33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 33:36

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا فیصلہ فرما دے تو پھر ان کا اس معاملہ میں (جس کا فیصلہ کیا گیا ہے) کچھ اختیار باقی رہ جائے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہوا

(حاشیہ گزشتہ صفحہ) 11 ۔ ام المومنین صفیہ ؓ کا مختصر حال صفیہ بنت حی بن اخطب بن شعبہ سبط ہارون (علیہ السلام) تھیں۔ ان کی والدہ کا نام برہ بنت سموال تھا ان کا پہلا نکاح سلام بن مشکم سے ، دوسرا نکاح کنانہ بن ابی الحقیق سے ہوا۔ وہ جنگ خیبر میں مارا گیا تھا اور حضرت صفیہ اس جنگ کے سبایا میں تھیں۔ وحید کلبی کو دحیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے نے عرض کیا کہ مجھے ایک عورت ملک یمین سے مل جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لے لو۔ انہوں نے صفیہ کو لینا چاہا لیکن اس میں اختلاف رونما ہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ یہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سیدہ ہے اور ایسی عورت دحیہ کو مل جانے کی کوئی وجہ ؟ اس بحت وتمحیص کے بعد یہ طے پایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنی چاہیے۔ چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ ہی کے سپرد ہوئیں۔ آپ ﷺ نے ان کو فوراً آزاد فرما دیا اور بعد میں ان کی رضا سے آپ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا۔ ان کیوالد بنو نضیر کے سردار تھے اور والدہ قبیلہ بنو قریظہ کے سردار کی بیٹی تھیں اس لئے حضرت صفیہ ؓ کو بنو نضیر اور بنو قریظہ کی سردار کہا جاتا تھا ۔ صفیہ ؓ کا اصل نام تو زینب تھا۔ چونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے لئے منتخب ہوئی تھیں اور زینب نام سے ام المومنین پہلے ہی موجود تھیں اس لئے آپ ﷺ نے ان کو صفیہ کے نام سے پکارا اور صفیہ کے معنی دراصل ” منتخب کردہ “ کے ہیں بعد میں یہی نام معروف ہوگیا۔ صفیہ ؓ سے نکاح رسول اللہ ﷺ نے اس مہم کے سفر ہی کے دوران کیا تھا اور سفر ہی کے دوران ولیمہ بھی کیا۔ خیبر سے فاتحانہ واپسی ہوئی تو راستہ میں بمقام صہبا آپ ﷺ نے قیام کیا اور اس مقام پر قیام کے دوران یہ تقریب معرض وجود میں آئی۔ ام المومنین ام سلیم اور ام سنان نے صفیہ کی تیاری کا سارا بندوبست کیا۔ ان کے ولیمہ میں گوشت روٹی کے بجائے متفرق اشیاء پیش کی گئیں جن میں کھجوریں ، پنیر اور گھی وغیرہ تھا اور لشکر کے لوگوں ہی کو ایک جگہ جمع کرکے یہ سب کچھ ولیمہ کے نام سے پیش کیا گیا۔ اس طرح سیدہ صفیہ ام المومنین قرار پائیں۔ یہ 7 ہجری کا واقعہ ہے۔ مدینہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت حارثہ بن نعمان سے ایک مکان لیا اور وہاں حضرت صفیہ کو ٹھہرایا۔ اس لئے کہ ساری امہات المومنین کے الگ الگ مکان تھے۔ ام المومنین صفیہ ؓ بہت بالغ النظر اور عاقلہ وافاضلہ تھیں۔ ظاہری حسن و خوبی کے ساتھ باطنی حسن و خوبی کی بھی مالک تھیں۔ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ صفیہ رو رہی ہیں ، پوچھا کیوں روتی ہو ؟ کہنے لگیں کہ میں نے سنا ہے کہ حفصہ مجھے بہت حقیر سمجھتی ہیں اور اپنے لئے بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ ہمارا نسب تو نبی کریم ﷺ سے ملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ تم مجھ سے بہتر کیونکرہوسکتی ہو کہ میرا باپ ہارون ہے اور میرا چچا موسیٰ ہے اور میرا شوہر محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور یہ تینوں ہی اللہ کے رسول ہیں۔ (ترمذی بروایت انس ؓ ۔ رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھی کسی خاوند کے ساتھزیادہ دیر نہ رہ سکیں اس لئے کہ سترہ سال کی عمر میں وہ رسول اللہ ﷺ کے انتخاب میں آئیں تھیں اور اس سے پہلے دو خاوندوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے نکاح ہوا لیکن کسی کے ساتھ بھی رہنا نصیب نہ ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت میں بھی صرف تین ساڑھے تین سال رہ چکی تھیں کہ نبی کریم ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ عمر فاروق ؓ کی خلافت کے زمانہ میں ان کے پاس صفیہ کی ایک باندی نے شکایت کی۔ صفیہ ہفتہ کے دن کا بہت احترام کرتی ہیں اور یہود کی عورتوں کو عطیات اور ہدایا پیش کرتی ہیں۔ امیر المومنین سیدنا فاروق ؓ نے دریافت فرمایا کہ یہ بات میرے علم میں آئی ہے ؟ صفیہ ؓ نے فرمایا جب سے مجھے اللہ تعالیٰ نے جمعہ عطا فرمایا ہے سبت کو میں نے کبھی پسند نہیں کیا اور یہود سے قرابت کے تعلقات ہیں اور ان کو ضرور میں کچھ نہ کچھ بھجواتی رہتی ہوں۔ پھر پوچھا کہ آپ کے علم میں یہ بات کیسے آئی ؟ فرمایا کہ تمہاری فلاں باندی نے کہا تھا۔ باندی سے دریافت کیا کہ تم نے یہ شکایت کیوں کی ؟ وہ کہنے لگی کہ دراصل مجھے شیطان نے بہکا دیا تھا۔ ام المومنین اس کا جواب سن کر خوش ہوگئیں اور فوراً اس باندی کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں آزاد کردیا۔ ان کی زندگی کے واقعات ایک سے ایک بڑھ کر پر حکمت اور تقویٰ وورع پر مبنی ہیں۔ ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کی وفات رمضان المبارک 50 ہجری میں ہوئی۔ (الاستیعاب) اس طرح ان کی عمر عزیز ساٹھ سال ہوتی ہے۔ 12 ۔ ام المومنین ماریہ قبطیہ ؓ کا مختصر حال یہ ام المومنین ماریہ قبطہ کے نام سے معروف ہیں۔ شاہ مصر نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کو بھیجا تھا اور آپ ﷺ نے ان سے نکاح کیا۔ جس طرح سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ہم عصر بادشاہ مصر نے سدہ ہاجرہ خاتون کو ابراہیم السلام کی خدمت میں پیش کیا تھا بالکل اسی طرح شاہ مصر نے محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ماریہ کو پیش کیا جس طرح ہاجرہ شہزادی تھیں اسی طرح یقینا ماریہ بھی شہزادی تھیں لیکن تاریخ میں ان کو بھی باندی کہا گیا اور ان کو بھی ہاں ! فرق ہے تو یہ ہے کہ ہاجرہ خاتون کو ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے والا ایک بت پرست بادشاہ تھا لیکن ماریہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کرنے والا ایک پابند مذہب عیسائی بادشاہ تھا۔ ماریہ خاتون کس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کی گئیں یقین کیساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں ! ان کے بطن اطہر سے جو بچہ پیدا ہوا یہ رسول اللہ ﷺ کا تیسرا لڑکا تھا جس کا نام آپ ﷺ نے اپنے جد امجد کی نسبت سے ابراہیم رکھا۔ 13 ۔ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کا مختصر حال ام المومنین حضرت میمونہ ؓ حارث بن حزن بن بحیربن محرم بن رویبہ عبداللہ بن ہلال بن عامربن صعمہ کی بیٹی ہیں اور یہ مضر سے رسول اللہ ﷺ کے سلسلہ نسب میں مل جاتی ہیں۔ سیدہ میمونہ ؓ پہلے ابی رہم بن عبدالعزی کے نکاح میں تھیں اور اس سے پیشتر حویطب بن عبدالعزیٰ سے بیاہی گئی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے 7 ہجری میں جب عمرہ کیا تو اس وقت یہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ حضرت عباس بن علدالمطلب جو نبی کریم ﷺ کے چچا تھے اور ان کے گھر میں سیدہ میمونہ کی بہن ام الفضل تھیں۔ اس لئے حضرت عباس ہی نے یہ تحریک کی اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ میمونہ سے نکاح کرلیں۔ رسول اللہ ﷺ نے منظورفرمالیا۔ میمونہ اپنی ماں کی طرف سے آٹھ بہنیں رکھتی تھیں اور زیادہ تر وہ مدینہ طیبہ ہی میں تھیں۔ زینب بنت خزیمہ جو ام المومنین میں شامل ہو کر وفات پاگئی تھیں وہ میمونہ کی ماں کی طرف سے ان کی بہن تھیں۔ اس طرح گویا رسول اللہ ﷺ سے دوہرا رشتہ موجود تھا ایک حسب ونسب سے اور دوسرا زینب کے بہن ہونے سے سالی کا رشتہ بھی تھا۔ مکہ سے جب رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضا ادا کرنے کے بعد تشریف لا رہے تھے تو میمونہ بھی اپنی بہنوں کے ساتھ یعنی ام الفضل جن کا اصل نام لبابۃ الکبریٰ تھا جو فضل بن عباس اور عبداللہ بن عباس کی والدہ ماجدہ تھیں اور اسماء بنت عمیس جو حضرت جعفرطیار کے گھر میں تھیں وہ بھی ان کی بہن تھیں ان کے ہمراہ مدینہ میں آرہی تھیں کہ راستہ میں ہی نکاح طے پا گیا اور عباس ؓ ہی میمونہ کے وکیل ٹھہرے اور اس طرح اس سفر میں حضرت میمونہ کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کردیا گیا اور یہ تقریب مقام سرف میں طے پائی ۔ سیدہ میمونہ ؓ جب رسول اللہ ﷺ کے عقد میں آئیں تو 36 سال کی تھیں اور 51 ھ میں بعمر 80 سال مقام شرف میں وفات پائی اور یہیں مدفون ہوئیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس جگہ رسول اللہ ﷺ سے نکاح طے پایا تھا اس مقام یعنی مقام سرف میں وافت ہوئی اور اسی جگہ مدفون ہیں یہ مقام مکہ کے قریب مدینہ طیبہ کے راستے پر ہے۔ اس طرح ازواج مطہرات میں سے 9 ام المومنین کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے حسب ونسب سے ہے اور 14 ازواج مطہرات خاندان سے باہر کی تھیں۔ جو اپنے قبیلوں کی تھیں اور جو قریب وعبید خاندان نبوی سے تھیں ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ ام المومنین خدیجہ ؓ ، ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ ، ام المومنین سودہ ؓ ، ام المومنین حفصہ ؓ ، ام المومنین زینب بنت خزیمہ ؓ ، ام المومنین زنیب بنت جحش ؓ ، ام المومنین ام سلمہ ؓ ، ام المومنین ام حبیبہ ؓ اور ام المومنین میمونہ ؓ ۔ وہ چار ام المومنین جو نبی کریم ﷺ کے خاندانی حسب ونسب سے باہر تھیں وہ ام المومنین جو یریہ ؓ ، ام المومنین صفیہ ؓ ، ام المومنین ریحانہ ؓ اور ام المومنین ماریہ قبطیہ ہیں۔ اس جگہ ہم نے صرف تعارف کے طور پر اپنی مائوں کے ذکر پر اکتفا کیا ہے۔ تفصیل کتب سیر میں ملے گی جن کا ذکرہم نے ” مراجع “ میں کردیا ہے۔ نبی اعظم وآخر ﷺ اور امہات المومنین کی کثرت کا راز کثرت ازواج خصوصیات انبیاء میں سے ایک خصوصیت ہے اور خصوصیات انبیاء کرام متفق علیہ مسئلہ ہے خصوصا محمد رسول اللہ ﷺ کی خصوصیات کا ذکر قرآن کریم اور احادیث میں بکثرت ملتا ہے اس لئے یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں اور یہ بات بھی واضح ہے کہ آپ ﷺ کی کوئی خصوصیت بھی بلا مقصد نہ تھی بلکہ ہر خصوصیت میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور موجود تھی اس طرح ازواج مطہرات کی کثرت کی خصوصیت بھی خالی از حکمت نہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی پر نظر ڈالو کہ 63 سال میں سے 25 سال آپ ﷺ کے کمال تجرد سے گزرتے ہیں۔ جس بزرگ نے 25 سال تک عفوان شباب اور جوش جوانی کا زمانہ کمال تقویٰ اور نہایت ہی ورع کے ساتھ پورا کیا ہو اور جس کے مردانہ کمال نے اعلیٰ سے اعلیٰ خواتین کو اس سے تزویج کا آرزو مند کردیا ہو پھر بھی وہ ربع صدی تک اس کے تجرد وتفرد پر کوئی شے غالب نہ آئی ہو کیا ایسے شخص کی نسبت اعلیٰ رائے نہیں ہوتی ؟ جس مقدس ہستی نے 25 سے 50 سال تک کی عمر کا زمانہ ایک ایسی خاتوں کے ساتھ بسر کیا ہو جو عمر میں ان سے 15 سال لڑی اور ان سے پیشتر دو شوہروں کی بیوی رہ کر کئی بچوں کی ماں بن چکی ہو اور پھر اس ربع صدی کے زمانہ میں ان کے دل بستگی و محبت میں ذرا کمی نہ آئی ہو بلکہ اس کے وفات پاجانے کے بعد بھی ہمیشہ تاحین حیات ہی اس کی یاد کو تازہ رکھا ہو کیا ان کی نسبت کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس تزویج کی وجہ وہی تھی جو عام طور پر پرستان حسن کی شادیوں میں پائی جایا کرتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا 5 ہجری سے 9 ہجری تک کی درمیانی مدت یعنی پانچ سالہ زمانہ ایسا ہے جب ازواج مطہرات سے حجرات آباد ہوئے تھے اس لئے ہر صاحب عقل کا حق بنتا ہے کہ وہ خود غورکرے کہ آپ ﷺ کی زندگی مبارک 55 سالہ رویہ سے بڑھ کر جو عمل ہوا اس کے اسباب کیا تھے ؟ خصوصاً جب رسول اللہ ﷺ کا یہارشاد بھی موجود تھا کہ مالی فی النساء من حاجۃ ” مجھے عورتوں کی کوئی حاجت نہیں “۔ (دارمی بروایت سہیل بن سعد) جو شخص بھی ذرا غور وفکر کرے گا وہ یقینا یہ بات پالے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ خدیجہ ؓ کے علاوہ جس قدر بھی نکاح کئے ان کی بنیاد فوائد کثیرہ دین اور مصالح جمیلہ ملک اور مقاصد حسنہ قوم پر قائم تھی نہ کہ نفسانی خواہشات کا ازالہ اور ان فوائد ومصالح ومقاصد ملی کا اس قدیم ترین زمانہ اور عرب جیسے جمود پسند ملک میں حاصل ہونا تزویج کے بغیر ممکن نہ تھا۔ عورتوں کے متعلق کام اور ان کی تعلیم وتربیت کے بہت سے مقامات ایسے ہیں جو عورتیں ہی سرانجام دے سکتی ہیں مرد نہیں۔ صرف اس مقصد کے حاصل کرنے کے لئے کوئی مرد جس عورت کو منتخب کرے گا الگ صنف اور ایک جنس ہونے کی وجہ سے یقینا وہ مطعون ہوجائے گا اور بہت سے مقامات ایسے بھی آئیں گے کہ وہ مجبور ہوگا اور بات منہ سے نہیں نکال سکے گا۔ اشارہ نہیں کرسکے گا ، ہاتھ تک نہیں ہلا سکے گا لیکن اگر ان سارے مقامات پر اپنی منکوحہ ہوگی تو پھر اس کے لئے کوئی رکاوٹ مطلق نہ ہوگی۔ پھر ملی اور قومی فوائد تو اس کے علاوہ ہیں اس ترح غور کرو گے تو بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ مثلاً : ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کے نکاح کو دیکھو کہ اس سے پیشتر جس قدر لڑائیاں مسلمانوں کے ساتھ کفار لڑیں ان میں سے ہر ایک میں یہود کا تعلق سراً یا اعلاناً ضرور ہوتا تھا۔ مگر تزویج صفیہ کے بعد یہود مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہوئے اس لحاظ سے یہ نکاح کتنا باعث برکت اور کس قدر ضروری تھا۔ ام المومنین ام حبیبہ ؓ کے نکاح پر غور وفکر کرو کہ ان کا باپ ابوسفیان عمائد قریش میں سے تھا اور قوم نشان جنگ اس کے گھر میں رکھا ہوتا تھا جب یہ نشان باہر کھڑا کیا جاتا تو تمام قوم پر آبائی ہدایات اور قومی روایات کے پیش نظر لازم ہوجاتا تھا کہ سب کے سب اس جھنڈے کے نیچے فورا ً جمع ہوجائیں۔ ابوسفیان نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں اس نشان سے کیا کیا فائدے حاصل کئے اور کن کن طریقوں سے اسلام کو نقصان پہنچایا لیکن اس تزویج کے بعد دیکھو کہ وہ کس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف فوج کشی کرتا نظرآتا ہے ؟ ہرگز نہیں ! بلکہ کچھ مدت کے بعد وہ خود اسلام کے جھنڈے کے نیچے آکر پناہ لیتا ہے کہ اب بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ نکاح رسول اللہ ﷺ نے بغیرمقصد یا خواہش نفس کی بنا پر کیا تھا ؟ ام المومنین ریحانہ ؓ کے نکاح کے بعد بنی قریظہ کو کبھی اسلام کے خلاف سازش کرنے کی جرات نہیں ہوئی حالانکہ جو تکلیف ان کو احزاب کے بعد پہنچی تھی اس کے عوض میں کچھ نہ کچھ وہ کرنے کی ضرورت سوچ سکتے تھے کیونکہ ان کی خاندانی کمزوری اس سے قبل ایک سے زیادہ بار ظاہرہوچ کی تھی ام المومنین جو یریہ ؓ کے نکاح پر غور کرو کہ ان کا باپ مشہور راہزن اور ڈکیتی پیشہ تھا اور مسلمانوں سے خاص دلی عداوت رکھتا تھا۔ بنو مصطلق کا مشہور طاقتور اور جنگجو قبیلہ جو بہت سے شعوب پر محتوی تھا اس کے اشارہ پر کام کرتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس تزویج سے پیشتر ہر ایک جنگ میں مسلمانوں کے خلاف اس قبیلہ کی شرکت لازم وضروری ہوتی تھی لیکن اس نکاح کے بعدیہ سب مخاصمتیں نابودہوکر رہ جاتی ہیں۔ تمام قبیلہ قزاقی چھوڑ کر متمدن زندگی اختیار کرلیتا ہی اور پھر اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف کسی ایک جنگ میں بھی شامل نہیں ہوتا۔ انصاف اگر کوئی چیز ہے تو کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ نکاح ضروری نہیں تھا۔ ام المومنین میمونہ ؓ کے نکاح کو دیکھو کہ اس کا نتیجہ کیا رہا ؟ ان کی ایک بہت سردار نجد کے گھر تھیں اس نکاح نے ملک نجد میں صلح کے اور امن اور اسلام کے پھیلانے میں بہترین نتائج پیدا کئے حالانکہ قبل ازیں یہی اہل نجد وہ تھے جنہوں نے سترواعظان دین کو اپنے ملک میں لے جاکردھو کہ سے قتل کردیا تھا اور ان سے کئی بار نقص امن اور فساد انگیزی کے واقعات ظہور میں آچکے تھے اس لحاظ سے یہ نکاح کس قدر باعث برکت ہوا جو شخص امن عامہ اور اصلاح ملک کے فوائد کا منکر نہیں وہ خود بخود اعتراف کرے گا کہ یہ عقد مبارک بھی یقینا دینی مصالح سے نہایت ضروری اور اہمیت کا حامل تھا۔ ام المومنین زینب بنت جحش ؓ کے عقد نے دو گھرانوں میں صلح وصفائی کرانے کے ساتھ ساتھ تبنیت کی غیر اسلامی رسم کو بیخ وبن سے اکھیڑ پھینکا اور تثلیث کے بت پر ایسی ضرب لگائی کہ عیسائیت کو دوبارہ اٹھنے کا نہ چھوڑا اور اس درخت کی جڑیں ایسی کھوکھلی کیں کہ وہ کبھی بھی اس سرزمین میں دوبارہ اگتا نظر نہ آیا۔ ام المومنین عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کے نکاح نے کتاب اللہ کی حفاظت اور احادیث کی نشرواشاعت اور تعلیم نسواں کے بارے میں وہ فوق العادت کام کئے جن کی مثال پوری دنیا میں ممکن نہیں اور پھر صدیق ؓ وفاروق ؓ کی خلافتوں کو زیادہ بابرکت اور زیادہ منفعت بنانے میں بہت بڑاکام کیا اور یہ سارے فوائد ایسے ہیں جو رسول کریم ﷺ کی عمدہ تدبیر کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ ہم نے جن فوائد کا ذکر کیا ہے یہ نمونے ہیں اور ان کا احصاء اس جگہ ممکن نہیں۔ اب بھی کوئی دریدہ دہن یہ کے کہ یہ نکاح ازالہ خواہش کے لئے تھے تو یہ اس کی ہٹ دھرمی ہوگی جس کا زمانہ میں کوئی علاج نہیں ہے۔ مخالفین اسلام نے اس باب میں جو ہرزہ سرائی کی ہے ہم اس سے واقف ہیں اس لئے ہم نے اس جگہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کا ہلکاسا ذکر کردیا ہے کہ ان کی یا وہ گوئیوں کا مختصر جواب ہوجائے لیکن اپنوں نے جو اپنی نادانی کے باعث رسول اللہ ﷺ کی خاندانی اور ازواجی زندگی کی روایات کے تراجم کئے ہیں اور جس طرح ان کے مفہوم ومطالب بیان کئے ہیں وہ بھی کسی حال میں صحیح نہیں۔ بلا شبہ رسول اللہ ﷺ نے جس سلیقہ شعاری سے ازواج مطہرات کے حقوق وذمہ داریوں کو پورا کیا ہے وہ آپ ﷺ کا ایک بہت بڑا کمال ہے جس کی مثال پوری دنیا میں ممکن نہیں۔ بلاناغہ سب کا پتہ لینا اور جس جس چیز کی جہاں جہاں ضرورت ہوئی اس کو اس جگہ پہنچانا اور ہر ایک بیوی کی حالت سے ہر وقت واقف رہنا بغیر مطالبہ کئے ان کے ہاں اشیائصرف پہنچانا۔ سب کی خبرگیری کرنے کے بعد اپنی باری کی رات باری ہی کی جگہ گزارنا ان کاموں سے ہے جو عام انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ خصائص نبوت ہی میں سے ایک خصوصیت ہے اور آپ ﷺ میں یہ بدرجہ اتم موجود تھی اور یہی وہ کمالات ہیں جن کی وجہ سے آپ ﷺ امت کے سارے لوگوں سے درود وسلام کے حق قرار پائے اور یہ درود وسلام نہ پیش کرنے والے مستحق عقوبت ٹھہرے اور ایک مسلم کی زندگی میں لازم قرار دیا گیا کہ جب آپ ﷺ کا اسم گرامی آئے تو آپ ﷺ کے محاسن کا اقرار کرے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد (حاشیہ آیت ھذا) اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کو رد کرنے والا مومن نہیں ہوسکتا 36 ۔ اس سورت کے شروع میں آپ تفصیل کے ساتھ پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مخاطب کرکے اس کی وضاحت کردی ہے کہ لوگو ! میں نے تو ایک انسان کے جسم میں ایک ہی دل پیدا کیا ہے ، یہ کیوں فرمایا ؟ اس لئے کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے کہ جب دل ایک ہے تو ضروری ہے کہ یا تو اس میں دنیا اور اہل دنیا کی محبت خیمہ زن ہوگی یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا پرچم اس میں لہرائے گا۔ اب ان دو میں سے ایک کا انتخاب ناگزیر ہے۔ اس جگہ اس کی وضاحت کی جارہی ہے کہ ایک مومن کے دل میں تو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اور ان ہی کی محبت رچی بسی ہوتی ہے اس لئے جب ان کو اللہ کا حکم اور اس کے رسول کا حکم بتایا جاتا ہے تو وہ اپنی مرضی کبھی نہیں کرتا بلکہ اپنی مرضی کو بالائے طاق رکھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اس جگہ اس کے بیان کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جب نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنی پھوپھی امیمہ کی بیٹی کو زید بن حارثہ کے لئے جو اس وقت تک زید بن محمد ہی کے نام سے یاد کیے جاتے تھے جن کا ذکر پیچھے گزر چکا طلب کیا تو زینب نے خود اور ان کے بھائیوں نے اس بات کو پسند نہ کیا اس لئے صاف انکار کردیا کہ یہ رشتہ نہیں ہوسکتا ادھر یہ بات ہوئی اور ادھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو یہ آیات کریمات دے کر محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیج دیا۔ جب یہ آیات کریمات زینب اور سا کے بھائیوں نے سنیں تو وہ فوراً نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور آپ ﷺ کا پیغام قبول کرنے کی وضاحت کردی کہ اگر آپ ﷺ کا حکم ہے تو ہم قطعاً حکم عدولی نہیں کرسکتے بلا شبہ یہ ایک وقتی واقعہ تھا جو اس طرح تکمیل کو پہنچ گیا اور زینب کا نکاح زید ؓ ؓ سے کردیا گیا اور زید زینب کو لے کر چلے گئے لیکن ان آیات کریمات میں جو حکم دیا گیا وہ خاص اس ایک واقعہ کے لئے مخصوص نہیں تھا بلکہ حکم عام ہے اس وقت بھی عام تھا اور آج بھی حکم عام ہے اور قیامت تک رہے گا اس لئے کسی مسلمان فرد ، قوم ، حکومت یا حکومت کے کسی کمیشن اور قانون سازادارہ کو اس امر کا اختیار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کے ارشاد کو نظر انداز کرکے اپنے لئے کوئی نئی راہ عمل تجویز کرے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ ازروئے قرآن کریم مومن نہیں رہے گا اس لئے مسلمان ہوتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی اطاعت کیے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اب قابل غور امر یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ، اپنے ماحول کو ، اپنی حکومت کو اور رعایا سب کو دیکھیں کہ ان حکم کے مطابق عمل ہورہا ہے ؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں خود ہی اپنی حیثیت کے بارے میں سمجھ کر اپنی اصلاح کرنی ہوگی اگر ہم نے اس حالت پر غور نہ کیا تو روز بروز ضلالت کے گڑھے ہی میں گرتے جائیں گے اور اس وقت دنیا میں جو ہماری حالت ہے اس سے بھی ابتر ہوتی چلی جائے گی اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھ کی توفیق دے اور ہمارے خواص وعوام اس حقیقت کو سمجھ جائیں۔ یاد رہے کہ اصل فوزوفلاح وہی ہے جو آخرت کی ہے اور آخرت کی کامیابی اور فوز عظیم کا تاج صرف اسی کے سر پر رکھا جاتا ہے جو پیکر تسلیم ورضا بن کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر ارشاد کے سامنے بصد شوق اور بہ ہزار مسرت اپنا سر نیاز جھکا دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی زندگی اور اپنے پیارے رسول ﷺ کی صحیح اور سچی فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اختراعی اور مصنوعی اور بناوٹی فرمانبرداری سے بچائے۔ سچی اور صحیح فرمانبرداری کی حقیقت خود نبی اعظم وآخر ﷺ نے واضح فرمادی جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین (صحیح بخاری) ” تم میں سے اس وقت تک کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ میں اسے اپنے باپ ، اپنی اولاد ، تمام احباب و اقرباء اور مال وجان کے مقابلہ میں محبوب نہ ہوجائوں “۔ نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا علامہ اقبال (رح) نے بھی اسی طرح اس کو قلم بند کیا ہے ؎ یہ مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر باد نہ رسیدی تمام بو لمی است اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہی دراصل گمراہی ہے گزشتہ آیت میں فرمایا گیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ کردے تو کسی مومن مرد اور مومن عورت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس فیصلے کو ناپسند کریں یا اس فیصلے کے مقابلے میں خود کوئی فیصلہ کرنے لگیں یا آپ ﷺ کے فیصلے پر کسی قسم کی تنقید کریں اور اب زیر نظر آیت میں واضح کردیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی سے بڑھ کر اور کوئی نافرمانی بھی نہیں ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اتنی بڑی گمراہی ہے کہ اس میں گرنے والا انسان سیدھا جہنم کے گڑھے میں پہنچ جاتا ہے اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت کیا ہے ؟ یہی کہ راستے کا چنائو ہم خود کریں گے ، نیکی کا راستہ خواہ بدی کا راستہ ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر جاں نثاری کا راستہ یا ان کی مخالفت کا راستہ لیکن جو راستہ ہم اختیار کرلیتے ہیں اسی راستے پر اللہ تعالیٰ بڑھاتے ہی چلا جاتا ہے اور اس کی توفیق دیتے چلا جاتا ہے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ناک ، کان ، آنکھ ، ہاتھ ، پائوں اور دوسرے تمام اعضاء وجوارح عنایت فرمائے ہیں ان کا پابند کیا ہے کہ خواہ ہم صحیح راستے پر چلیں یا غلط راستے پر یہ ہمارا ساتھ دیں گے۔ ہاں ! یہ الگ بات ہے کہ مرنے کے بعد یہی ہاتھ ، پائوں اور کان وغیرہ ہمارے خلاف استغاثے کے عین گواہ بن جائیں اور ہمارے خلاف بولنا شروع کردیں جیسا کہ اس کی تفصیل پیچھے سورة النور کی آیت 24 میں وضاحت سے گزر چکی ہے اور آگے انشاء اللہ العزیز سورة فصلت اور سورة یٰسٓ میں بھی آئے گی۔
Ayah 33:37

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم (اے پیغمبر اسلام ! ) اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے احسان فرمایا اور تم نے بھی کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر اور آپ ﷺ کے دل میں وہ بات چھپی تھی جس کے (ظاہر) ہونے سے آپ ﷺ ڈر رہے تھے (کہ اگر طلاق ہوگئی تو لوگ کیا کہیں گے) لیکن اللہ اس کو ظاہر کرنا چاہتا تھا آپ ﷺ لوگوں (کے طعنوں) سے ڈرتے تھے اور اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے پھر جب زید ؓ نے اپنی بیوی کو بیوی بنانے کے بعد (طلاق دے دی تو) ہم نے اس عورت کو آپ ﷺ کے نکاح میں دے دیا (یعنی ہم نے حکم دیا کہ اس سے تم خود نکاح کرلو) تاکہ مسلمانوں پر اپنے متبنٰی بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے) میں کوئی حرج نہ ہو (جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں) جب کہ ان کے لے پالک اپنی بیویوں کو بیویاں بنا چکے ہوں (اور پھر طلاق دے دیں) اور اللہ کا حکم یعنی (فیصلہ) پورا ہو کر رہتا ہے

زیر نظر آیت زیدوزینب کے مہتم بالشان واقع کی طرف اشارات کررہی ہے 37 ۔ ہر قوم میں کچھ رسومات پائی جاتی ہیں جن رسومات کی وہ اس قدر پابند ہوتی ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے کہ یہ رسم باقی رہے ، ہمارا کچھ باقی رہے با لکل نہ رہے اگرچہ ان رسومات کی حقیقت کچھ بھی نہ ہو الا یہ کہ اس قوم کے آباء و اجداد وہ کرتے رہے ہیں اور یہی وہ دلیل ہے جو ہزار ہا دلیلوں پر حاوی ہوتی ہے۔ یہودیوں میں یہ رسم گھر کرگئی کہ کوئی شخص جو بیت المقدس کا خادم ہو کر اپنی زندگی بیت المقدس کے لئے وقف کردے اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس خدمت کو قبول کرلینے کے بعد بھی ازواجی زندگی قائم کرے اور یہ رواج اتنا پختہ تھا کہ لوگ حرام کاریاں کرتے لیکن اس حلال کی کوئی جرات نہ کرسکتا تھا اس رسم بد کو توڑنے کے لئے خانوادہ عمران نے ایک نہایت ہی اہم رول ادا کیا اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت کی کوئی پروانہ کرتے ہوئے اس رسم کو ایک اللہ کی خاص بندی سیدہ مریم ؓ نے توڑا اگرچہ لوگوں نے اس کو بہت ہی پریشان کیا۔ مختصر یہ کہ جو رسمیں کسی معاشرہ میں جڑ پکڑ جاتی ہیں لوگ ان کے اتنے گرویدہ ہوجاتے ہیں کہ ان سے دست کش ہونا کسی طرح بھی پسند نہیں کرتے خواہ وہ رسمیں کتنی ہی لغو اور بیہودہ کیوں نہ ہوں کہ نہ سے دست کش ہونا کسی طرح بھی پسند نہیں کرتے خواہ وہ رسمیں کتنی ہی لغو اور بیہودہ کیوں نہ ہوں عوام الناس تو محض قدامت پسندی اور کو رانہ تقلید کے باعث ان رسوم کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اور اہل دانش وفہم اس خوف سے ایسا کرنے کی جرات نہیں کرتے کہ اس طرح ان کا معاشرتی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ قوم ذہنی انتشار میں مبتلا ہوجائے گی اور لاقانونیت پھیل جائے گی۔ اس لئے عوام اپنے نقطہ نظر سے اور خواص اپنے اندیشوں کے باعث مروجہ رسوم کو نہیں چھیڑتے اور اگر کوئی شخص ان میں ردوبدل اور اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف مخالفت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ عرب میں دیگر لغو رسموں کے علاوہ یہ بیہودہ رسم بھی تھی کہ جب کوئی شخص کسی کو اپنا متنبی بنا لیتا ہے تو اسے وہی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں جو حقیقی فرزند کو حاصل ہوتے ہیں۔ وہ متنبی بنانے والے کے مرنے کے بعد اس کا وارث ہوتا ، اس کی زوجہ کی بھی وہی حیثیت ہوتی جو سگے بیٹے کی بہو کی ہو۔ وہ اجنبی لڑکا اس قبیلہ کا فرد شمار ہونے لگتا۔ اس طرح اس رسم کے باعث طرح طرح کی خرابیاں مترتب ہورہی تھیں ، نسب میں خلط ہورہا تھا ، بیٹا وہ کسی کا ہوتا لیکن متنبی بننے سے اپنے خاندان سے کٹ جاتا اور دوسرے خاندان کا فرد شمار ہوتا۔ اگ رکسی کی حقیقی اولاد نہ ہو تو اس کے دوسرے قریبی رشتہ دار اس کے مال متروکہ کے حقدار بنتے ہیں لیکن متنبی ہونے کی صورت میں یہ اجنبی بچہ ان کے سارے حقوق کو غضب کرلیتا اور خونی اور نسبی قرابت رکھنے والے قریبی رشتہ دار بھائی بھتیجے محروم کردیئے جاتے جو صریح ظلم تھا ، پھر ایسے متنبی کی بہو کے ساتھ اگر بعینہ وہی سلوک کیا جائے تو حرمت مصاہرت کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ متنبی بنانے والے پر اس کے متنبی کی بیوی حرام ، اس کی بیوی کی ماں حرام ، اگر کوئی اس کی بیٹی ہو تو حرام۔ یہ عورتیں جن سے نکاح حلال ہے ان سے اس رسم کے باعث نکاح حرام ہوجاتا تھا۔ اس جاہلانہ رسم سے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی تھیں اور معاشرہ گوناگوں مشکلات میں مبتلا تھا لیکن سماج کے اس رواج کی اصلاح کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر رحم فرماتے ہوئے جب نبی کریم ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے ان تمام رسم و رواج کو ختم کردیا ۔ نبی کریم ﷺ سوسائٹی کے دبائو کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا جرات مندانہ اقدام نہ فرماتے تو اور کون اصلاح کرتا۔ اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جاتا تو قیامت تک ان محرومیوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ سورة پاک کے آغاز میں حکم دیا کہ متنبی تمہارا حقیقی بیٹا نہیں۔ یوں ہی صرف زبان ہلادینے سے کسی کا بیٹا اپنا بیٹا نہیں بن سکتا۔ اس لئے نہ ان کو اپنا بیٹا سمجھو ، نہ زبان سے اس کی فرزندی کی نسبت اپنی طرف کرو۔ اس ارشاد پر عمل کی ابتداء بھی ذات رسالت مآب ﷺ سے ہوئی۔ حضرت زید ؓ جنہیں زید بن محمد ﷺ کہہ کر پکارا جاتا تھا ، اب پھر اپنے حقیقی بات کی طرف منسوب ہو کر زید بن حارثہ کہے جانے لگے۔ لیکن ابھی تک اس رسم و رواج کے کئی غلط اثرات باقی تھے جن کے متعلق قوم کے جذبات ازحد حساس واقع ہوئے تھے ، ان کے خلاف سوچنا بھی ان کے اختیار میں نہ تھا۔ اپنے متنبی کی زوجہ ان کے نزدیک بعینہ اس حیثیت کی مالک تھی جو اپنے حقیقی بیٹے کی بہو کی حیثیت تھی۔ عرب کا قانون بھی اپنے بیٹے کی بیوی مطلقہ ہو یا بیوہ سے نکاح کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ قرآن نے بھی اس کی حرمت کو برقرار رکھا۔ متنبی کی بیوی کی حیثیت بھی وہی تھی ، اس کے حرام ہونے میں انہیں قطعاً کوئی شبہ نہ تھا۔ اسلام نے اس قبیح رسم اور اس پر مترتب ہونے والے نتائج کو منسوخ کردیا۔ جب حضرت زید ؓ نے حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دی تو نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق انہیں اپنی زوجیت کا شرف بخشا۔ اس طرح اس رسم بد پر کاری ضرب لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کا خاتمہ کردیا۔ واقعہ کی صحیح صورت تو یہ ہے جو آپ کے سامنے بلاکم وکاست پیش کردی گئی لیکن یورپ کی متعصب اور تنگ نظر پادریوں نے جنہوں نے دنیا کو دھوکا دینے کے لئے مورخ ، محقق اور مستشرق کا لباس اوڑھ رکھا ہے تاریخ اسلام کے اس سادہ سے واقعے کو یوں اچھالا اور اسے ایسا رنگ دیا کہ اچھے اچھے سمجھ دار ان کے دام فریب میں پھنس گئے اور دولت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آئیے ! قرآن کریم کے کلمات طیبات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جہاں جہاں انہوں نے ٹھوکر کھائی یا دانستہ اپنی بدباطنی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی نشاندہی کریں تاکہ حقیقت اپنی رعنائیوں کے ساتھ آشکارا ہوجائے۔ بعض غلط اور بالکل باطل روایات کا سہار لے کر یہ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت زینب ؓ کا نکاح حضرت زید ؓ سے ہوگیا تو ایک روز اچانک نبی کریم ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے وہ گھر پر موجود نہ تھے۔ حضرت زینب ؓ بےدھیانی کے عالم میں بیٹھی تھیں۔ اچانک جب ان پر نظر پڑی تو نبی کریم ﷺ ان پر فریفتہ ہوگئے (نعوذ باللہ) اور یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے : سبحان اللہ مقلب القلوب پاک ہے دلوں کو بدلنے والا۔ یہ آواز حضرت زینب نے سن لی۔ زید آئے ساری بات کہہ سنائی۔ حضرت زید ؓ نے یوں ہی مناسب سمجھا کہ وہ اپنی زوجہ کو طلاق دے دیں تاکہ نبی کریم ﷺ ان سے نکاح کرسکیں انہیں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ نبی کریم ﷺ نے زبان سے تو یہ فرمایا کہ زید اپنی زوجہ کو طلاق نہ دے اور اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی دلی خواہش یہی تھی کہ زید طلاق دے دے تو نبی کریم ﷺ ان سے نکاح کریں۔ محض ظاہر داری کے طور پر نبی کریم ﷺ نے انہیں طلاق دینے سے منع فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر عتاب فرمیا اور کہا کہ تم زبان سے کچھ کہہ رہے ہو اور دل میں کچھ چھپاتے ہو۔ میں تمہارے دل کے پوشیدہ رازوں کو ظاہر کردوں گا۔ چناچہ ان بد باطنوں نے اس آیت کے ان جملوں { امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ماللہ مبدیہ } کا یہی معنی لیا ہے اور اپنی خبث باطنی کے باعث بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کی جرات کی۔ دل ہرگز برداشت نہیں کرتا کہ ان کی اس یا وہ گوئی کو لکھنے کی جرات کرے لیکن جب تک اس لکھا نہ جاتا اس کا رد ممکن نہ تھا۔ میں آپ کو ایک عقیدت مند کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک حقیقت پسند کی حیثیت سے ان کی اس ہزہ سرائی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں ، صداقت خودبخود نکھر کر سامنے آجائے گی۔ اگر حضرت زینب ؓ ایک اجنبی خاتون ہوتیں ، کسی غیر قبیلہ کی فرد ہوتیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے کبھی نہ دیکھا ہوتا تو پھر ان کی اس بےسروپا حکایت کو ماننے کی وجہ بھی ہوتی کو اچانک دیکھا اور دل میں ان کی خوبصورتی کو دیکھ کر جذبہ الفت پیدا ہوا حالانکہ واقعہ ایسا نہیں۔ آپ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی زاد ہیں ، حضرت عبدالمطلب کی نواسی ہیں ، نبی کریم ﷺ کے سامنے ولادت ہوئی ، نبی کریم ﷺ کے گھر کے صحن میں ان کا بچپن گزرا ، نبی کریم ﷺ کی آنکھوں کے سامنے وہ جوان ہوئیں۔ صبح وشام اپنی پھوپھی کے ہاں آمدورفت رہتی۔ کون سی ایسی بات تھی جس کا نبی کریم ﷺ کو علم نہ تھا ۔ ان کی زندگانی کو کون سا ایسا پہلو تھا جو نبی کریم ﷺ پر مخفی تھا جو اس روز اچانک آشکارا ہوا اور حجت کا طوفان امڈ آیا۔ نعوذ باللہ۔ اور سنئے ! حضرت زینب ؓ ان سعادت مند خواتین میں سے تھیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان سے مشرف ہوئیں۔ پھر نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے بعد مکہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ میں آگئیں۔ مزید غور فرمائیے جب نبی کریم ﷺ نے انہیں حضرت زید ؓ کے لئے شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے اور ان کے بھائی نے یہ خیال کیا کہ نبی کریم ﷺ اپنی ذات اقدس کے لئے بہ رشتہ طلب فرما رہے ہیں ، اس خیال کے پیش نظر انہوں نے بطیب خاطر بصد مسرت اس پیغام کو قبول کیا لیکن جب پتہ چلا کہ یہ پیغام زید کے لئے تھا ، تو پھر وہ صورت حال پیدا ہوئی جس کا ذکر ابھی گزر چکا ہے۔ جب حقیقت حال یہ ہے تو کوئی غیرت مند اور حقیقت پسندشخص اس داستان سراپا ہذیان کو قبول نہیں کرسکتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جب حضرت زینب ؓ کنواری تھیں اور نبی کریم ﷺ کے حرم کی زینت بننے کو اپنے لئے اور اپنے کنبہ کے لئے باعث صد عزت محسوس کرتی تھیں ، اس وقت نبی کریم ﷺ کے دل میں کوئی کشش پیدا نہ ہوئی اور جب ایک سال سے زائد عرصہ آپ کے آزاد کردہ غلام کے ساتھ ازواجی زندگی بسر کرچکیں تو اچانک یہ صورت پیدا ہوگئی جو ان عقل کے اندھوں کو نظر آنے لگی۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ پھر قرآن کریم کے ان جملوں کا مطلب کیا ہے ؟ (1) { امسکل علیک زوجک واتق اللہ } کہ اپنی بوی کو اپنے پاس روکے رکھو۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ۔ نبی کریم ﷺ کے یہ فرمانے کی کیا وجہ تھی ؟ (2) { تخفی فی نفسک } وہ کیا بات تھی جسے نبی کریم ﷺ اپنے دل میں چھپانا چاہتے تھے۔ (3) { تخشی الناس } کا معنی کیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ لوگوں سے کیوں خوف فرما رہے تھے ؟ آئیے یہ بھی سن لیجئے تاکہ آپ کے دل کی ہر خلش دور ہوجائے۔ بفضلہ تعالیٰ ۔ حضرت زینب ؓ نے ارشاد نبوی کے مطابق حضرت زید ؓ سے نکاح تو کرلیا تھا لیکن مزاد اور طبعیت کا تفاوت قائم رہا۔ آپ کو اپنے عالی خاندان اور شریف النسب ہونے پر جو فخر تھا اس سے ان کی خانگی زندگی تلخیوں سے دور چار ہوتی رہتی تھی۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ وہ سلوک روانہ رکھتیں جو روا رکھنا چاہیے تھا۔ تلخ کلامی اور توں توں میں میں کی نوبت اکثر آتی رہتی تھی۔ حضرت زید ؓ بھی غیرت مند جوان تھے۔ وہ آئے دن کی یہ بےعزتی اور تذلیل برداشت کرتے کرتے تھک گئے تھے ، ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا تھا۔ خانگی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے ان کی ساری کوششیں ناکام ہوچکی تھیں ۔ سال کی ترش کلامی کے باعث زید دلبرداشتہ ہوگئے۔ باہمی مودت والفت کی جگہ شدید نفرت نے لے لی اور طلاق کے بغیر اس الجھن کا انہیں کوئی حل نظر نہیں آتا تھا کیونکہ یہ نکاح نبی کریم ﷺ نے خود کروایا تھا ، اس لئے ان کی یہ مجال نہ تھی کو چپکے سے طلاق دے کر انہیں فارغ کردیتے۔ نبی کریم ﷺ کی خدمت عرض کرنا ضروری تھا چناچہ حاضر ہوئے اور اپنی ساری بپتا کہہ سنائی ۔ نبی کریم ﷺ کو بھی زید کے اس ارادے سے بڑی تشویش ہوئی اور یہ بالکل قدرتی عمل تھا۔ کل اتنا مجبور کرکے نکاح کیا اور آج زید نے طلاق دے دی ، لوگ کیا کہیں گے ؟ چناچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں یہی سمجھایا کہ تم طلاق دینے سے باز آئو اور اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ کل میں نے بڑے شوق سے تمہارا نکاح کیا ہے آج اگر تم طلاق دے دو تو حضرت زینب اور ان کے عزیزوں کی دل شکنی ہوگی لیکن حضرت زید کے لئے یہ ممکن نہ رہا تھا ، اصلاح احوال کے لئے انہوں نے سارے جتن کئے تھے اور ہر امکانی کوشش کی تھی لیکن حضرت زینب کے مزاج کو بدلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سیدہ زینب کا رشتہ جو بنی کریم ﷺ نے طلب کیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے طلب کیا تھا اور جب زینب اور اس کے بھائیوں نے اس کو ناسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر وحی نازل فرمائی جس میں واضح کیا گیا کہ یہ رشتہ محض مشورے کے طور پر نہیں طلب کیا گیا بلکہ حکم الٰہی اور ہدایت خداوندی کے مطابق طلب کیا گیا ہے اس لئے اس سے انکار تو کفر کے مترادف ہوگا۔ یہ بات جب زینب اور ان کے بھائیوں نے سنی تو یقینا انہوں نے اس کو مکمل طور پر دلی رغبت کے ساتھ قبول کیا حالانکہ زید غلام بھی مشہور تھے اور اس سے پہلے نہ صرف یہ کہ وہ شادی شدہ تھے بلکہ صاحب اولاد بھی تھے اور دوسری طرف زینب ابھی تک کنواری تھیں اگرچہ عمر زیادہ ہوچکی تھی پھر حالات کی کشیدگی ، آخر کیوں ؟ اس لئے کہ علم الٰہی میں تو وہ سارے کا سارا واقعہ موجود تھا جس واقعہ کے تحت یہ معاملہ طے ہوا اور وہ یہی تھا کہ زید کے ساتھ نکاح اور میاں بیوی میں ازواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اس طلاق کا ہونا ضروری ہے تاکہ ایک خاندانی بت کے ٹوٹنے کے بعد تبنیت کا بت بھی پاش پاش کردیا جائے اور ظاہر ہے نوشتہ الٰہی خطا نہیں ہوتا اور تدبیر الٰہی کے فیصلے ساری دنیا مل کر بھی غلط نہیں کرسکتی بلکہ اس کے رسولوں تک کو یہ اجازت نہیں کہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے فیصلوں کو بدل دیں جب مشیت ایزدی میں طے تھا کہ اس طلاق کو ہونا ہے تو پھر کون تھا جو اس کو روک سکتا۔ یہی وہ خاص وجہ تھی کہ زید وزینب میں نباہ نہ ہوسکا ، نوشتہ خداوندی کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتا اس لئے وہی ہوا جو پروردگار عالم کو منظور تھا۔ اس جملہ سے یہ معنی اخذ کرنا نبی کریم ﷺ محض ظاہر داری کی وجہ سے یہ فرما رہے تھے انسانیت ، شرافت اور حقیقت حال کے ساتھ بہت بڑی بےانصافی ہے بلکہ اس جملہ کا یہ مفہوم ہے جو میں نے عرض کیا۔ وتخفی فی نیسک پر ان عیاروں نے بڑی لے دے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس چیز کو نبی کریم ﷺ چھپا رہے تھے وہ حضرت زینب ؓ سے محبت تھی ، لیکن ان کی اس ہرزہ سرائی کو آیت کا اگلا حصہ باطل کردیتا ہے۔ ارشاد ہے { ما اللہ مبدیہ } یعنی آپ وہ چیز دل میں چھپارہی ہیں جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے۔ معلوم ہوا جسے نبی کریم ﷺ چھپا رہے تھے ، وہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔ اب آپ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس چیز کو ظاہر فرمایا ہے تو جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا وہی وہ چیز ہے جس کو نبی کریم ﷺ چھپا رہے تھے۔ اس کے علاوہ کسی اور چیز کا تصور کرنا باطل ، کذب اور محض افتراء ہے ، خود بتائیے کسی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس عشق و محبت کو ظاہر کیا ، صراحتا نہ سہی کنایتاً ، لفظاً نہ سہی اشارتاً ۔ اگر ایسی بات کسی بات کا نام ونشان نہیں تو پھر { تخفی فی نفسک } کا یہ معنی بیان کرنا جو ان لوگوں نے کیا ہے کتنی بڑی گستاخی ہے۔ وہ بات جسے نبی کریم ﷺ چھپا رہے تھے اور جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا ، وہ کیا تھی ؟ اس کے متعلق وضاحت زین العابدین علی بن حسین علیہ وعلی ابیہ وجدہ افضل الصلوٰۃ والسلام والتسلیم کے اس بیان سے ہوتی ہے۔ اوحی اللہ تعالیٰ ماواحی اللہ تعالیٰ بہ ان زینب سیطلقھا زید وتتزوجھا بعدہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) الی ھذا ذھب اھل لتحقیق من المفسرین کالزھری وبکر بن علاء والقشیری والقاضی ابوبکر بن العربی وغیرھم (روح المعانی ، قرطبی) آپ ﷺ زید کو روکتے رہے اور منع کرتے ہی رہے تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے رسول پر یہ وحی فرمائی تھی کہ زید ؓ حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دیں گے اور آپ ﷺ ان سے نکاح فرمائیں گے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے زید کو منع کرنا بند کردیا اور حکم الٰہی کے آنے کے بعد خاموش ہوگئے ۔ مفسرین میں سے اہل تحقیق کا یہی قول ہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے { زوجنا کھا } سے تعبیر فرمایا ہے اس اور اس کی حکمت بھی خود ہی بیان فرما دی کہ پہلے جو رسم چلی آرہی ہے کہ اپنے متنبی کی زوجہ سے نکاح حرام ہے ، اس کا خاتمہ کردیا جائے تاکہ لوگ اس رسم قبیح کے باعث جن پریشانیوں سے دو چار ہیں ، ان کا ازالہ ہوسکے۔ ایک بار پھر { وتخشی الناس } کے کلمات پر بھی غور کیجئے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بتا دیا کہ اس رسم بدکو ختم کرنے کے لئے اس کا فیصلہ یہ ہے کہ زید طلاق دے گا اور آپ ﷺ ان سے نکاح کریں گے۔ نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ کفار ومنافقین اس پر بہتان طرازی کا طوفان برپا کردیں گے ، حقیقت کو مسخ کر کرکے لوگوں کے سامنے پیش کریں گے اور پراپیگنڈہ کا جو موث موقع انہیں ملا ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں گے ۔ ان کی زبان درازیوں کے باعث ہوسکتا تھا کہ بعض کمزور ایمان والے پھسل جائیں۔ یہ اندیشہ تھا جو نبی کریم ﷺ دل ہی دل میں محسوس فرما رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پسند نہیں کہ ایسے اندیشوں کو اس کا رسول ﷺ پرکاہ کی بھی وقعت دے۔ جھوٹ کے طوفان باندھنے والے باندھا کریں۔ دین اسلام کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا۔ نبی کریم ﷺ کی عزت و عظمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اگر کوئی بدبخت ان کی ہرزہ سرائی سے متاثر ہو کر اسلام سے اپنا رشتہ توڑتا ہے تو آپ کو میرے محبوب کیا پروا ایک بار نہیں سو بار انہیں روٹھنے دو ۔ اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ { فلماقضی زید منھا وطرا } پھر جب زید نے اپنی بیوی سے خواہش پوری کرلی یعنی طلاق دے دی اور طلاق کے بعد وہ مدت بھی گزر گئی جس مدت کے اندر خاوند طلاق واپس لینے کا حق رکھتا ہے اس طرح گویا اب زید کی اپنی بیوی زینب کی کوئی خواہش باقی نہ رہی اور ان کا مکمل طور پر منقطع ہوگیا { وطرا } کے معنی خواہش ، ضرورت اور حاجت کے ہیں اس لئے بعض مفسرین نے اس سے یہ مراد بھی لی ہے کہ زید نے زینب سے جب مخصوص تعلق قائم کرلیا تھا لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان جو سکون درکار ہوتا ہے وہ میسر نہ آیا تو انجام کار زید نے طلاق دینے کا حق استعمال کر ہی دیا باوجود اس کے کہ آپ ﷺ اس کو روکتے رہے کیونکہ یہ روکنا صرف ایک مشورہ کی حد تک تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اصل صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ خاموش ہوگئے اور زید ؓ نے زینب ؓ کونہ یہ کہ صرف طلاق ہی دی بلکہ طلاق کے دینے کے بعد رجوع کی مدت بھی پوری ہوگئی تو ہم نے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یعنی نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ خود اس سے یعنی زینب سے نکاح کرلیں تو آپ ﷺ نے حکماً نکاح کرلیا گویا آپ ﷺ نے عدت کے دن پورے ہونے کے بعد زینب کو نککاح کی دعوت دی جو اس نے بخوشی قبول کرلی اور اس طرح باقاعدہ حبالہ عقد میں آگئیں اور آپ ﷺ نے زفاف کی رات گزارنے کے بعد ولیمہ کی دعوت کی اور صحابہ کی کثیر تعداد اس میں شامل ہوئی۔ اس طرح تبنیت کی رسم اور پھر متنبی کی بیوی سے نکاح جائز نہ ہونے کی رسم کا قیامت تک کے لئے خاتمہ ہوگیا۔ آخر میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ ہم نے اوپر یورپ کے مستشرقین کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس پر بہت لے دے کی ہے حالانکہ انہوں نے یہ باتیں اپنے پاس سے تو نہیں گھڑی ہیں بلکہ ہمارے ہاں کی تفاسیر میں اس طرح کی باتیں موجود ہیں جہاں سے انہوں نے اخذ کی ہیں اور جب ایسا ہے تو ان کا قصور کیا ؟ بلا شبہ ہمارے ہاں کی بعض تفاسیر میں بھی یہ سب کچھ موجود ہے اور انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ یہیں سے حاصل کیا ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جہاں اس طرح کی چیزیں ہمارے ہاں پائی گئی ہیں تو ان کا رد بھی ہمارے پاس موجود ہے اور جب ایک چیز لکھ مٹا دی گئی ہو تو اس لکھنے کو آخرکون لکھنا کہے گا اگر انہوں نے ایسی باتوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھا تو کم از کمان کا رد بھی ساتھ ہی بیان کردیتے تو یہ دیانت ہوتی یہ نہایت بددیانتی کی بات ہے کہ آدمی یک طرفہ بات کرے جب کہ وہ بات اچھی بھی نہ ہو عین ممکن ہے کہ ان لوگوں نے جنہوں نے ایسی باتیں تحریر کیں ان کا مقصد صرف تاریخی حیثیت سے یہ بتانا ہی ہوا کہ بعض نے اس طرح کی باتیں بھی کیں ہیں اور اس طرح نقل کفر کفر نہ رہے گی لیکن مستشرقین نے تو ان کی حقیقت پر مبنی رکھ کر ان کو وہ لبادہ پہنایا جو ایک طرح سے بدکرداری واضح کررہا ہے حالانکہ خاکم بدہن کہ آپ میں کوئی ایسی بات موجود ہو جس سے آپ ﷺ کے کردار واخلاق پر کوئی حرف آئے۔ رہے زید تو ان کے متعلق پیچھے مضمون گزر چکا جو آپ لوگ پڑھ چکے۔
Ayah 33:38

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی (کریم ﷺ کے لیے اس کام میں کوئی مضائقہ نہیں جس کو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ، جو (پیغمبر) پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی اللہ کا یہی دستور رہا ہے (کہ غلط رسومات کو وہ توڑتے رہے) اور یہ اللہ ہی کا حکم تھا (جو آپ ﷺ نے کیا) وہ ایک فیصلہ شدہ بات تھی

جس چیز کو اللہ نے حلال اور جائز رکھا ہے اس میں نبی کوئی مضائقہ نہیں سمجھے گا 38 ۔ زیر نظر آیت کے مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور یہ تقسیم خود رب ذوالجلال والا کرام ہی نے کردی ہے۔ 1) ” نبی کریم ﷺ کے لئے اس کام میں مضائقہ نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کردیا۔ “ مطلب بالکل صاف ہے کہ لوگوں کا رواج کیا ہے اور وہ کیا کہتے ہیں ؟ اس کی طرف تو وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ڈر اپنے دلوں میں نہیں رکھتے بلکہ لوگوں کے ڈر اور خوف کو اپنے دلوں میں جمائے بیٹھے ہیں اور نبی کے لئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو جو اہمیت حاصل ہے اس کے سامنے دنیا کے لوگوں کی وہ کوئی پرواہ اپنے دل میں نہیں رکھتا بلاشب وہ بغیر کسی حیل حجت کے وہ کر گزرے گا جس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو حکم ملا۔ یہی وہ اصول ہے جس کے مطابق اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے زینب کو طلاق ہوجانے کے بعد پیغام نکاح بھیج دیا کیونکہ اس پیغام کے بھیجنے کا حکم الٰہی خصوصیت کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ رسول اللہ ﷺ زینب کو پیغام نکاح نہ دیتے اور جب اس نے اس پیغام کو منور کیا تو آپ ﷺ اس سے نکاح نہ کرتے اور اس خیال کو دل میں جمائے رکھتے کہ اس سلسلہ میں لوگ کیا کہیں گے ؟ ہاں ! بلا شبہ آپ ﷺ کو خیال پیدا ہوا کہ اگر زیدنے زینب کو طلاق دے دی تو لوگ کیا کہیں گے ؟ اس لئے کہ یہ نکاح آپ ﷺ نے نہایت زور دے کر کرایا تھا لیکن یہ خیال کب تک دامن گیر رہا ؟ جب تک اس سلسلہ میں حکم الٰہی نہیں آیا تھا پھر جب حکم الٰہی نازل ہوگیا تو آپ ﷺ کو اس کا خیال تک بھی نہ رہا اور آپ ﷺ سمجھ گئے کہ اس میں کونسی حکمت پنہاں تھی جس حکمت کے تحت اس نکاح پر زور دیا گیا اور پھر کیا حکمت مخفی ہے کہ مشیت ایزدی کے تحت زید نے طلاق دی اور اس طرح متنبی کی وہ رسم جو عربوں میں موجود تھی اس کی بیخ کنی کرنے کے لئے اور اس کی جڑوں تک اکھاڑ پھینکنے کے لئے یہ طے پایا کہ بس زید کو زید بن محمد کے نام سے موسوم کیا گیا تھا وہ زید چونکہ فی الواقع محمد رسول اللہ ﷺ کا بیٹا نہیں تھا اس لئے اس کی بیوی سے اس کے طلاق دینے کے بعد نکاح لازم قرار دیا تاکہ آنے والے زمانے میں بھی کسی کو اس طرح کا کوئی شک باقی نہ رہے اور اس بات کی بیخ کنی کردی جائے کہ متنبی کو کوئی حقیقی بیٹے کا قائم مقام قرار دے کر اس کی اصل ولدیت کو بدل دے۔ 