Ayah 33:60اگر منافقین جھوٹی خبریں پھیلانے والے باز نہ آئے تو ان کو مدینہ بدر کردیا جائے گا
60 ۔ اب منافقین اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو آخری وارننگ (Warning) دی جارہی ہے کہ تمہاری اصلاح کے لئے تم کو بہت وقت دیا جاچکا اب اس سے زیادہ تم کو برداشت نہیں کیا جائے گا اگر تم اپنے ان افعال سے باز آگئے تو خیر ورنہ تم کو مدینہ النبی سے نکال دیا جائے گا اور اس طرح نبی کریم ﷺ سے گویا وعدہ کیا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو آپ کو یعنی مسلمانوں کو ان منافقوں اور جھوٹی خبریں اڑانے والوں پر مکمل طور تسلط دے دیا جائے گا ، ان کی نشاندہی کردی جائے گی پھر وہ آپ کے معاشرہ اسلامی میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔ { مرجفون } ارجاف سے ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو جھوٹی خبریں پھیلا کر لوگوں میں اضطراب پیدا کرتے ہیں اور یہ لوگ اس معاملہ میں بہت ماہر ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی موجود تھے لیکن پیغمبر اسلام ﷺ کے ہاں تو ہر وقت وحی آتی رہتی تھی اور ان کی حالت ننگی کی جاتی تھی۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد مدینہ میں ان کی بہت کثرت ہوجاتی اگر پیش گوئی کی طور پر یہ نہ کہا گیا ہوتا کہ اگر یہ لوگ اپنی ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کو اس جگہ زیادہ دیر ٹکنے نہیں دیا جائے مگر بہت تھوڑا { لا یج اور ونک الا قلیلا }
ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ پیش گوئی کس طرح حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے اس جگہ کوئی بات نہ کہی اور بالکل خاموشی سے آگے گزر گئے حالانکہ یہ قرآن کریم کا وہ زندہ وجاوید معجزہ ہے جس کو فی الواقع معجزہ کہا جاسکتا ہے اور اس طرح کے حقیقی معجزات قرآن کریم میں بکثرت بیان ہوئے ہیں اور جہاں بھی بیان ہوئے کسی نے اس کی طرف دھیان نہ دیا اور اپنے بناوٹی اور اختراعی معجزوں کو جو یہود ونصاریٰ کے گھڑے ہوئے تھے ان کو قرآن کریم کی تفسیر میں اس طرح جگہ ڈی کہ گویا وہ قرآن کریم ہی میں بیان کئے گئے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں کوئی ایسی بات بیان نہیں کی گئی ہوتی چونکہ قصص انبیاء کا بیان یہود کے ہاں بھی تھا اور یہود نے اپنی طرف سے بطور تفسیر اس میں بہت کچھ ملا دیا تھا قرآن کریم نے معجزانہ طور پر ان کے ملائے ہوئے کو اس طرح نکالا کہ اس کا ذکر تک نہ کیا اور یہی قرآن کریم کا اس سلسلہ میں اعجاز ہے کہ وہ بجائے اس کے کہ یہود کے ملائے ہوئے کی نشاندہی کرکے اس کا رد شروع کردے وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ ان کو ملائے ہوئے حصوں کو حذف کردیتا ہے اور سلامتی کے ساتھ آگے گزر جاتا ہے لیکن ہمارے مفسرین نے ایسی کوئی جگہ نہیں چھوڑی بلکہ ہر جگہ یہود کے ان گھڑے ہوئے قصوں کو بطور تفسیر قرآن کریم میں ان جگہوں پر لاکر نقل کردیا اور اب وہ اس طرح پڑھے اور سمجھے جاتے ہیں اگر کوئی اللہ کا بندہ اس کی نشاندہی کرتا ہے تو بجائے اس کہ کہ آج کل کے یہ جاہل حضرت العلام ، علامہ اور مولانا ، پروفیسر اور سکالر کہلانے والے اس کا جواب دیں شورڈالنا شروع کردیتے ہیں کہ دیکھو قرآن کریم کی فلاں تفسیر میں یہ لکھا ہے ، فلاں میں بھی یہ لکھا ہے لیکن فلاں شخص ” قرآن “ کا کھلا انکار کررہا ہے گویا انہوں نے جدل اور دھوکے سے ” اس تفسیر “ کا انکار ” قرآن “ کا انکار کہہ دیا اور عوا اتنا شعور نہیں رکھتے کہ وہ ہر جگہ غور کرکے دیکھیں کہ قرآن کریم کا کہاں انکار کیا جارہا ہے۔ بس یہ وہ دھوکا اور فریب ہے جس نے ہماری حالت خراب سے خراب ترکردی ہے چونکہ ہم ہر جگہ اللہ کے فضل و کرم سے نشاندہی کرتے ہی چلے آرہے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کیے بغیر نشاندہی کر رہے ہیں انشاء اللہ العزیز جن لوگوں نے اس کو باقاعدہ پڑھا ان کو معلوم ہوگا اور یقینا ہوگا۔
بات زیر نظر آیت کی ہورہی تھی اور ہم ذرا تفہیم کے لئے دوسری طرف نکل گئے۔ بیان یہ کیا جارہا تھا کہ یہ آیت قرآن کریم کا زندہ وجاوید معجزہ ہے جو حرف بحرف پورا ہوا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ نے بطور پیش گوئی وعدہ کیا تھا کہ اے پیغمبراسلام ! ہم ان لوگوں کو آپ ﷺ کے قریب نہیں رہنے دیں گے ، ان منافقین کو مدینہ سے اس طرح نکال باہر کیا جس طرح مکھن سے بال نکالا جاتا ہے۔ ذرا غور کرو کہ عالم اسلام میں آج تک جتنی تحریکیں اس بیماری کا شکار تھیں ان میں سے ایک بھی مدینہ سے نہیں اٹھی بلکہ سب کی سب مدینۃ النبی سے دور ہی رہیں بلا شبہ آج تک یہ سلسلہ بدستور قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ ذرا غور کریں کہ پیغمبر اسلام کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کا زمانہ آیا ، مدینہ اور مضافات مدینہ میں جہاں جہاں یہ بیج موجود تھا اس نے اچانک سرنکالنا شروع کردیا اور پھر کیا ہوا کہ جوں جوں وہ سرنکالتے گئے اسی وقت ان کا سر اس طرح کاٹ دیا گیا کہ کوئی ایک فتنہ بھی چند دنوں سے زیادہ نہ پنپ سکا اور جڑوں تک سے اس کو اکھاڑ کر رکھ دیا گیا۔ بہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کی طرف زیر نظر آیت میں بطور پیش گوئی بیان کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ کی وفات کے فوراً بعد کے زمانہ کے حالات کسی تاریخ کی کتاب سے پڑھ کر دیکھ لو اس جگہ ان فتنوں کا حوالہ اس لئے نہیں دیا جارہا کہ اس طرح بات بہت لمبی ہوجائے گی بہرحال ایک بار صحابہ کرام کا خدائی لشکر بھی گھبرا گیا لیکن ابھی ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کا سال اول بھی پورا نہ ہوا تھا کہ ان سارے فتنوں کا سرکچل کر رکھ دیا گیا۔ ایک بار آیت کے اس ٹکڑے کو پھر پڑھو کہ { لایجادرونک الا قلیلا }
