Ayah 33:56نبی کریم ﷺ پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی طرف سے درود اور ایمان والوں کو درود کا حکم
56 ۔ زیر نظر آیت کا مفہوم سمجھنے کے لئے اس سورت کی آیت 43 پر نگاہ رکھنی چاہیے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے اس لئے کہ آیت 43 میں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کا سارے ایمان والوں پر درود بھیجنے کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس جگہ اللہ اور اس کے فرشتوں کا نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے یا بھیجنے کا ذکر ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی حکم دیا ہے کہ تم بھی نبی کریم ﷺ پر درود بھیجو اور سلام کہو اس لئے ظاہر ہے کہ جو معنی صلوٰۃ یعنی درود کے آیت 43 میں کیے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی کیے جائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ جس چیز کو عربی میں ” صلوٰۃ “ کہتے ہیں اس کو فارسی میں درود کہتے ہیں اور یہی لفظ اردو زبان میں بھی مستعمل ہے اور انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جن معنوں میں فارسی میں استعمال ہوتا ہے آیت 43 میں اس بات کی وضاحت بھی کردی ہے کہ ” صلوٰۃ “ یا درود کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہو تو مطلب ومفہوم اللہ کی رحمت و برکت اور بیحد مہربان ہوتا ہے اور جب صلوٰۃ و درود کا مرجع فرشتے ہوں تو اس کا مفہوم دعائے بخشش اور نہایت ہی غایت درجے کی محبت رکھنے کے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ آیت 43 کے حاشیہ پر ایک نظر ڈال لی جائے تو بات جلد واضح ہوجائے گی۔
صلوٰۃ عربی کا لفظ ہے ، درود فارسی کا اور جو معنی صلوٰۃ کے ہیں بالکل وہی معنی درود کے کیے جاتے ہیں اگرچہ صلوٰۃ کے لفظ میں وسعت زیادہ ہے ، درود فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی اس طرح کیے گئے ہیں درود۔ 1 ۔ صلوٰۃ ، رحمت۔ 2 ۔ تحسین وآفرین ، شاباش۔ 3 ۔ استغفار۔ تعریف۔ 4 ۔ سلام ، دعا۔ 5 ۔ تسبیح اور اصطلاحاً وہ دعا اور سلام جو نبی کریم ﷺ پر پڑھا جائے۔ اس تشریح کے پیش نظر ہماری سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ تو یہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ (درود) کا مفہوم بلا شبہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر بیحد مہربان اور آپ ﷺ کی تعریف وتحسین کے ساتھ اپنی رحمتوں کی بارش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وہ تکوینی طاقتیں اور قوتیں جن کو فرشتوں کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے وہ بھی آپ ﷺ کی تعریف وتحسین بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ کے لئے دعائے مغفرت اور رحمتوں کی بھر مار کی اپیل کرتے ہیں اور ماحصل اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ نبی کریم ﷺ کے محاسن بیان کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی تعریف وتحسین کرتے ہیں اور مسلمانوں تم بھی نبی کریم ﷺ کے محاسن بیان کرو اور آپ ﷺ کی تحسین وتعریف کرتے رہو اور نبی کریم ﷺ پر سلام کا مفہوم یہ ہے کہ دنیا کے بدباطن لوگوں نے جو جان بوجھ کر اور سمجھ سوچ کر محمدرسول اللہ ﷺ پر الزام تراشے ہیں اور جو مذمب کی ہے لیکن اس کے لئے ایسا پیرایہ اختیار کیا ہے کہ وہ بظاہر الزامات اور مذمت نظر نہیں آتے اس لئے اپنوں نے بھی ان کو خوش فہمی کی بنا پر قبول کرلیا ہے تم ان کا پوری قوت کے ساتھ رد کرو اور ان کو روک دو اور دنیا والوں پر ثابت کردو کہ یہ الزامات ہیں جو آپ ﷺ پر لگائے گئے ہیں اور کچھ سادہ لوح لوگوں نے اپنی ناسمجھی کی بنا پر ان کو قبول کرلیا ہے۔ آپ ﷺ کی ذات بابرکات بالکل اس سے بری الذمہ ہے۔ لہٰذا اس سلبہ میں عملی اقدامات بھی کرنے ہوں گے اور زبان کو بھی استعمال کرنا ہوگا اس لئے تمہیداً فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر بہت ہی مہربان ہے اور اپنے رسول کی تعریف کرتا ہے ، آپ ﷺ کے کام میں برکت دیتا ہے ، آپ ﷺ کا نام بلند کرتا ہے اور آپ ﷺ پر اپنی رحمت کرتا ہے اور اللہ کے فرشتے بھی آپ ﷺ سے غایت درجے کی محبت کرتے ہیں ، آپ ﷺ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے بدست دعا ہیں اور آپ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لئے آپ ﷺ کے معاون ہیں اور اے مسلمانو ! تم بھی دشمنان اسلام کی طرف سے جو الزامات آپ ﷺ پر لگائے گئے ہیں اور جو کیچڑا اچھالا گیا ہے اس کا دندان شکن جواب دو اور اس کیچڑ کو بالکل صاف کردو اور لوگوں کو بتا دو کہ وہ چاند پر تھوک کر خود اپنے ہی اوپر تھوک رہے ہیں ، چاند کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا اور ان کی تھوکوں سے اس کی روشنی کبھی ماند نہیں ہوگی۔
آپ سورة الاحزاب کے مضامین پڑھتے آرہے ہیں ذرا غور سے کام لیں تو آپ پر یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوجائے گی کہ فی الواقع جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار مکہ ، یہودونصاریٰ اور عرب کے سارے دوسرے قبائل مل کر زور لگا چکے تھے اور انہوں نے منہ کی کھائی تھی اور بلا شبہ مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے تھے اب یہ سارے گروہ مل کر صرف زبانوں سے کام لے رہے تھے اور اس بڑھتی ہوئی تحریک اسلام کے خلاف بدزبانی کے سوا یہ کچھ کر بھی نہ سکتے تھے انہوں نے اب زور اس پروپیگنڈے پر صرف کرنا شروع کردیا کہ دیکھو جو پیغمبر اصلاح کرنے کے لئے آیا تھا اس نے کیا کرنا شروع کردیا کہ اپنے بیٹے کی بہو سے بیاہ رچایا کل تک جس کو بیٹا کہتا تھا آج اس کے متعلق لوگوں کو کہتا ہے کہ زید بن محمد نہیں بلکہ زید بن حارثہ کہو۔ عورتوں کا اس قدر شیدائی ہے کہ عرب کا کوئی قبیلہ اس نے نہیں چھوڑا جس کو اس نے اپنا سسرال نہ بنایا ہو۔ وہ لوگ اس طرح کی بدزبانیاں کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اے مسلمانو ! ان مشرکین ومنافقین نے مل کر اب میرے رسول کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کی نئی سکیمیں تیار کی ہیں اور اس طرح کا پروپیگنڈا شروع کردیا ہے لیکن یہ لوگ اس معاملہ میں بھی جو کچھ کہہ سکتے ہیں کہہ لیں وہ یقینا منہ کی کھائیں گے اس لئے کہ میں اس پر مہربان ہوں اور جو کچھ وہ کررہا ہے میرے ہی حکم سے کررہا ہے میں نے ہی اس کو ان رسومات کو ختم کردینے کا کہا ہے اور وہ جو کچھ کررہا ہے میرے حکم سے کررہا ہے۔ میرے حکم سے اس نے یہ ساری شادیاں کی ہیں جو میرے دین کی ترویج کے لئے ضروری تھیں اور میرے ملائکہ بھی اس کے ثناخواں ہیں اور میرا اعلان ہے کہ یہ لوگ میرے رسول کا کچھ بگاڑ سکیں گے اور میں تم مسلمانوں کو بھی حکم دیتا ہوں کہ تم بھی اس پر لگائے گئے الزامات کا جواب ان لوگوں کو اس طرح دو کہ آئندہ یہ لوگ اس کی جرات ہی نہ کریں۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے وہ لوگو ! جن کو محمد رسول اللہ ﷺ کی بدولت راہ راست نصیب ہوئی ہے تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے احسان عظیم کا حق ادا کرو۔
