17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور دیکھو جس بات کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو (بلکہ اپنی حد کے اندر ہی رہو) یاد رکھو کان ، آنکھ ، عقل ان سب کے بارے میں یقیناً باز پرس ہونے والی ہے

بےسوچے سمجھے کسی کے پیچھے مت چلتے رہو علم کی یہ شان نہیں ہے ۔ 47۔ یہ منشور اسلامی کی بارہویں شق بیان کی گئی ہے اور کتنے واضح اور کھلے الفاظ میں ہدایت دی گئی ہے کہ ” جس چیز کا تم کو علم نہ ہو اس کے پیچھے مت چلو۔ “ اس جملہ نے تقلید شخصی اور آباء و اجداد کی پیروی کو بیخ وبن سے اکھار کر رکھ دیا ، کسی فرد یا قوم کو جب من حیث العقل اور نقل دعوت دی جائے اور وہ شخص یا قوم عقل ونقل کا جواب اس طرح دے کہ ” آج تک ہمارے آباء و اجداد نے یہ بات نہیں کہی اور ہم نے کسی اور سے یہ بات نہیں سنی کیا یہی شخص ہے جس کی سمجھ میں یہ بات آئی ‘ آج تک جتنے لوگ گزرے ہیں ان میں بڑے بڑے سمجھ دار اور عقل وفکر والے تھے کیا وہ سارے غلط ہی تھے ؟ “ تو سمجھ لو کہ یہ شخص منشور اسلامی کی بارہویں شق کا بالکل منکر ہے اگرچہ وہ اس کا واضح الفاظ میں انکار نہ کرتا ہو ۔ قرآن کریم میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کے نذکار کا مطالعہ کرو جب بھی کوئی نبی آیا اور اس نے قوم کو عقل ونقل کی طرف بلا ای تو ہر قوم نے اس کو یہی جواب دیا چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس بات کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کی ہے نیز اللہ کے رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں ہمارے لئے تو وہی طریقہ بس کرتا ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو چلتے دیکھا ہے ‘ اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ جانتے بوجھتے بھی نہ ہوں اور سیدھے راستے پر بھی نہ ہوں ۔ “ (المائدہ 5 : 104) یہ بات نبی اعظم وآخر ﷺ کی قوم قریش اور عربوں نے کہی جب ان کے رسم و رواج کے خلاف آپ ﷺ نے تبلیغ کی اور ان کی عقل ونقل کی طرف بلایا جس کو قرآن کریم کی زبان میں (علم) کہا گیا ہے ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور یہ لوگ جب بےحیائی کی باتیں کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے ایسا ہی کرنے کا ہم کو حکم دیا ہے آپ کہہ دیجئے اے پیغمبر اسلام ! بلاشبہ اللہ کبھی بےحیائی کی باتوں کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کے نام پر ایسی بات کہنے کی جرات کرتے ہو جس کے لئے تمہارے باپ کوئی علم نہیں ۔ “ (الاعراف : 7 : 28) اس آیت سے واضح ہوا کہ گمراہی کا سب سے برا چشمہ اپنے بزرگوں کی تقلید ہے ، یہ بات بھی نبی اعظم وآخر ﷺ کو مشرکین مکہ نے کہی تھی اور انہوں نے سب سے بڑی دلیل جو دی وہ یہی تھی کہ ” ہم نے اپنے بزرگوں کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے “ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ تعلی بھی کردی کہ ہمارے رب کا بھی یہی حکم ہے تو ان کو فورا جواب سنایا گیا ” اللہ تو کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کے نام پر بھی ایسی بات کہنے کی جرات کرتے ہو جس کے لئے تمہارے پاس کوئی علم (عقلی ونقلی دلیل) نہیں ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” انہوں نے کہا کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ جس راہ پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو چلتے دیکھا ہے اس سے ہمیں ہٹا دو اور ملک میں تم دونوں بھائیوں کے لئے سرداری ہوجائے ہم تو تمہیں ماننے والے نہیں ۔ “ (یونس 10 : 78) یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو مخاطب کرکے کہی اور کب کہی ؟ قرآن کریم کہتا ہے اس وقت ” جب ہماری جانب سے سچائی ان پر نمودار ہوگئی ۔ “ اس سچائی کو انہوں نے سچائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ جادو ہے صریح جادو۔ “ گویا علم یعنی سچائی ان کے ہاں جادو قرار پائی اور سچائی وہ قرار پائی جو ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے تھے اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے درجہ کے مطابق سمجھ بوجھ عطا فرمائی اور ہم اس کی حالت سے بیخبر نہ تھے ، جب اس نے اپنے باپ اور قوم کے سارے لوگوں سے کہا تھا یہ کیا مورتیاں ہیں جن کی پوجا پر تم جم کر بیٹھ گئے ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا تھا ، ہم نے اپنے باپ دادوں کو دیکھا وہ انہی کی پوجا کرتے تھے ۔ “ (الانبیاء 21 : 52 ‘ 53) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب دیا ‘ انہوں نے کہا کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سوا میں ہم لگے رہتے ہیں ‘ اس نے پھر پوچھا کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟ یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں ‘ بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے ۔ “ (الشعراء 26 : 71 تا 74) اس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قوم سے دو سوالوں کا ذکر کیا گیا ، ابراہیم (علیہ السلام) کا قوم کے لوگوں سے پہلا سوال یہ تھا کہ ” یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو۔ “ جواب ملا کہ ” کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں “ ظاہر ہے کہ سائل اور مسئول دونوں کے سامنے یہ امر واقعہ عیاں تھا کہ ” وہ بت ہیں “ واضح ہوا کہ اس جواب کی اصل روح اپنے عقیدے پر ان کا اثبات اور اطمینان تھا اور دراصل وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہاں ! ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لکڑی اور پتھر کے بت ہیں جن کی ہم پوجا کر رہے ہیں اور آخر جن کے یہ بت بنائے گئے ہیں ہمارے عقیدہ کی اصل اساس تو وہ ہیں ‘ یہ بت تو محض ان کی یاد گار شبیہ ہیں اور ایمان بھی یہی ہے کہ ہم ان کی پرستش اور خدمت کرتے ہیں اور آج قبر پرستوں اور شخصیت پرستوں کی بھی یہی حالت ہے جو بعینہ ان کی تھی پھر فرق کیا رہا ؟ یہی کہ انہوں نے بت تراشے اور انہوں نے قبریں بنا لیں یا بعض نے کسی شخصیت کو ذہن و خیال میں رکھا وہ مردہ ہو یا زندہ اور دوسرا فرق یہ رہا کہ قبروں کے پجاری مطمئن رہے کہ قرآن کریم نے بتوں کی پرستش کرتے ہیں نہ قبروں پر سجدہ وسلام بلکہ ہم تو پیروں اور امیروں کی پیروی میں لگے ہیں اور یہ تو قرآن کریم کا واضح حکم ہے کہ ” اپنے امیر کی اطاعت کرو۔ “ اور ہم یہی کچھ کر رہے ہیں اور ان موحدوں کے ذہن میں یہ نہ رہا کہ پیرومرشد اور امیر اس وقت تک امیر ہوتا ہے جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق حکم دے جب وہ اپنی مرضی کرے تو وہ اطاعت کے قابل نہیں رہتا بلکہ اس امیر کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف واپس لانا پڑتا ہے جو بت پرستی اور قبرپرستی کے نظریہ سے بھی زیادہ مشکل ہے کیونکہ وہاں تو بت یا قبر کو فقط چھوڑنا ہے اور یہاں اس زندہ امیر اور پیرومرشد سے جھگڑا کھڑا کرکے اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف واپس بھی لانا ہے ۔ رہا ابراہیم (علیہ السلام) کا دوسرا سوال تو وہ یہ تھا کہ کیا تم کو نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟ ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب ملا کہ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ ہماری پرستش کی یہ وجہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں بلکہ ہماری پرستش کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے باپ دادا کے وقتوں سے یہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود یہ اعتراف کرلیا کہ ان کے مذہب کے لئے باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کوئی سند نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آخر تم نئی بات کیا بتانا چاہتے ہو ؟ کیا ہم خود نہیں دیکھتے کہ یہ لکڑی اور پتھر کی مورتیں ہیں ؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ لکڑی اور پتھر سنا نہیں کرتے ؟ لیکن اصلیت تو یہ ہے کہ یہ ہمارے بزرگ جو صدیوں سے نسلا بعد نسل ان کی پرستش کرتے چلے آرہے ہیں تو کیا وہ سب تمہارے نزدیک بیوقوف تھے ؟ آخر ضرور کوئی وجہ تو ہوگی کہ وہ ان کی پرستش کرتے رہے اور ہمیں آپ کی نسبت اپنے باپ دادا پر زیادہ اعتماد ہے کہ جو انہوں نے کیا وہ صحیح تھا کیونکہ ان میں بھی بڑے بڑے سمجھدار اور عقل مند لوگ تھے تمہارے حقیقت ہی ان کے مقابلہ میں کیا ہے اور آج قبر پرستوں اور شخصیت پرستوں کے پاس بھی بالکل یہی جواب ہے جو اس وقت کے بت پرستوں کے پاس تھا ، ایک جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ : ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پروری کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ‘ کیا یہ ان کی پیروی ہی کریں گے خواہ ان کو شیطان بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو ۔ “ (لقمن 31 : 21) اور اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور انہوں نے کہا کہ اگر خدائے رحمن چاہتا تو ہم کبھی ان کی نہ پوجتے ‘ یہ اس معاملہ کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے محض تیر تکے لڑاتے ہیں کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ، اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے اے پیغمبر اسلام ! جس بستی میں بھی کوئی ڈرانے والا بھاجہ اس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں ، ہر نبی نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم اس ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لئے تم بھیجے گئے ہو ہم اس سے انکار کرتے ہیں ‘ آخر کار ہم نے ان کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ؟ “ (الزخرف 43 : 20 تا 25) سورة الزخرف میں مشرکین عرب کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کرکے رکھ دیا ہے وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور ہم اللہ کی بیٹیون کو سفارش کے لئے پکارتے ہیں کہ وہ ہماری سفارش کریں گی کیونکہ بیٹی کی سفارش زیادہ قابل قبول سمجھی جاتی تھی اور پھر ان کا استدلال یہ تھا کہ ہمارا فرشتوں کی عبادت کرنا اس لئے تو ممکن ہوا کہ اللہ نے ہمیں یہ کام کرنے دیا (آیت) ” لوشآء الرحمن ماعبدنھم “۔ اگر وہ نہ چاہتا کہ ہم یہ فعل کریں تو ہم کیسے کرسکتے تھے پھر مدت ہائے دراز سے ہمارے ہاں یہ کام ہوتا آ رہا ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ہمارا یہ کام ناپسند نہیں ہے گویا یہ لوگ اپنی جہالت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ دنیا کا ہو رہا ہے وہ چونکہ اللہ کی مشیت کے تحت ہو رہا ہے اس لئے ضرور اس کو اللہ کی رضا بھی حاصل ہے حالانکہ اگر یہ استدلال صحیح ہو تو دنیا میں ایک شرک ہی تو نہیں ہو رہا ہے ۔ چوریاں ‘ ڈاکے ‘ قتل و غارت ‘ زنا ‘ رشوت ‘ بدعہدی اور اسی طرح کے دوسرے بیشمار جرائم بھی ہو رہے ہیں جنہیں کوئی شخص یا قوم بھی اچھا نہیں سمجھتی تھی اور نہ ہی ان کاموں کو کوئی نیکی اور بھلائی سمجھتا ہے پھر کیا ان کے اس استدلال کی بنا پر یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ تمام افعال حلال وطیب ہیں کیونکہ اللہ اپنی دنیا میں انہیں ہونے دے رہا ہے اور جب وہ انہیں ہونے دے رہا ہے تو ضرور وہ ان سب کاموں کو پسند بھی کرتا ہے ؟ کیا اللہ کی پسند اور ناپسند معلوم ہونے کا ذریعہ یہی دلیل ہے ؟ حالانکہ ہر انسان جس میں ذرا بھی عقل ہے وہ کہے گا کہ نہیں ‘ ہرگز نہیں بلکہ اللہ کی پسند اس کے احکام ہیں جو اس نے اپنے رسولوں پر ناز کئے اور خصوصا نبی اعظم وآخر ﷺ پر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائے اور اللہ نے بتا دیا کہ اسے کون سے عقائد و اعمال اور اخلاق پسند ہیں ۔ اور کون سے پسند نہیں۔ ہاں ! قرآن کریم سے پہلے اتری ہوئی کوئی کتاب ان لوگوں کے پاس موجود ہو تو وہ اس کو پیش کریں اگر وہ کوئی ایسی بات پیش نہیں کرسکتے تو یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ جھوٹے ہیں اور سارا کام اپنی چرب زبانی اور دنیوی مال و دولت اور کروفر کی بدولت کر رہے ہیں اور اللہ نے اس کو اپنی مشیت کے مطابق ڈھیل دے رکھی ہے عنقریب ان کو ان ساری چیزوں سے خالی ہاتھ کردیا جائے گا اور حقیقت کو وہ دیکھ لیں گے تو شرمندہ ہو کر رہ جائیں گے اگرچہ اس وقت شرمندہ ہونا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا ۔ قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے بیان فرما دیا کہ اگر تم خود راہ ہدایت پر گامزن ہونا چاہو گے تو ان کی گمراہی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی اور تم کو تمہارے کئے کے متعلق پوچھا جائے گا ان کے کئے کے متعلق تم سے کوئی سوال نہیں ہوگا ارشاد فرمایا کہ : ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہار کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو اللہ کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ۔ “ (المائدہ 5 : 105) واضح ہوگیا کہ بجائے اس کے آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا برائی ہے ‘ اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے اسے فکر اپنے خیالات کی اپنے اخلاق و اعمال کی ہونی چاہئے کہ ہو کہیں خراب نہ ہوں اگر خود اللہ کی کی اطاعت کر رہا ہو ‘ اللہ اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا ہے اور راست روی وراست بازی کے مقتضیات پورے کر رہا ہو جس میں لازما امر بالمعروف ونہی عن المنکر بھی شامل ہے تو یقینا کسی شخص کی گمراہی وکج روی اس کے لئے نقصان دہ نہیں ہو سکتی ، مزید تفصیل کے لئے تفسیر ” عروۃ الوثقی “ جلد سوم سورة مائدہ کی آیت 104 ‘ سورة الاعراف آیت 28 ‘ جلد چہارم ‘ سورة یونس آیت 78 کی تفسیر دیکھیں ایک بات اچھی طرح یاد رکھو کہ قرآن کریم متضاد باتوں کا حکم نہیں دیتا اور نہ ہی متضاد باتین اس میں پائی جاتی ہیں اگر کہیں ایسی بات سمجھ میں آئے تو سمجھ لو کہ ہماری سمجھ میں کوئی نقص ہوا ہے یا جو ہم نے سمجھا ہے وہ صحیح نہیں ہوگا اس کو دو بار سمجھنے کی کوشش کرو اگر سمجھ میں نہ آئے تو کسی صاحب علم سے دریافت کرو۔ ہرانسان کے کان ‘ آنکھ اور دل کے متعلق سوال کیا جائے گا : 48۔ انسان کے سارے اعضاء کی الگ الگ گواہی ایک طے شدہ بات ہے جس کو کتاب وسنت میں بار بار بیان کیا گیا ہے اور اس میں کوئی استحالہ نہیں بات بالکل واضح ہے اور خصوصا آج کل اس کو سمجھنا بالکل آسان ہے کسی انسان کو ہاتھ سے کرتے اور کان سے کسی دوسرے کی سنتے تو دکھا دیا جانا عام ہے اور اسی طرح آنکھ سے دیکھنا بھی دکھایا جاسکتا ہے البتہ دل کی ابھی دکھائی نہیں جاسکتی اور زیر نظر آیت کے اس حصہ سے یہ ضرور وضاحت نکلتی ہے کہ دوسرے کے دل کے راز جاننے کے لئے بھی یقینا ایجادات ہوں گی اور قیامت کے بعد میدان حشر ونشر میں ان اعضاء وجوارح کی گواہی کا یہی طریقہ ہو سکتا ہے اور یقینا یہی ہوگا ، ہر مسلمان کے لئے ایمان بالغیب کے طور پر ایسا ہونے پر یقین ضروری ہے اس کی کیفیت خواہ کچھ بھی ہو اور جب یہ کہا گیا کہ ہر ہر فرد اور ہر ہر شخص سے سوال ہوگا ‘ کان سے سننے کا آنکھ سے دیکھنے کا اور دل سے سمجھنے کا اور یقین کرنے کا کہ جائز اور صحیح موقعوں پر ان سے کتنا کام لیا اور ناجائز اور غلط موقعوں پر کتنا ! ۔۔۔۔۔۔۔ غور کرو کہ احساس ذمہ داری کی تعلیم ہر فرد وبشر کو اس سے بہتر اور کہاں ملے گی ؟ اور کیا ملے گی ؟ ایک بار پھر غور کرو کہ ہر ہر فرد وبشر کو مخاطب کرکے یہ کہا گیا ہے لیکن ہم کیا کر رہے ہیں کہ دوسروں کے سنے ہوئے ‘ دوسروں کے دیکھے ہوئے اور دوسروں کے دلوں سے سمجھی ہوئی باتیں سننے ‘ دیکھنے اور سمجھنے کے عادی ہوچکے ہیں اور ہماری خیال کبھی بھی اس طرف نہیں گیا کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اس پر آج عمل ہونے لگے تو شخصی ‘ قومی ‘ انفرادی ‘ اور اجتماعی دونوں قسم کے جھگڑے قضئے آج ہی دنیا میں مٹ جائیں گے ۔ حدیث میں ہے کہ ’ ‘ ’ مشکل بن حمید نے بیان کیا کہ جناب رسول مقبول ﷺ نے میری درخواست پر مجھ سے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ کہہ اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے ‘ آپنی آنکھ کے شر سے اور اپنی زبان کے شر سے اور اپنے دل کے شر سے اور اپنی منی کے شر سے میں نے یہ دعا یاد کرلی ۔ “ (رواہ الترمذی ‘ ابو داؤد ‘ النسائی والحاکم والبغوی اور حاکم نے اس کو صحیح کہا) اس حدیث کے ایک راوی سعید نے کہا کہ منی کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنا پانی ایسے مقام پر نہ ڈالوں جو جائز اور حلال نہیں ہے ۔ مذکورہ تین اعضاء کا ذکر اس جگہ خاص کر کیا گیا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہی آلات علم ہیں اور محسوسات کا علم آنکھ اور کان سے ہوتا ہے اور غیر محسوس چیزوں کا ادراک فقط دل سے ہوتا ہے ورنہ سورة یٓس میں ہے کہ ” آج ہم ان کے منہ بند کردیتے ہیں ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ۔ “ (یس 36 : 45) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور ذرا اس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے گھیر لئے جائیں گے ان کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائجے گا پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسموں کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں اور وہ اپنے جسموں کی کھالوں کسے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گی ہمیں اس خدا نے گویائی دی جس نے ہرچیز کو گویا کردیا ہے اس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اسی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو ، تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری اپنی آنکھیں اور تمہارے اپنے جسموں کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا تمہیں لے ڈوبا اور اس کی بدولت تم خسارے میں پڑے ۔ “ (حم السجدہ 41 : 19 تا 23) مختصر یہ کہ زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ ملت کا ہر ہر فرد اپنے تمام افعال کے لئے اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے اس کے دیکھنے کی قوتیں ‘ اس کے عقل وفہم کی صلاحیتیں ہر ایک کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا جو بلاشبہ ان کی استعداد کے مطابق ہوگا اور استفار یہ ہوگا کہ اس نے نہیں کیسے اور کہاں استعمال کیا ہے وہ قوم جس کو اس کے خالق نے واشگاف الفاظ میں احساس ذمہ داری کا سبق دیا وہی قوم آج اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے ، کاش ! ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے سچے دل سے کوشش کریں تو جن تکالیف پر ہم شکوہ سنج رہتے ہیں اور جن مصائب میں گھرے ہوتے ہیں وہ خود بخود ختم ہوجائیں ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ دوسروں کی بےراہ روی اور بےاعتدالی ہماری بےراہ روی اور بےاعتدالی کے لئے وجہ جواز نہیں بن سکتی ، اگر آپ اپنے موجودہ معاشرے سے مطمئن نہیں ہیں اگر آپ لوگ اصلاح واحوال کے تہ دل سے خواہاں ہیں تو اس میں وقت ضائع نہ کریں کہ دوسرے لوگ ٹھیک ہو لیں تو میں بھی ٹھیک ہوجاؤں گا ۔ اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے فرمائیے آپ کو دیکھ کر کئی بگڑے ہوئے اصلاح پذیر ہوجائیں گے ۔ زندگی کے کسی موڑ پر زیر نظر آیت کو اپنے آنکھوں کے سامنے رکھنے سے نہ بھولیں اور ہر معاملہ میں ہر وقت اپنا تجزیہ اور موازنہ اس کے ساتھ کرنا فراموش نہ کریں ۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو ، یقینا تم زمین میں شگاف نہیں ڈال سکتے اور نہ پہاڑوں کی لمبائی تک پہنچ سکتے ہو

زمین پر اکڑ کر اور اتراتے ہوئے چلنے کی ممانعت : 49۔ یہ منشور اسلامی کی چودہویں شق ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ زمین پر اترا کر نہ چلو اس طرح کہ تم زمین کو پھاڑ دو گے جب کہ تمہارے چلنے سے زمین پھاڑی نہیں جائے گی اور نہ ہی تم لمبائی میں پہاڑ تک پہنچ جاؤ گے آخر انسان ہو تو انسانوں ہی میں رہو گے اس طرح کا تکبر اور فخر و غرور احمقانہ فعل ہے انسان کی چال ڈھال میں کوئی بات اور کوئی چیز بھی تکبر کی نہیں ہوئی چاہئے ، انسان میں جب کوئی وصف یا کمال پایا جاتا ہے تو قدرتی طور پر اس کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوتا ہے اور یہ بات کوئی اخلاقی عیب نہیں لیکن جب یہ خیال اس قدر ترقی کرجاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن میں یہ وصف نہیں پایا جاتا یا کم پایا جاتا ہے اپنے سے حقیر سمجھنے لگتا ہے تو اس کو کبر اور اس کے اظہار کو تکبر کہتے ہیں اور یہ برائی ہے جو دنیا میں سب سے پہلے شیطان سے ظاہر ہوئی اور آج بھی جس میں وہ پائی جائے گی شیطان ہی کا بھائی کہلائے گا ۔ خیال رہے کہ کبر و غرور ایک اضافی اور نسبی چیز ہے جس کے لئے محض اپنی عظمت کا تخیل کافی نہیں بلکہ اس تخیل کے ساتھ دوسرے لوگوں کی تحقیر بھی ضروری ہے چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک خوش جمال شخص نے نبی اعظم وآخر ﷺ سے دریافت کیا کہ میں ایک حسین و جمیل شخص ہوں اور حسن مجھے نہایت محبوب ہے یہ نہیں پسند کرتا کہ کسی کو مجھ پر حسن میں تفوق حاصل ہو تو کیا یہ تکبر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ! تکبر یہ ہے کہ حق کو قبول نہ کیا جائے اور دوسرے لوگوں کو حقیر سمجھا جائے ۔ (ابوداؤد کتاب اللباس باب ما جاء فی الکبر) تکبر کی اس اضافی حیثیت نے اس کو مذہبی ‘ اخلاقی ‘ معاشرتی بداخلاقیوں کا سرچشمہ بنا دیا ‘ پیغمبروں کی مزاحمت صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے آپ کو اور لوگوں سے بڑا سمجھتے ہیں اگر یہ لوگ نہ ہوتے غریب اور عام لوگ پیغمبروں کی ہدایت کو قبول کرلیتے ۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : ” اور دیکھو قیامت کے روز سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے اور ناتواں سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے پھر کیا تم آج ایسا کرسکتے ہو کہ اللہ کے عذاب سے کچھ بچاؤ کر دو ؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہم پر کوئی بچاؤ کی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے (ہم خود بھی عذاب میں پڑے ہیں) خواہ جھیل لیں ‘ خواہ روئیں پیٹیں ہمارے لئے دونوں حالتیں برابر ہیں ہمارے لئے آج کسی طرح بھی چھٹکارا نہیں۔ “ (ابراہیم 14 : 21) تفصیل کے لئے ” عروۃ الوثقی “ جلد چہارم میں سورة ہود کی آیت 27 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 21 ‘ 22 ‘ سورة نحل کی آیت 23 جلد پنجم کا مطالعہ کریں ۔ اس جگہ دو تین احادیث درج کی جاتی ہیں ان کو نگاہ میں رکھیں ۔ عیاض بن حماد حجاشعی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’ اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ باہم تواضع اختیار کرو کوئی کسی پر فخر نہ کرے نہ کسی پر زیادتی کرے ۔ “ (رواہ مسلم) عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” جس شخص میں ذرہ بھر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا “۔ (صحیح مسلم) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا تو میں اس کو دوزخ میں ڈال دوں گا ۔ “ (صحیح مسلم) حضرت اسماء بن عمیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو میں نے خود سنا کہ ’ وہ بندہ برا ہے جو اتراتا اور تکبر کرتا ہے اور اللہ برتر اور بزرگ کو بھول جاتا ہے ۔ “ (رواہ الترمذی) ایک بار سیدنا عمر فاروق ؓ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمایا سنا تھا کہ ” جو شخص اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اٹھا کر اونچا کردیتا ہے گو وہ اپنی نظر میں ناچخ ہوتا ہے مگر لوگوں کی نظر میں بڑا ہوتا ہے اور جو خود بڑا ہوتا ہے اور بڑا بنتا ہے اللہ اس کو پست کردیتا ہے پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوجاتا ہے اگرچہ اپنی نظر میں بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کے نزدیک وہ سور اور کتے سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے “۔ (مظہری)
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان ساری باتوں کا یہ حال ہے کہ ان کی برائی تمہارے پروردگار کے نزدیک بڑی ہی ناپسندیدہ ہے

ان ساری باتوں کی برائی اللہ کے نزدیک نہایت ہی بڑی اور بری ہے : 50۔ فرمایا یہ جتنی باتیں اس جگہ بیان کی گئی ہیں جو اسلامی منشور کی 14 شقوں کے طور پر بیان کی ہیں ان میں جو منہات ومحرمات ہیں انکا بڑا ہونا اور ناپسند ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہے اور ان میں سے جو اوامر بیان ہوئے ہیں جیسے والدین کے حقوق ‘ اقرباء کے حقوق اور وفائے عہد وغیرہ تو ان کی ضد سے بچنا لازم وضروری ہے مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں والدین کی نافرمانی کے مرتکب ہوجاؤ یا رشتہ داروں کے ساتھ قطع رحمی کی نوبت آجائے یا نقص عہد کے مرتکب ہوجاؤ یہ چیزیں سب حرام اور ناپسند ہیں اس لئے زیر نظر آیت میں ان سب کو مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ پوری تورات کے احکام سورة بنی اسرائیل کی ان پندرہ آیتوں میں جمع کردیئے گئے ہیں ۔
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ ان دانائی کی باتوں میں سے ہے جو تیرے پروردگار کی جانب سے تجھ پر وحی کی گئی ہیں اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہرا کہ بالآخر دوزخ میں ڈالا جائے گا ہر بھلائی سے ٹھکرایا ہوا

یہ دانائی کی باتیں جو بیان کی گئی ہیں ان کی پابندی لازم ہے : 51۔ اوپر بیان کی گئی باتوں کو حکمت کی باتیں قرار دیا گیا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں مذکور ہے کہ ” یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں ۔ “ اس لئے اس جگہ حکمت کے متعلق کچھ عرض کردینا یقینا حکمت سے خالی نہیں ہوگا اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ حکمت کیا ہے ؟ جیسا کہ ان آیات کریمات میں اوپر گزرا اس طرح مزید یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں عطا ہوتی رہی ہیں ان میں کسی ایک خاص نعمت کو حکمت کے نام سے یاد کیا گیا ہے ، دیکھو آل ابراہیم پر اللہ تعالیٰ نے جو احسانات کئے تھے ان کا ذکر وہ ان الفاظ میں فرماتا ہے کہ : 1۔ ّ (آیت) ” فقداتینا ال ابراہیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما “۔ (النساء 4 : 54) ” پس بلاشبہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت دی اور ان کو بڑی سلطنت بخشی ۔ “ لقمان (علیہ السلام) کی نسبت بیان فرمایا گیا کہ : 2۔ (آیت) ” ولقد اتینا لقمن الحکمۃ “۔ (لقمان 41 : 12) اور یقینا ہم نے لقمان کو حکمت دی ۔ “۔ داؤد (علیہ السلام) کے ذکر میں فرمایا : 3۔ (آیت) ” وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب “۔ (ص 38 : 20) ” اور ہم نے داؤد کی سلطنت کو مضبوط بنایا اور اس کو حکمت اور قول فیصل عطا کیا ۔ “ 4۔ (آیت) ” وقتل داؤد جالوت واتہ اللہ الملک والحکمۃ وعلمہ مما یشآء “۔ (البقرہ 2 : 251) ” اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو مارا اور خدا نے داؤد کو سلطنت اور حکمت بخشی اور جو چاہتا ہے ‘ اس میں سے کچھ سکھایا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں : 5۔ (آیت) ” قد جئتکم بالحکمۃ ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ “۔ (الزخرف 43 : 63) ۔ ” میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں تاکہ جن باتوں میں تم باہم اختلاف رکھتے ہو کچھ باتیں ان میں سے کھول دوں “۔ خود اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنا احسان جتاتا ہے ‘ تو فرماتا ہے : 6۔ (آیت) ” واذ علمتک ال کتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل “۔ (المائدہ 5 : 110) اور (یاد کرو) جب میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی ۔ عام انبیاء کرام (علیہم السلام) کے متعلق ہے : 7۔ (آیت) ” واذ اخذ اللہ میثاق النبین لما اتیتکم من ا کتاب و حکمۃ “۔ (آل عمران 3 : 81) اور جب اللہ نے نبیوں سے وعدہ لیا کہ جو میں تم کو کوئی کتاب اور حکمت دوں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کے ظہور کی یہ دعا مانگی تھی : 8۔ (آیت) ” ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم ایتک ویعلمھم الکتب والحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم “۔ (البقرہ 2 : 129) ہمارے پروردگار ! اور ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو انکو تیری آیتیں سنائے اور کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کو سنوارے بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی : 9۔ کما ارسلنا فیکم رسولا منکم یتلوا علیکم ایتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتب والحکمۃ ویعلمکم مالکم تکونوا تعلمون “۔ (البقرہ 2 : 151) جس طرح ہم نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیتیں سناتا اور تم کو سنوارتا ہے اور تم کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور وہ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے ۔ اس دعائے ابراہیمی کے مطابق آنحضرت ﷺ کے ظہور کا احسان اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں ہم پر جتایا ہے : 10۔ (آیت) ” لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم ایتہ یزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین “۔ (آل عمران 3 : 164) یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے ، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی احسان انہی الفاظ میں سورة جمعہ میں دہرایا ہے : 11۔ (آیت) ” ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین “۔ (الجمعہ 62 : 2) وہی اللہ جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے اور ان کو پاک وصاف کرتا ہے اور کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے ۔ خود آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے اپنا یہ احسان ان پر ظاہر فرمایا ہے : 12۔ (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیک ورحمتہ لھمت طائفۃ منھم ان یضلوک وما یضلون الا انفسھم وما یضرونک من شیء وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (النساء : 4 : 113) ” اور اگر خدا کا فضل و کرم تجھ پر نہ ہوتا تو ان میں سے ایک جماعت ارادہ کرچکی تھی کہ وہ تجھے گمراہ کر دے اور وہ گمراہ نہیں کرتے لیکن اپنے آپ کو اور تجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ، خدا نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتارای اور تجھ کو وہ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا اور تجھ پر خدا کا بڑا فضل تھا ۔ آنحضرت ﷺ سے خطاب ہے : 13۔ (آیت) ” ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ “۔ (بنی اسرائیل 17 : 39) ” یہ وہ ہے جو خدا نے حکمت کی باتوں میں سے تم پر وحی کی ہے ۔ عام مسلمانوں سے ارشاد ہے : 14۔ (آیت) ” واذکروا نعمت اللہ علیکم وما انزل علیکم من الکتب والحکمۃ یعظکم بہ “۔ (البقرہ 2 : 231) ” اور اللہ کا جو احسان تم پر اور اس نے تم پر جو کتاب اور حکمت اتاری ہے ان کو یاد کرو ‘ خدا تم کو اس سے سمجھاتا ہے ۔ خاص طور پر ازواج مطہرات کو خطاب کیا ہے : 15۔ (آیت) ” واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ “۔ (الاحزاب 33 : 34) ” اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور حکمت کی جو باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو ۔ “ یہ نعمت حسب تعداد عام مسلمانوں کو بھی ملا کرتی ہے : 16۔ (آیت) ” یؤتی الحکمۃ من یشآء ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “۔ (البقرہ 2 : 269) ” اور خدا جس کو چاہتا ہے حکمت بخشتا ہے اور جس کو حکمت بخشی گئی اس کو بڑی دولت (بھلائی) دی گئی “۔ اسی کے ذریعہ تبلیغ ودوعوت کا حکم ہوتا ہے ۔ 17۔ (آیت) ” ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن “۔ (النحل 16 : 125) ” اپنے پروردگار کے راستہ کی طرف تو حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ سے بلا اور ان سے عمدہ طریقہ سے مناظرہ کرو۔ ایک جگہ قیامت اور عبرت کے واقعات پر حکمت کا اطلاق ہوا ہے : 18۔ (آیت) ” ولقد جآء ھم من الانبآء ما فیہ مزدجر محکمۃ بالغۃ فما تغن النذرہ “۔ (القمر 54 : 4 ، 5) ” اور انکو اتنے احوال جتنے میں ڈانٹ ہو سکتی ہے پہنچ چکے ہیں موثر حکمت تو ان کو ڈر سنانے والے فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ اوپر کی سطروں میں وہ تمام آیتیں لکھ دی گئی ہیں جن میں حکمت کا لفظ آیا ہے ’ ان میں کہیں ” حکمت “ کا لفظ تنہا آیا ہے اور کہیں ” کتاب “ کے بعد آیا ہے ‘ کتاب کے دو معنی قرآن میں ہیں ‘ ایک ” صحیفہ ربانی “ اور یہ اکثر آیا ہے اور دوسرے نوشتہ الہی اور علم الہی ‘ جیسے (آیت) ” لولا کتاب من اللہ سبق “۔ (اگر خدا کا نوشتہ یا علم پہلے نہ ہوتا) مذکورہ بالا آیتوں میں کتاب سے بلاشبہ آسمانی کتاب اور صحیفہ ربانی یا یوں کہو کہ وحی سے کتاب مراد ہے ‘ جیسے تورات و قرآن وغیرہ لیکن حکمت کا مفہوم ان آیتوں میں کیا ہے ؟ حکمت کے لغوی معنی دانائی کی بات اور کام کے ہیں ‘ مگر یہاں اس سے کیا مقصود ہے ‘ اس تحقیق کے لئے ضرورت ہے کہ مستند اہل لغت اور ماہرین قرآن کے اقوال نقل کرکے تبصرہ کیا جائے ‘ سب سے قدیم لغت نویس ابن درید المتوفی 321 ھ اپنی کتاب ” جمرۃ اللغہ “ میں حکمت کے حسب ذیل معنی لکھتا ہے کہ : فکل کلمۃ وعظتک او زجرتک اودعتک الی مکرمۃ اونھتک من قبیح فھی حکمۃ وحکم “۔ (جلد 2 ص 186 حیدرآباد) ہر وہ بات جو تجھ کو سمجھائے یا تجھ کو تنبیہ کرے یا کسی اچھی خصلت کی طرف بلائے یا کسی بری چیز سے روکے وہ حکمت اور حکم ہے ۔ لغت کا امام جوہری اپنی صحاح اللغہ میں لکھتا ہے : الحکمۃ من العلم والحکیم العالم وصاحب الحکمۃ والحکیم المتقن للامور “۔ (جلد 2 ص 276 طبع مصر) حکمت یعنی علم اور حکیم یعنی عالم اور حکمت والا اور حکیم کاموں کو خوبی سے کرنے والا ۔ عربی لغت کی مبسوط ومستند کتاب لسان العرب میں ہے : والحکمۃ عبارۃ عن معرفہ افضل الاشیاء بافضل العلوم “۔ (ج 15 ‘ ص 30 طبع مصر) اور حکمت بہترین چیز کو بہترین علم کے ذریعہ سے جاننے کو کہتے ہیں ۔ لغت قرؤن کے مشہور امام راغب اصفہانی مفردات القرآن میں کہتے ہیں : والحکمۃ اصابہ الحق بالعلم والعقل فالحکمۃ من اللہ تعالیٰ معرفۃ الاشیاء وایجادھا علی غابہ الاحکام من الانسان معرفۃ الموجودات وفعل الخیرات “۔ (ص 126 طبع مصر) اور حکمت ‘ علم اور عقل کے ذریعہ سے سچی اور صحیح بات کو پہنچنا ہے تو اللہ تعالیٰ کی حکمت چیزوں کا جاننا اور انکو بکمال خوبی پیدا کرنا ہے اور انسان کی حکمت موجودات کو جاننا اور اچھی باتوں کا کرنا ہے ۔ یہ تو عربی لغت کے اماموں کی تصریحات تھیں ، ‘ اب ان بزرگوں کے اقوال پر غور کرنا ہے جو زبان دانی کے ساتھ قرآن اور شریعت کے استدلالات اور محاوروں سے بھی کامل طور پر آگاہ تھے ۔ ابن حبان اندلسی نے اپنی تفسیر بحرالمحیط میں ان کے اکثر اقوال کو یکجا کردیا ہے ۔ 1۔ قال مالک وابو زرین ‘ الحکمۃ الفقہ فی الدین والفھم الذی ھو سجیہ ونور من اللہ تعالیٰ “۔ امام مالک اور ابو زرین کا قول ہے ‘ حکمت دین میں سمجھ اور اس فہم کو کہتے ہیں جو ایک فطری ملکہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور ہے ۔ 2۔ وقال مجاہد الحکم فھم القرآن۔ مجاہد کا قول ہے ‘ حکمت یعنی قرآن کا فہم ۔ 3۔ وقال مقاتل العلم والعمل بہ لا یکون الرجل حکیما حتی یجمعھا ۔ مقاتل کا قول ہے ۔ حکمت علم اور اس کے مطابق عمل کو کہتے ہیں کسی شخص کو حکیم اس وقت تک نہیں کہا جاتا جب تک وہ علم اور عمل دونوں کا جامع نہ ہو ۔ 4۔ وقیل الحکمۃ والقضاء : بعضوں کا قول ہے ‘ حکمت فیصلہ کرنا ہے ۔ 5۔ وقیل مالا یعلم الا من جھۃ الرسول۔ کسی کا قول ہے ‘ حکمت وہ ہے جو رسولوں کے سوا کسی اور ذریعہ سے معلوم نہ ہو سکے ۔ 6۔ وقال ابو جعفر محمد بن یعقوب کل صواب من القول ورث فعلا صحیحا فھو حکمۃ ۔ ابو جعفر کا قول ہے ہر وہ صحیح بات جو صحیح عمل پیدا کرے حکمت ہے ۔ 7۔ وقیل کل قول وجب فعلہ ۔ ایک اور شخص کا قول ہے ‘ ہر وہ بات جس کا کرنا ضروری ہے ، حکمت ہے ۔ امام ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں حسب ذیل اقوال لکھے ہیں : 1۔ قال (مالک) المعرفۃ بالدین والفقہ فی الدین والاتباع لہ ۔ مالک کا قول ہے دین کی معرفت اور دین میں سمجھ اور اس کی پیروی حکمت ہے ۔ 2۔ قال ابن زید الحکمۃ الدین الذی لا یعرفونہ الا بہ ﷺ یعلمھم ایاھا قال والحکمۃ العقل فی الدین وقرء (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “ وقال یعیسی (آیت) ” ویعلمہ الکتب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل “۔ وقرء ابن زید (آیت) ” واتل علیھم نباء الذی اتینہ ایتنا فانسلخ منھا “۔ قال لم ینتفع بالایات حین لم تکن معھا حکمۃ قال والحکمۃ شیء یجعلہ اللہ فی القلب نورلہ بہ ۔ ابن زید ؓ کا قول ہے ‘ حکمت دین کا وہ حصہ ہے جو صرف رسول سے معلوم ہوتا ہے وہی اس کو سکھاتا ہے نیز انہی کا قول ہے کہ حکمت دینی عقل کا نام ہے اور اس پر یہ آیت پڑھی کہ ” جس کو حکمت دی گئی اس کو بڑی دولت دی گئی “ اور خدا نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کہا کہ ” خدا ان کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھاتا ہے “ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی کہ ” ان کو اس کا حال سناؤ ‘ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے الگ ہوگیا ۔ “ یعنی ان آیتوں سے نفع نہیں اٹھایا کیونکہ ان کے ساتھ حکمت نہ تھی ، انہی کا قول ہے کہ حکمت وہ چیز ہے جس کو اللہ اپنے بندہ کے قلب میں رکھتا ہے اور اس سے اس کو روشن کرتا ہے ۔ 3۔ عن قتادہ والحکمۃ ای السنہ ۔ قتادہ سے مروی ہے ‘ حکمت یعنی سنت نبوی ﷺ آخر میں امام طبری اپنا فیصلہ سناتے ہیں : 4۔ قال ابن جریر الطبری والصواب من القول عندنا فی الحکمۃ انھا العلم باحکام اللہ التی لایدرک علمھا الاببیان الرسول ﷺ والمعرفۃ بھا وما دل علیہ ذلک من نظائرہ وھو عندی ماخوذ من الحکم الذی بمعنی الفصل بین الحق الباطل : ہمارے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ حکمت ان احکام الہی کے علم کا نام ہے جو صرف رسول کے بیان (تشریح) سے معلوم ہوتے ہیں اور جو ان کی مثالیں اور نظیریں ہیں ان کو معرفت کہتے ہیں ” حکمت “ کا لفظ میرے نزدیک حکم سے ماخوذ ہے جس کے معنی حق و باطل میں تمیز کرنے کے ہیں ۔ امام شافعی (رح) نے اپنی تصنیف کتاب الرسالہ میں قتادہ کے مسلک کو پسند کیا ہے ‘ لکھتے ہیں : 5۔ وسمعت من ارضی من اھل العلم بالقرآن یقول الحکمۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ (ص 24) میں نے قرآن کے ان اہل علم سے جن کو پسند کرتا ہوں یہ سنا کہ حکمت آنحضرت صیے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کا نام ہے ۔ امام شافعی (رح) اسی کتاب میں آگے چل کر بعضوں کا قول نقل کرتے ہیں : وسنت الحکمۃ التی القی فی روعہ عن اللہ عزوجل۔ (ص 280) اور آپ ﷺ کی سنت وہ حکمت ہے ‘ جو آپ ﷺ کے دل میں خدا کی طرف سے ڈالی گئی ، ائمہ لغت اور علمائے قرآن کے ان تمام اقوال پر ایک غائر نظر ڈالو تو معلوم ہوگا کہ یہ کل کے کل ایک ہی مفہوم کی مختلف تعبیریں اور ایک ہی حقیقت کی متعدد تفسیریں ہیں ‘ حکمت عقل وفہم کی اس کامل ترین حقیقت کا نام ہے جس سے صحیح و غلط ، صواب وخطا حق و باطل اور خیر وشر کے درمیان تمیز و فیصلہ بذریعہ غور وفکر ‘ دلیل وبرہان اور تجربہ واستقراء کے نہیں بلکہ منکشفانہ طور سے ہوجاتا ہے اور اسی کے مطابق اس صاحب حکمت کا عمل بھی ہوتا ہے ۔ ہر فن کے واقف کار دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کسی فن کو باقاعدہ حاصل کرتے اور اس کی مشق کرتے اور اس میں مہارت اور کمال بہم پہنچاتے ہیں ‘ دوسرے وہ جو اس فن کی فطری استعداد اور قابلیت رکھتے ہیں اور تجربہ و دلیل کے بغیر خود اپنی فطری صلاحیت ‘ صحیح وجدان اور سلیم ذوق سے اس فن کی کسی شے کو دیکھنے کے ساتھ ہی اس کے متعلق جچی تلی رائے دیتے ہیں اور حرف حرف صحیح دیتے ہیں ‘ اسی کا نام آپ صحت وجدان اور سلامت ذوق رکھتے ہیں ‘ شاعری انشاء پردازی اور دوسرے فنون لطیفہ میں اس کی مثالیں بکثرت دیکھی اور سنی جاتی ہیں ‘ اسی طرح بعض لوگوں میں اشیاء کے حق و باطل اور افعال کے خیر وشر کا صحیح وجدان اور صحیح ذوق ہوتا ہے ‘ وہ ان امور کے دقیق سے دقیق مسئلہ کے متعلق اپنے ربانی ذوق ووجدان سے ایسی صحیح رائے دیتے ہیں جو دوسرے لوگ وسیع مطالعہ اور غور وفکر کے بعد بھی نہیں دے سکتے یہی وہ معرفت اور نور الہی ہے جو جدوجہد اور سعی و محنت سے نہیں بلکہ عطا و بخشش سے حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام ” حکمت “ ہے ۔ دوسری زبانی استعدادوں اور فطری بخششوں کی طرح حکمت کا عطیہ بھی سب کو یکساں نہیں ملتا بلکہ حسب استعداد اور معمولی حکمت سے لے کر اعلی ترین اور کامل ترین حکمت تک لوگوں کو عطا ہوتی ہے ‘ اس کے مختلف درجے اور مرتبے عام انسانوں کو مل سکتے ہیں اور ملتے ہیں لیکن اعلی ترین اور کامل ترین درجہ اور مرتبہ حضرات انبیاء کرام (علیہم السلام) کو حاصل ہوتا ہے ۔ مگر یہ نکتہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح اس ربانی عطیہ ‘ آسمانی فہم ‘ دینی عقل اور نورانی قوت پر ” حکمت “ کا اطلاق ہوتا ہے ، اسی طرح اس قوت (حکمت) کے آثار ونتائج اور اس کی تعلیمات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ، چناچہ دوسری آیت جس میں حضرت لقمان (علیہ السلام) کو حکمت دیئے جانے کا بیان ہے اس کے بعد اس حکمت لقمانی کی حسب ذلیل تعلیمات کا ذکر بھی کار گیا ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرنا ‘ شرک کی ممانعت ‘ والدین کی خدمت اچھوں کی پیروی ‘ خدا کا ہمہ گیر علم ‘ نماز کا حکم ‘ صبر وفخر و غرور کی ممانعت ‘ میانہ روی ‘ آہستہ بولنا ‘ اسی طرح تیرہویں آیت میں حکمت محمدی کی حسب ذلیل تعلیمات کی تفصیل بھی کی گئی ہے ۔ شرک کی ممانعت ‘ والدین کے ساتھ احسان ‘ قرابت داروں اور بےکسوں سے نیک سلوک ‘ اسراف کی برائی ، نرمی کی بات کرنا ، میانہ روی ‘ اولاد کے قتل کی مذمت ‘ کسی کی جان نہ لینا مقتول کا بدلہ لینا ‘ یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ عہد پورا کرنا ‘ ناپ تول ٹھیک رکھنا ‘ بےجان چیز کی پیروی نہ کرنا ، فخر و غرور کی مذمت ‘ ان تمام باتوں کو بیان فرما کر اللہ کہتا ہے ۔ (آیت) ” ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ “۔ (الاسراء 17 : 39) یہ ہیں حکمت کی وہ بعض باتیں جو خدا نے تجھ پر وحی کی ہیں ۔ حکمت کی ان بعض باتوں کی تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمت کے مظاہر اور نتائج کس قسم کی باتیں ہوتی ہیں ‘ یہ عموما وہی باتیں ہوتی ہیں جن کی عالمگیر صداقت اور سچائی کو خود فطرت انسانی اور حس اخلاقی تسلیم کرتی ہے ‘ یہی سبب ہے کہ تیسری اور چوتھی آیت میں حکمت کا اطلاق زبور پر اور پانچویں اور چھٹی آیت میں انجیل پر ہوا ہے کہ ان میں اسی قسم کی دلاویز نصیحتوں اور عالمگیر صداقتوں کی تعلیم ہے اور خود قرآن پاک نے بھی اپنی صفت ” حکمت والا قرآن “ ظاہر کی ہے۔ (آیت) ” تلک ایت ال کتاب الحکیم “۔ (لقمان ویونس) (والقرآن الحکیم) (یس) (والذکرالحکیم) (آل عمران) ان آیتوں سے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے یہ ” حکمت “ کی بعض اہم تنظیموں کو وحی الہی خود اپنے اندر کبھی شامل کرکے ان کو آپ مقطر بنا دیتی ہے یہ چیز انبیاء کو کتاب الہی کے ساتھ ساتھ عامل طور پر ملتی ہے ۔ فرمایا : (آیت) ” واذ اخذاللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ “۔ (آل عمران 3 : 81) اور یاد کرو جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ البتہ جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں ۔ بہرحال یہ حکمت کی قوت انبیاء کرام (علیہم السلام) کو بدرجہ اتم حاصل تھی اور اسی کے کا نتیجہ تھا کہ ان کی ہر بات دانائی اور ہر کام دانش مندی پر مبنی ہوتا تھا اور چونکہ یہ قوت انکو حاصل تھی اسی لئے اس کے آثار اور نتائج بھی اقوال اعمال کی صورت میں ظاہر ہوئے جن کا نہ صرف اقرار واعتراف بلکہ ان پر عمل بھی نبوت کی تصدیق میں داخل ہوا ‘ پندرہویں آیت میں ہے : (آیت) ” واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ “۔ (الاحزاب 33 : 34) (اے محمد رسول اللہ ﷺ کی بیویو ! ) تمہارے گھروں میں خدا کی جو آیتیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ‘ ان کو یاد رکھو ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کو آیات الہی کے علاوہ کس حکمت کے یاد رکھنے کا حکم دیا گیا ‘ ظاہر ہے کہ وہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی حکمت و دانائی کی باتیں تھیں ‘ اب اگر وہ باتیں امور دین سے متعلق نہ ہوتیں ‘ تو ان کے لئے ان کا یاد رکھنا کیوں ضروری قراردیا جاتا ‘ اسی طرح آٹھویں ‘ نویں دسویں اور گیارہویں آیت میں آنحضرت ﷺ کی صفت میں ہے : (آیت) ” یعلمھم ال کتاب والحکمۃ “۔ (الجمعہ : 62 : 2) وہ مسلمانوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کتاب کے بعد کس حکمت کی تعلیم دیتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ خود اپنی حکمت کی ‘ تو جس حکمت کی تعلیم وہ دیتے تھے وہ کود ان کے اندر بھی تھی کہ جو چیز ان کے پاس نہ تھی دوسرون کو کیا بخش سکتے تھے ، اور جب یہ قوت آپ کے پاس تھی تو اس کے آثار ونتائج بھی اقوال وافعال کی صورت میں نمایاں ہوں گے ‘ جن کی آپ تعلیم فرماتے تھے اور اپنے ان امور حکمت کی تعلیم سے آپ کا مقصد بھی یہی ہو سکتا تھا کہ مسلمان ان پر عمل کریں ۔ پانچویں آیت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” قد جئتکم بالحکمۃ ولابین لکم بعض الذی تختلفون فیہ “۔ (الزخرف 43 : 63) میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں تاکہ جن باتوں میں تم باہم اختلاف رکھتے ہو کچھ باتیں ان میں سے کھول دوں ۔ اسے معلوم ہوا کہ حکمت کا ایک فریضہ تبیین بھی ہے ‘ یعنی کسی مجمل ‘ ذو معنیین اور مختلف فیہ مسئلہ کی تشریح و تفصیل جس سے وہ اجمال اور اختلاف جاتا رہے اور اصل مقصود کی تشریح ہوجائے چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے بعض احکام کی جن میں یہود مختلف الرائے تھے ‘ تفصیل فرمائی اور ان کی غلطی دور کی ۔ بارہویں آیت میں ہے : (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیک ورحمتہ لھمت طائفۃ منھم ان یضلوک وما یضلون الا انفسھم وما یضرونک من شیء وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (النساء : 4 : 113) اگر خدا کا فضل و کرم تجھ پر نہ ہوتا تو ان میں سے ایک گروہ نے چاہا تھا کہ تجھ کو گمراہ کرے اور وہ گمراہ نہیں کرتے لیکن اپنے آپ کو او تجھے ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے ‘ اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتاری اور تجھ کو سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر بڑا ہے۔ ان آیتویں میں بیان ہے کہ منافقین کا ایک گروہ آپ کو غلط رائے دے کر بہکانا چاہتا تھا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ان کی یہ چال کارگر نہ ہوئی اور وہ تجھ کو بہکا نہ سکے ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ کا تجھ پر فضل و کرم ہے اور وہ فضل و کرم یہ ہے کہ اس نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتاری اور تجھے وہ علم بخشا جو پہلے نہ تھا ۔ “ اس سے ظاہر ہوا کہ گمراہی سے آپ کی یہ حفاظت ‘ خطاب سے یہ عصمت اور علم کی یہ بخشش آپ کو کتاب اور حکمت دونوں کے ملنے کے سبب سے حاصل ہوئی ہے ‘ الغرض اس حفاظت وعصمت کے حصول میں کتاب الہی کے ساتھ حکمت ربانی کے انعام کو بی داخل کامل ہے ۔ یہ تو وہ نبوی حکمت تھی جس کا سرچشمہ صرف سینہ نبوت تھا لیکن یہ فیض حسب استعداد پیغمبر کی اتباع میں دوسروں کو بھی ملتا ہے جس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ سچی اور صحیح بات کو بہت آسانی سے سمجھ لیتے قبول کرلیتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ تبلیغ اسلام کے تین ذریعوں ‘ حکمت ‘ موعظت اور خوش خلقی سے مناظرہ کرنے میں سب سے اول حکمت کو جگہ دی گئی ہے ۔ (آیت) ” ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتیھی احسن “۔ (النحل 16 : 125) تو اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے مناظرہ بطریق احسن کر ۔ سچی صحیح اور صاف بات دل تک پہنچ جاتی ہے اور بہت جلد اثر دکھاتی ہے ‘ فرمایا : (آیت) ” حکمۃ بالغۃ “۔ (القمر 54 : 5) دل کو پہنچ جانے والی حکمت ؛ یہ حکمت ہر نیکی کی جڑ اور ہر بھلائی کی اصل ہے پھر اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کیا دولت ہو سکتی ہے ‘ اس لئے ارشاد ہوا ؛ (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “۔ (البقرہ 2 : 269) جس کو حکمت دی گئی اس کو بہت نیکی (دولت) دی گئی ۔ اس سلسلہ میں دو مشہور اور مستند حدیثون کا حوالہ بھی مناسب ہے جن سے حکمت کی حقیقت واضح ہوگئی اور کم از کم قرن اول میں اس لفظ کا مفہوم ظاہر ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے وفد کے ایک خطیب کا بیان سن کر فرمایا : ان من الشعر الحکمۃ وان من البیان لسحرا : بعض شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ۔ ایک حدیث میں بعض اشعار کو حکمت اور بعض تقریروں کو جادو کہا گیا ہے ‘ اس تقابل سے ظاہر ہے کہ حکمت کا عربی مفہوم اس کے اردو مفہوم سے بلند تر ہے یعنی سحر وجادو کے مافوق انسانی تصور کی طرح ” حکمت “ کے عربی مفہوم میں کوئی مافوق بشری تخیل ضرور ہے ‘ اسی سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ عربی میں حکمت کے معنی عقل وفہم وغیرہ کے معمولی الفاظ سے کوئی بلند اور غیر معمولی حقیقت ہے اور اردو میں اس حقیقت کی ” حکمت “ کے ساتھ لفظ ” الہامی “ بڑھا کر ادا کیا جاسکتا ہے یعنی ” الہامی حکمت “ ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ رشک وحسد اگر جائز ہے تو صرف دو شخصوں پر ‘ ایک اس پر جس کو مال کی دولت ملی تو وہ اس کو صحیح مصرف میں لٹاتا ہے اور دوسرے رجل اتاہ اللہ الحکمۃ فھو یقضی بھا ویعلمھا “۔ (صحیح بخاری کتاب العلم) اس شخص پر جس کو حکمت ملی ہے تو وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہے اور دوسروں کو سکھاتا ہے اور اس میں معلم ہونے کی شان پیدا ہوتی ہے ‘ جب عام انسان کا یہ درجہ ہے تو انبیاء (علیہم السلام) کو یہ دولت کس بہتات سے ملی ہوگی اور وہ یقینا آنحضرت ﷺ کے حصہ میں بھی آئی ‘ اب اس حصول دولت یعنی عطائے حکمت کا نتیجہ بھی آپ ﷺ سے ظاہر ہونا چاہئے اور وہ فیصلہ اور تعلیم ہے آپ ﷺ کے یہ ملہمانہ فیصلے اور حکیمانہ تعلمالت تمامتر وحی ربانی کی عملی اور زبانی شرح اور بیان ہیں ۔ اسلامی منشور کے اعلان کے بعد شرک سے بچنے کی تاکید مزید : 52۔ شرک دراصل روحانی بیماریوں میں سے ام الامراض ہے اس لئے اس سے بچنے کی تاکید مزید کی جارہی ہے کہ اے لوگو ! دیکھو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ ٹھہراؤ کیونکہ اس کا انجام آخر کار دوزخ ہی ہے اور دوزخ ایسا شفاخانہ ہے کہ جس کے مریضوں کے لئے کراہنا اور چخناک لازم قرار پایا ہے اور اس میں یقینا ایسے مریض بھی ہوں گے جن کا شفایاب ہونا ممکن نہیں ہے اور ان کے کھانے پینے کی خوراک بھی نہایت بدمزہ اور منہ چڑھا دینے والی ہے اور اس سے دوسرے مریض بھی نفرت کریں گے جس کے باعث ان پر لعنت وملامت ہوتی رہے گی ۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

تمہارے پروردگار نے تمہیں تو اس برگزیدگی کے لیے چن لیا ہو کہ بیٹے والے ہو اور خود اپنے لیے پسند کیا ہو کہ فرشتوں کو بیٹیاں بنائے ؟ کیسی سخت بات ہے جو تم کہہ رہے ہو

مشرکین مکہ نے اپنے وہم میں فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ رکھا تھا : 53۔ ادہام پرستوں نے آج سے نہیں مدت سے طرح طرح کے عقیدے گھڑرکھے ہیں انہیں عقائد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مشرکین عرب کی بہت بڑی تعداد فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیتی تھی اور ہوتے ہوتے یہ ایک بہت پختہ عقیدہ قرار پا چکا تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے ہی وہم سے دلائل بھی گھڑ لئے تھے اور وہ ایسے وہموں کو روکھنے والوں پر عقل پرست ہونے کا الزام لگاتے تھے اسی طرح کے وہمی عیدے گھڑنے والے آج بھی ایسے ادہام کا شکار ہیں اور وہی اعتراض وہ آج بھی ان لوگوں پر لگاتے ہیں جو ان سے ان کے وہم پر کوئی دلیل مانگے بتے ھا ہیں وہ چیزیں جو کتاب وسنت میں نہیں اپنی ادہام پرستی کو سہارا دینے کے لئے قرآن کریم کی آیات اور احادیث سے استدلال کرکے انکو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ۔ مثلا انبیاء کرام (علیہم السلام) کو معصوم بھی کہتے ہیں اور کذب گوئی ‘ بہتان تراشی ‘ فضول ‘ عیاشی ‘ مکاری ودھو کہ بازی ‘ حیلہ سازی ‘ بہانہ تراشی ‘ من مانیاں کرنے اور شرک کے مرتکب ہونے تک کہ الزام لگانے کی بےکار سعی کرتے ہیں اور اسی طرح فرشتوں کو معصوم بھی مانتے ہیں اور انکو فریبی ‘ دغا باز ‘ شراب خور ‘ زانی اور پرندوں کی طرح اڑنے والے بھی قرار دیتے ہیں ۔ مکہ کے ادہام پرستوں کا رد قرآن کریم میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ (آیت) ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ لیسمون الملآئکۃ تسمیۃ الانثی “۔ (النجم 53 : 27) ” جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں ۔ “ قرآن کریم میں ان سے پوچھا گیا کہ (آیت) ” الکم الذکر ولہ الانثی “۔ (النجم 53 : 21) ” کیا تمہارے لئے تو لڑکے ہوں اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہوں ۔ “ (آیت) ” تلک اذا قسمۃ ضیزی “۔ (النجم 53 : 22) ” تو یہ کچھ اچھی تقسیم نہ ہوئی ۔ “ فرمایا یہ تو تمہاری وہمی تقسیم ہے اور اسی طرح کے پہلے وہم پرستوں نے اللہ کی اولاد انسانوں کو قرار دیا ہے کچھ نے انسانوں یا فرشتوں کو رب ‘ معبود اور الہ بھی مانا ہے جس طرح بعض یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا ہے اور بعض نے نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور بعض نے بذاتہ اللہ تسلیم کیا اور بعض نے فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھ کر ان کی الوہیت کا بھی اقرار کیا ہے ، جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” ولا یامرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربابا “۔ (آل عمران 3 : 80) اللہ کا رسول تمہیں کبھی حکم نہیں دے گا کہ تم فرشتوں یا نبیوں کا اپنا پروردگار بنا لو ، “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزو بنا ڈالا ‘ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ؟ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی ہے جو زیوروں میں پالی جاتی ہے (بعض اوقات) بحث وحجت میں وہ اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی ، انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمن کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے لیا ہے ، کیا انہوں نے ان کے جسم کی ساخت دیکھی ہے ؟ (کہ اللہ سے ملتی جلتی ہے) انکی گواہی لکھی جا چکی ہے اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہوگی ۔ “ (الزخرف 43 : 15 تا 19) ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا : ” پھر ذرا ان سے پوچھو کیا (ان کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور انکے لئے ہوں بیٹے کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو عورتیں ہی بنایا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟ خوب سن لو کہ دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت بات کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور حقیقت میں یہ جھوٹے ہیں ، کیا اللہ نے بیٹوں کی بجائے بیٹیاں اپنے لئے پسند کیں ؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے حکم لگا رہے ہو ۔ “ (الصفت 37 : 149 ، 155) اس طرح کی من گھڑت وہم پرستیاں آج بھی لوگوں میں بیسیوں موجود ہیں اور وہ انکی ایسی ہی تاویلیں کرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور بات کرو تو فورا عقل پرستی کا الزام فٹ کردیتے ہیں تاکہ ان کو کوئی وہم پرست نہ کہہ دے اور ایسے ہی من گھڑت عقیدوں کے ترجمانوں کو ” علماء “ اور حضرت العلام “ جیسے خطابات سے نوازا جاتا ہے کیونکہ چلتی کا نام گاڑی ہی رکھا جاتا ہے ۔