17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ﷺ نماز قائم کر سورج کے ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے اندھیرے تک (ظہر ، عصر ، مغرب اور عشائ) نیز صبح کی (نماز میں) تلاوت قرآن ایک ایسی تلاوت ہے جو دیکھی جاتی ہے

پیغمبر اسلام ﷺ کو صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دے کر اوقات صلوٰۃ کی طرف اشارہ کردیا : 96: ذمہ داری ڈالی جانے اور ذمہ داری ڈالی جانے کی اطلاع دو الگ الگ باتیں ہیں اور ذمہ داری ڈلی جانے سے پہلے اس کی اطلاع دینا لازم و ضروری ہوتا ہے بلکہ اس کی وضاحت بھی کہ آپ ﷺ کے فرائض میں یہ بات آئے گی اس اصول کے تحت مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ پر جو ذمہ داریاں اور فرائض عائد ہونے والے تھے ان کی اطلاع آپ ﷺ کو مکی زندگی کے آخری ایام میں دے دی گئی تھی اور اس اطلاع میں پانچ وقتہ صلوٰۃ بھی ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا۔ چناچہ صلوٰۃ کے اوقات معین کردیئے۔ فرمایا : سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز کے اوقات ہیں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کے اوقات ، نیز صبح کی تلاوت یعنی صلوٰۃ اور بلاشبہ صبح کی تلاوت قرآن میں ایک ایسی تلاوت ہے جو خصوصیت کے ساتھ دیکھی جاتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جو معراج کی رات آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے خصوصی طور پر عنایت کی گئی اور عام خواب میں جو عام انسانوں کا نہیں بلکہ رسالت کا خواب تھا جو آپ ﷺ کو آنکھوں سے دکھایا گیا اور یہی وہ چیز ہے جس کو آپ ﷺ نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا اور یہی وہ چیز ہے جو لسان رسول ﷺ سے سارے مؤمنوں کی معراج قرار دی گئی۔ یہی وہ چیز ہے جو کفر اور اسلام میں تمیز کرنے کا پہلا زینہ قرار پائی۔ لیکن بدقسمتی سے تسلیم ہی نہ کیا حالانکہ مسلمان قوم کو من حیث القوم دنیا میں اگر کوئی مرتبہ اور مقام دینے والی چیز ہے تو وہ فقط صلوٰۃ پنجوقتہ ہے اگر وہ سمجھ کر ادا کی جائے۔ پھر دنیا سے گزر کر مسلمانوں کو رب ذوالجلال والاکرام سے ملاقات کرانے والی یہی صلوٰۃ ہے اور اللہ کی ملاقات و آخرت کی کامیابی کی دلیل ہے۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کا کچھ حصّہ بیداری میں بسر کر یہ تیرے لیے ایک مزید عمل ہے قریب ہے کہ اللہ تجھے ایک ایسے مقام پر پہنچا دے جو نہایت پسندیدہ مقام ہو

تہجد وہ صلوٰۃ ہے جو فرض سے زائد ہے اور مقام محمود پر پہنچانے والی ہے : 97: ” نفل “ کے معنی کسی ایسی بات کے ہیں جو اصل مطلوب سے زیادہ ہو۔ پس زیر نظر آیت میں صلوٰۃ تہجد کو نَافِلَةً لَّكَ 1ۖۗ کہا گیا جس میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو رات کا بھی کچھ حصہ جاگنے اور عبادت کرنے میں صرف کرنے کی ہدایت فرمائی گئی اور فرمایا کہ یہ تمہارے لیے عبادت کی مزید زیادتی ہوتی۔ آیت میں خطاب اگرچہ نبی اعظم و آخر ﷺ ہی کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ شب بیداری کی عبادت یعنی تہجد ایک مزید عبادت ہے اگر ہو سکے اور یہ کہ ایک مسلمان کو بلند مرتبہ پر پہنچانے میں اس کا ایک بہت بڑا حصہ ہے اور ذمہ داری سے زیادہ دینے والوں کا اجر یقینا ً ذمہ داری ادا کرنے والوں سے سوا ہے۔ مقام محمود کیا ہے ؟ مقام محمود سے مقصود ایسا درجہ ہے جس کی عام طور پر ستائش کی جائے ، فرمایا : کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہیں ایسے مقام پر پہنچا دے جو عالمگیر اور دائمی ستائش کا مقام ہو۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی اعظم و آخر ﷺ کی مکی زندگی کے آخری سال گزر رہے تھے اور مظلومیت اور بےسروسامانی اپنے انتہائی درجوں تک پہنچ چکی تھی حتیٰ کہ مخالفین آپ ﷺ کے قتل کی تدبیروں میں سرگرم تھے ، ایسی حالت میں کون امید کرسکتا تھا کہ انہی مظلومیتوں سے فتح و کامرانی پیدا ہو سکتی ہے ؟ لیکن وحی الٰہی نے صرف فتح و کامرانی کی بشارت نہیں دی کیونکہ فتح و کامرانی کی عظمت کوئی غیر معمولی عظمت نہ تھی بلکہ ایک ایسے مقام تک پہنچنے کی خبر دی جو نوع انسانی کے لیے عظمت و ارتقاع کی سب سے آخری بلندی ہے ، یعنی عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 0079 حسن و کمال کا ایسا مقام جہاں پہنچ کر محمودیت خلائق کی عالمگیر اور دائمی مرکزیت حاصل ہوجائے گی۔ کوئی عہد ہو ، کوئی ملک ہو ، کوئی نسل ہو لیکن کروڑوں دلوں میں اس کی ستائش ہوگی۔ اَن گنت زبانوں پر اس کی مدحت طرازی ہوگی۔ محمود یعنی سرتاسر ممدوح ہستی ہوجائے گی ؎ ما شئت قل فیہ فانت مصدقۃ فالحب یقضی والمحاسن تشھد یہ مقام انسانی عظمت کی انتہا ہے ، اس سے زیادہ اونچی جگہ اولاد آدم کو نہیں مل سکتی۔ اس سے بڑھ کر انسانی رفعت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکت۔ انسان کی سعی و ہمت ہر طرح کی بلندیوں تک اُڑ سکتی ہے لیکن یہ بات نہیں پا سکتی کہ روحوں کی ستائش اور دلوں کی مداحی کا مرکز بن جائے۔ سکندر کی ساری فتوحات خود اس کے عہد و ملک کی ستائش اسے نہ دلا سکیں اور نپولین کی ساری جہاں ستانیاں اتنا بھی نہ کرسکیں کہ کو رسیکا کے چند غدار باشندوں میں ہی اسے محمود و ممدوح بنا دیتیں جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ محمودیت اس کو حاصل ہو سکتی ہے جس میں حسن و کمال ہو کیونکہ روحیں حسن ہی سے عشق کرسکتی ہیں اور زبانیں کمال ہی کی ستائش میں کھل سکتی ہیں لیکن حسن و کمال مملکت وہ مملکت نہیں جسے شہنشاہوں اور فاتحوں کی تلواریں مسخر کرسکیں۔ غور کرو کہ جس وقت سے نوع انسانی کی تاریخ معلوم ہے نوع انسانی کے دلوں کا احترام اور زبانوں کی ستائش کن انسانوں کے حصے میں آئی ہیں۔ شہنشاہوں اور فاتحوں کی حصے میں یا اللہ کے ان رسولوں کے حصے میں جنہوں نے جسم و ملک کو نہیں روح و دل کو فتح کیا تھا ؟ بس یہی مقام محمود ہے جس کی خبر ہمیں ایک دوسری آیت میں بھی دی گئی ہے اور خبر کے ساتھ امر بھی ہے اور وہ ہے : اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ 1ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا 0056 (الاحزاب 33 : 56) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام کا ایک مشہد وہ معاملہ ہوگا جو قیامت کے روز پیش آئے گا جبکہ اللہ کی حمد و ثنا کا علم آپ بلند کریں گے اور بلاشبہ محمودیت کا مقام دنیا و آخرت دونوں کے لیے ہے جو ہستی یہاں محمود خلائق ہگے وہاں بھی محمود خلائق ہوگی ، وہاں بھی محمود و ممدوح ہوگی۔ اسی لیے آپ ﷺ نے اس مقام کو مقام شفاعت بھی فرمایا ہے جس سے اس کی محمودیت کی مزید وضاحت ہوجاتی ہے۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور تیری دعا یہ ہونی چاہیے کہ اے پروردگار ! مجھے سچائی کے ساتھ پہنچا اور سچائی کے ساتھ نکال اور مجھے اپنے حضور سے قوت عطا فرما ، ایسی قوت کہ مددگاری کرنے والی ہو

