33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کی بیویاں جن کو آپ ﷺ مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں اور وہ عورتیں بھی جو آپ ﷺ کی ملک میں ہیں اور ( آپ ﷺ نکاح کرچکے ہیں) جو اللہ نے آپ ﷺ کو (مال غنیمت) میں دلوایا ہے اور آپ ﷺ کے چچاؤں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کے ماموؤں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کی خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ (اسلام کی خاطر) ہجرت کی اور کوئی (دوسری) مومن عورت (جو رشتہ دار نہ ہو) اگر وہ اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کرچکی ہے اور نبی ﷺ بھی اس سے نکاح کیلئے راضی تھا اس لیے نکاح کرلیا ہے (اور یہ آخری رعایت) صرف نبی ہی کے لیے ہے دوسرے ایمان والوں کے لیے نہیں ، بلاشبہ ہم کو معلوم ہے جو ہم نے ان پر (ایمان والوں پر) ان کی بیویوں اور ملک یمین کے متعلق مقرر کردیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ ہو اور اللہ بخشنے والا اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے

نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم عام اور حکم خاص دیا جارہا ہے 50 ۔ ” اے پیغمبر اسلام ہم نے آپ ﷺ کے لئے آپ ﷺ کی بیویاں جن کو آپ ﷺ مہر دے چکے ہیں حلال کردی ہیں “ سورة النساء میں یہ وضاحت تو تفصیل سے گزر چکی ہے کہ اسلام نے عام آدمیوں کے لئے چار تک شادیاں بیک وقت کرنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ شرعی ضرورت پیش آئے اور ان کے حقوق میں برابری بھی وہ کرسکیں تاہم چار سے زیادہ نکاح بیک وقت نہیں کئے جاسکتے اور ایک شادی کو مستحسن سمجھنا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ آپ ﷺ بیک وقت چار سے زیادہ شادیاں کرسکتے تھے بلکہ آپ ﷺ نے کی ہیں جیسا کہ ہم نے پیچھے اس سورت کی آیت 36 میں وضاحت کردی ہے اور اس کے بعد تمام امہات المومنین کا مختصر تعارف بھی ان کی روحانی اولاد کو کرادیا ہے اب مزید اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں دوسرا حکم اس طرح دیا گیا کہ ” اور وہ عورتیں بھی جو آپ ﷺ کی ملک میں ہیں اور جو اللہ نے آپ ﷺ کو مال غنیمت میں دلوائی ہیں۔ “ اس میں ان عورتوں کا ذکر کیا گیا جو مال غنیمت میں آئیں اور آپ ﷺ کو بطور حصہ دی گئی تھیں ان میں سے جن کو ازدواجی زندگی میں آپ ﷺ کو مال غنیمت میں دلوائی ہیں “۔ اس میں ان عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو مال غنیمت میں آئیں اور آپ ﷺ کو بطور حصہ دی گئی تھیں ان میں سے جن ازدواجی زندگی میں آپ ﷺ نے چاہا لے آئے تاکہ اس سے قومی ، اسلامی اور سیاسی فوائد حاصل کیے جاسکیں اور بلاشبہ ان سے نکاح کرکے آپ ﷺ نے وہ فوائد حاصل کیے۔ اس کی وضاحت بھی ہم پیچھے کرچکے ہیں کہ یہ نظریہ کہ ملک یمین سے بغیر نکاح کیے مجامعت جائز و حلال ہے قطعاً درست نہیں نہ آپ ﷺ کے لئے یہ کبھی جائز ٹھہرایا گیا اور نہ ہی عام مسلمانوں کے لئے ہاں آزاد عورت کے مقابلہ میں لونڈی سے نکاح اس لئے آسان ہے کہ اس کے لونڈی ہونے کے باعث آزاد عورت کے برابر حقوق نہیں ہیں اور یہ رعایت رکھ کر اسے لونڈی ہی رکھ کر نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے اگرچہ بہتر یہی سمجھا ہے اور اس کی تاکید بھی فرمائی ہے کہ ان کو آزاد کرکے نکاح کرنا یا نکاح کرکے آزاد کردینا زیادہ اچھا اور زیادہ بہتر ہے یہی حکم آپ ﷺ کے لئے بھی تھا اور یہی دوسرے سارے مسلمانوں کے لئے بھی ہے پھر آپ ﷺ نے اس طرح کی آئی ہوئی عورتوں سے جب بھی نکاح کیا تو ان کے آزاد کرنے کے بعد آپ ﷺ نے نکاح کیا ان کو حق مہر ادا کیا ، ان کا ولیمہ بھی کیا۔ تفصیل ان کے ذکر میں گزر چکی ہے۔ ” اور آپ ﷺ کے چچائوں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کے ماموئوں کی بیٹیاں اور آپ ﷺ کی خالائوں کی بیٹیاں “ یہ وہ حکم ہے جو عام انسانوں کے لئے اور رسول ﷺ کے لئے برابر ہے اور اس کی وضاحت پیچھے سورة النور میں کی گئی ہے اور دوسرے نشانات پر بھی چچائوں ، پھوپھیوں ، ماموئوں اور خالوئوں کی اولاد سے نکاح جائز اور درست ہے اگر قرابت داری اور رشتہ داری کا پاس ولحاظ رکھا جاسکے لیکن ضروری نہیں کہ اتنا قریب ہی کا رشتہ ہو حالات کی رعایت کا خیال ہر انسان کا اپنا ذاتی فرض ہے۔ ” جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ اسلام کی خاطر ہجرت کی “ یہ جملہ معترضہ کے طور پر ہے اگر انہوں نے ہجرت نہ کی یہ تو آپ ﷺ کے لئے نکاح جائز اور درست نہیں اگر یہی مطلب ہے تو بلا شبہ یہ حکم نبی اعظم وآخر ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور اس کا یہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ اتنے قریب کا رشتہ ہونے کے باوجود انہوں نے ہجرت نہیں کی آپ ﷺ اب ان سے نکاح نہیں کرسکتے یہ پابندی آپ ﷺ کے لئے خصوصاً لگائی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس طرح بعض چیزوں کی اجازت ہے اسی طرح بعض درست چیزوں سے آپ ﷺ کو منع بھی کیا گیا ہے اور بلا شبہ اس کے اندر کوئی نہ کوئی حکمت بھی ضرور ہوگی لیکن ہمیں تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ” اور اس طرح کوئی دوسری مومن عورت اگر وہ اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لئے ہبہ کرچکی ہو اور نبی بھی اس سے نکاح کے لئے راضی ہو “۔ کسی عورت کا یہ ہبہ نفس کردینا ایک خاص معاملہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی خصوصیات سے تعلق رکھتا ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرمادی کہ اگر کوئی مومن عورت اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لئے ہبہ کردے اور آپ ﷺ بھی نکاح کرنا چاہیں تو ایسا کرسکتے ہیں اور فرمایا ہے کہ خالصۃ لک من دون المومنین یہ نبی کریم ﷺ کے لئے خاص اور دوسرے ایمان والوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی عورت جس کو اس کا جی چاہے اپنے نفس کو ہبہ کردے اور مرہوب لہ اس کو قبول کرے جیسا کہ کتب فقہ میں اس کو جائز اور صحیح بتایا گیا ہے۔ ” بلا شبہ ہم کو معلوم ہے جو ہم نے ان پر یعنی ایمان والوں پر ان کی بیویوں اور ملک یمین کے متعلق مقرر کردیا ہے “۔ عام مومنوں کے لئے آزاد عورتوں اور ملک یمین کی جو حدود مقرر کی گئی ہیں یہ کیوں ضروری تھیں ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے لئے یہ جائز کیوں نہیں رکھا گیا کہ اگر کوئی عورت کسی کو اپنا نفس ہبہ کردے تو وہ مرہوب لہ کے لئے جائز ہوجائے یہ سہولت ہم نے عام مسلمانوں کو کیوں نہیں دی اس بات کو بھی ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے اس بحث کی اس جگہ ضرورت نہیں ہے ظاہر ہے کہ اگر دیانت وامانت کا فقدان ہوجائے جیسا کہ اس وقت ہو بھی چکا ہے تو اس سے زنا کا چور دروازہ کھل سکتا تھا اس لئے عالم الغیب والشہادۃ نے اس سلسلہ کو عام مسلمانوں سے روک دیا اور متعارف نکاح کے سوا کوئی دوسری صورت جائز نہ رکھی۔ ” تاکہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ ہو اللہ بخشنے والا بہت ہی پیار کرنے والا ہے “۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اللہ کی بندی دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہے اور آپ بھی سمجھتے ہوں کہ اس سے دین کا یہ کام بدرجہ احسن لیا جاسکتا ہے لیکن محض اس لئے اس سے باز رہیں کہ اس وقت آپ کے پاس حق مہر ادا کرنے کی بھی کوئی چیز نہیں ہے تو نکاح کیسے اور کیونکر ہو ہم نے اس تنگی کو آپ ﷺ سے اٹھالیا اور اتنی روک آپ کے لئے اٹھالی گئی اگر کوئی عورت اپنا آپ آپ ﷺ کو پیش کردے اور آپ ﷺ پر مالی ذمہ داری نہ ڈالے تو اس کو دینی خدمت کے لئے قبول کرلینا ہی بہتر ہے تاکہ نفس کی حفاظت بھی ہو اور لوگوں کے طعن وتشنیع سے بھی فریقین بچ جائیں اور اصل مدعا بھی پورا ہوجائے رہے وہ لوگ جن کیذہنوں میں اس دی گئی سہولت سے کسی طرح کی بات نے گزر کیا ہے تو انسانی نفس اس طرح کی بائیں سوچتا اور کرتا ہی رہتا ہے آپ اس کے درپے نہ ہوں بلکہ اسے دعا دیں کہ اللہ تعالیٰ غفورورحیم ہے وہ اس سے بخشش طلب کریں اور وہ یقینا بخش دینے والا ، پیار کرنے والا ہے۔ زیر نظر آیت کا مفہوم واضح ہوگیا لیکن ایک سوال حل طلب ہے کہ زیر نظر آیت میں جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو چار عورتوں سے زیادہ کے ساتھ نکاح کی اجازت دی گئی وہ کیوں دی گئی ؟ جن لوگوں نے اس اجازت کو نشانہ تضحیک بنایا اس کو کیا جواب دیا جاسکتا ہے ؟ نشانہ تضحیک بنانے والے کون لوگ ہیں ؟ یہود ونصاریٰ اور دوسرے معروف مذاہب سب ہی سے جو بن پڑا کہا اور اپنا فرض پورا کیا اور پھر ان کے دیکھا دیکھی مسلمان کہلانے والوں نے بھی ہرزہ سرائی کی قدرے کوشش کی جو وہ کرسکے۔ ہمیں تعجب ہے کہ ان لوگوں نے اس طرح کی تضحیک کرنے سے پہلے اپنے ان بزرگوں کی زندگیوں کی طرف کیوں غور نہ کیا جن کو وہ بھی مقدس انسان سمجھتے تھے یہودیوں کے ہاں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑھ کر اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور تورات سے بڑھ کر کون زیادہ سچی کتاب ہوسکتی ہے ؟ اگر نہیں اور بلا شبہ نہیں تو تورات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تین بیویوں کا واضح ذکر موجود ہے۔ 1 ۔ سیدہ سارہ کا ذکر (پیدائش 15:18) 2 ۔ سیدہ ہاجرہ کا ذکر (پیدائش 4:16) 3 ۔ سیدہ قطورا خاتون (پیدائش 1:25) پھر سیدہ سارہ سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے ، سیدہ ہاجرہ سے اسمعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور سیدہ قتورا سے زمران ، یقسان ، مدان ، مدیان وغیرہ پیدا ہوئے اور پھر ان کی نسل در نسل کا ذکر بھی موجود ہے جیسے اسحاق سے یعقوب پیدا ہوئے اور آپ کی چار بیبیوں کا ذکر تورات میں موجود ہے۔ لیاہ کتاب پیدائش (23:29) ۔ 2 ۔ زلفہ کتاب پیدائش (24:29) 3 ۔ رافل کتاب پیدائش (28:29) 4 ۔ بلہہ کتاب پیدائش (29:29) اور ان سب کی اولادوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی چار بیویوں کا ذکر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ 1 ۔ صورا خاتون (کتاب خروک 31:2) 2 ۔ میبثہ۔ 3 ۔ ایک بیوی جس کے باپ کا نا قینی تھا۔ (قاضیون 16:1) 4 ۔ اور ایک اور بیوی جس کے باپ کا نام حباب تھا۔ (قاضیون 16:4) چار کے ذکر کے علاوہ بیویوں کے جواز میں اس طرح بیان آیا ہے کہ ” جب تو لڑائی کے لئے دشمنوں پر خروج کرے اور خداوند تیرا خدا ان کو تیرے ہاتھوں سے گرفتار کرے اور تو انہیں اسیر کر لائے اور ان اسیروں میں تو خوب صورت عورت دیکھے اور تیرا جی اسے چاہے کہ اسے اپنی جورو بنائے تو تو اسے اپنے گھر میں لا ، اسکا سر منڈا اور ناخن کٹوا تو وہ اپنا اسیری کا لباس اتارے اور تیرے گھر میں رہے اور ایک مہینہ بھر اپنے باپ اور اپنی ماں کے سوگ میں بیٹھے بعد اس کے تو اس کے ساتھ خلوت کر اور اس کا خصم بن اور وہ تیری جرو بنے۔ (کتاب استثناء 10:21 تا 13) دائود (علیہ السلام) کی بیویوں کے لئے 1 ۔ سموئیل 23:26 ، 1 ۔ سموئیل ۔ 2 ۔ 37:18 سموئیل باب 2 سموئیل 26 , 3:11 سموئیل 30:20 کا مطالعہ کریں ان ستور میں تقریباً 10 تا 19 حرموں کا ذکر کیا گیا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیگمات کے متعلق سات سو جوروئیں اور تین سو حرموں کا ذکر سلاطین 3:11 میں ہے اور علاوہ ازیں دوسرے نبیوں اور رسولوں کا ذکر دیکھنا ہو تو حزقیل باب 23 درس 1 یا 4 پڑھو اس طرح 4:23 , 2:23 , 1:23 ۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل جتنے نبی ورسول تھے سب یہودونصاریٰ کے ایک ہی جیسے نبی ورسول تھے کیونکہ اس وقت تک اہل کتاب صرف یہودہی تھے عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے آخری رسول ہیں ان کے بعد اس سلسلہ میں کوئی رسول نہیں آیا اور جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول مانا وہ عیسائی کلہوائے اور جن لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول نہ مانا وہ بدستور یہودی کہلاتے رہے اس طرح گزشتہ سارے کے سارے حوالہ جات میں یہودونصاریٰ دونوں گروہ شامل ہی رہے بعد کے عیسائی تو ان کے لئے خصوصاً پڑھنا چاہتے ہوں تو انجیل متی کا باب 25 پڑھو اور حضرت مسیح نے اپنی آمد کی خبریں دس کنواریوں کا ذکر کیا ہے کہ پانچ نے دولہا کے ساتھ شادی کی ، گھر میں گئیں اور پانچ جو پیچھے رہ گئی تھیں ان کے لئے دروازہ نہ کھولا گیا۔ عیسائی کہیں گے کہ یہ بیان آپ کا تمثیل ہے کیونکہ تمثیل کے سوا آپ بات کم ہی کرتے تھے تاہم اگر یہ تمثیل ہے تو بھی اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک ایک سے زیادہ بیویوں کا ہونا پسند نہ تھا تو آپ یہ تمثیل ہرگز ہرگز نہ دیتے پھر عیسائی اپنے راہنمائوں ہی کی طرف دیکھ لیں کہ انہوں نے ایک سے زیادہ بیوی کا تذکرہ کس رنگ میں کیا اس سلسلہ میں عیسائیوں کا تسلیم شدہ شاعر ملٹن اس معاملہ میں جو کچھ کہہ گیا ہے اس سے کون ناواقف ہوگا اگر مزید دیکھنا چاہو تو عبرانیوں جو عیسائیوں کی خاص کتاب ہے اس کا 4:13 پڑھیں کہ ” بیا کرنا سب میں بھلا ہے اور بستر ناپاک نہیں پر خدا حرام کاروں اور زنیوں کی عدالت کرے گا “۔ اس وقت ہمارے قریب کے ہمسائے ہندو ہیں جو بہت بڑی اقوام میں شامل ہوتے ہیں اور ان کی طرف سے بھی اس طرح کے اعتراضات لگائے گئے ہیں اور بدقسمتی سے بعض تو اتنے برے ہیں کہ ان کا ذکر کرنا بھی ہمیں مناسب نہیں معلوم ہوتا اور یہ بھی کہ ہم کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں چاہتے ورنہ ” رنگیلا رسول “ والے جو کچھ بیان کیا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اور ان کے اپنے بزرگوں کا حال یہ ہے کہ 1) سری رام چندرجی کے والد مہاراجہ دسرت کی تین بیویاں تھیں۔ پٹ رانی ، کو شیلیا والدہ رام چندر۔ رانی سمترا والدہ لچھمن جی ، رانی کی کی والدہ بھرت جی اور 2) سری کرشن کی سینکڑوں بیویاں تھیں جن میں سے لالہ چیت رائے نے اپنی کتاب کرشن چرتر میں صرف اٹھارہ رانیاں تسلیم کی ہیں اور ظاہر ہے کہ ہمارے مدعا کے لئے اتنی تعداد بھی کافی ہے۔ 3) راجہ پانڈو جو مشہور پانڈو وں کا جد اعلیٰ ہے اس کی دو بیویاں تھیں۔ کنتی… والدہ یدہشترو بھیک سین وار جن ، مادری… والد نکل وسہدیو۔ 4) سای طرح راجہ شتن کی دو بیویاں تھیں۔ گنگاوالدہ بھیکم ، ستیاوتی والدہ بیاس جی۔ 5) بھتر اوپرج کی دو بیویاں اور ایک لونڈی تھی۔ میکلہ… والدہ دھرتراشٹ پسر بیاس جی ، امسبا لکا والدہ پاندو پسر بیاس جی۔ لونڈی والدہ بدرین بیاس جی۔ حوالہ کے لئے انہی پر اکتفا کیا جاتا ہے ورنہ ہنود کا لٹریچر دیکھا جائے تو مزید بھی بہت کچھ نظر آسکتا ہے۔ بزرگ تو سب ہی بزرگ تھے لیکن بہرحال منہاج نبوت میں تو ہم مسلمان بھی برابر کے حصہ دار ہیں لیکن انبیاء کرام کے متعلق کتاب وسنت میں اس طرح کی ایک بات بھی مذکور نہیں بلکہ اگر کہیں کچھ ذکر کیا بھی گیا ہے تو وہ وہی اسرائیلی روایات ہی میں جو ہم مسلمانوں میں بھی بیان کی جاتی ہے اس لئے وہ اسلام ماخذ سے نہیں ہیں بلکہ ان کا ماخذ وہی اسرائیلی روایات ہیں جو ہمارے بزرگوں نے اپنے طور پر بیان کی ہیں اور وہ بزرگ وہی تھے جو بنی اسرائیل میں سے مسلمان ہو کر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اس طرح قصص پڑھ کر ہمارے بعض مسلمانوں نے بھی ان کی چھان بین کرنے کی بجائے ان روایات کو روایات اسلام سمجھ کر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا لیکن انہوں نے اس کا تجزیہ کرنے سے کیوں گریز کیا ؟ محض اس لئے کہا نہوں نے اس کو مشکل سمجھا اور اپنے لئے آسان راہ اختیار کی حالانکہ ان کے صاحب علم ہونے کی یہ نشانی نہیں ہے بلکہ کوتاہ عقلی کی دلیل ہے اور زیادہ تر ان میں ایسے اردو خواں ہیں جو ترجمہ کے سوا اصل روایت کے مفہوم کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور انہوں نے ترجمہ ہی کی اصل خیال کیا اور بےسوچے سمجھے اعتراض داغ دیئے حالانکہ اس خصوصیت نبوی کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہوسکتی تھی۔ 1 ۔ ابنبی اعظم وآخر ﷺ کی مبارک زندگی پر نظر ڈالو کو 63 سال سے ابتدائی 25 سال آپ ﷺ کے کمال تجرد سے گزرے ہیں جس اللہ کے بندے نے 25 سال تک عنفوان شباب اور جوش جوانی کا زمانہ کمال تقویٰ اور نہایت ہی درع کے ساتھ پورا کیا ہو اور جس کے حسن مردانہ کے کمال نے اعلیٰ سے اعلیٰ خواتین کو اسے تزویج کا آرزو مند کردیا ہو پھر بھی ربع صدی تک اس کے تجرد وتفرد پر کوئی شے نہ غالب آئی ہو کیا ایسے شخص کی نسبت اعلیٰ رائے قائم نہیں ہوتی پھر جس مقدس ہستی نے 25 سے 50 سال تک کی عمر کا زمانہ ایک ایسی خاتون کے ساتھ بسر کیا ہو جو عمر میں اس سے 15 سال بڑی ہو اور پیشتر دو خاوندوں کی بوی رہ کر کئی بچوں کی ماں بن چکی ہو اور پھر اس ربع صدی کے زمانہ میں آپ ﷺ کی دل بستگی اور محبت میں ذراکمی نہ آئی ہو بلکہ اس کی وفات پاجانے کے بعد بھی ہمیشہ اس کی یاد کو تازہ رکھا ہو کیا اس کی نسبت کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس تزویج کی وجہ بھی وہی تھی جو عام طور پر پرستاران حسن کی شادیوں میں پائی جاتی ہے ؟ نبی کریم ﷺ کی زندگی 55 سے 59 تک کی درمیانی مدت کا صرف پنج سالہ زمانہ ایسا ہے جب ان ازواج مطہرات سے حجرے آباد ہوئے تھے اس لئے ہر ایک شخص کو غور کرنا چاہیے کہ زندگی مبارک کے 55 سالہ رویہ سے بڑھ کر جو عمل ہوا اس کے آخر اسباب کیا تھے ؟ یہ وہ وقت ہے کہ جب اکثر نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے کہ مالی فی النساء من خاجۃ (دارمی بروایت سہل بن سعد) ” مجھے عورتوں کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ذرا توقف کرو اور اس جگہ فکر کرو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آپ ﷺ نے جس قدر نکاح کیے ان کی اصل بنیاد فوائد کثیر دینی اور مصالح جمیلہ ملک اور مقاصد حسنہ قوم پر قائم تھی اور ان فوائد ومصالح اور مقاصد کا اس قیدیم ترین زمانہ اور عرب جیسے جمود پسند ملک میں حاصل ہونا تزویج کے بغیر ممکن ہی نہ تھا۔ 2 ۔ سیدہ خدیجہ کی وفات کے بعد یقینا آپ ایک ایسے ساتھی سے محروم ہوئے جو دل وجان قران کرنے والا ساتھی تھا جس کا یقینا آپ کے دل پر بہت اثر ہوا اور ازیں بعد آپ کو اس موانست کے لئے اللہ نے سودہ ؓ کا ساتھ دیا۔ سودہ ؓ ایک نہایت ہی سلجھی ہوئی عورت تھیں اور سابق ال ایمان لوگوں میں شامل تھیں اپنے پہلے خاوند کے ساتھ ہجرت حبشہ بھی کی تھی جب خاوند نے وفات پائی تو سیدہ خدیجہ کی بہن ہالہ کے ایماء پر نبی اعظم وآخر ﷺ سے نکاح کرنے کے لئے تیار ہوئیں اور آپ کے والد نے آپ کی دوسری شادی گویا نبی کریم ﷺ سے کردی آپ ﷺ نے اس سے شادی مکہ مکرمہ ہی میں کی اور نکاح کے تیسرے سال آپ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کی اور بعد میں وہ بھی ہجرت کرکے یہاں چلی آئیں گویا خدیجہ ؓ کے بعد آپ کا گھر بسانے والی پہلی ام المومنین یہی ہیں۔ 3 ۔ سیدہ عائشہ ؓ ہی پہلی کنواری خاتون ہیں جو نبی کریم ﷺ کے گھر میں آباد ہوئیں جس کی اصل وجہ بھی یہ تھی کہ ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی ہونے کا شرف ان کو حاصل تھا اور پندرہ سولہ سال کی نوجوان عورت تھیں ، مکہ میں جو حالات ہو رہے تھے ان حالات کے پیش نظر ایک جواں سال لڑکی کو گھر میں رکھنا بھی لوہے کے چنے چبانے کے مرادف تھا اور ایمان لانے والوں کی تعداد ابھی بہت ہی کم تھی۔ اسی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی بیٹی کو آپ ﷺ کے حبالہ عقد میں دے دیا۔ اس بات کو اس سے تقویت پہنچتی ہے کہ عائشہ کی منگنی آپ سے پہلے ایک اور جگہ ہوچکی تھی لیکن ابوبکرصدیق ؓ کے ایمان لانے کے باعث انہوں نے ابوبکر صدیق کو جواب دے دیا تھا کہ ادھر آپ ﷺ سے یہ رشتہ طے ہوگیا اور ہجرت کے بعد رخصتی کردی گئی اور قدرت نے عائشہ ؓ سے دین کی وہ خدمت لی کہ ایسی خدمت آپ کی ذات کے سوا شاید ممکن نہ تھی۔ 4 ۔ سیدہ حفصہ ؓ عمر ؓ کی بیٹی تھیں ان کا پہلا نکاح خنیس ہی حذیفہ سے تھا ان کی وفات کے بعد عمر فاروق ؓ رشتہ کی تلاش میں تھے انہوں نے ابوبکر صدیق ؓ اور عثمان ؓ سے ذکر بھی کیا تھا لیکن ادھر نبی اعظم وآخر ﷺ بھی اپنی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ چاہتے تھے اللہ نے آپ ﷺ کے دل میں یہ بات ڈالی تو ام کلثوم عثمان غنی ؓ کے عقد میں دے گئیں اور حفصہ سے خود رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرلیا بلا شبہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کے نکاح نے حفاظت کتاب اللہ ونشر احادیث اور تعلیم کے بارہ میں فوق العادت کام کیے اور اس طرح آخر میں صدیق ؓ اور فاروق ؓ کی خلافتوں کو زیادہ بابرکت اور زیادہ پر منفعت بنانے میں بہت بڑا کام کیا اور یہ ایسے ہیں جن سے کوئی ذی عقل بھی انکار نہیں کرسکتا۔ 5 ۔ ام المومنین صفیہ ؓ کے نکاح پر غور کرو کہ اس سے پہلے جس قدر لڑائیاں مسلمانوں کے ساتھ کفار مکہ نے کیں ان میں سے ہر ایک میں یہود کا تعلق سرایاً اعلاناً ضرور ہوتا تھا مگر تزویج کے بعد یہود مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہ ہوئے ، غور کرو کہ اس نکاح سے کیا تقویت اسلام کو ملی اور یہ نکاح کس قدر بابرکت ثابت ہوا۔ 6 ۔ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ ؓ کے نکاح پر غور کرو کہ ان کا باپ ابوسفیان تھا جو عمائد قریش میں سے تھا اور قوم کا نشان جنگ اس کے گھر میں رکھا رہتا تھا۔ جب یہ نشان باہر کھڑا کیا جاتاتو تمام قوم پر آبائی ہدایت اور قومی روایت کے اتباع میں لازم ہوجاتا تھا کہ سب کے سب اس جھنڈے کے نیچے فوراً جمع ہوجائیں اور حمر الاسد ، بدر الاخری اور احزاب وغیرہ لڑائیوں میں ابوسفیان ہی اس نشان کو لیے ہوئے قائد قریش نظر آتا تھا لیکن اس تزویج مبارک کے بعد دیکھو اور غور کرو کہ کیا وہ کسی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف فوج کشی کرتا نظر آتا ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعدوہ خود بھی اسلام کے جھنڈے کے نیچے آکر پناہ لینے پر مجبور ہوجاتا ہے کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ نکاح نہایت ضروری نہ تھا۔ 7 ۔ ام المومنین سیدہ جو یریہ ؓ کے نکاح کی طرف دیکھو کہ ان کا باپ مشہورراہزن اور زبردشت ڈکیت تھا اور مسلمانوں سے خاص دلی عداوت رکھتا تھا بنو مصطلق کا مشہور طاقت ور اور جنگ جو قبیلہ جو چند درچند شعوب پر محتوی تھا اس کے اشاروں پر کام کرتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس کی تزویج سے پیشتر ہر ایک جنگ میں جو مسلمانوں کے خلاف ہوئی اس قبیلہ کی شرکت لازماً پائی جاتی تھی لیکن اس نکاح کے بعد یہ سب مخاصمتیں نابود ہوجاتی ہیں تمام قبیلہ قزاقی چھوڑ کر متمدن زندگی اختیار کرلیتا ہے اور پھر مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں بھی شامل نہیں ہوتا ذرا دل لگتی کہو کہ یہ نکاح لازم نہیں تھا ؟ 8 ۔ ام المومنین زینب بنت خزیمہ جن کا لقب ام المساکین تھا آپ ﷺ سے پہلے ان کے تین نکاح ہوچکے تھے پہلے دونوں خاوند وفات پاچکے تھے اور دونوں ہی رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا کے بیٹے تھے اور پھر تیسرا نکاح ان کا عبداللہ بن حجش سے ہوا جو نبی کریم ﷺ کا پھوپھی زاد تھا وہ بھی جنگ احد میں شہید ہوگیا ایسی عورت کہ جس کے یکے بعددیگرے تین خاوند وفات پا جائیں لوگ اس کے متعلق جو کچھ جو کچھ کہتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ان کے دل پر اس سے کیا گزرتی ہوگی ان حالات کے پیش نظر آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا ، دو تین ماہ کے بعد وہ خود وفات پاگئیں۔ 9 ۔ ام المومنین ام سلمہ ؓ کا اصل نام ہند تھا جو ابی امیہ کی بیٹی تھیں اور قدیم الاسلام تھیں۔ ابو سلمہ کا اصل نام عبداللہ بن عبدالاسد تھا ، ابو سلمہ اسلام لانے والوں میں گیارہویں شخص تھے۔ ابوسلمہ کی وفات حسرت آیات کے بعد ام سلمہ کے دل کو سخت چوٹ لگی اور ویسے بھی عبداللہ بن عبدالاسد رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد تھے ، ام سلمہ اور ابو سلمہ کی محبت ایک مثالی محبت تھی جو ان کے واقعات کو پڑھنے سے معلوم ہوتی ہے اس طرح سلمہ ؓ اور اس کے دوسرے بھائی بھی یتیم رہ گئے تھے اور خاندان والے بھی ابھی تک مکہ ہی میں تھے ان حالات کے پیش نظر ام سلمہ کے دل کو ڈھارس آپ نے بندھائی اور اپنے پھوپھی زاد کی وفات کے بعد ام سلمہ سے خودنکاح کرلیا اور اپنی پھوپھی کے پوتوں کی خوب پرورش کی۔ 10 ۔ ام المومنین زینب بن جحش کا ذکر آپ نے پیچھے تفصیل کے ساتھ پڑھا ان کا پہلا نکاح زید بن حارثہ سے آپ ﷺ نے نہایت زور دے کر کرایا لیکن اللہ کی شان کہ میان بیوی میں بن نہ آئی اور تقریباً ایک سال کے بعد زید نے زینب کو طلاق دے دی تو اس کی طلاق سے زینب اور اس کے خاندان والوں پر جو اثر ہوا وہ ان کے لئے کسی حال میں بھی قابل برداشت نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسومات بد کے ازالہ کے لئے یہ نکاح کرایا اور اپنی خاص مصالحت تکوینی کے مطابق جب طلاق ہوگئی تو نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم دیا کہ اب زینب سے خود نکاح کرکے اس رسم بد کو مٹائو جو کسی شخص کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا لینے سے معرض وجود میں آچکی ہے اور وہ زبان سے صرف بیٹا کہہ دینے کے باعث حقیقی بیٹے کے حقوق حاصل کرلیتا ہے یہ کسی حال میں جائز اور اسلام کو برداشت نہیں کہ اس سے حسب ونسب گڈمڈ ہوتا ہے اس رم کو مٹوانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زینب کو اپنے نکاح میں لانے کا آپ ﷺ کو حکم دیا اور آپ ﷺ نے تکمیل حکم کرتے ہوئے زینب سے نکاح کیا اور اس کے نکاح کے بعد بہت بڑی ضیافت ولیمہ کی جو دوسری ضیافتوں کے مقابلے میں بڑی تھی۔ غور کرو کہ اس مبارک نکاح سے کتنی بدرسومات کا قلع قمع ہوگیا۔ 11 ۔ ام المومنین میمونہ ؓ کا نکاح آپ ﷺ سے قبل دوبارہ ہوچکا تھا پہلا نکاح حویطب بن عبدالعزیٰ اور دوسرا ابی دہم بن عبدالعزیٰ سے اور دونوں ہی وفات پاگئے جب مکہ فتح ہوا تو اس سے پہلے ہی یہ دو بار رانڈی ہوچکی تھیں۔ یہ زینب بنت خزیمہ کی بہت تھیں اور زینب پہلے آپ کے حبالہ نکاح میں آکر وفات پاگئی تھیں اس لحاظ سے گویا یہ آپ ﷺ کی سالی بھی تھیں اور ان کی ساری بہنیں بھی آپ ﷺ کی حقیقی چچوں اور دوسرے عزیز رشتہ داروں میں تھیں۔ اسی قرابت کے باعث عبداللہ بن عباس کے مشورہ سے جو سیدہ میمونہ کے حقیقی بھانجے تھے آپ ﷺ نے نکاح پر آمادگی ظاہر کی اور انجام کار فتح مکہ کے بعد مکہ ہی میں آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا۔ 12 ۔ ام المومنین ماریہ قبطیہ جو شاہ مصر نے آپ ﷺ کی خدمت میں روانہ کی تھیں اور مصر کی شہزادی تھیں آپ کے بطن سے ابراہیم آپ کے فرزند پیدا ہوئے تھے آپ کی آمد کے بعد نجاشی سے اسلام کے تعلقات زیادہ استوار ہوگئے اور وہ مرا تو مسلمان ہو کر مرا۔ تفصیل اپنے مقام پر گزرچکی ہے۔ 13 ۔ ام المومنین سیدہ ریحانہ جو قریظہ کے خاندان کی ایک خاتون تھیں اور قریظہ کے قیدیوں میں آئی تھیں آپ ﷺ نے ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا تھا جس کے بعد قریظہ کا خاندان جو باقی رہ گیا تھا وہ کبھی سر نہ اٹھا سکا۔ افسوس کہ ہمارے سیرت نگاروں نے ماریہ قبطیہ اور ریحانہ دونوں کو لونڈیوں میں لاکر نکاح کے بغیر رکھنے کا الزام عائد کیا ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اسلام لونڈیوں کو بغیر نکاح کیے ازدواجی زندگی کے لئے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ سیرت نگاروں نے اس سلسلہ میں جو کچھ اکٹھا کیا ہے اس کی اسلام میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور تفصیل اس کی سورة النساء کی آیت 5 کے ضمن میں عروۃ الوثقی جلد دوم میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ مختصریہ کہ آپ ﷺ کے ان سارے نکاحوں کی غرض وغایت اسلام نے نہایت واضح کردی ہیں اور جیسا کہ اوپر مختصر عرض کیا گیا آپ ﷺ کو اس طرح کی خصوصی رعایت جو دی گئی اس کی اصل غرض ضرورت اسلام تھی نہ کہ خواہشات نفس کا ازالہ تھا اور اس طرح تقریباً ہر دور اور خصوصاً آج کل کے دور میں جو اسلامی مدارس للبنات کے چلانے والے اور منتظم ہیں ان کے لئے اس میں ایک بہت بڑا سبق مخفی رکھا گیا ہے لیکن افسوس کہ اس سے بہت کم لوگوں نے ہدایت حاصل کی ہے جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کل اسلامی مدارس کی زندگیاں مکمل طور پر اسلامی نظر نہیں آتیں بلکہ وہاں بہت بداعتدالیاں ہورہی ہیں اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اور خصوصاً ان لوگوں کو جو اس شعبہ دینیات سے متعلق ہیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔ یہی حال آپ ﷺ کی دوسری خصوصیات کا ہے جو عام انسانوں اور آپ ﷺ کے درمیان اسلام نے روا رکھی ہیں ان کی وضاحت اپنے مقام پر ہوتی آئی ہے اور ہوتی رہے گی۔ انشاء اللہ العزیز۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

ان (بیویوں) میں سے آپ ﷺ جس کو چاہیں اپنے سے علیحدہ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جس جس کو اپنے سے علیحدہ کردیا تھا ان میں سے اگر کسی کو آپ ﷺ طلب کرلیں تو آپ ﷺ کے لیے کچھ مضائقہ نہیں (اس خصوصی اجازت سے) پوری توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور غمگین نہ ہوں گی اور جو کچھ آپ ﷺ انہیں دیں گے اس سے سب کی سب خوش رہیں گی اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اللہ اس سے بخوبی واقف ہے اور اللہ بڑا جاننے والا بہت ہی بردبار ہے

