Ayah 17:60پیغمبر اسلام ! تیرے رب کی یہ بات کہ ” میں نے لوگوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے “ کیسی رہی ؟
74۔ سورة البروج میں اللہ تعالیٰ نے بطور پیش گوئی ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور تیری تکذیب پر تل چکے ہیں اور انکا کام صرف جھٹلانا ہے ” اللہ نے انکو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ “ (85 : 20) انکے جھٹلانے سے نہ تو اس قرآن کریم کا کچھ بگڑے گا اور نہ تیرا بلکہ اس قرآن کریم کا لکھا امٹ اور اٹل ہے جو اللہ تعالیٰ کی لوح محفوظ میں ثبت ہوچکا ہے ، جس کے اندر کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہو سکتا ہے جو بات اس میں لکھ دی گئی ہے وہ پوری ہو کر رہنے والی ہے تمام دنیا مل کر بھی اس کو باطل کرنا چاہے تو نہیں کرسکتی ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ہمارا اعلان کیسا رہا ؟ ظاہر ہے کہ بالکل سچ رہا ، فرمایا اب اگر ان لوگوں نے معجزہ دیکھ کر ہی خبردار ہونا ہے تو انہیں معجزہ دکھایا جا چکا ہے لیکن معجزات کی رٹ لگانے والوں کو پتہ ہی نہ چلا دراصل ہی معجزہ کے طالب نہیں بلکہ شرارتی ہیں جو شرارتوں سے باز آنا نہیں چاہتے ۔
غور کرو کہ جو کچھ ابتدا میں کہہ دیا گیا تھا کہ ” یہ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں یہ کسی طرح تیری دعوت کا راستہ روک نہ سکیں گے اور یہ کام جو تو نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے ان کی ساری مزاحمت کے باوجود پورا ہو کر رہے گا ۔ “ وہ اب پورا ہوگیا ، ان کی کوئی مخالفت بھی تیری تحریک کو روک نہ سکی اور یہ لوگ تیرا بال تک بیکا نہ کرسکے ان کے پاس آنکھیں ہوں تو یہ اس امر واقعہ کو دیکھ کر خود سمجھ سکتے ہیں کہ نبی کی اس دعوت کے پیچھے اللہ کا ہاتھ کام کر رہا ہے پھر اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوگا جس کی انکو طلب ہے ۔
وہ رؤیا جو ہم نے آپ کو دکھایا اس کو ہم نے لوگوں کے لئے آزمائش بنا دیا :
75۔ دیکھو جب اسری کا واقعہ ان کے سامنے بیان کیا گیا تو کہنے لگے یہ جنون کی انتہا ہے ۔ اس طرح گویا یہ واقعہ ان کے لئے آزمائش ہوئی اگر طالب حق ہوتے تو اس پر غور کرتے اور وہ پہلا معجزہ جو ان کو دکھایا گیا تھا جس کا اوپر ذکر کیا گیا اس کو نظر میں رکھتے تو وہ یقین جانتے کہ اس واقعہ میں بھی جو کچھ بیان کیا گیا ہے من وعن پورا ہو کر رہے گا ۔ واقعہ اسری کی تفصیل ہم شروع آیات میں کرچکے ہیں اس رؤیا سے مقصود یہی واقعہ ہے چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ سعید بن جبیر ‘ (رح) حسن (رح) ، مسروق ، (رح) قتادہ (رح) ، مجاہد ، (رح) عکرمہ (رح) ، ابن جریج (رح) سے اس طرح مروی ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر محققین تفسیر کا اجماع ہوچکا ہے پس جن مفسرین نے یہاں رؤیا سے مراد کوئی دوسری رؤیا سمجھی ہے مثلا فتح مکہ کی رؤیا وہ قابل اعتناء نہیں کیونکہ سورت بالاتفاق مکی ہے اور وہ معاملہ ایک عرصہ کے بعد مدینہ میں پیش آیا تھا اور تطبیق کے لئے طرح طرح کے تکلفات کرنا قرآن کریم کو چیستاں بنا دینا ہے ، ان مفسرین نے یہ تکلفات اسلئے کئے کہ رؤیا کا اطلاق خواب پر ہوتا ہے اور اگر اس رؤیا سے مقصود واقعہ اسرای ہو تو پھر ان صحابہ کا قول تسلیم کرلینا پڑے گا جو اس کے بیداری میں ہونے کے قائل نہیں لیکن تعجب ہے کہ ان لوگوں نے عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر پر نظر نہ ڈالی ، عبداللہ بن عباس ؓ ان صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین میں سے ہیں جو معراج کو عالم بیداری کا معاملہ سمجھتے تھے اور اس نظریہ کے سب سے بڑے پش رو تھے باایں ہمہ انہوں نے بھی اس آیت میں (رویا) کی یہی تفسیر کی ہے کہ واقعہ اسری مراد ہے ۔ (رویا عین اریھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بخاری) ایک آنکھوں سے دیکھی ہوئی رویا جو لیلہ الاسری میں رسول اللہ ﷺ کو دکھائی گئی تھی ، اگر عبداللہ بن عباس ؓ کو اس آیت کی اس تفسیر میں کوئی دقت پیش نہیں آتی جو اس نظریہ کے سب سے بڑے قائل تھے تو پھر اور لوگوں کو کیوں دور ازکار توجیہوں کی ضرورت پیش آئے ؟ بلکہ عبداللہ بن عباس ؓ نے (رویا عین اریھا) فرما کر سارا مسئلہ حل کردیا اور وہ حقیقت آشکارا ہوگئی جس کی طرف ابھی ابھی ہم اشارہ کرچکے ہیں یعنی یہ جو کچھ پیش آیا تھا تو (رویا) لیکن کیسی (رویا) ویسی ہی رویا جو عالم خواب میں ہم لوگ دیکھتے ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ (رویاعین) ایسی رؤیا جس میں آنکھیں غافل نہیں ہوتیں بلکہ بیدار ہوتی ہیں ، جو کچھ دیکھا جاتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے آنکھوں سے دیکھا جا رہا ہو اور اس طرف قرآن کریم نے بھی دوسری جگہ ارشارہ کیا ہے چناچہ ارشاد ہوا کہ (آیت) ” مازاغ البصر وما طغی ولقد رای من ایات ربہ الکبری) (53 : 18 ‘ 19)
ان لوگوں کے لئے وہ درخت بھی آزمائش ہوگیا جس پر لعنت کی گئی :
76۔ وہ ملعونہ درخت کونسا درخت ہے ؟ وہ درخت زقوم ہوگا جس کی یہ تعریف سورة الصفت میں کی گئی ہے کہ ” یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت ؟ ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لئے فتنہ بنا دیا ہے ۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے اس کے شگوفے ایسے ہوتے ہیں جیسے شیطانوں کے سر ہوں ۔ جہنم کے لوگوں کے لئے وہ کھانا ہوگا اور اس سے ان کو پیٹ بھرنے ہوں گے ۔ “
یہ درخت عرب میں تمامہ کے علاقہ میں عام پایا جاتا تھا اور ہمارے ہاں اس کو ” تھوہر “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، اس کا مزہ سخت تلخ ہوتا ہے اور اس کی بوناگوار ہوتی ہے اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا سا سفید رس نکلتا ہے اگر جسم پر لگ جائے تو ورم پیدا کرتا ہے اطباء اس کو مرض استسقاء میں استعمال کرتے ہیں ، اس کے متعلق جب یہ کہا گیا کہ (آیت) ” تخرج فی اصل الجھیم “۔ کہ ” وہ جہنم کی تہ سے نکلتا ہے “۔ تو منکرین یہ بات سن کر قرآن کریم پر طعن اور نبی کریم ﷺ پر استہزاء کا ایک نیا موقع پالیتے ہیں وہ اس پر ٹھٹھہ کرتے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں لو اب نئی بات سنو جہنم کی دھکتی ہوئی آگ میں درخت اگیں گے ، “