ہجرت کی اجازت الٰہی اور بوقت ہجرت ترانہ خداوندی کی ہدایت ِ خاص : 98: زیر نظر آیت میں مُدْخَلَ اور مُخْرَجَ کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب ان کا ” داخل ہونے “ اور ” نکلنے “ اور پھر صِدْقٍ کے لفظ نے یہ وضاحت کردی کہ یہ داخل ہونا اور نکلنا سب اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اور خیر و خوبی کے ساتھ ہو ۔ قرآن کریم میں ، اور کے الفاظ انہی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس جگہ مُدْخَلَ سے مدینہ منورہ اور مُخْرَجَ سے مکہ مکرمہ ہے اور نبی کریم ﷺ کو وہ ترانہ سکھایا گیا جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ بخیریت مکہ سے نکلیں گے اور خیر و خوبی کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوں گے اور دنیا نے دیکھا کہ فی الواقعہ وہی ہوا جو رب العزت نے ارشاد فرمایا ، چناچہ ہجرت کا بیان اس طرح کتب احادیث اور سیر میں لکھا گیا ہے کہ : نبوت کا تیرہواں سال شروع ہوا تھا اور اکثر صحابہ کرام ؓ مدینہ پہنچ چکے تھے کہ وحی الٰہی کے حکم سے نبی اعظم و آخر ﷺ نے بھی مدینہ کا رخ کیا ، یہ داستان بہت پراثر ہے ، اس وجہ سے امام بخاری (رح) نے باوجود اختصار پسندی کے اس کو خوب پھیلا کر لکھا اور زیادہ تر سیّدہ عائشہ ؓ کی زبانی لکھا ہے۔ سیدہ ؓ اس وقت نہ تو اتنی چھوٹی تھیں کہ بالکل کچھ نہ جانتی ہوں اور نہ اتنی بڑی تھیں کہ سب کچھ جانتی ہوں۔ بلاشبہ انسان نے بہت سی باتیں دیکھی اور سمجھی ہوں گی اور بہت سی باتیں وہ ہوں گی جو خود نبی اعظم و آخر ﷺ سے سنی ہوں گی اور اپنے والد بزرگوار سیّدنا ابوبکر صدیق ؓ سے بھی معلوم ہوئی ہوں گی۔ آپ کہتی ہیں کہ : قریش نے دیکھا کہ اب مسلمان مدینہ میں جا کر طاقت پکڑتے جاتے ہیں اور وہاں اسلام پھیلتا جاتا ہے۔ اس بناء پر انہوں نے دارالندوہ میں جو دارالشوریٰ تھا ، اجلاس عام کیا۔ ہر قبیلہ کے رؤسا یعنی عتبہ ، ابو سفیان ، جبیر بن مطعم ، نصر بن حارث بن کلدہ ، ابو البختری ، ابن ہشام ، زمعہ بن اسود بن مطلب ، حکیم بن حزام ، ابوجہل ، نبیہ ، ومنبہ ، امیہ بن خلف وغیرہ یہ سب شریک تھے۔ لوگوں نے مختلف آراء پیش کیں۔ ایک نے کہا : ” محمد (a) کے ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈال کر مکان میں بند کردیا جائے “۔ دوسرے نے کہا : ” جلا وطن کردینا کافی ہے “۔ ابوجہل نے کہا ہر قبیلے سے ایک شخص کا انتخاب ہو اور پورا مجمع ایک ساتھ مل کر تلواروں سے ان کا خاتمہ کر دے۔ اس صورت میں ان کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور آل ہاشم اکیلے تمام قبائل کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ اس اخیر رائے پر اتفاق ہوگیا اور جھٹ پٹے سے آ کر رسول اللہ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ اہل عرب زنانہ مکان کے اندر گھسنا معیوب سمجھتے تھے۔ اس لیے باہر ٹھہرے رہے کہ آنحضرت ﷺ نکلیں تو یہ فرض ادا کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ سے قریش کو اس درجہ عداوت تھی ، تاہم آپ ﷺ کی دیانت پر یہ اعتماد تھا کہ جس شخص کو کچھ مال و اسباب امانت رکھنا ہوتا تھا آپ ﷺ ہی کے پاس لا کر رکھتا تھا۔ اس وقت بھی آپ ﷺ کے پاس بہت سی امانتیں جمع تھیں ، آپ ﷺ کو قریش کے ارادہ کی پہلے سے خبر ہوچکی تھی اس بناء پر حضرت علی ؓ کو بلا کر فرمایا کہ : ” مجھ کو ہجرت کا حکم ہوچکا ہے میں آج مدینہ روانہ ہوجاؤں گا ، تم میرے پلنگ پر میری چادر اوڑھ کر سو رہو ، صبح کو سب کی امانتیں جا کر واپس دے آنا “۔ یہ سخت خطرہ کا موقع تھا۔ حضرت علی ؓ کو معلوم ہوچکا تھا کہ قریش آپ ﷺ کے قتل کا ارادہ کرچکے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا بستر خواب قتل گاہ کی زمین ہے لیکن فاتح خیبر کے لیے قتل گاہ فرشِ گل تھا۔ (بخاری باب الہجرت) ہجرت سے دو تین دن پہلے رسول اللہ ﷺ نے دوپہر کے وقت حضرت ابوبکر ؓ کے گھر پر گئے ، دستور کے موافق دروازہ پر دستک دی۔ اجازت کے بعد گھر میں تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا : ” کچھ مشؤرہ کرنا ہے سب کو ہٹا دو “۔ بولے : یہاں آپ ﷺ کی حرم کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ (اس وقت حضرت عائشہ ؓ سے شادی ہوچکی تھی) آپ ﷺ نے فرمایا : ” مجھ کو ہجرت کی اجازت ہوگئی ہے “۔ حضرت ابوبکر ؓ نے نہایت بےتابی سے کہا : ” میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں ، کیا مجھ کو بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوگا ؟ “ ارشاد ہوا : ” ہاں ! “ حضرت ابوبکر ؓ نے ہجرت کے لیے چار مہینہ سے دو اونٹنیاں ببول کی پتیاں کھلا کھلا کر تیار کی تھیں۔ عرض کی کہ ان میں سے ایک آپ ﷺ پسند فرمائیں ، محسن عالم ﷺ کو کسی کا احسان گوارا نہیں ہو سکتا تھا۔ ارشاد ہوا : ” اچھا ! مگر بہ قیمت ! حضرت ابوبکر ؓ نے مجبوراً قبول کیا۔ حضرت عائشہ ؓ اس وقت کمسن تھیں۔ ان کی بڑی بہن حضرت اسماء ؓ نے جو حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی ماں تھیں ، سفر کا سامان کیا۔ دو تین دن کا کھانا ناشتہ دان میں رکھا ، نطاق جس کو عورتیں کمر سے لپیٹتی ہیں پھاڑ کر اس سے ناشہ دان کا منہ باندھا ، یہ وہ شرف تھا جس کی بنا پر آج تک ان کو ذات النطاقین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ، باب الہجرت) کفار نے جب آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کیا اور رات زیادہ گزر گئی تو قدرت نے ان کو بیخبر کردیا۔ آنحضرت ﷺ ان کو سوتا چھوڑ کر باہر آئے۔ کعبہ کو دیکھا اور فرمایا : ” مکہ ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ عزیز ہے ، لیکن تیرے فرزند مجھ کو رہنے نہیں دیتے “۔ حضرت بوبکر ؓ سے پہلے سے قرارداد ہوچکی تھی دونوں صاحب پہلے جبل ثور کے غار میں جا کر پوشیدہ ہوئے ، یہ غار آج بھی موجود ہے اور بوسہ گاہ خلائق ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے بیٹے عبداللہ جو نوخیز جوان تھے ، شب کو غار میں سوتے ، صبح منہ اندھیرے شہر چلے جاتے اور پتہ لگاتے کہ قریش کیا مشورہ کر رہے ہیں۔ جو کچھ خبر ملتی شام کو آ کر آنحضرت ﷺ سے عرض کرتے۔ حضرت ابوبکر ؓ کا غلام کچھ رات گئے بکریاں چرا کر لاتا اور آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ ان کا دودھ پی لیتے۔ تین دن تک صرف یہی غذا تھی لیکن ابن ہشام نے لکھا ہے کہ روزانہ شام کو حضرت اسماء ؓ گھر سے کھانا پکا کر غار میں پہنچا آتی تھیں۔ اسی طرح تین راتیں غار میں گزریں۔ (صحیح بخاری باب الہجرۃ) صبح کو قریش کی آنکھیں کھلیں تو پلنگ پر آنحضرت ﷺ کی بجائے حضرت علی ؓ تھے۔ ظالموں نے آپ کو پکڑ کو اور حرم میں لے جا کر تھوڑی دیر محبوس رکھا ، پھر چھوڑ دیا۔ پھر آنحضرت ﷺ کی تلاش میں نکلے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار کے دہانہ تک آگئے۔ آہٹ پا کر حضرت ابوبکر ؓ غمزدہ ہوئے اور آنحضرت ﷺ سے عرض کی کہ اب دشمن اس قدر قریب آگئے ہیں کہ اگر اپنے قدم پر ان کی نظر پڑجائے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا 1ۚ (توبہ : 40) ” گھبراؤ نہیں ، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ “ مشہور ہے کہ جب کفار غار کے قریب آگئے تو اللہ نے حکم دیا ، دفعتاً ببول کا درخت اگا اور اس کی ٹہنیوں نے پھیل کر آنحضرت ﷺ کو چھپا لیا۔ ساتھ ہی دو کبوتر آئے اور گھونسلہ بنا کر انڈے دیئے۔ حرم کے کبوتر انہی کبوتروں کی نسل سے ہیں۔ اس روایت کو مواہب لدنیہ میں تفصیل سے نقل کیا گیا ہے اور زرقانی نے بزاز وغیرہ سے اس کے ماخذ بتائے ہیں لیکن یہ تمام روایتیں غلط ہیں۔ اس روایت کا اصل راوی عون بن عمرو ہے۔ اس کی نسبت امام فن رجال یحییٰ بن معین کا قول ہے : لا شیئی ، یعنی ہیچ ہے۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ وہ منکر الحدیث اور مجہول ہے۔ اس روایت کا ایک اور راوی ابو مصعب مکی ہے ، وہ مجہول الحال ہے۔ چناچہ علامہ ذہنی نے میزان الاعتدال میں عون بن عمرو کے حال میں یہ تمام اقوال نقل کیے ہیں اور خود اس روایت کا بھی ذکر کیا ہے۔ (سیرت النبی ﷺ ج 3 ، ص : 307) بہرحال چوتھے دن آپ ﷺ غار سے نکلے ، عبداللہ بن اریقط ایک کافر جس پر اعتماد تھا ، راہنمائی کے لیے اجرت پر مقرر کرلیا گیا۔ وہ آگے آگے راستہ بتاتا جاتا تھا۔ ایک رات دن برابر چلت گئے۔ دوسرے دن دوپہر کے وقت دھوپ سخت ہوگئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے چاہا کہ رسول اللہ ﷺ اس سایہ میں آرام فرما لیں ، چاروں طرف نظر ڈالی۔ ایک چٹان کے نیچے سایہ نظر آیا۔ سواری سے اتر کر زمین جھاڑی ، پھر اپنی چادر بچھا دی ، آنحضرت ﷺ نے آرما فرمایا تو تلاش میں نکلے کہ کہیں کچھ کھانے کو مل جائے تو لائیں ، پاس ہی ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا۔ اس سے کہا ایک بکری کا تھن گردو غبار سے صاف کر دے۔ پھر اس کے ہاتھ صاف کرائے اور دودھ دوہا۔ برتن کے منہ پر کپڑا لپیٹ دیا کہ گرد نہ پڑنے پائے۔ دودھ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور تھوڑا سا پانی ملا کر پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پی کر فرمایا کہ کیا ابھی چلنے کا وقت نہیں آیا ؟ آفتاب اب ڈھل چکا تھا ، اس لیے آپ ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے۔ (صحیح بخاری باب منافق المہاجرین) قریش نے منادی کرا دی کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ یا ابوبکر (b) کو گرفتار کر کے لائے گا اس کو ایک خون بہا کے برابر (یعنی سو اونٹ) انعام دیا جائے گا۔ سراقہ بن جعشم نے سنا تو انعام کے لالچ میں نکلا۔ عین اس حالت میں کہ آپ ﷺ روانہ ہو رہے تھے اس نے آپ ﷺ کو دیکھ لیا اور گھوڑا دوڑا کر قریب آگیا لیکن گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور گر پڑا۔ ترکش سے فال کے تیر نکال کر حملہ کرنا چاہیے یا نہیں ؟ جو اب میں ” نہیں “ نکلا لیکن سو اونٹوں کا گراں بہا معاوضہ ایسا نہ تھا کہ تیر کی بات مان لی جاتی۔ دوبارہ گھوڑے پر سوار ہوا اور آگے بڑھا۔ اس مرتبہ گھوڑے کے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے۔ گھوڑے سے اتر پڑا اور پھر فال دیکھی۔ اب بھی وہی جواب تھا لیکن مکرر تجربہ نے اس کی ہمت پست کردی اور یقین ہوگیا کہ یہ کچھ اور آثار ہیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے قریب آ کر قریش کی منادی کا واقعہ سنایا اور درخواست کی کہ مجھ کو امن کی تحریر لکھ دیجیے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے غلام عامر بن فہرہ ؓ نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر فرمانِ امان لکھ دیا۔ (صحیح بخاری باب الہجرۃ) حسن اتفاق یہ کہ حضرت زبیر ؓ شام سے تجارت کا سامان لے کر آ رہے تھے ، انہوں نے آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں چند بیش قیمت کپڑے پیش کیے جو اس بےسروسامانی میں غنیمت تھے۔ ابن سعد نے طبقات میں اس مقدس سفر کی تمام منزلیں گنائی ہیں۔ اگرچہ عرب کے نقشوں میں آج ان کا نشان نہیں ملتا ، تاہم عقیدت مند صرف نام سے لذت یاب ہو سکتے ہیں : خرار ، ثنیۃ المرۃ ، لقف مدلجتہ ، مرجع ، حدائد ، اذاخر ، رابغ (یہ مقام آج بھی حجاج کے راستہ میں آتا ہے ، یہاں آپ ﷺ نے مغرب کی نماز پڑھی) ذاسلم ، عثانیہ ، قاحہ ، عرج ، جدوات ، رکوبتہ ، عقیق ، ججاتہ۔ تشریف آوری کی خبر مدینہ میں پہلے پہنچ چکی تھی۔ تمام شہر ہمہ تین چشم انتظار میں تھا۔ معصوم بچے فخر اور جوش میں کہتے تھے۔ پیغمبر (a) آ رہے تھے۔ لوگ ہر روز تڑکے سے نکل نکل کر شہر کے باہر جمع ہوتے اور دوپہر تک انتظار کر کے حسرت کے ساتھ واپس چلے جاتے۔ ایک دن انتظار کر کے واپس جا چکے تھے کہ ایک یہودی نے قلعہ سے دیکھا اور قرآئن سے پہچان کر پکارا کہ : ” اے اہل عرب ! لو تم جس کا انتظار کرتے تھے وہ آگیا “ ۔ تمام شہر تکبیر کی آوازا سے گونج اٹھا ، انصار ہتھیارسج سج کر بےتابانہ گلیوں سے باہر نکل آئے۔ مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر جو بالائی آبادی ہے اس کو عالیہ اور قباء کہتے ہیں۔ یہاں انصار کے بہت سے خاندان آباد تھے ، ان میں سب سے زیادہ ممتاز عمرو بن عوف کا خاندان تھا اور کلثوم بن الہدم خاندان کے افسر تھے۔ آنحضرت ﷺ یہاں پہنچے تو تمام خاندان نے جوشِ مسرت میں اللہ اکبر کا نعرہ مارا۔ یہ فخر ان کی قسمت میں تاکہ میزبان دو عالم ﷺ نے انہی کی مہمانی قبول کی ، انصار ہر طرف سے جوق در جوق آتے اور جوشِ عقیدت کے سلام عرض کرتے۔ (صحیح بخاری ، ص : 56) اکثر اکابر صحابہ ؓ جو آنحضرت ﷺ سے پہلے مدینہ میں آ چکے تھے وہ بھی انہی کے گھر میں اترے تھے۔ چناچہ حضرت ابوعبیدہ ، مقداد ، خباب ، سہیل ، صفوان ، عیاض ، عبداللہ بن مخرمہ ، وہب بن سعد ، معمر بن ابی سرح ، عمیر ؓ بن عوف اب تک انہی کے مہمان تھے۔ جناب امیر ؓ آنحضرت ﷺ کے روانہ ہنے کے تین دن بعد مکہ سے چلے تھے ، وہ بھی آگئے اور یہیں ٹھہرے۔ تمام مؤرخین اور ارباب سیر لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہاں صرف چار دن قیام فرمایا لیکن صحیح بخاری میں چودہ دن ہے اور یہی قرین قیاس ہے۔ یہاں آپ ﷺ کا پہلا کام مسجد کا تعمیر کرانا تھا۔ حضرت کلثوم ؓ کی ایک افتادہ زمین تھی جہاں کھجوریں سکھائی جاتی تھیں۔ یہیں دست مبارک سے مسجد کی بنیاد ڈالی۔ یہی مسجد ہے جس کی شان میں قرآن مجید میں ہے کہ : لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ 1ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا 1ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ 00108 (التوبہ 9 : 108) ” وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن پرہیزگارہ پر رکھی گئی ہے وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس میں کھڑے رہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جن کو صفائی بہت پسند ہے اور اللہ صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ “ مسجد کی تعمیر میں مزدوروں کے ساتھ آپ ﷺ خود بھی کام کرتے تھے۔ بھاری بھاری پتھروں کو اٹھاتے وقت جسم مبارک خم ہوجاتا تھا۔ عقیدت مند آتے اور عرض کرتے : ” ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں ، آپ ﷺ چھوڑ دیں ، ہم اٹھا لیں گے “۔ آپ ﷺ اس کی درخواست قبول فرماتے لیکن پھر اسی وزن کاد وسرا پتھر اٹھا لیتے۔ (وفا الوفا ج 1 ، ص : 181 ، طبع مصر) حضرت عبداللہ ؓ بن رواحہ شاعر تھے ، وہ بھی مزدوروں کے ساتھ شریک تھے اور جس طرح مزدور کام کرنے کے وقت تھکن مٹانے کو گاتے جاتے ہیں ، وہ یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے : افلح من یعالج المساجدا وہ کامیاب ہے جو مسجد تعمیر کرتا ہے و یقرء القرآن قائمًا وقاعدًا اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے لا یبثت اللیل عنہ اقدا اور رات کو جاگتا رہتا ہے آنحضرت ﷺ بھی ہر ہر قافیہ کے ساتھ آواز ملاتے جاتے تھے۔ (ایضاً ) قباء میں اسلام کا داخلہ اسلام کے دور خاص کی ابتداء ہے اس لیے مؤرخین نے اس تاریخ کو زیادہ اہتمام کے ساتھ محفوظ رکھا ہے۔ اکثر مؤرخین کا اتفاق ہے کہ یہ آٹھ ربیع الاول 13 نبوی (بمطابق 20 ستمبر 622 ء) تھی ، (محمد بن) موسیٰ خوارزمی نے لکھا ہے کہ جمعرات کا دن اور فارسی ماہ تیر کی چوتھی تاریخ اور رومی ماہ ابلول 1933 اسکندری کی دسویں تاریخ تھی۔ عینی شرح بخاری جلد دوم ص : 354 (یعنی مطبوعہ قسطنطنیہ میں مطبع کی غلطی سے 733 سبع آیہ لکھا گیا ہے اس تسع آیہ پڑھنا چاہیے۔ رومی ماہ ابلول کی دسویں کے بجائے جدید طریقہ سے حساب سے بیسویں ثابت ہوتی ہے۔ خوارزی نے جمعہ کا دن بتایا ہے لیکن جدید حساب سے دو شنبہ کا دن آتا ہے۔ مؤرخ یعقوبی نے ہیئت دانوں سے یہ زائچہ نقل کیا ہے : آفتاب برج سرطان میں 32 درجہ 6 دقیقہ پر زحل برج اسد میں 2 درجہ مشتری برج حوت میں 6 درجہ زہرہ برج اسد میں 13 درجہ عطارد برج اسد میں 15 درجہ چودہ دن کے بعد ) جمعہ کو) آپ ﷺ شہر کی طرف تشریف فرما ہوئے ، راہ میں بنی سالم کے محلہ میں نماز کا وقت آگیا۔ جمعہ کی نماز یہیں ادا فرمائی ، نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ یہ آنحضرت ﷺ کی سب سے پہلی نماز ِ جمعہ اور سب سے پہلا خطبہ نماز تھا۔ لو گوں کو جب تشریف آوری کی خبر معلوم ہوئی تو ہر طرف سے لوگ جوشِ مسرت سے پیش قدمی کے لیے دوڑے۔ آپ ﷺ کے ننہالی رشتہ دار بنو بنجار ہتھیار سج سج کر آئے۔ قباء سے مدینہ تک دو رویہ جانثاران کی صفیں تھیں ، راہ میں انصار کے خاندان آتے تھے۔ ہر قبیلہ سامنے آ کر عرض کرتا۔ ” حضور ﷺ یہ گھر ہے ، یہ مال ہے ، یہ جان ہے “۔ آپ ﷺ منت کا اظہار فرماتے اور دعائے خیر دیتے۔ شہر قریب آگیا تو جوش کا یہ عالم تھا کہ پردہ نشیں خواتین چھتوں پر نکل آئیں اور گانے لگیں ؎ طلع البع علینا 1 من ثنیات الوداع 1 وجب الشکر علینا 1 ما دعی للہ داع 1 چاند نکل آیا کو ہِ وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر خدا کا شکر واجب ہے جب تک دعا مانگے والے دعا مانگیں معصوم لڑکیاں دَف بجا بجا کر گاتی تھیں ؎ نحن جوار من بنی النجار 1 یا حبذا محمدا من جار ہم خاندان نجار کی لڑکیاں ہیں۔ محمد (a) کیا اچھا ہمسایہ ہے آپ ﷺ نے ان لڑکیوں کی طرف خطاب کر کے فرمایا : ” کیا تم مجھ کو چاہتی ہوں ؟ ” بولیں : ” ہاں ! “ فرمایا : ” میں بھی تم کو چاہتا ہوں “۔ جہاں اب مسجد نبوی ہے اس سے متصل حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کا گھر تھا ، جب کنبہ نبوی ہاں پہنچا ، سخت کشمکش تھی کہ آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف کس کو حاصل ہو ؟ قرعہ ڈالا گیا اور آخر یہ دولت حضرت ابو ایوب ؓ کے حصہ میں آئی۔ حضرت ابو ایوب ؓ کا نام خالد ہے۔ اصابہ فی احوال ال صحابہ میں اسی نام سے ان کا ذکر کیا ہے اور وہیں یہ واقعہ لکھا ہے۔ اکثر سیر اور تواریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ہر شخص اپنے گھر میں اتارنے کی درخواست کرتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے ناقہ کو چھوڑ دو ، وہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ چناچہ ناقہ حضرت ابو ایوب ؓ کے گھر کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ اس لیے آپ ﷺ نے انہی کے گھر پر قیام فرمایا لیکن صحیح مسلم باب الہجرہ میں ہے کہ جب لو گوں میں آپ ﷺ کی میزبانی سے متعلق جھگڑا ہوا تو آپ ﷺ نے کہا : ” میں بنو نجار کے ہاں اتروں گا جو عبدالمطلب کے ماموں ہیں “ اس سے ثات ہوتا ہے کہ آنحضرت نے عمدا ایسا کیا تھا۔ حضرت ابو ایوب ؓ اسی خاندان سے تھے۔ امام بخاری (رح) نے تاریخ صغیر میں تصریح کی ہے کہ ابو ایوب ؓ کے گھر اترنا اسی قرابت کی وجہ سے تھا۔ حضرت ابو ایوب ؓ کا مکان دو منزلہ تھا۔ انہوں نے بالائی منزل پیش کی لیکن آپ ﷺ نے زائرین کی آسانی کے لیے نیچے کا حصہ پسند فرمایا۔ ابو ایوب ؓ دو وقتہ آپ ﷺ کی خدمت میں کھانا بھیجتے اور آپ ﷺ جو چھوڑ دیتے وہ ابو ایوب ؓ اور ان کی زوجہ کے حصہ میں آتا۔ کھانے میں جہاں آنحضرت ﷺ کی انگلیوں کا نشان پڑا ہوتا ، ابو ایوب ؓ بھی تبرکاً وہیں انگلیاں ڈالتے۔ ایک دن اتفاق سے بالائی منزل میں پانی کا برتن ٹوٹ گیا ، اندیشہ ہوا کہ پانی بہہ کر نیچے جائے اور آنحضرت ﷺ کو تکلیف ہو۔ گھر میں اوڑھنے کا صرف ایک لحاف تھا۔ حضرت ابو ایوب ؓ نے اس کو ڈال دیا کہ پانی جذب ہو کر رہ جائے۔ (اصابہ ذکر ابو ایوب اور زرقانی بحوالہ قاضی ابو یو سف ، حاکم و وفاء الوفا) آنحضرت ﷺ نے سات مہینہ تک یہیں قیام فرمایا۔ اس اثناء میں جب مسجد نبوی اور آس پاس کے حجرے تیار ہوگئے تو آپ ﷺ نے نقل مکان فرمایا۔ تفصیل آگے آتی ہے۔ مدینہ میں آ کر آپ ﷺ نے حضرت زید ؓ اور اپنے غلام ابو رافع کو دو اونٹ دیئے اور پانچ سو درہم دے کر بھیجا کہ مکہ جا کر صاحبزادیوں اور حرم نبوی کو لے آئیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ ؓ کو لکھا کہ وہ بھی اپنی ماں اور بہنوں کو لے کر چلے آئیں۔ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے حضرت رقیہ ؓ حضرت عثمان ؓ کے ساتھ حبش میں تھیں۔ حضرت زینب ؓ کو ان کے شوہر نے آنے نہ دیا۔
Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور تیرا اعلان یہ ہو کہ حق ظاہر ہوگیا اور باطل نابود ہوا اور باطل اسی لیے تھا کہ نابود ہو کر رہے !

