیح بھی ہوں تو وہ قرآن کریم کی ناسخ نہیں ہوسکتیں نہ ان کی وجہ سے قرآن کریم کی نصوص میں تغیر وتبدل کیا جاسکتا ہے چہ جائیکہ جب وہ ایسے راویوں سے مروی ہوں جو پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔ اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں اہل کے لفظ کا اطلاق بیوی پرہ ہوتا ہے یا نہیں ؟
ایک آیت تو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں جہاں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی اہلیہ حضرت سارہ کا ذکر ہے۔ گھر میں کوئی بچہ ہے نہ بچی ، صرف حضرت سارا زوجہ خلیل ہیں۔ ان کے بارے میں ارشاد ہے { ورحمۃ………………… مجید } (ھود) کوئی آدمی بھی یہ جرات نہیں کرسکتا کہ یہاں اہل بیت کے لفظ سے حضرت سارا کو نکال سکے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ محترمہ اور اپنے بچوں کے ہمراہ مصر واپس جا رہے ہیں ان کا گزر وادی سینا سے ہوتا ہے۔ رات کی تاریکی ہے ، جاڑے کا موسم ہے ، ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے۔ دور سے ایک آگ جلتی نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس منظر کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے { فلما قضی موسیٰ الاجل و سارباھلہ انس من جانب الطور نارا۔ قال لاھلہ امکثو انی انست نارا } یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ مقرر کی ہوئی مدت پوری کرلی اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ روانہ ہوئے تو کوہ طور کی ایک سمت میں انہوں نے آگ دیکھی اور اپنے اہل کو کہا کہ تم ذرا یہاں ٹھہرو ، میں نے آگ دیکھی ہے۔ یہاں بھی اہل سے بیوی اور بچے سب مراد ہیں۔
سورة طہ میں ہے { وقال…………… نارا } کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس سفر میں آپ کی زوجہ آپ کے ہمراہ نہ تھیں۔ قرآن کریم کی ان متعدد آیات کے بعد بھی اگر کوئی شخص اہل بیت سے ازواج مطہرات کو خارج کرنے پر مصر ہو تو اس کی ہٹ دھرمی کی داد دینی چاہیے۔
حدیث شریف میں ہے : ان النبی ﷺ اعطی الاھل حظین والغرب حظا۔ الاھل الذی لہ زوجۃ و عیال حضور ﷺ نے اھل کو مال غنیمت میں دو حصے دیئے اور اکیلے آدمی کو ایک حصہ دیا۔ آھل کا معنی بتایا گیا ہے کہ جس کی بیوی بھی ہو اور بچے بھی ہوں۔
آخر میں اہل لغت کی توضیح بھی ملاحظہ فرمالیں۔ علامہ جوہری لکھتے ہیں : اھل الرجل : اھل الدار… وقد اھل فلان یاھل ویاھل اھولا ای تزوج وکذلک تاھل قال ابوزید آھلک اللہ فی الجنۃ ای ادخلکھا وزوجک فیھا (صحاح)
ہم اپنے محاورہ میں بھی بیوی کو اہل خانہ یا گھر والی کہتے ہیں۔ یہ حضرات فرمائیں کہ یہ حضرت علی ؓ کی زوجہ محترمہ آپ کی اہل بیت سے تھیں یا نہیں ؟ حضرت شہر بانو حضرت حسین ؓ کے اہل خانہ میں سے تھیں یا نہیں ؟
آپ کی اپنی بیوی صاحبہ آپ کے اہل خانہ میں سے ہے ؟ ذرا آپ بیگم صاحبہ کو یہ کہہ کر تو دیکھیں کہ وہ آپ کے اہل خانہ یا گھر والی نہیں ہے ، تو آپ کو آٹے دال کا بھائو معلوم ہوجائے ۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کی بیگم صاحبہ تو آپ کی اہل خانہ ہوں۔ ائمہ مبارکہ کی ازواج طاہرات تو ان کے اہل میں شمار ہوں۔ کیا آپ کو صرف نبی اعظم وآخر ﷺ کی ازواج مطہرات سے بیر ہے جنہیں قرآن کریم نے امہات المومنین فرمایا ہے کہ انہیں اہل بیت میں شمار نہ کرنے پر بضد ہیں اور من کا لفظ بھی اپنی ہی ذات کے لئے مخصوص کرتے ہیں غور کرو کہ یہ بندر بانٹ نہیں تو اور کیا ہے۔