اسلام میں منافقین کی سب سے بڑی اور خطرناک جماعت عبداللہ بن سبا کی جماعت ہے جو ایسی سب جماعتوں سے پرانی اور خطرناک جماعت ہے بلا شبہ یہ جماعت پھٹ کر اس کی بیسیوں شاخیں ہوگئیں ، موجودہ شعیوں کے جتنے فرقے ہیں ان سب کا تانا بانا کسی نہ کسی رنگ میں اس جماعت کے ساتھ جاکر مل جاتا ہے لیکن اس جماعت کا ایک فرد بھی مدینہ منورہ کا رہنے والا نہیں تھا کسی زمانہ میں مدینہ طیبہ کے کسی آدمی کو بھی یہ لوگ اپنے ساتھ نہ لگا سکے اگر کوئی ان کے نرغے میں اپنی غلطی کے باعث پھنس بھی گیا تو اس کو مدینہ چھوڑنا ہی پڑا اور انجام کار وہ مدینہ چھوڑ کر یہاں سے نکل گیا۔ سیدنا عثمان ؓ کے زمانہ میں اس تحریک نے جڑ پکڑی لیکن بصرہ ، شام ، کوفہ ، مصر ، ایران ، عراق اور دوسرے بہت سے مقامات پر ان لوگوں نے اپنی جڑیں مضبوط کیں حتیٰ کہ شام بھی ان کی زد سے نہ بچ سکا جس کے قریب ایک مدت تک وہ نہ جاسکے تھے لیکن مدینۃ الرسول میں ان کی جڑیں نہ لگ سکیں اور آج تک یہ سلسلہ بدستور چلا آرہا ہے اور رہتی دنیا تک اسی طرح رہے گا بلا شبہ سبائی تحریک نے اسلام کو بہت ہی نقصان پہنچایا اور آج تک پہنچایا جارہا ہے لیکن مدینۃ النبی کی اللہ نے اس طرح حفاظت فرما دی کہ وہاں ان کا اثر قائم نہ ہوسکا۔ ان سطور میں ہم نے صرف اشارہ کیا ہے اور صرف اشارہ ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی تاریخ کا تانا بانا اتنا وسیع اور اس کے پائوں اتنے لمبے ہیں کہ اس کا پورا تجزیہ کرنے کے لئے پورے عالم اسلام کی تاریخ کو ایک بار کھنگالنا پڑتا ہے جو ایک وسیع النظر مورخ کا کام ہے۔ جو کچھ زیر نظر آیت کہہ رہی ہے وہ ہم نے آپ کے سامنے اشارتاً رکھ دیا ہے۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی اس معاملہ میں نظر بہت وسیع تھی ، انہوں نے جان دے دی لیکن مدینۃ النبی کو چھوڑنا پسند نہ کیا حالانکہ امیر معاویہ ؓ جیسے زیرک انسان نے ان کو بزور مشورہ دیا کہ آپ مدینہ کو چھوڑ کر شام چلے آئیں لیکن ان کی ایک نہ سنی اور نبی کریم ﷺ کے قدموں میں جان دے دی۔ آپ صرف ان بلوائیوں کے حالات کو تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ پر ہماری بات روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی کہ ان بلوائیوں میں ایک آدمی بھی مدینۃ الرسول کا نہیں تھا جن لوگوں کا نام لیا جاتا ہے وہ محض تاریخ کو مسخ کرنے والوں کی کارستانیاں ہیں اور انہوں نے تاریخ کا رخ بدلنے کے لئے یہ چالاکی کی ہے تاکہ ان کا بچائو ہوسکے اور اس میں وہ بلاشبہ ایک حد تک دنیاوی لحاظ سے کامیاب بھی ہوئے ہیں اگرچہ انہوں نے اپنی آخرت مکمل طور پر برباد کرلی ہے۔
Ayah 33:61منافقین پھٹکارے گئے ہیں اور اب وہ جہاں بھی جائیں گے لعنت ان کو نہیں چھوڑے گی
61 ۔ گزشتہ آیت میں منافقین مدینہ کا انجام بتایا گیا تھا اور زیر نظر آت نے اس کی مزید وضاحت فرمادی ہے کہ لعنت وپھٹکار کے مستحق ٹھہرے ہیں گویا اب جہاں بھی وہ مدینہ میں رہیں گے لعنت و پھٹکار ہی میں رہیں گے جب تک ظاہر نہیں ہوں گے اور جب ظاہر ہوں گے تو پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ { اینما ثقفوا } بلا شبہ عام ہے کہ جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں گے لیکن چونکہ یہ پیش گوئی مدینۃ النبی کے لئے تھی اسی لئے { اینما ثقفوا } کے معنوں میں ” فی المدینۃ “ کے الفاظ تسلیم کیے جائیں گے کیونکہ اوپر آیت میں یہ قید موجود ہے جو یہاں بھی بحال رہے گی اور { ملعونین } کی میم پر جو تشدید ہے وہواضح کررہی ہے کہ اس آیت کا تعلق گزشتہ آیت کے ساتھ قائم ہے اور دونوں کا مضمون مشترک ہے اس لئے اوپر جو پیش گوئی کی گئی ہے اس کا تعلق اس آیت کے ساتھ بھی اسی طرح قائم ہے اور اس طرح دونوں آیتوں کا مفہوم واضح اور مربوط ہوتا ہے بلا شبہ جو ہم نے کہا ہے وہ مفسرین میں سے کسی نے بھی بیان نہیں کیا اور ان دونوں آیتوں کی تفسیر آپ کسی تفسیر سے اٹھا کر دیکھ لیں مضمون واضح نہیں ہوتا اور نہ اس بات کی سمجھ آتی ہے کہ یہ مفسر صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً آپ ضیاء القرآن ہی کو لے لیں انہوں نے آیت 61 پر حاشیہ اس طرح دیا ہے کہ منافقوں اور بد باطن لوگوں کے لئے اے حبیب ! تیرے لئے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ چند روز یہاں رہیں گے اس کے بعدا نہیں یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ جہاں جائیں گے ان پر لعنت اور پھٹکار ہوگی جہاں بھی وہ پائے جائیں گے اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں انہیں گرفتار کرلیا جائے گا اور انہیں بڑی رسوائی اور ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا “۔ سمجھ میں کچھ آیا ؟ کیا یہ کوئی خاص لوگ تھے جو منافق تھے جن کو چند روز یہاں رکھنے کے بعد یہاں سے نکال دیا گیا اور پھر جہاں وہ گئے مارے گئے اور قتل کیے گئے ؟ اگر بات ایسی ہے تو ان کا معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون تھے ، کہاں گئے ، کیسے پکڑے گئے اور کیسے قتل ہوئے ؟ اور اگر عام منافقت اس سے مراد ہے تو کیا اب دنیا میں بکثرت منافق موجود نہیں ہیں ؟ جن کو نہ پکڑا گیا ہے اور نہ ہی وہ قتل کیے گئے ہیں۔ وضاحت ہونی چاہیے تھی کہ قرآن کریم کیا کہہ رہا ہے اور اس آیت کا واضح مفہوم کیا ہے جب کہ ہم دیکھ رہے ہیں اس وقت بھی اسلامی حکومت کے اندر منافق موجود تھے اور آپ کی وفات کے بعد بھی وہ موجود رہے اور اسلام کے اندر ریشہ دوانیاں کرتے رہے اور ان کی تحریک نے کامیابی بھی حاصل کی اور اس وقت سے لے کر آج تک موجود ہیں بلکہ اب تو ان کی ہر طرف کثرت نظر آرہی ہے اور اس طرح آیت کا مفہوم واضح نہیں ہوتا کیونکہ وہ مشاہدہ کے بھی خلاف ہے اور تاریخی لحاظ سے بھی حالانکہ قرآن کریم کی کہی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہوسکتی اور خصوصاً اس کے ساتھ تو آنے والی آیت نے مزید چیلنج بھی کردیا ہے کہ جو بات زیر نظر دونوں آیتوں میں کہی جارہی ہے یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہے اور ایسا اعلان ہے جس طرح کے کیے ہوئے اعلان کبھی غلط نہیں ہوتے نہ آج تک کوئی غلط ثابت کرسکا اور نہ ہی آئندہ ثابت کرسکے گا۔
Ayah 33:62شروع سے اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ چلا آرہا ہے اور اللہ کا طریقہ کبھی غلط نہیں ہوتا
62 ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ شروع سے چلا آرہا ہے کہ اس نے جس بات یا چیز کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ ایسا ہوگا یعنی جس پیش گوئی کا اعلان بھی کسی رسول سے کروایا وہ بالکل اسی طرح ہوئی جس طرح رسول نے اس کا اعلان کیا یہ گویا ایک طرح سے چیلنج ہے کہ آج تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کی گئی پیش گوئی کوئی شخص ، دنیا کی کوئی تاریخ غلط نہیں کرسکی اور اس پیش گوئی کو جس کو گزشتہ دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے کوئی غلط ثابت نہیں کرسکے گا ، حالات کچھ سے کچھ ہوجائیں ، زمانہ کہیں کا کہیں پہنچ جائے ، دور جدید کا انسان آسمانی سیاروں پر کمندیں ڈالے ، وہ ترقی کرتے کرتے ہفت افلاک سے گزر سکتا ہے تو گزر جائے لیکن جو بات اللہ نے کہی ہے وہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوسکتی بلکہ ساری دنیا اس کو غلط کرنے پر تل جائے اور دنیا کی ساری حکومتیں مل کر اپنا زور لگا لیں ، رب ذوالجلال والا کرام کا فرمان ہی درست ثابت ہوگا اور اس کے مقابلہ میں پوری دنیا کے لوگ کو خفت اٹھانا پڑے گی بلا شبہ آج تک یہی ہوا اور رہتی دنیا تک یہی ہوتا رہے گا اگر اس کے خلاف کوئی دلیل ہے تو سامنے لائو ، ھاتوبرھانکم ان کنتم صادقین۔