تم وہی لوگ ہو کہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے اس شخص نے تمہیں علم کی روشنی دی۔ تم اخلاقی پشتیوں میں گرے ہوئے تھے اس شخص نے تمہیں اٹھایا اور اس قابل بنایا کہ آج تم محمود خلائق بنے ہوئے ہو ، تم وحشت اور حیوانیت میں مبتلا تھے اس شخص نے تم کو بہترین انسانی تہذیب سے آراستہ کیا ، کفر کی دنیا اس لئے اس شخص پر خارکھارہی ہے کہ اس نے یہ احسانات تم لوگوں پر کیے ورنہ اس نے کسی کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی برائی نہ کی تھی اس لئے اب تمہاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جتنا بغض وہ اس خیر مجسم کے خلاف رکھتے ہیں اسی قدر بلکہ اس سے کئی گنا بڑھ کر تم زیادہ محبت اس سے رکھو ، جتنی وہ اس سے نفرت رکھتے ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تم اس کے گرویدہ ہوجائو اور جتنی وہ اسکی مذمت کرتے ہیں اتنی ہی زیادہ بلکہ اس سے بھی زیادہ تم اس کی تعریف کرو ، جتنے وہ اس کے بدخواہ ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ بڑھ کر تم اس کے خیر خواہ بنو اور اس کے حق میں وہ دعا کرو جو ملائکہ اللہ کر رہے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ! جس طرح تیرے نبی محمدرسول اللہ ﷺ نے ہم پر بےپایاں احسانات فرمائے ہیں تو بھی ان پر بیحد و حساب رحمت فرما اور ان کا مرتبہ دنیا میں بھی سب سے زیادہ بلند کردے اور آخرت میں بھی انہیں تمام مقربین سے بڑھ کر تقرب عطا فرما۔ “ تمہاری اس دعا کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم پر بھی میں ” اللہ “ مہربان ہوں گا اور میرے فرشتے تمہارے بھی معاون و مددگار ہوں گے۔ اس طرح { صلواعلیہ } کے معنی یہ ہوئے کہ ” تم میرے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے گرویدہ ہوجائو ، ان کی مدح وثنا کرو اور ان کے لئے دعا کرتے رہو۔ “ ظاہر ہے کہ کسی کا گرویدہ ہونا عملی طور پر ہی ممکن ہے تاکہ دوسروں کو بھی تمہارے عمل سے معلوم ہوجائے ، مدح وثنا اور دعا کا تعلق زبان سے ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ عملی اظہار زیادہ مشکل ہے زبانی اظہار سے۔ گویا صلوٰۃ و درود کا وہ پہلو جو عمل سے تعلق رکھتا ہے وہ بہت زیادہ اہم ہے اور اس کا تعلق بھی زیادہ تر عمل سے ہے اور دوسرا پہلو جو آسان ہے جس کا تعلق صرف زبان سے ہے ، ہم بےدھڑک یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام نے اس درود وصلوٰۃ کا وہ پہلو جو زیادہ مشکل اور نہایت اہم تھا اس کو سرانجام دے کر لوگوں پر واضح کردیا اور اس پہلو کی کوئی بات بھی مبہم نہ رہنے دی کہ انہوں نے اپناسب کچھ نبی کریم ﷺ پر قربان کردیا حتیٰ کہ صرف اور صرف آپ ﷺ کی خاطر اپنے عزیز و رشتہ دار ، اپنی زمینیں اور مکانات اور تجارتی سامان اور مال مویشی سب کچھ چھوڑ کر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر آئے اور زبان سے سلام ادا کرنا بھی انہوں نے سیکھ لیا کہ تشہد میں بیٹھتے ہیں السلام علیک ایھا النبی کا ورد کرنے لگتے اس لئے انہوں نے عملی کا کرچکنے کے بعد زبانی کام کرنے کے معتلق بھی دریافت کیا کہ کیف نصلی یارسول اللہ ؟ ہم زبان سے درود کس طرح پڑھیں اے اللہ تعالیٰ کے رسول ! ہم زبانی صلوٰۃ کیونکر ادا کریں اور یہ بھی کہ سلام کا طریقہ تو آپ ﷺ نے سکھادیا اب درود کا طریقہ بھی سکھادیا جائے جس کا تعلق صرف زبان سے ہے کیونکہ جتنے حصہ کا تعلق ہمارے عمل سے تھا وہ تو ہم کرچکے اور آپ ﷺ نے دیکھ لیا اور ہم کو شاباش بھی دی کہ تم نے خوب کیا۔ اس کے جواب میں نبی اعظم وآخر ﷺ نے جو الفاظ سکھائے وہ درج ذیل ہیں :
اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید وبارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔
(عن کعب بن عجوہ ؓ ، بخاری ، مسلم ، ابودائو ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، امام احمد ، ابن ابی شیبہ ، عبدالرزاق ، ابن ابی حاتم اور ابن جریر)
اور یہی عبادرت قدرے کمی بیشی کے ساتھ یا الفاظ کی ترتیب الگ الگ کرکے کتب احادیث میں بیان کی گئی ہے اگر اس کے سارے صیغے شمار کئے جائیں تو بارہ ، پندرہ تک شمار ہوسکتے ہیں لیکن الفاظ میں کمی بیشی اور آگے پیچھے بیان کیے گئے اس درود کیا ختلاف کے باوجود معنی ومفہوم میں کوئی فرق نہیں بیان کی گیا۔ ایک ایک کرکے نقل کرتے جائو اور اس کا مفہوم دیکھتے چلے جائو ۔ ایسے ہی الفاظ ذکر کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمانو ! مجھ پر درود بھیجنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ ” اے اللہ ! تو محمد رسول اللہ ﷺ پر درود بھیج “۔ اس پر نادان لوگ جن کو معنی کا شعور نہیں ہے اس پر فوراً اعتراض جڑ دیتے ہیں کہ یہ تو عجیب بات ہوئی اللہ تعالیٰ تو ہم سے کہے کہ تم میرے نبی پر درود بھیجو مگر ہم الٹا اللہ سے کہہ دیں کہ تو ہی درود بھیج گویا کہ ہم نہیں بھیج سکتے یا نہیں بھیجیں گے۔ حالانکہ یہ سراسر ان کی ایک کٹ ہجتی ہے ہم نے تو اوپر ذکر کردیا ہے کہ صلوٰۃ کا وہ پہلو جو عملی کہلاتا ہے اس پر عمل کرلینے کے بعد زبان کو اس میں شامل حال کرنے کے لئے دریافت ہوا اور ظاہر ہے کہ زبان سے جو کچھ طلب کیا جائے گا وہ صرف اور صرف اللہ ہی سے طلب کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے سے طلب کرنے کی انسان کو خود تعلیم دیتا ہے اور وہ اپنے سوا کسی دوسرے سے طلب کرنے کو حرام اور شرک قرار دیتا ہے ذرا غور کرکے بتائو کہ زبان کا عمل کیا ہے ؟ یہی کہ وہ طلب کرے اپنے لئے طلب کرے ، زندوں کے لئے طلب کرے ، مردوں کے لئے طلب کرے ، اور ہر حال میں طلب کرے ، بڑا ہے تو طلب کرے ، چھوٹا ہے تو طلب کرے ، شاہ ہے تو طلب کرے گدا ہے تو طلب کرے لیکن جو کچھ طلب کرے ، جس کے لئے طلب کرے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے طلب کرے اور غیر اللہ سے خواہ وہ کوئی ہو ، خواہ کون ہو ہرگز اور ہرگز نہ طلب کرے اور اسی زبان کی طلب کے متعلق نبی اعظم وآخر ﷺ نے ہم کو تعلیم دی ہے کہ میرے لئے اللہ سے طلب کرو اور یہ ارشاد فرما کر گویا شرک کی جڑ کاٹ دی ہے کہ دینے والا یعنی داتا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی سب کو دینے والا ہے اس لئے تم بھی اسی سے طلب کرو اور میرے لئے طلب کرنے والوں میں تم بھی اپنا نام لکھوا لو کہ اس سے تمہارا فائدہ ہوجائے گا۔ ہاں ! بات کرنے والے کو صرف یہ حق تھا کہ وہ لوگوں کو اس طرح کہتا کہ لوگوں صرف زبان ہی سے درود پڑھ دینے پر اکتفا نہ کرو بلکہ عملی طور پر بھی وہ کام کردکھائو جن کے کرنے کا درود تقاضا کرتا ہے بلکہ زبان کھولنے سے قبل عمل کرکے دکھائو جیسا کہ صحابہ کرام کرتے رہے۔
بعض لوگوں کو اس درود پر اعتراض ہے کہ یہ اچھا درود ہے جس میں اللہ کو یہ کہا جارہا ہے کہ تو محمد ﷺ پر ایسی رحمت اور ایسی برکت بھیج جیسی رحمت و برکت تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجی تھی گویا مانگنے والا اللہ کو سمجھا رہا ہے کہ میری طلب کیا ہے ؟ حالانکہ یہ بھی محض ایک بےعقلی اور بیوقوفی کا سوال ہے کیونکہ ہر طلب کرنیوالے کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی چاہت کی وضاحت کرے کہ وہ کیا چاہتا ہے کیونکہ دینے والے کے پاس تو بہت کچھ ہے اور اس کے خزانے میں تو کسی چیز کی کمی نہیں ہے اس لئے تمہارا حق ہے کہ تم اپنی طلب کی وضاحت کرو کیونکہ اگر تم بکری سنبھال سکتے ہو لیکن دینے والے نے ہاتھی دے دیا تو تمہارا کو نڈا ہوجائے گا اور ہاتھ جوڑ کر ہاتھی کو رخصت کرنا پڑے گا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے لئے طلب کرنے کا مسلمانوں کو طریقہ سکھایا تو اپنی طلب بھی بتادی کہ وہ رحمت و برکت مجھے درکا ہے جو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے لوگوں کو عطا کی کہ جب ابراہیم کو گھر والوں اور خاندان والوں نے گھر سے نکل جانے کا حکم دیا تو وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور پھر کیا تھا کہ اللہ نے نہ تو دنیا کے مال ومتاع کی کوئی کمی چھوڑ اور نہ ہی آخرت کے درجات کی بلندی میں کوئی کسر رہنے دی۔ پھر غور کرو کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت کیسی شخصیت ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے پیشوا اور راہنما آئے لیکن جو پیشوائی اللہ نے ابراہیم کو عطا کی وہ کسی دوسرے کے حصہ میں آپ سے پہلے کب آئی کہ دنیا میں جتنے لوگ ہیں خواہ وہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان سب ہی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حتیٰ کہ مکہ کے مشرک اور صابی بھی اپنے آپ کو ابراہیمی کہتے تھے اور بلاشبہ ایسی عزت افزائی ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کسی کی کی گئی تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہوسکتے ہیں جو پوری دنیا کے لئے اور رہتی دنیا تک کے لئے رسول بنائے گئے ہیں اور آپ ﷺ پر یہ مرتبہ اور عہدہ ہی ختم کردیا گیا اور ایسا ختم کیا کہ کسی قوم نے بھی آپ ﷺ کے بعد کسی آنے والے کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی۔ ختم نبوت کیخلاف جب کوئی فتنہ کھڑا ہوا تو خود مسلمانوں ہی میں کھڑا ہوا لیکن بحمد اللہ اسی وقت اس کا سرکچل دیا گیا۔
بعض لوگوں کو اور تو کوئی بات نہ سوجھی اور وہ اس طرح کے اعتراض نہ کرسکے تو انہیں نے اس ” صلوٰۃ “ یا ” درود “ کو چھوڑ کر جو خود نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا اور صحابہ کرام کو سکھایا تھا خود درود گھڑنے شروع کردیئے اور اس طرح بیسیوں لمبے اور چھوٹے درود گھڑے اور بیان کیی اور ان کے ساتھ ایسے ایسے فضائل لگادیے کہ آنے والوں نے نبی کریم ﷺ کے سکھائے اور بتائے ہوئے درود کو چھوڑ کر ان بناوٹی درودوں کی طرف توجہ کرلی اور ان کا پڑھنا فرض ٹھہرا لیا اور اس درود کو صرف نماز کے لئے مختص کردیا گیا اس سلسل میں اس وقت جو ہمارے معروف درود ہیں ان میں درود ہزارہ ، درود لکھی ، درودماہی ، درود تنجینا ، درود مقدس ، درود رضا خانی ، درود شفا اور درود تاج کے نام سرفہرست ہیں جو وظائف کی کتابوں میں تقریباً تحریر کئے جاتے ہیں اور ایک درود جو ” بڑے درود “ کے نام سے معروف ہے اور وہ پنجاب ہی میں زیادہ پڑھا جاتا رہا ہے وہ سینہ بہ سینہ چلتا آرہا ہے اور یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جس درود میں جتنے زیادہ شرکیہ الفاظ شامل کیے گئے ہیں وہ اتنا ہی زیادہ مشہور ومعروف ہوا مثلا آج کل پاکستان اور برصغیر کے دوسرے ممالک میں جو سب سے زیادہ پڑھا جانے والا درود وہ ہے جس کہ ہم نے رضاخانی کہا ہے خواہ وہ کس نے بنایا اور کس نے چلایا ہے یعنی ” الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ وسلم علیک یا حبیب اللہ “ لیکن بعض نے درود رضاخانی اس طرح نقل کیا ہے کہ صلی اللہ علی النبی الامی والہ وا صحابہ ﷺ صلوۃ وسلاما علیک یارسول اللہ اور اس کے بعد دوسرے نمبر پر درود تاج ہے جو بریلویہ فکر کی ہر مسجد کی زینت ہے جس میں اس طرح کے الفاظ درج ہے کہ صاحب التاج والمعراج والبراق والعلم دافع البلاء والوباء واقحط والمرض والالم… چونکہ شرک کی بو باس انہیں دو تین میں زیادہ ہے اس لئے یہی زیادہ پڑھے جاتے ہیں لیکن ابھی تک ان درودوں کو نماز کے اندر تشہد کی جگہ نہیں ملی ، ممکن ہے کہ تیسری عید منانے والے جب اس عید کی نماز شروع کریں تو اس میں ان درودوں کو شامل کرلیں کیونکہ حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ اس ملک عزیز پاکستان میں کئی ایک مزاروں پر باقاعدہ حج پڑھا جانے لگا ہے اور ان کے طواف کئے جاتے ہیں تو ان درودوں کا نماز میں شامل ہونا کیا بعید بات ہے ؟ اللہ سمجھ دے اور لوگ اس طرح کی حرکتوں سے باز آجائیں جن سے اسلام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ بات درود کی ہورہی تھی تو اس سلسلہ میں اول بھی اور آخر بھی صرف یہ بات ہے کہ درود وہی پڑھنا افضل واعلیٰ ، جائز اور درست ہے جو نبی کریم ﷺ نے خود بتایا ہے اور جس کو ہمارے ہاں نماز کا درود کہا جاتا ہے چاہے کہ اپنے درود وظیفہ میں اس کو پڑھا جائے اور اسی پر اکتفا کیا جائے۔ علاوہ ازیں سب بڑے اور چھوٹے درودوں سے اجتناب کیا جائے خواہ ان میں شرکیہ الفاظ موجود ہوں یا نہ ہوں۔ ہاں ! نمونہ کے طور پر ایک پنجابی درود جو ” وڈا درود “ کے نام سے معروف ہے دیکھ لیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ اختراعی درود کس طرح گھڑے اور بنائے گئے اور لوگ ان کو کس اہتمام سے پڑھتے اور دیہاتی ملائوں نے ان کا کس طرح اہتمام کررکھا ہے۔