اچھا بھلا یہ بتاؤ کہ کسی نے شیطان کا سر دیکھا ہے اگر نہیں تو اس کی تو نشانی یہ بتائی گئی کہ اس کے شگوفے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے حالانکہ یہ تشبیہہ تخیل کی تشبیہہ ہے جو ہر زبان اور ہر قوم میں عام بولی جاتی ہے اور ہر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا جاتا ہے ، مثلا آپ نے ایک خوبصورت عورت کو دیکھا تو آپ کہہ دیں گے یہ تو ” پری “ ہے ۔ یا یوں کہیں گے کہ یہ تو ” حور “ ہے اور اگر کوئی بدصورت نظر آئی تو آپ کہہ دیں گے کہ یہ تو ” چڑیل “ ہے یا ” بھتنی “ ہے کسی نورانی چہرہ کے آدمی کو دیکھیں گے تو کہیں گے یہ تو ” فرشتہ “ ہے اور اگر کوئی نہایت بھیانک ہئیت کا ہوا تو کہیں گے کہ وہ تو ” شیطان “ ہے کوئی پوچھے کہ کیا ” پری “ یا ” حور “ کبھی دیکھی ہے یا ” چڑیل “ اور ” بھتنی “ پر نظر پڑی ہے پھر آپ ” فرشتہ “ یا ” شیطان “ کو پہچانتے ہیں ۔ یقینا آپ کہیں گے کہ نہیں بلکہ یہ خیالی تشبیہہ ہے لیکن مخالفین کے ہاتھ کوئی بات آئے تو وہ اس طرح بےپر کی اڑاتے ہیں اور دل لگی کا سامان پیدا کرلیتے ہیں ، یہی کچھ کفار مکہ نے کیا اور یہی کچھ آج بھی مخالفین سے کیا جاتا ہے ۔
ہم ڈراتے ہیں کہ راہ راست پر آئیں لیکن ان پر الٹا ہی اثر ہوتا ہے :
77۔ غور کرو کہ انسانوں میں تمام کاموں کے محرک دو ہی جذبے ہوتے ہیں خوف اور محبت یہ دونوں جذبے الگ الگ بھی پائے جاتے ہیں اور ایک ساتھ یا آگے پیچھے بھی ان دونوں جذبات کے لوازم بھی الگ الگ ہوتے ہیں ، ادعائے محبت کا نتیجہ ناز ‘ کبھی گستاخی اور کبھی اپنے مہربان محبوب پر غایب اعتماد کی بنا پر نافرمانی بھی ہوئی اور ظاہر ہے کہ جذبہ محبت کے ان لوازم اور اثرات کا ازالہ صرف خوف کے جذبہ ہی سے ہو سکتا ہے اس لئے خالق و مخلوق کے درمیان رابطہ کی تیلر نہ تنہا خوف سے ہو سکتی ہے اور نہ تنہا محبت سے بلکہ ان دونوں کے اشتراک وامتزاج اور اعتدال ہی سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے اور یہی نبوت محمد کی تعلیم ہے ، زیر نظر آیت کے اس حصہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہم ان کو خوف دلا کر راہ راست کی طرف لانا چاہتے ہیں لیکن یہ اتنے سرکش ہیں کہ باتوں سے ماننے والے نہیں یہ ہماری تخویف کی باتوں سے کوئی نہ کوئی شرارت اور نکال لیتے ہیں لیکن اس کا انجام ان کے لئے کبھی اچھا نہیں ہوسکتا اور ان کی روش ایک دن ان کو لے ڈوبے گی بلاشبہ یہ لوگ اس وقت پچھتائیں گے لیکن یہ وہ وقت ہوگا کہ ڈور ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی ۔
Ayah 17:61آدم کی فوقیت تسلیم کرانے کے لئے سجدہ کا حکم اور ابلیس کا انکار :
78۔ خیر وشر دو طاقتیں الگ الگ ہیں خیر سے شر سے خیر ممکن نہیں ۔ انسان دونوں طاقتوں کے مجموعہ کا نام ہے گویا اس مرکب میں جو کچھ بیی اللہ نے رکھا ہے اس میں خیر وشر کی قوتیں بھی ودیعت کردی ہیں اور دونوں قوتوں کا چونکہ خالق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے اس نے اپنی مخلوقات میں سے خیر کو الگ مخاطب فرمایا اور شر کو الگ مخاطب کیا اور پھر دونوں کے مجموعہ کی تفہیم کے لئے ان دونوں کی الگ الگ گفتگو جو انکی فطرت اور سرشت کے مطابق تھی بیان فرما کر اس تیسری چیز یعنی انسان کے سامنے اس کو کھول کر رکھ دیا جو دراصل انسان کے اپنے ہی جسم کے مختلف اجزاء کی داستان ہے تاکہ وہ اپنی حیثیت وماہیت کو سمجھے اور اپنی حالت کا تجزیہ کرکے اپنی اصلاح کی کوشش کرتا رہے لیکن انسان نے اس کو بہت ہی کم سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی سادگی سے اس ادھیڑ بن میں رہا کہ باوا آدم تو جنت میں داخل ہوا لیکن یہ شیطان جنت میں کیسے داخل ہوگیا ؟ پھر اس سوال کا جواب دینے لگا تو عجیب عجیب جواب گھڑتا رہا اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ شیطان کو الگ کردیا جائے تو ” باوا آدم “ باوا آدم “ ہی نہیں رہتا بلکہ کچھ اور ہی ہوجاتا ہے ، یہ قصہ قبل ازیں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے لہذا دوبارہ دیکھنے کا شوق ہو تو ” عروۃ الوثقی “ جلد اول تفسیر سورة بقرہ آیات 30 تا 39۔ ” عروۃ الوثقی “ جلد دوم سورة النساء آیات 117 تا 121 عروۃ الوثقی جلد سوم تفسیر سورة الاعراف آیا 11 تا 25۔ عروۃ الوثقی جلدچہام سورة ابراہیم آیت 22 جلد پنجم سورة الحجرآیات 26 تا 42 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
Ayah 17:62ابلیس یعنی ان سرکش قوتوں کی کہانی ان کی زبانی جو انسان میں ودیعت کی گئیں ۔
79۔ شر کی طاقتوں کا داعیہ اور اپنی فطرت کا کھلا اعلان تاکہ انسان سمجھ جائے کہ یہ وہی طاقتیں ہیں جو میری فطرت ہیں رکھی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی خیر کی طاقتوں سے کام لے کر ان شر کی قوتوں سے جنگ کرے اور اس وقت تک ان کا پیچھا کرے جب تک وہ رام نہ ہوجائیں ۔ لیکن وہ کیا کرتا ہے ؟ اکثر حالات میں وہ شر کی طاقتوں کا ساتھ دے کر خیر کی طاقتوں کو دباتا ہے اور پھر دباتا ہی چلا جاتا ہے اس وجہ سے وہ قابل سزا ہوتا ہے ، شر کی طاقتوں کا نام کیا ہے ؟ ابلیس ‘ بس ابلیس اس طرح گویا ہوتا ہے کہ ” دیکھو تو سہی کہ وہ اس قابل تھا کہ تو نے اس کو مجھ پر فضیلت دی ؟ اگر تو مجھ کو قیامت تک مہلت دے تو میں اس کی نسل کی بیخ کنی کرکے رکھ دوں پر کم ہی لوگ ہوں جن کی قوت خیر سے مار کھا جاؤں ۔ “ اس طرح انسان کو سمجھا دیا کہ بلاشبہ آٹے میں نمک اور زہر دونوں ہم وزن ہی ڈالی گئی ہوں لیکن نمک کا عمل اپنا ہے اور زہر کا اپنا تو خود سمجھ لے کہ نقصان کس سے زیادہ ہوگا اور اس کی نوعیت کیا ہوگی ؟ (احتناک) کے معنی جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دینے ہیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ، غور کرو کہ آج بھی شر کی قوتیں خیر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہیں یا نہیں ؟
Ayah 17:63قادر مطلق نے جو سوانگ رچایا تھا ضروری تھا کہ ان کو اجازت دی جائے :
80۔ خیر وشر دونوں میں سے ایک کی موت کا نتیجہ کیا ہے ؟ یہی کہ انسان زندہ نہ رہے یا یہ کہ انسان انسان نہ رہے اگر انسان موجود ہو تو خیر وشر دونوں کا رہنا لازم وضروری قرار پاتا ہے ، دونوں طرح کی طاقتوں کے دنگل کا مقام کیا ہے ؟ انسان ! یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم صادر ہوتا ہے ” اچھا تو جا ‘ ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں تجھ سمیت ان سب کے لئے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے ۔ “ وہ تم کو دی جائے گی ، اپنے ہی بچے کو روٹی آپ نے دی اور آپ نے ہی اس سے مانگنی شروع کردی لیکن کتنے بچے ہیں جو دے دیں گے اور کتنے دینے سے انکار کردیں گے اور ہاتھ اپنی طرف کھینچیں گے گویا اس طرح آپ نے بچے کی آزمائش کرلی لیکن کیا آپ پہ اعتراض لازم آئے گا اگر مانگنا تھا تو روٹی دی کیوں ؟ اور اگر دی تھی تو پھر مانگی کیوں ؟ اگر آپ پر اعتراض نہیں آتا تو پھر اللہ جو قادر مطلق ہے اس پر یہ اعتراض کیونکر آئے گا کہ اس نے شیطان کو یہ اجازت آخر دی ہی کیوں ؟ پھر اگر اجازت دی تو اجازت دے کر وہ مجرم نہ ٹھہرا ؟ آزمائش کے لئے جو چیزیں شرط و لازم تھیں ان کا معرض وجود میں آنا اور ان کا آزادی دینا ضروری تھا ورنہ آزمائش اور امتحان ممکن ہی نہ تھا ۔
Ayah 17:64ابلیس کے اجازت نامہ کی پوری پوری وضاحت فرمادی گئی تاکہ کوئی ابہام نہ رہ جائے :
