Ayah 33:19بلا شبہ وہ تمہارے بارے میں بخیل ہیں ، خوف کے وقت گویا وہ مر ہی جاتے ہیں
19) وہ لوگ تمہارا کسی کام میں دل سے کھل کر ساتھ نہیں دیتے حالت جنگ ہو یا حالت امن۔ منافقین کا جو رویہ ہے اس کا مزید انکشاف کیا جارہا ہے اور دشمن کی طرف سے اگر کوئی خوف یا خطرہ پیش آجائے تو آپ کی طرف اس طرح دیدے پھرا پھرا کر دیکھتے ہیں جیسے کسی پر نزع کی حالت میں غشی طاری ہورہی ہو اور جب خوف و خطرے کا وقت گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فتح ونصرت کے بعد قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لے کر آپ ﷺ کے استقبال کے لئے پیش پیش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ شریک جنگ تھے ، ہمیں بھی ہمارا حصہ ملنا چاہیے۔ بلا شبہ یہ ہرگز مومن نہیں ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے سارے اعمال اکارت اور ضائع کردیئے ہیں اور ان کے اعمال ضائع کردینا اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ { اشحۃ } جمع ہے شحیح کی اور اس کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں بخیل اور حریص اور دونوں ہی آپس میں لازم وملزوم ہیں بخیل حریص ہوتا ہے اور حریص ضروری ہے کہ بخیل بھی ہو جس میں بخل ہوگا اس میں حرص بھی بہت ہوگی یہ دوسری بات ہے کہ کسی میں بخل کا عنصر زیادہ ہو اور کسی میں حرص کا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ شح صرف بخل ہی کو نہیں کہتے بلکہ شدید قسم کے بخل کو کہتے ہیں اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال خرچ کرنے میں کنجوسی کرنے کو بخل کہتے ہیں لیکن مال خرچ کرکے کسی کے ساتھ بھلائی کرنے میں کنجوسی کو شح کہتے ہیں گویا غریب اور مسکین مسلمانوں کی امداد کے لئے یا جہاد کی تیاری کے لئے انہیں مال دینے کی دعوت دی جاتی ہے تو ایک دمڑی خرچ کرنا بھی ان کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ شاید کنجوسی اور بزدلی بھی توام ہیں ، کنجوس آدمی پر اگرخوف طاری ہوجائے اور وہ کسی مشکل میں پھنس کر رہ جائے تو اس کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے ان کی حالت کا کتنا واضح اور صحیح نقشہ کھینچا ہے کہ ان کی آنکھیں گھومنے لگتی ہیں اور اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ گویا موت کے فرشتہ نے آکر اس کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور وہ اس طرح دبوچ رہا ہے کہ مرنے والے کی جو حالت ہوتی ہے وہی اس بزدل کی ہورہی ہے ، زبان سوکھ کر لکڑی کی مانند ہوچکی ہے اور گلا اس طرح خشک ہے کہ اس میں دھول جم گئی ہے اور دریدوں میں تری کا نام بھی نظر نہیں آتا۔ ایک طرف منافقین کی یہ حالت ہے جس کو اس جگہ بیان کیا جارہا ہے اور ان کی وہ ریشہ دوانیاں ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیات میں بیان ہوا ہے ان ساری چیزوں کے مقابلے کے ساتھ ہی ان اصل مخالفین کی حالت کا اندازہ اور ان کے بھگا دینے کی اسکیم الٰہی اور آپ کی اور صحابہ کرام کی ثابت قدمی سبحان اللہ۔ آپ ﷺ نے نہایت دلیری کے ساتھ ان نامساعد حالات کا مقابلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے آڑے وقت میں ایک آدمی کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے کہ اس احزاب میں مختلف جماعتیں شریک تھیں جنہوں نے مل کر مدینہ پر حملہ کیا تھا ، انہیں جماعتوں میں سے ایک قبیلہ غطفان بھی تھا جن کی بہت بڑی طاقت تھی اسی قبیلہ غطفان کے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت سے مالا مال کردیا اس شخص کا نام نعیم بن مسعود تھا وہ عین حالت نازک میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ میں اپنے ایمان کے اظہار کے لئے حاضر ہوا ہوں بلاشبہ اس وقت حالات بہت ہی نازک ہیں اور اس وقت تک میری قوم کے لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں میرے ذمہ اپ اسلام کا کوئی کام لگادیں۔ آپ ﷺ کا دل باغ باغ ہوگیا اور آپ ﷺ نے اس اللہ کے بندے سے فرمایا کہ ابھی آپ واپس چلے جائیں اور جب حالات درست ہوں گے اور لشکر اسلام فتح مند ہوگا تو آپ اس وقت آئیے۔ وہ اللہ کا بندہ چلا گیا اور واپس جاکر اس نے وہ کارنامہ انجام دیا جو رہتی دنیا تک زندہ وجاوید رہے گا اس نے واپس جاکر بنو قریظہ سے رابطہ کیا اور ان کو بتایا کہ تم لوگوں نے قریش اور ان کے معاہد گروہوں سے جو معاہدہ کیا ہے اس کی خبر نبی کریم ﷺ کو پہنچ چکی ہے اور مسلمان تمہیں تمہارے کیے کی سزادیں گے اور دوسری بات یہ کہ حالات بتا رہے ہیں کہ قریش مکہ اور ان کے حواری آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو آئندہ کل تک محاصرہ اٹھادینے والے ہیں کیونکہ ان کے پاس رسد کا نام ونشان بھی باقی نہیں ہے اور بہت سے لشکروں میں ویسے بھی پھوٹ پڑچکی ہے اور قریش چاہتے ہیں کہ تم کو ننگا کرکے جائیں تاکہ ان کے جانے کے بعد مسلمان تم کو تمہارے کئے کی قرار واقعی سزا دے سکیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر تم نے معاہدہ کر ہی لیا ہے تو اب قریش مکہ سے ضمانت لئے بغیر ان کا ساتھ نہ دینا اور یہ بھی کہ جب تم قریش مکہ سے ضمانت طلب کرو گے تو سارا راز تم پر کھل جائے گا اور پھر یہ صاحب قریش مکہ کے پاس پہنچا اور ان کو کہا کہ میں مدینہ میں گیا تھا تاکہ حالات معلوم کروں میں نے دیکھا کہ ان لوگوں کے تو حوصلے بہت بلند ہیں۔ رہے بنو قریظہ تو وہ ابھی تک تمہارے ساتھ نہیں آئے اور وہ آئیں گے بھی نہیں جب تک تم سے ضمانت نہ لے لیں کیونکہ وہ مسلمانوں میں رہ رہے ہیں تم اگر ان کو چھوڑ کر چلے جائو گے تو ان کا پرسان حال کون ہوگا ؟ یہ وہ بات تھی جو ایک لحاظ سے بالکل حقیقت تھی کہ مسلمانوں کے حوصلے بلا شبہ بہت بلند تھے جو کچھ کمزوری تھی وہ منافقین اور معاہدین بنو قریظہ کی طرف سے تھی۔ نعیم بن مسعود کی یہ صاف صاف باتیں بنو قریظہ اور قریش پر اپنا اثر دکھاگئیں۔ قریش نے بنو قریظہ کو کہلا بھیجا کہ تم نے ہماری دعوت کو قبول کیا تھا اور ہمارے ساتھ آکر مل جانے کا عزم و ارادہ کیا تھا اس میں دیر کیوں ہورہی ہے ؟ بنو قریظہ نے ان سے اس معاملہ میں ضمانت طلب کی تو قریش کو محسوس ہوا کہ شاید بنو قریظہ ہمارے آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں پکڑوانا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ جو انہوں نے معاہدہ کیا ہے وہ اس میں مخلص نہیں اس لئے قریش نے ضمانت دینے سے صاف انکار کردیا تو بنو قریظہ نے بھی ان سے ملنا ترک کردیا ، ان حالات نے قریش اور ان معاہدین پر بہت برا اثر ڈالا اور وہ تقریباً بددل ہوگئے۔ ادھر تقریباً محاصرہ کو ایک ماہ ہونے کو تھا ، سردی کے مارے لوگ پریشان حال ہوچکے تھے ، قدرت خداوندی نے مسلمانوں کو مزید مدد کی اور اس سردی کے موسم میں آندھی اٹھی تو اس نے پورے لشکر کے اندر کھلبلی مچا دی ، ان کے خیمے اکھاڑ کر کہیں سے کہیں پھینک دیئے اور سامان کو رات کے اندھیرے میں اڑا کر کہیں سے کہیں جا گرایا اور لشکر اس طرح تتر بتر ہوگیا کہ ان کے متعلق کچھ معلوم ہی نہ ہوسکا کہ کون کس طرف کو نکل گیا اور کس کس کے ساتھ کیا ہوا اس طرح دو دن مسلسل آندھی چلتی رہی اور دو دن کے بعد میدان صاف تھا ۔ اس طرح اندرون شہر بھی حالت بدل گئی اور احزاب بھی اس طرح وہاں سے بھاگیں کہ دوبارہ ایسا احتجاج پھر نہ ہوسکا بلکہ آہستہ آہستہ مخالفت کے بادل چھٹنے شروع ہوگئے اور اس طرح مطلع صاف ہوا کہ اب مسلمان جس طرف کو جاتے فتح مند ہی واپس آتے ، سب سے پہلے خیبر فتح ہوا اور اس کے بعد مکہ مکرمہ اور پھر سارا عرب اسلام کی طرف امڈ آیا اور دن بدن حالات بدلتے ہی چلے گئے۔
Ayah 33:20احزاب منتشر ہوگئیں لیکن ان کو یہی معلوم نہ ہوسکا کہ حالات کیا تھے اور کیا ہوگئے ؟
20) مدینہ سے باہر خندق کے پار جن لشکروں نے ڈیرے ڈالے تھے وہ وہاں سے بھاگ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان چندمعدودے آدمیوں کو فتح ونصرت سے نوازا اور بغیر جنگ لڑے اور بغیر کسی بہت بڑے جانی نقصان کے سارے لشکر تتر بتر ہوگئے اور مدینہ کا محاصرہ ختم ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلامی لشکر کو بطور پیش گوئی مطلع کردیا کہ الان غزوھم ولا یغزوننا نحن نسیر الیھم (بخاری) ” اب وہ لوگ ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہوں گے بلکہ ہم ان پر حملہ کریں گے اور ان کے ملک پر چڑھائی کریں گے۔ “ انشاء اللہ۔
محاصرہ ختم ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے لشکر اسلام کی خاص مددفرمائی اور نہتوں نے ہتھوں والوں کو بھگا دیا ، اس لحاظ سے اب بحمد اللہ مطلع صاف تھا ، ادھر رسول ﷺ نے اس خوشخبری کا اعلان بھی کردیا کہ آئندہ کبھی یہ لوگ اس طرح اجتماع کرکے نہیں آئیں گے بلکہ یہ کہ اس طرح اب دوبارہ وہ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے لیکن منافقین خوف و دہشت ، بزدلی ، کمزوری اور ایمانی فقدان کے باعث ابھی تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور لشکر ابھی تک واپس نہیں ہوئے اگر وہ یہاں سے اٹھے ہیں تو یقینا کسی نئے حملہ کی تیاری کریں گے اور وہ دوبارہ مدینہ پر حملہ کردیں گے ۔ قریش اور غطفان کے لشکر اس طرح واپس پلٹنے والے نہیں ہیں اور اگر وہ فی الواقع دوبارہ حملہ کردیں تو ان کی خواہش یہ ہوگی کہ کہیں دور جنگل میں صحرا نشین بدوئوں کے پاس جا بیٹھیں اور وہیں بیٹھ کر مدینہ النبی کے حالات معلوم کرتے رہیں اور جنگی پوزیشن کے متعلق جانتے رہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے گویا فتح ہوجانے کے بعد بھی ان کے عزائم ابھی اسی طرح کے ہیں شاید ابھی مصیبت کا وقت آنے والا ہے۔ اس وقت تو وہ ناسمجھی کا شکار ہیں فرمایا اگر یہ لوگ فی الواقع آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہوتے تو یہ بجائے فائدہ کے کچھ نقصان ہی کرتے۔ یہ لوگ جہاد کے قابل ہی کب ہیں اور بزدلی اور کمزوری نے ان کے پلے رہنے ہی کیا دیا ہے ، یہ کاغذ کے گھوڑے جن کا محض جسم ہی جسم دکھائی دے رہا ہے اندر سے کھائی ہوئی لکڑیوں کی طرح یہ بالکل کھوکھلے ہوچکے ہیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ محاصرہ کے دنوں میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے متعلق تفاسیر میں بہت کچھ تحریر ہوچکا ہے لیکن چونکہ اس میں رطب یا بس سب کچھ ہے اور اگر اس کو نقل کرنے کے بعد اس کا تجزیہ کیا جائے اور اس کو منقہ اور صاف کرکے واضح کیا جائے تو بہت کچھ تحریر کرنا پڑے کیونکہ کوڑے کرکٹ کو اکٹھا کردینا کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ اس سے غلط نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور ہو رہے ہیں اس لئے اگر وقت اجازت نہ دے تو ان چیزوں کا ذکر نہ کرنا ہی ذکر کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی میں ایک بار بھی کسی کمزوری اور بزدلی کا اظہار نہیں کیا اور مسلمانوں کے عزم وجزم میں اگر کہیں ذرا بھی کمزوری آئی تو ان کو اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے چونکا دیا۔ بلاشبہ وہ معصوم نہیں تھے لیکن ان سے کسی گناہ کا صدور بھی نہیں ہوا ہاں نبی ورسول بھی اور عام انسانوں میں جو فرق رکھا گیا ہے وہ ایک فطری امر ہے۔ رسول اللہ ﷺ حوصلہ ہار رہے ہوں اور کوئی صحابی آکر آپ ﷺ کی ہمت بندھائے اس نظریہ کو ان الفاظ کے اندر جس طرح بھی پھرایا جائے یہ نظریہ کبھی صحیح نہیں ہوسکتا جن روایات سے اس طرح کی بو باس آتی ہو ان کے بارے میں جب تک گہری نظر ڈال کر تجزیہ نہ کیا جائے اور حق کو حق اور باطل کو باطل کرکے نہ دکھایا جائے ایسی باتوں کا ذکر کسی حال میں جائز نہیں وہ روایت خواہ کسی ہی حدیث کی کتاب میں کیوں نہ ہوں اور ان کا راوی خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو۔ اور بلاشبہ جب صحیح انداز سے ناقدانہ نظر ڈالی جائے تو قانون وضابطہ ایسا موجود ہے جو حق وصداقت کو باطل وکذب سے بالکل الگ کرکے رکھ دیتا ہے۔ اتنی لمبی بات اس لئے کی ہے کہ ایسے حالات میں احتیاط کس قدر ضروری ہے اور ہر چوطرفہ نظر ڈالنا تحریر کرنے ولے حضرات کا کام ہے کہ وہ قارئین کی صحیح راہنمائی کریں ورنہ اس مشکل راستہ کی طرف ان کو آنے ہی نہ دیں بلکہ ان کے لئے کوئی آسان راہ تلاش کریں تاکہ وہ دائیں بائیں دیکھے بغیر سیدھی راہ چلتے جائیں۔