آپ ﷺ اعلان کردیں کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل مٹنے ہی والا ہے : 99: بعض مفسرین نے اس آیت کا فتح مکہ کے موقع پر نزول بیان کیا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ مکرمہ میں اس وقت بطور پیشگوئی نازل ہوئی ہے جب آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ سخت بےکسی اور مظلومی کی حالت میں دربدر کی ٹھوہریں کھا رہے تھے اور جو مکہ میں موجود تھے ان کو ہر لحاظ سے تنگ کیا جا رہا تھا اور غلبہ حق کے آثار ابھی دور دور تک کہیں نظر نہیں آتے تھے اور خود رسول اللہ ﷺ کی جان سخت خطرے میں تھی ، بظاہر باطل کا غلبہ تھا مگر اسی حالت میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے یہ اعلان کروایا گیا اور آپ ﷺ نے بھی بےدھڑک یہ اعلان کردیا لیکن اس وقت ان لوگوں کو کتنا تعجب ہوا ہوگا ؟ اس کا اندازہ آج ہم نہیں لگا سکتے یقیناً کفار نے اس کو ایک جنون قرار دیا ہوگا اور ٹھٹھے اڑائے ہوں گے۔ پھر جب آپ ﷺ نے ہجرت کی تو لوگ اپنے دلوں میں کیا سوچتے ہوں گے لیکن ہجرت کے بعد ابھی سات ہی سال گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو مِن و عَن پورا کردیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ جب فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے تو یہ آیت کریمہ آپ ﷺ کی زبان اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی زبان کا ورد تھی۔ آپ ﷺ خود بنفس نفیس اس آیت کو پڑھتے جاتے تھے اور بیت اللہ میں پڑے ہوئے ان کے سارے بزرگوں کے بتوں کو جو انہوں نے بطور یادگار رکھے ہوئے تھے اپنی لاٹھی سے ٹھوکر دیتے جاتے تھے ، جس کو لوہے کی شام چڑھی ہوئی تھی اور یہ واقعہ صحیح بخاری میں اور دوسری سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ منقول ہے۔ یہ جو ہم نے اوپرتحریر کیا ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی اس کی تصدیق قرآن کریم کی دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے جو مکہ میں نازل ہوئی تھی اور وہ آیت ہے : قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ 0049 (سباء 34 : 49) ” کہہ دیجیے اے پیغمبر اسلام ! کہ حق آگیا اور اب باطل کے لیے کچھ نہیں ہوتا “۔ اس طرح یہ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی آیت یہاں تفسیر بیان کی جا رہی ہے سورة سباء کی آیت 49 کے بعد نازل ہوئی ہے جس میں مزید واضح الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے اور اس طرح کی پیشگوئیاں شائع ہوتی رہتی ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہوئیں ، جن کو سن کر آج بھی ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے اور رہتی دنیا تک لوگوں کے ایمانوں کو تازگی بخشتی رہیں گی۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور ہم نے جو قرآن کریم میں سے نازل کیا ہے تو وہ یقین کرنے والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور جو نافرمان ہیں تو انہیں کچھ فائدہ ہونے والا نہیں بجز اس کے کہ اور زیادہ تباہ ہوں

