17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 17:90

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا ہم تو اس وقت تک تجھے ماننے والے نہیں جب تک کہ تو اس زمین کو حکم دے اور ہمارے لیے اس سے ایک چشمہ پھوٹ نکلے

ان لوگوں کی سرکشی کی پہلی بات جو بیان فرمائی وہ زمین سے ایک چشمہ کا پھوٹ نکلنا ہے : 108۔ قرآن کریم نے جا بجا منکرین حق کے عقائد واقوال نقل کر کے دو خاص گمراہیوں پر توجہ دلائی ہے ۔ ایک یہ کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ روحانی ہدایت کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جو محض ایک انسان کے ذریعے ظاہر نہیں ہو سکتا ضروری ہے کہ انسانیت سے کوئی بالاتر ہستی ہو اس خیال نے دیوتاؤں کے ظہور اور ان کے عجائب آفرینیوں کا اعتقاد پیدا کیا چناچہ سورة اعراف اور ہود میں گزر چکا ہے کہ ہر داعی حق کے منکر نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ (آیت) ” مانراک الا بشرا مثلنا “۔ تم تو ہماری ہی طرح کے ایک بشر ہو پھر تمہارا یہ دعوی کیسے مان لیں چناچہ مشرکین مکہ بھی یہی کہتے تھے (آیت) ” مالھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ یہ کیسا اللہ کا بھیجا ہوا ہے کہ ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ سچائی کو خود سچائی ہی نہیں ڈھونڈتے ‘ اچنبھوں اور کرشموں کی تلاش میں رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو آدمی سب سے زیادہ عجیب قسم کی باتیں کر دکھائے وہ سب سے زیادہ سچائی کی بات بتلانے والا ہے گویا سچائی اس لئے سچائی نہ ہوئی وہ سچائی ہے بلکہ اس لئے ہوئی کہ عجیب عجیب طرح کے کرشمے اس کے پیچھے کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ غور کرو جو حالت قرآن کریم نے اپنے مخالفین ومعاندین کی بیان کی ہے آج وہی حالت اس کے ماننے والوں کی ہے کہ وہ سچائی کو سچائی میں تلاش کرنے کی بجائے اچنبھوں اور کرشموں کی تلاش کے متلاشی ہیں ان کو لاکھ بار یہ بات بتائی جائے کہ فلاں آدمی نے حق کو حق ماننے کے بدلے بہت بڑی بڑی سختیاں برداشت کیں لیکن حق کو حق ہی کہتا ہے تو وہ ٹس سے مس نہیں ہوں گے بلکہ بڑبڑا کر رہ جائیں گے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں نے مردہ کو زندہ کردیا ‘ گم شدہ چیز کا کھوج بتا دیا ‘ ہاتھ پھیرا اور فلاں فلاں کی بیماری ہوا ہوگئی ‘ فلاں نے دعا دی تو اس کے ہاں اولاد پیدا ہوگئی تو فورا اس کی بزرگی کے قائل ہوجائیں گے ۔ زیر نظر آیت میں مشرکین کی اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے دعوی رسالت کے بعد جو انہوں نے پہلا مطالبہ کیا وہ یہ تھا کہ ” ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں جب تک کہ آپ ہمارے سامنے اس زمین سے ایک چشمہ نہ رواں کردیں ۔ “
Ayah 17:91

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تیرے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو اور اس کے درمیان بہت سی نہریں رواں کر کے دکھا دے

مشرکین کا دوسرا مطالبہ کہ اچھا یہ نہیں تو تیرے لئے ایک باغ ہو جس میں چشمے جاری ہوں : 109۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اول تو انسان کا رسول ہونا ہی عجیب بات ہے اگر خدا کا پیغام لے کر آتا تو کوئی فرشہ آتا نہ کہ ایک گوشت پوست کا آدمی جو زندہ رہنے کے لئے غذا کا محتاج ہو تاہم اگر آدمی ہی رسول بنایا گیا تھا تو کم از کم اس کے لئے ایک بہترین باغ تو ہوتا جس میں کھجوریں اور انگور فراخی سے ہوتے اور وہ ٹھاٹ باٹ سے اس میں رہتا اور دنیا کے بڑے لوگوں میں سے ایک ہوتا ، اس کی دھاک لوگوں کے دلوں میں بیٹھتی اور اس کا دیکھنے کے لئے لوگوں کی آنکھیں ترستیں یہ اچھا پیغمبر ہے جو بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اور اپنا سودا سلف تک خود خریدتا ہے اور خود اٹھاتا ہے ، بھلا اس آدمی کو کون خاطر میں لائے گا جسے ہر راہ چلتا روز دیکھتا ہے ، گویا ان کی رائے میں رسول کی اگر ضرورت تھی تو لوگوں کو ہدایت دینے کے لئے نہیں بلکہ عجوبہ دکھانے کے لئے یا دھونس جمانے کے لئے تھی ۔