رہا بھیج ثواب توں اندر اس دن رات
دتا میرا بھیج توں روح محمد ساتھ
جو سردار پیغمبراں اندو دو جہاں
رہا جس پر بھیجیا سچا تدھ قرآن
بھی ارواح پیغمبراں سبنھاں نوں پہنچا
آدم مڈھ پیغمبراں محمد اوڑک آ
بھیج ثواب ابابکر نو عمر عثمان علی
خدیجہ ، عائشہ ، فاطمہ ، حسن ، حسین ولی
ایویں سعد سعید نوں طلحہ زبیر پہنچا
ابا عبید عبدالرحمن نوں نال ثواب رلا
چاچے پاک رسول دے حمزہ تے عباس
النہاں دونہاں بھیج توں ہینی دونویں خاص
ال بیت رسول دیاں قیلیاں دوستاں نوں
ارواح امت سب اوس دی بھیج الٰہی توں
ماواں پیو واں ساڈیاں دادیاں دادیاں نوں
رہا بھیج ثواب توں نانیاں نانیاں نوں
ماسیاں ، ماسڑاں ، پھوپھیاں پھوپھڑاں نوں
تایا تائیاں ، چاچیاں ، چاچیاں نوں
استاداں بن ہمسائیاں ہر ہر پتر دھی
بہن بھراواں کل نوں تے یار آشنا بھی
حق جنھاں دا ، اساں تے جاں چنگیا ئی دا
عورت یا وت مرد بھی مویا ایس دم تا
رہا بھیج ثواب توں توں رحمن رحیم
حرمت نبی کرمی دی جس پر فضل عظیم
ہمارے ہاں ایک بحث یہ بھی چلتی رہتی ہے کہ آیا صلوٰۃ کا استعمال انبیاء کرام کے سوا بھی دوسرے مسلمانوں پر جائز ہے یا نہیں ؟ ہم جائز یا ناجائز کی بحث میں شریک ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں اور نہہی اس کی کوئی ضرورت ہے البتہ یہ عرض کریں گے کہ وہ دعا یا الفاظ جن سے تخصیص ہوجاتی ہے کہ جس شخص کی بات ہورہی ہے وہ کس مرتبہ کا ہے وہ زیادہ بہتر اور صحیح ہے کیونکہ دعا غیر و برکت کے لئے جتنے الفاظ کتاب وسنت میں آئے ہیں سب ہی بابرکت ہیں لہٰذا نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے ” ﷺ “ دوسرے انبیاء کرام کے لئے ” علیھم الصلوٰۃ والسلام “ صحابہ کرام کے لئے ” ؓ “ اور امت کے دوسرے لوگوں کے لئے ” (رح) “ کے الفاظ ہی زیادہ صحیح اور درست ہیں کہ ان الفاظ سے تخصیص نکل آتی ہے اور ہر کہ دمہ سمجھ جاتا ہے کہ جس کی بات ہے وہ کس مقام کا آدمی ہے۔ واللہ اعلم۔
ان درودوں کے ساتھ سلام پڑھنے کے بھی نئے نئے طریقے ایجاد ہوگئے ہیں۔ صلوٰۃ جمعہ ادا کرنے کے بعد اور اسی طرح کی دوسری مجالس میں کھڑے وکر اور گا گا کر سلام پیش کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کیا گیا ہے اور پھر سلام پیش کرنے کے بھی مختلف اشعار بنائے گئے ہیں اور اس طرح کی صدائیں بھی بلند ہوتی ہیں کہ سپیکر کھول کر بڑی سر اور لے کے ساتھ سالم اور درود کے الفاظ مل کر گائے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس طرح مصرع کے طور پر نہایت مہیب آواز کے ساتھ سنائی دیتا ہے کہ دم بدم پڑھو درود کہ رسول اللہ بھی ہیں یہاں موجود۔ یہاں ! نبی اعظم وآخر ﷺ کا اسم گرامی جہاں بھی آئے تحریر کیا جائے یا ویسے ہی لیا جائے آپ ﷺ کے نام کے ساتھ ﷺ کے الفاظ لگانابلا شبہ سنت نبوی ہے ، اذان کے بعد ، دعا سے قبل ، درود ابراہیمی پڑھنے کا اجروثواب ہے۔ درودابراہیمی کو بطور وظیفہ پڑھنے سے پڑھنے والے کو اجرو وثواب ملتا ہے۔ آپ ﷺ کے نام گرامی کے ساتھ ” ﷺ “ نہ پڑھنے والے کو بخیل کہا گیا ہے اور رحمت سے محروم بتایا گیا ہے اور بلا شبہ درود ابراہیمی ھم وغم کا بہترین علاج ہے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔
Ayah 33:57اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر اللہ کی لعنت ہے اور ذلت کا عذاب
57 ۔ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچانا کیا ہے ؟ بلا شبہ ایسا کام کرنا جس سے انسان چاہے وہ عام ہو یا خاص کو ایذا پہنچے اور یہ فطری امر ہے اور ایسا کام اللہ عزوجل کے ساتھ کرنا بھی ایذا پہنچانا ہے اگرچہ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ کوئی ایذا اس کو پہنچا سکے مطلب یہ ہے کہ فاعل کی طرف سے ایسا کام سرزد ہوگیا جس سے ایذا پہنچنا ایک فطری امر ہے تو کیا ایذا پہنچانے والے نے اپنی طرف سے ایذا پہنچادی اللہ تعالیٰ کو اگر ایذا نہیں پہنچی تو یہ اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ایذا پہنچا ہی نہیں سکتا۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد کیا ہے ؟ مراد اس سے فقط رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانا ہے کیونکہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچائی تو گویا اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی چونکہ رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور جس کے پیغمبر کو کوئی تکلیف پہنچائے یقینا اس نے دراصل اسی کو ایذا پہنچائی جس نے اس پیغمبر کو بھیجا چناچہ احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس شخص نے زمانہ کو گالیاں دیں اس نے دراصل اللہ ہی کو گالیاں دیں کیونکہ زمانہ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے نظام کا نام ہی تو ہے پھر جس نے انتظام کیا ہے گالیاں تو اس کو ہوئیں اس لئے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کے ایذا کا باعث ہوئے گویا الہ کے رسول کو ایذا دینا اللہ ہی کو ایذا دینا ہے کیونکہ رسول کو اسی نے مبعوث کیا ہے تماثیل میں صرف ایک مناسبت قائم کرنے کے لئے بات کی جاتی ہے اور اسی مناسبت کو تلاش کرنا اور حقیقت کو معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے بحث سے بحث نہیں نکالی جاتی اور نہ ایسی بات کبھی مفید ہوتی ہے مثلاً احادیث میں ہے کہ مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب غور طلب بات تو یہ ہے کہ یہ مثال کیوں دی گئی محض اس لئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو لوگوں نے اللہ یا اللہ کا جزاء اور بیٹا قرار دیا ان کو بتایا گیا کہ جس طرح آدم مٹی سے بنایا گیا عیسیٰ (علیہ السلام) بھی مٹی سے بنایا گیا دونوں کی ایک جنس ہے ، ایک باپ ہے اور دوسرا بیٹا تو تم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا کیسے بنا دیا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ دونوں کی ایک جنس ہے اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اللہ کا بیٹا وہ کیونکر قرار پا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان مثل عثمان عنداللہ کمثل عیسیٰ ابن مریم (سنن ابی دائود ج 4 ص 340)