قرآن کریم میں بیسیوں سے متجاوز ایسی پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک واقعہ ہونے سے پہلے بتادیا گیا کہ ایسا ہوگا پھر بڑی بڑی طاقتوں نے مل کر زورلگایا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے لیکن جب وہ وقت آیا تو وہی ہوا جس کا اعلان کیا جاچکا تھا۔ غور کرو کہ جتنے انبیاء کرام اور اللہ کے بندوں کو یہ بشارت دی گئی کہ تمہارے ہاں بیٹا ہوگا حالانکہ ابھی اس کے ہونے کا نام ونشان بھی نہ تھا لیکن وہ وقت آیا کہ مبشر بیٹے پیدا ہوئے۔ جب اعلان ہوا کہ ہم فلاں حکومت کو ختم کرنے کے ایک بندہ پیدا کرنے والے ہیں جو پیدا ہوا کر بڑا ہوگا اور پھر ایک وقت آئے گا کہ وہ اس حکومت کا خاتمہکردے گا ، بڑی بڑی حکومتوں نے سرتوڑ کوشش کی اور خون کی ندیاں بہادیں ، پوری نسل کی نسل کو ختم کیا لیکن اللہ نے جس کو اس مخصوص کام کے لئے پیدا کرنا تھا پیدا ہی نہیں کیا بلکہ اس حکمران سے اس کی پرورش کا انتظام بھی کرادیا اور انجام وہی ہوا جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی ورسول بھیجے ان میں سے جتنے انبیاء کرام اور رسل عظام وحی کی اب تم اپنی قوم میں اعلان کردو کہ اتنی مدت کے اندر اندر تم مان لو تو فبہا ورنہ تم کو تہس نہس کرکے رکھ دیا جائے گا پھر جب وہ قوم اپنی بات پر اڑیرہی تو عین اسی وقت ان کو ہلاک کر رکھ دیا اور ان کو اس طرح ملیامیٹ کردیا گویا گویا وہ کبھی ان جگہوں پر بسے ہی نہ تھے۔ خود ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے بیسیوں پیش گوئیوں کا اعلان کرایا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو مخاطب کرکے ان کی نشاندہی فرمائی اور نتیجہ وہی رہا جس کا آپ ﷺ نے اعلان فرمایا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ بدر کے عین موقع پر آپ ﷺ نے مشرکین کے مقتولین کا اعلان باقاعدہ جنگ ہونے سے قبل کردیا لیکن ہر معاملہ اسی نشانی کے مطابق ہوا جو آپ ﷺ نے فرمائی تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے وہی ارشاد فرمایا جو اللہ نے آپ ﷺ کو حکمدیا۔ صلح حدیبیہ میں جو شرائط طے ہوئیں اس وقت بڑے بڑے کبار صحابہ کرام کے رنگ فق ہوگئے کہ ہم نے کیا کیا یہاں تک کہ عمر ؓ جیسے جلیل القدر اور جلالی طبیعت کے آدمی نے آپ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یارسول اللہ ﷺ ! کیا ہم اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں رہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر کیا میں کا اللہ رسول نہیں ہوں ؟ کیا میں نے جو کچھ کیا اپنی مرضی سے کیا ہے ؟ تب عمر ؓ خاموش ہوئے اور سارے صحابہ کی آنکھوں میں خون اتررہا تھا لیکن وقت نہ بتایا کہ جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا وہی کرنا چاہیے تھا جس کے نتیجے میں ایک سال کے اندر پورے عرب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا ہی تھا کہ یہ اعلان کردیا گیا کہ اگر یہ رسول نے گھڑا ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو تو تم سب مل جائو اور مزید بھی اللہ کے سوا جن کو چاہتے ہو بلا لو اور اس جیسی ایک سورت ہی بنا کرلے آئو۔ پھر یہ اعلان رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں 23 سال تک برابر دہرایا جاتا رہا اور آج تک بدستور اعلان ہورہا ہے لیکن کسی بڑے سے بڑے فصیح اللسان گروہ ، جماعت ، معاشرہ نے بھی اس چیلنج کا کوئی توڑ پیش کیا ؟ اس طرح اگر وضاحت شروع کردیں تو ہزاروں باتیں ہیں کس کس کو تحریر کیا جائے گا اس لئے زیر نظر آیت میں اعلان کیا جارہا ہے کہ یہ جو اوپر پیش گوئی بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اعلان کی جارہی ہے جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے کوئی آدمی اس کو غلط ثابت نہیں کرسکتا اس لئے خوب کان کھول کر سن لو کہ وہی ہوگا جس کا ہم نے اعلان کیا ہے پھر سن لو کہ اعلان کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ مدینۃ النبی میں منافقت کبھی نہیں پنپ سکتی اگر کسی نے اس کی کوشش کی تو اس کو مدینۃ النبی سے نکال باہر کردیاجائے گا۔ بلا شبہ یہی ہوا ، یہی ہورہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔ رہی یہ بات کہ منافقت کیا ہے ؟ تو اس کی وضاحت بہت سے مقامات پر کردی گئی ہے خصوصاً سورة الانفال اور التوبہ میں آپ اس کی وضاحت دیکھ سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے وہ منافق جن کے پاس صحابہ کرام اور خصوصاً اصحاب ثلاثہ ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، اور عثمان ؓ کے ایمان کے ماپنے کا مقیاس موجود ہے ان کو ہمارا چیلنج ہے کہ وہ اس ہی مقیاس سے قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ماپ کر ذرا دکھائیں کہ نتیجہ کیا رہا ہے ؟ رہے ہم تو ہم بفضلہ ان کا ایمان کے کوہ ہمالیہ سمجھتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے بعد پوری دنیا کے انسانوں سے بلند مقام سمجھتے ہیں اور ان کے بعد چوتھے نمبر پر سیدنا علی ؓ کہ پہچانتے ہیں۔ رضی اللہ عنھم ورضواعنہ۔
Ayah 33:63اے پیغمبر اسلام ! لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، آپ ﷺ ان کو جواب دیں
63 ۔ مشرکین مخالفین ومعاندین کا شروع سے یہ رویہ آرہا ہے کہ جب ان کو قیامت کا نام لے کر ڈرایا گیا تو انہوں نے ہمیشہ آپ ﷺ کا مذاق اڑایا اور پھر مذاق ہی مذاق میں پوچھنا شروع کردیا کہ اچھا جناب ذرا یہ تو ارشاد فرمائیے کہ وہ قیامت جس کا ذکر آپ ﷺ بار بار کرتے ہیں وہ کب آئے گی ؟ کبھی کہتے کہ دیکھو آپ ﷺ ہم کو ڈرا رہے ہیں اور منع کر رہے ہیں کہ یہ اور یہ کام مت کرو ورنہ تم کو عذاب آلے گا پھر جس جس کام سے آپ ﷺ نے ہم کو روکا ہے ہم نے وہ ایک ایک کام کیا ہے اور کرتے ہی چلے آرہے ہیں پر وہ تمہارا بتایا ہوا عذاب آکیوں نہیں جاتا ؟ اب تو آپ ﷺ کو ہجرت کیے بھی پانچ چھ سال گزررہی ہیں اور یہ سوال آپ ﷺ پر مکہ میں بھی کئی بار کیا گیا تھا چناچہ ہم ان کی تفصیل پیچھے سورة الاعراف کی آیت میں بیان کر آئی ہیں جب کہ سورة الاعراف عروہالوثقی کی تیسری جلد میں ملے گی اس لئے تفصیل کے لئے پیچھے مراجعت کریں۔
