Ayah 33:43اللہ تعالیٰ ہم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی دعا میں مصروف ہیں
43 ۔ غور کرو کہ ایک ہی چیز کا جب مرجع بدلا جاتا ہے تو اس کا مفہوم بھی بدل جاتا ہے اگر یہ بات لوگوں کو یاد رہے تو سارے جھگڑے ختم ہوکررہ جائیں مثلاً یہ کہ اللہ خالق ہے اور قرآن کریم نے کتنی وضاحت سے بیان کیا ہے کہ اس کے سوا کوئی خالق نہیں ہے یہاں تک کہ لوگوں کو چیلنج کیا ہے کہ { ھذا…………………… دونہ } (لقمن 11:31) ” یہ سب تو اللہ کی تخلیق ہے اب ذرا مجھے دکھائو ان دوسروں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ “ یہ چیلنج کیوں کیا ؟ اس لئے کہ اس نے اس کی وضاحت بہت سی جگہوں پر کردی کہ { والذین……………… یخلقون } (النحل 20:16) ” اور اللہ کے سوا جن ہستیوں کو یہ پکارتے ہیں ان کا تو حال یہ ہے کہ وہ کوئی چیز پیدا نہیں کرسکتے وہ تو خود کسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں “۔ گویا اس پروردگار نے اپنی پروردگار یوں کا یہ تمام کارخانہ پیدا کردیا ہے کیا کوئی دوسری ہستی اس کے برابر ہوسکتی ہے ؟ کیا وہ ہستی جو یہ سب کچھ پیدا کررہی ہے او وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتی دونوں برابر ہوسکتی ہیں ؟ معلوم ہوا کہ کوئی نبی ورسول ہو یا جن وفرشتہ سب کے سب مخلوق ہیں اور جو خود مخلوق ہیں وہ خالق نہیں ہوسکتے اتنی رضاعت کے بعد وہ اس فعل خلق کا فاعل کسی دوسرے کو قرار دے یا کوئی دوسرا اپنے آپ کو خلق کا فاعل کہے تو واضح ہوا کہ جب خلق کا مرجع بدل گیا تو اس کے معنی وہ نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کے مرجع ہوتے وقت تھے لہٰذا اس خلق کے معنی پیدا کرنے کے نہیں ہوسکتے ہاں ! کسی چیز کے بنانے اور ترتیب دینے ، درست کرنے اور اندازہ کرنے کے ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا اور اللہ کے سوا کوئی دوسرا مردہ کو زندہ نہیں کرسکتا اگر کسی انسان کی طرف اس فعل کی نسبت ہوگی تو معنی کچھ اور ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہی سب انسانوں اور جانداروں کو آنکھیں دینے والا ہے کوئی انسان کسی دوسرے کو بینائی نہیں عطا کرسکتا لہٰذا جب کسی اندھے کو درست کرنے کے فعل کی نسبت کسی غیر اللہ کی طرف ہوگی تو اس کے معنی بدل جائیں گے کیونکہ اس فعل کا مرجع بدل گیا ہے۔ یہ بات اتنی واضح الفاظ میں میں نے کیوں کہی ؟ محض اس لئے کہ آپ کی سمجھ میں ایک بات آجائے کہ مرجع بدلنے سے معنی بدل جاتے ہیں اور یہ بات اس جگہ عرض کیوں کی جارہی ہے ؟ اس لئے کہ زیر نظر آیت میں { یصلی } کا لفظ آیا ہے جس کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہے اور فرشتے بھی اور مرجع بدلنے سے اس کے معنی بھی بدل دیئے گئے ہیں جیسا کہ ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ { صلوۃ } اللہ کی طرف سے رحمت ہے اور فرشتوں کی طرف سے استغفار یعنی دعائے مغفرت ۔ اس کی رضاعت اس طرح کی گئی ہے کہ بندے پر اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ بھیجنے کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ کے سامنے اپنے مقبول بندے کی تعریف فرماتا ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتوں کے صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ بندہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے بخشش اور رحمت کی التجائیں کرتے ہیں (بخاری) گویا صلوٰۃ کا لفظ تو ایک ہی ہے لیکن اس کا مرجع بدلنے سے یہ فرق لاحق ہوجاتا ہے۔ پھر نتیجہ دونوں باتوں کا ایک ہی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اندھیروں سے نکلنے اور روشنی میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمادیتا ہے اور وہ اعتقاد وعمل کی کوتاہی ، غفلت اور سستی کے جن اندھیروں میں بھٹک رہا ہوتا ہے اس سے اس کو نکال باہر کرتا ہے کیونکہ وہ ایمان والوں کے ساتھ نہایت شفیق ومہربان ہے دنیا کی رحمت تو انسان پر یہ ہے کہ وہ برائیوں سے بچ کر نیکی کی طرف راغب ہوجائے اور شرک وکفر کے اندھیروں سے نکل کر توحید الٰہی اور سنت رسول کا شیدائی ہو اور آخرت کی رحمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس دارفانی سے داربقا کی طرف ایمان وعمل صالح کے ساتھ منتقل کردے اور زہے قسمت کو یہ بات کسی کی نصیب ہو۔