Ayah 17:92

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا کہ تو نے خیال کیا ہے ، آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہم پر آ گرے یا اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوں

ان کا تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ اچھا وہ عذاب ہی لے آ جس سے تو ہم کو اکثر ڈرایا کرتا ہے : 110۔ انسانی عادت بھی بڑی عجیب ہے کہ جب اس کو غصہ آتا ہے تو وہ بحالت غصہ ایسی ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو عام حالت میں کبھی نہیں کہہ سکتا ۔ نبی اکرم ﷺ نے بحکم الہی نبوت کا دعوی کیا تو قریش مکہ کے غصہ کی انتہا نہ رہی اور عالم غصہ میں انہوں نے جو جو مطالبات کئے ان میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ اور کچھ نہیں تو ہمارے اوپر بادل کا ایک ٹکڑا ہی گرا دے اس طرح وہ گویا عذاب الہی کے مانگنے سے بھی نہ شرمائے ان کو کہا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ اس طرح کہنے میں بھی تم اکیلے نہیں تم سے پہلے بھی لوگوں نے ایسے ایسے مطالبات کئے لہذا تم اچھی طرح سن لو کہ جس عذاب کے تم طالب ہو وہ میرے اختیار میں نہیں وہ تو رب العزت کے اختیار میں ہے اور وہ جب چاہے گا تم پر نازل کر دے گا اور ایک مطالبہ ان کا یہ بھی تھا کہ ہمارے سامنے اللہ کے فرشتے لا کر کھڑا کر دے ان کی اس بچگانہ بات کا بھی دوسری جگہ ان کو جواب دیا گیا کہ وہ چاہے گا عذاب کے فرشتوں کو نازل کردے گا لیکن جب ان کا نزول ہوگا تو تمہارا کام تمام کردیا جائے گا اور جب تم ہی نہ رہے تو اس مطالبہ کا جواب کس کو سنایا جائے گا ؟ اس طرح ان کے سخت سے سخت سوال سن کر بھی برداشت کیا گیا اور اللہ کی پکڑ اس وقت تک نہ آئی جب تک خود نبی اعظم وآخر ﷺ ان میں موجود رہے گویا جس سے وہ مطالبہ عذاب کر رہے تھے وہی ان سے عذاب کی روک کا اصل باعث تھا ۔ ﷺ
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا ہم دیکھیں کہ سونے کا ایک محل تیرے لیے مہیا ہوگیا ہے تو بلند ہو کر آسمان پر چلا جائے اور اگر تو آسمان پر چلا بھی گیا تو بھی ہم یہ بات ماننے والے نہیں ، جب تک کہ تو ایک کتاب ہم پر نہ اتار دے اور ہم خود اسے پڑھ کر جانچ نہ لیں ، ان لوگوں سے کہہ دے سبحان اللہ ! میں اس کے سوا کیا ہوں کہ ایک آدمی ہوں پیغام حق پہنچانے والا

مشرکین مکہ کے دو مزید مطالبات کہ آپ ﷺ کیلئے کوئی سونے کا گھر ہو یا آسمان پر تم چڑھ جاؤ : 111۔ مشرکین کے جو مطالبات اس جگہ بیان کئے گئے ان میں سے یہ دو آخری مطالبات ہیں ایک یہ کہ آپ کے لئے کوئی سونے کا گھر تیار ہوجائے تو ہم آپ کی نبوت کو مان لیں گے اور اگر یہ نہیں تو کم از کم ہماری آنکھوں کے سامنے خالی ہاتھ آسمان کی طرف چڑھنے لگو اور چڑھتے ہی چڑھتے بس غائب ہوجاؤ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اترو تو تمہارے ہاتھ میں ایک تحریر شدہ کتاب ہو جس کو ہم خود پڑھ کر دیکھیں اگر اس میں آپ کی نبوت کے مان لینے کا لکھا ہوگا تو ہم ضرور منالیں گے اس طرح ان کے کل سات مطالبات آیت 90 سے آیت 93 تک بیان ہوئے فرمایا وہ کہتے ہیں کہ ہم تو جبھی مانیں گے جب تم ہمیں اس اس طرح کی باتیں کر دکھاؤ مثلا مکہ کی ریگستانی زمین میں اچانک ایک نہر پھوٹ نکلے جس سے ہم سیراب ہوں ِ ، تیرے لئے ایک کھجوروں اور انگوروں کا باغ پیدا ہوجائے اور اس میں نہریں رواں دواں ہوں ، آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہم پر گر پڑیں ‘ اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے آجائیں سونے کا ایک بنا بنایا محل نمودار ہوجائے یا یہ کہ تم ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ دوڑو اور وہاں سے ایک لکھی لکھائی کتاب لاکر ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دو یہ ساری فرمائشیں اور مطالبات سننے کے بعد نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو اس طرح جواب سنا دو (سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا) میرے پروردگار کے لئے پاکیزگی ہو ! میری حیثیت اس کے سوا کیا ہے کہ میں ایک آدمی ہوں اللہ کا بھیجا ہوا ۔ سبحان اللہ ! قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت کہ اس ایک ہی جملہ کے اندر وہ سارے دفتر کے دفتر آگئے جو انکار وسرکشی کی ان صداؤں کے جواب میں کہے جاسکتے تھے (آیت) ” ھل کنت الا بشرا رسولا “ میں نے کوئی خدائی کا دعوی نہیں کیا میں نے یہ نہیں کہا ہے کہ میں آسمان کو زمین اور زمین کو آسمان بنا دینے والا ہوں اور دنیا کی ساری قوتیں میرے تصرف واختیار میں ہیں ۔ میرا دعوی جو کچھ ہے وہ تو یہ ہے کہ آدمی ہوں ‘ پیام حق پہنچانے والا ‘ پھر تم مجھ سے یہ فرمائش کیوں کرتے ہو ؟ کیوں میرے لئے ضروری ہے کہ میں سونے کا محل دکھاؤں اور آسمان پر سیڑھی لگا کر چڑھ جاؤں ؟ ایک بار پھر اس پہلو پر غور کرو جس پر جواب کا اصل زور پڑ رہا ہے ۔ اگر ایک شخص نے کسی بات کا دعوی کیا ہے تو ہم دیکھیں گے اس کا دعوی کیا ہے ‘ اور اس کے مطابق اس سے دلیل طلب کریں گے مثلا اگر اس شخص نے دعوی کیا ہے کہ وہ طبیب ہے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ علاج میں ماہر ہے یا نہیں ؟ اور بیماروں کو اس کے علاج سے شفا ملتی ہے یا نہیں ؟ ایسا نہیں کریں گے اور کبھی نہیں کریں گے کہ کسی نے دعوی تو کیا ہو طبابت کا اور ہم اس سے دلیل وہ مانگیں جو لوہار سے مانگی جاسکتی ہے یعنی اس کو کہیں کہ ہمیں لوہے کے گارڈر بنا دے اگر ایسا کریں گے تو یہ صریح بےعقلی ہوگی ۔ یہ بات یعنی دعوی اور دلیل کی مطابقت ایک ایسی عام اور قدرتی بات ہے کہ ہر آدمی خواہ کتنا ہی موٹی عقل کا ہو خودبخود اسے پالیتا ہے ، جونہی ایک آدمی کہے گا ‘ میں لوہار ہوں تو وہ سنتے ہی فرمائش کرسکتا ہے کہ ایک قفل بنا دو کبھی اس کی زبان سے یہ نہیں نکلے گا کہ شیشے کا ایک برتن بنا دو ۔ اچھا ایک انسان آتا ہے اور کہتا ہے میں رسول ہوں ‘ پیام حق پہنچانے والا ہوں ، اب اس کا دعوی کیا ہوا ؟ یہ کہ اللہ نے اس پر سچائی کی راہ کھول دی ہے اور وہ دوسروں کو بھی اس راہ پر چلانا چاہتا ہے ، جب دعوی یہ ہوا تو اس کے مطابق دلیل بھی ہونی چاہئے قدرتی طور پر اس کی دلیل یہی ہو سکتی ہے کہ دیکھا جائے وہ سچائی کی راہ پر ہے یا نہیں اور اس کی بتلائی ہوئی راہ پر چل کر سچائی ملتی ہے یا نہیں ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دعوی تو اس نے سچائی کی راہ دکھانے کا کیا ہو اور ہم دلیل مانگنے لگیں کہ اس پہاڑ کو سونا بنا دے یا آسمان پر اڑ کر چلا جائے ؟ طبیب کہتا ہے کہ بیمار میرے علاج سے چنگے ہوجاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ بیمار اس کے علاج سے چنگے ہوئے یا نہیں ؟ اس طرح اللہ کا رسول کہتا ہے میں روح ودل کی بیماریاں دور کردیتا ہوں اگر تم میرا روحانی علاج کرو پھر اگر ہم طالب حق ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اس کے علاوج سے روح ودل کے بیماروں کو شفا ملتی ہے یا نہیں ؟ اگر ہم طبیب سے کہیں کہ تیرا دعوی ہم تبھی مانیں گے جب تو آسمان پر اڑ کر چلا جائے تو یقینا ہو کہے گا میں نے طبابت کا دعوی کیا ہے آسمان پر اڑنے کا نہیں کیا ہو سکتا ہے کہ اللہ مجھے اڑنے کی بھی طاقت دے دے لیکن طبابت کے دعوے کا اڑنے سے کیا واسطہ ؟ اگر میرا دعوی پر کھنا چاہتے ہو تو آؤ تمہارا علاج کر کے اپنی طبابت کا ثبوت دے دوں کیا تم میری دوا کھاؤ گے ؟ ٹھیک ٹھیک یہی معنی اس جواب کے بھی ہیں کہ (ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ میں نے کب کہا ہے کہ آسمان و زمین کو ملا دوں گا ؟ میرا دعوی تو صرف یہ ہے کہ پیام حق پہنچانے والا ہوں ، پس اگر طالب حق ہو تو میرا پیام پرکھ لو میرے پاس نسخہ شفا ہے کہ نہیں ؟ میں صراط مستقیم پر چلا سکتا ہوں یا نہیں ؟ میں سراسر ہدایت اور رحمت ہوں یا نہیں ؟ پھر اس جواب میں صرف یہی نہیں کہا کہ میں رسول ہوں بلکہ (بشرا) کے لفظ پر بھی زور دیا کیونکہ جو بات منکروں کے دماغ میں کام کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ ایک آدمی جس میں کوئی مافوق انسانیت کرشمہ نہیں پایا جاتا وہ خدا کا فرستادہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور کیوں ہم اس پر ایمان لائیں ؟ فرمایا میں تو اس کے سوا کچھ نہیں ہوں کہ ایک آدمی ہوں پیام حق پہنچانے والا ، میں نے یہ دعوی نہیں کیا کہ فرشتہ ہوں یا کوئی ماوراء انسانیت مخلوق ہوں ، پھر آنے والی آیت میں اس کی مزید وضاحت فرما دی ۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی اللہ کی ہدایت ظاہر ہوئی تو صرف اس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا کہ ایک آدمی پیغمبر [ بنا کر بھیج دیا ہے ؟

لوگوں کو جس چیز نے ایمان لانے سے روکا وہ یہی تھی کہ کیا انسان کو رسول مان لیں ؟ 112۔ جب کبھی دنیا میں خدا کی ہدایت نمودار ہوئی تو ہمیشہ اسی فاسد خیال نے لوگوں کو قبولیت حق سے روکا ، کہنے لگے ” کیا خدا نے ایک آدمی کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا ؟ “ یعنی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہماری طرح کا ایک کھانے پینے والا آدمی خدا کا پیغمبر ہوجائے ، پھر اس کا جواب دیا جو آنے والی آیت میں آرہا ہے ، قرآن کریم نے اس جملہ کو بار بار دہرایا ہے کہ کفار کا کہنا یہ تھا کہ تم چونکہ انسان ہو اس لئے خدا کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہوسکتے اور یہی خیال کفار مکہ کا بھی تھا کہ محمد رسول اللہ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ انسان ہیں ۔ آج مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی بدقسمتی سے وہی کہتی ہے جو اس وقت لوگ کہتے تھے ، فرق ہے تو فقط یہ کہ انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو آنکھوں سے دیکھا تھا اور انسان پایا تھا اس لئے انہوں نے ” رسالت “ سے انکار کردیا اور آج یہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے اس لئے انہوں نے آپ کی ” بشریت “ سے انکار کردیا ۔ ماحصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ انسان رسول نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے بڑے تعجب کے کہا تھا کہ : (آیت) ” وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ (الفرقان 25 : 7) ” اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسو ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” واسروا النجوی الذین ظلموا ھل ھذا الا بشر مثلکم افتاتون السحر وانتم تبصرون “۔ (الانبیآء 21 : 3) ” اور یہ ظالم لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص تم جیسے ایک بشر کے سوا آخر اور کیا ہے پھر کیا تم آنکھوں دیکھے اس جادو کے شکار ہوجاؤ گے ؟ “۔ قرآن کریم کفار مکہ کے اس جاہلانہ خیال کی تردید کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ کوئی نئی جہالت نہیں ہے جو آج پہلی مرتب ان لوگوں سے ظاہر ہو رہی ہے بلکہ قدیم ترین زمانے سے تمام جہلاء اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہوسکتا اور جو رسول ہے وہ بشر نہیں ہو سکتا قوم نوح کے سرداروں نے جب سیدنا نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا انکار کیا تھا تو یہی کہا تھا : (آیت) ” ما ھذا الا بشر مثلکم یرید ان یتفضل علیکم ولو شآء اللہ لانزل ملئکۃ ما سمعنا بھذا فی ابائنا الاولین “۔ (المومنون 23 : 24) ” یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا اور چاہتا ہے کہ تم پر اپنی فضیلت قائم کرے حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کرتا ہم نے تو یہ بات کبھی اپنے باپ دادا سے نہیں سنی ۔ “ (کہ انسان رسول بن کر آئے) اور قوم عاد نے یہی بات ہود (علیہ السلام) کے متعلق کہی تھی : (آیت) ” ما ھذا الا بشر مثلکم یا کل مما تاکلون منہ ویشرب مماتشربون ولئن اطعتم بشرا مثلکم انکم اذالخسرون “۔ (المنومنون 23 : 33 ، 34) ” یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر ہی تو ہے تم ہی جیسا کھاتا ہے اور تم ہی جیسا پیتا ہے اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کرلی تو تم بڑے گھاٹے میں رہے ۔ “ اور قوم ثمود نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کے متعلق بھی یہی کہا تھا : (آیت) ” ابشرا منا واحدا نتبعہ “۔ (القمر 54 : 24) ” کیا ہم اپنے لوگوں میں سے ایک بشر کی پیروی کرلیں ۔ “ اور یہی معاملہ قریب قریب تمام انبیاء کرام کے ساتھ پیش آیا کہ کفار نے کہا (آیت) ” ان انتم الا بشر مثلنا “۔ ” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے بشر ہی تو ہو “۔ اور انبیاء کرام (علیہم السلام) نے ان کو جواب دیا ۔ (آیت) ” ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ “۔ (ابراہیم 14 : 10 ، 11) ” واقعی ہم تمہاری طرح بشر کے سوا کچھ نہیں ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے ۔ “ ازیں بعد قرآن کریم برملا کہتا ہے کہ یہی جاہلانہ خیال ہر زمانے میں لوگوں کو ہدایت قبول کرنے سے باز رکھتا ہے اور اس بناء پر قوموں کی شامت آئی ہے فرمایا : (آیت) ” الم یاتکم نبؤا الذین کفروا من قبل فذاقوا وبال امرھم ولھم عذاب الیم ذلک بانہ کانت تاتیھم رسلھم بالبینت فقالوا ابشرا یھدوننا فکفروا وتولوا وستغنی اللہ واللہ غنی حمید “۔ (التغابن 64 : 5 ، 6) ” کیا ان لوگوں کو خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تھا اور پھر اپنے کئے کا مزا چکھ لیا اور آگے ان کے لئے دردناک عذاب ہے ؟ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انکے پاس انکے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آتے رہے مگر انہوں نے کہا کیا اب انسان ہماری رہنمائی کریں گے ؟ اس بناء پر انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیر گئے ، تب اللہ بھی ان سے بےپروا ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بےنیاز اور اپنی ذات میں آپ ہی محمود ہے ۔ “ پھر قرآن کریم پورصراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور انسانوں کو ہدایت کے لئے انسان ہی رسول ہوسکا ہے نہ کہ کوئی فرشتہ یا بشریت سے بالا تر کوئی ہستی ۔ چناچہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون وما جعلنھم جسدا لا یاکلون الطعام وما کانوا خالدین “۔ (الانبیآء 21 : 7 ، 8) ” ہم نے تم سے پہلے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو اور ہم نے ان کو ایسے جسم والا نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ ہی وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے تھے ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : (آیت) ” وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق “۔ (الفرقان 25 : 20) ” ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجے تھے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے ۔ “ اس طرح کی کتنی آیات انبیاء کرام (علیہم السلام) کی بشریت کا کھلا اعلان کرتی ہیں لیکن نہ ماننے والوں کا کوئی علاج ؟ بہرحال ان کفار کا قرآن کریم اس طرح جواب دیتا ہے ۔