زیر نظر آیت میں سوال کرنے والے کو جواب دیا جارہا ہے کہ اے سوال کرنے والے تو کیا جانے کہ شاید قیامت بالکل قریب ہی ہو اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت فرمادی ہے کہ من مات قد قامت قیامئہ جو شخص مرگیا گویا اس کی قیامت تو آگئی کیونکہ اس نظام دنیا میں ہر آنے والے کو جانا ہے جیسا کہ روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ کس طرح ہر ایک شخص اپنے اپنے وقت پر اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جارہا ہے اور پھر یہ بھی طے ہے کہ اس دنیا سے ایک بار رخصت ہونے والے کو دوبارہ نہیں آنا ہے ، نہ کوئی آیا ہے اور نہ ہی آئے گا اور اس طرح کی جتنی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں وہ سب کی سب کہانیاں ہی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہاں ! قرآن کریم اور احادیث میں بعض جگہ بطور امثال اس طرح کی اگر کوئی بات بیان کی گئی ہے تو یہ مثال محض تفہیم کے لئے بیان کی جاتی ہے اور بعض اوقات خواب میں انسان کو اس طرح کا اشارہ کرکے بھی بات سمجھائی جاتی ہے اور مضمون خود اس کی وضاحت کررہا ہے۔ یہ بات اس لئے عرض کی جارہی ہے کہ قرآن کریم نے فیصلہ کن بات یہ کہہ دی ہے کہ اس دنیا سے ایک بار اٹھالیے جانے والے کو دوبارہ کبھی نہیں بھیجا جائے گا چناچہ اس کی تفصیل بھی ہم نے بہت سے مقامات پر کردی ہے خصوصاً سورة المومنون کی آیت 99 , 98 میں اس کی پوری وضاحت کردی گئی ہے دیکھو عروہ الوثقی کی جلد ششم۔
بہرحال یہ سوال آپ ﷺ سے جب بھی پوچھا گیا خواہ کسی نے مذاقاً استفسار کیا اور خواہ بطور تفہیم پوچھا یا کسی نے دوسرے سامعین کو کچھ سمجھانے کے لئے اس طرح کا کوئی سوال کیا جیسا کہ جبرائیل نے خود آکر نبی اعظم وآخر ﷺ سے سوال کیا تھا۔ (صحیح بخاری) ہر بار آپ ﷺ کی طرف سے اس کا ایک ہی جواب دیا گیا کہ وہ کب آئے گی اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، اس نے ہم کو صرف یہ بات بتائی ہے کہ قیامت آئے گی یہ نہیں بتایا کہ وہ کب آئے گی تو جو بات اس نے کہی ہے اس پر ہمارا ایمان ہے اور جس پر ہمارا اپنا ایمان ہے وہی تم سے کہہ رہے ہیں جن باتوں سے تم کو روکا ہے ان سے پہلے خودر کے ہیں اور اللہ کا حکم تم تک بھی پہنچایا جارہا ہے اس سے زیادہ ہم کو علم نہیں دیا گیا اور اس علم کی ہم کو کوئی ضرورت بھی نہیں کہ وہ کب آئے گی کیونکہ ہمیں اپنی جگہ پر ہر وقت تیاررہنا یہی ہے کہ وہ ہم کریں جن کا صلہ جنت ہے اور ان کو ترک کردیں جن کا صلہ میں دوزخ واجب ہوجاتی ہے۔ علاوہ ازیں ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے۔ اے پیغمبر اسلام ! یہ کافرو مشرک آپ ﷺ سے اگر استہزاء پوچھتے ہیں تو ان کو اس طرح بات بتادیں تاکہ ان کے کان کھڑے ہوں۔
Ayah 33:64بلا شبہ ملعون کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب تیار کھڑا ہے
64 ۔ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا مذاق اڑایا ہے اور اس کی باتوں پر یقین ہی نہیں کیا اور ہر معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی کھل کر مخالفت کی ہے تو ان کی اس دنیا کی زندگی پوری ہونے کی دیر ہے مرے اور سیدھے مقام سجین میں پہنچ گئے جو مجرمین ومعاندین کی حوالات ہے اور اللہ جب ان کو اس حوالات سے نکالنے کا حکم دے گا تو معاف کرنے یا چھوڑنے کے لئے نہیں دے گا بلکہ حوالات نکال کر سیدھا جیل بھیج دے گا۔
Ayah 33:65وہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا اور وہ کسی کو اپنا مددگار نہیں پائیں گے
65 ۔ فرمایا ان لوگوں کو حوالات (سجین) سے نکال کر سیدھا جہنم میں دھکیل دیا جائے گا اور اب وہ اس دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور جو تعلقات انہوں نے دنیا میں اس غرض کے لئے جوڑے تھے کہ یہ لوگ ہم کو آخرت میں کام آئیں گے وہاں ہماری سفارش کرکے ہمیں پاس کرادیں گے وہ ان کی مدد کے لئے ہرگز ہرگز نہیں پہنچیں گے اور وہاں ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہوگا اور بلاشبہ اس طرح کے سارے تعلقات ان کے ٹوٹ جائیں گے اور اس طرح جو وہ موہوم امیدیں رکھتے تھے وہ سب کی سب ہوا ہوجائیں گی۔
Ayah 33:66ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے تو اس وقت افسوس کریں گے
66 ۔ دوزخ میں جب ان کو بھوننے کے لئے الٹ پلٹ کیا جائے گا یا یہ کہ دوزخ کی آگ سے جل بھن کر ان کے چہروں کی حالت بدل جائے گی کبھی کچھ اور کبھی کچھ نظر آئے گی اس وقت وہ پکاریں گے اور نہایت افسوس سے کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم کو کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی تابعداری کی ہوتی لیکن اب اس افسوس کا کوئی فائدہ ان کو نہیں پہنچے گا کیونکہ وقت نکل جانے کے بعد کف افسوس ملنے سے وقت کبھی واپس نہیں آجاتا۔ بلاشبہ وقت واپس آنے کی کہانیاں بھی ہمارے ہاں بہت گھڑی گئی ہیں لیکن کہانیوں کا کیا ہوتا ہے وہ تو کہانیاں ہی ہوتی ہیں حقیقت تو وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اور یادرکھو کہ گیا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا یہ یار لوگوں کی محض خوش فہمیاں ہیں جن کا کوئی سر سر نہیں ہے اگر ہمارے ہاں انہیں باتوں کو پذیرائی حاصل ہے اور کوئی شخص جتنے زیادہ سے زیادہ جھوٹ بول سکتا ہے یا تحریر کرسکتا ہے اتنا ہی وہ زیادہ مقبول قرار پاتا ہے۔ چناچہ تحریر ہے کہ :
” امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی (رح) ایک روز نماز فجر کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے دیکھا کہ ایک شخص قبلہ رو پہلوئے راست پر سو رہا ہے خیال کیا کہ شاید نماز پڑھ کر سوگیا ہے پھر ظہر کے وقت گئے تب بھی اسی کروٹ سے سوئے پایا پھر عصر ومغرب کے اوقات میں بھی وہی کیفیت دیکھی جب وقت مغرب تنگ ہونے لگا تو اس کو جگایا اور فرمایا کہ نماز قضا ہوئی جاتی ہے وہ شخص جاگا اور وضو کرکے اول نماز فجر کی نیت کی تو سب دیکھتے ہیں کہ ٹھیک صبح کا وقت اور نور کا تڑکا ہے ، اس نے ظہر کی نیت کی تو وقت ظہر معلوم ہونے لگا اور جب عصر کی نیت باندھی تو وقت عصر موجود تھا اور مغرب کی نیت کی تو مغرب کا پھر مدد صاحب سے اس نے کہا کہ نماز کے لئے تو آپ نے جگا دیا مگر حال نہ پہچانا کہ کیا ہے بھلا اس حالت کے روبرو نماز کیا شے ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھئے کہ نماز کچھ شے نہیں البتہ ایسی حالت کے فقیر ہر وقت نماز میں رہتے ہیں گو ظاہر میں نماز نہ پڑھیں “۔ (تذکرہ غوثیہ ص 335 , 334)