Ayah 33:44اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر خوش آمدید پیش کی جائے گی جب وہ اس سے ملاقات کریں گے
44 ۔ اخروی انعامات میں سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوجائے کیونکہ یہی سب کامیابیوں سے بڑی کامیابی ہے اور پھر جب وہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی بارگاہ میں پیش ہوں تو ان کی پذیرائی ” سلامت رہو “ کے خطاب سے کی جائے گی اور بلا شبہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو نصیب فرمائے ، میدان حشر میں بھی دن قیامت کے بھی اور جنت میں داخلہ کے وقت بھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موت کے دن بھی جب انسان کی روح رب کریم کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔ غور کرو کہ ” السلام علیکم “ کا جملہ اپنے اندر کتنی وسعت چھپائے بیٹھا ہے اور پھر اپنے بندے کے لئے جو جو انعامات اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھے ہیں ان کی فہرست تو بہت لمبی ہے اور اختصار اس کا یہ ہے کہ وہ سب کچھ وہاں نصیب ہوگا جس کی اس وقت چاہت ہوگی کیونکہ بلا شبہ انسان کی چاہت اس کی زندگی کی اسٹیج کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے { اجرا کریما } فرمایا ہے اس کی بزرگی کا اندازہ اس جگہ انسان نہیں لگا سکتا اور اس دنیا کی جس چیز سے بھی اس کی تشبیہہ دی جائے گی وہ محض تشبیہہ ہی ہوگی جو تفہیم کے لئے ہوگی اور جس کی حقیقت کو کوئی انسان نہیں سمجھ سکتا اور جس کے لئے خود نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو کچھ وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کو پیش کیا جائے گا وہ ہے مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر پھر اس کو آخر بیان کیونکر کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 33:45اے پیغمبر اسلام ! ہم نے آپ ﷺ کو شاہد ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔
45 ۔ قرآن کریم میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو شاہد بھی فرمایا گیا ہے اور شہید بھی جیسا کہ زیر نظر آیت میں { شاھدا } کا لفظ آیا ہے ۔ اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا { انا ارسلنک…… ونذیر } (الفتح 8:48) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا { ویکون……… شھیدا } (البقرہ 143:2) اور ایک جگہ فرمایا { وجئنا…… … شھید } (النساء 41:4) اور ایک جگہ فرمایا { وفی ………… علیکم } (الحج 78:22) شہادت کیا ہے ؟ امر واقع کو بیان کرنا اور دوسرے شخص کو اپنے بیان کے ذریعے سے اس امر کا باور کرانا ہے بلا شبہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی شہادت جسے آپ ﷺ نے ادا کیا اور جسے ادا فرما کر لوگوں کو یقین کے درجہ تک پہنچایا امور ذیل کے متعلق تھی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اور تنزیہہ صفات ، سلسلہ وحی ، وجود نبوت و رسالت ، رسالت ونبوت کا اجر اور اس کا خاتمہ ، اعمال کا جزوسزا سے تعلق ، جزا و سزا کی حقیقت ، وجود عالم معاد ، عالم ارواح ، علوم ما بعد الطبیعہ وغیرہ جیسے امور کی وضاحت اور کمال علم اور روشن دلائل اور براہین قاطعہ سے آپ ﷺ نے بیان فرمایا اور جس انداز بیان سے فرمایا وہ بلا شبہ آپ ﷺ ہی کا خاصہ تھا اور پھر اپنے گفتار وکردار سے اسی صداقت کے تیقن کو بعض ملحدوں اور منکروں کے قلوب میں جس طرح مستحکم فرمایا یہ آپ ﷺ ہی کا حصہ خاص تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ قدرت خداوندی اور حکمت الٰہی نے آپ ﷺ کو دنیا کے سامنے بطور اپنے ہی گواہی کے پیش کیا۔ یہ ایک قانونی حقیقت ہے کہ گواہوں کی قلت یا کثرت کسی معاملہ کے ثبوت ونفی پر ذرا بھی موثر نہیں ہوتی بلکہ حقیقت میں شہادت کو قوت دینے اور صداقت کے درجہ تک پہنچانے والی جو چیز ہے وہ صرف اور صرف شاہد کی ثقاہت اعتبار اور راست بازی ہے۔ کاش کہ لوگ اس کی حقیقت کو سمجھتے اور قانون شہادت میں اس کی سب سے اوپر جگہ دیتے لیکن ایسا بھی ہی کم ہوا اور بہت ہی کم ہورہا ہے۔