اس جگہ ایک ضابطہ حیات بھی یاد کرلیں اور اس کو اچھی طرح دل میں جگہ دیں تاکہ جب بھی ضرورت پیش آئے تو اس کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کرسکیں وہ یہ کہ اسلام ایک نہایت ہی سادہ اور آسان دین ہے جس میں کسی طرح کی کوئی ایچ پیچ نہیں ہے۔ وہ جو قانون اور ضابطہ ایک بار بنا دیتا ہے کبھی اس کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا کوئی قانون اور ضابطہ ایک دوسرے کے خلاف ہے جہاں بھی خلاف ہونے کا آپ کو شبہ ہورک جائیں اور اس پر خود غور کریں ، کسی صاحب علم سے پوچھیں یقینا آپ کی غلطی واضح ہوجائے گی اور اسلام کا یہ قانون اپنی جگہ صاف اور ثابت نکلے گا۔ اس جگہ جو ضابطہ یا قانون عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب بھی زندگی میں کوئی ایک فرض جاری ہو اور دوسرے فرض کا وقت سر پر آجائے تو دیکھنا ہوگا کہ پہلا فرض روک کر دوسرا فرض ادا کیا جاسکتا ہے یا نہیں اگر پہلا فرض روک کر دوسرا ادا نہ کیا جاسکے تو دوسرے فرض کو موخر کرکے پہلے فرض کی تکمیل لازم وضروری ہے اور جب ہی پہلا فرض مکمل ہوجائے تو دوسرے کا وقت شروع ہوجاتا ہے خواہ اس کا وقت اس وقت موجود نہ ہو اور یہ تاخیر محض پہلے فرض کی ادائیگی کے باعث ہو۔ اس کی مثال اس غزوہ احزاب سے تعلق رکھتی ہے اس لئے اس کو اس جگہ عرض کیا جارہا ہے جہاں روک کر یا جہاد جاری رکھ کر باری باری صلوٰۃ موقت کو ادا کیا جاسکتا ہے اور اس باری کا حکم بھی واضح ہے کہ اس کی شکل کیا ہوگی لیکن اگر جہاد جاری ہو اور دوران جہاد صلوٰۃ موقت نہ ادا کی جاسکے تو جہاد کو جاری رکھ کر صلوٰۃ کو موخر کیا جاسکتا ہے اور اس غزوہ احزاب میں ایسا ہوا ہے کہ محاصرین کی طرف سے ایک روز صبح کے وقت سے تیر اندازی شروع ہوگئی اور حملہ زور پکڑتا گیا اور پورا دن جہاداسی طرح جاری رہا کہ نماز موقت کسی طرح بھی ادا نہیں کی جاسکتی تھی تو آپ ﷺ نے صلوٰۃ موقت کو موخر کردیا اور اس طرح چار نمازوں کا وقت موخر ہوگیا جس سے یہ اصول واضح ہوگیا جس کا ذکر میں نے اوپر کردیا۔ جب حملہ پسپا ہوا تو آپ ﷺ نے عشا کے وقت چاروں نمازیں باجماعت یکے بعد دیگرے ادا کیں اور اس طرح امت کو یہ ضابطہ مقرر کرکے دے دیا گیا تاکہ ضرورت کے وقت اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکے اور بغیر جنگ کے بھی اس طرح کی مثالیں ملتی ہیں جن سے اصول کی وضاحت ہوتی ہے جس کا اوپر ہم نے ذکر کیا ہے۔ آدمی سوجائے اور نیند ہی نیند میں صلوٰۃ موقت کا وقت نکل جائے تو جاگ کھلنے پر فوراً وضو کرے اور صلوٰۃ موقت ادا کرے بشرطیکہ مکروہ وقت نہ ہوا اگر مکروہ وقت ہو تو اس کو نکل جانے دے۔ حج کے مناسک میں نماز موخر کی جائے تاکہ ایک فرض کی تکمیل ہو جب کہ تکمیل جاری ہو۔ قضائے حاجت اور کھانے پینے کی سخت ضرورت وغیرہ بھی نماز کو موخر کرسکتی ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں ضروریات اور لازمات میں سے ہیں۔ اسی طرح تیمارداری کا فرض جاری ہو تو جہاد کو موخر کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت نہیں پھر دوبارہ کبھی موقع آیا تو شامل ہوجائے ، غور کرو گے تو بہت سی باتیں زندگی کی تم کو نظر آتی جائیں گی۔