Ayah 33:28مسلمانوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح کے لئے پہلا قدم رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے اٹھایا گیا
28 ۔ یہ ہجرت کا پانچواں سال جارہا ہے مہاجرین کو مدینہ میں آباد ہوئے چار ساڑھے چال سال گزر رہے ہیں الحمد للہ اب مشکل اوقات رخصت ہوتے نظرآتے ہیں اسی وقت تک جب تک خندق کھودی جارہی تھی حالات نازک سے نازک تر ہی ہوتے گئے لیکن جنگ احزاب کے بعد اور بنو قریظہ کی طرف سے بہت مال اللہ تعالیٰ نے عطا کیا تو لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور جس طرح سب کو معلوم ہے کہ مال آئے تو کیا ہوتا ہے وہی کچھ ہوا یہ صحیح کہ بنو قریظہ کی طرف سے بہت سا مال آیا لیکن ساتھ ہی بنو قریظہ کے قبیلے کے نو دس ہزار آدمی بھی قیدی بنائے گئے اور ان کے قیام وطعام کا بندوبست بھی اسلام ہی کے ذمہ تھا اور وہ بھی اس مال سے مکمل ہونا تھا ان چیزوں کے پیش نظرگھریلو زندگی کی اصلاح لئے براہ راست نبی اعظم وآخر ﷺ کو اور آپ ﷺ کی بیویوں کو مخاطب کیا گیا اس وقت نبی کریم ﷺ نے 8 شادیاں کی تھیں اور آپ ﷺ کی 2 بیویاں سیدہ خدیجۃ الکبری اور زینب خزیمہ وفات پاچکی تھیں اور 6 امہات المومنین موجود تھیں ، سیدہ سودہ ؓ ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ، سیدہ حفصہ ؓ ، ام سلمہ ؓ ، سیدہ زینب بن جحش ؓ ، اور سیدہ جو یریہ ؓ ، اسی طرح ام المومننی سیدہ ریحانہ ؓ جو بنی قریظہ ہی میں تھیں اس وقت آپ ﷺ کے حبالہ عقد میں آچکی تھیں یا آنے والی تھیں کیونکہ غزوہ بنو قریظہ 5 ہجری کے ذی الحجہ میں ہوا جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کو ام المومنین ہونے کا شرف ذی الحجہ 5 ہجری یامحرم 6 ہجری میں حاصل ہوا اور بلا شبہ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا جب بنی قریظہ کا قلع قمع ہوچکا تھا اور وہاں سے کافی مال بیت المال میں جمع ہوچکا تھا اور یقینا لوگوں کی نظریں اس وقت دیکھتی تھیں اور ویسے بھی اب مسلمان ، زمینوں ، باغات اور مکانات کے مالک ہوچکے تھے اس وقت تک نبی کریم ﷺ کی خانگی زندگی صرف آرام اور آسائش کے اسباب ہی سے خالی نہ تھی بلکہ ضروریات زندگی بھی کثرت سے فراہم نہ تھیں ، مسلسل کئی کئی روز تک چولھے میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی بلکہ ضروریات زندگی بھی کثرت سے فراہم نہ تھیں ، مسلسل کئی کئی روز تک چولہے میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی اور کھجور وغیرہ پر بسر اوقات کی جاتی تھی اکثر جو کی روٹی یا گندم کے ان چھنے آٹے کی روٹی دستر خوان کی زینت ہوتی تھی لیکن خیال رہے کہ اس میں زیادہ حصہ امہات المومنین کی سادہ زندگی کا تھا ورنہ اس وقت تک امہات المومنین میں داخل ہونے والی ساری کی ساری بیبیاں اپنے خانگی حالات کے باعث خوشحال تھیں اور اپنی ذاتی ملکیت رکھتی تھیں اور بلا شبہ وہ اس قدر تنگ داماں ہرگز نہ تھیں کہ وہ ذاتی مال کو اس قدر سنبھال کر رکھتی ہوں کہ اس میں سے اپنے ذاتی استعمال میں بھی وہ لانے کے لئے تیار نہ ہوں اور رسول اللہ ﷺ پر یہ شبہ کرنا بھی حرام ہے کہ آپ ﷺ جن عورتوں کو اپنی زوجیت میں لاچکے ہوں ان کے جائز اخراجات کی فکر سے آپ ﷺ آزاد ہوں اور اس کا بندوبست نہ کرتے ہوں جس کے باعث بیبیوں کو مل کر تقاضا کرنا پڑا۔ ایک طرف تو آپ ﷺ لوگوں کو اس بات کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں کہ تم میں سے بہتروہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے اور میں تم سب سے بہتر سلوک کرنے والا ہوں اور دوسری طرف عورتوں کی طرف سے اتناشدید تقاضا کہ ان کو نکاح میں رہنے اور اس روکھی سوکھی پر گزارہ کرنے کے لئے کہا جاتا یا ان کو اختیار دیا جائے کہ اگر تم اللے تللے کرنا چاہتی ہو تو آئو میں تم کو رخصت کردوں۔ امہات المومنین میں سے ایک بی بی تھی اس کردار کی اور اتنے سخت رویہ کی نہیں تھی اور یقینا نہیں تھی۔ قرآن کریم کلام ربانی ہے اور اس میں جس طرح ہر بات کے لئے مخاطب رسول اللہ ﷺ ہی کو کیا جاتا ہے اگرچہ مقصود کلام لوگوں کو متنبہ کرنا ہے بعینہ اسی طرح اس جگہ مخاطب تو بلا شبہ امہات المومنین ہی کو کیا گیا ہے ۔ لیکن دراصل مقصود کلام ایمان والی عورتوں کو سمجھانا ہے کہ وہ اپنے لئے خاوندوں اور گھر والوں کو اخراجات کے لئے ناجائز تنگ نہ کریں اور یہ بھی کہ اس رکوع میں بعض احکام امہات المومینن سے خاص ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے اور عام احکام کو بھی خاص ہی کے تحت بیان کیا جارہا ہے تاکہ ان کی اہمیت واضح ہوجائے اور عام عورتیں بھی اپنے خاوندوں سے آئے دنوں نئے نئے مطالبات نہ پیش کرتی رہیں کہ مردوں کو ان مطالبات سے تنگ آکر کوئی ایسا اقدام کرنا پڑے جس کے نتائج فریقین کے لئے اچھے نہ ہوں اس طرح ایک حکم عام کو حکم خاص کرکے بیان کیا جارہا ہے تاکہ اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جائے اور ہر اس عورت کو مخاطب کرکے بات نہ کی جائے جس کا اس طرح کا تقاضا ہو بلکہ اس کی تفہیم کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کو مخاطب کرکے بات کی جائے تاکہ اس کے لئے اس کا سمجھنا آسان ہو کہ جب اتنی بڑی شان کی عورتوں کو جو امہات المومنین کی لقب سے ملقب ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے تو باقی عورتوں کا ان کے مقابلہ میں کیا مقام ہے کہ ان کے جائز وناجائز مطالبات کو ان کے مرد یعنی خاوند ضرور پورا کریں چاہے وہ جو مطالبہ بھی پیش کردیں۔ تعجب ہے کہ ہر وہ سبق جو ہم کو دیا گیا تھا اس کو ہم نے خصوصاً بھلانے کی کوشش کی آج نہ تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس موجود ہیں اور نہ ہی امہات المومنین لیکن یہ تعلیمات تو ہمارے پاس موجود ہیں پھر ان تعلیمات سے ہم نے کیا سبق سیکھا ؟ آج ہر گھر میں عورتوں کے کیا مطالبات ہیں اور مرد عورتوں کے ان مطالبات کو پورا کرنے کے لئے کیا کچھ کر رہے ہیں۔ عورتوں کے کھانے پینے کے مطالبات کیا ہیں اور بنائوسنگھار کے سامان اور کپڑوں کے انبار کی کیا صورت ہے اور ان کے اخراجات کا کیا حال ہے ؟ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں پھر جو تعلیم ہم کو ان آیات کریمات میں دی گئی تھی اس کو ہم نے کیسے بھلا دیا ؟ صرف یہی کہہ کر کہ یہ تو امہات المومنین کو مخاطب کرکے کہا گیا اس میں ہمارا تمہارا ذکر ہی کب ہے ؟ افسوس کہ مسلمان عورتوں کو اس مخصوص حکم کو حکم عامہ کہہ کر کیوں نہ سمجھایا گیا اور ان کو یہ کیوں نہ باور کرایا گیا کہ یہ حکم تو ہر اس عورت کے لئے دنیا طلبی کا تقاضا کرے اور آخرت کی زندگی کو بالکل بھلا کر رکھ دے۔
ہمیں معلوم ہے کہ روایات کی روشنی میں امہات المومنین کے ان مطالبات کو کس طرح پیش کیا گیا اور کس طرح نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے قصے گھڑت گئے۔ مفسرین نے اس وقت جب ان آیات کریمات کا نزول ہوا آپ ﷺ کی چار بیبیاں تسلیم کی ہیں سو دہ ؓ ، عائشہ ؓ ، حصفہ ؓ ، اور ام سلمہ ؓ چاروں کے حالات زندگی پڑھ جائو کسی ایک کے حال میں بھی اس بات کا ذکر موجود نہیں کہ انہوں نے اس طرح کا کوئی مطالبہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا اور یہ بھی کہ ام سلمہ کے سوا کسی کے پاس کوئی بچہ بھی نہیں تھا ام سلمہ کے پاس پچھلے خاوند عبداللہ کے بچے تھے لیکن ان کی پرورش کی ذمہ داری رسول اللہ ﷺ نے اٹھائی تھی کہ میں ان کی پرورش کا بندوبست کروں گا اور جب آپ ﷺ نے ذمہ لیا تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اس ذمہ داری کو آپ ﷺ نے پس پشت ڈال دیا ہو اور ام سلمہ کو کسی طرح کا مطالبہ کرنا پڑا ہو۔ غور کرو کہ قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ { لئن…… …… الخاسرین } (الزمر 65:39) ” اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے میں رہو گے “ تو کان نبی کریم ﷺ سے شرک کرنے کا کوئی اندیشہ تھا ؟ حاش اللہ ہرگز ہرگز نہیں بلکہ اس سے مقصود نبی کریم ﷺ کو اور آپ کے واسطہ سے تمام انسانوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ شرک کتناخطرناک جرم ہے جس سے نہایت سخت اقرار لازم ہے اور یہی بات اس جگہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کو مخاطب کرکے کہی جارہی ہے اور امت کی ساری عورتوں کی اس سے تعلیم کرنا مراد ہے تاکہ کسی جگہ بھی اس طرح کی کوئی صورت نہ پیدا ہو جو جھگڑے کا باعث بنے اور مردوں پر اتنی ہی ذمہ داری ڈالی جائے جس کے وہ متحمل ہوں ، پھر آنے والی آیتیں خود اس کی وضاحت پیش کررہی ہیں کہ بات وہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی گھریلوزندگی کے وہ حالات ہیں جن میں کئی کئی روز تک آگ روشن نہ ہونے کا ذکر ہے اور اس طرح کی دوسری باتیں کتب احادیث میں بیان ہوئی ہیں یہ ہجرت کے معن بعد کی باتیں ہیں جب تک غزوات وسرایا کا معاملہ شروع نہیں ہوا تھا احادیث میں اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے کہ ازواج مطہرات کے لئے یہ انتظام تھا کہ بنو نضیر کے نخلستان میں ان کا حصہ مقرر کردیا گیا جو فروخت کردیا جاتا تھا اور سال بھر کے مصارف کے لئے وہ کافی ہوتا تھا۔ (بخاری ص 806) پھر جب خیبر فتح ہوا تو اس میں سے مزید ازواج مطہرات کو دیا گیا جس کی مقدار فی کس 80 دسق کھجوریں اور بیس وسق جو بتائی گئی ہے جب کہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا تھا۔ (بخاری کتاب المزارعہ جلد اول 313)