نبی اعظم وآخر ﷺ کی راست بازی اور اعتبار کی یہ حالت تھی کہ جب کفار نے ابوبکر صدیق ؓ سے دریافت کیا کہ تم نے کیونکر محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم کرلیا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ لوگو ! یہ ہونٹ جھوٹ بولنے والے کے نہیں۔ ہر قل نے ابوسفیان کے جواب میں کہا تھا کہ جس شخص نے کبھی کسی مخلوق پر جھوٹ نہیں بولا ناممکن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر جھوٹ باندھنے لگے اور ابوجہل جیسے الدالخصام نے کہا تھا کہ محمد ﷺ میں تجھے جھوٹا نہیں سمجھتا مگر تیری تعلیم پر میرا دل نہیں جمتا۔ غور کرو کہ مخالفین نے کیا کہا صداقت اور اعتبار ہو تو ایسا ہو کہ خواہ کوئی شہادت کو قبول کرتا ہے یا نہیں لیکن شہادت دہندہ کی ثقاہت کے خلاف ایک حرف بھی زبان سے نہیں نکالتا یا بقول ابو سفیان نہیں نکل سکتا بلکہ ہر شخص دل میں سمجھ گیا ہے کہ اس کے خلاف لب کشائی کرنا اپنی ہنسی کرانا اور خود کو ذلیل کرنا ہے۔
آپ ﷺ نے اس شہادت کو دشت وکوہ میں آشکارا کیا ، بیاباں اور شہروں کے سمع وقلب تک پہنچایا { اشھدان لا الہ الا اللہ } کے نعرہ سے فضاء ارض وسماء کو بھر دیا اور سننے والوں کے دل و دماغ کو شک و انکار اور تذبذب و گمان کے ہوائے فاسد سے بالکل خالی کردیا ” اللہ اکبر “ یہ شاہد کس زبردست شہادت سے اٹھا ہے جس کے منہ سے نکلتے ہی وہی کلمہ شہادت ہر ایک کی زبان پر رواں دواں ہے اور پھر کیا عجمی اور کیا عربی ، کیا شرفی کیا غربی ہر ایک اسی شہادت کا کلمہ خواں ہے۔ شاہد خاموش نہیں ہوجاتا جب تک ہزار دوہزار اور شمار در شمار بندوں کو { وتکونواشھداء علی الناس } کے فرض پر آمادہ نہیں کرلیتا اور عبیدوملوک اور امور احمر کو { کونوا قوامین للہ شھداء بالقسط } کے وجوب امری کا پابند نہیں ٹھہرادیتا۔ غور کرو کہ ایک دو نہیں اس شاہد کی صداقت پر لاکھوں شاہد عینی موجود ہوگئے ہیں۔ ملکوں ، قوموں ، جزیروں اور وادیوں نے اس کی شہادت سے ایقان حاصل کرلیا ہے تب شاہد جاکر اس دارفانی سے عزم رحلت فرماتا ہے او چلتے وقت بھی ان سب کو یہ سنا دیتا ہے کہ انتم تسالون عنی فما انتم قائلون قالوابلغت وادیت ونصحت فقال باصبعہ یرفعھا الی السماء وینک تھا الی الناس اللھم اشھد اللھم اشھد الھم اشھد ” وہ پوچھتا ہے لوگو ! وہ قاضی جہاں رب زمین وزماں جب دریافت فرمائے گا کہ میں نے اپنی شہادت کو کیونکر ادا کیا تو آپ کیا بتائیں گے سب کے سب متفق اللفظ بول اٹھتے ہیں جناب عالی ! آپ ﷺ نے جتنا کچھ فرمانا تھا اس سے خوب ہی فرمایا۔ آپ ﷺ نے تبلیغ وتفیہم کا حق ادا کردیا۔ آپ ﷺ نے تو اپنی شہادت سے معاملہ کا کھوٹا کھرا پن الگ الگ کرکے دکھادیا۔ شاہد آسمان کی جانب اپنی انگشت شہادت اٹھاتا ہے اور پھر لوگوں کی طرف جھکاتا ہے اور اپنے بھیجنے والے سے مخاطب ہو کر عرض کرتا ہے الٰہی میری شہادت کی شہادت کو سن لے۔ میری گواہی کا تو خود گواہ رہنا اور ان لوگوں کے بیان کو محفوظ فرما لینا۔ سبحان اللہ ! ایسے شاہد پر دل وجان قربان ہوتے ہیں جو داوری گاہ عالم میں شہادت کے لئے اکیلا آیا اور لاکھوں کو گواہ بنا گیا فی الحقیقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو شاہد اور شہید فرما کر آپ ﷺ کی اس بہترین خوبی سے دنیا والوں کو آگاہ کردیا لیکن ہماری اکثریت نے اس کی اس صفت کو بھی بہت سے غلط معنی پہنا کر اس سے الٹا سیدھا مضمون تیار کرکے اس کو کچھ سے کچھ کردیا اور ایسی بحثیں شروع کردیں جن کا ان معنوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور اب جب ہماری باری آئی تو ہم ششدروحیران ہیں کہ ؎
جس کام کو جہاں میں آیا تھا تو نظیر
خانہ خراب ! تجھ سے وہی کام رہ گیا
اور ایسے ہی حالات کے لئے میاں محمد نے کہا تھا کہ ؎
ایتھے آیا سیں لعل خرید نے نوں
ڈھیر ہنگ اجوائن دے لا بیٹھوں