81۔ (واستفزز) کی اصلز ز ہے اور یہ مادہ صرف سورة بنی اسرائیل ہی میں استعمال ہوا ہے باقی قرآن کریم میں نہیں ۔ اس سورة میں تین بار اس کا استعمال ہوا ہے ایک زیر نظر آیت 64 میں (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک من الارض “۔ 76 آیت میں اور (آیت) ” فارادان یستفزھم “۔ آیت 103 میں ۔ (استفزز) امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو گھبرالے ‘ تو پھسلا لے ‘ تو ہلاکت میں ڈال لے ‘ تو ڈرالے اور تو خفیف بنا لے ۔ (صوت) ہر آواز کو کہتے ہیں ۔ جو دو چیزوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے ۔ (اجلب) ج ل ب سے اکٹھا کر ‘ شور مچا اور کھینچ لا ۔ یہ امر کے صیغے حکم کے طور پر نہی بلکہ اس کے اندر ودیعت کی گئی قوت کی ترجمانی کے طور پر ہیں جس طرح ہماری زبان میں ناراض ہو کر انسان دوسرے کو کہتا ہے کہ ” یار جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے کرلے ۔ “ فرمایا ” ان میں سے جس کسی کو تو اپنی صدائیں سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے لشکر کے پیادوں اور سواروں سے حملہ کر ‘ ان کے مال اور اولاد میں شریک ہو (اور طرح طرح کی باتوں کے) وعدے کر ۔ “ مختصر یہ کہ جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے یا کرسکتا ہے کرلے لیکن ایک بات یاد رکھو کہ ” شیطان کے وعدے اس کے سوا کچھ نہیں کہ سر تا سر دھوکا و فریب ہیں ۔ “ گویا آخری جملہ ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہہ دیا جن کو شیطان پھنسانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اس کے جھانسے میں آجاتے ہیں ۔
زیر نظر آیت نہایت ہی معنی خیز ہے اس میں ابلیس اور اس کے چیلوں کی پوری تصویر کشی کردی گئی ہے جو شخص مال کمانے اور خرچ کرنے میں اسلامی اصولوں کا پابند نہیں بلاشبہ اس کے مال میں شیطان مفت کا شریک ہے اور وہ اس کے اشاروں پر چلتا ہے جس کا انجام دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی کے سوا کچھ نہیں ، جو لوگ اپنی اولاد کی دنیوی زندگی سنوارنے کی کوشش میں دن رات مصروف ہیں لیکن اس کی آخرت کی فکر انکو دامن گیر نہیں بلاشبہ ان کی اولاد کی پرورش میں شیطان مفت کا شریک ہے گویا وہ اولاد خون پسینہ ایک کر کے کمانے والے کی نہیں جو اولاد کی خاطر محنت کی پرورش میں شیطان مفت کا شریک ہے گویا وہ اولاد خون پسینہ ایک کرکے کمانے والے کی نہیں جو اولاد کی خاطر محنت شاقہ اٹھا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ شیطان کی بھی اولاد ہے اور یہ مطلب ہے آیت کے ان الفاظ کا کہ (آیت) ” وشارکھم فی الاموال والاولاد وعدھم “۔ دنیا کے لمبے چوڑے پروگرام ان کو بنا بنا کر دے تاکہ وہ انہی وعدوں میں مصروف رہیں ، ظاہر ہے کہ یہ سارا خطاب اس طاقت وقوت سے جو برائی کی طاقت کہلاتی ہے اور جو انسان کے اندر ودیعت کی گئی ہے اس لئے انسان کو ان باتوں کا وسوسہ ڈالنے والا کہیں باہر سے نہیں آتا بلکہ ہر انسان کے اندر موجود ہے اور اس کو اس دلنشیں پیرایہ میں بیان کیا جارہا ہے تاکہ انسان کا اعزاز بھی قائم رہے اور اس کو ساری حقیقت سے بھی آگاہ کردیا جائے ، جن الفاظ کی اوپر تشریح اور تفصیل کی گئی ہے وہ محض اس لئے کی ہے کہ یہ الفاظ اس جگہ پر پہلی دفعہ آگاہ کردیا جائے ، جن الفاظ کی اوپر تشریح اور تفصیل کی گئی ہے وہ محض اس لئے کی ہے کہ یہ الفاظ اس جگہ پر پہلی دفعہ استعمال ہوئے ہیں اور ان الفاظ کا مفہوم بہت ہی معنی خیز ہے اور ان میں انسان کو اس کی پوری کیفیت وماہیت سے آگاہ کردیا گیا ہے اور اس کی تیقی کے روئیں روئیں کی وضاحت کردی گئی ہے اور تفہیم کا ایسا دلنشیں پیرایہ اختیار کیا ہے کہ اس کو جو کچھ کہا جاسکتا تھا سب کچھ کہہ دیا ہے اور محسوس بھی نہیں ہونے دیا اور یہی اس معجزانہ کلام کی خوبی ہے جو کسی دوسری جگہ نہیں ملتی ۔
Ayah 17:65فرمایا میرے بندوں پر تو قابو نہیں پاسکتا یہ ایک فیصلہ کن بات ہے :
82۔ آیت کے دو حصے ہیں پہلے حصے میں ارشاد فرمایا کہ ” جو میرے بندے ہیں ان پر تو قابو پانے والا نہیں “۔
(عبادی) کا لفظ بامحاورہ بھی ہو سکتا ہے اور اپنے حقیقی معنوں میں بھی ، اگر حقیقی معنوں میں استعمال ہو تو ظاہر ہے کہ بندے سارے اللہ ہی کے ہیں وہ نیک ہوں یا بد اچھے ہوں یا برے تو اس طرح آیت کے اس حصہ کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے بندوں یعنی انسانوں پر تجھے یہ طاقت نہ ہوگی کہ تو ان کو زبردستی اپنی طرف کھینچ لے جائے ، ہاں ! تو اس معاملہ میں اپنی کوشش کرسکتا ہے کہ بہکائے پھسلائے اور ان کی وعدے دے لیکن تیرے بہکانے ‘ پھسلانے اور مشوروں اور وعدوں میں آنے کے لئے وہ مختار ہیں چاہیں تیرے کہنے میں آئیں اور چاہیں تیرے کہنے میں نہ آئیں گویا یہ بتایا گیا ہے کہ اختیار و ارادہ میں نے ان سے سلب نہیں کیا کہ وہ مجبور محض ہوچکے ہوں نہیں نہیں ایسا نہیں بلکہ اختیار و ارادہ ان کا ہے اب اگر وہ چاہیں تو تیری باتوں میں آئیں اور سزا کے مستحق قرار پائیں ‘ چاہیں تجھے پاؤں کے نیچے روند ڈالیں اور انعام الہی کے مستحق قرار پائیں ۔
اور (عبادی) کا بامحاورہ مطلب یہ ہوگا کہ جو میرے خاص بندے یعنی نیک اور صالح لوگ ہیں ان کو بہکانے اور پھسلانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ضعیف الاعتقاد اور کمزور ارادہ کے لوگ نہیں بلکہ وہ شر اور خیر کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ تیرے سبز باغوں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں اور نہ ہی تیرے مقابلہ میں آسکتے ہیں اور آیت کا دوسرے حصہ کہ ” تیرا پروردگار کارسازی کے لئے بس کرتا ہے ۔ “ اس مطلب کی مزید وضاحت کردیتا ہے کہ خیال رہے جو لوگ اللہ پر اعتماد وبھروسہ رکھتے ہیں انکے اعتماد وبھرسہ کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچے گی بلاشبہ اللہ کی ہدایت ان کے لئے بس کرتی ہے اور اس کی وسعت گیری اور اعانت بھی انکو کفایت کرتی ہے ان کے لئے کسی چیز کی حاجت باقی ہی نہیں رہے گی اور وہ بخیریت اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے اور کامیابی ان ان کے قدم چومے گی ، وضاحت کے لئے سورة ابراہیم کی آیت 22 کو عروۃ الوثقی جلد چہارم میں دیکھیں ۔
Ayah 17:66تمہارا رب وہ ہے جس نے تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں پیدا کردی ہیں :