قرآن کریم ایسا نسخہ ہے جس سے بعض کا مرض دور ہوتا ہے اور بعض کا مزید بڑھ جاتا ہے : 100: قرآن کریم وہ نسخہ کیمیا ہے جو انسانوں کے دلوں کے امراض کے لیے اکسیر ہے۔ کفر و شرک یا نفاق اور پھر ان کی اَن گنت اقسام ہیں ان میں سے کوئی بیماری بھی کسی کو لاحق ہو اور وہ اس کا طبیب حاذق محمد رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق اس کو استعمال کرے اور شفا نہ ہو یہ ممکن نہیں ہے اور جو شخص بھی اس نسخہ کے استعمال کا دعویدار ہے اگر اس کو شفا ہوتی یا نہیں ہو رہی تو یقیناً وہ اس نسخہ کیمیا کے استعمال کرنے کے دعویٰ میں جھوٹا ہے کیونکہ دو باتوں میں سے ایک لازم ہے ، پہلی یہ کہ اس نے نسخہ استعمال ہی نہیں کیا اور دوسری یہ کہ اگر اس نے استعمال کیا ہے تو اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق استعمال نہیں کیا ہوگا۔ ان دونوں ہی باتوں میں سے ایک ضرور ہوئی ہوگی۔ بلاشبہ یہ نسخہ کیمیا انسان کی ذہنی ، قلبی ، روحانی اور اخلاقی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ غفلت کی کدورت ، شک و ارتیاب کی تاریکی ، کفر و شرک ، نجاست اور اخلاق کی کمزوریاں اس کے فیض سے سب صاف ہوجاتی ہیں۔ ضرورت صرف اور صرف یہ ہے کہ اس کو دیانتداری سے اپنا خضر راہ بنایا جائے پھر اس کی رحمت کے چشمے علم وعمل کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور رشک صدارم بنا دیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ سچے دل سے اس پر ایمان نہیں لاتے یا اس کو پہچانتے ہیں اور اس کی پہچان یعنی استعمال کی کبھی انہوں نے کوشش ہی نہیں کی ان کی بدبختی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایک انسان کسی مرض میں مبتلا ہے لیکن وہ اس مرض کو مرض نہیں سمجھتا تو اس کے مرض نہ سمجھنے سے خاص قسم کا سیرئیس مریض نہیں بن جاتا ، لیکن جب اس کا چیک اَپ ہوجائے اور اس کو اپنے مرض کی شناخت ہوجائے اور اس کے علم میں آجائے اور علاج نہ کرے یا قابل علاج ہی نہ سمجھے تو اس کا نقصان مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس کا مرض بڑھنے میں اس کو زیادہ وقت انتظار نہیں کرنا پڑتا کیونکہ اس کی قوت مدافعت پہلے سے بہت زیادہ کم ہوجاتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ جو ” نافرمان ہیں تو انہیں کچھ فائدہ ہونے والا نہیں کیونکہ وہ اور زیادہ تباہ و برباد ہوں گے۔ “ یہی بات اس سے پہلے مزید وضاحت کے ساتھ سورة یونس کی آیت 57 میں بیان کی گئی ہے ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔ تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم اور سورة حم السججدہ میں فرمایا گیا کہ : ” اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں ، کیا عجب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی۔ ان سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والے کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لیے کانوں کے ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ “ ظاہر ہے کہ کانوں میں ڈالی گئی دوا جو دلوں کی اصلاح کر دے وہ ہدایت الٰہی ہی ہو سکتی ہے لیکن لوگوں نے زندوں کے لیے تو صرف جسمانی شفا اس سے حاصل کرنے کی کوشش کی کیونکہ کتنے ہی ہیں جو اس کو گھول گھول کر ، لکھ لکھ کر ، پھونک مار مار کر ، تعویذ بنا بنا کر استعمال کر رہے ہیں اور کتنے ہیں جو ان کی شیرینی ادا کر کے استعمال کر رہے ہیں اور مرتے دَم تک کرتے یا کراتے رہتے ہیں اور پھر اس کے مر جانے کے بعد کتے ہیں جو قرآن کریم پڑھ پڑھ کر اور پڑھوا پڑھوا کر مرنے والوں کو بخشتے بخشواتے ہیں اور جس مقصد کے تحت اللہ نے قرآن کریم کو شفا قرار دیا تھا اس مقصد کے قریب بھی نہیں جاتے اس لیے وہ اس کو اتنا کڑوا سمجھ چکے ہیں کہ ان کے گلے سے اس کا گھونٹ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا اور اگر سمجھا بجھا کر ان کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کرے تو وہ کانوں کو بند کرلیتے ہیں اور اس کے لیے آزار ہوتے ہیں۔ آج قوم مسلم قرآن کریم سے یہی کچھ کہہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی فریاد میں ماہر القادری مرحوم نے کہہ دیا ہے کہ ؎ طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں جز دان حریر و ریشم کے اور پھول ستارے چاندی کے پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں جب قول و قسم لینے کے لیے تکرار کی نوبت آتی ہے پھر میری ضرورت ہوتی ہے ، ہاتھوں پہ اٹھایا جاتا ہوں کس بزم میں مجھ کو بار ہیں ، کس عرس میں میری دھوم نہیں پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں ، جھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں مجھ سے یہ محبت کے دعوے ، قانون پہ راضی غیروں کے یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ، یوں بھی میں ستایا جاتا ہوں زیر نظر آیت میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ قرآن کریم سے کن لوگوں کے امراض دور ہوے ہیں اور کون ہیں جن کے امراض مزید بڑھ جاتے ہیں۔ فرمایا : جو اس کی بتائی ہوئی تعلیمات پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے مطابق عمل کرتے ہیں ، ان کے دلوں کے روگ ختم کردیتا ہے اور جو ظلم و زیادتیاں کرتے ہیں ، ان کے نقصان کو اور بڑھا دیتا ہے اور آج یہی حشر قوم مسلم کا ہو رہا ہے۔ الا ماشاء اللہ
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلوتہی کرتا ہے اور جب اسے دکھ پہنچ جائے تو دیکھو بالکل مایوس ہو کر بیٹھ رہتا ہے

