Ayah 33:6رسول اللہ ﷺ ایمان والوں کے لئے ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں
6) ” نبی کریم ﷺ ایمان والوں کو اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں “ ۔ کیا انتہا ہے اس شفقت وتعلق کی جو نبی کریم ﷺ کو اپنی تامام امت کے ساتھ ہے۔ انسان خود اپنا دشمن اور بدخواہ تو ہوسکتا ہے اور بعض اوقات جہل وغباوت کی بنا پر بھی ہوجاتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ سے تو جن پر خفی وخفی منافع ومصالح بھی روشن ہیں کسی حال میں بھی بدخواہی کا امکان نہیں۔ بلا شبہ ایک سچے مسلمان کا جو رشتہ اپنے رسول ﷺ سے قائم ہوتا ہے اور جو تعلق اس تعلق سے جو نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کے درمیان ہے آپس میں کوئی نسبت نہیں رکھتا کہنے کو تو آدمی معلوم نہیں کیا کچھ کس کس کے لئے کہہ دیتا ہے لیکن کسی چیز کی محبت انسان کے ایمان کا جزو نہیں قرار دی جاسکتی سوائے اللہ اور اسے کے رسول ﷺ کی محبت کے دنیا میں انسان کے تعلق کس کس سے اور کیا کیا ہے غور کرو کہ ماں باپ ہیں ، بیوی بچے ہیں ، اسی طرح عزیز و اقارب ہیں اور اسی طرح ہر آدمی کے لئے اس کی اپنی جان اور نفس ہے۔ مسلمان کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ دنیا کے ان تمام علائق حتیٰ کہ انسان کی اپنی جان سے بھی نبی کریم ﷺ کو زیادہ عزیز رکھتا ہو تب وہ مسلمان دین اسلام کے معاملہ میں سچا ہوسکتا ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ انسان اس محبت میں تب ہی سچاہوسکتا ہے جب نبی اعظم وآخر ﷺ کی محبت میں وہ طریقہ اختیار کرے جو رسول کی محبت کا طریقہ خود رسول اللہ ﷺ ہی نے سکھایا ہو۔ قرآن کریم ہی نے دوسری جگہ اس کی اس طرح تشریح کی ہے کہ ” اے پیغمبر اسلام ! مسلمانوں سے کہہ دو کہ اگر ایسا ہے کہ تمہارے ماں باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں ، تمہاری برادری ، تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے ، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑجانے سے ڈرتے ہو ، تمہارے رہنے سہنے کے مکان جو تمہیں اس قدر پسند ہیں یہ ساری چیزیں تمہیں اللہ سے ، اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو کرنا ہے وہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں پر سعادت کی راہ کبھی نہیں کھولتا “۔ (التوبہ 24:9) اس سے واضح ہوگیا کہ اگر کہیں جب ایمانی اور غیر ایمانی میں مقابلہ ہوجائے تو مومن وہ ہے جس کی حب ایمانی پر دنیا کی کوئی محبت اور علاقہ بھی غالب نہ آسکے۔ زیر نظر آیت میں آٹھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اگر غور کرو گے تو ایک متمدن زندگی کے تمام علائق ان میں آگئے ہیں نیز جس ترتیب سے ذکر کیا ہے علائق کی گہرائیوں کی قدرتی ترتیب یہی ہے۔ فرمایا انسان تمدنی زندگی کی الفتوں کے بڑے رشتے یہی ہیں اور اپنی جگہ سب مطلوب وضروری ہیں لیکن اگر کسی وقت محب ایمانی میں اور ان میں مقابلہ ہوجائے تو پھر مومن وہ ہے جس پر ان تمام الفتوں میں سے کسی الفت کا بھی جادو چل نہ سکے اور کوئی علاقہ بھی اسے اتباع حق سے روک نہ سکے۔
میری اپیل قارئین سے ہمیشہ یہ رہی ہے اور اب بھی ہے کہ وہ غور وخوض کریں اور خود سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ میرے نزدیک یہی سیدھی اور صاف راہ ہے جو اسلام نے بتائی ہے یہاں بھی میری وہی اپیل ہے کہ غور کرو قرآن کریم فطرت انسانی کی کمزوریوں کا کس طرح کھوج لگاتا ہے فرمایا اور تجارت جس کے منداپڑ جانے کا تمہیں ڈر لگارہتا ہے یعنی عزائم ومقاصد کی راہ میں جب کبھی بھی قدم اٹھایا جائے گا تو ناگزیر ہے کہ صورت حال میں انقلاب ہو اور جب انقلاب ہوگا خواہ جنگ کی صورت میں ہو خواہ کسی دوسری صورت میں تو عارضی طور پر کاروبار ضرور بگڑے گا ، مال و جائیداد کے لئے خطرات ضرور پیدا ہوں گے اور یہی بات مال و دولت کے پرستاروں پر ہمیشہ شاق گزرتی ہے وہ کہتے ہیں ہمارا کاروبار خراب ہوجائے گا اور نہیں جانتے کہ اگر راہ حق میں استقامت دکھائیں تو جو کچھ خراب ہوگا وہ بہت تھوڑا ہوگا اور پھر جو کچھ بنے گا وہ اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوگا۔ وان اللہ عندہ اجر عظیم۔
بلا شبہ محبت کی اس آزمائش میں صحابہ کرام جس طرح پورے اترے اس کی شہادت تاریخ نے محفوظ کرلی ہے اور وہ محتاج بیان نہیں بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے سارے دل اور اپنی ساری روح سے ایسا عشق نہیں کیا ہوگا جیسا صحابہ نے اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ سے راہ حق میں کیا۔ انہوں نے اس محبت کی راہ میں سب کچھ قربان کردیا جو ایک انسان کرسکتا ہے اور پھر اس کی راہ سے سب کچھ پایا جو انسانوں کی کوئی جماعت پاسکتی ہے لیکن آج ہمارا حال کیا ہے ؟ کیا ہم میں سے کسی کو جرات ہوسکتی ہے کہ یہ آیت سامنے رکھ کر اپنے ایمان کا احتساب کریں ؟ آج ہم میں سے کوئی انگوٹھے چوم کر اپنی آنکھوں اور ماتھے پر لگا کر محبت کا اظہار کررہا ہے اور کوئی میلاد منانے کے لئے لوگوں سے مانگ مانگ کر چاردیگیں پکا کر محبت کا اظہار کررہا ہے ، کوئی کدو پکا کر اور اس کی کاشیں شوربے سے چن چن کر اپنا پیٹ بھرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میرے عشق کی اس طرح تکمیل ہورہی ہے۔ مختصر یہ کہ کسی نے کوئی سوانگ رچایا ہے اور کسی نے کوئی اور اسلام کی حقیقی روح جو اس آیت میں بتائی گئی ہے اس کی طرف کسی نے بھی دھیان نہیں دیا حالانکہ قرآن کریم کی تعلیم یہی ہے جو اس نے نہایت واضح الفاظ میں بیان کردی ہے وہ بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک بزرگی وفضیلت کا معیار کیا ہے ؟ فرمایا سب سے بڑا درجہ انہی کا ہے جنہوں نے سچائی کی راہ میں ہر طرح کی قربانیاں کیں اور ایمان وعمل کی آزمائش میں پورے اترے تمہارے گھڑے ہوئے تقویٰ و بزرگی کے مناصب اور رواجی بڑائیاں اللہ کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ معلوم ہوا کہ آج کل مسلمانوں کی عام مذہبی ذہنیت کس درجہ اسلام سے دور ہوگئی ہے کہ جاہلیت عرب کی طرح وہ بھی رواجی نیکیوں کو حقیقی اسلامی نیکیوں پر ترجیح دینے لگے ہیں اگر ایک فاسق وفاجر امیر محرم میں سبیل لگا دیتا ہے یا ربیع الاول میں دھوم دھام سے چراغاں کردیتا ہے یا میلاد کی مجلس رکھوا دیتا ہے یا کسی مسجد اور درگاہ میں بجلی لگوادیتا ہے تو تمام مسلمان اس کی حمدوثنا کا غلغلہ مچا دیتے ہیں اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس کے ایمان وعمل اور ایثار فی اللہ کا کیا حال ہے ؟ خیال رکھنا چاہیے کہ رواجی نیکیاں اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیکیاں نہیں ہیں ، نیکی کا معیار صرف ایمان وعمل اور ایمان وعمل کی راہ میں ایثار ہے۔