83۔ (یزجی) کا اصل زوج ہے واحد مذکر غائب وہ چلاتا ہے وہ ہنکاتا ہے اس سے (مزجاۃ) ہے جس کے معنی حقیر اور قلیل کے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہنکایا اور چلایا بھی اس کو جاتا ہے جو حقیر وپابند ہو۔ گزشتہ آیات میں ابلیس کے بہکاوے میں آنے والوں اور بہکاوے میں نہ آنے والوں کا ذکر تھا ، زیر نظر آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو ابلیس کے بہکاوے میں آنے والے ہیں اور شیطان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں رب ذوالجلال والاکرام کو بالکل بھول چکے ہیں ‘ ان کو یاد دلایا جارہا ہے کہ جس ذات نے تم کو پیدا کیا ہے اس نے تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں بھی پیدا کردی ہیں اور غور کرو تو ایک ایک چیز تم کو تمہارے پروردگار کی طرف راہنمائی کرے گی فرمایا تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہاری کار براریوں کے لئے سمندر میں جہاز چلاتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے اندر عقل وفکر کی قوت ودیعت کی جس سے کام لے کر تم کشتیاں اور جہاز بناتے ہو ، وہ اللہ جس نے پانی پیدا کردیا اور اس فراوانی سے کردیا اور پھر اس میں یہ صفت ودیعت کردی کہ اس کی پیٹھ پر اتنے اتنے بڑے جہاز اور کشتیاں تیر سکیں اور اس کے ساتھ ہوائیں چلائیں جو تمہارے جہاز اور کشتایں چلنے میں تمہاری مدد کرتی ہیں ، اگر وہ تم کو عقل وفکر ودیعت نہ کرتا یا پانی میں یہ صفت پیدا نہ کرتا یا صرف ہوائیں ہی نہ چلاتا یا چلا تا تو وہ ہمیشہ مخالف ہی ہوتیں تو تمہارا حال کیا ہوتا ، اس مناسبت سے اس جگہ تو حید کا بیان شروع کردیا اور انسانوں کو بتایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی تسخیر کردہ چیزوں سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہو لیکن اس کے باوجود ان کو تسخیر کرنے والا ہی تمہاری یادداشت میں نہیں رہتا ، اس نے تو تمہارے فائدے کے لئے یہ سارے کام کئے ہیں اور تم اپنے سامان ادھر اور ادھر ادھر سے ادھر لا لے جا رہے ہو اس کی رحمت بےپایاں کا کوئی شمار ہے ، کبھی تم بھی غور کرلیا کرو کہ کھاتے بھی جا رہے ہو اور انکار بھی کئے جا رہے ہو ۔
Ayah 17:67تمہیں اگر اللہ یاد آتا ہے تو صرف دکھ کے وقت اور سکھ کے وقت تم اس کو بھول جاتے ہو :
84۔ انسان کی حالت بھی بڑی عجیب ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اپنے محسن حقیقی کو ہر وقت یاد رکھتا لیکن انسان اپنے رحیم وکریم مالک کے احسانات کو اکثر بھولا ہی رہتا ہے اور اپنے محسن حقیقی کی جگہ ان کو دیتا ہے جن کو اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں اور پھر وہ ان آنکھوں دیکھی ہستیوں کو اس ذات کے تخت پر بٹھا دیتا ہے جس کو اس کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں ۔
کبھی وہ اس کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے اور کبھی وہ انہی پر انحصار کر بیٹھتا ہے ، انسان کو اس حماقت کو واضح کرنے کے لے ارشاد ہو رہا ہے کہ جب تم سازوسامان سے لدے ہوئے جہازوں کو لے جا رہے ہوتے ہو یا ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچنے کے لئے مل کر اس میں سفر کر رہے ہوتے ہو تو اچانک ایک خوفناک طوفان اٹھتا ہے اور تمہارا جہاز گرداب میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور ہلاکت تمہاری طرف پورا منہ کھول کر دوڑ پڑتی ہے تو اس وقت تم سارے دیوی ‘ دیوتاؤں داتاؤں ‘ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کو بھول جاتے ہو اور صرف رب حقیقی کے حضور گڑگڑانے لگتے ہو اور اپنی نجات وسلامتی کے لئے دعائیں مانگتے ہو اور اپنی دعاؤں میں صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ ہی کو پکارتے ہو ذرا بتاؤ کہ جس رب العزت کی طرف تمہارا اس وقت خیال جاتا ہے کیا وہ تمہارے دل کی گہرائیوں میں موجود نہیں تھا ۔ اگر تھا تو یہ بات اس کی کھلی دلیل ہے کہ انسانی فطرت میں عقیدہ توحید کی تخم ریزی کی گئی ہے اور جب خارجی اور اجنبی آمیزش ختم ہوتی ہے تو عقیدہ توحید خود بخود بےنقاب ہوجاتا ہے لیکن تعجب پر تعجب یہ ہے کہ جبھی تم اس طوفان سے نجات پاگئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خشکی پر پہنچے تو تم نے ذرا دیر نہ لگائی اور فورا اس رب کریم سے منہ موڑ گئے اور اتنے آگے نکل گئے کہ گویا آپ نے کبھی اس کو یاد کیا ہی نہ تھا اور تم کبھی اس گرداب میں پھنسے ہی نہ تھے ، انسان بھی عجیب ناشکری چیز ہے کہ جس کا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ اس کو رو گردانی کرتے کچھ دیر ہی نہیں لگتی ۔ مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد چہارم ‘ سورة یونس کی آیت 22 کا مطالعہ کریں ۔
Ayah 17:68غور کرو کہ تم خشکی پر پہنچ کر نچنت کیسے ہوگئے ؟ کیا موت صرف سمندر ہی میں تھی :
85۔ کبھی سوچنے اور سمجھنے کی بھی کوشش کرو ‘ تمہاری مت شرک نے کیسے ماری دی اور تمہاری حماقت کی بھی آخر کوئی حد ہے کہ سمندر میں تم عذاب الہی سے ڈر کر شرک سے تائب ہوگئے اور تم نے خالص اللہ کو پکارنا شروع کردیا اور جب خشکی پر پہنچے تو پھر وہی ” علی مشکل کشا “ ” عبدالحق بیڑادھک “ اور ” یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا اللہ “ ” میراں موج کے دریا کھول رحم کی گلی “ عجیب لچھن ہیں تمہارے ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ خشکی پر شرک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اس جگہ کوئی عذاب نہیں آئے گا گویا موت سمندر ہی میں آتی ہے ؟ بیوقوفو ! اللہ چاہے تو جس سطح زمین پر تم کھڑے ہو اس کو ذرا ہلا دے اور ایک جھٹکے میں تمہارے کام تمام کر دے یا تمہاری طاقت سلب کردے اور تم ایک قدم آگے پیچھے نہ ہو سکو تم پر ایسے اولے برسائے کہ تم کو اور کھیتی باڑی کو دیکھتے ہی دیکھتے تباہ وبرباد کر کے رکھ دے ۔ (حاصب ) اس ہوا اور بادل کو کہتے ہیں جس سے اولے برستے ہیں اور سنگریزوں کا اڑا کر ادھر سے ادھر کردیا جاتا ہے اور اس الٹ پلٹ میں ہرچیز تہس نہس ہو کر رہ جاتی ہے ، پھر جب ایسا حکم خداوندی آجاتی ہے تو کوئی مددگار اور کارساز بھی نہیں جو ایسے مشکل وقت میں اس مشکل سے نکال سکے کیا تم نے کبھی ایسا ہوتے نہیں دیکھا ؟
Ayah 17:69کیا زندگی میں تم کو ایک بار ہی بحری سفر کرنا تھا دوبارہ اس کی ضرورت پیش نہیں آسکتی ؟