نبی اعظم وآخر ﷺ کی دوسری صفت قرآن کریم میں اس طرح بیان کی گئی فرمایا { مبشرا ونذیرا } کہ آپ ﷺ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں ۔ پورے قرآن کریم کو پڑھ جائیے بلا شبہ دوسرے انبیاء (علیہ السلام) میں سے کسی کی صفت میں یہ دونوں لفظ بیان نہیں کئے گئے آپ ﷺ کو بشیر ونذیر بھی کہا گیا ہے اور مبشر ومنذر بھی اور بلا شبہ یہ جامعیت بھی نبی کریم ﷺ ہی سے خاص ہے اور آپ ﷺ میں بدرجہ اتم پائی گئی ہے اس لئے یہ اوصاف بھی آپ ﷺ کے علو مرتبت نبوت کے اظہار میں خاص ہیں۔ اب بشارت کے متعلق غور کیجئے کہ کہیں تو مومنوں کو اس امر کی بشارت دی گئی کہ { ان لھم من اللہ فضلا کبیرا } (47:33) ” مومنوں کو بشارت سنادیجئے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے “ اور کسی جگہ ارشاد فرمایا گیا { لھم البشری فی ………… … العظیم } (یونس 64:10) ” ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی بشارت ہے اللہ کی کہی ہوئی بات میں تبدیلی نہیں ہے اور یہ بشارت ہی بہت بڑی کامیابی ہے “۔ اور کسی جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ { فبشر………………… احسنہ } (الزمر 18 , 17:39) ” اے پیغمبر اسلام ! ان بندوں کو بشارت سنا دے جو بات کو سنتے ہیں اور پھر سب سے اچھے طریقے پر چلتے ہیں۔ “ یہ سب روحانی اور اخلاقی بشارات ہیں اور بلا شبہ انہی بشارات نے مسلمانوں کو ابھار اور تیار کیا ہے۔
{ انذار } کے معنی ڈرانے کے کیے جاتے ہیں لیکن ڈرانا صحیح طور پر { انذار } کے مفہوم کو ادا نہیں کرسکتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے مفہوم کو الٹ دیتا ہے۔ { انذار } کے معنی تو یہ ہیں کہ آدمی کو اس کے ہونے والے نقصان سے آگاہ کردیا جائے اور ظاہر ہے کہ انبیاء کرام اپنی اپنی امت کو ان کے افعال ناشائستہ کے عواقب بد سے آگاہ کرتے رہے اور برے انجام اور برے نتیجہ کی خبر دیا کرتے تھے اور یہ صفت صحیح معنوں میں دل سوزی اور ہمدردی سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا ترسی اور رحم دلی سے ظہور پکڑتی ہے محبت ومودت نوع انسانی اور حب جنس سے اشاعت پاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے مبارک حالات سے ان جملہ اوصاف کا بدرجہ کمال ہونا بخوشی ثابت ہے اور اسی لئے ایک راہ گم کردہ قوم کو غلط راستہ کی کجی اور اس کے خطرات سے آگاہ کرتے رہنا آپ ﷺ کا گویا کہ خاصہ فطری تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” لوگو ! میری اور تمہاری مثال ایسی ہے کہ تم جلتی آگ کی خندقوں میں منہ کے بل پروانہ وار گر رہے ہو اور میں تم کو کمر سے پکڑ پکڑ کر خندق سے پیچھے ہٹا رہا ہوں “۔ اور یہی آپ ﷺ کا نذیر ہونا ہے ، اب بتائیے کہ اس کو صرف ڈرانے کی بات کیونکر واضح کرسکتی ہے۔
Ayah 33:46اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اللہ کی طرف دعوت دینے والے اور ایک چمکتا ہوا سورج ہیں
46 ۔ زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کی دو خصوصیات اور بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ آپ ﷺ دعوت الی اللہ پہنچانے والے ہیں اور دوسری یہ کہ آپ ﷺ طلوع آفتاب ہیں اور بلا شبہ یہ دونوں صفات بھی آپ ﷺ ہی کا خاصہ ہیں آپ ﷺ نے جس سرگرمی سے دعوت الی اللہ کا کام کیا اور پھر جس کامیابی تک اس کو پہنچایا وہ آپ ﷺ ہی کا حصہ تھا ، اشارات اس طرح ہیں :
1… نبی اعظم وآخر ﷺ کے پہاڑ کے وعظ کو دیکھو جس میں آپ ﷺ نے اپنے خاندان والوں کو پکارا اور فرمایا کہ یا ال فھرایا آل غالب۔ اور ظاہر ہے کہ یہ آپ ﷺ کے اپنے خاندان کے سربراہ تھے جن کی اولاد کثیر اور قبائل مختلف تھے۔
2… نبی کریم ﷺ کے اسی خلوت کدہ کا خیال کرو جہاں مکہ سے دور اور دامان کوہ کے سایہ میں ارقم بن ابو ارقم گھر کے اندر خفیہ خفیہ تعلیم دی جاتی تھی۔
3… کوہ طائف کا واقعہ یاد کرو جہاں نبی اعظم وآخر ﷺ کا خون جسم سے بہہ رہا تھا اور جوتوں میں جم رہا تھا اور زبان پر دعوت الی اللہ کا وعظ جاری تھا۔
4… عکاظ کے بڑے سالانہ میلے پر نظر دوڑائو جہاں نبی کریم ﷺ یایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا کا نعرہ بلند کر رہے تھے اور آپ ﷺ کا حقیقی چچا سنگ دل ابولہب آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے جارہا تھا اور آپ ﷺ کو دیوانہ بتارہا تھا۔
5… مکہ سے باہر پہاڑیوں کی گھاٹی عقبہ کا تصور کرو کہ تاریکی چھا گئی ہے ، کوئی مسافر اس پر خطر مقام پر ٹھہرنا نہیں چاہتا مگر راستہ کی صعوبت اور خطرات راہ کے تصور نے یثرب کے قافلہ کو اس جگہ ٹھہر جانے پر مجبور کردیا ہے نبی کریم ﷺ اس تاریکی میں یکہ و تنہا اس لئے گام فرسا ہیں کہ شاید کسی ایک نفس ہی کے مکان میں دعوت الی اللہ کی آواز پہنچا سکیں۔