انسان پر انعام کرتے ہیں تو اتراتا ہے ، انعام روک لیتے ہیں تو مایوس ہونے لگتا ہے : 101: انسان خواہ کوئی ہو اچھا ہو یا برا بہرحال اللہ کا بندہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے سارے بندوں پر انعام و اکرام کی بارش برابر کر رہا ہے ، جو اس کی ربوبیت کی بارش ہے وہ کسی سے بھی نہیں روکتا پھر کتنے ہی انسان ہیں کہ جب اللہ ان کو رزق میں ، مال و دولت میں ، عزت و تکریم میں اور حکومت و اقتدار میں فراوانی عطا کرتا ہے جو اس کے قانون مشیت کے مطابق ہی ہوتی ہے تو وہ اپنے میں پھولے نہیں سماتے بجائے اس کے کہ ان احسانات کا شکریہ ادا کریں اور ان کو من اللہ سمجھیں وہ اتراتے ہیں ، مُنہ پھیر لیتے ہیں اور کفر کی طرف کروٹ پھیر لیتے ہیں اور احکام الٰہی کی ذرا بھی پرواہ نیں کرتے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے قانون مشیت ہی کے مطابق ان کے گناہوں کی پاداش میں ان چیزوں کو کم کرلیتا ہے یا بالکل چھین لیتا ہے تو وہ لوگ اپنی محرومی اور مایوسی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے اور تھک ہارکر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اسلام کی ہدایت تو یہ ہے کہ جو اللہ عطا کر دے اس پر زیادہ خوش ہو کر اپنے آپے سے باہر نہ نکلا جائے اور جو چیز چلی جائے اس پر جائز حد سے آگے بڑھ کر جزع و فزع نہ کریں ، بلکہ ہر حال میں رضائے الٰہی پر راضی رہیں ، اگر بھلائی ملے تو اس کو من جانب اللہ سمجھیں اور اگر کوئی تکلیف پہنچے تو اس کو اپنی کسی کوتاہی کا باعث سمجھتے ہوئے رجوع الی اللہ کریں اور رب کریم سے بخشش کے طالب ہوں و۔ مختصر یہ کہ زیر نظر آیت میں انسان کی اس کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب اسے خوشحالی ملتی ہے تو غافل ہوجاتا ہے اور جب کوئی رنج و غم پہنچتا ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ حالانکہ یہ دونوں حالتوں میں اس کے لیے نامرادی ہے۔ سعادت کی راہ یہ ہے کہ خوشحالی میں غافل نہ ہو کیونکہ غفلت کا نتیجہ محرومی ہے اور بدحالی میں مایوس ہو کر بیٹھ نہ رہے کیونکہ مایوسی کا نتیجہ ہلاکت ہے۔ ایک بار پھر غور کرو کہ طبیعت انسانی کی کیسی سچی تصویر ہے ؟ انسان جب اپنی کوششوں میں کامیاب ہوتا ہے تو خوشحالی کا گھمنڈ اسے غافل و سرشار کردیتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب میرے لیے کوئی کھٹکا ہیں رہا۔ حالانکہ نیں جانتا کہ کتنا ہی خوشحال ہوجائے اگر غفلت میں پڑگیا تو اس کے لیے کھٹکا ہی کھٹکا ہے۔ اس کی خوشحالیاں کبھی پائیدار نہیں ہو سکتیں۔ پھر جب ایسا ہوتا ہے کہ اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں تو بجائے اس کے کہ وہ اپنی طلب و سعی میں اور زیادہ سرگرم ہوجائے یک قلم مایوس ہوجاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ اب میرے لیے کچھ نہیں رہا۔ حالانکہ نہیں جانتا کہ اس کے لیے سب کچھ ہے بشرطیکہ ہمت نہ ہارے اور اللہ کے فضل و کرم سے مایوس نہ ہو۔ کتنے انسان ہیں جنہوں نے خوشحالیاں پائیں لیکن ان کی خوشحالیاں ، بدحالیوں سے بدل گئیں کیونکہ غفلت میں پڑگئے اور خوشحالی کی قدر نہ کی۔ کتنے ہی ناکام انسان ہیں جو اچانک کامیاب ہوگئے کیونکہ ناکامیاں انہیں مایوس نہ کرسکیں اور کسی حال میں بھی وہ اللہ کے فضل سے ناامید نہ ہوئے۔ فی الحقیقت انسانی سعی و طلب کی ساری نامرادیاں انہی دروازوں سے آتی ہیں۔ غفلت اور مایوسی ، کامرانیوں اور خوشحالیوں کے متوالے غفلت کے زہر سے مرتے ہیں اور ناکامیوں ، نامرادیوں اور بدحالیوں کے بدحال مایوسی کے زہر سے۔ جس فرد اور گروہ نے ان دو ہلاکتوں سے اپنی نگرانی کرلی اس نے فلاح وسعادت کی ساری دولتیں پا لیں۔ اس کی کامرانیوں کے لیے کبھی زوال نہ ہوگا۔ اس کی سعی و طلب ضرور بار آور ہو کر رہے گی۔ مادیات کی طرح روحانیات میں بھی یہی قانون کام کر رہا ہے۔ دنیا کی طرح آخرت کی محرومیاں بھی انہی دو مہلک راہوں سے آتی ہیں۔ عابدوں اور پارساؤں کے لیے گھمنڈ میں موت ہے اور گنہگاروں کے لیے مایوسی میں ، جو نیک و پارسا ہو کر غرور میں مبتلا ہوگیا اس نے پارسائی کی ساری کمائی ضائع کردی۔ جو گناہوں کے بوجھ سے دب کر مایو سی میں بڑھ گیا اس نے رحمت الٰہی کی چار سازیوں سے اپنے آپ کو محروم کردیا۔ جس فرد نے ان دونوں ہلاکتوں سے اپنی نگہداشت کرلی ، پارسائی کی کمائی پر مغرور نہ ہوا ، نافرمانی و گناہ کی حالت میں مایوس نہ ہوا اس نے جاودانی سعادت پا لی اور اس کے لیے نامرادی کا کوئی کھٹکا نہ رہا۔ اللہ کرے کہ میری قوم کے پارساؤں اور گناہوں میں لت پت ہونے والوں کی سمجھ میں یہ بات آجائے۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ ہر انسان اپنے طور طریقہ کے مطابق عمل کرتا ہے ، پس تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سب سے زیادہ ٹھیک راہ پر ہے