86۔ غور کرو کہ کیا زندگی میں پھر تم کو ایسا سفر نہیں درپیش آسکتا ؟ اگر آسکتا ہے تو پھر جب تم ساحل سمندر سے دور گہرے پانیوں میں پہنچ جاؤ تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تیز وتند ہوا میں پھنسا دے کیا اب تم نے اس کا انتظام کرلیا کہ پھر ایسا نہیں ہو سکتا ؟ اگر نہیں تو تم اس سے نچنت کیوں ہوگئے ہوگئے ہو حالانکہ ایسا ممکن ہے کہ پہلے تو تم پر حاصب چلائی گئی تھی اور اب کی دفعہ تم پر فاصب چلا دے ۔ (فاصب) اس ہوا کو کہتے ہیں کہ جس چیز سے وہ گزرے اس کو توڑ موڑ کر اور چیر پھاڑ کر رکھ دے ، مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ اگر اس بار تم پر ایسی ہوا بھیج دے جو تمہاری کشتی اور جہاز کو ریزہ ریزہ کردے تو کون ہے جو ایسا کرنے سے اس کو روک دے گا اور اس وقت تم ہزار بار چلاؤ اور فریاد کرو تو کوئی بھی مشکل کشا تمہاری مشکل حل نہ کرسکے اور اللہ تمہاری ایک نہ سنے تو آخر تم کیا کر لوگے ، اس اللہ رب العزت سے ہر وقت اور ہر آن ڈرتے رہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو یاد رکھو کہ علی کا مشکل کشا بھی وہی ہے اور شیخ جیلانی کا بھی وہی ‘ عبدالحق بھی اس کا بندہ و غلام تھا اور میراں صاحب بھی انمیں ایک بھی نہیں جو خود اپنا ہی مشکل کشا نہیں تو تمہارا مشکل کشا کوئی کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر سن لو کہ مشکل کشا صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات ہے اگر وہ کسی کو دیکھ دینا یا تکلیف دینا چاہے جو انسان کو اپنی ہی غلطیوں کے باعث پہنچ سکتی ہے تو کون ہے جو اس کو بچا لے اور دکھ اور تکلیف نہ پہنچنے دے ؟ کوئی نہیں اور یقینا نہیں یہ اس ذات کا فضل و کرم ہے کہ لوگ شرک بھی کئے جا رہے ہیں اور زندگی کی بہاریں بھی لوٹ رہے ہیں اسلئے کہ وہ (رب المسلمین) ہی نہیں بلکہ (رب العلمین) بھی ہے ، اس نے ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہے جو اپنے مقرر سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا اور سن رکھو کہ اس کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہیں ۔
Ayah 17:70انسان کو بزرگی بخشنے والا اور خشکی اور تری میں رزق بہم پہنچانے والاوہی ہے :
87۔ انسان جو مجسمہ خیر وشر ہے اس کا اکرام اور اس کی عزت افزائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اگر وہ شرک ہے تو اس طاقت اور قوت کے ذمہ ڈالا جاتا ہے جس کو ابلیس کہا گیا ہے اور فی نفسہ اس کا نام نہیں لیا جاتا کیونکہ اس وقت اس کی خیر کی قوت دب چکی ہوتی ہے اور یہ بھی انسان ہی کی عزت افزائی ہے کہ اس دنیا کی ہرچیز اس کے لئے مطیع وفرمانبردار کردی گئی ہے اور جس چیز کو وہ تسخیر کرنا چاہے کرسکتا ہے ‘ دریاؤں کے سینے چیرے یا کوہستان کی چوٹیوں کو سر کرنا چاہے تو اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ، اس کے قالب خاکی میں اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کی صلاحیت ودیعت کردی ہے اور اس کا مقام تحت الثری سے لے کر ثریا تک کی ہرچیز سے اونچا ہے اس لئے جس چیز کی طرف بھی وہ ہاتھ بڑھائے وہ مسخر ہو کر رہ جاتی ہے ، ہم نے بحر وبر کی سواریوں پر سفر کرنے کی صلاحیت اس میں رکھ دی ہے اور وہ ہماری اس صلاحیت سے کام لے کر ستاروں پر کمندیں ڈال سکتا ہے اور ہم نے اس کی روزی کو ہر طرف پھیلا رکھا ہے اور صاف ستھری چیزیں اس کو بہم پہنچانے کی ذمہ داری لے رکھی ہے جس کو باقاعدگی کے ساتھ ہم پورا کر رہے ہیں ۔ ہم نے زمین کو اس طرح بچھا دیا ہے اور اس میں یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ انسان کی ساری گندگی اور بےکار چیزوں کو ہڑپ کر جاتی ہے اور اس کے عوض میں اس کو صاف اور ستھری چیزیں واپس لوٹاتی ہے یہ ساری کاریگری کس کی ہے ؟ اس اللہ ہی کی تو ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا اور اس میں جو صلاحتیں ودیعت کیں وہ کسی دوسری مخلوق میں نہیں کیں خواہ وہ نوری مخلوق فرشتے ہیں کیوں نہ ہو اور پھر انسان کے اندر بھی اس نے مختلف مدارج ٹھہرا دیئے ہیں اور بعض کو بعض پر فضیلت دے دی ہے اور بعض مخلوق کو بعض پر فضیلت کا اعلان عام ہے ۔
Ayah 17:71ایک دن آنے والا ہے کہ ہم ہر ایک گروہ کو اس کے پیشوا کی پہچان سے پکاریں گے :
88۔ نکرہ اور معرفہ کی بحث کو اٹھا کر طوفان بدتمیزی بپا کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ زیر نظر آیت میں (یوم) کا لفظ نکرہ ہے معرفہ نہیں لیکن اس (یوم) سے مراد سب کے نزدیک ایک خاص دن ہے جو معرفہ ہے نکرہ نہیں اور آنے والی عبارت یا جملہ نے ہی اس کو معرفہ بنا دیا یعنی حشر کا دن وہ دن ہے جس دن ہم انسانوں کو ان کے پیشواؤں کے نام سے پکارا جائے گا ۔ مفسرین (امام) کے بہت سے مفہوم بتاتے ہیں اور نتیجہ سب کا ایک ہی نکلتا ہے ، کہا گیا ہے کہ امام سے مراد ہر امت کا رسول ہے گویا ہر امت کو اس کے رسول کے نام سے پکارا جائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام سے مراد ” ‘ کتاب اللہ “ ہے اور مطلب یہ ہے کہ کتاب کی طرف نسبت دے کر بلایا جائے گا کہ اے تورات والو ! اے انجیل والو ! اے قرآن والو ! اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو ان کے وقت کے پیشوا کی طرف نسبت دے کر بلایا جائے گا خواہ وہ اچھا ہو یا برا کیونکہ پیشوا اور امام اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی اور ” آئمہ “ کا لفظ اچھے پیشواؤں پر بھی بولا جاتا ہے اور برپیشواؤں پر بھی ، چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ (آیت) ” وجعلنا منھم ائمۃ یھدون بامرنا “۔ (السجدہ 32 : 24) ” اور ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کئے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے ۔ “ اور دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” وجعلنا ھم ائمۃ یدعون الی النار “۔ (القصص 28 : 41) ” اور ہم نے انہیں جہنم کی دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا ۔ “
اور بعض نے کہا ہے کہ امام سے مراد معبودان باطل ہیں یعنی جس جس کو معبود سمجھتے تھے ان کو اس معبود کی طرف نسبت دے بلایا جائے گا ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے امام ام کی جمع ہے جیسے خف کی جمع خفاف ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو ماؤں کی طرف نسبت دے کر بلایا جائے گا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا اکرام اور حسنین کا اکرام بحال رہے اور ان کی عظمت قائم رہے اور یہ مصلحت بھی ہے کہ ولد الزنا رسوا نہ ہوں ، گویا بعض بیوقوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور حسنین کو ولد الزنا لوگوں کے ساتھ جا ملایا اور کسی کے کان پر جوں بھی نہ رینگی کہ کہنے والے نے کیا کہہ دیا پھر آنے والوں کے لئے پہلے کہنے والے حجت و دلیل ہوگئے اور آج یہی تفسیر زبان زدعام وخاص ہے ، قرآن کریم کی زبان میں (ائمۃ) کا لفظ جب اچھے اور برے سرداروں کے ساتھ منسوب ہوتا ہے تو ظاہر ہے انہی پیشواؤں کے نام سے ان کو یاد کیا جائے گا اور خصوصا اچھے یا برے کاموں کی داغ بیل ڈالنے والوں کے نام سے ان لوگوں کو بلائے جانا جو ان کے بعد ان کے پیروکار ہوتے زیادہ قرین قیاس ہے اور روایت میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور قرآن کریم کی ان آیات سے بھی یہی بات نکلتی ہے جو اوپر بیان کی گئیں ۔
آخرت کی کامیابی کی پہچان کا آسان طریقہ اعمال نامہ دیا جانا ہے :