اس سلسلہ میں نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے مزید ہدایات 51 ۔ آپ ﷺ کی خصوصیات کا ذکر ابھی جاری ہے اور آپ ﷺ سے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ” ان بیویوں میں سے آپ ﷺ جس کو چاہیں اپنے سے علیحدہ رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جن کو آپ ﷺ نے علیحدہ کیا تھا ان میں سے کسی کو اپنے پاس طلب کرلیں تو آپ ﷺ کے لئے کچھ مضائقہ نہیں ہے “ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی خصوصیات میں جب یہ امر رکھا کہ امت کے مردوں کے لئے جو قید لگائی گئی تھی کہ ان میں سے کوئی شخص بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا تو آپ ﷺ کو اس قید سے مستثنیٰ قرار دیا کہ آپ ﷺ جن عورتوں سے دینی خدمت لینا چاہیں یا جو عورتیں دین کی خدمت کے لئے تیار ہوں وہ شرعی طور پر آپ ﷺ سے تعلیم سیکھنے کے لئے نکاح کرلیں اور نکاح کے بعد وہ پورے انشراح کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں گی اور خصوصاً عورتوں کے مسائل آپ ﷺ سے پوچھ کر ان کو بتاسکیں گی بلا شبہ عورتوں کے بہت زیادہ مسائل ہی ایسے ہیں جو پوشیدہ رکھنے کے ہیں اور پوشیدگی ہی میں پوچھے جاسکتے ہیں اور پوشیدگی ہی میں بتائے جاسکتے ہیں یہاں تک کہ عورتیں عورتوں کے پاس بھی بعض مسائل کھل کر نہیں پوچھ سکتیں بلکہ عورتوں سے پوچھنے کے لئے بھی دوسری عورتوں سے مخفی رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ایک عورت کسی مرد سے خواہ کتنا ہی صالح انسان کیوں نہ ہو یہاں تک کہ وہ عورت کا حقیقی باپ ہی کیوں نہ ہو وہ اس سے بات نہیں پوچھ سکتی لیکن خاوند سے کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی لہٰذا جس طرح خاوند اپنی بیوی کو یا بیوی اپنے خاوند کو تعلیم دے سکتی ہے کسی دوسرے کے لئے ممکن ہی نہیں ہے پھر ایک بات آدمی جب سیکھ لے اور اس کی تعلیم حاصل کرلے تو دوسروں کو تعلیم دے سکتا ہے اور عورتیں ہی صحیح معنوں میں عورتوں کو تعلیم دے سکتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے جن عورتوں کو اس وقت کے حالات کے مطابق اس کام کے لئے انتخاب کیا ظاہر ہے کہ ان سب میں یکساں صلاحتیں ممکن نہ تھیں اور نہ ہی ہوسکتی تھیں پھر کسی بی بی کے پاس زیادہ مسائل پوچھنے کے لئے عورتیں آتی ہوں گی ، کسی کے پاس کم اس لئے کسی کو مسائل پوچھنے کے لئے زیادہ وقت درکار ہوتا تھا اور کسی کو کم اور یہ بھی کہ ان باتوں کو آپ ﷺ یا آپ ﷺ کی وہ بیوی جس کو مسائل پوچھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی تھی وہی سمجھ سکتی تھی کہ اس کو کتنا وقت درکار ہے ان بہت ساری باتوں کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس بات کی واضح طور پر اجازت دے دی کہ جس بی بی کو آپ ﷺ ضرورت کے مطابق چاہیں زیادہ وقت دیں اور جس کو چاہیں کم وقت دیں اور جس کو چاہیں طلب کرلیں اور جس کو چاہیں طلب نہ کریں گویا آپ ﷺ اپنی سہولت اور ضرورت کے پیش نظر جو صورت بھی اختیار کریں گے آپ ﷺ پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور نہ ہی اس طرح کا طلب کرنا اور طلب نہ کرنا ، وقت کم دینازیادہ دینا عدل و انصاف کے خلاف سمجھا جائے گا کیونکہ یہ آپ ﷺ کی شرعی ضرورت تھی جس کے ساتھ نفس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی طبع مبارک اتنی عادت تھی کہ اجازت الٰہی کے باوجود آپ ﷺ نے ہمیشہ برابری کا خیال رکھا ہاں ! اس اجازت سے وہ خرخش ختم ہوگئی جو اتنے بڑے خاندان میں ممکن تھی کیونکہ بعض ازواج کے پاس اپنے پہلے خاوندوں کی اولاد بھی تھی جو انہوں نے اپنے پاس رکھی ہوئی تھی ، بعض کے رشتہ دار زیادہ بعض کے کم ، بعض کی مصروفیات کسی طرح کی اور بعض کی کسی طرح کی تھیں اور ان ساری باتوں کا خیال ولحاظ رکھا جانا بھی بہت ضروری تھا پھر اس کے ساتھ ہی وہ حالات بھی تھے جن حالات کے پیش نظر اس طرح کی شادیاں ضروری قرار پائیں ان مصالح کے پیش نظر بعض ازواج مطہرات کی طرف قدرتی طور پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت تھی اور یہ بھی کہ یہ سب کے سب نکاح ایک وقت میں نہیں ہوئے تھے کچھ بہت پہلے آئیں اور کچھ بہت بعد میں ، کچھ کی تربیت ہوچکی تھیں اور بعض کی ابھی ہونا تھی اس طرح کچھ شک سے اور شکایتیں پیدا ہونا ممکن تھا اللہ تعالیٰ نے ان ساری باتوں کی یکبارگی اعلان کردیا۔ فرمایا ” اس خصوصی اجازت سے پوری توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور وہ غمگین نہ ہوں گی اور جو کچھ آپ ان کو دیں گے اس سے سب کی سب خوش رہیں گی “۔ برابری کے متعلق بہت سی باتیں جن کا خیال رکھا جانا ضروری ہے مثلاً ایک بی بی سے آپ ﷺ نے نکاح کیا جس کے ساتھ تین چار بچے ہیں اور اس کے مقابلہ میں ایک بالکل تن تنہا ہے ، بعض کے ہاں آمدورفت بہت زیادہ ہے اور بعض کے ہاں بہت کم ، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انصاف یہ ہے کہ ہر گھر میں ایک جتنی خوراک اور دوسری اشیائے خوردنی پہنچانا لازم ہے بلا شبہ نہ تو یہ عدل ہے اور نہ ہی یہ جائز اور درست ہے بلکہ ہر گھر میں گھر کی ضرورت کے مطابق اشیاء کا پہنچانا عدل ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس کو عدل کے خلاف سمجھتی ہے مثلا ایک مرد کی تین بیویاں ہیں جس سے اس نے پہلے شادی کی وہ بالکل تن تنہا ہے کہ کوئی اولاد اس کے ہاں موجود نہیں دوسری بیوی کے دو بچے ہیں اور سب سے بعد میں آنے والی کے ہاں چھ یا سات بچے ہوچکے ہیں اب گھریلو تقسیم کچھ اس طرح ہوچکی ہے کہ ایک ھگر میں صرف ایک آدمی کھانے والا ہے ، دوسرے میں تین اور تیسرے میں سات یا آٹھ تو کیا ان سب گھروں میں اگر ایک جیسی خوراک ، ایک جیسا کپڑا اور دوسری اشیاء برابر برابر تقسیم کردیں تو نتیجہ کیا رہے گا ؟ سب کو معلوم ہے اور اس تقسیم کو کبھی انصاف اور عدل کی تقسیم نہیں کہا جاسکتا اسی سارے معاملہ کو آپ ﷺ پر چھوڑ دیا گیا اور آپ ﷺ نے ہر لحاظ سے ہر طرح کے عدل و انصاف کو پیش نظر رکھا گویا اس آیت سے مقصودآپ ﷺ کی خانگی زندگی کی الجھنوں کو ختم کرنا تھا تاکہ آپ ﷺ پورے سکون کے ساتھ اپنا کام کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی خانگی زندگی کے سارے اختیارات آپ ﷺ دے دیئے تو آپ ﷺ نے ان اختیارات سے کبھی غلط فائدہ نہ اٹھانا چاہا اور نہ ہی اٹھایا۔ آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے اور آپ ﷺ کو اسوہ حسنہ قائم کرنا تھا جو آپ ﷺ نے فی الواقعہ قائم کردیا اور ازواج مطہرات کے درمیان پوراپورا عدل کیا اور کسی کو بھی کسی پر کبھی ترجیح نہ دی ، بخاری اور دوسری کتب احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ آپ ﷺ اگر مدینہ طیبہ میں موجود ہوتے تو اکثر وبیشتر صلوٰۃ عصر کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے ہاں جاتے اور ہر ایک گھر میں جاکر ضرورت کی اشیاء پہنچاتے اور سب گھروں سے چکر لگانے کے بعد رات وہاں گزارتے جہاں رہنے کی باری مقرر ہوتی۔ اس آیت کے پیش نظر بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کے بعد آپ ﷺ نے باری کا خیال چھوڑ دیا تھا حالانکہ یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے اور نہ ہی آیت کا یہ مطلب ہے اور پھر باری اور دوسری باتوں میں عدل و انصاف کی وضاحت بخاری ، مسلم ، نسائی ، ابودائود وغیرہ میں تفصیل سے بیان ہوئی ہیں اور کہیں ایک بات بھی انصاف کے خلاف نہیں پائی گئی تھی۔ جس نے لکھا اور جس نے کہا ایک فرضی بات تھی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ زیر نظر آیت میں جو کچھ بیان ہوا محض عظیم مصالح کی خاطر ہوا چونکہ آپ ﷺ کی بیویوں کی تعداد بیک وقت چار سے زائد تھی اور یہ آپ ﷺ کی خصوصیت رکھی گئی تھی تو اس کے پیش نظر اس خصوصیت کا اعلان بھی ضروری تھا چناچہ وہ کردیا گیا بلا شبہ اس اعلان خداوندی نے آپ ﷺ کی بہت سی الجھنیں ختم کردی تھیں اور جس بی بی کا جو مقام تھا اس کے مطابق اس کے مقام کی حفاظت کی گئی اور ان میں سے جس کی جو ضرورت تھی اس کو پورا کیا گیا اور بیویوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی اسی میں تھی کہ ان میں جو جس کا مکو بحسن خوبی کرسکتی تھی اس سے وہی کام لیا گیا اور آپ ﷺ نے جو کچھ جس کو دیا وہ اس چیز کو لے کر راضی ہوئی اور آپ ﷺ کی کسی بی بی کو کبھی کوئی اعتراض آپ ﷺ پر نہ ہوا اور نہ ہی آپ ﷺ نے کسی کو اس طرح کا کوئی موقعہ فراہم ہونے دیا۔ فرمایا ” جو کچھ تمہارے دل میں ہے اللہ اس سے بخوبی واقف ہے اور اللہ بڑا جاننے والا ، بہت ہی بردبار ہے “۔ زیر نظر آیت کے اس ٹکڑے نے اس وقت جن لوگوں کے دلوں میں جو جو کانٹے چبھ رہے تھے سب کا ازالہ کردیا اور اس طرح قیامت تک کے لئے جن جن لوگوں کے دلوں میں کسی طرح کا روگ پیدا ہوسکتا تھا اس کا علاج کردیا گیا کہ کسی انسان کے دل میں کیا کیا بات اس حکم سے پیدا ہوسکتی ہے اللہ اس سے بخوبی واقف ہے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی اور اللہ تعالیٰ نے جس کام کر کرنا ہے وہ محض اس لئے کہ لوگ کیا کہیں گے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ وہی ہوکررہتا ہے جو امر الٰہی میں طے ہے۔ اس طرح زیر نظر حکم ایک طرح کی تنبیہہ اس لئے ہے کہ اللہ کا یہ حکم آجانے کے بعد اگر وہ دل میں کبیدہ خاطر ہوں گی تو گرفت خداوندی سے نہ بچ سکیں گی اور دوسرے لوگوں کے لئے اس میں یہ تنبیہ ہے کہ آپ ﷺ کی ازواجی زندگی کے متعلق کسی طرح کی بدگمانی اگر انہوں نے اپنے دل میں رکھی تو اللہ تعالیٰ سے ان کی یہ چوری چھپی نہ رہے گی اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے کہ انسان کے سارے حالات سے وہ ہر وقت آگاہ ہے اور وہ جانتا ہے کہ فلاں جو بات کہہ رہا ہے اس کے دل کی گہرائیوں میں کیا کچھ چھپا ہے اور وہ بہت بردبار ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود حلم سے کام لیتا ہے اور جب تک وہ کوئی عملی اقدام نہیں کرتا اسکا عذاب دینے سے گریز ہی کرتا ہے۔
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

ان کے علاوہ اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے جائز نہیں اور نہ ہی یہ کہ آپ ﷺ ان کی جگہ دوسری بیویوں کو لیں (کہ ان میں سے کسی کو چھوڑ کر کسی اور سے نکاح کرلیں) خواہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے ہاں ! وہ جو آپ ﷺ کی ملک یمین ہوں (ان سے نکاح کی اجازت ہے) اور اللہ ہرچیز پر نگہبان ہے

اس کے بعدآزاد عورتوں میں سے آپ ﷺ کسی کو اپنی زوجیت میں نہیں سے سکتے 52 ۔ زیر نظر آیت اس سورة الاحزاب میں امہات المومنین کے ذکر کی مناسبت کی وجہ سے بیان کی گئی ہے حالانکہ اس کا نزول یقینا فتح مکہ کے بعد کا ہے کیونکہ سیدہ میمونہ ؓ سے نکاح آپ ﷺ نے عمرہ ادا کرنے کے موقع پر کیا اور یہ نکاح گویا ذیقعدہ 7 ھ میں ہوا اور زیر نظر آیت یقینا اس کے بعد نازل ہوئی جس میں آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ جن آزاد عورتوں سے آپ ﷺ نے نکاح کرلیا بس کرلیا اب آپ ﷺ کسی آزاد عورت سے نکاح نہیں کرسکتے اور نہ ہی ایسا ہوسکتا ہے کہ کسی بیوی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی دوسری بیوی کو لاسکتے ہیں اور نہ ہی یہ کہ پہلی بیویوں میں سے کوئی اگر وفات پاجائے تو اس کی جگہ کسی اور سے نکاح کرسکتے ہیں گویا کسی طریقہ سے نہ تو نئی شادی آپ کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی ایک عورت کی جگہ کوئی نئی آزاد عورت لاسکتے ہیں۔ اس سورت کی 29 , 28 آیت میں عورتوں کو اختیار دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے اختیار کا استعمال اللہ اور اس کے رسول کی مرضی ہی کے مطابق کیا اور اعلان کیا ہم کو اللہ اور اس کے رسول کی مرضی درکار ہے اور اس کے بعد جب اسکا عملی ثبوت بھی مل گیا تو اب نبی کریم ﷺ پر پابندی عائد کردی کہ اس کے بعد نہ تو آپ ﷺ کیسی آزادہ عورت سے نکاح کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو طلاق دے کر اس کی جگہ کسی دوسری بیوی کو لاسکتے ہیں اور یہ پابندی آزاد عورتوں کے لئے لگائی گئی ہے رہی وہ عورتیں جو ملک یمین کی صورت میں آجاتی ہیں تو اس سلسلہ میں اجازت کو بحال رکھا کہ ان میں سے کوئی صالح عورت موجود ہو جس کو آپ ﷺ بھی زوجیت میں لینا چاہیں اور وہ بھی زوجیت میں آنا چاہے تو وہ قبول کی جاسکتی ہے کیونکہ حالات میں اس کی گنجائش رکھنا ضروری تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مملوکہ عورت سے نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ عام طور پر سمجھ لیا گیا ہے ہمیں افسوس ہے کہ مولانا مودودی (رح) جیسے زیرک لوگوں نے بھی اس معاملہ میں غور کرنے کی ضرورت نہ سمجھی اور آنکھیں بند کرکے تقلید کرنے پر مجبور ہوگئے چناچہ اس جگہ بھی وہ رقم طراز ہیں کہ ” یہ آیت اس بات کی صراحت کر رہی ہے کہ منکوحہ بیویوں کے علاوہ مملوکہ عورتوں سے بھی تمتع کی اجازت ہے “۔ حالانکہ اس جگہ اس طرح کی کوئی چیز بیان نہیں کی گئی بلکہ یہ آیت بھی وضاحت پیش کررہی ہے کہ آپ ﷺ اس کے بعد کسی آزاد عورت سے نکاح نہیں کرسکتے مگر ہاں ! اگر کوئی مملوکہ میسر آئے اور اس سے آپ ﷺ نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں کیونکہ استثناء نکاح کرنے میں ہے اور تفصیل اس کی چونکہ پیچھے سورة النساء کی تیسری آیت میں کی جاچکی ہے اور سوہ المومنون کی آیت 6 میں بھی اشارہ دیا گیا ہے اس لئے یہاں بھی اشارہ ہی پر اکتفا کیا جارہا ہے اگر وضاحت چاہتے ہیں تو عروہ الوثقی جلددوم سورة النساء کی محولہ بالا آیت کی تفسیر دیکھیں۔ فرمایا : ” اللہ ہرچیز پر نگران ہے “۔ یعنی وہ دیکھ رہا ہے کہ کون کیا کرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں مملوکہ کے ساتھ نکاح کی اجازت دی گئی تھی لیکن آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی ممانعت کردی گئی تھی جو آپ ﷺ کی خصوصیت ہے اور بلا شبہ اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی آزاد عورت سے نکاح نہیں کیا تاریخ اس کی گواہ ہے اور مملوکہ سے نکاح کی ممانعت ہی نہ تھی اس لئے اس بحث کی ضرورت ہی نہ رہی۔ امہات المومنین میں سے 9 کا تعلق قریش کے خاندان سے ہے یعنی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ ، سیدہ سودہ ؓ ، سیدہ عائشہ ؓ ، سیدہ حفصہ ؓ ، سیدہ زینب بنت خزیمہ ؓ ، سیدہ زینب بنت جحش ؓ ، سیدہ ام حبیبہ ؓ ، سیدہ میمونہ ؓ ، اور چار کا تعلق خاندان پر یش سے نہیں تھا یعنی سیدہ جو یریہ ؓ ، سیدہ صفیہ ؓ ، سیدہ ماریہ قبطیہ ؓ ، سیدہ ریحانہ ؓ کا تعلق دوسرے خاندانوں سے تھا۔ امہات المومنین کی فضیلت قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں احادیث بھی بہت بیان کی گئی ہیں لیکن قرآن کریم میں جن فضیلتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ہم اس جگہ انہیں پر اکتفا کریں گے کیونکہ قرآن کریم ہی کی تفسیر کی جارہی ہے۔ 1) پہلی فضیلت قرآن نے یہ بیان کی ہے کہ ان کو ازواج النبی کے خطاب عالی سے نواز گیا ہے۔ 