جن دماغوں میں اس طرح کی باتیں بیٹھ چکی ہیں اور پھر وہ تہ بہ تہ جم چکی ہیں ان کے سامنے قانون الٰہی کے سربستہ رازوں کا ذکر کیا جائے تو وہ قانون الٰہی کو کیا جانیں گے ان کے دماغوں میں تو اتنا کچھ بھرا پڑا ہے کہ اب قانون الٰہی کی باتوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں ہے جو باتیں بچپن سے دل میں سمائی ہیں وہ کانوں کی راہ سے آئی ہیں اور کانوں ہی کے راستے سے نکلیں گی۔ کسی نے خوب کہا ؎
بھو بھاگت بھاگت بھاگے
رنگ لاگت لاگت لائے
بہت دنوں کا سویا منوا
جاگت جاگت جاگے
ہمارا مطلب واضح ہے کہ رفع اوہام وشکوک کے لئے ایک مدت چاہیے ع
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
Ayah 33:67وہ بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے سرداروں نے ہم کو گمراہ کیا
67 ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جو دوزخ میں کف افسوس مل رہے ہیں ، انہوں نے پہلی بات جو کی وہو تو وہ تھی جو اوپر گزر گئی وہ افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کی ہوتی اور اب وہ دوسری بار بولے ہیں تو کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم معذرت خواہ ہیں ، ہمارا اتنا قصور نہیں جتنی ہم کو سزا دی جارہی ہے کیونکہ ہمارے سردار اور ہمارے پیشوا ہمیں جس راہ پر چلاتے رہے ہم چلتے رہے ، ہم خود گمراہ نہ تھے انہوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اور سیدھی راہ سے بہکا دیا تھا۔ قرآن کریم نے ان کی اس بات کو اس طرح غلط قرار دیا کہ یہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو سوائے اس کے کہ تمہاری ایک شرارت ہے اور کچھ نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ ہم نے تمہارے ہاں اپنے بندوں کو بھی بھیجا تھا اور وہ تمہارے اندر ہی رہتے تھے اور ہم کو مخاطب کرکے کہا کرتے تھے کہ ” اے اللہ ! ہم ایمان لے آئے پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تجھ سے بہتر رحم کرنے والا کوئی نہیں ، لیکن تم نے انہیں اپنے تمسخر کا مشغلہ بنایا یہاں تک کہ تمہارے اس مشغلہ نے تم کو ہماری یاد ہی بھلا دی اور تم ان لوگوں کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے آج ہم نے ان کو ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا اور وہی ہمارے ہاں فیروز مندٹھہرے “۔ (المومنون 111 , 110:23)
Ayah 33:68وہ اپنے سرداروں اور گزرگوں کے لئے دوگنے عذاب کی اپیل کریں گے
68 ۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ہمارے رونے اور چیخنے اور آہ وزاری کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہے کیونکہ یہ قانون الٰہی کے مطابق فیصلہ ہوچکا ہے اور قانون خداوندی کوئی موم کی ناک نہیں جدھر چاہا موڑ لیا اس لئے اب وہ اپنے ان سرداروں اور بزرگوں کے لئے جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا وہ دوہرے عذاب کی اپیل کریں گے کہ اے اللہ ! ہم بےقصور ہیں ، ہمیں معافی ملنی چاہیے اور اگر ہم کو معافی نہیں ملتی تو ہماری یہ درخواست ضرور قبول ہو کہ ہمارے سیدوں ، سرداروں اور پیروں ، بزرگوں کو دوچند عذاب دیا جائے اس لئے کہ ان ظالموں نے اپنے آپ کو بھی ہلاک کیا اور ہمارا بیڑا بھی انہیں لوگوں نے تباہ وبرباد کردیا بلا شبہ ان کا دوہرا جرم ہے اور ان کو دہرا عذاب بھی ملنا چاہیے اور ان کو اپنی رحمت سے ضرور دور کردے۔ اس کی وضاحت بھی ہم پیچھے عروۃ الوثقی ، جلد تین میں کر آئے ہیں ملاحظہ کریں سورة الاعراف آیت 37 وغیرہ۔
Ayah 33:69ایمان والو ! تم اپنے رسول کو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح مت دکھ دو
69 ۔ ” اے ایمان والو ! “ کا خطاب قرآن کریم میں ہر اس آدمی سے ہے جس نے ایمان لانے کا دعویٰ کیا ہے او یہ بات اپنی جگہ حق ہے کہ ہر دعویٰ کرنے والا اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوتا یا جس طرح کہ اس کو سچا ہونا چاہیے اس طرح کا سچا نہیں ہوتا تاہم اس کو خطاب تو اس طرح کیا جاسکتا ہے اور اس طرح کیا گیا ہے اور بلا شبہ ضعیف ال ایمان لوگ یا منافق ہمیشہ انبیاء کرام کے پے آزار ہوتے ہیں اور ایسے لوگ بہرحال مسلمانوں میں بھی موجود تھے اور موجود ہیں۔ زیر نظر آیت میں ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ اے ایمان والو ! تم یہود کی طرح مت ہوجائو اور ان کی طرح پیغمبر اسلام کو مت ستائو جس طرح انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ستایا تھا اگر تم نے کوئی حرکت ایسی کی تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تمہاری باتوں سے اسی طرح بچالے گا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی قوم سے بچایا اس لئے کہ ہمارا پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ کے ہاں بہت بڑی شان و شوکت والا ہے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنی قوم میں ایک صاحب جلال نبی ورسول تھا۔ بلا شبہ بنی اسرائیل نے اپنے محسن رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو بات بات پر دکھ دیا اور اپنی جہالت کے باعث ان کی وعزت و تکریم نہ کی جو کہ ان کو کرنی چاہیے تھی۔ یہود موسیٰ علہ السلام کو رسول بھی مانتے تھے اور قدم قدم پر ان کی مخالفت بھی کرتے تھے اور ان کے حکم سے سرتابی کرنا ان کا شیوہ ہوچکا تھا۔ بنی اسرائیل کی زندگی کا وہ دور جس دور میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے نہایت ذلت اور غلامی کا دور تھا ، اسی ذلت اور غلامی کے دور سے نکالنے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور ان کی مکمل حفاظت کرکے وہ وقت لایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نبوت و رسالت کا عہدہ پاکر مصر سے ہجرت کرنے کے لئے مبعوث ہوئے کہ بنی اسرائیل کو اس استبداد اور ظلم سے نکال کر رفعت آسمانی تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ تم یہاں سے ہجرت کرا کر ان کو فلسطین کی طرف لے چلو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہی کیا جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا لیکن جب ہجرت کرکے نکلے تو چند قدم بھی نہ نکلے تھے کہ بنی اسرائیل نے اس طرح کہنا شروع کردیا کہ :