6… ذرا کوہ تنعیم کے دامن تک نظر کو وسیع کرو کہ چالاک دشمن نے بنی اعظم وآخر ﷺ کو بےیارومددگار اور آرام کرتے ہوئے دیکھ کر آپ ﷺ کی تلوار پر قبضہ کرلیا اور آپ ﷺ کو گستاخانہ لہجہ اور متکبرانہ انداز میں مخاطب کیا۔ آپ ﷺ کی آنکھ کھلتی ہے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دشمن سرباختہ ایک تیغ آختہ کے ساتھ کھڑا ہے اور پوچھ رہا ہے کہ اے محمد ! ﷺ اب تم کو کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ ایسے وقت میں بھی دعوت الی اللہ کے فرض کو فراموش نہیں کرتے اور بےدھڑک اسے وہی مبارک نام سناتے ہیں جو غافل دل انسانوں کے زنگ آلودہ دلوں سے چاہے تو حجاب اٹھا دیتا ہے اور قلوب مردہ کو حیات تازہ عطا کرتا ہے اور جسے ” اللہ “ کے اسم مبارک سے یاد کرتے ہیں۔
7… راہ ہجرت کی سیر کرو ، سینکڑوں میل کا سفر درپیش ہے ، خشک پہاڑیوں اور بےآب وگیاہ میدانوں میں سے دو اونٹ گزر رہے ہیں جنہوں نے راہ میں کہیں آرام نہیں کیا۔ آپ ﷺ کے ہم رکاب دو مخلص اور ایک وفادار ہے کینہ توڑ دشمن کے تعاقب کا ہر لحہ خطرہ لگا ہوا ہے اور یہی اندیشہ را ہواروں اور رہردوں کو تیز گامی سے لئے جارہا ہے پھر بھی آپ ﷺ ہیں کہ دعوت الی اللہ کے دامن کو نہیں بھول گئے۔ امر معبد الخزایہ ، سراقہ بن مالک الحد لجی اور بریدہ بن الحصیب اسلمی اور اس کے ساتھی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس خشک بیاباں ہی میں آب حیات پیا اور اسلام کا چشمہ زندگی حاصل کرلیا۔
8… آٹھ روز کی شب روزی اور تگاپو کے بعد اللہ کا رسول ﷺ قبا پہنچ گیا صبر آزما سفر نے بےزبان حیوانوں کو بھی تھکا دیا ہے لیکن نبی کریم ﷺ اس دعوت الی اللہ کے شوق کی تعمیل میں دوسرے ہی روز ایک مسجد کے قیام کا اہتمام فرما رہے ہیں جہاں سے حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کی صدا ہر صبح وشام پہاڑیوں سے ٹکراتی غافلوں کو جگاتی شائقوں کو بلاتی اور آج تک اس داعی الی اللہ کی دعوت کی یاد تازہ کررہی ہے۔
9… اب نبی اعظم وآخر ﷺ قبا سے مدینہ کو جاتے ہیں اہل مدینہ زن ومرد ، پیروجواں ، یہودونصاریٰ صابئی وترسا بھی اہل ایمان کی طرح ہمہ چشم اور ہمہ تن شوق بن رہے ہیں ، راہ میں نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور اللہ کا رسول اس جگہ دعوت الی اللہ کے لئے رک جاتا ہے بنی سلیم کے قلوب سلیم کو تقویٰ کے رنگ سے رنگین بناتا رضوان الٰہیہ کی نوید سے شاد کام فرماتا ہے۔
10… مدینہ میں بنواشبل ، بنو غفار ، اوس و خزرج کا ہر شخص دل ودیدہ کو نبی اعظم وآخرت ﷺ کے فرش راہ بنائے باہی وامی باہی وامی عرض کررہا ہے مگر رسول مکرم اور نبی معظم ﷺ دعوت الی اللہ کے لئے ابن سلول کے پاس جاتے ہیں کو چہ میں صاف زمین پر اس کے قریب جابیٹھتے ہیں وہ ناک چڑھاتا چہرہ پر تیوری ڈال کر رومال کو منہ پر رکھ لیتا ہے اور زبان سے کہتا ہے محمد تم نے گرد سے اور تمہاری سواری نے اپنی بو سے میرے دماغ کو پریشان کردیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکراتے ہیں اور آیات قرآنیہ کی تلاوت کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا اتمام فرماتے ہیں۔
11… نبی اعظم وآخر ﷺ ربیع بنت معوذ ایک شب کی دلہن کے پاس سے گزرتے ہیں تو اس کو دعوت الی اللہ فرماتے ہیں اور وہاں انصاری کی چھوٹی چھوٹی بچیاں حربیہ اشعار فخریہ لہجہ میں پڑھ رہی ہیں ، آپ ﷺ سنتے ہیں تو ان بچیوں کو صحیح عقائد کی تلقین فرماتے ہیں ہاں ! گائو جو تم گا رہی ہو لیکن اس کو اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہی کہو۔
12… پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ آپ ﷺ سسکتی ہوئی اور جاں توڑتی ہوئی پیارس نواسی زینب کی بیٹی کو گود میں لیتے ہیں اور اس وقت بھی دعوت الی اللہ میں مصروف نظر آتے ہیں اور اس طرح پھر اکلوتے بیٹے ابراہیم کی لاش پر بیٹھتے ہیں تو اس وقت بھی حاضرین کو رضائے الٰہی کا درس دیتے ہیں اور اپنی خداداد استقامت کا نمونہ دکھاتے ہیں۔