بخاری شریف میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ما من مومن الا وانا اولی الناس بہ فی الدنیا والاخرۃ اقراء وا ان شئتم النبی اولی بالمومنین من انفسھم فایما مومن من ترک مالا فلیرثہ عصبتہ من کانوا فان ترک دینا اوضیاعا فلیاتنی وانا مولاہ ” کوئی مومن نہیں مگر میں دنیا اور آخرت میں سب لوگوں سے بڑھ کر اس کا حق دار ہوں اگر چاہو تو پڑھو۔ النبی اولیٰ بالمومنین۔ الخ۔ پس جو کوئی بھی مومن اپنے مرتے کے بعد مال چھوڑے تو اس کے رشتہ داروں کا جو کوئی بھی ہوں یا عصبات کا اور اگر وہ کوئی قرضہ چھوڑے یا نادار بال بچے چھوڑے تو چاہئے کہ اس کے لوگ میرے پاس آئیں کہ میں اس کی ان ضروریات کا بندوبست کروں گا۔ ذرا غور کریں کہ اس سے بڑھ کر آخر آپ کی اور کیا محبت ہوگی۔ آج کل علما ورثۃ الانبیاء کی حدیث پڑھ کر جھومنے والوں کو ذرا خیال کرنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟ مرنے والا مرگیا تو وہ نہیں دیکھتے کہ اس کی مالی حالت کیا ہے ؟ اس کے یتیم بچوں کا کفیل کون ہوگا ؟ اس کے اموال کا کون بندوبست کرے گا ؟ اس نے جو قرض چھوڑا ہے اس کا کیا ہوگا ؟ ان کو ایک ہی دھن ہے کہ جائے نماز چھوٹا ہے تو آخر کیوں ؟ اس کے قل کی رقم میں کیا کیا پیش کیا جانا ضروری ہے ؟ اس کو کیا کیا غذائیں پسند تھیں ؟ اس کو کون سا لباس پسند تھا ؟ تاکہ ملائوں کو کھانا اچھا ملے اور کپڑے اچھے پیش کئے جائیں ، پھر اس کے دسویں اور چالیسیویں کی بھی ان کو فکر ہے کہ اس میں کتنے قرآن کریم اس کے ورثاء پڑھوا سکنے کی طاقت رکھتے ہیں اور کتنے دام وہ قرآن پڑھ کر بھجوا سکتے ہیں ھ۔ آیت کریمہ کتنا اور قل ھو اللہ کتنی بار اور درود شریف کس تعداد میں ؟ کیونکہ مرنے والے کے ورثاء جتنا گڑ ڈالیں گے اتنا ہی میٹھا ہوگا اور وہ ہرچیز کا الگ الگ ریٹ لگائیں تو کتنا کلام پیش کریں اور اگر پورا قرآن کریم ختم کے لئے درکار ہے تو وہ کتنی اجرت کا ہو ؟ کیونکہ ان کے پاس سارے اقسام کے قرآن کریم پڑھے ، پڑھائے موجود ہیں ان کی ہمت ہے کہ وہ کتنے اور کیسے معنی کس ریٹ کے خرید سکتے ہیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ مرنے والے کی حیثیت کیا ہے ؟ ان کی بلا سے وہ قرض چھوڑ گیا ہے تو ان کو کیا ؟ اس کے یتیم بچے باقی رہ گئے ہیں تو ان کو ان کی فکر کیوں ہو ؟ ان کو تو اپنے کام سے غرض ہے کہ اس کی بخشش کے نسخے ان کے پاس ہیں اور ان کے ورثاء کو وہ مہیا کرسکتے ہیں اگر وہ لینے کی ہمت رکھتے ہوں اور پھر پہنچا وہ ان کو دین کے اور اس پہنچانے کی اجرت اس کے سوا ہوگی کیونکہ یہ ان کے فن کا معاملہ ہے جتنے میں طے ہوجائے اور جس مرنے والے کے ورثا یہ سب کچھ لغویات نہ کرائیں اور ان خرافات سے وہ بچنے کی کوشش کریں ان کیلئے فتویٰ ان کے پاس موجود ہے وہ اپنا فتویٰ داغ دیں گے کہ مرگیا مردود نہ فاتحہ نہ درود۔
” اور رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ایمان والوں کی مائیں ہیں “۔ یہ دوسری بات ہے جو زیر نظر آیت میں بیان کی گئی کہ نبی کریم ﷺ کی بیویاں ایمان والوں کی مائیں ہیں۔ غور کرو کہ ابھی تو اوپر ذکر فرمایا تھا کہ منہ سے کسی عورت کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں ہوجاتی اور اس جگہ ارشاد فرمایا کہ نبی ﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں تو کیا یہ منہ سے کہہ دینا نہیں ہے ؟ بلا شبہ منہ سے کہنا ہے لیکن وہاں کسی کو ” ماں نہ کہہ “ کہا گیا ؟ ان عورتوں کو جن سے تمہارا نکاح ہوچکا گویا مطلب یہ تھا کہ اپنی بیوی کو ماں سے تشبیہہ مت دو اگر تم نے دے ہی دی ہے تو اب وہ تمہاری ماں نہیں ہوگئی بیوں بیوی رہے گی لیکن اس بکواس کا تم کو جرمانہ ہوگا اب تمہارے پاس دو ہی راہیں ہیں ایک یہ کہ اس عورت کو طلاق دے دو اگر اس کو رکھنا نہیں چاہتے اور اگر رکھنا چاہتے ہو تو یہ جرمانہ ہے اس کو ادا کردو تاکہ تمہارے کئے کا وبال تم پر پڑے اور اس جگہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں کو جو تمہاری مائیں کہا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے اب کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی ان امہات المومنین میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے کیونکہ یہ اسی طرح تم پر حرام ہیں جس طرح تمہاری مائیں تم پر حرام ہیں۔ یہ دونوں باتیں برابر کیسے ہوئیں ؟ گویا جہاں قرآن کریم نے تعلقات نسبی کی عزت قائم کرکے اس بات سے روکا کہ جو بیوی ہے اور تم اس سے تعلقات زن وشو قائم کرچکے ہو اس کو اس حرام رشتہ سے تشبیہ مت دو اگرچہ اس طرح کہنے سے وہ تمہاری ماں تو نہیں ہوجائے گی ماں کے ساتھ جو تعلق نسبی ہے اس کی عزت ضرور مجروح ہوگی جو نہیں ہونی چاہیے لیکن اب ایک نہ ہونے والی بات تم نے کردی تو اب اس کا ازالہ یہ ہے کہ ان سزائوں میں سے ایک سزا کو قبول کرو جو حاکم وقت تم کو دے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ جہاں تم کو تعلقات نسبی کی عزت قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح اب تم کو تعلقات روحانی جو تعلقات جسمانی سے بھی اوپر حیثیت رکھتے ہیں ان کی عزت واحترام کا بھی حکم دیاجارہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا سارے مومنوں سے بلا شبہ تعلق نسبی نہیں لیکن آپ ﷺ کا تعلق روحانی تو ہر مومن کے ساتھ ہے جو جسمانی تعلق سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جیسا کہ آیت کریمہ { النبی اولی بالمومنین } سے واضح کردیا گیا ہے اور جس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ اس لئے جب مومنوں پر آپ ﷺ کی شفقت کا اظہار کیا تو ساتھ ہی بتایا کہ یہ شفقت اس روحانی تعلق کی وجہ سے ہے جو نبی ﷺ کو تمہارے ساتھ ہے اور بلا شبہ اس سے دو مقصد حاصل ہوئے ایک تو آپ ﷺ کی ابویت اس سے ایسی ثابت ہوئی جیسا کہ اس کو مقام حاصل تھا گویا آپ ﷺ کی بیویوں کو مومنوں کی مائیں کہنا ایسا ہے جیسا کہ خود نبی کریم ﷺ کو مومنوں کا باپ قرار دینا اور دوسرا مقصد ان الفاظ سے یہ حاصل ہوا کہ نہ صرف آپ ﷺ کی بیویوں کی تکریم ثابت ہوئی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ثابت ہوا کہ جو شخص مستحق عزت ہے اس کی بی بی اس کے تعلق سے مستحق عزت ہوجاتی ہے بلکہ ان الفاظ میں ایک گہرا راز ہے جس کی طرف مفسرین کی توجہ بہت کم ہوئی یہ ہے کہ جب ماں بلحاظ نسب وہ ہے جو بچہ کی جسمانی طور پر پرورش کرتی ہے تو ماں بلحاظ روحانیت وہ ہے جو بچہ کی روحانی پرورش کرتی ہے جب نبی کریم ﷺ کا اپنی امت کا روحانی باپ ہونا واضح ہے جس میں کوئی ابہام نہیں اور یہ بھی اپنی جگہ امر حق ہے کہ نبی ورسول کے سارے رشتہ دار بھی اس کی امت کے افراد ہیں خواہ وہ کون ہوں لیکن کیا اس ابویت کو حسب ونسب سے کوئی علاقہ ہے ؟ معلوم ہوگیا کہ پوری امت کا روحانی باپ ہونا پوری امت کی روحانی ماں ہونا حسب ونسب کے لحاظ سے نہیں ہے رہی یہ بات کہ نبی ﷺ کی بیویوں کے ساتھ امت کا کوئی آدمی نکاح نہیں کرسکتا تو یہ ایک شرعی حرمت ہے جس طرح دوسرے حرام رشتوں کی اور اس کا ذکر اس سورة الاحزاب کی آیت 53 میں بیان ہوا ہے جو آگے آرہا ہے اس کا تعلق صرف امھات المومنین کہنے سے نہیں ہے اور نہ ہی { ازواجہ امھتھم } کے الفاظ کہنے سے ہے کیونکہ یہ محض ادب واحترام کا بیان ہے اور یہ بھی کہ نبی ورسول سے بھی ان کا صرف یہی تعلق ہیں ہے کہ جو عام میاں بیوی کا ہوتا ہے جس کو قرآن کریم نے { من لباس لکم } اور { لتسکنوا الیھا } کے الفاظ سے بیان کیا ہے بلکہ وہ مومنوں کے لئے روحانی مائوں کا حکم بھی رکھتی ہیں گویا مومنوں کی روحانی پرورش بھی ان کے ذریعہ سے ہوئی ہے اور وہ دین کے اس کثیر حصہ میں جو انسان کے لئے نمونہ ہے راہنما بن کر مومنوں کی مائیں بن گئیں اور یہ اعزاز بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کے نکاح کرنے کی ضرورت اور دوسرے ایمان والوں کے مقابلہ میں خصوصی رعایت کے مستحق ہونے کی اصل وجہ بھی بیان کردی گئی کہ اس کی حتقر کیا ہے ؟ اور یہ بھی بتا دیا کہ یہ غرض بھی خالصتاً دینی غرض ہے سوائے نکاح کے پوری نہیں کی جاسکتی اور مومنوں کو جو چار تک کی اجازت دی گئی ہے اس کی ایک غرض یہ بھی ہوسکتی ہے اور پھر جب کوئی قانون بنتا ہے تو وہ قانونی رعایت سب کے لئے یکساں ہوتی ہے اور بلاشبہ وہ یکساں ہی ہونی چاہیے۔ نبی ورسول کی خصوصی رعایت بھی سارے نبیوں اور رسولوں کے لئے ہوتی ہے۔
” کتاب اللہ کے بتائے ہوئے رشتہ دار جن کا رشتہ خون کا ہے ، عام مسلمانوں اور مہاجروں کی نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں “۔ فرض کرو کہ ایک آدمی کو کسی نے متنبی قرار دے کر اپنا بیٹا مان لیا اور تصور کرلیا اور ایک دوسرا آدمی فی الواقع اس کا بیٹا ہے تو ظاہر ہے کہ جس کا بیٹا بنایا گیا وہ فی الواقع بیٹا ہونے والے کے برابر نہیں ہوسکتا بلا شبہ اصل اصل ہے اور متنبی متنبی ہی ہے اس طریقہ سے اصل ماں باپ اصل ہی ہیں اور جن کو ماں باپ کے درجہ پر بنا رکھا ہے وہ اہمیت کے لحاظ سے ماں باپ کے برابر یا زیادہ بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن اصلیت کے لحاظ سے نہیں۔ اس اصلیت سے ہماری مراد یہ ہے کہ جس طرح حقیقی اور اصلی بیٹا وارث ہوتا ہے متنبی اسی طرح وارث قرار نہیں دیا جاسکتا اور اسی طرح حقیقی اور اصلی والدین کا میراث میں ایک خاص حصہ کا وارث قرار دیا گیا ہے لیکن ماں باپ کے درجہ پر رکھے گئے بلکہ اس سے بھی اوپر مقام دیئے گئے جیسے رسول اللہ ﷺ وہ اپنی روحانی اولاد کے وارث نہیں بنادیئے گئے اور اسی طرح آپ ﷺ کی بیویوں کو جو مومنوں کی روحانی مائیں کہا گیا ہے تو وہ ان کے وارث نہیں قرار دی گئیں ان کا تعلق صرف احترام کی حد تک ہے گویا مسلمانوں پر لازم وضروری ہے کہ اس تعلق کے باثع ان کا اسی طرح احترام کریں جس طرح اپنی مائوں کا احترام کرتے ہیں اور جس طرح ان حقیقی مائوں کا احترام نہ کرنے والے رحمت الٰہی سے محروم ہوجاتا ہے اسی طرح اپنی روحانی مائوں یا ان میں سے کسی ایک کا احترام نہ کرنے والا بھی رحمت الٰہی سے قیامت کے روز محروم ہی کردیا جائے گا۔ غور کرو کہ جو لوگ اس حکم خداوندی کے خلاف کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ پر تبرہ بازی کرتے ہیں اگر وہ مسلمان ہیں تو کسی سزا کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
” اگر تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو تو بلا شبہ دے سکتے ہو یہ بات کتاب اللہ میں لکھی جاچکی ہے “۔ وراثت کے متعلق تو حکم واضح ہوگیا اور اس کی وضاحت سورة النساء میں کردی گئی ہے اور ان کے حصص وحقوق مقرر کردیئے گئے ہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنے کسی محسن یا دوست کی خدمت کرنا چاہے تو اسے بھی حق ہے کہ اپنی زندگی میں اپنے مال سے تیسرے حصہ تک دے دے یا اس سے جتنا کم چاے دے سکتا ہے لیکن وارثوں کو محروم کرنا بھی جائز نہیں اور تیسرے حصہ سیزیادہ کی وصیت بھی درست نہیں کیونکہ اس کی وضاحت احادیث میں کردی گئی ہے۔ ہمارے ہاں اسلام کے نام سے جو قانون نافذ کیا جاتا ہے وہ اس قدر ادھورا رکھا جاتا ہے کہ لوگ اس میں رخنہ اندازیاں کرتے رہیں اور اس طرح وہ قانونی مجرم نہ بن سکیں یہ بات اس لئے کی جارہی ہے کہ نام کے لحاظ سے اس وقت ہمارے ہاں اسلامی قانون وراثت نافذ ہے لیکن چونکہ وہ ادھورا اور ناقص ہے اس لئے کسی ایک جگہ بھی وراثت کی تقسیم اسلامی طریقہ کے مطابق نہیں ہوئی اور اس میں سب سے بڑا رخنہ جو رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مرنے والا اپنی زندگی میں بالکل آزاد ہے کہ وہ اپنے مال کو چاہے جس کو دے دے اس پر کسی طرح کی کوئی قید نہیں لگائی گئی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ملک کی نوے فیصدی آبادی اپنی جائیداد کو اپنی زندگی میں محکمہ مال کی رضامندی حاصل کرکے اپنے بیٹوں کے نام منتقل کردیتے ہیں تاکہ مرنے کے بعد لڑکیاں اس جائیداد کی وارث نہ قرار پا جائیں حالانکہ یہ دوہرا جرم ہے ایک وراثت کے صحیح تقسیم نہ ہونے کا اور دوسرا قرآن کریم کی آیات کے ساتھ مذاق کرنے کا دراصل مذاق و استہزاء صرف قرآن کریم کی ذات تک ہی نہیں بلکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھی ہے اور اسی طرح دوسرے اسلامی قانون کا حال ہے جو اس وقت تک نافذ العمل ہوچکے ہیں اور اس پر جس قدر افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔
Ayah 33:77) ” اور جب ہم نے سارے نبیوں سے پختہ عہد لیا اور آپ ﷺ سے بھی اے پیغمبر اسلام ! “ اس عہد سے کون سا عہد مراد ہے ؟ ہمارے مفسرین کی اکثریت نے اس عہد سے وہ عہد مراد لیا ہے جس عہد کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 80 میں کیا گیا ہے۔ وہ کیا عہد ہے جو محولہ آیت میں لیا گیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ ” اور دیکھو جب ایسا ہوا تھا کہ نبیوں سے عہد لیا تھا کہ ہم نے تم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی ہے پھر اگر ایسا ہو کہ کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا تمہارے پاس آئے جو تمہارے ساتھ ہے تو ضروری ہے کہ تم اسے مانو اور اس کی تائید کرو “۔ ایک ایک لفظ پر غور کرو اور خوب فکر کرتے ہوئے بتائو کہ کیا اس بات کا جو اس جگہ اس عہد کے متعلق واضح کی گئی اس کا کوئی ذکر اس جگہ موجود ہے سوائے اس کے کہ { اذاخذ اللہ میثاق النبیین } کے الفاظ ہیں باقی کسی بات میں کوئی مناسبت نہیں دوسرا یہ کہ اس آیت میں جو میثاق لیا گیا اس کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارے پاس جب کوئی رسول آجائے تو تم اس کی تصدیق کرنا گویا اس پر ایمان لانا تم پر ضروری قرار دیا گیا اور عہد لیا گیا ہے کہ کیا تم ایسا کرو گے ؟ تو سب نے کہا کہ ہاں ! زیر نظر آیت میں بیان تھا کہ ” ہم نے سارے نبیوں سے پختہ عہد لیا اور آپ ﷺ سے بھی اے پمبرن اسلام ! یہ عہد لیا۔ “ کہ جب بھی تم میں کوئی رسول اس کتاب کی تصدیق کرتا ہوا تمہارے پاس آئے جو تمہارے ساتھ تو ضروری ہے کہ تم اسے مانو۔ مفسرین نے چونکہ اس تفسیر کو اصل اور صحیح تفسیر قرار دیا ہے اس کے بعد ایک پنجاب میں متنبی پیدا ہوا جس نے انگریز خدا کی خدائی کو مانتے اور تسلیم کرتے ہوئے اس خدائے زمانہ کے نبی ہونے کا دعویٰ کردیا گویا جیسا خود خدا تھا ویسا ہی اس کا نبی تسلیم کرلیا گیا گویا کہ بناوٹی خدا کا بناوٹی نبی کی خوب پذیرائی کی اور گزشتہ مفسرین کے حوالے اس نے پیش کرکے سادہ لوح لوگوں کو خوب پھنسایا اور دھاندی اور لالچ سے ان کو متعدد بار پھنسانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں کچھ لوگ اپنی سادگی کے باعث اور کچھ دھونس سے اور زیادہ تر لالچ میں آکر پھنس گئے اور اس طرح اس کی جھوٹی نبوت کا کاروبار چل گیا۔ حالانکہ زیر نظر آیت میں اس میثاق کا شائبہ تک موجود نہیں تھا اور نہ ہی اس آیت کے میثاق کو اس عہد ومیثاق سے کوئی مناسبت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے بار بار اس کی وضاحت کی ہے کہ نبی ورسول جس طرح اپنے ماننے والوں کے لئے نبی ورسول ہوتا ہے بالکل اسی طرح وہ خود اپنی ذات کے لئے نبی ورسول ہوتا ہے جس طرح دوسرے لوگوں کو اس کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے بالکل اسی طرح اس کو بھی اپنی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے جس طرح دوسرے لوگ ان احکام کے پابند ہوتے ہیں جو اس پر نازل ہوں اسی طرح اس کی ذات بھی اس کی پابند ہوتی ہے کہ وہ ان احکام کی پابندی کرے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اللہ کا رسول اس ” کلام “ پر ایمان رکھتا ہے جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل ہوا ہے “۔ (البمقرہ 285:2) اور ظاہر ہے کہ اس جگہ رسول سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جس طرح رسول اللہ ﷺ پر جو کچھ نازل ہوا اس پر ایمان لانا آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اسی طرح آپ کے لئے بھی ضروری تھا اور اسی طرح دوسرے نبیوں کا بھی حال ہے کہ سارے انبیاء کرام اپنے اپنے لائے ہوئے احکامات کے پابند تھے کہ خود بھی اس کے مطابق عمل کریں اور لوگوں کو بھی ان کے مطابق عمل کرنے کی تلقین کریں پھر اس کی وضاحت بہت سے دوسرے مقامات پر بھی کی گئی ہے ، مثلاً ارشاد الٰہی ہے کہ :
شرع لکم…………………… الیہ (الشوری 13:42) ” اس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوع کو دیا تھا اور جسے (اے پیغمبر اسلام ! ) اب ہم تمہاری طرف وحی کے ذریعہ بھیج رہے ہیں اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں اس تائید کے ساتھ کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہوجائو اور یہی بات ان مشرکوں کو سخت ناگوار گزرتی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ “ ذرا رک جائو آگے جانے سے پہلے غور کرو کہ زیر نظر آیت جس کی اس جگہ تفسیر کی جارہی ہے جن انبیاء ورسل کا نام یہاں لیا گیا ہے بالکل انہی کا ذکر اس ترتیب کے ساتھ سورة شوری کی آیت 13 میں کیا گیا اور اسی کی وصیت کرنا محمد رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی ضروری قرار دیا گیا جس سے یہ بات لازم ٹھہرتی ہے کہ فی الواقعہ انہی احکام کی پابندی کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اور پھر جب گزشتہ مضمون پر نظر دوڑائی جاتی ہے تو بات اور بھی صاف ہوجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے سارے نبیوں اور رسولوں اور خاص کر نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے جس طرح یہ عہد لیا تھا کہ جو احکامات تم پر نازل کیے جا رہے ہیں ان احکامات کی پابندی تم پر لاز ہے تم لوگوں کو دعوت بھی دو گے اور بذاتہ اس کی پابندی بھی کرو گے۔ اب جب آپ کو حکم دیا جارہا ہے کہ زید کے طلاق دینے کے بعد آپ ﷺ خود اس کی مطلقہ سے شادی کرلیں تو آپ ﷺ شمانت اعداد کے اندیشے سے اس بات سے جھجھک کیوں محسوس کرتے ہیں جبکہ ہم تیرے ہی ذریعہ سے جاہلیت کی اس رسم کو توڑنا چاہتے ہیں کہ متنبی کی بیوی حقیقی بیٹے کی بیوی کی مانند نہیں ہوتی اور اسی طرح کوئی حرمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان نہیں کی گئی تو آپ ﷺ کو اس بات کی کیوں فکر لاحق ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ جو کچھ لوگ کہیں گے ہمارے علم میں ہے آپ ﷺ کے دل میں جو خیال پیدا ہوتے ہیں کہ یہ معاملہ ایک خاتون سے شادی کرنے کا ہے خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ محض اصلاح معاشرہ کی خاطر یہ کام کروں گا مگر دشمن تو یہی کہیں گے کہ یہ کام دراصل نفس پرستی کے لئے کیا گیا ہے اور مصلح کا لبادہ اس شخص نے محض فریب دینے کے لئے اوڑھ رکھا ہے اس بنا پر اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ سے مخاطب ہے کہ تم ہمارے رسول ہو تمام پیغمبر اور رسولوں کی طرح تم سے بھی ہمارا یہ پختہ معاہدہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم تم کو حکم دیں گے اس کو تم بجا لائو گے اور دوسروں کو اس کی بجالانے کا حکم دو گے اس لئے آپ ﷺ کسی کی طعن وتشنیع کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور کسی سے شرم اور خوف نہ کھاتے ہوئے جو حکم ہم تم کو دیں گے آپ ﷺ کو بلا تامل اسے کرنا ہوگا تاکہ اس پختہ عہد کی جو پابندی آپ ﷺ نے قبول کی تھی وہ پوری ہو۔ یہ صورت حال تھی جس کے تحت یہ آیت نازل ہوئی لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس کو کیا سے کیا بنادیا۔ بہرحال ہم نے جو اس کا مطلب سمجھا وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ کئے بغیر صاف صاف بیان کردیا ہے ملامت کرنے والے ہمارے بیان کو تفسیر یالرائے کہہ کر رد کرسکتے ہیں تو وہ سو بار کریں ہمارے خیال میں نہ تو یہ تفسیر بالرائے ہے اور نہ ہی تفسیر بالرائے کا یہ مطلب ہے۔ مگر آپ کہ ہم پابند نہیں کرسکتے جس بات کو آپ چاہیں صحیح مانیں اور جس کو غلط سمجھیں اسے چھوڑ دیں ہم آپ کو منوا نہیں سکتے اور نہ ہی ہمیں یہ حق پہنچتا ہے۔
Ayah 33:8سچوں سے ان کی سچائی کے بارے سوال ہوگا اور کافروں کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا
8) سچے کون ہیں ؟ وہی جنہوں نے سچائی کی تصدیق کی اور جھوٹ کو جھوٹ سمجھ کر قبول کرنے سے انکار کردیا اور وہ لوگ جنہوں نے سچائی کا اعلان کیا اور اپنے اعلان کے مطابق عمل کرکے دنیا کو دکھا دیا اور اس ملامت کرنے والے کی ملامت کی انہوں نے کوئی پروانہ کی بلاشبہ اس جگہ الصادقین سے مراد خود انبیاء ورسل ہیں اور وہ لوگ بھی جنہوں نے ان کی سچائی کو بسررو چشم قبول کیا۔ گزشتہ مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے جب محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے غلام اور آزاد کی تقسیم کو توڑنے کے لئے زید کی شادی کا پروگرام اپنی حقیقی پھوپھی کی بیٹی زینب سے نکاح کرادیا اور اس طرح غلامی کی لعنت کو قیامت تک کے لئے دفن کردیا اور لوگوں کی اس غلط تقسیم کا قلع قمع کردیا پھر جب یہ معاملہ راس نہ آیا ، زیدوزینب کے درمیان سکون وامن قائم نہ رہ سکا حالانکہ انہوں نے ازواجی زندگی کی مخصوص صورت حال کو بھی قبول کیا اور انجام کار زید نے زینب کو باوجو نبی کریم ﷺ کے اس مشورہ کے کہ آپ ﷺ نے فرمایا طلاق نہ دو ، طلاق دے دی تو اس صورت حال نہ ہماری اسلامی زندگی کے لئے بیشمار نصیحتیں چھوڑیں جن کا ذکر انشاء اللہ ان کے اصل مقام پر کیا جائے گا پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب اپنے متنبی کی بیوی سے خود شادی کرلی تو وقتی رواج کے بت کو اپنے اسوہ حسنہ سے پاش پاش کرکے رکھ دیا اور لوگوں نے جو کہا وہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرتے ہوئے لوگوں پر ثابت کردیا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ کرنے اور عمل کرنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ صرف پڑھنے کے لئے اور مصنوعی طریقہ سے ثواب حاصل کرنے کے لئے نیز اس کی وضاحت فرمادی کہ وہ لوگ جو مصلحت کی خاطر احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ان کی بجائے قوی رواجات کو اہمیت دیتے ہیں وہ صرف گناہ ہی نہیں کرتے بلکہ وہ ایک ایسا برا عمل کرتے ہیں کہ جس سے ان کا کفر واضح ہوجاتا ہے اور اگر وہ اسی حالت پر قائم رہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں تو بلاشبہ وہ مبتلائے عذاب کردیئے جاتے ہیں اور آخرت میں بھی وہ درد ناک عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس کے بعد مضمون جنگ احزاب جس کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے اس کی طرف منتقل ہوتا نظر آتا ہے۔
Ayah 33:9ٹڈی دل فوجوں کے سیلاب کو روک دینے والے رب کا شکریہ ادا کرو
9) زیر نظر آیت میں جس غزوہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کو مناذی میں غزوہ احزاب یا خزوہ خندق کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جس کا مختصر ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں کہ بنو نضیر مدینہ سے نکل کر خیبر پہنچے تو انہوں نے انتقام کی ٹھان لی ، ان کے رئوسا سے حنی بن اخطب اور کنانہ بن ربیع قریش کو ساتھ ملانے کے لئے مکہ میں گئے وہ پہلے ہی تیار بیٹھے تھے اس لئے جھٹ مان گئے پھر غطفان ، بنو اسد ، بنو سلیم ، بنو سعد اور بہت سے دوسرے قبائل کو بھی ساتھ ملایا اور اس طرح دس ہزار کا لشکر لے کر مدینے کی طرف بڑھے۔ نبی کریم ﷺ تک یہ خبریں پہنچیں تو آپ ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی ؓ نے رائے دی کہ فوج کے لئے ایک موزوں جگہ تجویز کرکے اس کے سامنے خندوق کھود دی جائے ۔ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے دوسرے صحابہ کرام کو بھی یہ تجویز پسند آئی اور اور آپ ﷺ چند صحابہ کے ہموراہ گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے اور مختلف مقامات کا معائنہ کرنے کے بعد فوج کے لئے ایک موزوں جگہ پسند کی اور طے ہوا کہ بچوں اور عورتوں کو قلعہ نما مکانات میں منتقل کردیا جائے۔ شہر کے جنوب مشرق اور مغرب میں پہاڑیاں بھی تھیں اور گھنے باغات بھی ان سے گزرنا مشکل تھا ، صرف شمال کا رخ ایسا تھا جہاں سے دشمن بآسانی مدینے پر حملہ کرسکتا تھا چناچہ اس علاقے کی پیمائش کی گئی تو بعض روایات کے مطابق دس دس گز کے ٹکڑے اور بعض روایات کے مطابق بیس بیس گز کے ٹکڑے دس دس صحابہ کرام کے حوالے کردئیے گئے خود نبی اعظم وآخر ﷺ بھی کھدائی کرتے رہے ، تیار ہونے کے بعد یہ خندق ساڑھے تین میل لمبی ، پانچ گز گہری اور پانچ گز چوڑی تھی جن بعض آدمیوں نے کو دنے کی کوشش کی وہ ایک سے تین تک بتائے جاتے تھے بہرحال وہ اس میں گر کر مر گئے۔ (طبری 14 76) اور یہ کھدائی تقریباً تین ہفتے جاری رہی ، شان خداوندی کہ جب تک خندق مکمل نہ ہوئی دشمن بھی قریب نہ آیا اور جب خندق مکمل ہوگئی تو دشمن بھی آن پہنچا اور اس نے محاصرہ کرلیا۔ محاصرے نے شدت پکڑی تو مدینے کے بنوقریظہ بھی دشمن کے ساتھ شامل ہوگئے ، قریش نے ہر چندزور مارا کہ وہ خندق کو عبور کرکے آگے نکلیں لیکن تیراندازوں نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا البتہ ایک ذرا تنگ جگہ سے تین یا چار آدمی کو دنے میں کامیاب ہوگئے اور وہ اسی وقت قتل کردیئے گئے اور اس طرح محاصرہ طول پکڑ گیا اور قریش کے ذخائر رسد ختم ہوگئے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے ایک زور دار آندھی بھیجی جس سے فوجوں کے خیمے اکھڑ گئے ، بعض جگہوں پر آگ بھی بھڑکی تو اس طرح یہ وہم پرستوں کا لشکر 21 دن کے محاصرہ کے بعد تتر بتر ہونے پر مجبور ہوگیا۔ زیر نظر آیت میں اسی کے متعلق ارشاد الٰہی ہے کہ ” اے ایمان والو ! اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو کہ جب تم پر فوجیں چڑھ آئی تھی اور اسے لشکر بھی جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اور جو کچھ تم کرتے تھے اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا “۔
Ayah 33:10وہ وقت یاد کرو جب یہ لشکر تم پر چڑھ آئے اور تمہاری حالت دیدنی تھی
10) جماعت میں ہمیشہ مختلف قسم اور مختلف حالت وقوت اور مختلف ذہن و دماغ کے لوگ ہوتے ہیں اور پھر جب اس جماعت کے بعض لوگوں کی حالت کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے تو بعض اوقات جمع کے صیغے اس طرح بولے جاتے ہیں کہ شاید یہ حالت ساری جماعت کی ہے جو بیان کی جارہی ہے حالانکہ وہ حالت ساری جماعت کی نہیں بلکہ بعض افراد کی ہوتی ہے جس کے پیش نظر پوری جماعت مخاطب کی جاتی ہے اور یہ بات ہر زبان میں عام طور پر پائی جاتی ہے ، اسی لئے محاورہ ہے کہ ” ایک مچھلی سارے جل کو گندا کردیتی ہے “۔ جس کا مطلب سب جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایک ہی فرد کے باعث پوری قوم بدنام ہوجاتی ہے۔ یہی صورت حال تھی جس کو زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب مخالفین نے تم پر ہلہ بول دیا تھا ، اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی اور تم نے جب یہ حالت دیکھی اور سنی تو تمہارے دل اچھلنے شروع ہوگئے اور تمہاری آنکھیں پتھراگئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے۔ “ گویا دشمن نے تم کو ہر طرف سے گھیر لیا اور صورت حال اتنی بھیانک ہوگئی کہ دہشت کے مارے تمہاری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور تمہارے کلیجے خوف و حرارت سے منہ کو آنے لگے اور تمہاری ہوا اکھڑ گئی تھی یہ وہ حالت ہے جس میں جو ہورہا ہوتا ہے اس سے بڑھ کر اندرونی دشمن غلط خبریں اڑانا شروع کردیتے ہیں اور ایسی بےپر کی اڑاتے ہیں کہ انسان سنتے ہی حواب باختہ ہوجاتا ہے اور ہر طرف سے غلط قسم کی خبریں آنا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر ایک سے ایک بڑھ کر خبر آتی ہے اور ہر خبر پہلی خبر سے سوائی ہوتی ہے کچھ سمجھ بھی نہیں آتا کہ آدمی کس خبر کی تصدیق کرے اور کس کی تکذیب کرے اور ایسے حالات میں لوگ پر کا کوا اور کوے کا ڈار بناتے ہیں جس سے بڑے بڑے پکے ذہن کے لوگ ایک بار ہل جاتے ہیں ، اس وقت کچھ اسی طرح کی حالت پیدا ہوگئی جس طرح کی حالت بیان کی گئی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” اور تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگ گئے “۔ بلا شبہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ سب لوگوں کے اندیشے یکساں نہ تھے ، منافق تو یہ خیال کر رہے تھے کہ اب اسلام کا درخت جڑوں سے اکھڑجائے گا اور یہ آندھی اس چراغ کو ہمیشہ کے لئے کل کردے گی اور بزدل لوگ میدان سے بھاگنے کی تدبیریں کرنے لگے حالانکہ میدان میں یہ لوگ بالکل محفوظ تھے بلکہ اپنے حواریوں میں بیٹھ کر ضرورت کے وقت صرف دشمنوں پر تیر چلانے کا کام تھا ، ان کے پاس رسد کی کوئی کمی نہیں تھی ، جن دنوں خندق کھودی جارہی تھی ان دنوں محنت شاقہ سے کام کرنا پڑا تھا ، حملہ آوروں کے حملہ آور ہونے کے بعد جتنی تکالیف کا سامنا تھا وہ سب محاصرین کے لئے تھا ، محصورین کے لئے کوئی بات مشکل نہ تھی مگر ہاں جو خیال انتشار تھا صرف وہ تھا وہ بھی ان لوگوں کو جن کی ایمانی حالت اتنی پختہ نہیں تھی بلکہ کسی حد تک کمزور تھی اور اسی طرح کمزور لوگ دوسروں کو کمزور کر رہے تھے۔
Ayah 33:11یہ وقت امتحان کا تھا جو ایمان والوں کے دلوں کو بھی سخت جھٹکے دے رہا تھا
11) بلا شبہ انہی لوگوں میں سچے اور پکے ایمان کے لوگوں کا بھی ایک گروہ موجود تھا جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے وعدوں پر پکا یقین تھا ، حالان اگرچہ حوصلہ شکن تھے ، فضا اگرچہ خطرات کے مہیب بادلوں سے بھری پڑی تھی ، محصورین میں منافقین کا گورہ اندھا دھند خبریں گھڑنے اور ان کو پھیلانے میں مصروف تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود ان وفا کشوں کے عزم وثبات میں ذرا فرق نہ آیا بلکہ ان کی ایمانی طاقت وقوت ان لوگوں کی غلط خبروں سے مزید بڑھ گئی اور وہ اس مخالف آندھی سے گھبرانے کی بجائے صبر وثبات کے پہاڑ بن گئے۔ بلا شبہ آزمائش بڑی سخت تھی بلکہ یوں کہئے کہ آزمائش نہیں ایک بھونچال تھا جس سے مدینہ کی سرزمین تھرتھراگئی تھی اور اس پر زلزلہ طاری تھا لیکن بحمداللہ امتحان کی اس بھٹی سے سچے مسلمان ایک کندن بن کر نکل رہے تھے اور جن لوگوں نے نفاق کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا وہ باوجود اس کو اچھی طرح اپنے اردگرد لپیٹنے کے ننگے ہو کر سامنے آرہے تھے اور بلاشبہ آزمائش کی گھڑیاں ایمانداروں کے لئے نہایت ہی سخت ہوتی ہیں اور بیشک اس آزمائش سے صاف بچ کر نکل جانا ہی ایمان کے سونے کو کندن بنادیتا ہے۔
Ayah 33:12منافق جن کے دل روگی تھے اللہ اور اس کے رسول کو بھی مورد الزام ٹھہرایا
12) نفاق کا مرض بہت برا ہے یہاں تک کہ کفر سے بھی برا کیونکہ کافر کے کفر سے باز آنے کی امید ہوتی ہے لیکن منافق کبھی بھی مسلمان نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ بظاہر اپنے آپ کو مسلمان ہی شو کرتا ہے اور بلا شبہ اس مرض میں مبتلا لوگ خود نبی کریم ﷺ کے زمانہ اقدس میں بھی موجود تھے ۔ اسی لئے زیر نظر آیت میں بتایا جارہا ہے کہ جب منافق لوگ اور ایسے حضرات جن کے دلوں میں بیماری اور روگ تھا بلاخوف وخطر صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول محمدرسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی امداد اور ایران وفارس کی فتح کے وعدے کئے تھے حالانکہ وہ سب مکروفریب اور دھوکہ تھے جب کہ ہم تو اب قضائے حاجت کے لئے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ اس طرح کی باتیں کرکے انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی امداد اور ایران وفارس کی فتح کے وعدے کئے تھے حالانکہ وہ سب مکروفریب اور دھوکہ تھے جب کہ ہم تو اب قضائے حاجت کے لئے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ اس طرح کی باتیں کرکے انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی امداد اور ایران وفارس کی فتح کے وعدے کئے تھے حالانکہ وہ سب مکرو فریب اور دھوکہ تھے جب کہ ہم تو اب قضائے حاجت کے لئے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ اس طرح کی باتیں کرکے انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو موردالزام ٹھہرایا ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے دلوں نے کبھی اسلام کو قبول ہی نہیں کیا اور جو انہوں نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا وہ بلاشبہ ان کی مجبوری تھی کہ وہ اس تحریک سے وابستہ رہنا چاہتے تھے جس تحریک میں ان کے خاندان کے لوگ داخل ہوچکے تھے تاکہ ان کی وہ حیثیت قائم رہ سکے جو حیثیت ان کو اپنے خاندان اور برادری سے حاصل ہے اور جس کو وہ کسی قیمت پر ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔
Ayah 33:13منافقین نے اہل مدینہ کو اس طرح ڈرایا کہ اب تمہارا اس شہر میں کوئی پرسان حال نہیں ہوگا
13) منافقت نہایت قسم کے چالاک اور ہوشیار لوگوں کا کام ہے ، سادہ لوح اور معمولی عقل وفکر کے لوگ منافقت نہیں کرسکتے البتہ منافقوں کے دام میں پھنس سکتے ہیں جیسا کہ قبل ازیں کئی بار عرض کیا جاچکا ہے کہ منافق ہمیشہ ایسی بات کرتا ہے جس کے ایک سے زیادہ مطلب مراد لئے جاسکتے ہوں اور چونکہ ہیرا پھیری اس کی خوب آتی ہے اس لئے وہ ذو معنی بات کہہ کر کسی کو کچھ مطلب سمجھاتے ہیں اور کسی کو کچھ اور اگر کہیں بحث و تحیث ہوجائے تو وہ کسی نہ کسی رخنہ سے نکل جاتا ہے کیونکہ اپنے اضل کلام میں اس نے رخنہ رکھ لیا ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں ایسے ہی لوگوں کی جماعت کا ذکر کیا گیا ہے ، ان میں سے ایک گروہ کی بات تو گزشتہ آیت میں گزر چکی اور دوسرا گروہ وہ ہے جس کی بات اس آیت میں درج کی گئی ہے کہ اس گروہ نے کہا ” اے اہل یثرب تمہارے لئے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے پلٹ چلو “۔ اس کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ جب خندق کھودی جاچکی اور اب اس خندق پر چندآدمی بھی محافظت کا کام سرانجام دے سکتے ہیں اس لئے اب کفار کے مقابلہ میں ٹھہرانے کا کوئی موقع نہیں ہے تم شہر کی طرف پلٹ چلو اس طرح کی بات کرنے کا ظاہری مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ ان لوگوں کی خیر خواہی کی بات کی جارہی ہے کہ اب شہر سے باہر مدا ان میں رہنا اور خواہ مخواہ سردی میں پڑے رہنے کا کچھ فائدہ نہیں کہ اب مخالفین خندوق کو پار نہیں کرسکتے اور اگر وہ لوگ کوئی ایسی کوشش کریں گے بھی تو چند معدودے آدمی ان پیر پھینک کر ان کو بھگا سکتے ہیں ، اس طرح محافظین کے علاوہ باقی مجاہدین شہر کی طرف چلیں ، اب اس سردی میں ادھر پڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں لیکن ان کی اصل مراد یہ نہیں تھی بلکہ وہ کہہ یہ رہے تھے کہ اے اہل یثرب اب تمہارا اس دین اسلام پر ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں رہا اور یہ اتنا بڑا لشکر تمہاری اس خندق کو کیا سمجھے گا ، ابھی وہ کود کر اندر آئے گا تو تمہارا تیاپانچا کردے گا بہتر ہے کہ تم اب اپنے اصل باپ دادا کے دین کی طرف لوٹ آئو تاکہ سارے عرب کی دشمنی تمہارے ہی سر پر نہ آجائے۔ ان کا مطلب سچے مسلمانوں کو ڈرا کر اسلام سے پھیرنے کا تھا تاکہ وہ اسلام کے دشمنوں سے مل جائیں اور تحریک اسلامی کو ختم کرکے رکھ دیں کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ چناچہ ان کے اس پروپیگنڈے کا اثر یہ ہوا کہ بعض ذہن کے کچے لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے درخواست کردی کہ اب ہم کو رخصت درکار ہے کہ ہمارے گھر بالکل خالی پڑے ہیں ، بنو قریظہ نے عہد کو توڑ دیا ہے اور وہ کسی وقت بھی ہمارے گھروں پر حملہ آور ہوسکتے ہیں جس سے ہمیں بہت بڑے نقصان کا خطرہ ہے لہٰذا ہم کو اپنے بال بچوں کی حفاظت کا موقع دیا جائے حالانکہ اس وقت حالت جنگ تھی اور مدینہ طیبہ کے سارے گھروں کا مکمل کنٹرول کیا گیا تھا اور حالات پر گہری نظر رکھی گئی تھی اور ان سارے حالات سے رسول اللہ ﷺ آگاہ تھے۔ بنو قریظہ کے معاہدہ توڑنے کا بھی آپ ﷺ کو علم تھا اور اس طرح حفاظت کے لئے جو کچھ درکار تھا اور حالات کو جس رخ پر لیے جانا چاہئے تھا اس سے نبی کریم ﷺ پوری طرح آگاہ تھے اور ہر بات کا انتظام مکمل تھا لیکن ساری باتوں کو کھول دینے کا بھی یہ وقت نہیں تھا بلکہ ہر معاملہ میں احتیاط کی ضرورت تھی ، ان حالات میں منافقین کے اس گروہ نے بھاگنے کی ٹھان لی اور اس طرح کے عذر پیش کرنے شروع کردیئے ، ظاہر ہے کہ ان حالات میں نبی کریم ﷺ کی پریشانی کا باعث یہ لوگ بھی بنے اور ان لوگوں کے اصل پشت پناہ وہ لوگ تھے جو معاہدہ ہونے کے باعث شریک جنگ تھے اور یہ حالات اس وقت پیدا ہوئے جب بنو قریظہ اندرون خانہ حملہ آوروں کے ساتھ مل گئے۔ بلا شبہ یہ وہ نازک گھڑیاں تھیں کہ ان میں بڑے بڑے حوصلے والے لوگ بھی حوصلہ ہار گئے لیکن نبی کریم ﷺ کی نبوی فراست کا یہ کمال ہے کہ ایسے نازک ترین حالات میں بھی نہیں گھبرائے اور اپنی جنگی حکمت عملی میں بھی ذرا نرمی اختیار نہیں کی بلکہ پوری طرح چوکس رہ کر چوطرفہ نظر رکھی اور آپ ﷺ کا دل رب ذوالجلال والا کرام کی طرف مائل تھا اور دل ہی دل میں دعا کا سلسلہ جاری تھا اور اس وقت جو احکام آپ ﷺ نے جاری کیے ، جس جس کو اجازت دی اور جس جس کو اجازت نہ دی سب کچھ فراست نبوی اور اللہ تعالیٰ ہی کے اشارہ کیا ، مشوروں کا یہ وقت ہی کب تھا۔
Ayah 33:14منافقین اور معاہد لوگوں کی حالت کا بیان کہ وہ بھاگ کر مخالفین سے ملنا چاہتے تھے
14) یہ لوگ جنہوں نے اس وقت گھروں کے خالی ہونے کے عذر وبہانے پیش کئے ، جن کے اندر کچھ تھا اور ان کی زبانیں کچھ کہہ رہی تھیں ، ان کی حالت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر خدانخواستہ دشمن کا لشکر شہر میں داخل ہوجائے اور وہ ان لوگوں کو جو اس وقت عذر پیش کرکے یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں انہیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی دعوت دے دے تو یہ لوگ اس اسلام دشمنی کے باعث جو ان کے ولوں میں پوشیدہ ہے اس وقت ہتھیار سجا کر دشمن کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں گے پھر نہ انہیں بال بچوں کا خیال ستائے گا اور نہ ہی اپنے گھروں کی حفاظت کا فرض ان کو یاد رہے گا اور یہ تمام چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام کو مٹانے کے جوش میں کفار کے لشکر میں شریک ہونے میں ذرا بھی دیر نہیں کریں گے۔ غور کرو کہ اس آیت میں کفار اور منافقین کی ذہنیت کا کتنا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جارہا ہے اور ان کے انداز فکر اور طریق کار کی کتنی صحیح کھینچ کر رکھ دی گئی ہے کہ اس سے زیادہ سچی تصویر کھینچی ہی نہیں جاسکتی۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام : آپ ﷺ کے پاس تو یہ لوگ بہانے پیش کر رہے ہیں لیکن اگر آپ ﷺ ان کو اجازت دے دیں اور دشمن کی طرف سے ان کو پیغام پہنچ جائے کہ آئو ہمارے ساتھ مل کر ان اہل اسلام کا کانٹا نکال دیا جائے تو یہ لوگ ان کی دعوت پر لبیک کہنے میں زیادہ سے زیادہ اتنی مہلت مانگیں گے کہ گھروں میں رکھے ہوئے ہتھیار وہ لے آئیں اور پوری طرح مسلح ہو کر اسلام کو اور اہل اسلام کو مٹانے کے لئے ان کے لشکر میں شریک ہوجائیں۔ زیر نظر آیت کے الفاظ { اقطارھا } اقطار کنارے قطر کی جمع ہے جس کے معنی جانب اور اطراف کے ہیں ” ہا “ ضمیر واحد مونث غائب ” اقطار “ مضاف ” ہا “ مضاف الیہ۔ { تلبثوا } انہوں نے توقف کیا ، وہ ٹھہرنے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ { ماتلبثوا } نہ توقف کرتے ، نہ ٹھہرتے۔ { ولودخلت علیھم } اور اگر گھس آئے (کفار کے لشکر) ان پر { اقطارھا } نہ توقف کرتے ، نہ ٹھہرتے۔ { ثم سئلو الفتنۃ } پھر ان سے درخواست کی جاتی فتنہ انگیزی کی { لا توھا } البتہ اسے فوراً قبول کرلیتے { وما تلبثوا بھا الا یسیرا } اور وہ توقف نہ کرتے اس میں مگر بہت ہی کم۔ ” اور (وہ وقت ان ایسا تھا) کہ اگر اس (مدینہ) کے اطراف سے (دشمن کی ) فوجیں ان پر چڑھ آئیں اور ان کو فساد پھیلانے کا کہیں تو یہ خود (مدینہ کے اندر) ایسا کر گزرتے اور ذرا توقف نہ کرتے “۔
Ayah 33:15حالانکہ یہ فتنہ گروہی ہیں جنہوں نے قبل ازیں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا
15) جن لوگوں کے دلوں کی حالت کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں بیان فرمایا وہ کون تھے ؟ فرمایا وہی تو تھے جو مدینہ کے اندر اس سانحہ سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم اسلام کے لئے جان دے دیں گے لیکن اسلام کے نام پر آنچ نہیں آنے دیں گے اور یہ کہ اسلام کی خاطر ہم خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے ، ہم سرفروشوں کی جماعت ہیں سرکٹوا دیں گے لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ وعدے جو انہوں نے اس وقت کئے تھے اب وہ کہاں چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ منافقت کہتے ہی اس کو ہیں کہ یہ لوگ وقت سے پہلے تو بہت بڑھکیں مارتے ہیں لیکن جب وقت سر پر آجاتا ہے تو ان کو کوئی نہ کوئی بہانہ اور عذر پیش آجاتا ہے ایک بار ہو تو آدمی اس کو اتفاق کہہ سکتا ہے لیکن اگر ہر بار حرکت یہی ہو تو کیا اس کو بھی اتفاق ہی مان لیا جائے ، ان کی عادت ثانیہ میں یہ بات داخل ہے کہ جب تک ان کو فائدہ نظر آرہا ہو وہ اپنے فائدہ کی خاطر اپنے ہی منہ میاں مٹھو ہیں لیکن جب ان کو نقصان نظر آرہا ہو تو یہ اس طرح غائب ہوجاتے ہیں کہ اس جگہ نظر بھی نہیں آتے اور پھر جب وقت نکل جاتا ہے اور حالات بدل جاتے ہیں تو ساون کے مینڈکوں کی طرح پھر نکل آتے ہیں اور ایسے ایسے عذروبہانے پیش کرتے ہیں کہ سننے والوں کا دل پسیج جاتا ہے۔ نہ وعدے کرتے ان کو کوئی دیر لگتی ہے اور نہ ہی وعدے توڑتے ان کو شرم آتی ہے اور ان کے ذہن میں کبھی اس بات کا خیال بھی نہیں گزرا کہ جو وعدہ آج ہم کر رہے آنے والے کل میں اس کے متعلق ہم کو پوچھا بھی جائے گا اور کبھی ہم کو اپنے رب کے سامنے حاضر بھی ہوتا ہے۔ یہ لوگ دفع الوقتی چاہتے ہیں اور اپنی چرب زبانی سے وقت نکال لیتے ہیں۔ اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہئے کہ وہ کان کھول کر سن لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کئے گئے وعدوں کے بارے میں یقینا ان سے پوچھے گا اور وہ اس کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔
Ayah 33:16فرار ہونے والے کان کھول کر سن لیں کہ وہ موت سے ہرگز نہیں بھاگ سکیں گے
16) اے میرے رسول ! ﷺ آپ ﷺ ان پر یہ بات واضح کردیں اور میری طرف سے بھی اچھی طرح سمجھا دیں کہ اگر تمہاری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا اور تمہارا اس نازک موقع پر فرار تمہارے لئے ہرگز ہرگز کارگر ثابت نہیں ہوگا اور یادرکھو کہ تمہاری ساری امدنوں پر پانی پھرجائے گا اگر تمہاری موت کا وقت ابھی قریب نہیں آیا تو بھاگ کر زیادہ سے زیادہ چند روز اور عیش و عشرت کرلو گے آخر موت تو آکر ہی رہے گی پھر آخر بھاگنے سے کیا فائدہ ؟ کیا اس بھاگنے سے تمہاری عزت افزائی ہوگی ؟ ہرگز نہیں بلکہ تم ثابت کردو گے کہ عقل نام کی کوئی چیز تمہارے پاس نہیں بلکہ تم ہی سب سے زیادہ نادان ہو۔ یادرکھو کہ موت سے کسی کو مفر نہیں ہے اگر میدان جنگ سے تم ملی بھگت سے بچ بھی گئے تو کیا پھر تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہو گے ؟ ایسا تو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس دنیا میں ہر آدمی اور ہر فرد مرنے ہی کے لئے تو پیدا ہوا ہے ، نہ کوئی ہمیشہ رہا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے لئے آیا ہے ، آج نہیں تو کل بہرحال تم نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ہاں ! اگر اس چند روزہ زندگی کے لئے اپنے نام پر بزدل اور نامرادی کی مہرثبت کرانا ہی چاہتے ہو تو تم کو کون روک سکتا ہے۔ وقت آنے سے پہلے موت ممکن نہیں اور وقت آنے کے بعد تم کسی صورت بھی زندہ نہیں رہ سکتے کیونکہ یہ تمہارا اختیاری مسئلہ نہیں البتہ منہ کی کالک تمہارے اختیار میں ہے اس لئے جتنی چاہتے ہو دل کھول کر مل لو تاکہ واضح ہوجائے کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو وعدہ وعید کرنے کے باوجود میدان کار زار سے بھاگ نکلے تھے۔
Ayah 33:17اے پیغمبر ! ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تم کو اللہ کے عذاب سے بچائے گا
17) غور کیجئے کہ یہ لوگ کتنے گندے اور بداخلاق ہیں جن کے نزدیک اخلاق نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ہے اور بلا شبہ وہ اس قابل ہیں کہ دشمنوں سے پہلے ان کا صفایا کردیا جائے لیکن رب ذوالجلال والاکرام کا قانون کس قدر ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی اصلاح کی کوشش بھی بدستور جاری ہے اور یہ حوصلہ نبی کریم ﷺ کا ہے کہ وہ ان کی ایسی گھنائونی حرکات کو برداشت کیے چلے جا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مخاطب کرکے فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم کو کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرے جو بلا شبہ تمہاری ہی حرکات کے باعث ہوسکتا ہے تو آخر کون ہے جو تم کو مصیبت سے بچا سکے ؟ اور اسی طرح اگر وہ تم پر ابھی مزید عنایات کرم کرنا چاہے تو کون ہے جو اس کی رحمت کو روک سکے بلا شبہ وہ بنو چاہے کرسکتا ہے لیکن کرتا ہمیشہ اپنے قانون کے مطابق ہے ، جو لوگ منافقانہ روش پر چل رہے ہیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ان کا کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوگا جو انہیں سزا سے بچا سکے۔ یہ بات پہلے بتائی جاچکی ہے کہ جن آسروں اور سہاروں پر یہ لوگ اس طرح کی حرکات کرتے ہیں وہ سب کے سب قیامت کے روز ٹوٹ جائیں گے اور کوئی نہیں ہوگا جو خود کو پھنسا کر ان کو بچانے کے لئے سامنے آئے۔ ان کو اسی وقت سمجھ لینا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کا ہاتھ کھینچ لیا اور اپنی تائید سے محروم کردیا تو پھر کون تمہاری امداد کرے گا اس لئے جھوٹی امیدوں میں گرفتار ہو کر اپنے آپ کو خواہ مخواہ عذاب کا مستحق نہ بنائو تو اب بھی اچھے رہو گے ؟ کون ہے جو نہ سمجھنے والوں کو بھی سمجھا دے ؟ مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ ہی کی ذات اقدس ہے لیکن اس کا قانون یہ ہے کہ وہ ہمیشہ تلاش کرنے والوں ہی کو دیتا ہے اگرچہ دینے پر آئے تو چھپر پھاڑ کر ہی دے دے۔ اور اس کا مفہوم ومطلب طلب سے زیادہ دے دینے سے ادا ہوسکتا ہے کیونکہ انسان کی طلب محدود ہے اور دینے والے کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں۔ ینفق کیف یشاء ۔ واللہ واسع علیم۔
Ayah 33:18اللہ تعالیٰ جہاد سے روکنے والوں کو بھی جانتا ہے اور رکنے والوں کو بھی
18) { المعوقین } اسم فاعل جمع مذکر منصوب { المعوق } واحد ۔ روکنے والا ، منع کرنے والا۔ اس سے وہ منافق مراد ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ کو تو بہرحال مرنا ہے اس مرتبہ اگر تم ابو سفیان کے ہاتھ لگ گئے تو وہ تم پر قطعاً رحم نہیں کرے گا ، مناسب یہ ہے کہ محمد ﷺ کا ساتھ چھوڑ دو اور اپنے (یہودی) بھائیوں سے آملو۔ { عوق } (نصر) تعویق (تفعیل) اعتیاق (افتعال) تینوں کا معنی خیر سے روکنا ہے ، عائق اور معوق خیر اور بھلائی سے روکنے والا رجل عوق لوگوں کو بھلائی سے روکنے والا۔ یعوق ایک بت کا نام بتایا گیا ہے جو حضرت نوع (علیہ السلام) کی قوم کا معبود تھا۔ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منافقوں کو خوب جانتا ہے جو جنگ کے بارے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور انہیں بھی جانتا ہے جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کا ساتھ چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ شامل ہوجائو کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حرکتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم نہیں یقینا وہ ان کی جملہ سازشوں سے باخبر ہے اور ان کو وہ سزا یقینا مل کر رہے گی جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر لڑائی میں حصہ لیتے ہیں تو بہت تھوڑا سا محض دکھلادے کے لئے کہ دن بھر میں ایک آدھ مرتبہ آئے اور میدان کارزار میں چکر لگایا اور چلے گئے وہ بھی اس لئے کہ تازہ صورت حال سے وہ آگاہ رہ سکیں تاکہ ضرورت کے مطابق اگر کوئی چال چلنا چاہیں تو چل سکیں۔ { ھلم الینا } ہماری طرف آجائو یہ بیان بعض محاصرین کا ہے یا ان کے چاہنے والوں کا جو مدینہ کے اندر موجود تھے تاکہ وہ منافقین کو اپنے ساتھ ملا سکیں۔