” خداوندہی دیکھے اور تمہارا انصاف کرے کیونکہ تم نے ہم کو فرعون اور اس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھنائونا کیا ہے ہمارے قتل کے لئے ان کے ہاتھ میں تلوار دے دی “۔ (خروج باب 22 , 21:5)
بلا شبہ فرعون نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا اور ابھی وہ بحرقلزم سے پار نہیں ہوئے تھے تو ان کو جالیا یعنی دیکھ لیا ، ادھر موسیٰ (علیہ السلام) بھی بنی اسرائیل کو عین اسی محاذ پر لے گئے جہاں سے ہدایت الٰہی کے مطابق بنی اسرائیل کو پار نکالنا چاہتے تھے۔ آپ نے اپنی لاٹھی سے ضرب لگاتے ہوئے نشاندہی کردی کہ یہاں سے یہاں تک دریا میں سے تم جتنا جلدی گزر سکتے ہو گزر چلو اور اس طرح وہ اس جگہ سے بخیریت خشکی کی طرف دیکھتے ہی دیکھتے نکل گئے تھے اور ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو اس پانی میں غرق کردیا اور بنی اسرائیل اس منظرکو دیکھ رہے تھے لیکن جب وہ سینا میں پہنچے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرکے کہا کہ :
” کیا مصر میں قبریں نہ تھیں جو تو ہم کو وہاں سے مرنے کے لئے بیابان میں لایا تو نے ہم سے یہ کیا کیا کہ ہم کو مصر سے نکال لایا ، کیا ہم تجھ سے مصر میں یہ بات نہ کہتے تھے کہ ہم کو رہنے دے کہ ہم مصریوں کی خدمت کریں کیونکہ ہمارے لئے مصریوں کی خدمت کر بیابان میں مرنے سے بہتر ہوتا “۔ (خروج 12 , 11:4) اس طرح جب بیابان میں دھوپ لگی اور پیاس نے تنگ کیا تو اس طرح پھول ان کے منہ سے جھڑنے لگے : ” اس بیابان میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت موسیٰ اور ہارون پر بڑ بڑانے لگی اور بنی اسرائیل کہنے لگے کاش کہ ہم خداوند کے ہاتھ سے ملک مصر میں اس وقت ہی ماردیئے جاتے جب ہم گوشت کی ہانڈیوں کے پاس بیٹھ کر دل بھر کر روٹی کھاتے تھے کیونکہ تم تو ہم کو اس بیابان میں اس لئے لے آئے ہو کہ سارے مجمع کو بھوکا مارو “۔ (خروک 3 , 2:16)
یہ اور اسی طرح کے سینکڑوں دکھ دینے والی باتیں تورات میں آج بھی موجود ہیں لیکن ہمارے مفسرین نے اس کی جو تفسیر فرمائی وہ اس طرح ہے کہ ” موسیٰ (علیہ السلام) بہت حیا کرنے والے اور اپنے بدن کو چھپانے والے تھے ، ان کے بدن کو کوئی نہ دیکھتا تھا ، جب غسل کی ضرورت ہوتی تو پردہ کے اندر غسل کرتے تھے ، ان کی قوم بنی اسرائیل میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ مرد سب (مردوں) کے سامنے ننگے ہو کر نہاتے تھے تو بعض بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کسی کے سامنے نہیں نہاتے اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے بدن میں کوئی عیب ہے یا تو برص ہے اور یا خصیتین بہت بڑھے ہوئے ہیں یا کوئی اور آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اس طرح کے عیب سے برات کا اظہار فرمادیں۔ ایک روز موسیٰ (علیہ السلام) نے خلوت میں غسل کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے اور جب غسل سے فارغ ہو کر اپنے کپڑے لینا چاہے تو یہ پتھر کپڑے لے کر بھاگنے لگا ، موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی لے کر پتھر کے پیچھے یہ کہتے ہوئے چلے ” ثوبی حجر شوبی حجر “ اے پتھر میرے کپڑے ، اے پتھر میرے کپڑے۔ “ مگر پتھر دوڑتا رہا یہاں تک کہ یہ پتھر ایسی جگہ جاکر ٹھہرا جہاں بنی اسرائیل کا ایک مجمع تھا اس وقت بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سر سے پائوں تک ننگا دیکھا تو بہترین صحیح وسالم بدن دیکھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی براءۃ ان عیوب سے سب کے سامنے ظاہر فرمادی پتھر یہاں پہنچ کر ٹھہر گیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے اٹھا کر پہن لئے پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو لاٹھی سے مارنا شروع کردیا۔ خدا کی قسم ! اس پتھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب سے تین ، چار یا پانچ اثر قائم ہوگئے “۔ (معارف القرآن مفتی محمد شفیع ج 7 ص 239 بحوالہ بخاری شریف)
علاوہ ازیں بھی روایات میں بیان ہوا ہے کہ اس ایذا موسیٰ سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا علی ؓ سے روایت ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ ایذا دینا آپ ﷺ پر ہارون کے قتل کا الزام دینا تھا۔ (ابن کثیر) اور بعض روایات میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر نعوذ باللہ زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس سے آپ کی بریت فرمادی۔ (روح المعانی) اس آخری روایت کے مطابق بائیل کی کتاب گنتی 1:12 میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے ان پر ان کی بی بی کوشی کے متعلق کچھ الزام لگایا تھا لیکن اللہ نے اس الزام سے موسیٰ (علیہ السلام) کو بری کردیا اور اس کی تفصیل اس باب مذکورہ میں موجود ہے اور زیر نظر آیت کے شان نزول میں بھی لکھا ہے کہ زینب کے نکاح کیقصہ میں جو الزمات نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق بیان کیے گئے ہیں ان ہی کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی اور بلا شبہ سیدہ زینب کے متعلق جو بعض قصے روایات میں آگئے ہیں یہ منافقین کی چالوں ہی کا نتیجہ ہیں لہٰذا اسی مناسبت سے ہی اس کو اس جگہ بیان کیا گیا ہو عین ممکن ہے اور مجموعی طور پر قرآن کریم نے اس طرح ان سارے قصوں کی تردید کردی ہے ۔ تاہم بخاری شریف اور مسلم شریف کی روایت کے متعلق خاموشی سے نہیں گزرا جاسکتا جن کو مفسرین نے اس جگہ بیان کیا ہے۔ اس کے متعلق اتنی گزارش ہے کہ ایک نظر ان کو اصل کتب سے دیکھ لیا جائے۔
عن ابی ہریرہ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ان موسیٰ کان رجل حیاستیر الایری من جلدہ شی استحیاء منہ فاذاہ من اذاہ من بنی اسرائیل فقالوا ما یستتر ھذا التستر الا من عیب بجلدہ اما برض واما ادرۃ واما افۃ وان اللہ ارادان یبرئہ مما قالو الموسی فخلا یوما وحد فوضع ثیابہ علی الحجر ثم اغتسل فلما فرغ اقبل الی ثیابہ خذھاوان الحجر علما بثوبہ فاخذ موسیٰ عصاہ وطلب الحجر فجعل یقول ثوبی حجر ثوبی حجر حتی انتھی الی ملاء من بنی اسرائیل فراوہ عریانا احسن ما خلق اللہ وابرہ مما یقولون وقام الحجر فاخذ ثوبہ فلبسہ وطفق بالحجر ضربا بعصاہ فو اللہ ان بالحجر لندبامن اثر ضربہ ثلثا اواربعا او خمسا فذلک قولہ یایھا الذین امنولا تکونو کالذین اذو موسیٰ فبتراہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھا (بخاری کتاب الانبیائ)
