17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے جی میں ہوتا ہے اگر تم نیک کردار ہوئے تو وہ بلاشبہ توبہ کرنے والوں کے لیے بڑا ہی بخشنے والا ہے

دلوں کی حالت کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے نیکو کار ہی بخشش کے مستحق ہیں : 32۔ بعض اوقات انسان کی ظاہری حالت اور دلی کیفیت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور جو اس کی زبان پر ہوتا ہے وہ یقینا دل میں نہیں ہوتا اور جو دل میں پوشیدہ ہوتا ہے اس کو زبان پر نہیں لاتا ۔ اس لئے زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت فرما دی کہ اصل بات تو وہ ہے جو دل کی گہرائیوں میں چھپی ہے اور کسی شخص کے لد کی گہرائی کتنی ہی کیوں نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اس لئے وضاحت فرما دی کہ تمہارے دلوں میں اپنے والدین کے لئے اطاعت وفرمانبرداری کے جو جذبات ہیں یا ان سے دل ہی دل میں جو نفرت اور تھکاوٹ یا اکتاہٹ تم محسوس کرتے ہو تمہارا رب اس سے خوب واقف ہے ۔ اگر شیطان نے تم کو والدین کی شکرگزاری اور احسان شناسی کی راہ سے بہکا دیا ہے تو بہتر ہے اب ہی سنبھل جاؤ ، آج ہی سچے دل اور شرح صدر سے انکی خدمت میں لگ جاؤ اور اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرلو جو سچے دل سے جھک جاتا ہے اور غلطی سے باز آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیتا ہے کیونکہ وہ غفور ورحیم ہے ، ان آیات کریمات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اولاد کی پرورش اور بوڑھے والدین کی دیکھ بھال سے اولاد کو سبکدوش کردے وہ اسلامی معاشرہ نہیں ہو سکتا اور ظاہری طور پر انسان اس میں کتنی ہی خوبیاں سمجھے خوب نام کی کوئی چیز اس میں مطلق نہیں ہے بلکہ سراسر فریب نفس ہے جس کے نتائج نہایت ہی تباہ کن ہیں۔ ہاں ! کمزور والدین سے انکی اولاد کی پرورش میں ہاتھ بٹانا اور اس کی معاونت کرنا لازم وضروری ہے اور اس طرح کمزور اولاد لازم وضروری ہے ان دونوں باتوں میں جو فرق ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے اور بےباپ بچوں اور بےاولاد اور بےسہارا بوڑھوں کی نگہداشت کا معاملہ اس سے بالکل الگ ہے ، اس جگہ جی چاہتا ہے کہ والدین کے اس اہم مقام کے متعلق کچھ مزید عرض کیا جائے کیونکہ یہ کتب آسمانی کا ایک اہم باب ہے جس کے متعلق کتب آسمانی میں واضح ہدایت موجود ہیں ۔ والدین کے حقوق توحید الہی کے بعد درجہ رکھتے ہیں اور آج بھی کتب سماوی میں محفوظ ہیں : والدین یعنی باں باپ کی عزت واحترام ‘ خدمت و شفقت اور اطاعت وفرمانبرداری سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ‘ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں یکساں ضروری قرار دی گئی ہے بلکہ تینوں میں ان کا درجہ اللہ تعالیٰ کے بعد انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور سب سے بڑا بتایا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت وفرمانبرداری کے بعد انکی اطاعت وفرمانبرداری کی تاکید کی گئی ہے بشرطیکہ اس میں شرک کی بوباس نہ ہو تورات میں بھی توحید الہی کی تعلیم کے بعد اس کو بیان کیا ہے چناچہ تحریر ہے کہ : ” تو اپنے ماں باپ کو عزت دے تاکہ تیری عمر اس زمین پر جو خدواند تیرا خدا تجھے دیتا ہے دراز ہو ۔ “ (خروج 20 : 21) پھر دوسری جگہ ہے : ” تم میں سے ہر ایک اپنی ماں اور اپنے باپ سے ڈرتا رہے ۔ “ (احبار 19 : 3) انتہا یہ ہے کہ تورات نے قانونا یہ حکم نافذ کیا کہ : ” اور جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کرے مار ڈالا جائے گا اس نے اپنے باپ یا اپنی ماں پر لعنت کی ہے اس کا خون اسی پر ہے ۔ “ (احبار 20 : 9) اور وہ جو اپنے ماں باپ پر لعنت کرے مار ڈالا جائے گا ۔ (خروج 21 : 7) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انجیل میں انہی احکام کو دہرایا اور اس بات پر زور دیا کہ ان احکام کی صرف لفظی تعمیل نہ کی جائے بلکہ ان کے روح ومعنی کا خیال کیا جائے ، فرمایا : ” کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ اپنے ماں باپ کی عزت کر اور جو ماں یا باپ پر لعنت کرے ‘ جان سے مارا جائے پر تم کہتے ہو کہ جو کئی اپنے باپ یا ماں کو کہے کہ جو کچھ مجھے تجھ کو دینا واجب ہے سو خدا کی نذر ہوا اور اپنے ماں باپ یا انکی عزت نہ کرے تو کچھ مضائقہ نہیں پس تم نے اپنی روایت سے خدا کے حکم کو باطل کیا۔ “ (متی 15 : 4 تا 7) نبوت محمدی جس کی بعثت ہی اخلاق کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے اس نے تورات وانجیل کی طرح نہ صرف والدین کی عزت اور ان سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی بلکہ اس مسئلہ کے ہر گوشہ کی تفصیل کی اور ہر ممکن سوال کا تشفی بخش جواب دیا ۔ (1) ۔ اس نے سب سے پہلے ماں اور باپ کی مشترکہ حیثیت کی بھی تفصیل کی اور بتایا کہ ماں اور باپ میں بھی سب سے بڑا درجہ ماں کا ہے ‘ عورت کی فطری کمزوری ‘ بیچارگی اور حمل ‘ وضع حمل اور تربیت اولاد کی تکلیفوں کو ہنسی خوشی برداشت کرنا ‘ ماں بڑائی اس کی سب سے پہلے دلدہی کرنے اور اس کی فرمانبرداری کرنے کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ (آیت) ” ووصینا الانسان بوالدیہ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصلہ فی عامین “۔ (لقمان 31 : 14) اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے واسطے تاکید کی ، اس کی ماں نے اس کو تھک تھک کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو برس تک دودھ پلایا ۔ (آیت) ” ووصینا الانسان بوالدیہ احسانا حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا “۔ (الاحقاف 46 : 15) اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ نیکی کرے ، اس کی ماں نے اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ جنا ، پیٹ میں رکھنا اور دودھ پلا کر چھڑانا تیس مہینے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات میں اس کی مزید تاکید کی ‘ ایک شخص نے خدمت اقدس میں آکر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے ؟ فرمایا تیری ماں ‘ پوچھا پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں ! اس نے عرض کی ‘ پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں ! تین دفعہ آپ ﷺ نے یہی جواب دیا ‘ چوتھی دفعہ پوچھنے پر ارشاد ہوا تیرا باپ ۔ (صحیح بخاری ج 2 کتاب الادب) ایک دن آنحضرت ﷺ نے چار بڑے گناہوں کا ذکر کیا اور سرفہرست ماں کی نافرمانی کو قرار دیا اور فرمایا کہ تمہارے خدا نے ماؤں کی نافرمانی تم پر حرام کی ہے ۔ (جامع ترمذی کتاب البر والصلہ ) ایک دفعہ ایک شخص نے آکر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے کیا میرے لئے کوئی توبہ ہے ؟ فرمایا کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ جواب دیا نہیں ! دریافت کیا خالہ ہے ؟ گزارش کی ‘ ہے ‘ فرمایا ” تو اس کے ساتھ نیکی کر۔ “ (ایضا) یہی اس کی توبہ ہوئی ۔ ایک اور صحابی نے دریافت کیا ‘ یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے جہاد میں شرکت کا ارادہ کیا ہے اور آپ ﷺ سے مشورہ چاہتا ہوں ‘ فرمایا ” کیا تمہاری ماں ہے ؟ جواب اثبات میں دیا ‘ فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ چمٹے رہو کہ جنت اس کے پاؤں کے پاس ہے ۔ “ (ترغیب وترہیب منذری ج 2 ص 124) 1۔ ان تعلیمات سے اندازہ ہوگا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم میں مخلوقات انسانی میں جنس لطیف ہی کی ایک صنف کو سب سے بڑی برتری حاصل ہے اور یہ برتری بالکل فطری ہے انسان سب سے زیادہ اپنے وجود میں جن کا ممنون ہے اور جو اس کی تخلیق کی مادی علت ہیں ‘ وہ خالق اکبر کی علت فاعلہ ذات کے بعد ماں اور باپ ہیں لیکن بات کی مادی علیت چند لمحوں اور چند قطروں سے زیادہ نہیں ‘ مگر ماں وہ ہستی ہے جس نے اس کی ہستی کو اپنا خون پلا پلا کر بڑھایا اور نو مہینے تک اس کی مشکل سہہ کر اور سختی اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا ‘ پھر اس کے جننے کی ۔۔۔۔۔۔۔ ناقابل برداشت تکلیف کو ہنسی خوشی برداشت کیا پھر اس نوپیدا مضغہ گوشت کو اپنی چھاتیوں سے لگا کر اپنا خون پانی کر کے پلایا اور اس کی پرورش اور غور پرداخت میں اپنی ہر راحت قربان ‘ اپنا ہر آرام ترک اور اپنی خوشی نثار کردی ایسی حالت میں کیا ماں سے بڑھ کر انسان اپنے وجود میں مخلوقات میں کسی اور کا محتاج ہے ؟ اس لئے شریعت محمدی نے اپنی تعلیم میں جو بلند سے بلند مرتبہ اس کو عنایت کیا ہے وہ اس کی سزاوار ہے ۔ 2۔ ماں کے ساتھ جو دوسری ہستی ‘ بچہ کی تولید وتکوین میں شریک ہے ‘ وہ باپ ہے اور شک نہیں کہ اس کی نشو ونما اور تربیت میں ماں کے بعد باپ ہی کی جسمانی ومالی کوششیں شامل ہیں اس لئے جب بچہ ان کی محنتوں اور کوششوں سے قوت کو پہنچتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ اپنی ماں باپ کی کوششوں سے حاصل کی ہوئی قوت کا شکرانہ ماں باپ کی خدمت کی صورت میں ادا کرے ‘ چناچہ اسلام نے نہ صرف پہلے صحیفوں کی طرح ان کی ” عزت “ کرنے اور ان سے ڈرتے رہنے کے وعظ پر اکتفا کیا بلکہ ان کی خدمت ‘ ان کی اطاعت ‘ ان کی امداد اور ان کی دلدہی ہرچیز فرض قرار دی بلکہ یہاں تک تاکید کی کہ انکی کسی بات پر اف تک نہ کرو ‘ ان کے سامنے ادب سے جھکے رہو ‘ ان کی دعاؤں کو اپنے حق میں قبول سمجھو ‘ انہی کی خدمت انسان کا سب سے بڑا جہاد ہے بلکہ انہی کی خوشنودی سے خدا کی خوشنودی ہے ، قرآن پاک میں والدین کے ساتھ حسن سلوک ‘ نیکی اور خدمت کی تاکید 12 مختلف آیتوں میں نازل ہوئی ہے اور اکثر موقعوں پر تعلیم توحید اور خدا پرستی کی تعلیم کے بعد ہی آئی ہے کہ پہلی تخلیق انسانی کی علت فاعلی اور دوسری علت مادی ہے ‘ سب سے پہلی آیت سورة بقرہ میں ہے جس میں تورات کے حکم کی طرف بھی اشارہ ہے ‘ فرمایا : (آیت) ” واذاخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ وبالوالدین احسانا “۔ (البقرہ : 2 : 83) اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم نہ پوجھو کے مگر اللہ کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ یہ آیت پاک گو اس حکم کا اعادہ ہے جو توراۃ کی آیتوں میں ہے لیکن یہاں توراۃ کی طرح صرف ماں باپ کی عزت اور ڈر کے محدود لفظ نہیں بلکہ ” نیکی کرنے “ کا وسیع المعنی لفظ رکھا گیا ہے جس سے تعلیم کے مفہوم میں بڑی وسعت آگئی ہے اور ہر قسم کی خدمت ‘ اطاعت اور عزت کا مفہوم اس کے اندر پیدا ہے ۔ اسی سورت میں دوسری جگہ والدین کی مالی خدمت اور امداد کی نصیحت ہے ۔ (آیت) ” قل ما نفقتم من خیر فللوالدین والاقربین “۔ (البقرہ : 2 : 215) فائدہ کی جو چیز تم خرچ کرو ‘ وہ ماں باپ اور رشتہ داروں (وغیرہ) کے لئے ۔ سورة نساء میں توحید کے حکم اور شرک کی ممانعت کے بعد ہی والدین کے ساتھ بھلائی کی تاکید کی جاتی ہے ۔ (آیت) ” واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئاوبالوالدین احسانا “۔ (النساء : 4 : 36) اور اللہ کو پوجو او اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ کفار کو جنہوں نے اپنے وہم و خیال اور رسم و رواج سے حلال و حرام کی ہزاروں رسمی و خیالی باتیں پیدا کرلیا تھیں اللہ تعالیٰ خطاب کرکے فرماتا ہے کہ یہ کھانے پینے کی چیزیں حرام نہیں ۔ آؤ ہم بتائیں کہ حقیقت میں حرام چیزیں کیا ہیں خدا کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیکی سے پیش نہ آنا۔ (آیت) ” قل تعالوا اتل ما حرم برکم علیکم الا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا “۔ (الانعام : 6 : 151) کہہ (اے پیغمبر) آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤ کہ تمہارے پروردگار نے تم پر کیا حرام کیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا ۔ معراج کے احکام دوزادہ میں خدا کی توحید کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم اس اہتمام کے ساتھ دی جاتی ہے کہ ان کے سامنے اف بھی نہ کرو ‘ عاجزی سے پیش آؤ ان کے حق میں دعائے خیر کرو اور بڑھاپے میں ان کی خدمت ‘ فرمایا : (آیت) ” وَقَضَی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِندَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْماً (23) وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً (24) ۔ اور تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنا اگر انمیں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف بھی نہ کہو اور انہ ان پر خفا ہو اور ان سے ادب سے بولو اور ان کے لئے اطاعت کا بازو محبت سے جھکاؤ اور کہو کہ اے اللہ میرے پروردگار تو ان پر رحمت فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ۔ اللہ اللہ ! کس ادب اور محبت کی تعلیم ہے ۔ خدا کی دائمی اور غیر متبدل شریعت میں شرک سے زیادہ بری چیز کوئی نہیں قرار دی گئی اس پر بھی اگر کسی کے ماں باپ مشرک ہوں تو اس حالت میں بھی ان کی خدمت سے ہاتھ اٹھانا روا نہیں ! بجز اس کے کہ اگر ہو شرک کی دعوت دیں تو انکی اس بات کو قبول نہ کیا جائے ۔ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ حُسْناً وَإِن جَاہَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا إِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (8) اور ہم نے انسان کو جتا دیا کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر وہ تجھ کو مجبور کریں کہ تو خدا کے ساتھ اس کو شریک کر جس کا تجھ کو علم نہیں تو انکا کہا نہ مان ‘ تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے تو میں تم کو تمہارے کرتوت سے آگاہ کروں گا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اگر تمہارے بت پرست ماں باپ تم کو بت پرستی کی دعوت دیں تو صرف انکی دعوت کو قبول نہ کرو لیکن ان کی دنیاوی خدمت اور حسن سلوک میں کوئی فرق نہ آئے پائے بلکہ وہ اس حال میں بھی اپنی جگہ پر قائم رہے فرمایا : (آیت) ” وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ حَمَلَتْہُ أُمُّہُ وَہْناً عَلَی وَہْنٍ وَفِصَالُہُ فِیْ عَامَیْْنِ أَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْْکَ إِلَیَّ الْمَصِیْرُ (14) وَإِن جَاہَدَاکَ عَلی أَن تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِیْ الدُّنْیَا مَعْرُوفاً وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ أَنَابَ إِلَیَّ ثُمَّ إِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (15) اور ہم نے انسان کو جتا دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اس کی ماں نے اس کو تھک تھک کر پیٹ میں رکھا اور دو سال میں اس کا دودھ چھڑایا کہ میرا اور اپنے ماں باپ کا احسان مانے ‘ میرے ہی پاس پھر آنا ہے اگر وہ دونوں اس پر تجھ کو مجبور کریں کہ میرے ساتھ اس کو شریک کر جس کو تو نہیں جانتا تو ان کا یہ کہنا نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ بھلائی سے گزران کر۔ اس اہتمام کو دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ ماں باپ کی احسان مندی کا ذکر خود اپنی احسان پذیری کے ساتھ کرتا ہے اور اس شرک پرستی کی دعوت اور اس دعوت کے قبول پر اولاد کو بزور مجبور کرنے کے باوجود صرف اسی قدر کہا جاتا ہے کہ مذہب کے باب میں انکی بات اولاد نہ مانے ‘ مگر دوسری باتوں میں ان کا ادب ‘ ان کی اطاعت اور انکی خدمت کا وہی عالم رہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ باوجود اس کے کہ ان کا باپ مسلمان نہ تھا مگر اپنے وعدہ کی بنا پر خدا سے دعا مانگی جس سے غالبا ان کی دعا سے مراد یہ ہوگی کہ وہ ایمان لا کر حسن خاتمہ پر مرے ۔ (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی “۔ (ابراہیم 14 : 41) اے میرے پیروردگار مجھے اور میرے باپ کو بخش دے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی یہی دعا کی ۔ (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی “۔ (نوح 71 : 28) اے میرے پیروردگار مجھے اور میرے باپ کو بخش دے ۔ اس لئے والدین کے حسن خاتمہ اور مغفرت کی دعا مانگنا انبیاء کرام (علیہم السلام) کی پیروی ہے ، آخری بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو والدین کے ساتھ سلوک کرتے ہیں ‘ ان کی خدمت بجا لاتے ہیں اور ان کے لئے خدا سے دعائے خیر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس نیکی کے بدلہ میں ان کے سارے گناہ معاف کردیتا اور اپنی خوشنودی کی لازوال دولت ان کو عطا فرماتا ہے ۔ (آیت) ” وَوَصَّیْْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً وَحَمْلُہُ وَفِصَالُہُ ثَلَاثُونَ شَہْراً حَتَّی إِذَا بَلَغَ أَشُدَّہُ وَبَلَغَ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلَی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہُ وَأَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ إِنِّیْ تُبْتُ إِلَیْْکَ وَإِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (15) أُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجاوَزُ عَن سَیِّئَاتِہِمْ فِیْ أَصْحَابِ الْجَنَّۃِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ کَانُوا یُوعَدُونَ (16) اور ہم نے انسان کو تاکید کرکے کہہ دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا اس کی ماں نے اس کو تکلیف کرکے پیٹ میں اٹھایا اور تکلیف کرکے جنا اور اور تیس مہینوں تک اس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑانا یہاں تک کہ وہ بچہ سے بڑھ کر جوان ہوا اور چالیس برس کا ہو اس نے کہا میرے پروردگار مجھ کو توفیق دے کہ تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر میرے ماں باپ پر کیا اور اس کی کہ میں وہ کام کروں جس کو تو پسند کرے اور میری اولاد نیک کر ‘ میں تیری طرف لوٹ کر آیا اور میں تیرے فرمانبرداروں میں ہوں ‘ یہی وہ ہیں جن کے اچھے کام ہم قبول اور ان کے برے کاموں سے درگزر کرتے ہیں یہ جنت والوں میں ہوں گے یہ سچائی کا وہ عہد ہے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ۔ ان آیتوں نے والدین اور خصوصا ماں کی خدمت و اطاعت ورضا مندی کو وہ پانی بتایا ہے جس سے گناہوں کی فرد دھل کر صاف ہوجاتی ہے ، احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے اسی منشائے الہی مختلف عبارتوں اور طریقوں میں ادا فرمایا ہے ۔ “ کہیں فرمایا ہے کہ ” ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہے ۔ “ کبھی ارشاد ہوا ” رب کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے “۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! میرے حسن معاشرت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ فرمایا تیری ماں ‘ دریافت کیا پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں ‘ عرض کی پھر کون ؟ فرمایا تیری ماں ‘ گزارش کی پھر کون ‘ چوتھی بار فرمایا ‘ تیرا باپ اور اس کے بعد جو اس سے قریب ہے ‘ پھر جو اس سے قریب ہے ، ایک دفعہ آنحضور ﷺ مجلس قدس میں تشریف فرما تھے ‘ جانثار حاضر تھے ، فرمایا وہ خوار ہوا ‘ وہ خوار ہوا ‘ وہ خوار ہوا ‘ صحابہ نے پوچھا کون یا رسول اللہ ارشاد ہوا وہ جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت حاصل نہ کرلی ۔ ایک اور مجلس میں صحابہ نے دریافت کیا کہ تمام کاموں میں خدا کو ہمارا کون ساکام زیادہ پسند آتا ہے ؟ فرمایا وقت پر نماز پڑھنا ‘ عرض کی پھر کون ؟ ارشاد ہوا ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا ‘ دریافت کیا پھر کون ‘ فرمایا خدا کی راہ میں محنت اٹھانا (جہاد) ایک دفعہ آپ ﷺ نے والدین کی اطاعت کے ثواب کو ایک نہایت موثر حکایت میں بیان فرمایا ، ارشاد ہوا کہ تین مسافر راہ میں چل رہے تھے اتنے میں موسلا دھار پانی برسنے لگا ‘ تینوں نے بھاگ کر ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی ‘ قضارا ایک چٹان اوپر سے ایسی گری کہ اس سے اس غار کا منہ بند ہوگیا اب ان کی بےکسی وبیچارگی اور اضطراب وبے قراری کا کون اندازہ کرسکتا ہے ‘ ان کو موت سامنے کھڑی نظر آتی تھی اس وقت انہوں نے پورے خضوع وخشوع کے ساتھ دربار الہی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ‘ ہر ایک نے کہا کہ اس وقت ہر ایک کو اپنی خالص نیکی کا واسطہ خدا کو دینا چاہئے ۔ ایک نے کہا یا الہی تو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ‘ میں بکریاں چراتا تھا اور انہیں میری روزی کا سہارا تھا ، میں شام کو جب بکریاں لے گھر آتا تھا تو دودھ دھو کر پہلے اپنے والدین کی خدمت میں لاتا تھا جب وہ پی چکتے تب اپنے بچوں کو پلاتا تھا ، ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں بکریاں چرانے کو دور نکل گیا ‘ لوٹا تو میرے والدین سو چکے تھے ‘ میں دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہوا ‘ نہ ان کو جگاتا تھا کہ ان کی راحت میں خلل آجاتا اور نہ ہٹتا تھا کہ خدا جانے کس وقت انکی آنکھ کھلے اور دودھ مانگیں ، بچے بھوک سے بلک رہے تھے مگر مجھے گوارا نہ تھا کہ میرے والدین سے پہلے میرے بچے سیر ہوں ، میں اسی طرح پیالہ میں دودھ لئے رات بھر سرہانے کھڑا رہا اور وہ آرام کرتے رہے ، خداوند ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو تو اس چٹان کو اس غار کے منہ سے ہٹا دے ‘ یہ کہنا تھا کہ چٹان کو خود بخود جنبش آئی اور غار کے منہ سے تھوڑا سا سرک گئی ، اس کے بعد باقی مسافروں کی باری آئی اور انہوں نے بھی اپنی نیک کاموں کو وسیلہ بنا کر دعا کی اور غار کا منہ کھل گیا ۔ اسلام میں جہاد کہ اہمیت جو کچھ ہے وہ ظاہر ہے مگر والدین کی خدمت گزاری کا درجہ اس سے بھی بڑھ کر ہے ان کی اجازت کے بغیر جہاد بھی جائز نہیں کہ جہاد کے میدان میں سر ہتھیلی پر رکھ کر جانا ہوتا ہے اور ہر وقت جان جانے کا امکان رہتا ہے اس لئے والدین کی اجازت کے بغیر انکو اپنے جسم وجان کو کھونے کا حق نہیں ، جس کو اس کی خدمت گزاری کے لئے وقف ہونا چاہئے تھا اسی لئے ابھی اوپر گزر چکا کہ آنحضرت ﷺ نے نیک کاموں میں جہاد کا درجہ والدین کی خدمت گزاری کے بعد رکھا ، ایک دفعہ ایک صحابی نے آکر خدمت اقدس میں شرکت جہاد کی اجازت طلب کی دریافت فرمایا کہ تمہارے ماں باپ بھی ہیں ؟ عرض کی جی ہاں ! ارشاد ہوا تو پھر انہی کی خدمت کا فریضہ جہاد ادا کرو۔ قرآن پاک کی صریح آیتوں میں خدا کی اطاعت کے ساتھ ساتھ جس طرح والدین کی اطاعت کا ذکر ہے احادیث میں بھی وہی درجہ رکھا گیا ہے ، صحابہ سے فرمایا کہ تم پر خدا نے ماؤں کی نافرمانی حرام کی ہے ، ایک دفعہ صحابہ سے جو خدمت میں حاضر تھے ‘ دریافت کیا کہ کیا تم کو بتاؤں کہ دنیا میں سب سے بڑے گناہ کیا ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ضرور یا رسول فرمایا کہ خدا کے ساتھ شرک کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، آپ تکیہ لگائے بیٹھے تھے سیدھے ہو کر برابر ہوگئے اور فرمانے لگے اور جھوٹی گواہی اور ہاں جھوٹی گواہی ۔ (صحیح بخاری کتاب الاداب ‘ صحیح مسلم کتاب البر والصلہ ۔ جامع ترمذی کتاب البر والصلۃ) تورات میں حقوق والدین کے متعلق جو بعض ایسے احکام تھے جو بیحد سخت تھے وحی محمدی نے بعض حیثیتوں سے ان کی تخفیف کردی ہے اور بعض حیثیتوں سے زیادہ سخت کردیا ہے ۔ مثلا تورات کا یہ حکم تھا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ پر لعنت کرے وہ قتل کردیا جائے ‘ اسلام نے اس گناہ کو دنیا کی قانون سزا کے بجائے اخروی سزا کا موجب قرار دیا جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ توبہ و استغفار سے معاف ہو سکتے ہیں اور مجرم کو اپنے فعل پر نظر ثانی کی تازندگی مہلت ملتی ہے ‘ لیکن اگر اس نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر عذاب بھی ہے ‘ جو دنیاوی سزا سے زیادہ سخت ہے ، اسلام کے قانون میں ایک دفعہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی سنگ دل باپ اپنی اولاد کے قتل کا مرتکب ہو تو بعض حالتوں میں وہ اس کے قصاص کا قتل نہ ہوگا بلکہ کسی اور سزا کا مستحق ہوگا کیونکہ باپ کو اپنی اولاد سے جو فطری محبت ہوتی ہے اس کا مقتضا یہی ہے کہ اس کے فعل کو قتل بالقصد کے بجائے اتفاقی سمجھا جائے تاکہ اس کے برخلاف کوئی قوی شہادت موجود نہ ہو ۔ اسی سلسلہ میں ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ہے ، تورات نے ایک طرف والدین کو یہ اہمیت دے کر دوسری طرف بیوی کے سامنے انکو بالکل بےقدر کردیا ہے ۔ لکھا ہے : اس واسطے سے مراد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی جورو سے ملا رہے گا اور وہ ایک تن ہوں گے ۔ (پیدائش 2 : 24) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی جو گو (انجیل کے مطابق) ماں باپ اور بیوی تینوں سے نا آشنا تھے تاہم جیسا کہ انجیل کے موجودہ نسخہ میں ہے ماں باپ کے مقاملہ میں بیوی کی طرفداری اور حمایت کی اور اسی لئے طلاق کو ناجائز قرار دیا (مرقس 10 : 7 ، 8) مگر سوال یہ ہے کہ اگر بیوی اور والدین کے درمیان ناقابل حل اختلاف ہو اور اس لئے ان دونوں میں سے کسی بیوی کا تعلق ایسا ہے جس کو قانون اور عہد نے پیدا کیا ہے جو ٹوٹ کر جڑ سکتا ہے اور مٹ کر بدل سکتا ہے لیکن والدین کا فطری تعلق ناقابل شکست اور ناقابل تغیر ہے ، حضرت ابن عمر ؓ کی ایک بیوی تھی جن سے وہ راضی تھے مگر ان کے پدر بزرگوار حضرت عمر ؓ کو بہو پسند نہ تھیں ، اس اختلاف نے خانگی جھگڑے کی صورت اختیار کرلی ۔ آنحضرت ﷺ نے ابن عمر ؓ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے باپ کی اطاعت کریں ۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور جو لوگ تمہارے قرابت دار ہیں ، جو مسکین ہیں ، جو مسافر ہیں ان سب کا تم پر حق ہے ، ان کا حق ادا کرتے رہو اور مال و دولت کو بےمحل خرچ نہ کرو جیسا کہ بےمحل خرچ کرنا ہوتا ہے

ذی القربی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا وہ ذوی الفروض ہوں یا ذوی الارحام : 33۔ گزشتہ آیتوں میں منشور اسلامی کی دو اہم شقوں کو بیان کیا تھا زیر نظر آیت میں چار مزید اہم شقوں کا بیان ہے جن میں سب سے پہلے ذی القربی کے حقوق ہیں اور اس کے بعد ” مساکین “ اور اس کے بعد ” مسافروں “ کے حقوق کے ادا کرنے کی تلقین ہے اور آخر میں بےمحل مال خرچ کرنے سے روکا گیا ہے ۔ اس جگہ الترتیب ان کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ ماں باپ ‘ اولاد اور زن وشوہر کے بعددرجہ بدرجہ دوسرے اہل قرابت کا حق ہے عربوں کے محاورہ میں اس کا نام ” صلہ رحم “ ہے ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی تعلیم میں صلہ رحم اور حقوق قرابت کی اہمیت دنیا کے تمام مذاہب سے زیادہ ہے یہی سبب ہے کہ وحی محمدی میں اس کی طرف بار بار توجہ دلائی گئی ہے ، قرآن کریم میں کم از کم بارہ آیتوں میں اس کی صریح تاکید ہے اور اسکو انسان کا احسان نہیں بلکہ اس کا فرض اور حق بتایا ہے ، چناچہ فرمایا : (آیت) ” فات ذالقربی حقہ “۔ (الروم 30 : 38) تو قرابت داروں کا حق ادا کرو۔ (آیت) ” فات ذالقربی حقہ “۔ (الاسراء : 17 : 26) تو قرابت داروں کا حق ادا کرو۔ دوسری جگہ یہ تصریح فرمائی کہ مال و دولت کی محبت اور ذاتی ضرورت اور خواہش کے باوجود صرف خدا کی مرضی کے لئے خود تکلیف اٹھا کر اپنے قرابت مندوں کی امداد و حاجت روائی اصلی نیکی ہے ۔ (آیت) ” واتی المال علی حبہ ذوی القربی “۔ (البقرہ : 2 : 117) اور اصل نیکی اس کی ہے جس نے مال کو اس کی محبت پر قرابت مندوں کو دیا ۔ والدین کے بعد اہل قرابت ہی ہماری مالی امداد کے مستحق ہیں ‘ فرمایا : (آیت) ” قل ما انفقتم من خیر فللوا الدین والا قربین “۔ (البقرہ 2 : 215) فائدہ کی جو چیز تم خرچ کرو ، تو وہ ماں باپ اور رشتہ داروں کیلئے ۔ ماں باپ کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اللہ تعالیٰ کے ان خاص احکام میں ہے جن کا انسان سے عہد لیا گیا ۔ (آیت) ” وبالوالدین احسانا وذی القربی “۔ (البقرہ 2 : 83) (اور بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ خدا ہی کو پوجنا) اور ماں باپ اور رشتہ دار کے ساتھ نیکی کرنا۔ سورة نحل میں اہل قرابت کی امداد کو عدل اور احسان کے بعد اپنا تیسرا خاص حکم بتایا ۔ (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان ایتآئی ذی القربی “۔ (النحل 16 : 90) بیشک اللہ انصاف اور حسن سلوک اور قرابت دار کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔ ایک مسلمان کی دولت کے بہترین مستحق والدین کے بعد اس کے قرابت والے ہیں فرمایا : (آیت) ” قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین والیتمی والمساکین “۔ (البقرہ 2 : 215) کہہ دے اے پیغمبر ! کہ فائدہ کی جو چیز تم خرچ کرو تو وہ اپنے ماں باپ قرابت والوں ‘ ییتموں اور غریبوں کیلئے ۔ اگر کسی قرابت مند سے کوئی قصور ہوجائے تو اہل دولت کو زیبا نہیں کہ وہ اس کی سزا میں اپنی امداد کا ہاتھ اس سے روک لیں ۔ ارشاد ہوا : (آیت) ” ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ وان یؤتوا اولی القربی والمساکین “۔ (النور ، 24 : 22) اور جو لوگ تم میں بڑائی اور کشائش والے ہوں وہ قرابت مندوں اور محتاجوں کے دینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں ۔ اللہ تعالیٰ کی خالص ‘ عبادت اور توحید اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کے بعد تیسری چیز اہل قرابت کے ساتھ نیکی ہے ‘ فرمایا : (آیت) ” واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئاوبالوالدین احسانا “۔ (النساء : 4 : 36) اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کا اس کا ساتھی نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والے کے ساتھ نیکی کرنا۔ حق قرابت کو اسلام میں وہ اہمیت حاصل ہے کہ داعی اسلام (علیہ السلام) اپنی ان تمام محنتوں ‘ زحمتوں ‘ تکلیفوں اور مصیبتوں کا جو تبلیغ اور دعوت حق میں انکو پیش آئیں اور اپنے اس احسان وکرم کا جو ہدایت ‘ تعلیم اور اصلاح کے ذریعہ ہم پر فرمایا بدل ‘ معاوضہ اور مزدوری اپنی امت سے یہ طلب فرماتے ہیں کہ رشتہ داروں اور قرابت مندوں کا حق ادا کرو اور ان سے لطف و محبت سے پیش آؤ اور فرمایا : (آیت) ”۔ قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “۔ (الشوری 42 : 23) کہہ اے پیغمبر ! کہ میں تم سے اس پر بجز اس کے کوئی مزدوری نہیں مانگتا کہ ناتے میں محبت اور پیار کروَ عربی زبان میں قرابت کا حق ادا کرنے کو ” وصل رحم “ (رحم ملانا) کہتے ہیں ۔ اسی لفظ کی دوسری معروف شکل ” قطع رحم “ (رحم کاٹنا) کہتے ہیں کہ رحم مادری ہی تعلقات قرابت کی جڑ ہے ۔ کسی امر میں دو انسانوں کا اشتراک ان کے باہمی تعلقات اور حقوق محبت واعانت کی اصلی گرہ ہے ، یہ اشتراک کہیں ہم عمری ، کہیں ہم درسی ‘ کہیں ہم سائیگی ‘ کہیں ہم مذاقی ‘ کہیں ہم پیشگی ‘ کہیں ہم وطنی ‘ کہیں ہم قومی کی مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتا ہے ، اس اشتراک ہے جس کا موطن ‘ رحم مادر ہے ، یہ ہم رحمی خالق فطرت کی باندھی ہوئی گرہ ہے ۔ اور جس کا توڑنا انسان کی قوت سے باہر ہے ، اس لئے اس کے حقوق کی نگہداشت بھی انسانوں پر سب سے زیادہ ضروری ہے ان لوگوں کو جو محبت کی اس فطری گرہ کو توڑنے کی کوشش کریں ، وحی محمدی نے فاسق کا خطاب دیا ہے اور ان کو ضلالت کا مستحق ٹھہرایا ہے ۔ (آیت) ”۔ وما یضل بہ الا الفاسقین الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (البقرہ 2 : 26 ‘ 27) اس سے وہ انہیں کو گمراہ کرتا ہے جو حکم نہیں مانتے جو خدا کا عہد باندھ کو توڑتے ہیں اور خدا نے جس کے جوڑنے کو کہا اس کو کاٹتے ہیں ۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے انسانوں کی اس فطری گرہ کی تشریح استعارہ کے ان الفاظ میں فرمائی ہے کہ رحم (شکم مادر کا نام) رحمن (اللہ) سے مشتق ہے ۔ اس لئے محبت والے خدا نے رحم کو خطاب کرکے فرمایا کہ جس نے تجھ کو ملایا اس کو میں نے ملایا ، جس نے تجھ کو کاٹا اس کو میں نے کاٹا ۔ (صحیح بخاری ج 2) اسی مفہوم کو استعارہ کے اور گہرے رنگ میں آنحضرت ﷺ نے یوں ادا فرمایا کہ رحم انسانی عرش الہی کو پکڑ کر کہتا ہے جو مجھے ملائے اس کو خدا ملائے اور جو مجھے کاٹے اس کو خدا کاٹے ۔ (صحیح بخاری کتاب البر والصلہ) ایک اور موقع پر آنحضرت ﷺ نے حسن تعبیر کا اس سے بھی زیادہ نازک طریقہ اختیار فرمایا ۔ ارشاد ہوا کہ جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو رحم انسانی نے اس رحمت والے خدا کا دامن (اصل میں حقوہ ہے) تھام لیا ‘ خدا نے فرمایا ٹھہر جا ! یہ اس کا مسکن ہوگا جو تیری گرہ کاٹنے سے بچے گا ۔ کیا تو اس سے خوش نہیں کہ جو تجھ کو ملائے اس کو میں اپنے سے ملاؤں ‘ جو تجھ کو کاٹے اس کو میں اپنے سے کاٹوں ۔ (صحیح بخاری ومسلم کتاب البر والصلہ) یعنی رحم مادر اور اس رحمن کے رحم (وکرم) کے درمیان حرفوں کا یہ اشتراک ‘ محبت کے معنی اشتراک کے بھید کو فاش کرتا ہے اور اس سے وہ اہمیت ظاہر ہوتی ہے جو اسلام کی نظر میں اہل قرابت کی ہے ۔ رحم اور رحمن کے اس جوڑ کی طرف خود قرآن کریم کی ایک آیت میں بھی اشارہ ہے ، سورة نساء میں فرمایا : (آیت) ” واتقوا اللہ الذی تسآء لون بہ والارحام “۔ (النساء 4 : 1) اور جس خدا کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے درخواست کرتے ہو اس کا اور فرشتوں کا خیال رکھو ۔ اس آیت پاک کی تشریح ذیل کی حدیث سے سمجھئے ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے آکر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے ، فرمایا خدا کی بندگی کرو ۔ کسی کو اس کا ساجھی نہ بناؤ ۔ نماز پوری ادا کرو ۔ زکوۃ دو اور قرابت کا حق (صلہ رحم) ادا کرو (صحیح بخاری کتاب الادب باب فضل صلہ الرحم) جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو صلہ رحمی یعنی قرابت کا حق ادا نہ کرے گا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ (صحیح بخاری کتاب الادب) (یعنی جنت میں اس کا داخلہ اس وقت تک رکا رہے گا جب تک اس کا یہ گناہ معاف نہ ہو لے گا یا وہ اس گناہ سے پاک نہ ہوچکے گا ۔ ) ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کرے ۔ (ایضا) اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان نیک اعمال کا اثر اللہ نے یہ رکھا ہے کہ اس سے مال و دولت میں فراخی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے کیونکہ صلہ رحم کی دو ہی صورتیں ہیں ‘ ایک یہ کہ ضرورت مند رشتہ داروں کی مالی مدد کی جائے دوسری یہ کہ خدا کی دی ہوئی عمر میں سے کچھ حصہ ان کی خدمت میں صرف کیا جائے ۔ پہلے کا نتیجہ خدا کی طرف سے مالی وسعت اور کشادگی اور دوسرے کا نتیجہ عمر میں برکت اور زیادتی کی صورت میں ملتا ہے ، اس حدیث کی تشریح مادی توجیہ سے بھی کی جاسکتی ہے انسان کے خانگی افکار اور خاندانی جھگڑے بہت کچھ اس کے اضمحلال ‘ تکدر اور دلی پریشانی کا سبب ہوتے ہیں لیکن جو لوگ اپنے خاندان والوں کے ساتھ نیکی کا برتاؤ ‘ صلہ رحم اور خوش خلقی سے پیش آتے ہیں ان کی زندگی میں خانگی مسرت ‘ انشراح اور طمانیت خاطر رہتی ہے ، جس کی وجہ سے ان کی دولت اور عمر دونوں میں برکت اور زیادتی ہوتی ہے ، ترمذی میں یہ حدیث ان الفاظ میں ہے صلہ رحم سے قرابت والوں میں محبت مال میں کثرت اور عمر میں برکت ہوتی ہے ۔ عرباء و مساکین کے حقوق اسلام کی نظر میں : 34۔ مساکین کون لوگ ہیں ؟ مساکین وہ لوگ ہیں جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوں ۔ (مسکنت) کے لفظ میں عاجزی ‘ درماندگی ‘ بیچارگی اور ذلت کے مفہومات شامل ہیں ، نبی اعظم وآخر ﷺ نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے خوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کو مستحق امداد ٹھہرایا ہے جو اپنی ضروریات کے مطابق ذرائع نہ پا رہے ہوں اور سخت تنگ حال ہوں مگر نہ تو ان کی خود داری کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت دیتی ہو اور نہ ہی ان کی ظاہری پوزیشن ایسی ہو کہ کوئی انہیں حاجت مند سمجھ کر ان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے ، چناچہ احادیث میں اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ المسکین الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفطن لہ فیتصدق علیہ ولا یقوم فیسال الناس۔ ” مسکین وہ ہے جو اپنی حاجت و ضرورت کے مطابق مال نہیں پاتا اور نہ ہی پہچانا جاتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہے ۔ “ گویا وہ ایک ایسا شریف انسان ہے جو فی واقعہ غریب ہے ۔ صدر اول میں مسلمانوں میں امیر بھی تھے اور غریب بھی ‘ دولت مند بھی اور فاقہ کش بھی لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ کا برتاؤ سب کے ساتھ یکساں تھا بلکہ غریبوں کے ساتھ آپ ﷺ اس طرح پیش آتے تھے کہ دنیاوی دولت کی محرومی ان کے دلوں کو صدمہ نہیں پہنچاتی تھی ، ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کفار مکہ کے سرداروں میں سے کسی کے ساتھ دین اسلام کی گفتگو فرما رہے تھے اگر وہ چند آدمی تھے تو آپ ﷺ ان کے سردار سے مخاطب تھے کہ اتفاقا عبداللہ بن ام مکتوم ؓ جو آنکھوں سے معذور اور غریب انسان تھے تشریف لائے اور موقع پاکر دوران گفتگو آپ ﷺ سے کچھ پوچھ لیا تو قریش مکہ کا وہ سردار بہت جزبز ہوا اس لئے کہ قریش مکہ کے سرداروں کی گفتگو کے دوران اس غریب مسلمان نے کچھ دریافت کرلیا ۔ قریش مکہ کے سرداروں میں سے اس شخص پر جو سب کی طرف سے نمائندگی کر رہا تھا کہ عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کا یہ فعل بہت ناگوار گزارا تو فورا وحی الہی نے آپ ﷺ کے ذریعہ سے اس کو مخاطب کر لای اور اس کو رودررو وہ باتیں سنائیں کہ وہ مزید کچھ بولنے کی جراء تنہ کرسکا ، سورة عبس میں اس واقعہ کی تفصیل ہے لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس ناگواری کے فعل کی نسبت خود نبی کریم ﷺ کی طرف کردی اور (عبس وتولی) کا فاعل نبی اعظم وآخر ﷺ کو قرار دے دیا ، خاکم بدہن کہ ایسی بات میں کہوں یا کروں ۔ یہ غرباء اور مفلس اسلام کے سب سے پہلے جان نثار بنے تھے ، نبی اعظم وآخر ﷺ ان کو ساتھ لے کر حرم میں نماز پڑھنے کے لئے جاتے تھے ، اگرچہ اس وقت نماز فرض نہ تھی تاہم آپ ﷺ انفرادی نماز ادا کرتے تھے اور ہئیت نماز آپ ﷺ کو سکھلا اور بتلا دی گئی تھی ، قریش ان کی ظاہر بےحیثیتی دیکھ کر استہزاء کیا کرتے تھے اور زبان سے اس طرح کہتے کہ (آیت) ” ہؤلاء من اللہ علیھم من بیننا “۔ کہ ” یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو چھوڑ کر احسان کیا ہے ؟ “ لیکن آپ ﷺ ان کے اس استہزاء کو خوشی سے برداشت کرتے تھے ، پہلے پہل حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے مزاج میں کسی قدر تسلی تھی اور وہ اپنے آپ کو غریبوں سے بالاتر سمجھتے تھے ، آپ ﷺ نے انکی طرف خطاب کرکے ایک روز فرمایا ” تم کو جو نصرت اور روزی میسر آتی ہے وہ انہی غریبوں کی بدولت آتی ہے ۔ “ (مشکوۃ باب فضل الفقراء بحوالہ مسلم) اسی طرح اسامہ بن زید ؓ سے ارشاد فرمایا ” میں نے در جنت پر کھڑے ہو کر دیکھا کہ زیادہ تر غریب ومفلس لوگ ہی اس میں داخل ہیں ۔ “ (ایضا بحوالہ بخاری ومسلم) عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا تھا اور غریب مہاجر لوگ حلقہ باندھے ایک طرف بیٹھے تھے اسی اثناء میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور انہی کے ساتھ مل کر بیٹھ گئے ، یہ دیکھ کر میں بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا ” فقرء ومہاجرین کو بشارت ہو کہ وہ دولت مندوں سے چالیس برس پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ یہ سن کر ان کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے اور مجھے حسرت ہوئی کہ کاش میں بھی انہیں میں سے ہوتا۔ (مشکوۃ فضل الفقراء بحوالہ دارمی) نبی اعظم وآخر ﷺ اکثر دعا میں فرمایا کرتے تھے ‘ خداوند مجھے مسکین زندہ رکھ ‘ مسکین اٹھا اور مسکینوں ہی کے ساتھ میرا حشر کر ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ اس طرح دعا کیوں فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس لئے کہ یہ لوگ دولت مندوں سے پہلے جنت میں جائیں گے ، پھر فرمایا کہ عائشہ غریبوں سے محبت رکھو اور ان کو اپنے قریب کرو تو اللہ تعالیٰ بھی تم کو اپنے قریب کرے گا ۔ “ (ایضا بحوالہ ترمذی ‘ بیہ وابن ماجہ) مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کی اسلامی ہدایت جو قانون کا ایک حصہ ہے : 35۔ مسافر کو عربی زبان میں ابن السبیل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے خواہ وہ کسی مقصد کے لئے بھی سفر کر رہا ہو ۔ مسافر اپنے گھر میں اگرچہ غنی ہو ، لیکن حالت سفر میں وہ دوسروں کی مدد کا محتاج ہو تو اس کی مدد واعانت لازم وضروری ہے ویسے نہ ہو سکے تو مال زکوۃ سے اس کو مدد دینا بھی جائز ہے ، پھر مسافر کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہو کس مذہب وملت کا ہے اور اس کو کیوں سفر درپیش ہے ہاں ! یہ معلوم ہوجائے کہ اسلام کے خلاف سازش کے لئے سفر کر رہا ہے تو اس کو اس سازش میں گرفتار یا قید وبند کیا جائے گا فقط اس لئے نہیں کہ وہ مسافر ہے ، آج کل کی زبان میں سیاح لوگ بھی بلاشبہ اس ضمن میں آتے ہیں اور سیاحت اگر بامقصد ہو تو اس میں بیشمار قومی فوائد ہیں اور یہ ایک نہایت دلچسپ مشغلہ ہے ۔ زیر نظر آیت میں جو منشور اسلامی کی شق بیان کی گئی ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ جو شخص اعانت کا محتاج ہو اس کی اعانت کرنا چاہئے اس کی دستگیری کرنے میں اس کی گنہگاری مانع نہ ہونا چاہئے بلکہ فی الواقع گناہ گاروں اور اخلاقی پستی میں گھرے ہوئے لوگوں کی اصلاح کا بہت بڑا اور اہم ذریعہ یہ ہے کہ مصیبت کے وقت ان کو سہارا دیا جائے اور حسن سلوک سے ان کے نفس کو پاک کرنے کی کوشش کی جائے ۔ مسافر کا سفر پیش نظر رکھتے ہوئے اس کی اہمیت کے پیش نظر جب منشور اسلامی بیان کیا گیا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آداب سفر کا بھی مختصر ذکر کردیا جائے ، اس سلسلہ میں نبی اعظم وآخر ﷺ نے جس زمانہ میں سفر فرمایا اس وقت زمانہ کے حالات اور سواریوں کے طریقے اور تھے تاہم جو آپ ﷺ نے ہدایات فرمائیں وہ ابدی تھیں جن کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ اس وقت ضرورت تھی ۔ 1۔ سفر کے وقت مسافر کو رخصت کرنا چاہئے اور اس کو خیر و عافیت کی کوئی نیک دعا دینی چاہئے اور اگر وہ خاص دعا پڑھی جائے جو نبی اعظم وآخر ﷺ نے تعلیم فرمائی ہے تو وہ زیادہ بہتر ہے آپ ﷺ جب کسی دستہ کو روانہ کرتے تو فرماتے استودع اللہ دینکم وامانتکم وکواتیم اعمالکم ” تمہارے دین ‘ امانت اور خاتمہ عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں “۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الدعا مالوداع) 2۔ اگر کوئی خاص مصلحت پیش نظر نہ ہو تو زیادہ سفر دن کو کرنا چاہئے ، یہ ہدایت آپ ﷺ نے اس وقت دی لیکن آج بھی اس کی اہمیت پوری دنیا میں تسلیم ہے اور رات کی فلائیٹ میں کر ایوں میں بھی سہولت دی جاتی ہے کیوں ؟ اس لئے دن کے سفر کو آج بھی لوگ پسند کرتے ہیں ۔ (ایضا باب فی الابتکار فی السفر) 3۔ سفر تنہا نہیں کرنا چاہئے بلکہ کم از کم تین آدمی ساتھ ہونے چاہئیں اس سے انسان بہت سے خطرات سے محفوظ رہتا ہے خصوصا جب سفر پیدل ہو یا اپنی ذاتی سواری پر ہو تو اب بھی اس کی افادیت تسلیم شدہ ہے ۔ (ایضا باب فی الرجل یسافر وحدہ) 4۔ اگر تین یا تین سے زائد آدمی سفر کریں تو ایک کو امیر سفر مقرر کرلیں اور یہی شخص کا روان سالار کہلاتا ہے ۔ (ایضا باب فی القوم یسافرون) 5۔ سفر سے واپسی کے وقت سیدھا اور جلد بغیر اطلاع دیئے گھر میں داخل نہیں ہونا چاہئے بلکہ گھر والوں کو تیاری کا وقت دینا چاہئے ، (ایضا باب فی الطروق) 6۔ اگر کوئی معزز یا محبوب شخص سفر سے واپس آئے تو اس کا استقبال کرنا چاہئے ۔ (ایضا باب والتلقی) 7۔ سفر محفوظ ہو اور منزل دور ہو تو سفر رات کو کرنا چاہئے اس میں زیادہ سکون ہوتا ہے اور سفر بھی زیادہ طے پاتا ہے اور دن آتے ہی اگر منزل مقصود آئے تو مزید اس میں فوائد ہیں ۔ (ایضا فی سراعہ السیر) 8۔ مسافر کے اختیار میں ہو تو وہ خود ورنہ ڈرائیور کو سواری کی دیکھ بھال کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ راستہ میں کوئی دقت پیش نہ آئے ۔ (مسلم کتاب الامارہ) 9۔ سفر پیدل ہو تو آرام کے لئے راستہ سے ذرا ہٹ کر آرام کرنا چاہئے اور اگر ایسی سواری پر سفر کیا جائے جو اپنے اختیار میں نہ ہو تو جتنا سواری کی چیز کا قرب حاصل ہو سکے ضروری ہے کہ اتنا اس کے قریب ہو ۔ (صحیح مسلم کتاب الامارہ ) 10۔ جب سفر کی ضرورت پوری ہوجائے تو فورا واپس گھر آنا چاہئے ، بےضرورت سفر میں رہنا مناسب نہیں اور بےضرورت سفر کرنا جائز نہیں ۔ (ایضا السفر قطعہ من النداب) دولت کو بےمحل خرچ نہیں کرنا چاہئے اسلامی منشور کی یہ چھٹی شق ہے ۔ 36۔ بےمحل خرچ کرنے کو ہی فضول خرچی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جہاں خرچ کرنے کے فضائل بیان کئے گئے اور اسلامی معاشرہ کے منشور کی اہم شق قرار دیا گیا وہاں بےمحل خرچ کرنے سے بھی قانونا روک دیا گیا ، اس وقت لوگ جتنا خرچ کرتے ہیں اس میں سے دسواں حصہ بھی وہ خرچ نہیں ہے جو برمحل کیا جائے بلکہ اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ برمحل خرچ کرنے کو بھی بےمحل سمجھتے ہیں ، ایک انسان کو پیدائش سے شروع کرکے اس کی موت بلکہ اس سے بھی بیسیوں برس بعد تک لوگ خرچ کرتے ہیں ایک ایک خرچ کا تجزیہ کرتے جاؤ اور دیکھتے جاؤ کہ برمحل کیا خرچ ہوا اور بےمحل کیا ؟ آپ کے ہاں بچہ پیدا ہوا ماشاء اللہ یہ پلوٹھا بیٹا ہے اسلام کا بتایا ہوا خرچ کیا ہے ؟ اگر توفیق ہے تو اس کے نسی کہ کے دو جانور ذبح کرکے غریبوں میں تقسیم کرنا لیکن بچہ کی پیدائش کا سنتے ہی فی زمانہ ننہیال والے اور ددھیال والوں پر جو لازم ہے وہ کیا ہے ؟ وہی جس کو ” جمنا “ کے نام سے لیا اور دیا جاتا ہے بچہ کی پہلی حجامت یا ختنہ کی رسم بنا کر جو کچھ لیا اور دیا جاتا ہے مراثی ‘ نائی اور ڈوم ڈانگری جو لے جاتے ہیں ۔ عزیز و اقارب میں جو دعوتیں اور کپڑوں کا لین دین ہوتا ہے وہ سب کیا ہے ؟ پھر رسم پاؤں چلنا ‘ جب بچہ نے اٹھنا شروع کیا اور ماشاء اللہ ایک قدم اٹھایا ‘ پھر رسم بسم اللہ اور ازیں بعد شادی اور بیاہ اس میں اس اسلام کی ہدایت کیا تھی ‘ اس پر کتنا خرچ ہوتا تھا ؟ ہم نے کیا کیا لازم و ضروری قرار دیا اور اس پر کتنا خرچ اٹھتا ہے ، مرنا جو ہر انسان کے ساتھ لازم وضروری ہے ، اسلام کی ہدایت تھی کہ مرنے والے ترکہ لاک اپ ہوگیا اب اس کی تجہیز وتکفین اس کی کا ئے گی باقی جب تک ورثاء میں تقسیم نہ ہوجائے اس کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا لیکن ہمارے ہاں مرنے کے ساتھ ہی جو اسلام کے نام سے رسومات شروع ہوتی ہیں وہ اور جو دنیوی روایات ہیں ان کو جمع کرو اور پھر دیکھو ان پر جو اخراجات کئے گئے ہیں اور کیسے ہیں اب غور کرتے جاؤ جو اسلام نے بتایا ہے وہ برمحل ہے اور جو اسلام نے نہیں بتایا وہ بےمحل ہے اور ہم نے برمحل کیا خرچ کیا اور بےمحل کیا ؟ قرآن کریم نے (تبذیر) کا لفظ اس سلسلہ میں استعمال کیا ہے اور (تبذیر) بذر سے ہے اور بذر اس بیج کو کہتے ہیں جو بونے کے لئے محفوظ کرلیا گیا ہو اور بونے والے کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کو کیسے بونا ہے اگر وہ یہ خیال نہ کرے گا تو بیچ ضائع ہوجائے گا ، اس لفظ کو اس لئے استعمال کیا گیا کہ خرچ کرنے والے کو معلوم کرنا چاہئے اس کو کیسے خرچ کرنا ہے ؟ اگر وہ بےمحل خرچ کرے گا تو مال ضائع ہوجائے گا اور اس کے خرچ کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا پھر اس دنیوی زندگی کو خیال میں لاؤ جو خود ہی عارضی اور فانی چیز ہے ظاہر ہے کہ جو مال فقط اس زندگی کی رعنائیوں کی خاطر خرچ ہوا وہ بھی خود ساختہ ‘ اس مال کا کیا بنے گا ؟ حقیقی اور برمحل خرچ تو وہی ہوگا جو اس دنیا میں بھی کام آئے اور اس آخری زندگی میں بھی اس کا صلہ ملے ، اس طرح غور وفکر کرو گے تو برمحل خرچ کرنے اور بےمحل خرچ ہونے کے متعلق خود بخود وضاحت ہوجائے گی وہ ایسی وضاحت ہوگی جو تحریر وتقریر میں آپ کو نہیں مل سکتی ۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بےمحل خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی بند ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کی نعمتوں کا کفران کرنے والا ہے

بےمحل خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے : 37۔ اوپر بےمحل خرچ کرنے کی برائی کو بیان کیا گیا ہے ، زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت فرما دی اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا اور بتایا کہ فضول خرچی یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت سے اور خصوصا موقع کی ضرورت سے زیادہ خرچ کرے چونکہ اسلام عرب میں آیا ہے اور عربوں کی فیاضی آج کل کے فیاضوں کی طرح فضول خرچی کی حد تک تھی اس لئے تمام مذاہب میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے فضول خرچی سے سختی سے منع کیا ہے اور انسان کو اپنی حد میں رہ کر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ فضول خرچی کی عادت سے قومی سرمایاہ بہت بری طرح برباد ہو کر فنا ہوجاتا ہے اور اس بےموقع خرچ سے جماعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا نیز فضول خرچی عموما فخر و غرور اور نمائش کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے اور ان بداخلاقیوں کی برائی چھپی نہیں ہے ۔ اہل عرب جب جلسوں میں شراب پیتے ‘ جوا کھیلتے تو جوئے میں جو کچھ جیتتے نشہ کی ترنگ میں آکر اسی وقت لٹا دیتے جانور ملتے تو اسی وقت بےوجہ ذبح کر ڈالتے ، جاہلیت کی شاعری میں اس قسم کے فخریہ اشعار بکثرت ملتے ہیں ، شہرت طلبی کی ایک صورت یہ تھی کہ دو اشخاص فیاضی کے اظہار کے لئے اونٹ پر اونٹ ذبح کرتے جاتے یہاں تک کہ دونوں میں ایک کے تمام اونٹ ختم ہوجاتے تھے تو وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں مغلوب سمجھا جاتا تھا اور اس کام کو وہ معاقرہ کہتے تھے نبی کریم ﷺ نے اس کو ریا کی فیاضی قرار دیتے ہوئے روک دیا ۔ (ابوداؤد) اہل عرب کی فیاضی اکثر فخر و غرور اور نام ونمود پر قائم تھی جیسے آج کل ہمارے ملک میں عزیز میں اکثریت کی ہے اور اس نے ان کی فیاضی اکثر فخروغرور اور نام ونمود پر قائم تھی جیسے آج کل ہمارے ملک عزیز میں اکثریت کی ہے اور اس نے ان کی فیاضی میں بےاعتدالی پیدا کردی تھی اس کا دینی نتیجہ یہ تھا کہ خلوص کے نہ ہونے سے وہ اللہ کے نزدیک مقبول نہ تھی اور دنیوی حیثیت سے بعض اوقات وہ تمام مال و دولت کو اڑا کر خود مفلس اور قلاش ہوجاتے تھے پھر اس قسم کی فیاضی کے لئے جائز مال کافی نہیں ہوتا تھا تو وہ لوگ لوٹ مار سے اور ناجائز ذرائع سے مال جمع کرتے تھے اور نمائش کے موقع پر اس مال کو خرچ کرتے تھے اس لئے بےاعتدالی کے دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حقوق مقرر فرمائے اور فضول خرچ کو شیطان کے بھائی کا لقب دیا ۔ آج بھی جو لوگ شادی بیاہ اور خوشی وغمی کی تقریبوں میں اس قسم کی فضول خرچیوں کے مرتکب ہوتے ہیں وہ قرآن کریم کی اصطلاح مین شیطان کے بھائی کہلائیں گے ۔ یہ تعلیم فیاضی کے خلاف نہیں ہے کیونکہ فیاضی بخل واسراف کے درمیان کا نام ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور بتا دیا کہ فضول خرچی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم مفلس اور تہی دست ہو کر کسی کام کے نہیں رہو گے بلکہ تمہیں لوگ قابل ملامت ٹھہرائیں گے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سیڑ لو کہ گردن میں بندھ جائے اور نہ بالکل ہی پھیلا دو دونوں صورتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر طرف سے ملامت پڑے اور درماندہ ہو کر رہ جاؤ ۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 29) چونکہ یہ اعتدال کا وصف خاص اسلام کی اخلاقی تعلیم نے پیدا کیا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلمانوں کا امتیازی وصف قرار دیا اور فرمایا کہ : ” عباد الرحمن وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔ “ (الفرقان 25 : 67) مطلب یہ ہے کہ نہ تو ان کا حال یہ ہے کہ عیاشی اور قمار بازی ‘ شراب نوشی یا عیاشی اور میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ میں بےدریغ روپیہ خرچ کریں اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی شان دکھانے کے لئے غذا ‘ مکان ‘ لباس اور تزئین و آرائش پر دولت لٹائیں اور نہ انکی کیفیت یہ ہے کہ ایک زبردست آدمی کی طرح پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھیں نہ خود کھائیں نہ بال بچوں کی ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پوری کریں اور نہ کسی راہ خیر میں خوش دلی کے ساتھ کچھ دیں ۔ عرب میں یہ دونوں قسم کے نمونے کثرت سے پائے جاتے تھے ایک طرف وہ لوگ تھے جو خوب دل کھول کر خرچ کرتے تھے مگر ان کے ہر خرچ کرنے کا مقصود یا تو ذاتی عیش وتنعم تھا یا برادری میں ناک اونچی رکھنا اور اپنی فیاضی و دولت مندی کے ڈنکے بجوانا اور دوسری طرف وہ بخیل تھے جن کی کنجوسی مشہور تھی ، اعتدال کی روش بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی تھی ، اس موقع پر یہ جان لینا چاہئے کہ اسراف کیا چیز ہے ؟ اور بخل کیا ؟ اسلامی نقطہ نظر سے اسراف تین چیزوں کا نام ہے ۔ 1۔ ناجائز کاموں میں دولت خرچ کرنا خواہ وہ ایک آنہ ہی کیوں نہ ہو۔ 2۔ جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر جانا خواہ اس لحاظ سے کہ آدمی اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرے یا اس لحاظ سے کہ آدمی کو جو دولت اس کی ضرورت سے زیادہ مل گئی ہے اسے وہ اپنے ہی عیش اور ٹھاٹھ باٹھ میں صرف کرتا چلا جائے ۔ 3۔ نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا مگر رضائے الہی کے لئے نہیں بلکہ ریا اور نمائش کے لئے ۔ اور بخل کا اطلاق دو چیزیوں پر ہوتا ہے ۔ 1۔ یہ کہ آدمی اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پر اپنی مقدرت اور حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے ۔ 2۔ یہ کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کے ہاتھ سے پیسہ نہ نکلے ۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال کی راہ اسلام کی راہ ہے جس کے متعلق نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا کہ من فقہ الرجل قصدہ فی معیشتہ ” اپنی معیشت میں توسط اختیار کرنا آدمی کے فقیہ (دانا) ہونے کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔ “ (احمد و طبرانی بروایت ابی الدرداء ؓ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے بھائی ہونے سے بچائے اور حیقتت حال سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ شیطان کے بھائی بننا اپنے پروردگار کی نعمتوں کا کفران کرنا ہے ، جس سے دین و دنیا دونوں کے لئے خطرہ عظیم ہے ۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور تم اپنے پروردگار کی مہربانی کی راہ دیکھ رہے ہو اور اس لیے تمہیں منہ پھیرنا پڑے تو چاہیے کہ نرمی سے انہیں سمجھا دو

38۔ بلاشبہ انسان استطاعت کے باوجود اپنے والدین اور عزیز و اقارب کی خدمت گزاری میں کوتاہی کرے تو یہ ہرگز قابل برداشت نہیں لیکن ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ اولاد خود افلاس وتنگ دستی میں گرفتار ہو ‘ وہ خود نان شبینہ کی محتاج ہو فرمایا اس مجبوری کے عالم میں وہ اپنے والدین کی خدمت کیونکر کرے گی ‘ ان کو بتایا جارہا ہے کہ محبت بھرے نرم نرم لہجہ میں باتیں کرنے پر تو کوئی لاگت نہیں آتی تو اگر اور کچھ نہیں کرسکتے تو اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے تو ان کا دل لبھاتے رہو اور دل میں یہ عزم رکھ کر کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رزق کا دروازہ کشادہ کیا تو میں اپنے والدین کی خدمت بجا لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا ‘ حقیقت حال سے والدین کو آگاہ رکھ سکتے ہو ۔ اسی طرح غرباء و مساکین سے بھی اچھا بول بول سکتے ہو اور معذرت طلب کرسکتے ہو ۔
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو کہ گردن میں بندھ جائے اور نہ بالکل پھیلا دو دونوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہر طرف سے ملامت پڑے گی اور درماندہ ہو کر رہ جاؤ گے

فضول خرچی سے بچو اور جائز اخراجات سے مت گھبراؤ ‘ فضول خرچی نری ملامت ہے : 39۔ زیر نظر آیت جامع مواعظ میں سے ہے فرمایا مال و دولت خرچ کرنے اور دوسری ساری باتوں میں اعتدال کی راہ اختیار کرو کسی ایک ہی طرف کو جھک نہ پڑو مثلا خرچ کرنے پر آئے تو سب کچھ اڑا دیا ‘ احتیاط کرنی چاہی تو اتنی کی کنجوسی پر اتر آئے ، دراصل تمام محاسن کی بنیادی حقیقت توسط و اعتدال ہے اور جتنی برائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں افراط وتفریط سے پیدا ہوتی ہیں ۔ زیر آیت میں (ملوما) کا لفظ آیا ہے لوم ملامت کرنے کو کہتے ہیں اور لائم ملامت کرنے والا ہے اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد سوم کی آیت 54 میں ملے گی ۔ ” نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو کہ گردن سے بندھ جائے “ دراصل مغلولہ الید سے مراد بخل کرنا ہے یعنی جائز اخراجات سے بھی مال ہونے کے باوجود کترا جانا اور ” ہاتھ زیادہ ہی پھیلا دینا “ سے مراد اسراف ہے یا فضول خرچی اور فرمایا یاد رکھو کہ بخل کا نتیجہ ملامت ہے اور اسراف کا درماندگی ، اصل راہ میانہ روی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے ۔