حدیث میں ہے کہ :
قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ عزوجل یقول یوم القیامۃ یا ابن ادم مرضت فلم تعلنی قال یا رب کیف اعودک وانت رب العلمین ؟ قال اما علمت ان عبدی فلاتا مرض فلم تعدہ اما علمت انک لو عدتہ لوجدتنی عندہ ؟ یا ابن ادم استطعمتک فلم تطعمنی قال یا رب کیف اطعمک و انت رب العلمین ؟ قال اما علمت انہ استعمک عبدی فلان قلم تطعمہ اماعلمت انک لو اطعمتہ لوجدت ذلک عندی ؟ یا ابن آدم استسقیتک فلم تسقنی قال یا رب کیف اسقیک وانت رب العلمین ؟ قال استسفقاک عبد فلان فلم تسقہ ! اما علمت انک لو سقیتہ لوجدت ذلک عندی (مسلم حدیث نمبر 2569 بحوالہ ریاض الصالحین ص 379) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا مگر تو نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہے گا اے میرے اللہ ! تو رب العالمین ہے میں تیری عیادت کیسے کرتا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جانتا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے پھر بھی تو اس کی مزاج پرسی کو نہ گیا اگر تو اس کو بیمار پرسی کو جاتا تو تو مجھے اسکے پاس پاتا۔ پھر فرمائے گا اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تو نے مجھے کھانا نہ دیا ، وہ کہے گا میرے اللہ ! تو تو رب العالمین ہے میں تجھے کس طرح کھلا سکتا تھا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرا فلاں بندہ تجھ سے کھانا مانگنے آیا مگر تو نے اسے کھانا نہ کھلایا تجھے خبر نہیں کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو وہ کھانا تجھے میرے پاس موجود ملتا پھر فرمائے گا اے ابن آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے اللہ میں تجھ کو کیسے پانی پلاتا ؟ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے اسے پانی نہیں پلایا اگر تو اسے پانی پلا دیتا تو آج وہ پانی میرے پاس تجھے موجود ملتا۔ مسلم نے روایت کیا اور یہ حدیث ریاض الصالحین ص 379 پر موجود ہے اس حدیث نے اور اس جیسی دوسری احادیث نے ایذائے خداوندی کی ساری تفہیم واضح کردیا۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کو دکھ دے وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگیا ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کے لئے اللہ نے رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھا ہے۔ غور کرو کہ ان لوگوں کی بدبختی اور بدنصیبی کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنی دنیا بھی خراب کرلی اور اپنی عاقبت بھی اور جس مقصد کے لئے انہوں نے اتنا خسارہ قبول کیا اس کو وہ کبھی حاصل نہ کرسکے کیونکہ اللہ کو کوئی کیا دکھ پہنچائے گا وہ تو سراسر خیر وبھلائی ہے اور اللہ کا رسول کسی ایسے دکھ کو کب دکھ سمجھتا ہے جو راہ اللہ میں پہنچایا گیا ہو۔
Ayah 33:58جو لوگ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کا حال
58 ۔ زیر نظر آیت نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانے کی مزید وضاحت کردی کہ وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟ فرمایا جو لوگ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو بغیر کسی قصور کے ستایا کرتے ہیں کبھی ان پر جھوٹی تہمتیں لگاتے ہیں ، کبھی ان کو ہنسی اور مذاق کا نشانہ بناتے ہیں ، راہ چلتے ان کی بےعزتی اور بےحرمتی کرتے ہیں اور کبھی ان کو زدوکوب کرتے ہیں وہ سن لیں اور یادرکھیں کہ وہ بہتان تراشی اور کھلے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہے ہیں۔ غور کرو کہ جب عام مسلمانوں کی دل آزاری کا یہ حکم ہے اور یہی دراصل اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینا ہے جو کسی مومن مرد و عورت کا دل دکھائے گا گویا وہ براہ راست اللہ اور اس کے رسول کو دکھ دے گا تو جو بدنصیب ازواج مطہرات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخیاں کرتی ہیں ان کا کیا حال ہوگا کہ وہ اس دنیا میں ماتم کر رہے ہیں اور آخرت میں بھی ماتم کریں گے لیکن اس پیٹنے سے سوائے ان کے پٹ جانے کے کیا حاصل ہوگا ؟ زیر نظر آیت کی وضاحت نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس سے اس طرح بیان ہوئی ہے ، فرمایا : اللہ اللہ فی اصاحب لا تتخذوھم غرضا من بعدی فمن ابحھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فبغضی ابغضھم ومن اذھم فقد اذانفی ومن اذانی فقد اذی اللہ من اذی اللہ یوشک ان یاخذ (رواہ الترمذی) ” میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات وتنقیدات کا نشانہ نہ بنائو کیونکہ ان سے جس نے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے گرفت کرے گا۔ “ غور کرو کہ مسلمانوں کے آپس کے تعلقات کے متعلق کیا بیان کیا جارہا ہے اور مسلمان مردوں یا عورتوں کو ستانے کی کیا سزا ہے لیکن ہم کیا کر رہے ہیں ؟ جواب اپنے ہی دل سے لے لو ہم تو بزبان نظیر یہی کہہ سکتے ہیں کہ ؎
جس کام کو جہاں میں آیا تھا تو نظیر
خانہ خراب ! تجھ سے وہی کام رہ گیا
Ayah 33:59اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور ایمان والیوں کو پردے کا حکم دیں