حدثنا ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ فذکر احادیث منھا وقال رسول اللہ ﷺ کانت بنو اسرائیل یغتسلون عراۃ ینظر بعضھم الی سوء ۃ بعض و کان موسیٰ (علیہ السلام) یغتسل وحدہ فقالوا واللہ ما یمنع موسیٰ (علیہ السلام) ان یغتسل معنا الا انہ ادر قال فذھب مسرۃ یغتسل فوضع ثوبہ علی حجرففر الحجر بثوبہ فجمع موسیٰ (علیہ السلام) باثرہ یقول ثوبی حجر ثوبی حجر حتی نظرت بنو اسرائیل الی سوء ۃ موسیٰ (علیہ السلام) فاقلوا واللہ مابموسی من باس فقام الحجر بعد حتی نظر الیہ قال ناخذ ثوبہ فطفق بالحجر ضربا قال ابوہریرہ ؓ واللہ انہ باحجر ندبا ستتہ اوسبعۃ ضرب موسیٰ (علیہ السلام) بالحجر۔ (رواہ مسلم کتاب الفضائل)
عن ابی ہریرہ ؓ قال کان موسیٰ (علیہ السلام) رجلا حییا قال فکان لایریٰ متجرداً قال فقال بنو اسرائیل انہ ادر قال فغتسل عند مویہ فوضع ثوبہ علی حجر فانطلق الحجر یسعی واتبعہ بعصاہ یضربہ ثوبی حجر ثوبی حجر حتی وقف علی ملاء من بنی اسرائیل ونزل یا ایھا الذین امنو لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھا۔ (رواہ مسلم ، کتاب الفضائل)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایسے باحیا اور پوشاک پوش تھے کہ آپ کے جسم کی جلد تک کو کسی نے نہیں دیکھا تھا ایسے حیاوالے آدمی کو بھی قوم کے لوگوں نے طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا کیا اور بنی اسرائیل کے مرد جب بھی کہیں مل کر بیٹھتے تو اکثر اس کا تذکرہ کرتے کہ موسیٰ کو آج تک کبھی نہاتے نہیں دیکھا گیا جب کہ ہمارے مرد اکثراوقات ایک جگہ پر نہالیا کرتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ کی جلد میں ضرور کوئی عیب ہے خواہ برص ہے خواہ باد ہے یا کسی اور مصیبت میں وہ مبتلا ہے اللہ کی شان کہ ایک روز موسیٰ (علیہ السلام) اپنی سواری پر کہیں جا رہے تھے کہ راستہ میں کوئی الگ تھلک لوگوں کی پہنچ سے دور تھوڑا سا پانی تھا ان کو خیال آیا کہ وہ اس جگہ غسل کرلیں چونکہ آپ اکیلے تھے اور سواری کے جانور پر اپنے کپڑے رکھے اور اس کو کھڑا کرکے نہانے لگے کہ اتنے میں وہ سواری کا جانور چل نکلا جب آپ نے نظر اٹھائی تاکہ اپنے کپڑے لے کر استعمال کریں تو کیا دیکھا کہ وہ سواری کا جانور تو آگے بڑھتا جارہا ہے آپ نے لاٹھی سنبھالی اور اس سواری کے جانور کے پیچھے چل پڑے اور منہ سے کہتے جاتے تھے اے جانور میرے کپڑے ، اے جانور میرے کپڑے یہاں تک کہ آپ بنی اسرائیل کی کسی مجلس کے قریب تک چلے گئے تو انہوں نے ان کو کپڑے اتارے ہوئے دیکھ لیا اور اس روز آپ کی جلد ان لوگوں نے اتفاقاً دیکھی اتنے میں وہ جانور بھی رک گیا اور آپ نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے اور انسانی فطرت کے مطابق اس غصہ کی حالت میں اس جانور کو تین ، چار ، پانچ یا سات ضربیں لگادیں اور آپ ہی کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور پھر آپ ﷺ نے سورة الاحزاب کی یہ آیت تلاوت کی یایھا الذین امنو لا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ الخ ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے بالکل معمولی معمولی باتوں کے متعلق بھی اپنے رسول کو تکلیف میں مبتلا کیا اور آپ کی ذات پر بےبنیاد الزامات لگائے اور ایسی ایسی نازیبا حرکتیں بھی کی ہیں کہ جن کو سن کر آج بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تاہم موسیٰ (علیہ السلام) شرم وحیا کے پیکر تھے آپ پر قوم کی ایسی زیادتیوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور نہ ہی کبھی دل تنگ ہوئے زیر نظر روایت میں اور اس طرح کی دوسری روایات میں الحجر کا لفظ آیا ہے اس کو مترجمین نے حاء کے زبر سے پڑھا ہے اور اس کے معنی پتھر کے لئے ہے حالانکہ یہ لفظ الحجر حاء کی زیر ہے جس کے معنی مادہ گھوڑا کے ہیں اور اس لئے اس کو ہم نے سواری کا جانور قرار دیا ہے کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ کے الفاظ اس پر دال ہیں جانور کے چل پڑنے پر موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا کہ یہ ایک فطری چیز ہے کہ سواری سوار کو چھوڑ کر چل نکلے یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی لاٹھی سنبھالی اور اس کے پیچھے چل دیئے پھر جب وہر کی اور آپ نے اپنے کپڑے اس سے لے لیے اور پہن بھی لیے تو اس پر لاٹھی سے ضربیں لگائیں اور پھر لاٹھی کی ضربیں نظر آنے کا بھی آپ نے بیان کیا لیکن نہ تو آپ نے اس سے کوئی معجزہ مراد لیا اور نہ ہی اس پر کوئی تعجب کی بات ارشاد فرمائی۔ آپ ﷺ نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کی محض فضیلت کو بیان فرمایا کہ آپ اتنے باحیاء اور شرم کے پیکر تھے اور پھر ظاہر ہے کہ وہ کبھی سارے جسم سے کپڑے اتار کر نہیں نہائے ہوں گے بلکہ آپ کے جسم کے اس حصہ پر ضرور کپڑے کا امکان ہے جس کو پردے کا مقام کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بات انبیاء کرام اور رسل عظام کے منصب کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی (رح) نے اپنی شرح فتح الباری میں یہ احتمال امام ابن الجوزی (رح) سے نقل بھی کیا ہے ملاحظہ ہو شرح حدیث ہذا۔ پھر یہ تمام روایات دونوں اماموں امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) نے فضائل میں درج کی ہیں جس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی فضیلت ظاہر کرنا ہے نہ کہ اس میں کسی معجزہ کا اثبات پیش نظر ہے۔ مترجمین نے سواری کے جانور کو خواہ مخواہ پتھر بنا کر اور جانور پر ضربیں مارنے کے عمل کو پتھر پر ضربیں لگانے سے منسوب کرکے ایک ایسی بات ثابت کرنا شروع کردی ہے جس اثبات ونفی کا اس جگہ کوئی ذکر ہیں ہے۔ چناچہ اس سے جو کچھ آپ ﷺ ثابت کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر آپ ﷺ نے اس طرح کردیا کہ ” آج سے نہیں مدت سے یہ بات چلی آرہی ہے کہ لوگ انبیاء کرام اور رسل عظام کے بارے میں مخالفت کے باعث ایسی ایسی باتیں بھی کہہ دیتے ہیں جن کا تعلق کسی نبی ورسول سے ہرگز نہیں ہوتا جیسا کہ ایک مقام پر آپ ﷺ جنگ حنین کے مال غنیمت کو تقسیم کر رہے تھے ، جب مال تقسیم ہوگیا تو ایک صاحب بولے ان ھذہ لقسمۃ ما ارید بھا وجہ اللہ بلا شبہ اس تقسیم سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود نہیں ہے جب اس کی یہ بات آپ ﷺ تک پہنچائی گئی تو آپ ﷺ کو بہت صدمہ ہوا اور غصہ بھی کیونکہ آپ ﷺ کا چہرہ پر اس کے اثرات پائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی لیکن انہوں نے بھی اس تکلیف پر نہایت حد تک صبر کیا “ چناچہ گزشتہ حدیث کے ساتھ آگے یہ حدیث بھی ہے :