89۔ اب کامیاب اور ناکام لوگوں کی پہچان مزید آسان کردی گئی فرمایا کچھ لوگوں کے داہنے ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا پس وہ اپنی کتاب کو یعنی اعمال نامہ کو خوشی خوشی پڑھیں گے اور انکی کامیابی کی علامت سے بات مزید واضح ہوجائے گی وہ بحمد اللہ اہل جنت ہیں کیونکہ دوسری جگہ اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اہل جنت کو دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اہل جہنم کو بائیں ہاتھ میں ، جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِیْنِہِ فَیَقُولُ ہَاؤُمُ اقْرَؤُوا کِتَابِیْہْ (19) إِنِّیْ ظَنَنتُ أَنِّیْ مُلَاقٍ حِسَابِیْہْ (20) فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ (21) فِیْ جَنَّۃٍ عَالِیَۃٍ (22) قُطُوفُہَا دَانِیَۃٌ (23) کُلُوا وَاشْرَبُوا ہَنِیْئاً بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِیْ الْأَیَّامِ الْخَالِیَۃِ (24) وَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِشِمَالِہِ فَیَقُولُ یَا لَیْْتَنِیْ لَمْ أُوتَ کِتَابِیْہْ (25) وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِیْہْ (26) یَا لَیْْتَہَا کَانَتِ الْقَاضِیَۃَ (27) مَا أَغْنَی عَنِّیْ مَالِیْہْ (28) ہَلَکَ عَنِّیْ سُلْطَانِیْہْ (29) (الحاقہ 69 : 19 تا 29)
” اس وقت جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا لو دیکھو پڑھو میرا نامہ اعمال میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے ، پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا ، عالی مقام جنت میں جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑے رہے ہوں گے ، مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں اور جس نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا جائے گا وہ کہے گا کاش ! میرا نامہ اعمال مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے ، کاش ! میری وہی موت فیصلہ کن ثابت ہوتی ‘ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ‘ میرا سارا اقتدار ختم ہو کر رہ گیا ۔ “
اور زیر نظر آیت کے آخر میں فرمایا (آیت) ” ولا یظلمون فتیلا “۔ اور ان پر رائی برابر بھی زیادتی نہ ہوگی ، حق سے تجاوز کمی میں ہو یا زیادتی میں ظلم ہے ، ہمارے ہاں کم دینے کو بہرحال ظلم سے تعبیر کیا ہی جاتا ہے اگرچہ اس لحاظ سے سب کے سب ہی ظالم ہوں لیکن زیادہ دینے کو کوئی ظلم نہیں رکہتا ، اس جگہ مراد کمی کرنا ہے یعنی ان کو ان کے اعمال کی جزاء پوری پوری دی جائے گی کمی نہیں ہوگی اور ان کی کامیابی کا راز بھی اس بات پر موقوف ہے ۔
Ayah 17:72جو دنیوی زندگی میں اندھا رہا وہ آخرت کی زندگی میں بھی اندھا ہی رہے گا :
90۔ اس اندھے سے سے آنکھوں کا اندھا نہیں بلکہ دل کا اندھا مراد ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب کسی پر اندھے پن کا وقت آتا ہے تو آنکھوں کی بصارت نہیں جاتی بلکہ دل کی بصیرت جاتی رہتی ہے حالانکہ دل ہی کی بصیرت سے ساری بصارت ہے ۔
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مرجائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے :
ظاہر ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں دل کے اندھے ہیں یعنی وہ ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی ان دیکھی کردیتے ہیں اور اپنی غرض کے بندے ہیں وہ غرض ہی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور جہاں ان کی دنیوی غرض وابستہ نہیں ہوتی ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ ان کو جائز وناجائز اور صحیح و غلط کی بحث نہیں بلکہ ان کو ان کی خواہش نے اندھا بنا رکھا ہوتا ہے اور ان کی ساری زندگی اس طرح گزر جاتی ہے ، آخرت نام کی شے انکے ذہن و دماغ میں موجود ہی نہیں وہ اس دنیا کے نفع کو نفع اور اس دنیا کے نقصان کو نقصان سمجھتے ہیں آخرت کے نفع ونقصان کی طرف انہوں نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا وہ آخرت کی زندگی میں پہنچ کر کیا خاک دیکھیں گے جب اس دنیا میں کئے گئے اعمال کا رزلٹ انکو ملے گا ، آنکھ سے دیکھنا مراد ہوتا تو قرآن کریم نے دوسری جگہ ان اندھوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ (آیت) ” فکشفنا عنک غطآء ک فبصرک الیوم حدید “۔ (ق 50 : 22) ” جس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تجھ پر پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے ۔ “ بلاشبہ اس دل کے اندھے کو اب سب کچھ نظر آئے گا لیکن اس نظر آنے کا کوئی نتیجہ ؟ اس لئے کہ وہ تو درالجزاء ہے دارالعمل نہیں ۔ لہذا اس دنیا میں اندھے کو اندھے پن کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا اگرچہ وہ سب کچھ دیکھ بھی رہا ہو اور خصوصا اپنے انجام کو تو وہ دیکھ ہی چکا ہوگا اور زیر نظر آیت کے جملہ (واضل سبیلا) نے مزید حقیقت کھول دی (اضل) اس لئے کہ جو شخص غلط راستے کو اختیار کرلیتا ہے وہ روز بروز حق سے دور ہی ہوتا جاتا ہے اور حق سے دور ہونے کا انجام سب پر روشن ہے اور اسی بات کا اس جگہ بیان ہے ۔
اس کی مزید تشریح سورة طہ میں خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے جہاں فرمایا گیا :
(آیت) ” وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی (124) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ أَعْمَی وَقَدْ کُنتُ بَصِیْراً (125) قَالَ کَذَلِکَ أَتَتْکَ آیَاتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذَلِکَ الْیَوْمَ تُنسَی (126) (طہ 20 : 124 ، 126)
” اور جو شخص میری یاد سے روگرداں ہوگا تو اس کی زندگی ضیق میں گزرے گی اور قیامت کے دن بھی میں اسے اندھا اٹھاؤں گا ۔ وہ کہے گا پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ میں تو اچھا خاصا دیکھنے والا تھا ، ارشاد ہوگا ہاں ! اس طرح ہونا تھا ہماری نشانیاں تیرے سامنے آئیں مگر تو نے انہیں بھلا دیا سو اسی طرح آج تو بھی بھلا دیا گیا ۔ “
فرمایا جس نے ہمارے ذکر سے اعراض کیا تو اسے دو حالتیں پیش آئیں گی دنیا میں اس کی زندگی ضیق میں پڑجائے گی وہ بظاہر کتنا ہی نحال ہوجائے لیکن دل کی طمانیت اور روح کا انبساط اسے کبھی نہیں ملے گا اور آخرت میں بینائی سے محروم ہوجائے گا سعید انسانوں کی نگاہئیں روشن ہوگی اس کی اندھی ‘ وہ جمال الہی کا نظارہ کریں گی اس کے آگے پردہ پڑا ہوگا (کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون “۔ (83 : 15)
وہ اندھا کیوں ہوجائے گا ؟ اس لئے کہ آخرت کی زندگی دنیوی زندگی کا نتیجہ ہے اس نے دنیا میں قدرت کی نشانیوں سے آنکھیں بند کرلی تھیں اس لئے آخرت میں بھی اس کی آنکھیں بند رہیں گی ، اب زیر نظر آیت کو پڑھو (من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا “۔ معلوم ہوا کہ قرآن کریم کے نزدیک ثواب آخرت کی حقیقت یہ ہے کہ نگائیں جمال الہی کے نظارہ سے شاد کام ہوں گی اور عذاب کی یہ ہے کہ اندھی ہو کر محجوب ہوجائیں گی اور یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے ۔
Ayah 17:73انہوں نے آپ کو برگشتہ کرنے کا پختہ عہد کرلیا تھا لیکن انہوں نے منہ کی کھائی :
91۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ خود اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا موید و مددگار ہے اس نے آپ کو راہ راست پر پختہ رکھنے کی توفیق دی اور اس زمانہ کے سارے شریروں کے شر سے آپ ﷺ کو محفوظ رکھا ورنہ شریروں نے شرارتوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ، آپ ﷺ کو ڈرایا دھمکایا اور آپ ﷺ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کیں ، آپ ﷺ کو مجنون ‘ شاعر ‘ جادوگر اور سحر زدہ قرار دیا ۔ آپ ﷺ نے متعلق فتنہ و فساد کے شوشے چھوڑے لیکن ان ساری باتوں کا نتیجہ کیا رہا ؟ آپ ﷺ کو اپنے دشمنوں پر فتح و کامیابی عطا کی گئی ، آپ ﷺ کو دین کے مخالفین کی مخالفت کے باوجود غلبہ بخشا اور مشرق ومغرب میں اسلام کا پرچم تائید الہی سے لہرایا جو آج تک لہرا رہا ہے اگرچہ وہ ہماری بدقسمتی سے سرنگوں ہے ، قریش مکہ جب مخالفت کر کر کے تھک ہار گئے تو انہوں نے لالچ دینے کا ہتھیار سنبھال لیا اور آپ ﷺ کے قدموں میں دولت کے ڈھیر لگانے کے لئے تیار ہوگئے اور علاقہ کا تاج وتخت پیش کردیا اور حسین و جمیل عورت کا رشتہ دین کے بار بار کوشش کی لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ نے ان کی ساری پیش کشوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا اور فرمایا کہ اگر تم میں ہمت ہے تو سورج میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند بائیں ہاتھ پر رکھ دو تب بھی میں اللہ کے کلام میں بال برابر ردوبدل نہیں کرسکتا ، اللہ نے مجھے جس مقصد کے لئے مبعوث فرمایا ہے اس کی تبلیغ میں سر گرم عمل رہوں گا یہاں تک کہ میں اپنے مقصد میں بحکم الہی کامیاب ہوجاؤں یا میری زندگی ختم ہوجائے ۔
اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی قوم کے عقائد ونظریات کتنے ہی بودے اور سطحی کیوں نہ ہوں لیکن وہ ان کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتی بلکہ ان کو بحال رکھنے کے لئے اپنی سرتوڑ کوشش کرتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ اپنے آباء و اجداد کی غلط رسم و رواج کو وہ ہرگز مٹنے نہیں دیتے بلکہ ان کا مٹنا وہ اپنی موت سمجھتے ہیں کسی برے سے برے انسان کی اولاد بھی کم از کم اس کے مرنے کے بعد برے کو برا کہنا برداشت نہیں کرتی اور سردھڑ کی بازی لگا دیتی ہے ، اس وقت کی بات کرنا آسان ہے لیکن غور کرو کیا آج ہم وہی کچھ نہیں کر رہے جو کفار مکہ کرتے رہے ۔
سیرت ابن ہشام میں ہے کہ ایک وفد نبی اعظم وآخر ﷺ کے پاس پہنچا اور کہا کہ قرآن کریم میں یہ جو (من دون اللہ ) معبودان کا ذکر آپ کرتے ہیں اس کو چھوڑ دیں تو آپ کی تحریک چمک اٹھے اور صرف یہی نہیں بلکہ ہم آپ کو جتنی دولت آپ چاہیں دینے کو تیار ہیں اس لفظ نے ہمیں بہت تکلیف دی ہے اور تعجب ہے کہ آج بھی ہم آپ کو جتنی دولت آپ چاہیں دینے کو تیار ہیں اس لفظ نے ہمیں بہت تکلیف دی ہے اور تعجب ہے کہ آج بھی ہم مسلمانوں میں سے اکثریت کو یہی لفظ (من دون اللہ) غیظ وغضب دلاتا ہے اور وہ اس کو سن کر اس قدر مشتعل ہوتے ہیں کہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ اس وقت اس لفظ سے روکنے والے کفار کے سرکردہ لوگ تھے اور آج جن کو یہ لفظ غصہ دلاتا ہے وہ ” عاشقان رسول “ ” محبان ناموس رسالت “ جیسے ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں اور اس طرح کے بہت سے ایسے نام انہوں نے رکھ لئے ہیں ۔
وہ دوستی کرنے کے لئے ایسے مطالبات پیش کرتے تھے اور یہ دوستی کا دم بھرنے کے ساتھ ساتھ اس بات سے نفرت کرتے ہیں اور اپنے بزرگوں ‘ پیروں اور مرشدوں کو (من دون اللہ) تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ، تعجب ہے کہ آج بھی بڑے بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے یہی بات کہتے ہیں کہ صاحب اگر آپ یہ بات نہ کہتے تو آج آپ کی بہت قیمت ہوتی یہ اتنا مشکل کام آپ نے کیوں اپنا لیا دیکھو سارے لوگ جب ایک بات کہہ رہے ہیں تو آخر وہ سارے ہی تو غلط نہیں تھے ۔ اگر آپ یہ بات نہ کریں تو کتنا ہی اچھا ہو ؟
Ayah 17:74اگر ہم آپ ﷺ کو مضبوط نہ کردیتے تو ممکن تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف تھوڑا سا جھک جاتے :
92۔ ” اور اگر ہم نے تجھے جما نہ دیا ہوتا تو تو ضرور ان کی طرف کچھ نہ کچھ میلان کر ہی بیٹھتا ، “ مطلب یہ ہے کہ اگر وحی الہی کی روشنی تیری راہنمائی کے لئے موجود نہ ہوتی تو وقت کی تاریکی اتنی شدید تھی کہ ممکن نہ تھا اس بےلاگ ثبات و استقامت کے ساتھ آپ ﷺ اپنی راہ چلتے رہتے ، کام کی دشواریاں ضرور تجھے تھکا دیتیں ، طاقت ورافراد کی منتیں اور التجائیں ضرور تجھے متوجہ کرلیتیں طرح طرح کی مصلحتیں ضرور دامن گیر ہوجاتیں اور لغزشیں ‘ ٹھوکریں قدم قدم پر نمودار ہوتیں لیکن اب کوئی چیز بھی تیری راہ نہیں روک سکتی ، کوئی فتنہ بھی تجھے قابو نہیں نہیں لاسکتا اور کوئی چیز بھی تیرے راستہ کا روڑا نہیں ہوسکتی ، یہ وحی الہی کی راہنمائی ہے اور وحی الہی کی راہنمائی پر کوئی انسانی طاقت غالب نہیں آسکتی واضح مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام اور رسل عظام کی تعلیم وتربیت براہ راست اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے ان کی ہمت اور حوصلہ ثابت قدمی کا مقابلہ کوئی دوسرا انسان خواہ وہ کتنا ہی ثابت قدم کیوں نہ ہو نہیں کرسکتا ۔
صدیق اکبر ؓ کی کتنی ہی بڑی شان کیوں نہ ہو لیکن پھر بھی دل میں وسوسہ پیدا ہوا لیکن فورا رسول اللہ ﷺ کی زبان گویا ہوئی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں (ان اللہ معنا) بلاشبہ اللہ ہمارے ساتھ ہے یہی وہ فرق ہے جو کہ زیر نظر آیت میں اجاگر کیا گیا ہے ۔
Ayah 17:75قانون الہی کی سختی کے ساتھ پابندی کا سبق آپ ﷺ کی امت کو دیا گیا :