59 ۔ گزشتہ آیات میں عام مسلمان مردوں اور عورتوں کو ایذا پہنچانے کو حرام اور گناہ کبیرہ ہونا بیان کیا گیا اور خصوصاً نبی کریم ﷺ کو ایذا دیناکفر اور موجب لعنت بتایا گیا تھا خیال رہے کہ منافقین کی طرف سے دو طرح کی ایذائیں سب مسلمانوں کو اور نبی اعظم وآخر ﷺ کو پہنچتی تھیں ایک یہ کہ منافقین میں سے عوام اور آوارہ قسم کے لوگ نوجوان لڑکیوں کو جب وہ اپنے کام کاج کے لئے باہر نکلتیں تو اکثر ستایا کرتے اور جب چار یاری میں بیٹھتے تو ان عورتوں کا ذکر بہت بےحیائی اور بےغیرتی کے ساتھ کرتے گویا جو کچھ اس وقت کے اوباش لوگ اور نئی روشنی کے وڈیروں کی اولاد نرینہ کر رہی ہے وہ سب کچھ اس وقت بھی کیا جاتا تھا دوسری ایذا ان کی یہ تھی کہ ان کا کام افواہیں پھیلانا تھا جھوٹی خبروں کو وہ اس طرح اڑا دیتے کہ بڑے بڑے سمجھدار لوگ ان کو سچ سمجھ لیتے اور خصوصاً مسلمانوں کی دل آزاریاں وہ کرتے ہی رہے تھے اور اس طرح جو کچھ وہ کرتے تقریباً اپنے بچائو کی صورت میں سوچتے رہتے اگر کہیں کوئی بات ظاہر ہوتی تو فوراً اس کا تدارک کرتے اور اس طرح کا نشانہ ہمیشہ کمزور لوگ ہی ہوتے۔ یہ وہ وقت تھا کہ ابھی پردہ کا مستقل حکم نازل نہیں ہوا تھا یہ پہلی سورت ہے جس میں پردے کے احکام کے کھلے اشارات دیئے گئے ہیں اور ان کو مزید وضاحت اور مستقل ہدایات اور ان پر مکمل کنٹرول کی صورت سورة النور میں بیان کی گئی چونکہ سورة النور عروہ الوثقی کی چھٹی جلد میں گزر چکی ہے لہٰذا ہم اس سورت کی آیت 22 , 21 میں اس کی پوری وضاحت کر آئے ہیں وہاں سے وضاحت دیکھ لیں۔
زیر نظر آیت میں بھی مسلمان عورتوں کو یہ حکم دیا جارہا ہے کہ { یدنین علیھن من جلابیبھن } اپنے اوپر اپنی چادریں اچھی طرح لپیٹ لیا کریں { یدنین } ادناء سے مشتق ہے جس کے لفظی معنی قریب کرنے کے ہیں اور { علیھن } کے معنی اپنے اوپر ہیں اور { جلابیب } جلباب کی جمع ہے اور جلباب خاص لمبی چادرکو کہا جاتا ہے گویا مطلب یہ ہے کہ مسلمان عورتیں جب باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں اپنے اوپر اچھی طرح اوڑھ لیں جس کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ابن کثیر (رح) نے اس طرح نقل کیا ہے کہ امر اللہ نساء المومنین اذا خرجن من بیوتھن فی حاجۃ ان یغطین وجوھھن بالجلابیب ویبدین عینا واحدم (ابن کثیر) ” اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے اپنی چادریں لٹکا کر چہروں کو بھی چھپالیں اور صرف ایک آنکھ راستہ دیکھنے کے لئے کھلی رکھیں “۔ اس طریقہ بیان سے ایک بحث یہ چھڑ گئی کہ آیا چہرہ کا ڈھانپنا بھی ضروری ہے یعنی کیا چہرے کا پردہ ہے ؟ اور پھر اس پر بہت لمبا کلام کیا گیا اور آج کل جو پردے کے رواجات ہیں وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں وہ ظاہری زیب وزینت کو زیادہ کرتے ہیں یا کم ؟ کیا زینت کو چھپانے اور ظاہر نہ ہونے دینے کا حکم ہے یا نہیں ؟ سب کو معلوم ہے ہم کو حکم کیا دیا جاتا ہے اور ہم اس حکم کیساتھ کیا کرتے ہیں سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس پردے کی اصل ہے ہم کو حکم کیا دیا جاتا ہے اور ہم اس حکم کے ساتھ کیا کرتے ہیں سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس پردے کی اصل وجہ قرآن کریم نے زیر نظر آیت میں یہ بیان فرمائی کہ اس طرح سب کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ایمان والی عورتیں ہیں گویا یہ پردہ اس بات کی پہچان ہے کہ یہ عورتیں مومن ومسلم ہیں لہٰذا ان کو کوئی نہیں ستائے گا کیسے ؟ ایسے کہ مومن مرد ان منافق ، یہود اور عیسائی چھوکروں کی خبر گیری رکھیں گے اور ان کو چھیڑنے نہیں دیں گے اور اب ان کا عذر نہیں رہے گا کہ ہم پہچان نہ سکے کہ وہ کون ہے ؟ اس سے جو ضروری بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عورتوں کو غیر مسلم عورتوں کے مقابلے میں اپنے پردہ کی ایک خاص پہچان رکھنی چاہیے تاکہ قومی امتیاز بھی برقرار رہے ، انسان بہرحال انسان ہے اور حالت بھی ہر وقت یکساں نہیں ہوتی اپنی طرف سے جو احتیاط کی جاسکے وہ ضروری ہے اللہ تعالیٰ بخش دینے والا ، پیار کرنے والا ہے اور پردہ کا حکم اس باعث اس نے دیا ہے کہ تم اپنی حیا کی حفاظت کرسکو جو ایمان کا ایک اہم جزو ہے۔
زیر نظر آیت میں ایک قابل غور بات یہ ہے کہ امت مسلمہ کی ساری عورتیں یا آپ یوں کہہ لیں کہ بنات اسلام نبی کریم ﷺ کی بیٹیاں ہیں اور نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات امہات المسلمین ہیں لیکن اس آیت میں آپ ﷺ کی ازواج کا ذکر کرنے کے بعد تمام ایمان والی عورتوں کا ذکر کرنے سے پہلے درمیان میں { بنتک } کا لفظ لایا گیا جس کا مطلب بلاریب یہی ہے کہ اس لفظ سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ کی حقیقی بیٹیاں ہیں اس سے مراد نہ تو آپ ﷺ کی ربائب ہو سکتی ہیں اور نہ عرف عام میں عام مسلمان عورتیں اس سے مراد ہوسکتی ہیں اگرچہ عرف میں بنات الاسلام کو بنات النبی کہنا یا تسلیم کرنا جائز اور صحیح ہے۔ یہ بات اس لئے کہنا پڑی کہ اپنے آپ کو اسلام ہی کے نام سے متعارف کرانے والا ایک گروہ جس کو شیعہ کہا جاتا ہے نبی کریم ﷺ کی صرف ایک بیٹی فاطمہ ؓ کو حقیقی بیٹی تسلیم کرتا ہے اور دوسری بیٹیوں کو وہ حقیقی بیٹیاں تسلیم نہیں کرتا اور اس کے پروپیگنڈے کا یہ اثر ہے کہ اکثر مسلمانوں کو بھی یہی معلوم ہے کہ فاطمہ ؓ آپ ﷺ کی بیٹی تھیں اور اس کی اولاد گویا حسن و حسین آپ کے دو بیٹے تھے جن کی محبت کی داستانیں عوام و خواص میں مشہورومعروف ہیں اور فاطمہ ؓ کے علاوہ آپ ﷺ کی کسی بیٹی سے کسی کو بھی واقفیت نہیں حالانکہ قرآن کریم نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے یہ فرمارہا ہے کہ اے رسول ! ﷺ آپ ﷺ اپنی بیٹیوں کو کہہ دیں کہ وہ اگر باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں اوڑھ کر باہر نکلیں اور { بنتک } کا لفظ تین سے کم پر نہیں بولا جاسکتا ہاں ! تین یا تین سے زیادہ پر ہی بولا جاسکتا ہے اور اگر آپ ﷺ کی صرف اور صرف ایک ہی حقیقی بیٹی ہوتی تو ” بنت “ کا لفظ ہی ہوتا ” بنات “ کا لفظ بالکل نہ ہوتا اور پھر روایات میں آپ ﷺ کی چار بیٹیوں کا ذکر عام ملتا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی صرف ایک بیٹی نہ تھی بلکہ تین یا تین سے زیادہ یعنی چار تھیں اور اہل سنہ کی کتابیں چھوڑ شیعوں کی خاص کتب میں بھی آپ ﷺ کی چار صاحبزادیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور چاروں صاحب زادیاں سیدہ خدیجہ ؓ سے پیدا ہوئی تھیں۔ چناچہ اصول کافی شیعوں کی معروف کتاب ہے جس سے کوئی شعیہ بھی انکار نہیں کرسکتا خواہ وہ شیعوں کی اندرونی گروہ بندیوں میں سے کوئی گروہ ہو چناچہ اصول کافی میں ہے کہ ” وتزوج خدیجۃ وھوابن بضع وعشرین سنۃ فولدلہ منھا قبل مبعثہ (علیہ السلام) القاسم ورقیۃ وزینب وام کلثوم و ولدلہ بعد المبعث الطیب والطاھر وفاطمۃ علیھا السلام (اصول کافی جلد اول ص 439 تہران) ” نبی اعظم وآخر ﷺ نے سیدہ خدیجہ ؓ سے شادی کی تو اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک بیس سے کچھ زیادہ (25) سال تھی اور سیدہ خدیجہ ؓ کی کے بطن سے اولاد پیدا ہوئی۔ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے قاسم ، رقیہ ، زینب اور ام کلثوم اور بعثت کے بعد طیب ، ظاہر اور فاطمہ ؓ پیدا ہوئیں۔ “ اور اسی طرح علامہ مجلسی کی کتاب حیوۃ القلوب میں نقل ہے کہ ” در قرب الاسناد بسند معتبر حضرت صادق روایت کردہ است کہ از برائے رسول خدا ﷺ از خدیجہ متولد شدند طاہروقاسم وفاطمہ وام کلثوم ورقیہ زینب “ (حیوۃ القلوب ص 823) ترجمہ : قری الاسناد میں متعبر سند سے حضرت جعفر صادق سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے رسول اللہ ﷺ کی یہ اولاد پیدا ہوئی ، طاہر ، قاسم ، فاطمہ ، ام کلثوم ، رقیہ اور زینب ؓ۔ یہ دونوں کتابیں شیعوں کے ہاں اتنی ہی معتبر ہیں جتنی کہ اہل سنت کے ہاں مسلم و بخاری۔ اس وضاحت کے بعد بھی جو لوگ کریم ﷺ کی تین صاحب زادیوں کا انکار کرتے ہیں خاندان نبوت سے ان کا بیر روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے دراصل ان لوگوں نے نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج سب کی صورت بگاڑی حتیٰ کے اذان تک کو اس کی اپنی اصلی حالت پر نہ رہنے دیا ، اس طرح اسلام کی دوسری تعلیمات کا بھی مکمل انکار نہیں تو اس کی صورت کو ضروربگاڑنے کی کوشش کی اور ان کی اس بگاڑ کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پورے دین اسلام کے ارکان اور عقائد کی صورت تقریباً بگڑ کر رہ گئی اور اس بگاڑ میں سب سے زیادہ انہی کی مکاریوں ، عیاریوں کو دخل ہے اصل میں اہل بیت کا ان لوگوں نے انکار کیا اور اسلامی تعلیمات میں جن کو اہل کساء کہا گیا ان اہل کساء کو انہوں نے اپنے پروپیگنڈے کے ذریعہ اہل بیت کہا اور آج فی الواقع لوگ اہل کساء ہی کو اہل بیت کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تین بیٹیوں کا انکار کیا اور آج لوگ فی الواقع ایک کے سوا باقی تینوں کے ناموں سے بھی واقف نہیں رہے اور سب سے زیادہ اور بڑا ظلم یہ کیا کہ سیدنا علی ؓ کی اولادوں میں سے جو 19 بیٹے اور 18 بیٹیاں تھیں لیکن آج لوگ حضرت علی ؓ کے صرف دو بیٹوں حسن ؓ و حسین ؓ کے ناموں کو جانتے بلکہ ان دونوں میں سے بھی سیدنا حسن کے تو صرف نام ہی سے واقف ہیں اس کے آگے ان کی اولاد در اولاد کا کسی کو کوئی علم نہیں اور حضرت علی ؓ کی ایک لڑکی زینب کا نام شیعہ لیتے ہیں باقی سب اولادوں سے انکاری ہیں سب سے بڑھ کر تعجب یہ ہے کہ حضرت علی ؓ کے بیٹوں میں سے عمر ، ابوبکر اور عثمان نام کے تینوں بیٹوں کو تاریخ نے بلکہ شیعوں کی معتبر کتابوں نے محفوظ رکھا ہے لیکن اس کے باوجود آج سننے والوں کو تعجب ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ کی اولادوں کے یہ نام ؟ حالانکہ حضرت علی ؓ کو عمر ؓ سے اتنا پیار تھا کہ اپنے دو بیٹوں کے نام عمر رکھا ایک کو عمر الاکبر جن کو عمراطراف بھی کہتے اور دوسرے کو عمر الاصغر اس تعجب پر تعجب یہ ہے کہ آج عباس علمبردار کے نام سے بچہ بچہ واقف ہے یہ عباس کون ہیں ؟ حضرت علی ؓ کے صاحبزادے ہی تو ہیں اور ایک یعنی عمر اطراف انہی عباس علمبردار کے حقیقی بھائی تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں کی ماں بھی ایک ہی تھی اختلاف یہ ہے کہ آیاعباس ؓ بڑے تھے یا عمر ؓ ؟ بعض نے عباس کو بڑا کہا ہے اور بعض نے عمر کو۔ اس عمر بن علی ؓ نے 77 سال عمر پائی اور کثیر تعداد میں اولاددر اولادچھوڑی اور اپنے بھتیجے علی زین العابدین کی اولاد سے ان عمر بن علی ؓ کی اولاد سے رشتہ داریاں پائی گئیں۔ سای عباس علمبردار کے دوسرے حقیقی بھائی کا نام عثمان تھا جو علی ؓ ہی کا بیٹا تھا اور اس عثمان بن علی ؓ نے سانحہ کربلا میں جان دی اور اسی طرح ابوبکر بن علی ؓ بھی میدان کربلا میں اپنے بھائی حسین ؓ کے ساتھ کام آئے اور دوسرے عمر بن علی ؓ جو ام سعید بنت عروہ بن مسعود ثقفی کے بطن سے تھے انہوں نے بھی کربلا میں ہی اپنے بھائیوں حسین ، عباس ، عمر اور عثمان کے ساتھ جان جان آفرین کے سپرد کی۔ مختصر یہ کہ سیدنا علی ؓ کے 19 بیٹوں میں سے 6 بیٹے تو آپ کی زندگی ہی میں وفات پاگئے تھے اور باقی تیرہ بیٹوں میں سے چھ بیٹے میدان کربلا میں کام آئے دو کا سلسلہ آگے نہیں چلا اور پانچ بیٹوں حسن ، حسین ، محمد الحنفیہ ، عباس اور عمر اطراف کی نسل آگے چلی بلکہ بہت بڑھی اور ان ساری اولادوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہوتی رہیں اور سب نے اولاد کثیر چھوڑی لیکن آج صرف ایک بیٹے حسین کے صاحبزادے علی جن کو زین العابدین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ان کی اولاد دراولاد سے لوگ واقف ہیں اور باقی کسی کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے اس لئے جو مختصر ذکر میں نے کیا ہے شاید اس کو دیکھ کر اور پڑھ کر وہ مجھے کیا ہی کہیں گے لیکن چونکہ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی مجھے کیا کہتا ہے وہ جو کہتا ہے کہتا رہے میں نے جب سچی بات کہنے کی قسم کھائی ہے تو اس سلسلہ میں بھی یہ سچی بات کہہ دی ہے اور جو کچھ کہا اس کی ایک نہیں سو دلیل میرے پاس موجود ہیں لیکن یہ موضوع تفسیر ہے تاریخ یا سیرت کا نہیں ورنہ میں اس کی بہت زیادہ وضاحت عرض کرتا لیکن اس جگہ اس پر اکتفا کرتا ہوں اور اب نبی کریم ﷺ کی بنات کے متعلق ایک مختصر سا تعارف پیش کرکے بات کو بالکل ختم کردیں گے اور پھر آگے بڑھیں گے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ہمارے نبی کریم ﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں اور چاروں ہی سیدہ خدیجۃ الکبری کے بطن اطہر سے تھیں اور سب کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