13… مرض الموت ہے ، گیارہ دن کا تپ شدید ہے ، درد سر میں ذرا تخفیف ہوئی ، ضعف اس قدر ہے کہ پائوں بل کھڑا نہیں ہوا جاتامگر دعوت الی اللہ میں وہی سرگرمی ہے سر پر پٹی باندھے ہوئے عباس وعلی کے کندھوں پر سہارا لیے ہوئے مسجد میں تشریف لاتے ہیں ، منبر پر نہ کھڑا ہوا جاتا اور نہ ہی چڑھاجاتا ہے تاہم اس کے زیریں زینہ پر بیٹھ جاتے ہیں اور نصیحت بالغہ فرماتے ہوئے دعوت الی اللہ کی تکمیل کرتے ہیں۔
14… آخری دن ہے سفر آخرت میں صرف پانچ گھنٹے کا وقفہ رہ گیا ہے ، مسلمان صبح کی نماز کے لئے مسجد میں جمع ہیں ، آپ ﷺ کمزوری اور درد سر کی وجہ سے بستر پر جسے کھجوروں کے پٹھوں سے نرم بنایا گیا ہے ، لیٹے ہوئے ہیں اور دعوت الی اللہ کا فرض پھر آپ ﷺ کے قلب گداز میں تازہ حرارت پیدا کرتا ہے مسجد اور حجرہ مبارک کے درمیان جو پردہ پڑا ہوا ہے اسے ہٹاتے ہیں اور تھوڑی دیر تک تبسم کے ساتھ اس نظارہ کو ملاحظہ فرماتے ہیں جو ایک رب ذوالجلال والاکرام کی عبادت کے لئے ہزاروں مسلمانوں کی حاضری سے پیدا ہوگیا تھا۔ آپ ﷺ زمین پر گھسٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور اس بڑے مجمع کے سامنے پھر آخری دفعہ دعوت الی اللہ کی ایک نورانی مثال قائم فرماتے ہیں۔
15… آخری گھڑی ہے ۔ بیویاں ، بیٹی ، نواسے اس تنگ حجرہ میں جمع ہیں جو سیدہ عائشہ ؓ کے نام نامی سے منسوب تھا۔ یہ وہی مکان ہے جس کے اندر دس آدمیوں سے زیادہ کی گنجائش موجود نہیں ہے اور ایسی حالت میں بھی دعوت الی اللہ ترحم بر عباد اللہ کی تعلیم زبان پر ہے اور ارشاد ہورہا ہے الصلوٰۃ الصلوٰۃ وما ملکت ایمانکم نماز ، نماز اور لونڈی غلام کے حقوق۔
16… آخری سانس ہے ، دیدہ حق بیں کو آسمان کی جانب بلند کیا ہے اور اس پاک نام کا اعلان فرماتے ہوئے جس کی دعوت عمر بھر دیتے رہے اللھم الرفیق الاعلیٰ کہتے ہوئے چشم حق بیں کو ان فانی نظاروں سے بند کرلیتے ہیں انا للہ واناالیہ راجعون۔
ہم کو تاریخ بشر ایسا نمونہ دکھانے سے قاصر ہے جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دعوت الی اللہ ہی میں پورا ہوا ہو اس لئے آپ ﷺ کے لئے داعیا الی اللہ باذنہ کا خطاب بلا شبہ خاص معلوم ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ رب ذوالجلال والاکرام نے آپ کو اس صفت سے موصوف فرمایا ہے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔
زیر نظر آیت میں آپ ﷺ کا دوسرا وصف سراجاً منیراً بتایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ یعنی سورة فرقان کی آیت 61 اور سورة نوح کی آیت 16 میں آفتاب کو سراجاً کہا گیا ہے اور اسی طرح سورة النباء میں سراجاً وھاجاً بھی فرمایا گیا ہے لیکن سراجاً منیراً ایک ایسا خطاب ہے جو آپ ﷺ ہی کذات پاک کے لئے مختص رکھا گیا تھا اس لئے اور کسی کو اس خطاب سے نہیں نوازا گیا گویا یہ فیصلہ ازل تھا کہ صرف آپ ﷺ کو اس خطاب سے نوازا جائے۔ نظام شمسی میں آفتاب کا جو درجہ ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ اس نظام کے جملہ سیاروں کا وہ قبلہ اعظم ہے جس کا طواف ان سیاروں پر گویا لازم ہے اور یہی آفتاب ہی نیراکبر ہے۔
عالم کون ومناد میں بھی آفتاب کی بہت بڑی ضرورت ہے ، اس کی حرارت اور اس کا نور ہر ایک شے کے وجود اور قیام پر گہرا اثررکھتا ہے ہاں ! غور کرلو کہ عالم مادی کا آفتاب ایسا ہی ہے یا نہیں ؟ بالکل ایسا ہے اب اللہ تعالیٰ عالم روحانی کے نیرا عظم کو اپنے مخلوق کردہ نور میں دکھانے کے لئے نبی وآخر ﷺ کو سراجاً منیراً کے خطاب سے روشناس کر ارہا ہے بلاشبہ جملہ سیاہ گان سماء نبوت کا مدار اعظم بھی ہیں اور عالم شریعت کی بقائے دوام کی علت اولیٰ بھی ﷺ ۔ آفتاب رات کی تاریکی کو دور کرتا ہے اور سراج منیر نے ظلمت کفروشرک کو محو کردیا۔ آفتاب کی روشنی سب ستاروں پر چھا جاتی ہے تو انہیں چھپا لیتی ہے سراج منیر کی شریعت بھی تمام شریعتوں کی مہمین ثابت ہوتی ہے۔ آفتاب کی روشنی بہت سے جرائم کا ارتکاب روک دیتی ہے اور سراج منیر کے نور نے بھی بلا شبہ معاصی کو بند کردیا ہے۔