2) دوسری فضیلت یہ ہے کہ فرمایا { لسنکاحد من النسائ } ” تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔ “ 3) تیسری فضیلت یہ کہ قرآن کریم نے بیان کیا { انا……… ازواجک } (50:33) ” ہم نے تیری ازواج کو تیرے لئے حلال رکھا “ گویا مطلب یہ ہے کہ تیری زوجیت میں جو حلال ہوگئی وہ کسی اور کی زوجیت کے لئے حلال نہ رہی۔ 4) چوتھی فضیلت میں فرمایا { تبتغی……… ازواجک } (تحریم 1:66) ” آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی کا اہتمام کرتے ہیں۔ “ اور آپ ﷺ کی بیبیوں کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ 5) پانچویں فضیلت { ومن ایتہ ان خلقلکم من انفسکمازواجا } ” یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہاری بیویاں بنائی ہیں۔ 6) ازواج النبی ﷺ کے لئے ایک طرف دنیا اور زینت دنیا اور دوسری طرف اللہ ، اس کا رسول اور آخرت پیش کی گئی تو انہوں نے دنیا اور اس کی زینت کے مقابلہ میں اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کو پسند کیا تو اعلان الٰہی ہوا کہ تم سب کے لئے دوگنا اجر عطا کیا جائے گا۔ (31:33) 7) ساتویں فضیلت { واذکرن………… والحکمۃ } (34:43) ” تمہارے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور حکمت الٰہیہ کی جو تلاوت کی جاتی ہے تو اس کا ذکر کرتی رہو “۔ 8) آٹھویں فضیلت { ویطھرکم تطھیرا } (32:33) ” تم کو بالکل پاک بنادیا ، پاک بنانا۔ “ 9) نویں فضیلت { وازواجہ امھا تھم } (6:33) ” اور نبی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں “۔ اور اس لقب سے ان کو امہات المومنین کہا جاتا ہے اور تفصیل ان کی ان کے مقام پر گزرچکی ہے۔ امہتا المومنین کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک ایک مثالی حسن سلوک تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا خیرکم خیرکم ناھنہ وانا خیرکم باھلی سب انسانوں میں سے اچھا انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہے اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا ہوں اور بیویوں کے ساتھ ہی اولاد بھی شامل ہے اور وہ اولاد چھوٹی ہو یا بڑی۔ آپ ﷺ نے ہر ایک شوہر کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ خوش مذاق ہو آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب گھر میں داخل ہوتے تو السلام علیکم خود فرمایا کرتے اور رات کے وقت جاتے تو سلام ایسی آہستگی سے فرماتے کہ بیوی جاگتی ہو تو سن لے اور سو گئی ہو تو جاگ نہ جائے۔ کھانے پینے ، مکان اور گزارہ اور ملاقات میں ہر ایک کے ساتھ برابری کرتے اور عصر کے بعد ایک بار اپنے سارے گھروں کا چکر لگاتے اور ان کی ضرورت معلوم کرتے اور ضرورت کی اشیاء ہر گھر میں پہنچاتے اور صلوٰۃ مغرب کے بعد سب بیویوں کو ایک گھر میں جمع فرما کر مختصر ملاقات کرتے اور رات صرف اسی جگہ گزارتے جہاں کی باری ہوتی۔ اگر کسی طرح کی کوئی مجبوری اس سلسلہ میں لاحق ہوتی تو سب پر واضح کرتے۔ ہر ایک گھر کی ضرورت کو پورا کرتے ، دنیاکا مال اکٹھا کرنے کا آپ ﷺ کو شوق تھا اور نہ ہی ازواج کو ایسا کرنے دیتے۔ ہر لحاظ سے بالکل سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم نبی (کریم ﷺ کے گھروں میں (بغیر اجازت) داخل نہ ہوا کرو بجز اس کے کہ تم کو کھانے کے لیے مدعو کیا جائے اور نہ ہی کھانا پکنے کے انتظار میں (وہاں) بیٹھ رہا کرو لیکن جب تم کو (کھانے کے لیے) بلایا جائے تو داخل ہو پھر جب تم کھانا کھا چکو تو اٹھ کر چلے جایا کرو اور باتوں میں دل لگائے نہ بیٹھے رہا کرو ، بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے (اس کے باوجود) وہ تمہارا لحاظ کرتا ہے اور اللہ کو صاف اور سیدھی بات کہنے میں کوئی حجاب نہیں اور جب تم ان سے (رسول ﷺ کی اہل بیت سے) کوئی چیز مانگو تو ان سے پردہ میں رہ کر مانگو یہ تمہارے اور ان کے (دونوں کے) لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے اور (پھر سن لو) یہ تمہارے لیے زیبا نہیں کہ تم اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ اس (نبی کریم ﷺ کی بیویوں سے کبھی اس (کی وفات) کے بعد نکاح کرو بلاشبہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی (گناہ کی) بات ہے

نبی اعظم وآخر ﷺ کے گھروں میں اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم 53 ۔ عربوں میں رواج تھا کہ ایک دوسرے کے گھر جانے کی ضرورت پیش آتی تو بغیر اجازت اندر چلے جاتے کسی شخص کو کسی دوسرے سے ملنا ہوتا تو وہ بےدھڑک اس کے گھر میں داخل ہوجاتا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر پکارنے اور اجازت لینے دینے کی عادت نہ تھی اور بدقسمتی سے ہمارے دیہاتوں میں آج تک ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ مہمان نواز بھی بہت تھے اور ہجرت سے پہلے بھی قریش مکہ کی اکثر دعوت کرتے رہتے اور ہجرت کے بعد بھی آپ ﷺ نے یہ معمول جاری رکھا اور جب دعوت عام ہوتی تو اس وقت مسلم وغیر مسلم کا فرق بھی نہ فرماتے سب کی دعوت کردیتے۔ قومی رواج کے مطابق لوگ دعوت کھانے کے لئے جاتے تو کھانا تیار ہونے سے بہت پہلے چلے جاتے اور اگر کھانے کے وقت حاضر ہوتے تو کھانا کھا چکنے کے بعد ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہوجاتے ، یہ عادت بہت بری تھی لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ اخلاقاً خاموس رہتے کہ گھر آنے والوں کو یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جب تم نے کھانا کھالیا تو مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں۔ جگہ کی بھی قلت تھی ، آپ ﷺ ہر طرح کی تکلیف برداشت کرتے لیکن زبان سے کچھ نہ کہتے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جارہا ہے کہ ” اے مسلمانو ! تم نبی کریم ﷺ کے گھروں میں بغیر اجازت داخل نہ ہوا کرو مگر ہاں ! جب تم کو کھانے کے لئے دعوت دی جائے اور کھانا تیار نہ ہوا ہو تو بھی کھانا پکنے کے انتظار میں وہاں جاکرمت بیٹھا کرو اور اسی طرح یہ بھی کہ جب تم کھانا کھا چکو تو کھانا کھانے کے بعد وہاں مت بیٹھ رہا کرو اور ادھر ادھر کی باتوں میں لگائے نہ بیٹھے رہا کرو “۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری دعوت کی گئی ہے تو بھی کھانا کھانے کے لئے ، اس وقت تک اندر مت جائو جب تک تم کو اندر آنے کی دوبارہ دعوت نہ دی جائے اور اگر تم کو اندر بلالیا گیا اور تم کھانا کھاچکے تو کھانا کھانے کے بعد بھی اس جگہ مت بیٹھے رہا کرو کہ وہاں چاریاری لگا کر ادھر ادھر کی باتیں شروع کردو۔ یادرکھو کہ تمہاری اس طرح کے عمل سے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے گھر والوں کو بہت دکھ پہنچتا ہے لیکن نبی کریم ﷺ تم سے شرم کے مارے یہ نہیں کہتے کہ اب کھانا کھاچکے لہٰذا مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں۔ اس لئے کہ یہ بات معاشرہ میں بعید از قیاس سمجھی جاتی ہے۔ نبی ﷺ تو اخلاقاً خاموش ہیں اور اپنی تکلیف کا ذکر نہیں کرتے اللہ تم کو اس کا حکم دے رہا ہے کہ تم اس طرح نبی کریم ﷺ کی تکلیف کا باعث مت بنو اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حق بات کے کہنے سے ہرگز نہیں شرماتا اس لئے تم کو دو ٹوی کہا جارہا ہے کہ تم لوگ ایسی حرکتوں سے باز آجائو۔ دوسرا حکم زیر نظر آیت میں یہ دیا جارہا ہے کہ تم لوگوں کو اگر امہات المومنین سے کوئی بات پوچھنا ہو یا کوئی فائدہ کی چیز لینا ہو یا اس طرح کا کوئی دوسرا کام ہو تو بھی کھلے منہ بغیر اجازت طلب کیے اندر مت داخل ہوجایا کرو ، کوئی سوال کرنا ہو تو پردہ میں رہ کر یا آڑ میں کھڑے ہو کر کرو اور انتظار کرو کہ اندر سے کیا جواب آتا ہے ، ایسا کرنا ہی تمہارے دلوں اور ان امہات المومنین کے دلوں کی طہارت ہے اور پاکیزگی بھی اسی میں ہے کہ رو در رو خواہ مخواہ بحث وتمیث نہ شروع کردی جائے بلکہ ضرورت کی بات پوچھی جائے اور امہات المومنین واضح اور بین جواب ان کو سنادیں بات کو خواہ مخواہ لمبا نہ کیا جائے۔ تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم خواہ مخواہ رسول اللہ ﷺ کے لئے تکلیف کا باعث بنو اور یہ حکم جو دیاجارہا ہے یہ عام ہے آپ ﷺ کی موجودگی میں بھی اور عدم موجودگی میں بھی۔ تیسرا حکم مسلمانوں کو یہ دیا جارہا ہے کہ تم لوگ امہات المومنین میں سے کسی کے ساتھ بھی نکاح نہ کرو یہ حکم گویا آپ ﷺ کی وفات کے بعد تک جاری وساری رہے گا اور کسی مرد مومن کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ آپ ﷺ کے حرم میں ناجائز دخل اندازی کرے۔ ازواج مطہرات مسلمانوں کی گویا مائیں ہیں اور ماں کے حقوق ان کو ادا کرنا ضروری ہیں یہ گویا نبی اعظم وآخر ﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کی بیویوں میں سے کسی ایک بیوی سے بھی کوئی شخص نکاح نہیں کرسکتا کہ اس طرح ماں کا احترام باقی نہیں رہتا۔ اس روحانی مقام کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ان عورتوں میں سے جو نبی کریم ﷺ کے حبالہ عقد میں آچکی ہیں نکاح نہیں کرسکتا اور یہ حکم ابدالا باد کے لئے قائم رہے گا غور کرو کہ جب کوئی مسلمان اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ امہات المومنین میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے تو کوئی شخص یہ کیسے کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کو طلاق دے دے افسوس کی اتنی تاکید کے بعد بھی بعض مسلمان کہلانے والے فرقے کس طرح بیوقوفی اور کم عقلی کی باتیں کرجاتے ہیں اور پھر ان کی باتیں ان کے فرقے کے لوگ آنکھیں بند کرکے ماننے لگتے ہیں۔ ستیاناس اس گروہ بند کا کہ اس نے کس قدر لوگوں کو اندھا کردیا ہے کہ ایک شیعہ ہو کر اس بات کا انکار کیوں کرے گا کہ حضرت علی ؓ کو نبی کریم ﷺ نے وصیت کی تھی کہ تم میری وفات کے بعدمیری بیویوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو تو آپ ﷺ کی وافت کے بعد حضرت علی ؓ نے حضرت عائشہ ؓ کو طلاق دے دی تھی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس سبائی گروہ نے ہر وہ بات کہی جس کا کوئی سرپیر نہیں تھا اور اسلام کو اس طرح بدنام کیا کہ اسلام کو اسلام ہی نہ رہنے دیا بلکہ اس کو ایک فقیہ کا مذہب بنا کر رکھ دیا۔ فرمایا تم لوگوں نے تو یہ بات معمولی سمجھ رکھی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو روحانی دکھ پہنچا کر بھی تم مسلمان رہ سکتے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی بات کرنا ایک نہایت حد تک برا فعل اور بری تفہیم ہے اگر ایمان کی حفاظت چاہتے ہو تو ان باتوں سے باز آجائو ورنہ تمہارے ایمان کا جنازہ نکل جائے گا۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ تو بلاشبہ اللہ ہرچیز کو اچھی طرح جانتا ہے (کوئی بات اس کے علم سے باہر نہیں)

تم ایک چیز کو چھپائو یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ تو ہر حال میں جاننے والا ہے 54 ۔ روحانی بیماریاں جسمانی بیماریوں سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتی ہیں لیکن جسمانی بیماریوں کا پتہ چل جاتا ہے اور روحانی بیماریوں کا پتہ ہی نہیں چلتا اور اسی طرح ان کا علاج بھی نہایت مشکل ہوتا ہے۔ جو لوگ دل کے اندر بات کو چھپائے رکھنے کے عادی ہوتے ہیں بلا شبہ وہ روحانی بیمار ہی ہوتے ہیں ، فرمایا : ایک چیز کو تم ظاہر کرو یا چھپا کر رکھو اللہ کے کے نزدیک تو دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ وہ ہر ایک بات کو اور ہر ایک چیز کو یکساں جانتا اور ایک ہی طرح سے علم رکھتا ہے اگر تم نبی کریم ﷺ کے ساتھ یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ یا اہل بیت اور اہل کساء کے ساتھ کسی سے بھی کسی طرح کا بغض دل میں چھپائو گے تو اس طرح تم نبی کریم ﷺ ، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات یا اہل بیت واہل کساء کا کچھ نہیں بگاڑو گے بلکہ جو کچھ نقصان ہوگا وہ تمہارا اپنا ہی ہوگا۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان (عورتوں) پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ اپنے باپوں کے سامنے آئیں اور نہ اپنے بیٹوں کے سامنے نہ اپنے بھائیوں کے سامنے نہ اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے اور نہ اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے اور نہ اپنی عورتوں کے سامنے اور نہ اپنی ملک یمین کے سامنے آنے جانے میں کوئی گناہ ہے اور اللہ سے ڈرتی رہو بلاشبہ اللہ ہرچیز سے خوب اچھی طرح واقف ہے

امہات المومنین ہوں یا عام ایمان والیاں ان کو جن لوگوں سے کوئی پردہ نہیں ہے 55 ۔ گزشتہ آیت میں امہات المومنین کے ہاں آنے جانے ، ان سے سوال کرنے اور جواب لینے کے لئے ضروری قرار دیا گیا تھا کہ رو در رو نہیں بلکہ آڑ کے پیچھے سے بات کرو اور پردہ میں رہ کر سوال کرو۔ زیر نظر آیت میں اس حکم سے بعض لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے کہ یہ پابندی ان لوگوں پر عائد نہیں ہوتی اور جن لوگوں پر یہ پابندی نہیں ہوتی اور جن لوگوں پر پابندی نہیں وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا ان کے باپ ہیں ، بیٹے ہیں ، ان کے بھائی اور بھتیجے ہیں ، اس طرح ان کے بھانجے اور گھروں میں آنے جانے والی خاندانی عورتیں ہیں اور وہ مملوک بھی ہیں جو ان کی ملکیت قرار پاگئے ہوں۔ زیر نظر آیت میں صرف ذوالارحام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بعد میں اس کی تفصیل سورة النور کی آیت 32 , 31 میں گزرچکی ہے جو اس سورة الاحزاب کے بعد نازل ہوئی تھی ، اس طرح ان عورتوں اور مملوک کی وضاحت بھی اس جگہ کردی گئی ہے ملاحظہہو عروۃ الوثقی جلد ششم میں سورة النور کی محولہ آیتیں اور ان میں ہر طرح کے رشتہ دار خواہ وہ حقیقی ہوں یا علاتی واخیانی یا رضاعی سب شامل کیے گئے ہیں۔ عام ایمان والی عورتیں ہوں یا امہات المومنین سب کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ ” تم اللہ سے ڈرتی رہو بلا شبہ اللہ ہرچیز سے خوف اچھی طرح واقف ہے “۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح حکم آگیا ہے تو اس قطعی اور واضح حکم کے آجانے کے بعد آئندہ کسی ایسے شخص کو بےحجاب اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے جو ان مستثنیٰ رشتہ داروں کی فہرست سے باہر ہو اور اس طرح عام ایمان والی عورتوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسی روش اختیار نہ کریں کہ شوہروں کی موجودگی میں تو پردہ کریں اور جب وہ موجود نہ ہوں تو غیر محرم مردوں سے کوئی حجاب نہ کریں کیونکہ اس چیز کا تعلق دل کی بیماری سے ہے اور دل کی بیماریاں کبھی اچھی نہیں ہوتیں ، ان سے اجتناب نہایت ضروری ہے اور اللہ ہر ایک چیز کو جاننے والا ہے ، اس سے کوئی راز کی بات بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ وہ ہرچیز پر خود گواہ ہے۔