خیال رہے کہ دنیوی زندگی کی آسانیاں اور عیش ممنوع چیز نہیں ہے جس چیز سے روکا گیا ہے وہ فقط اسے مقصود بنا لینا ہے۔ “ { تردن } کا لفظ اس آخری معنی کو چاہتا ہے ، دنیوی زندگی کی عیش مقصود بالذات ہوجائے کہ انسان جو کچھ کرے وہ اس کی خاطر کرے تو بلا شبہ یہ مذموم ہے ہاں جہاد فی سبیل اللہ ہو یا کوئی دوسرا کام جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جائے پھر اس طرح اس سے دنیوی زندگی کا فائدہ بھی حاصل ہوجائے تو ہرگز ہرگز مذموم نہیں اور یہ بات پہلے معلوم ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ قرآن کریم نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کو اس طرح مخاطب کرکے بات بالکل واضح کردیں تاکہ ان کو بھی قبل ازوقت اس بات کی اطلاع ہوجائے کہ ان کو امہات المومنین کا شرف حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ قربان کرنا ہے اور عام مومن مسلمان عورتوں کو بھی پتہ چل جائے کہ وہ اپنے خاوندوں سے کس طرح کے مطالبات کرسکتی اور کس طرح کے مطالبات جائز نہیں اس کو کہتے ہیں کہ ایک پنتھ دو کاج۔
اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات سے فرمادیجئے تاکہ ان کو قبل از وقت معلوم ہوجائے اور عام مسلمان اور مومن عورتیں بھی ان کا ذکر سن کر اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر ہم نیاسلام کے اندررہنے اور اسلامی زندگی اختیار کرنے کی باوجود غلط طرح کے مطالبات شروع کیے تو ان کا انجام کیا ہوگا اور غلط مطالبات میں جو بات سرفہرست ہے وہ یہ ہے کہ ایک سچا مومن خواہ مرد ہے یا عورت مقصود اصلی اس دنیا فانی کو سمجھ لے اور اس کی عیش و آرام ہی کو اصل عیش و آرام کہنا شروع کردے حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مومن ومسلم کا مقصود اصلی آخرت ہو اور ہر وہ کام اختیار کرے جس سے اس کی آخرت درست ہو لیکن آخرت درست ہونے کے ساتھ اس کی دنیوی زندگی بھی آسانی سے گزرے تو سونے پر سہاگہ ہے۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ دنیا کی زندگی کے پیچھے اس طرح لگ جائیں کہ آخرت بربادہوجائے۔ فرمایا اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت وزیبائش کو چاہیا ہو تو آئو میں تم کو وقتی فائدہ اور سازو سامان زندگی دے کر رخصت کردوں تم وہاں رہو جہاں صرف دنیوی زندگی کی آسائش و آرام کی باتیں ہوں اور اس زندگی کو حقیقی زندگی سمجھ لیا گیا ہے میرے ہاں تو اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں ، میں تو آخرت کا طالب ہوں اور انہی لوگوں کے ساتھ پسند کرتا ہوں جو آخرت کے جو یا ہیں اور دنیوی زندگی میں اتناحصہ ہی حاصل کرتے ہیں جتنا حصہ حاصل کرنا حدود اسلامی کے اندررہ کر ان کے لئے جائزہو۔
Ayah 33:29اگر تم کو اللہ ، رسول اور آخرت کی اچھی زندگی کی چاہت ہے تو اجر عظیم کے مستحق ہو
29 ۔ گزشتہ آیت میں تو زندگی کا ایک رخ تھا اب دوسرا رخ بھی تمہارے سامنے ہے اور وہ ہے کہ مقصود اصل یہ دنیوی زندگی نہیں بلکہ اس کے عوض میں آخرت کی اچھی زندگی اصل طلب حقیقی ہے تو تمہارا اور میرا نظریہ ایک ہے اور ظاہر ہے کہ نظریہ ایک ہو تو زندگی کا اصل لطف حاصل ہوتا ہے اور اگر نظریات کا اختلاف ہو تو دنیوی زندگی ہی جہنم کا سماں پیدا کردیتی ہے۔ دلوں کے راز اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں جو دلوں کے رازوں سے واقف ہو اگر تمہارا نظریہ اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کی زندگی اصل مقصود ہے تو بلا شبہ اسی نظریہ کا میں داعی ہوں اور میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری آخری زندگی کے لئے اجر عظیم تیار کررکھا ہے اور بلا شبہ تمہارے درجے کے مطابق تمہاری پذیرائی ہوگی اور تمہیں وہاں کسی طرح کا کھٹکا نہیں ہوگا اور تم کو اجر عظیم دیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ نبوت و رسالت کے مقام سے کون سا مقام زیادہ بلند ہے۔ بلا شبہ اس مقام ومنصب سے کوئی زیادہ اچھا مقام ومنصب نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی معیت حاصل ہوجائے تو اس مقام کی اس سے بڑی وضاحت اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کتنا بڑامقام ہوگا جس مقام پر تم کو ٹھہرایا جائے گا بلاشبہ وہ وہی مقام ہوگا جس سے بڑا اور کوئی مقام نہیں ہوسکتا۔ دنیا میں نبوت و رسالت سے زیادہ حسن سلوک کی جگہ میسر نہیں ہے کہ آپ ﷺ سے زیادہ بہتر سلوک معاشرت کوئی کر ہی نہیں سکتا ؟ اور نہ ہی ممکن ہے ازواج مطہرات نے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو بگوش ہوش سنا اور سن کر ذرا دیر لگائے بغیر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور آخرت کی اچھی زندگی مقصود اصل سمجھتے ہوئے پسند کیا اور اس بشارت کی مستحق ٹھہریں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی امت کی تمام عورتوں کے لئے ایک نمونہ بن گئیں جب تک زندہ رہیں ان کی زندگی عورتوں کے لئے اسوہ رسول کی زندہ مثال تھی اور جب وفات پاگئیں تو ان کا تذکرہ بھی رسول اللہ ﷺ کی امت کے لئے آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ پیش کررہا ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے پیش کرتا رہے گا۔ افسوس ہی نہیں صد افسوس ہے انکم فہموں اور بدبختوں پر جو اللہ تعالیٰ کا یہ کلام پڑھ کر بھی امہات المومنین میں سے کسی ایک کی شان میں گستاخی اور ہزہ سرائی سے باز نہیں آتے اور اپنی آخرت کو برباد کرنے کے درپے ہیں۔ بلا شبہ اس طرح وہ امہات المومنین میں سی کسی ایک کا بھی کوئی نقصان نہیں کر رہے بلکہ جو کچھ نقصان کر رہے ہیں وہ اپنا ہی کر رہے ہیں اور بلاشبہ یہ نقصان کوئی معمولی نقصان نہیں بلکہ اتنا بڑا نقصان ہے جس کا ازالہ کبھی ممکن ہی نہیں۔ زیر نظر آیت کے تحت ہمارے مفسرین نے تخییر کے مسائل بیان کئے ہیں اور اس کی بہت تفصیل بیان کی ہے تخییر کیا ہے ؟ تخییر یہ ہے کہ مرد عورت کو اختیار تفویض کردے کہ وہ اگر چاہے تو اپنے آپ کو طلاق دے کر مرد سے الگ کرلے پھر اس کی اقسام بھی بہت ہیں اور تخییر کے الفاظ میں بہت بحث ہے کہ کون سے الفاظ استعمال کیے ہوں تو ان کا کیا مطلب ہوتا ہے اور کیا حکم ہوتا ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا تھا اس کا سبب کیا تھا اور نتیجہ کیا رہا یہ اور اس طرح کی بہت بحث کی ہے لیکن ہم اس بحث کو اس جگہ چھیڑنا نہیں چاہتے اس کا مقام آئے گا تو انشاء اللہ بات ہوگی۔
Ayah 33:30جتنا بڑا مقام اتنی ہی بڑی سزا اگر کوئی لغزش ہوجائے
30 ۔ { فاحشۃ } ایسی برائی جس کا اثر دوسروں پر پڑے۔ حد سے بڑھی ہوئی برائی۔ ہر وہ چیز جس کی ممانعت اللہ تعالیٰ نے کردی ہو اور پھر آدمی اس کا مرتکب ہو۔ ہر برا قول یا عمل ، کیا کوئی مسلمان اس بات کا تصور بھی کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیبیوں میں سے کوئی فحش حرکت کی مرتکب ہوسکتی تھی۔ نہیں ، اور ہرگز نہیں۔ بلا شبہ اس سے ازواج مطہرات رسول کو احساس دلانا مقصود ہے کہ جن لوگوں کا معاشرہ میں بہت بڑا مقام ہو ان کی ذمہ داریاں بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں اور دوسرا یہ کہ کہ جن سے کسی گناہ کے سرزد ہونے کا امکان تک موجود نہیں جب اسلام ان کا نام لے کر ان کی برائی کے ارتکاب کی وجہ سے دوہرا عذاب سنایا جارہا ہے تو وہاں عام عورتوں کو کیسے معاف کیا جاسکتا ہے کیونکہ معاشرتی بیماریوں اور برائیوں کا وجود اسلام کبھی برداشت نہیں کرسکتا بڑوں کی چھوٹی حرکت کو بھی وہ بڑا سمجھتا ہے چہ جائیکہ کوئی بڑا بڑی برائی کا مرتکب ہو اور پھر اس کو معاف کردیا جائے ہرگز نہیں وہ قابل معافی نہیں بلکہ وہ تو دوہری سزا کا مستحق ہے کیونکہ وہ دوسروں کی ٹھوکر کا باعث ہوسکتا ہے اسلام کی نظر میں جتناانسان بڑا ہوگا اتنی ہی اس کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی بڑی تصور ہوگی کیونکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ ہے اس لئے بڑوں کا اخلاق ، پاکیزگی اور طہارت بھی بڑی ہی ہونی چاہیے۔ اس سے جو درس قوم مسلم اور خصوصاً بنات الاسلام کو دیا گیا ہے اور ان لوگوں کی گھریلو ذمہ داریوں کے متعلق وضاحت دی گئی ہے جو مذہبی پیشوا اور مذہبی راہنما کہلاتے ہیں لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں نے جہاں باقی باتوں سے منہ موڑ لیا ہے وہاں ان ذمہ داریوں کی بھی کوئی پروا نہیں کی جاتی اس لئے حالت اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ اس کا تذکرہ کرنا نہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال نبی کریم ﷺ کی بیویاں امہات المومنین ہیں اس لئے ساری امت کی عورتوں اور بچیوں کے لئے ان کی زندگی تو بہرحال ایک نمونہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی ان کا درجہ بہت بلند ہے لہٰذا اس رفعت شان اور عظمت مقام کے تقاضے پورے کرنا بھی ان پر لازم وضروری ہے اس لئے ان کو خبردار کیا گیا ہے خبردار ! تمہارے اجلے دامن پر کوئی داغ لگنے نہ پائے ان کو واشگاف الفاظ میں دو ٹوک بتا دیا گیا کہ اگر تم نے کوئی ایس حرکت کی جو قابل اعتراض ہوئی تو یاد رکھو کہ تمہارا لحاظ کرکے تم کو چھوڑا نہیں جائے گا بلکہ تمہیں دوگنی سزا دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ پر ایسا کرنا کوئی مشکل نہیں ہے یہ بات کہہ کر قوم مسلم کے افراد کو بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی انسان بھی گرفت سے بچ نہیں سکتا اور جس کو وہ اپنے قانون کے مطابق پکڑ لیتا ہے وہ کوئی ہو اور کون ہو سزا سے بچ نہیں سکتا ہاں ! یہ ہو سکتا کہ اگر وہ قوم کا راہنما یا پیشوا اور سیاسی لیڈر ہو تو جتنا بڑا اس کا مقام ہوگا اتنی ہی بڑی اس کی سزا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں میں سے کسی سے کوئی ایسی نازیبا حرکت ہوئی تو ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ بڑے ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی سزا میں تخفیف کردی جائے جیسا کہ اس معاشرہ میں ہورہا ہے اور یہود کے معاشرہ میں بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ہوتا رہا ہے۔ بہرحال امہات المومنین میں سے کسی سے بھی نہ تو کوئی ایسی لغزش ہوئی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان تھا جس مقصد کے لئے یہ احکام بیان ہوئے اس مقصد کو مسلمانوں نے اور خصوصاً مذہبی پیشوائوں اور راہنمائوں نے بالکل بھلا دیا اور جو سبق ان میں دیا گیا تھا اس کی طرف ذرا بھی توجہ نہ دی گئی اور آج مذہبی راہنمائوں ، پیشوائوں اور سیاسی لیڈروں کی گھریلو زندگی جس قدر خراب اور ناگفتہ بہ ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان آیات کریمات میں دوگنا عذاب سنانے والا اللہ تعالیٰ بھی سب کچھ جانتا اور دیکھتا ہے۔ زیر نظر آیت پر قرآن کریم کا اکیسواں پارہ ختم ہورہا ہے۔ پاروں کی تقسیم اگرچہ عجمی ہے تاہم سپارہ قرآن کریم معروف ہیں۔
Ayah 33:31جتنا بڑا مقام اتنا ہی بڑا انعام ، امہات المومنین بلا شبہ اسی مقام کی مستحق ہیں۔
31 ۔ گزشتہ آیت میں بڑوں کی لغزش کا ذکر کیا گیا تھا کہ ان کی معمولی لغزش بھی معمولی نہیں ہوتی بلکہ وہ دوہرے عذاب کی موجب ہوتی ہے جب بصورت لغزش اتنی سخت سزا کا ذکر کیا گیا تو ضروری تھا کہ ان کے انعام کا ذکر بھی ان کے مقام کے مطابق ہی کیا جاتا تاکہ ترازو برابر ہے۔ زیر نظر آیت میں اس انعام کے دوگنا ہونے کا اعلان بھی کردیا گیا لیکن اس انعام کے دوگنا ہونے کا بیان نہایت عجیب طریقے سے بیان ہوا جیسا کہ گزشتہ آیت میں بیان ہوا تھا کہ تم میں جو بھی کسی لغزش کی مرتکب ہوگی تو اس کو دوگنا ، دو برابر ، دوچند اور دونا عذاب دیا جائے گا گویا عذاب کا تعلق آخرت کے ساتھ لازم ہے اور وہ جتنا عام لوگوں کو دیا جائے گا یا دیا جاسکتا ہے اس سے دونا تم کو دیا جائے گا ، کیوں ؟ اس لئے کہ تمہارا مقام بہت بلند ہے اور بلند مقام کے لوگوں سے لغزش جس طرح ان کے لئے لغزش ہوتی ہے اسی طرح ان کی لغزش سے دوسروں کا اس لغزش میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے لہٰذا اس مقام کے لوگوں کو عذاب دوگنا یا دونا ہی ہونا چاہیے اور یہ عین قانون الٰہی کے مطابق ہے۔ زیر نظر آیت میں جب انعام کا وقت آیا تو کہا گیا کہ اگر انعام کے مستحق ہوئیں جو یقینا ان کو ہونا ہی ہے تم کو دوگنا ، دو برابر ، دو چند اور دونا انعام نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ تم کو دوباراجر دیا جائے گا اور ظاہر ہے اس دو بار اجر ملنے کا مطلب ایک بار دنیا میں اور دوسری بار آخرت میں ہی ہوسکتا ہے اور یہی اس کا مطلب بنتا ہے یعنی تم میں سے ملنے کا مطلب ایک بار دنیا میں اور دوسری بار آخرت میں ہی ہوسکتا ہے اور یہی اس کا مطلب بنتا ہے یعنی تم میں سے جس نے اطاعت و فرمانبرداری کا شیوہ اختیار کیا اسے اجر بھی دو بار (ایک بار دنیا میں اور ایک بار آخرت میں) دیا جائے گا اور یہ بھی کہ اسے ہم باعزت رزق عطا کریں گے ، اس دنیاوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی { مرتین } کا لفظ خود تقاضا کرتا ہے کہ مرۃ بعد مرۃ مراد ہے اور قرآن کریم میں جہاں بھی یہ لفظ بیان ہوا ہے یہ مفہوم ہر جگہ موجود ہے اگر آپ نے یہ اصول یادرکھا تو انشاء اللہ قرآن کریم کے سمجھنے میں بہت آسانی دے گا اور آپ کی اس طرح مدد کرے گا کہ انشاء اللہ آپ کو اس سے تسلی اور انشراح پیدا ہوگا۔ اگر اس اصول کی مزید وضاحت چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ 2 کی آیت 229 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 126 , 101 جلد پنجم سورة بنی اسرائیل کی آیت 4 جلد ششم سورة القصص کی آیت 54 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 33:32امہات المومنین عام عورتوں کی طرح نہیں بلکہ امہات المومنین کا درجہ بہت بلند ہے
32 ۔ ہر نبی ورسول بشر تھا اور اسی طرح ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ بھی بلاشبہ بشر ہی تھے بقول سید محمد نعیم الدین صاحب خلیفہ خاص حضرت احمد رضا خاں بریلوی جو شخص رسول کے بشر ہونے سے انکار کرے وہ کافر ہے۔ بلا شبہ یہ صحیح لیکن انبیاء کرام اور رسل عظام بشر ہونے کے باوجود عام انسانوں کی طرح صرف انسان ہی نہیں تھے بلکہ وہ نبی ورسول بھی تھے اور یہی وہ تخصیص تھی جو ان کو دوسرے انسانوں سے جدا کردیتی تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا کہ { قل انما……………… واحد } (الکھف 110:17) ” کہہ دیجئے میں تو اس کے سوا کچھ نہیں ہوں کہ تمہارے ہی جیسا ایک آدمی ہوں البتہ اللہ نے مجھے پر وحی کی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں “۔ گویا عام انسانوں جیسا انسان ہونے کے باوجود عام انسانوں کے اور میرے درمیان ایک خط امتیاز موجود ہے جو دوسرے تمام ان انسانوں سے مجھے الگ کردیتا ہے جن کو وحی نہیں آتی کیونکہ میری طرف اللہ تعالیٰ وحی بھیجتا ہے جو سارے انسانوں کی طرف نہیں بھیجی جاتی اور یہی وہ چیز ہے جو دوسرے انسانوں سے نبی ورسول کو الگ کردیتی ہے بعینہ اسی طرح امہات المومنین کے متعلق بھی ارشاد الٰہی ہے کہ اے نبی کریم کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو بلکہ تمہارا مقام دوسری تمام عورتوں سے بالکل الگ ہے اور اس مقام کے الگ ہونے کے باعث اللہ کا رسول محمد رسول اللہ ہیں کہ جب تم ہمارے نبی کریم کے حبالہ عقد میں آگئیں تو تمہارا مقام ایک خاص مقام ہوگیا بالکل اسی طرح جیسے رسول کا انسان ہونے کے باوجود عام انسانوں سے مقام بلند ہوگیا کہ اللہ نے اس کی طرف وحی بھیج دی ، اسی طرح تمہارا مقام عورتوں سے بالکل الگ ہوگیا کیونکہ آپ سے نبی کریم ﷺ نے نکاح کرلیا جس کے باعث تم امہات المومنین ہوگئیں اور یہ وہ مشرف ہے جس شرف نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی تمہارے ساتھ کسی مومن کا نکاح کرنا اسی طرح حرام ہوگیا جس طرح ہر انسان کا نکاح اس کی اپنی ماں سے حرام ہوتا ہے جس نے اس کو جنم دیا ہو۔ لہٰذا یہی وہ خصوصیت ہے جس نے تم کو دوسری عورتوں سے بالکل الگ کردیا۔ اب اس خط امتیاز نے تمہارے لئے کچھ چیزی لازم کردیں اور ان میں پہلی چیز یہ ہے کہ ” تمہارے لئے خاص احتیاط ہے کہ تم (نامحرم) لوگوں سے نرم زبان میں بات نہ کیا کرو “۔ کیوں ؟ اس لئے کہ قدرت نے عورت کی آواز میں جو فطری نرمی اور لوچ رکھی ہے اس کو بڑا دخل ہے مرد کی خواہش نفسانی کے ابھارنے میں چناچہ اس کا اعتراف ہر انسان کرے گا اس لئے کہ یہ ایک فطری امر ہے لہٰذا احتیاط کی راہ سے تمہارا لہجہ بات کرنے کا نرم ونازک نہیں ہونا چاہیے بلا شبہ یہ حکم عام ہے لیکن جس قدر پابندی امہات المومنین کے لئے ضروری ہے وہ انہی کا حق ہے اور وہی وہ پابندی کرسکتی ہیں۔ یہ تاکدای حکم اس لئے ضروری ہوا کہ عرب کی جاہلی تہذیب میں آج کل کی مہذب تہذیبوں کی طرح یہ دستور عام تھا کہ عورتیں تصنع کے بڑے بڑے طریقوں سے آواز اور لب و لہجہ میں طرح طرح رعنائی ، نزاکت اور دلفریبی پیدا کرتی تھیں یہ ہنر وہاں فیشن ایبل سوسائٹی میں داخل تھا اس لئے اس کی ممانعت خاص طور پر ہوئی جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا وہ اصل اصلاح معاشرہ کے لئے احکام دیئے گئے اگرچہ بظاہر نام امہات المومنین ہی کا لیا گیا اور اس کی حکمت پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ حکم عام کے لئے خطاب خاص امہات کے نام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ قابل غور امر ہے کہ جب مطلق گفتگو کے باب میں یہ اہتمام ہے تو نغمہ وموسیقی ظاہر ہے کہ عورت کے حلق ودہن سے نکلا ہوا نامحرم کے حق میں کیا حکم رکھے گا اس کا فیصلہ خود کرلو کیونکہ جو مضمون جاری ہے اس کو دیکھنے کے بعدیہ فیصلہ کوئی مشکل امر نہیں ہے ۔ قرآن کریم نی اس امر پر اتنا زور دے کر اس کو بیان کیا ہے تو محض اس لئے کہ گفتگو میں ہمیشہ دو یا دو سے زیادہ آدمی حصہ لیتے ہیں تب ہی گفتگو قرار پاتی ہے لہٰذا ایک طرف کتنی بھی پاکیزگی و طہارت کیوں نہ ہو دوسری طرف کے متعلق کچھ نہیں کہا جاتا خصوصاً جب پر وہ کی آڑ میں بات چیت ہو اور یہ معلوم بھی نہ ہو کہ بات کرنے والا کون ہے ؟ اس لئے قرآن کریم نے اس کی وضاحت یہ کی کہ ” وہ شخص جس کے دل میں کوئی بیماری ہے وہ کسی طمع میں نہ پڑجائے “ ظاہر ہے کہ حیاء وعزت وآبرو کا قاعدہ یہی ہو سکتا ہے کہ مرد اگر مخاطب ہو تو اس کی بات سن کر اس کو مختصر سے مختصر جواب دیا جائے اور صرف مطلب کی بات کا جواب دیا جائے باقی باتوں کو بالکل حذب کردیا جائے تو اس طرح گویا بیمار دل کی بات کا جواب ہی حذف ہوجائے گا اور اس طرح کسی بدکردار اور فاسد المزاج کو گفتگو میں آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہ پڑے گی اور وہ خود غیر ضروری بات نہیں کرے گا اور اس حکم کی اہمیت جو اس وقت مدینہ کی فضا میں تھی آج اس سے بہت زیادہ ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ان باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اور ہمارے سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں ، دفتروں ، بازاروں اور اس وقت تقریباً سارے ہی گھروں میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے کون واقف نہیں۔ زیر نظر آیت سے استنباط کرکے کہا جاسکتا ہے کہ عورتوں کو اتنی بلند آواز سے گفتگو کرنا درست نہیں جسے عام نامحرم مرد سنیں پھر جب عورت کے پیر کے زیوروں کی آواز ممنوع قرار پائی تو جو ان عورتوں کے کلام کی آواز ہے وہ تو بدرجہ اولیٰ ممنوع ٹھہرے گی غور کرو کہ اسلام میں کسی عورت کو اجازت نہیں کہ وہ اذان پکارے حالانکہ عورت عورتوں کی جماعت کر اسکتی ہے اور عورتوں کو جمع کرنے کے لئے پکار نہیں سکتی۔ ہاں ! جس جگہ پکارنے اور زیادہ بلند آواز کی ضرورت نہ ہو وہ احکام بجا لاسکتی ہے جیسے ذبیحہ کہ اس میں صرف زبان سے تکبیر بسم اللہ اللہ اکبر کہنا ہے لہٰذا عورت ذبیحہ کرسکتی ہے اور اسی سے استنباط کرکے کہا جاسکتا ہے کہ بچے کے کان میں اذان بھی پکار سکتی ہے اور قرآن کریم نے مطلق گفتگو کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ معروف طریقہ سے گفتگو کی جاسکتی ہے تاکہ ضرورت کی بات معلوم کی جاسکے اور معروف طریقہ کا ذکر کرکے یہ بھی واضح کردیا کہ گفتگو میں ایسی تلخی اور ناشائستگی بھی نہ ہو جس سے کسی کے دل شکنی اور دل آزاری ہو کہ اسلام میانہ روی کو پسند کرتا ہے ، خیال رہے کہ جو حکم آمنے سامنے پردہ کے اندر رہ کر گفتگو کرنے کا ہے وہی حکم ٹیلی فون اور اسی طرح کے دوسرے ذرائع گفتگو کا ہے جو ایجاد ہوچکے ہیں اور جو ابھی ایجاد ہوں گے۔
ابنائے وطن اور اخوان الاسلام کو غور کرنا چاہیے کہ اسلام کے نزدیک عفت وعصمت کی جو قدر ومنزلت ہے اس کے پیش نظر یہ احکام صادر فرمائے جا رہے ہیں اور ان راستوں ہی کو بند کیا جارہا ہے ، ان اسباب ہی کا قلع قمع کیا جارہا ہے جن کے ذریعہ اس متاع اگر انمایہ کے لٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے کوئی عقل مند قیمتی جواہرات رکھ کر اپنے گھر کے دروازے چوروں کے لئے نہیں کھولتا جو لوگ اسزعم میں مبتلا ہیں کہ ان کے گھروں کی خواتین ، ان کی بچیاں ، ان کی بہنیں پختہ کردار کی مالک ہیں وہ اگرچہ قیمتی اور بھڑکیلے لباس پہن کر بےپردہ گھومتی رہیں تو ان کی عزت وآبرو پر کوئی آنچ نہیں آسکتی انہیں ہم نرم سے نرم الفاظ میں ” ناشناس اسلام “ کہہ سکتے ہیں اور ان کی یہ ناشناسی انہیں ایک روز ایسے گڑھے میں پھینک دے گی جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی ہاں ! وہ کسی گڑھے کا کوئی تصور ہی نہ رکھتے ہوں اور مغرب زدگی نے ان کے لئے سب کچھ صاف کردیا ہو یہ دوسری بات ہے تاہم فطرت انسانی کے حیوانی تقاضوں کی شدت ، ان کی دانستہ چشم پوشی انہیں ایسے بھیانک نتائج سے دو چار کردے گی جن بھیانک نتائج سے مغرب والے دو چار ہیں بلا شبہ ان کا قلبی سکون برباد اور ذہنی توازن بگڑ کر رہ جائے گا اس وقت وہ پچھتائیں گے جیسے مغرب والے پچھتا رہے ہیں لیکن ” اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت “ اس وقت وہ اسی طرح زاروزار روئیں گے جیسے مغرب والے رو رہے ہیں لیکن ان کو اپنے درد کا کوئی درمان نہیں ملے گا۔ اسلام نے مسلمانوں کو جو ثقافت اور تہذیب عطا کی ہے وہ ان آیات میں مذکور ہے جس کی اس وقت ہم تفسیر بیان کر رہے ہیں اب اگر ہمارے قائدین و راہنما اپنی ملت کی بچیوں کو کوئی دوسری ثقافت سکھانا چاہیں اور مغربی تمدن ومعاشرت کے آداب کی تعلیم دینا چاہیں تو ان کی مرضی اسلام نے ، قرآن کریم نے اور حامل قرآن ﷺ نے تو مسلمان عورتوں کے لئے اس حیاسوز اور غیرت باختہ طرز معاشرت سے نہایت سختی سے روکا۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ عورتیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی یارسول اللہ ﷺ ! مرد ساری فضیلتیں لے گئے ، جہاد میں شرکت کا شرف بھی انہیں نصیب ہے ، کیا کوئی ایسا عمل ہے جو ہمکریں اور ہمیں مجاہدین کا درجہ حاصل ہو ؟ تو نبی اعظم وآخرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ” تم میں جو عورت اپنے گھر میں بیٹھے گی اسے مجاہدین فی سبیل اللہ کا درجہ ملے گا “۔ مملکت خداداد پاکستان جسے مملکت اسلامیہ ہونے کا دعویٰ ہے وہاں مردوں ، عورتوں کے بےدریغ اختلاط سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم ، عورتوں کا ان دفتروں ، فیکٹریوں ، بنکوں اور اسی طرح کے دوسرے اداروں میں ملازمت کرنا خصوصاً جہاں مرد بھی ہوتے ہیں ایسے اجتماعات اور مذاکروں میں شرکت کرنا ، مردوں کے مقابلہ میں بی ڈی سے لے کر ایم این اے تک کے الیکشن لڑنا ، عام بازاروں اور شاہراہوں پر ننگے سرچست لباس پہنے نیم عریاں ہو کر گھومنا پھرنا اور سیروتفریح کے مقامات پر مردوں کے دوش بدوش چہل پہل کرنا ایک بہت بڑا المیہ ہے کیونکہ ہمارا یہ طرز عمل اسلام کی تہذیب و ثقافت پر ایک بہت بڑی زیادتی ہے بلکہ اسلام کو مسخ کردینے کے مترادف ہے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس ملک کے سارے وڈیروں اور رہنمائوں کی عقل پر کیوں پردہ پڑگیا اور انہوں نے آج تک کیوں نہ اس معاملہ پر غور کیا کہ عورتوں کی تعلیم کا بھی صحیح بندوبست کرنے کے متعلق غور کرتے اور ان کے کالج اور یونیورسٹیوں کا علیحدہ انتظام کرتے ۔ اس وقت 1997 ء جارہا ہے لیکن تعلیم کے جتنے کام کے شعبے ہیں سب میں مخلوط تعلیم دی جارہی ہے اور تعجب پر تعجب یہ ہے کہ آج تک جتنی اسلامی جماعتیں ہیں ان میں سے کسی نے حکومت کی اس طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اپنے اتحاد کا یہ مطالبہ شو کیا ہے جو اس وقت کی نہایت اہم ضرورت تھی۔ ملک عزیز کے اندر بڑے بڑے سٹھہ اور تاجر موجود ہیں کسی نے آج تک یہ کوشش نہیں کی کہ کوئی عورتوں کی الگ مارکیٹ بنائی جائے جہاں عورتیں ہی خریدوفروخت کریں اور مارکیٹ کے اندر مردوں کا جانا ممنوع قرار دیا جائے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جو مردوں ، عورتوں کو دوش بدوش چلانے کی داعی ہیں انہوں نے اپنی دعوت کو پیش کرتے وقت عقل وفکر سے کام کیوں نہ لیا اگر ان کی عقل پر پردہ نہ پڑگیا ہوتا تو وہ مردوں اور عورتوں کو دوش بدوش چلانے کے یہ معیے بھی لے سکتے تھے کہ جتنے شعبے مردوں کے لئے اتنے ہی عورتوں کے لئے بھی ہونے چاہیے تاکہ مردوں کے عبوں میں مرد کام کریں ، مرد تعلیم دیں اور مردہی تعلیم حاصل کریں۔ اسی طرح ان کے مقابلہ میں عورتیں ہی تعلیم دیں اور عورتیں ہی تعلیم حاصل کریں۔ مرد ہی ٹکٹ دیں اور مرد ہی ٹکٹ حاصل کریں۔ عورتیں ہی ٹکٹ فروخت کریں اور عورتیں ہی ٹکٹ خریدیں۔ مرد ہی سودا سلف بیچیں اور مرد ہی سودا سلف خریدیں ، عورتیں ہی سودا سلف بیچیں اور عورتیں ہی سوا سلف خریدیں۔ مرد ہی ایک ادارہ میں کام کریں اور مرد ہی ادارہ میں آئیں جائیں اور اس کے مقابلہ میں عورتیں ہی ایک ادارہ میں کام کریں اور عورتیں ہی وہاں آئیں جائیں۔ عورتیں اگر ڈاکٹر ہوسکتی ہیں تو آخر ایک عورت ڈاکٹر یعنی مریض کا علاج کیوں نہیں کرسکتی کیوں ضروری ہے کہ ڈاکٹر مرد کے ساتھ مل کر ہی ڈاکٹر عورت کام کرے ۔ فطرت نے کتنے کام ہیں جو صرف مردوں کے ذمہ لگائے ہیں اور وہ مرد ہی کرسکتے ہیں عورتیں نہیں کرسکتیں اور اس طرح کتنے کام ہیں جو صرف عورتوں کے ذمہ لگائے گئے ہیں اور وہ عورتیں ہی کررہی ہیں مرد ان کو نہیں کرسکتے ، کروڑوں سال گزر گئے اور اسی طرح کام چل رہا ہے ہاں ! بلا شبہ ایسے کام بھی ہیں جو مردوں عورتوں کے مشترک ہیں تو ان کے لئے الگ قانون بھی ہے ہم پوچھتے ہیں کہ اگر ایسا ہو تو کیا یہ مردوں کے دوش بدوش چلنا نہیں کہلاتا ؟ اگر نہیں کہلا سکتا تو آخر کیوں ؟