1… سیدہ زینب ؓ جو قاسم ؓ سے چھوٹی اور دیگر اولاد النبی سے بڑی تھیں۔
2… سیدہ رقیہ ؓ جو سیدہ زنیب سے چھوٹی تھی۔
3… سیدہ ام کلثوم ؓ جو سیدہ رقیہ ؓ سے چھوٹی تھیں۔
4… سیدہ فاطمہ الزہرا ؓ جو سیدہ ام کلثوم ؓ سے چھوٹی تھیں۔
سیدہ زینب ؓ پیدا ہوئیں تو اس وقت نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک 30 سال کی تھی ان کا نکاح مکہ میں ابوالعاص بن ربیع سے ہوا۔ ابو العاص ہالہ بنت خویلد کے بیٹے تھے جو سیدہ خدیجۃ الکبری کی حقیقی بہن تھیں یہ نکاح خدیجہ الکبریٰ کی زندگی میں ہوا گویا سید زینب اور ابوالعاص دونوں خالہ زاد تھے ۔ سیدہ زینب اپنی والدہ ماجدہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کے ساتھ ہی داخل اسلام ہوگئی تھی لیکن ابوالعاص کا اسلام متاخر تھا جنگ بدر میں ابوالعاص قریش کی جانب تھے سیدہ زینب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی نے اپنے خاوند کے فدیہ میں اپنا وہو ہار بھیجا تھا جو خدیجہ الکبریٰ نے اپنی بیٹی کو الوداع کرتے وقت دیا تھا۔ سیدہ زینب کے ہاں ایک لڑکا علی اور ایک لڑکی امامہ پیدا ہوئی۔ علی ؓ سبط الرسول کو رضاعت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مدینۃ النبی میں بلالیا تھا اور اپنی اس بیٹی کے بیٹے کی تربیت آپ ﷺ نے خود فرمائی اور فتح مکہ کے دن یہی علی ؓ سبط الرسول آپ ﷺ کی ناقہ پر آپ ﷺ کے ردیف تھے۔ ابھی عنفوان بلوغ کو پہنچے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھا لئے گئے اور اس طرح وہ رفع علیین ہوئے اور ان کی وفات نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ہوئی۔ (بخاری) امامہ نبی کریم ﷺ کی وہ پیاری نواسی ہیں جن کو گود میں لے کر نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی۔ (صحیح مسلم ، نسائی) یہی دو نواسی ہیں جن کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ احب اھلی الی یہ اہل بیت میں سے مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے او یہ اہل بیت اس لئے کہ آپ ہی کے پاس پرورش پارہی تھی کیونکہ زینب رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینۃ النبی میں تھیں یہی وہ امامہ ہیں جن کے بارے میں سیدہ فاطمہ ؓ نے اپنے خاوند سیدنا علی ؓ کو وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد آپ امامہ کو اپنے نکاح میں لے لیں حضرت علی ؓ نے اس وصیت پر عمل کیا اور امامہ کے ساتھ سیدہ فاطمہ ؓ کے بعد نکاح کرلیا اور ان کے بطن سے سیدنا علی ؓ کے دو بیٹے پیدا ہوئے تھے اس نکاح میں سیدہ امامہ ؓ کے نکاح کے ولی حضرت حسن بنائے گئے سیدہ امامہ کا یہ دوسرا نکاح تھا جو حضرت علی ؓ سے ہوا۔
سیدہ رقیہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی دوسری صاحبزادی ہیں ان کی پیدائش کے وقت رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک 33 سال کی تھی گویا کہ رقیہ ؓ سیدہ زینب ؓ سے تین سال چھوٹی تھیں ان کا نکاح بھی مکہ میں سیدنا عثمان بن عفان ؓ سے ہوا تھا اور اس وقت یہ بات عام تھی کہ سب سے اچھا جوڑا جو دیکھا گیا وہ رقیہ وعثمان ہیں۔ ؓ سیدہ رقیہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے ہجرت فی سبیل اللہ کی سنت کو اپنے شوہر سیدنا عثمان کا ساتھ دے کر قائم کیا چناچہ مستدرک حاکم میں ہے کہ انھما الاول من ھاجر بعد لوط وابراھیم کہ لوط و ابراہیم کے بعد یہ پہلا جوڑا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کی ہے اور لوط علیہ اسلام کی یہ پہلی ہجرت تھی جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کیس اتھ اپنے وطن سے مصر کی طرف کی تھی لوط (علیہ السلام) اگرچہ اس وقت ابھی نبی نہیں تھے البتہ مہاجر ضرور تھے۔ سیدہ رقیہ کے بطن سے حضرت عثمان کے ایک صاحبزادے پیدا ہوئے جن کا نام عبداللہ رکھا گیا سیدہ رقیہ کو 2 ہجری میں چیچک کا مرض لاحق ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا حضرت عثمان کو نبی کریم ﷺ نے بدر میں شامل نہ ہونے دیا محض اس لئے کہ وہ اسامہ بن زید کو ساتھ لے کر رقیہ کی تیمار داری کے فرائض سرانجام دیں بدر کی فتح کی خوشخبری زید بن حارثہ ؓ لے کر جب مدینہ پہنچے تو اس وقت ان کی تدفین ہورہی تھی اور اس وقت ان کی عمر تقریباً 21 سال ہوئی تھی رقیہ کو وفات پائے ہوئے ایک سال ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح سیدنا عثمان سے کردیا اور اس وقت آپ کو ذوالنورین کالقب ملا کہ نبی ﷺ کی دوسری بیٹی بھی عثمان کے گھر کو آباد کرنے کیلئے آئیں اور آپ کی ان صاحبزادی نے بھی آپ کی موجودگی ہی میں 9 ہجری میں وفات پائی ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی اور عثمان ؓ کے بیٹے عبداللہ کا بھی جو رقیہ کے بطن سے تھے 6 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا اور آپ کی چوتھی صاحبزادی فاطمہ تھیں۔ سیدہ فاطمۃ الزہرا کا نکاح حضرت علی ؓ سے ہوا اور ان کا حال تقریباً سب کو معلوم ہی ہے سیدہ فاطمہ ؓ کے بطن سے دو بیٹیاں ہوئیں اور سیدہ نے ان کے نام بہنوں کے نام پر رکھے ایک کا نام زینب تھا جو بڑی تھیں اور دوسری کا نام ام کلثوم جو چھوٹی تھیں۔ ام کلثوم کا عقد حضرت عمر ؓ سے ہوا تھا اور حضرت عمر ؓ کے دو بچے سیدہ ام کلثوم عمر فاروق ؓ کے بطن سے پیدا ہوا تھے جن میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی لڑکے کا نام زید رکھا گیا اور لڑکی کا نام رقیہ رکھا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کیوفات بعد ام کلثوم کا نکاح ثانی عدی بن جعفر طیار سے ہوا اتفاق دیکھئے کہ ام کلثوم بنت علی ؓ کی وفات اور ان کے بیٹے زید بن عمر فاروق ؓ کی وافت ایک ہی روز ہوگئی اور زینب بنت فاطمہ الزہرا کا نکاح عبداللہ بن جعفر طیار سے ہوا تھا اور عبداللہ بھی میدان کربلا میں ہی کام آئے تھے بلکہ ان کے فرزند عدی بن عبداللہ بھی کربلا میں مقتولین کربلا میں شامل تھے ۔ بنات النبی کے اس مختصر تذکرہ کے بعد ہم اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں بنات النبی کا تفصیلی ذکر دیکھنا ہو تو تاریخ وسیر کا مطالعہ کرو اور بنات النبی کے نام سے کتب بھی چھپی ہیں۔ اس نام کی کوئی کتاب مطالعہ میں رکھ لو تو انساء اللہ ساری حقیقت واضح ہوجائے گی۔