ہر انسان نے کوئی نہ کوئی راہ اختیار کی ہے ، اللہ کو معلوم ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے ؟ 102: آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ یونہی بلا دلیل شرعی اپنے آپ کو راہ حق پر سمجھ لے۔ عربی ” شکل “ بکسر شین معجمہ کے معنی ہیئت کے ہیں اور ” شکل “ بالنصب کے معنی طریقہ کے۔ چناچہ ایسے راستے کو جس سے بہت سی راہیں ادھر ادھر نکلتی ہوں ” طریق ذو شواکل “ کہتے ہیں اور بول چال میں عام طور پر کہا جاتا ہے : ” لست علی شکل ولا علی شاکلتی “ پس زیر نظر آیت کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں ہر انسان کا کوئی نہ کوئی طریقہ ہے اور وہ اسی کے مطابق کام کر رہا ہے او کوئی اس طرف جا رہا ہے اور کوئی اس طرف جا رہا ہے۔ کسی نے ایک ڈھنگ اختیار کیا ہے ، کسی نے دوسرا اور وہ اس کے مطابق کام کرتا ہے۔ خدا لگتی بات یہی ہے کہ بغیر دلیل کے کوئی بات صحیح نہیں ہوتی اور دلیل کو کوئی دیکھنے کے لیے تیار نہیں اور اس جھگڑے کا مختصر اور آسان ترین حل یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے اور کون نہیں اور کون کامیاب ہونے والا ہے اور کون کامیاب ہونے والا نہیں اور قرآن کریم نے دوسری جگہ یہی فرمایا ہے کہ تم بھی عمل کرتے جاؤ اور ہم بھی عمل کر رہے ہیں ، ایک دن یقیناً آنے والا ہے کہ سب کو معلوم ہوجائے گا کہ سیدھی اور صحیح راہ پر کون تھا اور غلط اور ٹیڑھی راہ پر کون ؟ اور یہی بات زیر نظر میں فرمائی گئی ہے۔ چونکہ اوپر دو گروہوں کا ذکر تھا ، ایک وہ جن کے لیے قرآن کریم شفا ہوگیا اور دوسرا وہ جو خسارہ میں مید بڑھ گیا تو اب بتایا کہ ہر ایک اپنے اپنے طریق یا طبیعت پر عمل کرتا ہے ، نتیجہ سے معلوم ہوجائے گا کہ ہدایت پر کون تھا اور کون نہیں تھا ؟ لیکن بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بعض انسانی طبیعت کی رو سے ہی بدی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور بعض نیکی کرنے پر اور اسی مفہوم نے قرآن کریم کی ساری تعلیم کا ابطال کردیا اگر اس کو صحیح مان لیا جائے جن لوگوں نے یہ مفہوم بیان کیا ہے دراصل وہ کہنا کچھ اور چاہتے تھے اور کہہ کچھ اور دیا ہوگا۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور یہ لوگ تجھ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دے روح میرے پروردگار کے حکم سے ہے اور تمہیں جو کچھ علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے

یہود کے اکسانے پر جو سوال قریش نے کیے ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ روح کیا ہے ؟ 103: ترمذی ، نسائی اور مسند احمد میں ہے کہ قریش مکہ نے علمائے یہود سے سن کر یہ سوال نبی کریم ﷺ سے کیا تھا کہ روح کیا ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور قرآن کریم کے الفاظ : یَسْـَٔلُوْنَكَ اس کی تصدیق کے لیے کفایت کرتے ہیں۔ تورات اور انجیل میں ” روح “ کا لفظ فرشتہ کے لیے بولا گیا ہے اور قرآن کریم نے فرشتہ اور وحی دونوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ پس یہاں الرُّوْحِ 1ؕ سے مقصود جسم انسانی کی روح ہے یا فرشتہ ؟ اس کے متعلق ائمہ تفسیر کی آراء الگ الگ ہیں ، لیکن اکثر مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ اس جگہ الرُّوْحِ 1ؕ سے مقصود جسم انسانی کی روح ہے نہ کہ فرشتہ مراد ہے۔ بہرحال سوال دونوں کے متعلق ہو سکتا ہے اور جواب بھی دونوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اس لیے اس میں زیادہ الجھنے کی ضرورت ہی آخر کیا ہے ؟ پھر آیت کی اصل موعظت سوال کی تفصیل میں نہیں ہے جواب کی نوعیت میں ہے ، فرمایا : مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ کہ اس معاملہ میں جو کچھ بھی تمہیں بتلایا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کا حکم کام کر رہا ہے اور اس سے زیادہ تم پا نہیں سکتے پھر تم اس سے زیادہ پانے کی کوشش ہی کیوں کرو ؟ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا 0085 تمہارا دائرئہ علم نہایت محدود ہے تم اپنے علم و ادراک میں ایک خاص حد سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتے ، تم علم میں جو کچھ پا سکتے ہو اصل حقیقت کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑا ہے ، وہ اس سمندر میں چند قطروں سے زیادہ نہیں اور تمہیں اس پر قناعت کرنا ہے۔ انسان کے علم و ادراک کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ کہ اسے حواس دیئے گئے ہیں ، انہی کے ذریعے وہ محسوسات کا ادراک حاصل کرتا ہے لیکن خود محسوسات کے دائرہ کا کیا حال ہے ؟ یہ کہ کائنات ہستی کے سمندر میں ایک قطرہ سے زیادہ نہیں ، پھر اگر انسان تمام عالم محسوسات کا علم حاصل بھی کرلے تو اس کی مقدار حقیقت کے مقابلہ میں کیا ہوگی ؟ ایک قطرہ کا علم ، اس سے زیادہ نہیں اور حالت یہ ہے کہ انسان محسوسات کے بھی کامل علم کا دعویٰ نہیں کرسکتا وہ ہمیشہ اس ایک قطرہ کے لیے پیاسا رہا اور آج تک پیاسا ہے اور رہتی دنیا تک پیاسا رہے گا۔ پھر اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ فرمایا : مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ ، میرے پروردگار کے حکم سے یعنی وہ پروردگار ہے اور پروردگاری یہی چاہتی ہے کہ یہ جوہر پیدا ہو۔ زیر نظر آیت سے ہمارے علمائے کرام نے اس طرح کے استدلال کیے ہیں : ! ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔ " جواب دیتے وقت سائل کی وسعت عقل کا خیال رکھنا ضروری ہے۔# سائل کی دینی مصلحت کا خیال رکھنا چاہیے۔$ سوال کا ادھورا جواب بھی دیا جاسکتا ہے۔% ہر سوال کا جواب طلب کرنا یا جواب دینا ضروری نہیں۔^ جو جواب مخاطب کے فہم سے بالاتر ہو یا مخاطب کے غلط فہمی میں پڑجانے کا خطرہ ہو تو اس کا جواب بالکل نہیں دینا چاہیے۔ یہ تو وہ استنباط ہیں جو مفسرین نے بیان کیے ہیں اور مختلف تفاسیر میں پڑھے جاسکتے ہیں لیکن جو جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اور وہ زبان پر لانے کے لیے تیار نہیں وہ سب اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم پورا زور دے کر ان سارے استنباطات سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو اللہ اور بندے کے درمیان حجابات ہیں وہ انسانوں کے درمیان نہیں ہو سکتے اور عالم و مفسر خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو بہرحالانسان ہے ، اس کو اللہ میاں کے مقام پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں اور اگر اس کو کوئی یہ حق دے گا تو وہ یقیناً اس کو اپنا ” رب “ ہی تسلیم کرے گا جو بذاتہٖ کفر ہے ، شرک ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر پر من مانیاں کرنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا روح کی حقیقت کا علم کسی کو ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ روح کی حقیقت کو کوئی انسان سمجھ نہیں سکتا یا یہ کہ خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس کی حقیقت معلوم نہیں تھی۔ حق بات یہ ہے کہ زیر نظر آیت نہ اس کی نفی کرتی ہے اور نہ اثبات۔ اگر کسی نبی و رسول کو وحی کے ذریعے کسی دل کو کشف والہام کے ذریعے اس کی حقیقت معلوم ہوجائے تو وہ اس آیت کے خلاف نہیں۔ ہاں ! عقل و فلسفہ کے ذریعہ اس پر بحث کی جائے تو اس کو فضول و لا یعنی کہا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے متقدمین اور متاخرین نے روح کے متعلق کتابیں لکھی ہیں اگر اس پر بحث و تمحیص منع ہوتی تو آخر وہ کتابیں کیوں لکھتے ؟ اس طرح انہوں نے آیت کے اصل مفہوم کو اس طرح مسخ کردیا ہے کہ اس کا نازل ہونا بےمعنی اور بےمقصد بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہاں ! اگر اس کا کوئی مقصد ہے تو وہ یہ ہے کہ علمائے کرام انسانوں سے کوئی ماوراء چیز ہوتے ہیں جن کا رتبہ عقل و بصیرت سے کام لینے والوں کے مقابلہ میں بہت اونچا ہے اور یہ کہ عقل و بصیرت محض ایک خبط ہے اور علمائے کرام اور جن کو لوگ ولی سمجھ لیں یا کہہ دیں ان کا سارا خبط عین علم ہے۔ پھر اس تفسیر پر ” انا اللہ “ نہ پڑھا جائے تو وہ کیا کیا جاسکتا ہے ؟ مطلب یہ ہوا کہ کچھ کہنا چاہتے ہو تو پہلے آپنے آپ کو عالم یا ولی منواؤ اگر تم اس میں کسی حد تک کامیاب ہوگئے تو پھر جو چاہو کہو تم کو سب کچھ کہنے کا حق مل جائے گا ، سبحان اللہ کیا تفہیم ہے اور کیا تفسیر ہے کہ اس نے یہود کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں ۔
Ayah 17:86

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور ہم نے جو کچھ تجھ پر وحی کی ہے اگر ہم چاہیں تو اسے بھی سلب کرلیں پھر تجھے کوئی نہ ملے جو اس کے لیے ہم پر اپنی وکالت چلائے

اگر ہم چاہیں تو پیغام روک لیں اور کون ہے جو اس کو دوبارہ شروع کرائے ؟ : 104۔ ایک کام کرنے کی طاقت ہو لیکن وہ کام کرنے کا نہ ہو اس لئے طاقت کے باوجود نہ کیا جائے تو یہ کمال ہے ، نقص نہیں۔ اس بات کا ایک جگہ ذکر کیا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے جو وحی آپ کو بھیجی ہے اگر ہم چاہیں تو روک لیں ‘ لیکن ہم ایسا آخر کیوں چاہیں گے ؟ کوئی آپ ﷺ نے مجبور کر کے تو ہم سے یہ پیغام وصول نہیں کیا ، اس کے بھیجنے والے تو ہم خود ہیں اور اپنی مرضی سے آپ کو پیغام بھیجا ہے پھر جو کچھ بھیجا ہے وہ محض اس لئے ہے تاکہ آپ لوگوں تک پہنچائیں ، خود اس کے مطابق عمل کریں اور دوسروں کو دعوت دیں کون اسے قبول کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ؟ کوئی اس کے متعلق کی کہتا ہے اور کیا نہیں کہتا ؟ آپ اس سے بےفکر رہ کر پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں اور جو کچھ کوئی کہتا ہے اس سے بےنیاز ہوجائیں ۔ اور خیال رکھیں کہ آپ سے پہلے جتنے نبی ورسول بھیجے گئے تھے ان کو مخصوص فرقوں اور علاقوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا اور یکے بعد دیگرے نبی و رسول بھیجے گئے تھے اس لئے ایک نبی ورسول کے جانے کے بعد جو کچھ لوگوں نے اپنی طرف سے اس میں ڈال دیا تھا بعد میں آنے والے رسول نے اس کو منسوخ کر کے قوم کے لوگوں کی توجہ اصل حقیقت کی طرف مبذول کرائی تھی اگر اللہ چاہتا تو آپ کو دی گئی وحی کے متعلق بھی ایسا ہی کرتا لیکن اس کی مشیت کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا اور وہ یہ تھا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ورسول نہ آئے اور یہ آخری وحی اور آخری پیغام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے اور تمام اس سے روشنی حاصل کرتے رہیں زمانہ کے لوگ جو کچھ اس میں ڈالنے کی کوشش کریں گے وہ اسی مشیت کے مطابق صاف ہوتا رہے گا کیونکہ اس آخری وحی کو ہم نے اس قدر محفوظ کردیا ہے کہ رہتی دنیا تک اس میں ایک شوشہ کی بھی کمی بیشی نہیں ہو سکے گی اور اس کی تفسیر میں جو کچھ کہا جائے گا وہ بھی اس کے اندر داخل نہیں ہو سکے گا ؟ ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ یہ تیرے پیغام کے لئے اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے جو دوسرے کلاموں کے حصہ میں نہیں آیا اور اس لئے نہیں آیا کہ وہ آخری کلام نہیں تھے ، ہاں ! ایسا کرنے پر آپ نے ہم کو مجبور نہیں کیا بلکہ ہماری مشیت کا یہ فیصلہ ہے جس کا کوئی بدل نہیں سکتا اور ہمارے فیصلے بدلا نہیں کرتے ۔
Ayah 17:87