کرہ ارضی کا آفتاب ایک وقت میں کرہ ارضی کے صرف ایک ہی پہلو کو روشن کرسکتا ہے لیکن اس سراج منیر نے وقت واحد میں جاہلیت کی ظلمت وجہالت کی تاریکی ، کفر وشرک کی سیاہی ، رسومات جاہلیت کے اندھیرے ، رواج کی گھٹائیں ، تقلید کی تیرگی کو اپنی نورانی شعاروں سے اٹھا کر دلوں کو نور ایمان سے ، دماغوں کو عقائد صحیح کے لمعات سے ، آنکھوں کو کتاب مبین کے مطالعہ سے ، خلا کو نورانی تعلیم سے ، دھندلے تذبذب کو دلائل وبراہین ساطعہ سے ، تاریک ظنون کو براہین مبینہ سے روشن فرمادیا اور بلا شبہ اس روشنی میں ہر ایک نے حقیقت اشیاء کو دیکھا اور ہر ایک کی نگاہ خود اپنے آپ کو بھی دیکھ سکنے کے قابل ہوئی۔ وہ جو انسانیت کی حقیقت کو فراموش کر بیٹھے تھے اب خودا صحابی کالنجوم بابھم اقتدیتم اھتدیتم ثابت ہوئے۔ وہ جو راہنما رہ گم کردہ تھے اب وہ خضرراہ بن گئے۔ ہاں ! بلا شبہ شپرہ چشم آفتاب کی روشنی میں چندھیا جاتے ہیں اور بعض بوم طبع رات کی تاریکی ہی میں پر وبال کھولتے ہیں اور یہی حال ان تیرہ درونوں کا ہے جو انوار محمدی ﷺ کی تاب نہیں لاسکتے اور ضوء رسالت سے مستنیر نہیں ہوتے سچے مومنین و مسلمین کو تو اس سراج ربانی پر پروانہ وار نثار ہونا ضروری ہے اور بلا شبہ وہ نثار ہو رہے ہیں اور رہتی دنیا تک ہوتے رہیں گے۔ اللھم بارک علی محمد واعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ابراھیم انک حمید مجید۔
Ayah 33:47اے پیغمبر اسلام ! مومنوں کو فضل کبیر کی خوشخبری سنادیں
47 ۔ گزشتہ دو آیتوں میں نبی اعظم وآخر ﷺ پر لطف وکرم اور انعامات الٰہیہ کا ذکر تھا اور آپ ﷺ کے مناقب واضح کیے گئے تھے اب اس ابررحمت کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو امت مسلمہ پر برسایا جانے والا ہے اور وحی الٰہی نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ اے میرے رسول ! اپنے اوپر سچے دل سے ایمان لانے والوں کو بھی یہ بشارت سنادو کہ اللہ کا فضل و کرم ان پر بھی بدستور ہوگا اور وہ فضل و کرم بھی محدود نہیں بلکہ بہت بڑا فضل ہوگا اور اس فضل کو خود رب ذوالجلال والاکرام نے کبیر ارشاد فرمایا اب ظاہر ہے کہ جس کو رب کریم فضل کبیر ارشاد فرمارہا ہے اس کی وسعتوں کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ امت محمدیہ کی یہ وہ فضیلت ہے جو دوسری امتوں کو میسر نہیں کاش کہ ہم نبی رحمت ﷺ کے طریقہ کی وہ حفاظت کرسکیں جس طریقہ کے مطابق زندگی گزارنے سے اللہ کا فضل کبیر ہم کو میسر آسکے جو بلا شبہ آپ ﷺ ہی کے طریقہ کی اتباع سے حاصل ہوسکتا ہے اور آپ ﷺ ہی کے طریقہ کی اتباع سے حاصل ہوا جس کی ہوا۔
Ayah 33:48نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب فرما کر امت محمدیہ کو ہدایت
48 ۔ زیر نظر آیت ان ہی آیات میں سے ہے جن میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد سے بات کی گئی ہے خواہ وہ اس وقت موجود تھے اور خواہ وہ اس وقت موجود ہیں اور خواہ آئندہ موجود ہوں گے یہ خطاب بدستور سب لوگوں کے لئے ہے فرمایا جب ہمارا وعدہ فضل کبیر کا موجود ہے تو ظاہر ہے کہ وہ ہمارے ہی حکم کی اتباع و پیروی سے مل سکتا ہے اب آپ کو کافروں اور منافقوں کے طریقوں کی پیروی نہیں کرنی ہوگی اور رہی یہ بات کہ وہ جو آج تک آپ ﷺ کو اذیت دیتے رہے تو اب گویا جو کچھ زورلگا سکتے تھے انہوں نے لگا لیا اب آئندہ وہ ایسا کبھی نہیں کرسکیں گے اگر تم نے خود ان کو کوئی اہمیت نہ دے دی جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب گزشتہ حالات کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں وہ آپ لوگوں کی آزمائش تھی اس میں تم پورے اترے اور جو اذیتیں انہوں نے تم کو دیں تم نے ان کو اپنے اللہ کے دین کی خاطر برداشت کیا تو اب ان سے ان کا انتقام لینے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اس سے تمہارا اجر ضائع ہوگا ہاں ! آئندہ انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ان کو دندان شکن جواب دیا جائے گا اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے ان کی ہرگز پرواہ نہیں کی جائے گی اور آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہی کی وکالت بس کرتی ہے کیونکہ وہی تمہارا کار سازحقیقی ہے جو ہر بگڑی کا بنانے والا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے بات کی تھی اور آنے والی آیت میں سیدھا ایمان والوں کو مخاطب کیا جارہا ہے۔