93۔ خالق اور مخلوق کا فرق اس آیت نے واضح کردیا اور فرمایا کہ رسول کتنا ہی بلند مرتبہ اور عالی حوصلہ ہوں لیکن پھر بھی آخر مخلوق ہیں اور خالق مخلوق کے سامنے کبھی مجبور نہیں ہوتا اور مخلوق میں سے اگر کوئی بھی لغزش کرے تو خالق اس کو پوچھ سکتا ہے اور خالق کبھی کسی طرح کی لغزش کا امکان اور صدور نہیں ہوتا فرمایا کہ اللہ اپنے وعدہ کا اتنا پابند اور اپنے قانون کا اس قدر محافظ ونگہبان ہے کہ وہ کبھی بھی اس میں خلاف ورزی نہیں ہونے دیتا ۔ رسول اللہ ﷺ سے نہ لغزش ہوئی اور نہ ہی ایسی لغزش کا کوئی امکان تھا یہ امکان انسانی حد تک کہا جارہا ہے رب ذوالجلال کے مقابلہ میں نہیں ، اس لیے اگر رسول سے لغزش ہوتی تو قانون کی خلاف ورزی پھر بھی نہ ہوتی بلکہ وہ اپنا کام کرجاتا۔ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ ایسا ممکن نہ تھا تو یہ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے قدم جما دیئے تھے اور اللہ جس کے قدم جما دے تو کون ہے جو اس میں لغزش ڈال دے۔ رہا امکان انسانی تو اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو جتنا عذاب دیا جاتا رسول کے لیے اس سے دوگنا ہوتا ، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت کی زندگی میں بھی۔ اتنا سخت حکم دینے سے مقصود یہ ہے کہ امت کے لوگ سمجھ لیں کہ کسی نبی و رسول کے اپنے اختیار میں نہیں کہ وہ لغزش سے بچ سکے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فضل خاص ہے جو انبیاء و رسول کے لیے رب کریم فرماتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا : (اللَّهُمَّ لَا تَکِلْنِی إِلَی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ ) اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے ذمہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چھوڑ۔ جس سے واضح ہوا کہ آپ ﷺ حفاظت الٰہی پر ہی بھروسہ رکھتے تھے اور وہی ذاست ہے جس پر سب انسانوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔
Ayah 17:76اگر آپ ﷺ کو وہ اس زمین سے نکال دیں گے تو وہ آپ ﷺ کے بعد دیر تک نہیں ٹھہر سکتے :
94: سنت الٰہی کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنے کی انہوں نے ہر ممکن کوش کی لیکن جب تک اللہ نے چاہا وہ آپ ﷺ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے اور جب آپ ﷺ کو یہاں سے نکل جانے کا حکم ہم صادر کریں گے تو وہ وہی وقت ہوگا کہ ان کے یہاں سے نکل جانے کا وقت بھی قریب آچکا ہوگا کیونکہ ہماری سنت یہ ہے کہ جب ہم کسی رسول کو اس کے علاقہ سے کل جانے کا حکم دیتے ہیں اور وہ ہمارے حکم سے ہجرت کرجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی قوم بھی زیادہ دیر تک وہاں نہیں رہ سکتی پھر اب بھی یہ کچھ ہوگا جو ہوتا چلا آیا ہے۔ آپ ﷺ کو اے رسول ! وہ مکہ سے نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں ، جب آپ ﷺ کا وہاں سے نکل جانے رہنے سے زیادہ بہتر ہوگا تو ہم آپ ﷺ کو نکل جانے کا حکم دیں گے۔ پھر جب ہم حکم دیں تو آپ ﷺ کو وہاں سے نکل جانا ہوگا۔ ہاں ! یہ ہمارا طریقہ پیچھے سے چلا آ ہا ہے کہ جب کسی نبی و رسول کو ہم دارالقامہ سے ہجرت کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں تو اس کے بعد وہ قوم بھی زیادہ دیر تک وہاں نہیں ٹک سکتی اور یہی کچھ ان مکہ والوں کے ساتھ ہوگا۔ یہ پیشگوئی کے طور پر فرما دیا گیا پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ جب تک اللہ نے چاہا نبی اعظم و آخر ﷺ کو مکہ میں رکھا اور جب چاہا ، وہاں سے ہجرت کر جانے کا حکم صادر فرمایا اور اللہ کے حکم سے جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر گئے تو زیادہ دیر نہ گزری کہ قحط سالی ان پر مسلط کردی اور رہتی کسر ان جنگوں میں پوری ہوگئی جو مکہ والوں نے اسلام کے خلاف لڑیں۔ ان کی کمر تو بدر ہی میں توڑ کر رکھ دی تھی لیکن فتح مکہ میں ان کا سر کٹ کر رہ گیا اور اس طرح بہت سے لوگ تو اسلام میں داخل ہوگئے اور کتنے ہی تھے جن کو عبرتناک موت کی سزا ملی۔
Ayah 17:77جتنے رسول ہم نے بھیجے جو ان کے ساتھ ہوا وہی آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا اور ہمارا فیصلہ بدلتا نہیں :
95: نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے نبیوں اور رسولوں کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ایک ایک کے حالات دیئکھتے چلے جاؤ ، اس کے بعد تاریخ و سیر کی کتابیں دیکھتے چلے جاؤ ایک بھی نبی و روسل آپ کو نہیں ملے گا جس کے ساتھ یہی کچھ نہ ہوا ہو ، جو اس جگہ بیان ہوا کہ نبی کی ہجرت کے بعد اس قوم کو تہس نہس کردیا گیا ، گویا نبی و رسول کا قوم میں رہنا ہی ان کی زندگی کا باعث تھا اگرچہ وہ وہ نبی و رسول کو نہیں مانتے تھے۔ اس کی مکمل تفصیل ہم پیچھے سورة الانفال میں کرچکے ہیں ، اس لیے عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم میں سورة الانفال کی آیت 33 ، 34 کو دیکھیں۔
رہی یہ بات کہ ” اللہ کا طریقہ بدلتا نہیں “ اس بات کا ذکر قرآن کریم میں کئی مرتبہ کیا گیا ہے اور ہر بار یہی ارشاد فرمایا کہ ” ہمارے دستور میں ردوبدل نہیں ہوتا “ لیکن لوگوں نے اس بات کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہونے کے اس جملہ کو خلاف سمجھے اور ان لوگوں کی تضحیک و تسفیق کرتے رہے جن لوگوں نے ان آیات کو پیش کیا اور ان کو جواب دیا کہ اللہ کے کلمات تنے ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ اللہ کے کلمات کو کوئی شمار کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا لیکن جن کلمات کی اس نے وضاحت فرما دی ہے اور طے کردیا ہے کہ اس کلمہ کے لیے ہم نے طریقہ مقرر کردیا ہے اس میں ردوبدل ممکن نہیں۔ ہاں ! جن کلمات کی تشریح نہیں فرمائی ان کی ہم اپنی طرف سے کوئی حتمی وضاحت نہیں کرسکتے لیکن جن کی وضاحت فرما دی ہے اور طے کردیا ہے کہ اس کلمہ کے لیے ہم نے طریقہ مقرر کردیا ہے اس میں ردوبدل ممکن نہیں۔ ہاں ! جن کلمات کی تشریح نہیں فرمائی ان کی ہم اپنی طرف سے کوئی حتمی وضاحت نہیں کرسکتے لیکن جن کی وضاحت فرما دی ہے اس میں ردوبدل تسلیم کرنا تو کھلا قرآن کریم کا انکار ہے اور ظاہر ہے کہ انکار کسی ایک آیت کا ہو یا سارے قرآن کا ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ مثلاً زیر نظر آیت میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ جنہیں ہم نے نبی و رسول بنا کر بھیجا اگر قوم نے ان کو اس جگہ سے نکل جانے پر مجبور کردیا تو ہم نے ان کو اس جگہ سے ہجرت کر جانے کا حکم دیا اور پھر جب وہاں سے نکل جانے کا حم نے حکم دے دیا تو اس کے بعد اس کے مخالفین کو اس طرح عذاب میں رفتار کیا کہ انجام کار ان کا خاتمہ کردیا گیا اور باقی وہی لوگ رہے جو اس نبی و رسول کے ماننے والے تھے اگرچہ ان بچنے والوں نے و ہی کام دوبارہ شروع کردیئے جو ان کے پیشرو کرتے رہے تو اب اس کے خلاف کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی کہ فلاں نبی نے ہجرت کی اور اس کی قوم بھی بدستور کفر پر قائم رہی لیکن اس کو مٹایا نہیں گیا۔ اس طرح انسان کی پیدائش اور انتقال اولاد کے ہونے نہ ہونے کے قاعدے مقرر کردیئے اور ان کا اعلان کردیا اور اس کے خلاف نہ اللہ تعالیٰ نے کیا اور نہ ہی کبھی کرے گا۔ ہاں ! یہ نظام مکمل طور پر ختم کر دے اور کوئی نیا نظام اس کی جگہ نافذ کر دے تو بلاشبہ وہ قادر مطلق ہی کرسکتا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ جو نظام اس نے قائم کیا ہے اس کے منہدم ہونے کا اس نے وعدہ کیا ہے اور ضرور ہوگا اگرچہ اس کا وقت ہم کو نہیں بتایا اور اس کے علم میں وہ موجود ہے۔ ان آیات کریمات کو ہم نے سورة آل عمران کی آیت : 137 ، سورة النساء کی آیت 46 میں بیان کردیا ہے لہٰذا عروۃ الوثقیٰ جلد دوم میں اس کی تفصیل دیکھ لیں۔