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

مگر یہ محض تیرے پروردگار کی رحمت ہے اس میں شک نہیں کہ اس کا تجھ پر بڑا ہی فضل ہے

مشیت الہی کا فیصلہ پیغمبر اسلام کے لئے اللہ کا خاص فضل ہے : 105۔ اپنی قدرت کاملہ مطلقہ کے ذکر کے بعد خودی ہی وضاحت فرما دی کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ کے لئے مشیت کا یہ فیصلہ کہ آپ کے بعد کوئی اور پیغام رسا نہیں آئے گا ان عنایات میں سے ہے جو آپ کے لئے خاص کردی گئی تھیں اور وہ اپنے وقت پر آپ ہی کو ملیں ۔ غور کیجئے کہ جس بات کو خود اللہ رب العزت اپنی زبان قدرت سے ” فضل کبیر “ فرما دے وہ کسی دوسرے کے لئے ممکن ہو سکتی ہے اور کوئی انسان اس کا احاطہ کرسکتا ہے کہ اس کی حدود کیا ہیں اور کہاں تک ہیں ؟ یہی وہ بات ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر فضیلت عطا کرتی ہے اور کسی بیٹے کے لئے باپ کے مقابلہ میں فضیلت حاصل کر جانا باپ کی حیثیت کو قطعا متاثر نہیں کرتا اور نہ ایک فضیلت شدہ بیٹا باپ کے باپ ہونے سے کبھی انکاری ہو سکتا ہے بلکہ وہ باپ کو باپ تسلیم کرتے ہوئے اس کے احترام کو ہمہشی ملحوظ خاطر رکھتا ہے اللہ کے سارے نبیوں نے یہی کچھ کیا اور اس سے کسی نبی کی فضیلت میں کبھی فرق نہ آیا اور نہ ہی نبی اعظم وآخر ﷺ کی فضیلت میں کچھ فرق آسکتا ہے بلاشبہ آپ سید ولد آدم ہیں اور آدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے نبی و پر آپ (علیہ السلام) کی فضیلت مسلم ہے ۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

اس بات کا اعلان کر دے کہ اگر تمام انسان اور جن اکٹھے ہو کر چاہیں کہ اس قرآن کریم کی مانند کوئی کلام پیش کردیں تو کبھی پیش نہ کرسکیں گے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار ہی کیوں نہ ہو

جن وانس مل کر بھی قرآن کریم کے مقابلہ میں کلام پیش نہیں کرسکتے : 106۔ قرآن کریم کے کلام الہی ہونے اور دوسرے سارے کلاموں سے ممیز ہونے کے لئے جو استدلال کیا گیا ہے وہ دراصل تین دلیلوں پر مشتمل ہے : 1۔ قرآن کریم اپنی زبان ‘ اسلوب بیان ‘ طرز استدلال ‘ ضرب الامثال ‘ محاورات ‘ تعلیمات ‘ استعارات اور اخبار غیب کے لحاظ سے ایک معجزہ ہے جس کی نظیر لانا انسانی قدرت سے باہر ہے ۔ تم کہتے ہو کہ اس کو ایک انسان نے گھڑا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ دنیا کے سارے انسان اور سارے جن مل کر بھی اس جیسا کلام نہیں گھڑ سکتے ، دعوی میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ بعد اور دوری ہے اگر تم سچے ہو تو اٹھو اور اس کی نظیر لے آؤ ۔ 2۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے سامنے ہے ، آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے چالیس سال تم میں گزرے ہیں ۔ تمہارے شہر میں پیدا ہوئے ، تمہاری آنکھوں کے سامنے بچپن گزرا ‘ جوان ہوئے ‘ ادھیڑ عمر کو پہنچے ‘ رہنا سہنا ‘ ملنا جلنا لین دین ‘ شادی بیاہ غرض ہر طرح کے معاشرتی حالات تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں کیا دعوی نبوت سے پہلے ایک دن بھی تم نے اس کی زبان سے اس طرز کا کلام اور ان مسائل اور مضامین پر مشتمل کلام سنا تھا اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں آتی ہے کہ کسی شخص کی زبان ‘ خیالات ‘ معلومات اور طرز فکر وبیان میں یکایک ایسا تغیر واقع ہو سکتا ہے ؟ 3۔ اب اس وقت جب کہ تم اے مکہ والو ! محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر رہ رہے ہو اور ہمارا نبی قرآن سنا کر کہیں غائب تو نہیں ہوجاتا تمہارے پاس رہتا ہے تم قرآن کریم بھی اس کی زبان سے سنتے ہو اور اس سے دوسرا کلام بھی اور گفتگو بھی کرتے اور سنتے ہو تم ہی بتاؤ کہ قرآن کریم کی زبان اور طرز کلام سے اس کے کلام کا طرز بالکل الگ تھلگ نہیں ‘ اگر فی الواقعہ الگ الگ طرز ہے تو تم بتاؤ کہ ایک فرد کے کبھی دو مختلف سٹائل بھی ہو سکتے ہیں جبکہ زبان بھی ایک ہو ‘ لب و لہجہ بھی ایک ہو ‘ کیا اس کی کوئی مثال بیان کرسکتے ہو ؟ آج بھی قرآن کریم تمہارے ہاتھوں میں سے اور احایدث کی کتب بھی تم پڑھتے ہو کیا دونوں میں واضح فرق موجود نہیں ؟ اگر ہے تو آخر وہ کس طرح ہوگیا ۔ بات سمجھنے کے لئے اشارات کافی ہیں اور تفصیل کے لئے ” عروۃ الوثقی “ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیات 23 ‘ 24 ‘ جلد چہارم تفسیر عروۃ الوثقی “۔ سورة یونس آیت 16 ‘ 38 ‘ سورة ہود آیت 13 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں اور اس سورة بنی اسرائیل کے بعد انشاء اللہ العزیز سورة طور آیت 33 ‘ 34 میں بھی یہی مضمون آئے گا ۔ انشاء اللہ العزیز ، ہمیں افسوس ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے معجزات میں سے سب سے زیادہ واضھ اور روشن معجزہ کو ہمارے مفسرین نے وہ مقام بھی نہ دیا جو ان قصے کہانیوں کو دیا جن کا کوئی سر اور پیر اسلام میں نہیں اور جو معجزات کے شوقین حضرات نے اپنی ہی طرف سے گھڑ گھڑ کر الف لیلی کی کہانی کی طرح بیان کئے اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ان وہمی مفروضوں کو اپنی کتابوں میں جگہ دے دی اور آج گرمی محفل کے لئے واعظین اسلام انہیں چیزوں کو اپنی پند ونصائح میں بیان کرنے کے عادی ہیں اور ان کو چٹ پٹا بنانے کے لئے اپنی طرف سے بھی نمک ‘ مرچ چھڑکتے رہتے ہیں اور کوئی مکتب فکر بھی ان کی زد سے نہیں بچا ، اہلحدیث اپنے آپ کو محققین اور تحقیقی لوگ خیال کرتے اور بیان کرتے ہیں ان میں قلیل لوگ ایسے بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت اپنی ساری چھان بین رفع الیدین ‘ فاتحہ خلف الامام ‘ آمین بالجہر اور آٹھ رکعت تراویح کے لئے خاص کرچکی ہے ، ان کے ہاں اتنی فرصت ہی نہیں کہ کسی اور بات کی تحقیق کرسکیں اور اپنے مخصوص مسائل سے باہر نکل کر کچھ دیکھنے کے لئے تیار ہی ہوں ، ہم انشاء اللہ العزیز کسی مناسب جگہ پر مزید گفتگو کریں گے کیونکہ آگے موضوع اسی طرح پھرنے والا ہے ‘ نہیں ! بلکہ پھر چکا ہے ۔
Ayah 17:89

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کریم میں ہر طرح کی مثا لیں بار بار بیان کیں لیکن ان میں سے اکثروں نے کوئی بات قبول نہیں کی اور قبول کی تو صرف ناشکری !

قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی گئیں لیکن اکثروں نے ان کو قبول نہ کیا : 107۔ ایک بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرنے کو تصریف کہا جاتا ہے ، رسول کی حیثیت ‘ قرآن کریم کا کلام الہی ہونا ‘ توحید الہی کا بیان ‘ جنت و دوزخ کی تفہیم ‘ مرنے کے بعد دو بار اٹھایا جانا اور اچھے برے اعمال کے نتائج کو قرآن کریم نے بار بار مختلف طریقوں سے بیان کیا اور ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن اکثر لوگوں نے ان کو قبول کرنے سے انکار ہی کیا ہے وہ انکار زبان واقرار کا انکار ہو یا کسب وعمل کا گویا وہ انکار کفر کا انکار ہو یا نفاق کا جو اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے ، اس جگہ اس کا بیان جس نسبت سے آیا وہ ییا ہے کہ قرآن کریم کے برابر اور کونسا معجزہ ہوسکتا ہے جو ہر لحاظ سے معجزہ ہے جس کا باقاعدہ چیلنج کیا گیا اور جس کا چیلنج رہتی دنیا تک جاری وساری رہے گا لیکن نہ ماننے والوں نے کیا اس کو مان لیا ؟ ہرگز نہیں پھر صرف یہی نہیں کہ انہوں نے انکار کیا بلکہ اس معجزہ کے ہوتے ہوئے اس چیلنج کے بعد انہوں نے شرارتا نئے نئے مطالبات کئے جن کا نام انہوں نے آیات ومعجزات رکھا ، اسی بات کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے فرمایا ” ہم نے قرآن کریم میں عبرت وموعظت کی تمام باتیں دہرا دہرا کر بیان کردیں مگر یہ باتیں انہیں کے دلوں کو پکڑ سکتی ہیں جن میں سچائی کی طلب ہے ورنہ اکثروں کا حال یہ ہے کہ انکار وسرکشی کی باتیں بیان کی ہیں کہ وہ کیا کیا ہیں ۔