Ayah 33:49نکاح کے بعد طلاق کا مسئلہ درپیش آئے تو ایمان والوں کو کیا کرنا ہوگا ؟
49 ۔ عقد ونکاح کیا ہے ؟ شرعی طور پر نکاح یا عقد نام ہے ایجاب و قبول کا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ولی کے ذریعہ نکاح کا پیغام دے اور عورت اس پیغام کو قبول کرلے تو ولی اس کا نکاح اس مرد کے ساتھ کردے اس میں شرعی ضرورت کے مطابق دو گواہوں کی ضرورت ہے جن کے روبرو یہ معاملہ طے ہوجائے اور بہتر ہے کہ حق مہر طے کرلیا جائے لیکن اگر طے نہ بھی ہوا تو نکاح درست ہوجائے گا بہرحال اس ایجاب و قبول کے بعد وہ عورت اس مرد کے لئے حلال و جائز ہوگئی اور وہ مرد اس عورت کے لئے حلال و جائز قرار پا گیا کہ یہ دونوں ازواجی زندگی کی ابتداء کرسکتے ہیں اور اسی کا نام شریعت میں عقد یا نکاح رکھا گیا ہے گویا عقدیا نکاح ایک معاہدہ ہے جس کو ازواجی زندگی کا معاہدہ کہا جائے گا۔ زیر نظر آیت میں بتایا جارہا ہے کہ اگر تم کسی ایسی منکوحہ کو طلاق دے دو جس سے تم نے نکاح تو کیا لیکن تعلق خاص قائم نہیں کیا گویا جس تعلق کے لئے معاہدہ ہوا تھا وہ ابھی قائم نہیں ہوا کہ طلاق کی نوبت پہنچ گئی تو ایسی مطلقہ کو عدت گزارنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ اسی وقت کسی دوسرے شخص کے حبالہ عقد میں دی جاسکتی ہے { من قبل ان تم سو ھن } کے الفاظ پر غور کرو کہ { مس } کنایہ ہے ازواجی زندگی سے جس کے لئے نکاح کیا گیا تھا اور اس طرح { مس } کا اطلاق صرف اور صرف اسی کے لئے بولا جاتا ہے جو جائز اور حلال طور پر ہو یہی فعل اگر حرام طور پر کیا جائے تو اس کو { مس } نہیں کہیں گے بلکہ اس کو زنی ، بغی اور فحشاء سے تعبیر کیا جائے گا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عورت { مس } نہ ہونے کا اقرار کرے تو اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ اس عورت کا نکاح ہوا لیکن نکاح کے بعد جس غرض کے لئے نکاح ہوا وہ غرض اس سے مرد نے پوری نہیں کی یعنی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا بس ایسی عورت کو اگر طلاق ہوجائے تو اس کو عدت گزارنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اولاد ہونا اسی صورت میں ممکن ہے جب نکاح کے بعد ازدواجی تعلق بھی قائم ہوا ہو اگر ایسی بات ہی کوئی موجود نہ ہو تو اولاد ہونے کا کوئی امکان نہیں دریں وجہ اس عورت کو عدت کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ عدت محض اس وجہ سے ہے کہ کسی کا حسب نسب خلط ملط نہ ہوا گر اس بات کی تفہیم ہوگئی تو آپ کی یقینا کئی الجھنیں دور ہوجائیں گی بشرطیکہ آپ نے ذرا عقل وفکر سے کام لیا اگر تم عقل وفکر سے کام لے سکتے ہو یا تم کو کوئی عقل وفکر سے کام لینے دے گا۔
ہم افسوس سے عرض کر رہے ہیں کہ جس چیز کی وضاحت آیت کررہی تھی اس کی طرف ہمارے مفسرین نے ذرا توجہ نہ کی اور اس کے مفہوم پر پردہ ڈالنے کے لئے طلاق قبل از نکاح کی بحث اس ضمن میں چھیڑ دی حالانکہ دیانت داری سے غور کیا جائے تو قبل از نکاح طلاق کے مسئلہ کو اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ایسا کیوں کیا گیا ؟ محض اس لئے کہ قارئین کی توجہ اصل موضوع سے فوراً ہٹا دی جائے ورنہ وہ حقیقت کی طرف راغب ہوئے تو ہماری خیریت نہیں ہوگی اس عیاری پر لوگوں کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹا دی گئی۔ اس کے بعد فرمایا جارہا ہے کہ جب تم ان کو اپنی قید نکاح سے آزاد کرو تو بےمروتی کا ثبوت نہ دو ، جب طلاق دے کر ہم نے ان کا دل توڑا ہے تو ان کی کچھ مالی اعانت ضرور کردو تاکہ کچھ تو ان کی دلجوئی ہوجائے۔ دوسری جگہ اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر ان کا حق مہر مقرر کردیا گیا ہے تو اس میں سے آدھا تو ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر تم سارا ہی دے دو تو تمہارے لئے یہ فضیلت کی بات ہے اور اگر نکاح کے وقت حق مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا تو بھی حسن سلوک کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی وسعت کے مطابق کچھ ان کو دے دو اور یہی خوبصورتی سے رخصت کرنا ہے۔