عن الا عمش قال سمعت اباوائل قال سمعت عبداللہ ؓ قال قسم النبی ﷺ قسما فقال رجل ان ھذہ لقمسۃ ما ارید بھا وجہ اللہ فاتیت النبی ﷺ فاخبرتہ فغضب حتی رایت الغضب فی وجھہ ثم قال یرحم اللہ موسیٰ قداودی باکثر من ھذا فصبر۔ (بخاری کتاب الانبیائ)
زیر نظر آیت اور ان روایات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انبیاء کرام اور رسل عظام کو قوم کے منافقین ومعاندین نے اذیت اور تکلیف دینے میں معمولی سے معمولی باتوں میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور اذیت دینے کی ایسی ایسی راہیں تلاش کرتے رہے کہ ان کے حسن کردار کو بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود کبھی کوئی نبی ورسول ان باتوں سے جو اس کی ذاتیات کے متعلق کبھی بددل نہ ہوا اور اس کے مقابلہ میں اگر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے متعلق کسی نے شرک کا کوئی کام کیا تو اس کو کوئی نبی ورسول بھی برداشت نہ کرسکا اور فوراً قوم کے سامنے کھڑا ہوگیا اور توحید کے تبلیغ شروع کردی خواہ اس کو کن مشکلات سے گزرنا پڑا پھر جب بات یہ ہے تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام بھی اپنے کسی رسول اور نبی کی اس تکلیف اور اذیت کی کوئی پرواہ نہ کرتا ایسا نہ ہوسکتا تھا اور نہ ہوا یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو انجام کار دنیا میں بھی عذاب الٰہی میں گرفتار کیا گیا اور اس عذاب میں انہوں نے تڑپ تڑپ کر جانیں دیں اور آخرت میں بھی وہ دوزخ کے سخت ترین عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے جہاں ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رکھا جائے گا اور بلا شبہ کوئی صورت ان کے نکلنے کی نہ ہوگی۔
Ayah 33:70ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ، بات سیدھی اور صاف کرو
70 ۔ ایمان والوں کو مخاطب کرکے ان کو سیدھی اور صاف بات کرنے کا حکم دیا جارہا ہے ، قول سدید کے معنی سچی بات ، سیدھی بات اور صحیح بات کے ہیں چناچہ سدید کا لفظ ان سب معنوں پر محیط ہے اس لئے ایسے لفظ سے حکم دیا تاکہ اس میں ساری باتیں بھی شامل ہوجائیں یعنی ایسی سچی بات ہو کہ جھوٹ کا اس میں شائبہ تک نہ ہو ، صواب ہو جس میں خطا کا شائبہ تک نہ ہو ، ٹھیک بات ہو اس میں مذاق اور دل لگی نہ ہو ، نرم بات ہو دلخراش نہ ہو بلا شبہ زبان کی اصلاح باقی اعضاء و اعمال کی اصلاح میں موثر ذریعہ ہے اور یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے یکساں حیثیت رکھتا ہے اور ساتھ ہی تقویٰ کی نصیحت فرمائی گئی کیونکہ تقویٰ ہی دراصل تمام احکام الٰہیہ کی مکمل اطاعت ہے کہ اس سے انسان تمام اوامر کی تعمیل کرتا ہے ، تمامنہیات اور مکروہات سے اجتناب کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کو جو شخص زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے وہ جنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ آپ ﷺ نے اکثر لوگوں کو زبان کے روکنے کی نصیحت فرمائی۔ عورتوں کی اکثریت کے دوزخ جانے کی وجہ بھی زبان ہی قرار دی۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کو جو قول سدید اختیار کرتا ہے اس کے اعمال کی خود بخود اصلاح ہوجاتی ہے معلوم ہوا کہ قول سدید کا نتیجہ اصلاح اعمال ہے گویا جس شخص نے اپنی زبان کی اصلاح کرلی اس نے خیر کثیراکھٹی کرلی اور اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں کو بھی ضرور معاف فرمادے گا بلکہ اس کا وعدہ ہے اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ وعدہ خداوندی پتھر پر لکیر ہے جس کے غلط ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں اور یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے جو زبان کو صاف ، سیدھی اور صحیح رکھنے کا صلہ ہے۔ غور کرو تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ سارے دین کا خلاصہ تقویٰ ہے اور اسمیں پورا اترنا نہایت ہی مشقت ہے اس جگہ تقویٰ اختیار کرنے کی صورت مذکور ہوئی ہے وہ قول سدید ہے اور جو شخص لوگوں کو ایذا دینے سے باز نہیں آتا وہ تقویٰ حاصل نہیں کرسکتا اور جو تقویٰ حاصل نہیں کرسکتا اس کی بات سیدھی اور صاف نہیں ہوسکتی کیونکہ جس کی زبان صاف ، سیدھی اور سچی نہیں وہ متقی نہیں ہوسکتا گویا دونوں ہی آپس میں لازم وملزوم ہیں تقویٰ بھی اور زبان بھی۔ زبان صحیح اور درست ہوگی تو یقینا وہ متقی آدمی ہوگا اور الر آدمی متقی اور پرہیز گار ہوگا تو یقینا اس کی زبان بھی صحیح ، سیدھی اور صاف بات کہے گی اور اس طرح زبان و کلام کی درستی دین و دنیا دونوں کے کام درست کرنے والی شے ہے۔ لسان نبوی میں مسلم ہی وہ کہلا سکتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے کوئی شخص دکھ نہ پائے چناچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔
Ayah 33:71تمہارے اعمال کی اصلاح ہوگی اور تمہاری لغزشیں معاف کردی جائیں گی
71 ۔ قول سدید کا نتیجہ ذکر کیا جارہا ہے کہ تمہارے اعمال کی اصلاح ہوگی اور اعمال کی اصلاح کا نتیجہ ذکر کیا گیا ہے کہ تمہاری لغزشیں معاف ہوں گی اور اس کا نتیجہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہوجائے گا اور پھر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا صلہ بھی بتادیا گیا کہ تاکہ وہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ اس سے بڑی کامیابی ممکن ہی نہیں ہے اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ فوزعظیم اور فلاح دارین کا تاج اور صرف اور ان ہی لوگوں کے سر پر رکھا جاتا ہے جو پیکرتسلیم ورضا بن کر اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول محمدرسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے سامنے بصدشوق اور بصد ہزار مسرت اپنے آپ کو مطیع وفرمانبردار بنادیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنی زندگی اسی طریقہ کے مطابق کرنے کی توفیق بخشے جو نبی اعظم وآخر ﷺ نے اسوہ حسنہ ہمارے لئے قائم کیا ہے۔