2) ” جو رسول پہلے گزر گئے ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے (کہ غلط رسومات کو وہ توڑتے رہے) “ غور کرو کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے جتنے رسول ونبی گزرے ان میں سے جس کا ذکر بھی قرآن کریم نے کیا اس کے متعلق اس کی وضاحت کردی کہ اس نبی ورسول کی آمد سے پہلے اس کی قوم کس کس رسم و رواج میں مبتلا تھی اور پھر کس طرح اس رسول ونبی نے آکر ان رسومات ورواجات کو بلائے طاق رکھ کر توحید الٰہی کا درس جاری کیا ۔ آدمی (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک ایک ایک نبی رسول کا تذکرہ پڑھو تم پر یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ ہر قوم کس طرح شرک ، کفر اور ظلم میں مبتلا تھی اور کن کن رسومات اور رواجات کے مطابق وہ زندگی گزار رہی تھی اور رسول نے آکر کس طرح ان رسومات اور رواجات کی اصلاح کی۔ پھر رسول تو بہرحال رسول تھے لیکن اللہ کے دوسرے نیک بندوں نے بھی ان کا خوب ہاتھ بٹایا اور کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے ہوئیں بےدھڑک وہ کام کردکھایا جو قوم کے رسم و رواج کے سخت خلاف تھا اور پھر اس سلسلہ میں قوم نے ان کے ساتھ جو سلوک بھی کیا اس کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے بخوشی برداشت کیا۔ غور کرو کہ عمران کے گھرانے کا اللہ نے کس طرح وضاحت کے ساتھ قرآن کریم میں ذکر کیا اور پھر سیدہ مریم کا بار بار ذکر کرکے ان کے کردار اور اخلاق کی داد دی کہ پوری قوم کی قوم اس بدرسم میں مبتلا تھی کہ وہ لوگ جو ہیکل کی نذر کردیئے گئے ان کے لئے لازم قرار پایا کہ وہ ساری عمر شادی نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم نے مریم کو ہیکل کی نذر کردینے کی اتنی وضاحت کردی کہ اب کسی کو یہ ابہام نہ رہا کہ مریم کی شخصیت کیا تھی ؟ یا وہ شخص جو مریم کے نام سے بھی واقف ہوگا وہ جانتا ہے کہ وہ مریم ہے جس کو اس کی ماں نے اس وقت جب یہ ابھی بطن میں موجود تھی تو بیت المقدس کی خدمت کے لئے خاص کردیا تھا اور اعلان کردیا کہ ” اے اللہ ! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو تیرے گھر کے لئے خاص کردیا “۔ اللہ تعالیٰ نے مریم کی ماں کی یہ نذر قبول کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ تیری یہ منت ہمارے ہاں منظور ٹھہری پھر جب مریم پیدا ہوئی تو اس کی ماں کے تحت الشعور سے یہ اعلان کرادیا کہ اے اللہ ! میں اپنی اس لڑکی کو اور اس سے پیدا ہونے والی اوالد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں گویا اس طرح مریم کی ماں نے اپنے قومی اور ملکی رواج کو ملیا میٹ کرنے کے لئے اپنی دلی خواہش کا اظہار کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس مخصوص اظہار خیال کو پروان چڑھانے کے لئے منظوری کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا کہ تیری پاکباز بچی سے ہم تیری قوم کی اس رسم کو یقینا مٹا کر رکھ دینے کا وعدہ کرتے ہیں پھر مریم جونہی جوانی کو پہنچی تو اس نے سب سے پہلے حکم الٰہی کے مطابق یہ کام سرانجام دیا کہ اپنے چچیرے بھائی کے ساتھ جو نہایت ہی پاکباز نوجوان تھا نکاح کرلیا۔ بس اس نکاح کا ہونا تھا کہ ایک طوفان قوم بنی اسرائیل میں کھڑا ہوگیا اور ہر ایک طرف سے ان پاکباز انسانوں کو تنگ کرنے کے لئے طعنہ رینوں کی تیر اندازی شروع ہوگئی یہاں تک کہ آپ کا چیچیرا بھائی باوجود ایک پاکباز انسان ہونے اور ایک مرد ہونے کے گھبرا گیا اور اپنے دل ہی دل میں نہ معلوم کیا کچھ سوچنے لگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نکاح کی اصل غرض وغایت فوت ہونے لگے جس کے باعث مریم کو جو تکلیف پہنچی اس کا تصور بھی آپ اور میں نہیں کرسکتے بہرحال جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے مریم کی ڈوبتی کشتی کو خود سہارا دے دیا اور مریم کو فرشتہ نے مخاطب کرکے کہہ دیا کہ مریم گھبرانے کی کوئی بات نہیں تیرے رب نے تیری سن لی اور تجھے وہ اپنی طرف سے بیٹے کی خوشخبری دے رہا ہے۔ مریم نے فرشتہ کی یہ بات سنی تو حیران رہ گئی کہ میرے اللہ ! یہ کیسے ؟ میرا خاوندتو میری طرف متوجہ ہی نہیں ہوا اور بدکار میں نہیں ، فرشتہ نے فوراً جواب دیا کہ مریم تیرے رب کے لئے کیا مشکل ہے کہ تیری اس روک کو ایک پل بھر میں دور کردے کیونکہ اس کی طرف سے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ اپنے وقت پورا ہو کر ہی رہتا ہے اور ایسا کام تیرے رب پر کوئی مشکل نہیں ہے۔ ادھر یہ بشارت آئی اور ادھر مریم کا چچیرا اپنے عزم وجزم پر قائم ہوگیا اور پھر اس نے مریم کو سہارا دیتے ہوئے صرف مریم ہی کو نہیں بلکہ اس کی ماں کو بھی ساتھ لیا اور اس علاقہ سے ہجرت کرگیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیکھایا جو سیدہ مریم نے خواب کے اندر کیا تھا اور پھر جو حالات بھی گزرے گزرے لیکن ان لوگوں کے پائے ثبات میں ذرا لغزش نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے مریم کے اس بیٹے کو اس بشارت کے مطابق نبوت و رسالت اور اس کے متعلق ساری پیشگوئیوں میں سے ایک ایک کو پورا کردکھایا اور اس طرح ایک واقعہ نے دوسرے واقعہ کو جو تقویت دی اس کا ذکر آیت کے سا ٹکڑے میں کردیا۔ 3) ” اور یہ اللہ کا حکم تھا جو آپ ﷺ نے کیا اور یہ ایک فیصلہ شدہ بات تھی “۔ اس ٹکڑے نے اس کو مزید وضاحت کردی کہ یہ سارا معاملہ جو اس مدت کے اندر ہوا جس میں ایک نہیں بلکہ کئی طرح کے خدشات آپ ﷺ کو لاحق ہوئے لیکن جو اللہ کے قانون میں طے تھا وہ اپنے وقت پر کسی صفائی کے ساتھ پورا ہوا کہ تیری اس پھوپھی زاد زینب نے ایک مدت تک شادی نہ کی جو تیری قوم کے رواج کے خلاف بات تھی پھر جب نکاح ہونے پہ آیا تو ہم نے تیری قوم کے اس بت کو پاش پاش کرنے کے لئے کہ تیرے خاندان کی عورت کسی چھوٹے خاندان کے ہاں نہیں بیاہی جاسکتی۔ زینب کی محبت سے اس کو توڑ دکھایا پھر ہم نے اپنی مشیت کا فیصلہ بھی لوگوں کے سامنے کردکھایا کہ ہوتا وہی ہے جو مشیت ایزدی میں طے ہو اس میں کوئی نبی ورسول بھی ترمیم نہیں کراسکتا کہ آپ ﷺ کے دل میں یہ بات رہ رہ کر آتی رہی کہ جو نکاح میں نے اس قدر زور دے کر کرایا تھا اگر یہ فیل ہوگیا تو لوگ کیا کہیں گے ؟ لیکن ہم نے ثابت کردیا کہ اللہ کے فیصلوں کو بدلوانے کی کسی نبی ورسول میں بھی طاقت نہیں ہے اور انجام کار زید نے زینب کو طلاق کہہ ہی سنائی پھر آپ ﷺ پر جو گزری وہ ہم جانتے ہیں لیکن ہم کو اس زینب سے تیری قوم کی رسومات کا ایک بہت بڑا بت تڑوانا تھا اس لئے ہم نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ زینب کو نکاح کا پیغام بھیج دو وہ پیغام یقینا قبول کرے گی کہ ہماری مشیت کا فیصلہ یہی ہے پھر آپ ﷺ نے ہمارے حکم سے پیغام بھیجا اور زینب نے اس کو منظور کرلیا بلکہ اس کو اپنے لئے ایک سعادت سمجھا تو اس طرح ہم نے اس بت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا کہ متنبی کے وہی حقوق ہوتے ہیں جو اصل ولد کے ہوتے ہیں ہم نے ثابت کردیا کہ متنبی کبھی حقیقی بیٹے کی جگہ نہیں لے سکتا اور اس طرح یہ بات رہتی دنیا تک دیکھی ، پڑھی اور سنی جائے گی اگرچہ اس واقعہ کے سارے کرداروں میں سے اللہ کی ذات کے سوا ایک بھی باقی نہ رہا۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار