Ayah 17:14انسان کا ہر عمل وفعل صحیفہ عالم پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہوجاتا ہے :
18۔ نامہ اعمال کیا ہے ؟ اعمال کے نتیجہ کا دوسرا نام ہے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جو چیز بھی ایک دفعہ پیدا ہوتی ہے پھر وہ مکمل طور پر فنا نہیں ہوتی اسی طرح افعال و اعمال بھی جو انسان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ فنا نہیں ہوتے ، موجودہ سائنس جس نے یہ اصول تسلیم کرلیا ہے کہ دنیا میں کوئی حرکت بھی پیدا ہو کر فنا نہیں ہوتی یہاں تک کہ فضا میں ہر آواز ہر صدا جو کبھی بلند ہوئی ہے آج موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اگر ہم اس کو پکڑ پائیں تو سن سکتے ہیں ۔ وہ افعال و اعمال کے دوام ووجود سے اسلامی عقیدہ کو قبول کرنے میں پس وپیش نہیں کرسکتی ‘ دنیا کے ریکارڈ میں انسان کا ہر عمل وفعل ہمیشہ کے لئے بھرا گیا ہے جو ہمیشہ محفوظ رہے گا ، قرآن کریم میں متعدد جگہ متعدد طریقوں سے یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مثلا ۔
” پس اس دن ہر آدمی جان لے گا کہ جو کچھ پہلے کرچکا ہے اس کی حقیقت کیا تھی ؟ سب اللہ کے حضور کہ ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور حقیقت کے خلاف جس قدر افتراء پردازیاں کرتے رہے ہیں سب ان سے کھوئی جائیں گی ۔ “ (یونس 1 : 30) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں گرفتار ہوگا ۔ “ (الطور 52 : 21) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” ہر شخص اپنے اعمال کے وبال میں مبتلا ہے ۔ “ (المدثر 74 : 38) ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” پس جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی وہ (بھی) اسے دیکھ لے گا ۔ “ (الزلزال 99 : 7 ، 8)
” جس دن ہر انسان دیکھے گا کہ جو کچھ اس نے نیک عمل کیا تھا اس کے سامنے موجود ہے اور جو کچھ برائی کی تھی وہ بھی اس کے سامنے ہے “ (آل عمران 3 : 30) ایک جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا کہ :
” جب دو لینے والے داہنے اور بائیں بیٹھے لیتے جاتے ہیں ۔ انسان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے ۔ (ق 50 : 17 ، 18)
زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” کسی اور کو ضرورت ہی نہیں کہ تجھے تیرے اعمال گنا دے اپنا نامہ خود پڑھ لے اور آج تو اپنا حساب کرنے کے لئے خود ہی کافی ہوگا ۔ “ ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے کئے پر خود ہی نگاہ ڈالتا رہے اور پھر اپنے ہی دل سے پوچھے کہ اس میں تو نے کتنا غلط کیا اور کتنا صحیح کیا پھر جس کے غلط ہونے پر دل گواہی دے اس کی اصلاح کرتا رہے تاکہ آنے والے کل اس کو شرمندگی نہ ہو ۔ اقبال مرحوم نے کیا ہی پرایہ بیان اختیار کیا ہے اگر آپ کو خلاف ادب نہ لگے ۔
روز حساب جب میرا پیش ہو دفتر عمل : آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر :
مزید تفیلش کے لئے سورة یونس کی آیت 30 اور آیت 61 عروۃ الوثقی جلد چہارم ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 17:15ہدایت کا نفع اور گمراہی کا نقصان اختیار کرنے والے ہی پر ہوگا :
19۔ اسلام کا یہ سنہری اصول آج خود اسلام کا نام لینے والوں کو یاد نہ رہا ۔ قرآن کریم کی تعلیم میں ہدایت وگمراہی کا تعلق کسی خاندان یا گروہ بندی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا نفع ونقصان بھی صرف اور صرف اسی کو ہے جو اس کا اختیار کرتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو بار بار بیان کیا اور پوری وضاحت سے بیان کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کی تعلیم سے قبل یہود ونصاری نے ہدایت وگمراہی کا اصول مکمل طور بدل رکھا تھا ۔ وہ برملا کہتے تھے کہ (آیت) ” کونوا ھودا اونصری تھتدوا “۔ یعنی ہدایت چاہتے ہو تو یہودی یا عیسائی ہوجاؤ گویا ہدایت کی راہ اعتقاد وعمل کی راہ نہیں بلکہ یہودیت ونصرانیت کی گروہ بندی کی راہ ہے جب تک کوئی یہودی یا نصرانی نہ ہوجائے ہدایت یافتہ نہیں ہو سکتا ، قرآن کریم نے برملا کہا کہ کوئی انسان ہو ‘ کسی نسل وقوم سے ہو ‘ کسی نام سے پکارا جاتا ہو لیکن اگر اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے اعمال بھی نیک ہیں تو وہ ہدایت پر ہے اور یقینا اس کے لئے نجات ہے لیکن جو شخص اللہ پر سچا ایمان نہیں رکھتا اور اس کے اعمال بھی اچھے نہیں ہیں تو وہ گمراہ ہے اور اس کی گمراہی کا وبال بھی یقینا اسی پر ہوگا ۔ لیکن قرآنی تعلیمات سے قبل اگر یہودیوں اور عیسائیوں نے اس کو بھلا دیا تھا تو آج مسلمان کہلانے والوں نے بھی مکمل طور پر اس کو بھلا دیا ہے اور آج یہودیت اور عیسائیت کی جگہ جو مختلف دایان تھے مسلمانوں نے جو ایک ہی دین اسلام کے دعویدار ہیں اس اصول کو محو کردیا ہے اور مختلف گروہ بندیوں پر تقسیم ہو کر ہر ایک گروہ دوسرے کو گمراہ خیال کرتا ہے اور نجات کا مستحق فقط اپنی ہی گروہ بندی کو سمجھتا ہے جو اصولی طور پر قرآن کریم کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے کیونکہ قرآن کریم جس چیز کو مٹانے کے لئے آیا تھا آج اس کو اختیار کرلیا گیا ہے اور ہدایت وگمراہی کا دارومدار وہی گروہ بندی قرار دے لی ۔
قرآن کریم نے اللہ کے اس قانون کا اعلان کیا کہ دنیا کی ہرچیز کی طرح انسان افکار و اعمال کے بھی خواص ونتائج ہیں ۔ اچھے فکر وعمل کا بدلہ اچھا ہے ‘ برے فکر وعمل کا بدلہ برا ہے لیکن ہم نے یہ حقیقت فراموش کردی اور ہدایت وگمراہی کو نسلوں ‘ قوموں ‘ ملکوں اور طرح طرح کی رسموں اور رواجوں میں پابند کردیا اور ہم سب مختلف نسلوں ‘ قوموں ‘ ملکوں اور رسم و رواج میں منقسم ہوگئے اور پھر جو شخص بھی ہماری نسل ‘ قوم ‘ ملک اور رسم و رواج کا ہے وہ ہدایت یافتہ ہے اور جو شخص ہماری نسل ‘ قوم ‘ ملک اور رسم و رواج کا نہیں وہ مکمل طور پر گمراہ ہے ۔ گویا جو کام یہودی اور عیسائی کر کے گمراہ ہوئے آج وہی کام ہم مسلمان کر کے ہدایت یافتہ کہلائے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون “۔
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکے گا :
20۔ ” بوجھ “ سے اس جگہ کیا مراد ہے ؟ بوجھ سے مراد اعمال کی ذمہ داری ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے اور ہر ایک پر صرف اس کے اپنے ہی عمل کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری کا بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے اور نہ یہی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی ذمہ داری کا بار خود اپنے اوپر لے لے اسے بچانے کے لئے اپنے آپ کو اس کے جرم میں پکڑوا دے ۔ یہ بات اس جگہ اس بنا پر فرمائی جارہی ہے کہ مکہ معظمہ میں جو لوگ اسلام قبول کر رہے تھے ان سے انکے مشرک رشتہ دار اور برادری کے لوگ کہتے تھے کہ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو چھوڑ دو اور دین آبائی پر قائم رہو اس کا عذاب وثواب ہماری گردن پر رہا ، ان کو جواب بھی دے دیا گیا اور ایک پختہ اصول بھی بیان کردیا گیا جو رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گا۔ لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں نے بھی اس کو ویسے ہی بھلا دیا جیسا کہ گزشتہ قوموں نے اس کو بھلا کر مختلف طرح کے سہارے قائم کر لئے تھے جیسے گزشتہ قوموں نے ” شفاعت “ اور کفارہ “ وغیرہ پر انحصار کیا آج اس تعلیم کے حامل بھی اسی طرح کے سہاروں پر زندگی گزار رہے ہیں اور یہودیت و عیسائیت اپنا نام بدل کر ملائیت کے نام سے موسوم کی جاتی ہے جب کہ یہ حقیقت ہے کہ نام بدلنے سے اصلیت نہیں بدل جاتی ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھ کی توفیق بخشے ۔
عذاب خداوندی کے لئے اصول خداوندی کی مکمل وضاحت :
21۔ عمل دو طرح کا ہوتا ہے اچھا اور برا۔ جب یہ بات بتا دی گئی کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا یعنی اس کے نتیجہ سے دور چار ہونا ضروری ہے تو اب اس بات کی وضاحت بھی فرما دی کہ وہ باتیں جو جبلت سے متعلق نہیں بلکہ ان کا اچھا یا برا ہونا جاننے اور معلوم کرنے پر ہے تو ضروری ہے کہ پہلے ہر انسان کو کسی نہ کسی رسول کے ذریعہ سے اس کا اچھا ہونا یا برا ہونا تعلیم کیا جائے اور پھر جب وہ معلوم کرلینے کے بعد یہ عمل خیر نہیں بلکہ شروفساد ہے پھر اس کا مرتکب ہو تو اس کو سزا دی جائے اس فقرہ میں اس کی وضاحت فرما دی کہ اعمال کی یہ سزا انسان کو بیخبر ی کی حالت میں نہیں دی جاتی بلکہ پہلے ہم اپنے رسول بھیج کر لوگوں کو اس بات کی خبر پہنچاتے ہیں اور یہ احساس دلا دیتے ہیں ہیں کہ یہ فعل وعمل خیر ہے اور یہ فعل وعمل شر ہے اور جب تک پہلے کسی کو مطلع نہ کردیا جائے ہمارا عذاب اس کو نہیں پکڑتا اور یہ تقاضا ہے ہماری رحمت کا اور اس کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نظام عدالت میں پیغمبر ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔
پیغمبر اور اس کا لایا ہوا پیغام بندوں پر خدا کی حجت ہے یہ حجت قائم نہ ہو تو بندوں کو عذاب دینا خلاف انصاف ہوگا کیونکر اس صورت میں وہ یہ عذر پیش کرسکیں گے کہ ہمیں آگاہ کیا ہی نہ گیا تھا تو پھر ہم پر یہ گرفت کیسی ؟ مگر جب یہ محبت قائم ہوجائے تو اس کے بعد انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان لوگوں کو سزا دی جائے جنہوں نے الہی پیغام سے منہ موڑا یا اسے پا کر اس سے انحراف کیا ۔ یاد رہے کہ اس آیت سے یہ سمجھنا کہ ہر رسول اپنا پیغام بندوں تک خود ہی پہنچائے تو پہنچتا ہے اس لئے رسولوں کا آتے رہنا ضروری ہے یا پھر اس لوگوں کو عذاب دینا ظلم ہوگا جن کے پاس رسول نہیں آیا حالانکہ رسول کا آنا اور پیغام کا پہنچانا دو الگ الگ چیزیں ہیں ، رسول کا پیغام لوگوں تک پہنچنا خود رسول ہی کے پہنچنے کے مرادف ہے کیونکہ پیغام رسالت پہنچانا ہی دراصل رسول کا بھیجنا ہے ، اس کی تفصیل سورة الزمر اور سورة فاطر میں آئے گی ۔ اصل بات یہ ہے کہ گو اللہ تعالیٰ کی ہستی بلکہ اس کی توحید کا علم بھی کچھ نہ کچھ قدرت کے مطالعہ سے معلوم ہوجاتا ہے اور فطرت انسانی کے اندر بھی وہ مرکوز ہے مگر زندگی بعد الموت کا علم یا جزا کا وہ قانون جس کا ذکر اوپر کیا گیا صرف انبیاء کرام (علیہم السلام) ہی کے ذریعہ سے دنیا میں آیا ہے کیونکہ انسانی عقل کی روشنی اس قدر دور کے نتائج دیکھ نہ سکتی تھی پس اس طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان کہاں ہو سکتی ہے کہ لوگوں کو ایسے قانون کے تحت سزا دے دے جس کا انہیں علم ہی نہیں دیا گیا اور عذاب دینے کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ نیک عمل کے نتائج تو وہ بہرحال دے گا ہی کیونکہ یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے اور اسی رحمت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ عذاب نہ دے جب تک کہ پہلے نہ دے کہ یہ امر سزا کے لائق ہے تاکہ انسان متنبہ ہوجائے ، اس آیت میں ہمارے فقہائے اسلام نے بہت سے مسائل کے استنباط کئے ہیں اور بحث کرتے کرتے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے اس کی تفصیلات بہت لمبی ہیں ۔
البتہ ایک بات کا یہاں ذکر کردینا ضروری سمجھتا ہوں وہ ہے نابالغ بچوں یا کفار کے نابالغ بچوں کا معاملہ کہ اسلام نے اس کے متعلق کیا ارشاد فرمایا ہے ۔ اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک بچہ جس میں ابھی نیکی اور بدی کا احساس ہی پیدا نہیں ہوا وہ وہی بچے ہوں گے جو جنت میں جنتیوں کی خدمت کے لئے متعین کئے جائیں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کفار کے بچوں کا کیا ہوگا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے ۔ جن لوگوں نے کفار کے بچوں کو قابل مواخذہ سمجھا ہے ان کے دلائل میں کوئی وزن نہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن چار قسم کے لوگ عذر پیش کریں گے یعنی بہرا ‘ فاتر العقل ‘ بہت بوڑھا اور وہ جو زمانہ فترت میں مرگیا ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے گا کہ آگ میں داخل ہوجاؤ سو اگر وہ داخل ہوجائیں گے تو آگ ان پر ٹھنڈی کردی جائے گی ۔ “ اس سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ انبیائے کرام (علیہم السلام) بھی لوگوں کو درحقیقت ایک آگ ہی میں داخل ہونے کا حکم دیتے ہیں اور وہ محبت الہی کی آگ ہے جو دنیا کی محبت کو ٹھنڈا کردیتی ہے اور جو اس آگ میں داخل ہوجاتا ہے وہ مکمل طور پر برکت میں داخل ہوجاتا ہے کیونکہ یہی اس کی حقیقی راحت ہوتی ہے کاش کہ علمائے اسلام بھی اس حقیقت کو سمجھتے اور لوگوں کو تفہیم کراتے تاکہ لوگ اس آگ میں کود جاتے ، اگر ایسا ہوتا تو آج اہل اسلام کی حالت یہ نہ ہوتی جو اس وقت ہو رہی ہے جس کی اصلاح کی اب ظاہری طور پر کوئی صورت نظر نہیں آتی ہاں ! اللہ تعالیٰ کا غیبی ہاتھ ہی اس کی اصلاح کی کوئی صورت پیدا کرسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ ! قوم مسلم کی اصلاح کی کوئی صورت فرما دے ۔
Ayah 17:16قانون تکوینی پر حکم الہی کا اطلاق درست ہے :
22۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو برائی کا حکم دے یہ ممکن نہیں بلکہ ممتنع ہے ہاں ! اللہ تعالیٰ کے تکوینی اور فطری احکام بھی ہیں جن کو قرآن کریم نے بار بار بیان کیا ہے اور ان کے لئے یہی پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے جس کا مفہوم ومطلب یہ ہے کہ کسی معاشرہ کو آخر کار جو چیز تباہ کرتی ہے وہ اس کے کھاتے پیتے اور خوشحال لوگوں کا بگاڑ ہے ، جب کسی قوم کی ہلاکت کے دن قریب آتے ہیں تو اس کے دولت مند اور صاحب اقتدار لوگ فسق وفجور پر آتے ہیں ‘ وہ ظلم وستم اور بدکاریاں اور شرارتیں شروع کردیتے ہیں اور آخر کار یہی فتنہ پوری قوم کو لے ڈوبتا ہے ۔
(امرنا) کے معنی حکم دینا ہی مراد لئے جائیں جو عام طور پر حکم دینے کے معنی ہیں تو (امرنا) کے بعد (طاعۃ اللہ) محذوف مانا جائے گا اور یہی معنی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کئے جاتے ہیں اور (امرنا) کے معنی (اکثرنا) کے بھی کئے گئے ہیں۔
اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ان لوگوں کا ہلاک کرنا ہی مقصود خداوندی تھا اس لئے ان کو اول بذریعہ انبیاء ایمان و اطاعت کا حکم دینا پھر اس کے فسق وفجور کو عذاب کا سبب بنانا یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوا ہے تو وہ بیچارے تو مجبور ومعذور ٹھہرے ۔ حقیقت اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل واختیار دیا اور عذاب وثواب کے راستے متعین کردیئے پھر جب کوئی اپنے اختیار سے عذاب ہی کے کام کا عزم کرے تو عادت خداوندی اس طرح ہے کہ وہ اس عذاب کے اسباب ان کے لئے مہیا کردیتا ہے ، اس طرح گویا اصل سبب عذاب کا خود ان کا عزم وقصد ہے کفر ومعصیت کا نہ کہ محض ارادہ اس لئے وہ معذور نہیں ہو سکتے ۔
حاصل کلام دو باتیں ہوئیں ایک یہ کہ ایسے خوش عیش سرمایہ داروں کو قوم کا حاکم بنا دیا جاتا ہے اور دوسری بات یہ ہوئی کہ قوم میں ایسے لوگوں کی کثرت کردی جاتی ہے اور پھر دونوں کا ماحصل یہ ہوا کہ عیش پسند لوگوں کی حکومت یا ایسے لوگوں کی قوم میں کثرت کچھ خوشی کی چیز نہیں عذاب الہی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس قوم کے حکم ورئیس ایسے لوگ بنا دیئے جاتے ہیں جو عیش پسند اور عیاش ہوں یا اگر وہ حاکم بھی نہ بنیں تو اس قوم کے افراد میں ایسے لوگوں کی کثرت کردی جاتی ہے دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ شہوات و خواہشات اور لذات میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانیاں خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی اس کی راہ ہموار کرتے ہیں اور بالاخر ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے ۔
اس وقت اس ملک عزیز پاکستان کی حالت آپ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اگر اوپر بیان کردہ حالات ان پر صادق آتے ہیں تو نتیجہ آپ کے بالکل سامنے ہے وہ آج رونما ہو یا کل بہرحال ہوگا ایسا ہی جیسا کہ سنت الہی متعلق بیان گیا ، وقت متعین اللہ ہی جانتا ہے لیکن حالات بہرحال نہایت نازک صورت اختیار کرچکے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اوپر کے طبقہ کو خصوصا اور متوسط طبقہ کو عموما اپنی حالت پر غور وفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کوئی غیبی ہاتھ ان حالات کے سامنے بند باندھ دے ۔
Ayah 17:17قوم نوح اور قوم نوح کے بعد اور کتنی ہی قومیں تھیں جن کو ہلاک کردیا گیا :
23۔ (آیت) ” من بعد نوح “۔ جب سے تاریخ کا آغاز ہوا ہے اور دنیا از سر نو طوفان نوح کے بعد میں آباد ہوئی اور یہیں سے تاریخ عالم کا آغاز ہوا کہ نوح (علیہ السلام) سے قبل کے حالات مکمل طور پر اندھیرے میں ہیں سوائے ان کے جو کتاب وسنت میں بیان ہوئے اور نوح (علیہ السلام) کے بعد کتنی ہی قومیں ہیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے اور تاریخ کے صفحات میں ان کی داستانیں بھی ثبت ہیں سورة ہود اور سورة الاعراف میں بہت سی دعوتوں کا ذکر مختصر مگر جامع طور پر گزر چکا ۔ ہر قوم کی حالت کو بغیر پڑھتے چلے جاؤ اور ان سارے حالات کو گزشتہ بیان کردہ سرگزشت کے ساتھ منطبق کرتے چلے جاؤ ایک ذرہ برابر بھی فرق نہیں آئے گا ہر قوم کے لوگوں نے اپنے رسول کی مخالفت کی اور اس کی رسالت کو ماننے اور تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور پھر یہ بھی کہ انکار کرنے والوں کے پیش پیش وہی لوگ تھے جن کو قوم کے سردار اور و ڈیرے تسلیم کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنے اپنے رسول کی مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور نتیجہ بھی سب کا ایک ہی جیسا رہا ، پھر زیر نظر آیت میں (خبیرا بصیرا) کے الفاظ لا کر صفات خداوندی کی پوری پوری وضاحت فرما دی کہ حق تعالیٰ سب کے ظاہر و باطن سے پوری طرح خبردار ہے اس کے ہاں اندھیر نگری نہیں کہ کسی کو بلا قصور سزا مل جائے اور کسی کو انعام کا مستحق قرار دیا جائے ، نہیں نہیں ‘ سزا اس کو ملے گی جو فی الواقع سزا کا مستحق ٹھہرا اور انعام وہی پائے گا جو انعام کا حق دار ہوا ، یہی کچھ پہلے ہوا اور یہی کچھ اب ہوگا ۔ ، مسلمانوں کو یہ بات بار بار کہی گئی تاکہ وہ عبرت حاصل کریں اور اپنی حالت کو درست کرنے کی خود ہمت کریں ورنہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو پہلوں کے ساتھ ہوا ۔
Ayah 17:18جو شخص دنیا کی زندگی کے لئے کوشش کرے اس کو دنیا ہی دی جائے گی :
24۔ قانون الہی کی مزید وضاحت فرما دی کہ یاد رکھو نتائج عمل کے لحاظ سے انسان کے دو گروہ ہوگئے ہیں ایک وہ ہے جس کی ساری طلب دنیا کی چند روزہ زندگی ہی کے لئے ہے دوسرا وہ ہے جو یقین رکھتا ہے کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے اس لئے اس دوسری زندگی کی سعادت کا بھی طالب ہے جہاں تک دنیا کی زندگی کا تعلق ہے ہمارا قانون یہ ہے کہ دونوں کے آگے یکساں طریقہ پر دنیوی نتائج کا دروازہ کھول دیا ہے اور سب کو کارخانہ ربوبیت کا فیضان مل رہا ہے انہیں بھی جو صرف دنیا کے ہو رہے ہیں انہیں بھی جو آخرت کے بھی طالب ہوئے جہاں تک آخرت کی سعادتوں کا تعلق ہے پہلے کے لئے محرومیاں ہوں گی دوسرے کے لئے کامرانیاں ۔
زیر نظر آیت میں بہت بڑی عبرت کا مضمون بیان کیا گیا آج دنیا میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مختلف منصوبوں میں کامیاب پاکر اپنے آپ کو برسرحق اور مقبول سمجھنے لگے ہیں اور بجائے اس کے کہ ضمیر کی خلش محسوس کریں اپنے ہر کامیابی کے ساتھ اور زیادہ غافل ومطمئن اور بےفکر ہوجاتے ہیں کوئی رشوت لے کر اپنی حرص پوری کر رہا ہے کوئی سود لے کر اپنا خزانہ جمع کر رہا ہے اور چونکہ دولت کھٹاکھٹ چلی آرہی ہے اس لئے اپنے حال پر اور زیادہ نازاں ہوتا جاتا ہے اور اپنے عمل پر احتساب ونظر ثانی کی ضرورت ہی سرے سے نہیں سمجھتا ۔ آیت زیر نظر میں بتایا گیا ہے کہ فوری کامیابی مطلق صورت میں ہرگز خوش ہونے والی چیز نہیں ، دیکھنا تو یہ چاہئے کہ غایب عمل کیا ہے اور مقصود سعی کیا ہے ؟ اگر محض دنیا ہے تو انجام تمام تر خواب ہی ہونا ہے ، جب نظریہ وطلب پست ہے تو نتیجہ ومال بلند کیسے ہو سکتا ہے ؟ دنیا کی زیب وزینت اور مال و دولت دوزخ کی لپیٹ سے کیونکر محفوظ کرسکتے ہیں پھر وہ اعمال جن کے صلہ میں دوزخ حصے میں آئے کیونکر سرا ہے جاسکتے ہیں ؟ صرف دنیا کی طلب جس کے ساتھ آخر کی طلب نہ ہو باطل کی طلب ہے ۔
Ayah 17:19آخرت میں قبول ہونے والی کوشش ہی کامیاب کوشش کہی جاسکتی ہے :
25۔ طالب دنیا کا انجام بیان کرنے کے بعد اب طالب آخرت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو حقیقتا طالب الہی ہے فرمایا اس کو ایمان اور سعی حسن عمل کے بعد جزائے کامل یقینا ملے گی اور اس کی کوئی نیکی فراموش نہیں کی جائے گی بلکہ راہ حق میں جو قدم بھی اس نے اٹھایا ہوگا جو عمل بھی اس نے کیا ہوگا اسے ضرور قبول بخشا جائے گا ، رہی یہ بات کہ طالب آخرت جو حقیقتا طالب اہی ہو اس کی پہچان کیا ہے ؟ زیر نظر آیت میں اس کی شناخت کی تین علامتیں بیان کی گئی ہیں :
1۔ (من اراد الاخرۃ) کہ ہر عمل سے اس کا اصل مقصد آخرت کی سرخروئی ہو کوئی بھی صرف دنیوی مقصد اس کا اعمال کا محرک نہ ہو ۔
2۔ (وسعی لھا سعیھا) اور اس کے لئے وہ پوری طرح اپنی امکانی کوشش بروئے کار لائے ، قربانی کا وقت آئے تو بصد مسرت دل وجان پیش کر دے اس راہ کے ہر کانٹے کو پھول سے زیادہ عزیز جانے ، مصائب وآلام کے طوفان امڈ کر آئیں تو چٹان بن کر کھڑا ہوجائے ، غرض کہ اپنی جسمانی وروحانی قوتوں اور دیگر وسائل کو حق کی سربلندی کے لئے واقف کر دے اور اپنے ذہن و دماغ میں یہ تصور قائم کرے کہ یہ کتنی شرم کی بات ہوگی کہ دنیا کے طلب گار تو اپنی لیلائے مقصود کے لئے دوڑ دھوپ کی انتہا کردیں اور طالب آخرت صرف باتیں بنانے اور آرزوئیں کرنے ہی پر اکتفا کرے اس لئے راہ حق میں قدم رکھنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ (سعی لھا سعیھا) کے الفاظ کو ہر وقت اپنے پیش نظر رکھیں ، طالب آخرت کی تیسری علامت جو اس جگہ بیان ہوئی وہ ہے ۔
3۔ (وھو مؤمن) کہ اس کا دل نور ایمان سے چمک رہا ہو۔ کفر اور شرک اور نفاق کا کوئی اندھیرا موجود نہ ہو کیونکہ اعمال کی قبولیت کا انحصار صرف ایمان پر ہے اگر ایمان نہ ہو تو عمر بھر کی ساری ریاضتیں بےسود ہوجاتی ہیں ، اس لئے فرمایا گیا کہ ” ایسے ہی لوگ ہیں جن کی کوششیں مقبول ہوں گی ۔ “
Ayah 17:20طلب وسعی پر انحصار ہے ورنہ ہم تو ہر ایک کی مدد کرتے ہی رہتے ہیں ۔
26۔ اس آیت میں قانون تکوینی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ہم اپنے قانون کے مطابق دنیوی نعمتوں کا دروازہ کسی پر بھی بند نہیں کرتے ہر آدمی کی طلب وسعی پر منحصر ہے جو شخص صرف دنیا کا طالب ہے اس کو صرف دنیا اور جو شخص آخرت کی طلب رکھتا ہے اس کو اس کے حصہ کی دنیا بھی اور آخرت بھی ضرور ملتی ہے ، ہماری دنیا کی عطا کسی پر بھی بند نہیں کی گئی کیونکہ یہ ہمارے قانون تکوینی کے خلاف ہے اور قانون کے خلاف ہم کبھی نہیں کرتے ، کوئی مومن ہو یا کافر مطیع ہو یا نافرمان سعید ہو یا شقی سب کے لئے ہمارے قانون کا دروازہ کھلا ہے اور اس قانون کے تحت جو چیزیں آتی ہیں کسی سے ان کو بند نہیں کیا جاتا ، روزی ہے کہ سب کو دی جاتی ہے ‘ زندگی اور اس کی نشو ونما کی سہولتیں سب کے لئے یکساں ہیں جو چاہے قانون الہی کے مطابق انکو حاصل کرے اور جتنا چاہے حاصل کرے ۔ (کل) پر ایک فریق کے ہر ہر فرد کے لئے یہ عطا یکساں جاری وساری ہے نہ سعید کو اس سے زیادہ دیا جاتا ہے کہ وہ سعید ہے اور نہ شقی سے اس لئے روک لیا جاتا ہے کہ وہ شقی ہے ۔ اے پیغمبر اسلام ! ” تیرے پروردگار کی بخشش عام کسی پر بھی بند نہیں ہے ۔ “
Ayah 17:21دنیوی زندگی میں دیک دوسرے پر فضیلت ہے تو آخرت کی فضیلت تو اصل فضیلت ہے :
27۔ دنیاوی مراتب میں بعض کو جو بعض پر فضیلت دی جاتی ہے وہ تو محسوس ومشاہد ہے اگرچہ وہ دنیوی زندگی ہی کی طرح عارضی اور فانی ہے لیکن اگر ذرا غور کرلیا جائے تو آخرت کی فضیلت کا بھی اس دنیا کی زندگی میں پتہ چلایا جاسکتا ہے دونوں قسم کے لوگوں کی زندگیاں اس کی وضاحت پیش کر رہی ہیں اور قابل یادداشت بات یہ ہے کہ آخرت کی فضیلت ہی دراصل اور حقیقی فضیلت ہے ، خیال رہے کہ یہ فضیلت اس اعتبار سے نہیں ہے ان لوگوں کے کھانے پینے ‘ پہننے اور رہنے سہنے کے ٹھاٹھ باٹھ ان سے کچھ بڑھ کر ہیں بلکہ یہ فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ یہ جو کچھ پاتے ہیں صداقت ‘ دیانت وامانت کے ساتھ پاتے ہیں وہ جو کچھ پا رہے ہیں ظلم وزیادیتوں اور بےایمانیوں سے پا رہے ہیں ۔ پھر ان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اعتدال کے ساتھ سوچ سمجھ کر خرچ ہوتا ہے اور اس سے حق داروں کے سارے حقوق ادا ہوتے ہیں اور سائل اور محروم کو بھی دیا جاتا ہے اور محض اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ آخرت کے لئے محفوظ رہے کسی ظاہری نمائش کے لئے نہیں دیا جاتا لیکن اس کے برعکس دنیا پرست جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ نمود ونمائش کے خرچ کرتے ہیں ہوا وہوس کے لئے خرچ کرتے ہیں ۔ اس لئے دونوں طرح کی زندگیوں کو دیکھ کر یہاں بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ آخرت کی فضیلت کے مستحق کون لوگ ہیں اور میدان حشر میں تو یہ بات مزید صاف ہوجائے گی اور وہ بذات الصدور ذات انہیں لوگوں کو فضیلت دے گی جو فی الواقعہ فضیلت اخروی کے مستحق ہوں گے ، اس کی مزید تفصیل سورة المومنون کی آیت 109 ‘ 110 کے تحت دیکھیں ۔
Ayah 17:22اللہ کے ساتھ کسی کو معبود تصور کرنا بےیارو مددگار ہونا ہے :
28۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب فرما کر آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کو حکم دیا جارہا ہے کہ دنیا اور عقبی کی سرخروئی اور رستگاری کے لئے اللہ تعالیٰ کی توحید پر کامل یقین ضروری ہے اگر کسی اور کو اس کی ذات کی طرح قدیم مان لیا جائے اور کسی دوسرے کے متعلق بھی یہ تسلیم کیا جائے کہ اس کی صفات بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کی طرح ذاتی اور قدیم ہیں تو وہ جان لے کہ اسنے اپنی بربادی کا سامان فراہم کرلیا کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے محروم ہوگیا اور اس سے زیادہ بدنصیب کون ہوگا جو اللہ رب العزت کی نگاہ رحمت سے محروم ہوگیا وہ کون ہے جو اس کی دستگیری کرے گا ، اس لئے زیر نظر آیت میں وضاحت فرما دی کہ اگر کوئی شخص اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ بھی تسلیم کرلے تو اس نے گویا وہ کام کیا جس کے کرنے کے بعد وہ ملامت زدہ اور بےیارومددگار ہو کر بیٹھ گیا اور ازیں بعد اس کی کوئی مدد نہیں کرسکے گا ۔ (آیت) ” خسرالدنیا والاخرۃ “۔ الہ کیا ہے ؟ اس کی تفہیم قرآن کریم کی زبان میں سورة النحل کی آیات 60 تا 64 میں بیان کی گئی ہے لہذا تفصیل کے لئے مذکورہ آیات کی طرف مراجعت کریں وہاں الہ کا مفہوم وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔
اس کے بعداسلامی معاشرہ کے وہ بڑے بڑے اصول پیش کئے جا رہے ہیں جن کی ضرورت ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پیش آنے والی تھی اور شروع اسلام سے آخر دنیا تک کام آنے والے ہیں اور یہ وہی اصول ہیں جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو معراج کی رات عطا کئے گئے یہ وہی سنہری اصول ہیں جو عطا کرنے کے لئے آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور وسعت ارض وسماوی آپ ﷺ کے سامنے کھلی کتاب کی طرح رکھ دی گئی ، یہ وہ منشور ہے جو مکی دور کے خاتمے اور مدنی دور کے نقطہ آغاز پر پیش کیا گیا تاکہ دنیا بھر کے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اس نئے اسلامی معاشرہ کی بنیاد کن فکری ‘ اخلاقی ‘ تمدنی ‘ معاشی اور قانونی اصولوں پر رکھی جارہی ہے ، اس کے بعد اس منشور کے سنہری اصولوں میں سے پہلا اصول جو پیش کیا گیا وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا اصول ہے ۔
Ayah 17:23منشور اسلامی کی اصل اول کا اعلان عام :
29۔ ” اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی “ عبادت کے معنی عام طور پر وہ چند مخصوص اعمال سمجھے جاتے ہیں جن کو انسان اللہ کی عظمت اور کبریائی کے لئے بارگاہ صمدی میں بجا لاتا ہے لیکن یہ عبادت کا نہایت تنگ مفہوم ہے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے انسانوں پر جو حقیقت ظاہر فرمائی اس کا اصل جوہر یہ نہیں ہے کہ گزشتہ مذاہب کی عبادت کے طریقوں کی بجائے اسلام میں عبادت کے دوسرے طریقے مقرر کردیئے گئے بلکہ یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا گاہ کہ عبادت کی حقیقت اور غایت کیا ہے ؟ اور ساتھ ہی عبادت کے گزشتہ ناقص طریقوں کی تکمیل ‘ مبہم بیانات کی تشریح اور مجمل تعلیمات کی تفصیل کی گئی ۔
اہل عرب جہاں آسمانی مذہب کی دوسری حقیقتوں سے بیخبر تھے وہاں عبادت کے مفہوم اور اس کے صحیح طریقوں سے بھی ناواقف تھے ، عرب میں جو یہود اور عیسائی تھے وہ بھی اس کے متعلق اپنے عمل اور تعلیم سے کوئی واضح حقیقت ان کے سامنے پیش نہ کرسکے تھے اس عہد میں جو عیسائی تھے وہ بھی اس کے متعلق اپنے عمل اور تعلیم سے کوئی واضح حقیقت ان کے سامنے پیش نہ کرسکے تھے اس عہد میں جو عیسائی فرقے عرب میں تھے ، عقائد میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کو تسلیم کرتے تھے اور عبادات میں یہ تھا کہ تمام دنیا کے عیش و آرام اور لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر کے عرب کے سنسان بیابانوں اور پہاڑوں میں انہوں نے اپنی عبادت گاہیں اور خانقاہیں بنا لی تھیں اور ان میں بیٹھ کر تمام دنیا کی جدوجہد اور سعی و کوشش کے میدانوں سے ہٹ کر مجرد اور متقشفانہ زندگی بسر کرتے تھے اس لئے عربوں کی شاعری میں عیسائیت کا تخیل ایک ” راہب متبتل “ کی صورت میں تھا ‘ عرب کا سب سے بڑا شاعر امراء القیس کہتا ہے ۔ منارۃ مبسی راب متبتل :
دنیا سے الگ تھلک زندگی بسر کرنے والے راہب کے نام کا چراغ ۔
عرب میں یہود اپنی اخلاقی اور مذہبی بدعملیوں کے سبب سے سخت بدنام تھے ان میں روحانی خلوص اور ایثار اور خدا پرستی نام کو نہ تھی وہ صرف سبت (سینچر) کے دن تورات کے حکم کے مطابق تعطیل منانا اور اس دن کوئی کام نہ کرنا بڑی عبادت سمجھتے تھے ۔ قرآن پاک نے ان دونوں فرقوں کی اس حالت کا نقشہ کھینچا ہے ‘ یہودیوں پر اس نے بےحکمی ‘ نافرمانی اکل حرام اور طاغوت کی پرستش کا اور عیسائیوں پر غلو فی الدین کا صحیح الزام قائم کیا ہے ۔ (سور المائدہ 5 : 57 تا 66)
یہودی جادو ‘ ٹوٹکا اور عملیات کے توہمات میں گرفتار تھے اور جب کبھی موقع ملتا غیر قوموں کے بتوں کے سامنے بھی سر جھکا لیتے تھے ، عیسائی حضرت مریم (علیہا السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مسیح اولیاء اور شہیدوں کی تصویروں ‘ مجسموں ‘ یادگاروں اور مقبروں کو پوجتے تھے ‘ انہوں نے راہبانہ عبادت کے نئے نئے اور جسم کو سخت تکلیف اور آزار پہنچانے والے طریقے ایجاد کئے تھے اور ان کا نام انہوں نے دینداری رکھا تھا ، سورة حدید میں قرآن کریم نے یہود اور نصاری دونوں کا فاسق کہا ہے لیکن ان دونوں کے فسق میں نہایت نازک فرق ہے ‘ یہود کا فسق دین میں کمی اور سستی کرنا اور نصاری کا فسق دین میں زیادتی اور غلو کرنا تھا اور خدا کے مشروع دین میں کمی اور زیادتی دونوں گناہ ہیں ۔ اس لئے قرآن نے دونوں کو برابر کا فسق قرار دیا ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَاہِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتَابَ فَمِنْہُم مُّہْتَدٍ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (26) ثُمَّ قَفَّیْْنَا عَلَی آثَارِہِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَآتَیْْنَاہُ الْإِنجِیْلَ وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوہُ رَأْفَۃً وَرَحْمَۃً وَرَہْبَانِیَّۃً ابْتَدَعُوہَا مَا کَتَبْنَاہَا عَلَیْْہِمْ إِلَّا ابْتِغَاء رِضْوَانِ اللَّہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا فَآتَیْْنَا الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنْہُمْ أَجْرَہُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (27)
اور ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھی تو ان میں سے کچھ راہ پر ہیں اور اکثر نافرمان ہیں ۔ پھر ان کے بعد ان کے پیچھے ہم نے اپنے اور پیغمبر بھیجے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت فرمائی اور جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کی ان کے دل میں نرمی اور رحمدلی بنائی اور ایک رہبانیت انہوں نے نئی چیز نکالی جو ہم نے ان پر نہیں لکھی تھی لیکن خدا کی خوشنودی حاصل کرنا تو انہوں نے اس رہبانیت کو بھی جیسا نباھنا چاہئے تھا نہیں نباہا تو ان میں جو ایماندار تھے ان کو ہم نے ان کی مزدوری دی اور ان میں بہت سے نافرمان ہیں ۔
ان آیتوں میں سے معلوم ہوا کہ عیسائی دین میں اضافہ اور افراط کے مرتکب ہوئے اسی لئے قرآن کریم نے ان کو بار بار کہا (آیت) ” لا تغلوا فی دینکم “۔ (النساء 4 : 171۔ المائدہ 5 : 77) اپنے دین میں غلو نہ کرو ۔
ان کا سب سے بڑا غلو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جن کو صرف رسول اللہ ماننے کا حکم دیا گیا تھا وہ ابن اللہ ماننے لگے اور یہود کا یہ حال تھا کہ وہ خدائے برحق کے رسولوں کو رسول بھی ماننا نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کو قتل کرتے تھے (ویقتلون النبین) (البقرہ و آل عمران) ساتھ ہی وہ خدائے برحق کو چھور کر بت پرست ہمسایہ قوموں کے بتوں کو پوجنے لگے تھے چانچہ تورات میں یہودیوں کی بت پرستی اور غیر خداؤں کے آگے سرجھکانے کا بار بار تذکرہ ہے اور قرآن میں ان کے متعلق ہے :
(وعبدالطاغوت) (المائدہ : 5۔ 6)
اور جنہوں نے شیطان کو (یابتوں کو) پوجا۔
آنحضرت ﷺ نے عیسائیوں کو تبلیغ کی ۔
مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّی یُؤْفَکُونَ (75) قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً وَاللّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (76) قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْْرَ الْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعُواْ أَہْوَاء قَوْمٍ قَدْ ضَلُّواْ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّواْ کَثِیْراً وَضَلُّواْ عَن سَوَاء السَّبِیْلِ (77)
مریم کا بیٹا مسیح ایک پیغمبر ہے اور بس ۔ اس سے پہلے پیغمبر گزر چکے ہیں اور اس کی ماں سچی تھی ، دونوں (انسان تھے) کھانا کھاتے تھے (خدا نہ تھے) دیکھ کر ہم ان (عیسائیوں) کے لئے اس طرح کھول کر دلیلیں بیان کرتے ہیں پھر بھی دیکھ وہ کدھر الٹے جاتے ہیں (ان سے) کہہ کہ کیا تم خدا کو چھوڑ کر ان (انسانوں) کو پوجتے ہو جن کے ہاتھ میں نہ نقصان ہے نہ نفع ۔ اللہ ہی سننے والا اور جاننے والا ہے جو نفع نقصان پہنچا سکتا ہے ، کہہ اے کتاب والو ! اپنے دین میں ناحق زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کے خیال پر نہ چلو جو بہک گئے اور بہتوں کو بہکایا اور سیدھے راستہ سے بھٹک گئے ۔
ان کی حالت یہ تھی :
(آیت) ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ (التوبہ 9 : 31)
خدا کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا بنا لیا تھا ۔
اس زمانہ میں عیسائیوں کے جو گرجے اور پرستش گاہیں عرب میں اور خصوصا ملک حبش میں تھیں ان میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت مریم (علیہ السلام) اور حواریوں ‘ ولیوں اور شہیدوں کی تصویریں اور مجسمے نصب تھے ، عبادت گزار ان کے آگے دھیان اور مراقبہ میں سربسجود رہتے تھے ، صحابہ میں سے جن لوگوں کو حبشہ کی ہجرت کے اثناء میں ان معبدوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا ان میں سے شاید بعض بیبیوں کی نگاہ میں ان بزرگوں کی تعظیم و تکریم کی یہ مناسب صورت معلوم ہوتی تھی ، چناچہ آنحضرت ﷺ کے مرض الموت میں بعض ازواج مطہرات نے آپ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا اور ان کی تصویروں اور مجسموں کے حسن و خوبی کو بیان کیا ، آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا یہودونصاری پر لعنت بھیجے ‘ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا ‘ تم ایسا نہ کرنا ، ان میں سے جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تھا تو وہ اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیتے تھے اور اس میں اس کی تصویریں کھڑی کردیتے تھے ۔ (صحیح مسلم کتاب المساجد)
ایڈورڈکبن نے تاریخ ترقی وزوال روم کی متعدد جلدوں کے خاص ابواب میں عیسوی مذہب کی عبادات کے جو حالات بیان کئے ہیں وہ تمام تر حدیث مذکور کی تصدیق وتائید میں ہیں ۔ خصوصا تیسری اور پانچویں جلد میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہا السلام) ‘ سینٹ پال اور متعدد ولیوں اور شہیدوں کی پرستش کی جو کیفیت درج ہے وہ بالکل اس کے مطابق ہے اور آج تک رومن کیتھولک اور قدیم مسیحی فرقوں کی پرستش گاہوں کے در و دیوار سے قرآن پاک کی صداقت کی آوازیں آرہی ہیں اور آج بھی دیندار عیسائی دن رات موم بتیوں کی روشنی میں ان کے آگے مراقبوں اور تسبیحوں میں سرنگوں نظر آتے ہیں ، روم (اٹلی) کے تاریخی گرجاؤں میں یہ منظر اب بھی دیکھا جاسکتا ہے اور اس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی اصلی تشریح انسان کی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے ۔
یہودیوں اور عیسائیوں کو چھوڑ کر خاص عرب کے لوگوں اللہ نام کی ایک ہستی سے واقف ضرور تھے مگر اس کی عبادت اور پرستش کے مفہوم سے بیخبر تھے ‘ لات ‘ عزی ‘ ہبل اور اپنے اپنے قبیلے کے جن بتوں کو حاجت روا اور پرستش کے قابل سمجھتے تھے ان پر جانور قربان کرتے اور اپنی اولادوں کو بھینٹ چڑھاتے تھے ، سال کے مختلف اوقات میں مختلف بت خانوں کے میلوں میں شریک ہوتے تھے اور پتھروں کے ڈھیروں کے سامنے بعض مشرکانہ رسوم ادا کرتے تھے ۔ خانہ کعبہ یعنی خلیل بت شکن کا معبد تین سو ساٹھ بتوں کا مرکز تھا اور ان کی نماز یہ تھی کہ خانہ کعبہ کے صحن میں جمع کر کر سیٹی اور تالی بجا بجا کر بتوں کو خوش اور راضی رکھیں ، قریش کا موحد زید بن عمرو جو آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے بت پرستی سے تائب ہوچکا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ ” اے خدا ! مجھے نہیں معلوم کہ میں تجھ کو کس طرح پوجوں ؟ اگر جانتا تو اسی طرح عبادت کرتا۔ “ (سیرۃ ابن ہشام ذکر زید بن عمرو)
ایک صحابی شاعر عامر بن اکوع خیبر کے سفر میں یہ ترانہ گا رہے تھے اور آنحضرت ﷺ سن رہے تھے ۔ (مسلم باب الخیبر)
واللہ لولا انت ما اھتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا :
خدا کی قسم اگر تو نہ ہوتا تو نہ ہم راستہ پاتے نہ خیرات کرتے اور نہ نماز پڑھتے ۔
اس شعر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی تعلیم تھی جس نے اہل عرب کو عبادت کے صحیح طریقوں سے آشنا کیا۔
عرب سے باہر بھی کہیں خدائے واحد کی پرستش نہ تھی ‘ بت پرست یونانی اپنے بادشاہوں اور ہیروؤں کے مجسمے اور ستاروں کے ہیکل پوجتے تھے ، روم ‘ ایشیائے کو چک ‘ یورپ افریقہ ‘ مصر ‘ بربر ‘ حبشہ وغیرہ عیسائی ملکوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہ السلام) اور سنکڑوں ولیوں اور شہیدوں کی مورتیاں اور ہڈیاں اور ان کی مصنوعی یادگاریں پوجی جارہی تھیں۔ زردشت کی ملکت میں آگ کی پرستش جارہی تھی ‘ ہندوستان سے لے کر کابل وترکستان اور چین اور جزائر ہند تک بودھ کی مورتوں ‘ سمادھوں اور اس کی جلی ہوئی ہڈیوں کو راکھ کی پوجا ہو رہی تھی ، چین کے کنفوش اپنے باپ دادوں کی مورتوں کے آگے خم تھے ‘ خاص ہندوستان میں سورج دیوتا ‘ گنگا مائی اور اوتاروں کی پوجا ہو رہی تھی ، عراق کے صائبی سبع سیارہ کی پرستش کی تاریکی میں مبتلا تھے ، باقی تمام دنیا درختوں ‘ پتھروں ‘ جانوروں ‘ بھوتوں اور دیوتاؤں کی پرستش کر رہی تھی ، غرض عین اس وقت جب دنیا خدائے واحد کو چھوڑ کر آسمان سے زمین تک کی مخلوقات کی پرستش میں مصروف تھی ایک بےآب وگیاہ ملک کے ایک گوشہ سے آواز آئی :
(آیت) ” یایھا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم والذین من قبلکم “۔ (البقرہ : 21)
لوگو ! اپنے اس پروردگار کی پرستش کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا ۔
سابق کتب الہی کے امانت داروں کو آواز دی گئی :
(آیت) ” یاھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سوآء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللہ “۔ (آل عمران 3 : 64)
اے کتاب والو ! آؤ ہم تم اس بات پر عملا متحد ہوجائیں جس میں ہم تم عقیدتا متفق ہیں کہ ہم خدائے برحق کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کریں
مگر یہ آواز ریگستان عرب کے سرف چند حق پرستوں نے سنی اور پکار اٹھے :
(آیت) ” ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی لل ایمان ان امنوا بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا ذنوبنا “۔ (آل عمران 3 : 193)
خداوند ! ہم نے ایمان کی منادی کی آواز سنی کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے تو اے پروردگار ہمارے گناہ معاف کر۔
اس واقعات کو سامنے رکھ کر آنحضرت ﷺ کی اس دعا کی صداقت کا اندازہ کرو جو بدر کے امتحان گاہ میں آپ ﷺ کی زبان عبودیت ترجمان سے بارگاہ الہی میں کی گئی تھی :
خداوند تیرے پوجنے والوں کی یہ مٹھی بھر جماعت آج تیرے لئے لڑنے پر آمادہ ہے ، خداوند آج اگر یہ مٹ گئی تو پھر زمین میں کبھی تیری پرستش نہ ہوگی ۔ (صحیح مسلم ‘ جامع ترمذی ‘ عزوہ بدر)
خدا نے اپنے نبی کی دعا سنی اور قبول فرمائی کیونکہ خاتم الانبیاء کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہ تھا جو غافل دنیا کو خدا کی یاد دلاتا اور خدا کی سچی اور مخلصانہ عبادت کی تعلیم دیتا ۔
صرف ایک خدا کی عبادت :
مذہب کی تکمیل اور اصلاح کے سلسلہ میں نبوت محمد کا پہلا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے دنیا کے معبدوں سے تمام باطل معبودوں کو باہر نکال کر پھینک دیا باطل معبودوں کی عبادت اور پرستش یک قلم محو کردی اور صرف ایک خدا کے سامنے خدا کی تمام مخلوقات کی گردنیں جھکا دیں اور اور صاف اعلان کردیا کہ :
(آیت) ” ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمان عبدا “۔ (مریم 29 : 93)
آسمان و زمین کی تمام مخلوق اس مہربان خدا کے سامنے غلام ہی بن کر آنے والی ہے ۔
خدا کے سوا نہ تو آسمان میں ‘ نہ زمین میں ‘ نہ آسمان کے اوپر اور نہ زمین کے نیچے کوئی ایسی چیز ہے جو آنسان کے سجدہ اور رکوع و قیام کی مستحق ہے اور نہ اس کے سوال کوئی کسی اور کے نام پر کسی جاندار کا خون بہایا جاسکتا ہے اور نہ اس کی پرستش کے لئے گھر کی کوئی دیوار اٹھائی جاسکتی ہے اور نہ اس کی نذر مانی جاسکتی ہے اور نہ اس سے دعا مانگی جاسکتی ہے ہر عبادت اسی کے لئے اور ہر پرستش اسی کی خاطر ہے ۔
(آیت) ” ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین “۔ (الانعام 6 : 162)
بلاشبہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور موت سب اسی ایک عالم کے پروردگا اللہ کے لئے ہے ۔
کفار کو بتوں ‘ دیوتاؤں ‘ ستاروں اور دوسری مخلوقات کی پرستش سے ہر طرح منع کیا گیا اور انہیں ہر دلیل سے سمجھا گیا کہ خدائے برحق کے سوا کسی اور کی پرستش نہیں لیکن جب ان پر اس سمجھانے بجھانے کا کوئی اثر نہ ہوا تو اسلام کے پغمبر کو اس انقطاع کے اعلان کا حکم ہوا ۔
(آیت) ” قل یایھا الکفرون لا اعبد ما تعبدون ولا انتم عبدون ما اعبد ، ولا انا عابد ما عبدتم ولا انتم عبدون ما اعبد ، لکم دینکم ولی دین “۔ (الکافرون 109 : 1 تا 6)
اے کافرو ! جس کو تم پوجتے ہو اس کو میں نہیں پوجتا اور نہ تم اس کو پوجنے والے ہو جس کو میں پوجتا ہوں اور نہ میں اس کو پوجنے والا ہوں جس کو تم نے پوجا اور نہ تم اس کو پوجنے والے ہو جس کو میں پوجتا ہوں ۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے ۔
والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے اور ان کے سامنے اف نہ کرنے کا حکم :
30۔ سب سے پہلے توحید فی العبادت کی تلقین کی کہ اللہ کے سوا اور کسی کی بندگی نہ کرو کیونکہ نفس توحید کا اعتقاد تو تمام پیروان مذاہب میں موجود تھا لیکن توحید فی العبادت کی حقیقت مفقود ہوگئی تھی پھر والدین کے حقوق پر توجہ دلائی کیونکہ انسان کے لئے والدین کی ربوبیت ربوبیت الہی کا پر تو ہے اس لئے عبودیت الہی کے بعد جو عمل اس کے لئے مقدم ہو سکتا ہے وہ یہی ہے کہ والدین کے حقوق پرورش سے غافل نہ ہو ۔ والدین کی خدمت و اطاعت کی آزمائش کا اصل وقت ان کے بڑھاپے کا وقت ہوتا ہے کیونکہ بڑھاپے کی کمزوریاں انہیں دوسروں کی خدمت واعانت کا محتاج بنا دیتی ہیں اور اولاد اپنی جوانی کی امنگوں اور عیش پرستیوں میں اس کی کم ہی مہلت پاتی ہے کہ اپنے محتاج اور معذور ماں باپ کی خبر گیری کرے ۔ پس یہاں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کیونکہ جو اولاد اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت و اطاعت میں کوتاہی نہیں کرے گی وہ دوسرے وقتوں میں کب کوتاہی گوارا کرسکتی ہے ، انسان کی احتیاج کے دو ہی وقت ہوتے ہیں طفولیت اور بڑھاپا ۔ طفولیت میں ماں باپ نے خدمت کی تھی ‘ بڑھاپے میں اولاد کو کرنی چاہئے اس لئے اس جگہ ارشاد فرمایا کہ بوڑھے والدین کے لئے دعا مانگو کہ (آیت) ” رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا “۔
(آیت) ” بالوالدین احسانا “۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اچھا سلوک یعنی بھلائی کرنا ایک ایسی صفت ہے جو ہر نیکی کے کام کو محیط ہے اس لئے اس کی صورتیں اتنی ہیں کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا البتہ ان تمام صورتوں کی ایک عام شکل یہ نکلتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ ایسا نیک سلوک کرنا جس سے ان کا دل خوش ہو اور ان کو آرام پہنچے ۔ پس والدین کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جس سے ان کا دل خوش ہو اور ان کو آرام پہنچے ” احسان “ ہوگا اور یہ کام اتنا مشکل ہے کہ شاید ہی اس سے زیادہ کوئی کام دنیا میں مشکل ہو یہی وجہ ہے کہ اس کو توحید الہی کے ساتھ جوڑ دیا گیا کہ نام دونوں ہی آسان ہیں لیکن کام دونوں ہی نہایت مشکل ہیں اللہ کا خاص فضل ہے اس انسان پر جو ان دونوں کاموں میں سرخرو ہو سکے ۔
(آیت) ” فلا تقل لھما اف “۔ تم انہیں (اف) تک مت کہو (اف) کیا ہے ؟ (اف) وہی ہے جس کو ہم اپنی گفتگو اور بول چال میں ” ہو۔۔۔۔۔۔ ں “ کہہ کر بولتے ہیں اور اس کو جتنا لمبا کرتے ہیں اتنی ہی دوسرے کی تحقیر مطلوب ہوتی ہے ، جب اس ” ہو۔۔۔۔ ں “ کو منع کیا گیا تو ظاہر ہے کہ جو چیزیں اس سے بڑھ کر ان کے مقابلہ میں گستاخانہ یا ان کے حق میں تکلیف دہ ہیں ان کی ممانعت تو کہیں زائد ہوں گی ۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو قولا فعلا بڑی چھوٹی کسی قسم کسی قسم کی بھی اذیت پہنچانا جائز نہیں صرف لفظ (اف) یا ’ ہو۔۔۔۔۔ ں “ کے تلفظ سے ہی روکتا نہیں۔ اس لئے اگر کوئی شخص ماں باپ کے سامنے لفظ ” اف “ یا ” ہو۔۔۔۔۔۔۔ ں “ نہ کہے اور کام سارے ان کی ناراضگی اور ناخوشی کے کرے تو وہ اس حکم کی زد سے بچ نہیں سکتا اور نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے اف تک نہیں کی ۔ (آیت) ” ولا تنھرھما “۔ اور انہیں مت جھڑکو اور ڈانٹ ڈپٹ مت کرو۔ ظاہر ہے کہ بڑھاپے کے عوارض طبعی طور پر انسان کو چڑچڑا بنا دیتے ہیں اور یہ بھی کہ بڑھاپے کے آخری دور میں جب عقل وفہم جواب دینے لگتے ہیں تو ان کی خواہشات ومطالبات کچھ ایسے بھی ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوتا ہے ایسے حالات میں والدین کی دل جوئی اور راحت رسانی کے احکامات دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت یاد دلایا کہ ایک وقت تھا کہ تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تم بھی کتنی ضدیں کرچکے ہو تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بےعقلی ور بیوقوفی کی باتوں کو انہوں نے پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جب کہ محتاجی کا وقت ان پر آیا ہے تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ انکے اس احسان کا بدلہ تم بھی دو اور کوئی فعل وعمل ایسا نہ کرو جو ان کے لئے مزید تکلیف کا باعث ہو اور ان کے ایسے حالات میں بھی کوئی بات کرو تو بڑی تعظیم کے ساتھ کرو ورنہ خاموش رہو اور اپنے آپ سے باہر مت ہوجاؤ بلاشبہ یہ کام بہت مشکل اور کٹھن ہے لیکن ذرا غور کرو کہ ہر مشکل کا ایک سرا آسانی کے ساتھ ملتا ہے ، مشکل کو جب مشکل نہیں سمجھے گے تو وہ یقینا آسان ہوگی ۔ اس کو کہتے ہیں کہ
مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہوگئیں :
Ayah 17:24والدین کے لئے تواضع و انکساری کے بازو جھکا دو اور ان کے لئے دعا کرو :
31۔ بڑھاپے کے عوارضات کے بعد اس بات کا ذکر فرمانا کہ (آیت) ” واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ “۔ ان کے آگے محبت ومہربانی کے ساتھ عاجزی کا سر جھکائے رکھو۔ اپنے اندر بہت بڑا مفہوم رکھتا ہے جس سے والدین کے ساتھ انتہائی فروتنی اختیار کرنے کی تاکید نکلتی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ والدین خواہ کتنے ہی بوڑھے اور بڑھاپے کے باعث اگر چڑچڑے پن کا شکار ہوجائیں تو اولاد کے لئے باعث آزمائش ہیں اور آزمائش امتحان کو کہتے ہیں اور امتحان سے کامیابی اور ناکامی بھی معروف بات ہے اور جس طرح ایک کامیابی کئی کامیابیوں کا باعث بنتی ہے اسی طرح ایک ناکامی کتنی ہی ناکامیوں کا سبب بن جاتی ہے اور یہ وہ ناکامی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ بڑی بڑی ناکامیوں کا باعث بنتی ہے اس لئے اللہ سے دعا کرنا چاہئے اور اس آزمائش سے کامیاب ہو کر ہی نکلنا چاہئے ، اس سلسلہ میں دعا بھی خود اللہ رب العزت نے سکھا دی کہ (آیت) ” رب ارحمھما کما ربینی صغیرا “۔ اے پروردگار ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ میری بچپن میں پرورش کی تھی ۔ “