Ayah 33:34اللہ کی آیات اور حکمت کی باتیں جو تمہارے گھروں میں بیان کی جاتی ہیں ان کو یاد کرو
34 ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی بیویوں کے دلوں کی پاکیزگی او طہارت کے بعد یعنی دنیوی مال و دولت کے حرص و لالچ کے بعد ان کی جو اصل ذمہ داری ہے وہ ان کو یاد دلائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تو یہ ہے کہ وہ رجس اور اس کے ساتھ ہر قسم کی برائیوں سے اہل بیت نبوی کو پاک کرکے تم کو امہات امت صحیح معنوں میں بنائے تاکہ تم بھی رسول کے ساتھ امت کی روحانی پرورش کرنے والیاں اور امت کے لئے نمونہ بن جائو بلا شبہ یہی ارادہ الٰہی تھا کہ تم بیبیوں کو اختیار دیا گیا کہ تم دنیا کا مال لے کر اگر چاہو تو نبی کریم ﷺ سے علیحدہ ہوجائو تو تم نے مشیت ایزدی کے مطابق دنیا کے مال کو لات ماری اور اس غربت اور فاقہ میں نبی کریم ﷺ کی رفاقت کو اختیار کیا تو اب تاریخ میں یہ کندہ ہونا چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کی بیبیوں کے دل میں مال دنیا کی ایک تنکے کے برابر بھی وقعت نہیں تھی اور بلا شبہ یہی ہوا چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ خلفائے وقت جب ان کے پاس کچھ مال بھیجتے تو وہ سب کا سب اٹھا کر اللہ کی راہ میں خرچ کردیتیں۔ زیر نظر آیت میں ان کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی جارہی ہے کہ اے نبی ﷺ کی بیویو ! تم اسے یاد رکھو جو تمہارے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور حکمت سے جو کچھ پڑھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس جگہ آیات اللہ سے مراد فہم قرآن کریم ہے قرآن کریم کے وہ الفاظ بھی جو آپ ﷺ کی طرف وحی کیے گئے اور وہ مفہوم بھی جو نبی کریم ﷺ کے دل میں اتارا گیا اور آپ ﷺ نے وہ من وعن امت کے سامنے پیش کردیا گویا قرآن کریم کے الفاظ کی حفاظت بھی تم کو کرنا ہے اور مفہوم کی حفاظت بھی اور آپ ﷺ کے اخلاق اور افعال کو بھی اچھی طرح یاد رکھنا ہے کیونکہ حکمت کے معنی سنت ہی کے ہیں اور اس کی وضاحت احادیث میں بھی موجود ہے اور ہدایت یہ ہے کہ ان کو پڑھنا بھی ہے اور ان کی پیروی بھی کرنا ہی جو پڑھنے کا اصل مدعا ہے اور یہی وہ خاص حقوق ہیں جن حقوق کے پیش نظر نبی کریم ﷺ کو زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت خاص مرحمت کی گئی اور یہ وہ حق ہے جو بحیثیت خاوند ان کے ذمہ نہیں ڈالا گیا بلکہ بحیثیت رسول ان پر ڈالا گیا ہے اور یہ حق اولاد کی پرورش اور اولاد پیدا کرنے کی غرض وغایت کے علاوہ ہے وہ تو ساری عورتیں کرتی آئی ہیں ، کررہی ہیں اور کرتی رہیں گی اس سے زائد حق جو ان کے ذمہ لگایا گیا وہ آیات اللہ اور اقوال وافعال رسول ﷺ کا محفوظ رکھنا تھا اور محفوظ رکھنے کی غرض یہی تھی کہ اسے لوگوں کو پہنچایا جائے اور وہ بھی خاص کر عورتوں کے ذریعہ سے تاکہ وہ لوگوں کے لئے ہدایت اور نور کا موجب ہو او یہی وہ پاک غرض تھی جس کے لئے نبی اعظم وآخر ﷺ کی بیبیاں آپ ﷺ کے گھر میں تھیں اور غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ مدنی زندگی میں شرائع کی تفاصیل اور مختلف قسم کے امور اس قدر تھے کہ وہ ایک یا چار بیبیاں محفوظ نہ رکھ سکتی تھیں تعدد ازواج کی جو وجوہ تھیں ان میں ایک وجہ یہ بھی تھی اور باقی کا ذکر بھی آگے آئے گا۔ واضح ہوا کہ امہات المومنین کا اصل کام تعلیم و تعلم امت تھا اور وہ انہوں نے بحمداللہ باحسن و خوبی پورا کیا۔ رضی اللہ عنھم ورضوان عنہ۔