17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

تمہارا پروردگار جس کسی کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے نپی تلی ، وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے

رزق کی فراخی اور اس کانپا تلا ہونا دونوں حالتوں سے اللہ واقف ہے : 40۔ رزق کی فراخی کی تقسیم کا مسئلہ بھی بہت عجیب ہے تم دیکھتے ہو کہ کہیں دولت کی فراوانی ہے اور کہیں فقر و افلاس نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں یہ قبض وبسط اللہ تعالیٰ کی حکمت کی جلوہ گری ہے ، رزق کی کشادگی وتنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اسی کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس کی اسی مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کار فرما ہیں کسی کو زیادہ رزق کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے ، بسا اوقات ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا ہے اور پھر عطا کرتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخرت یہی دولت اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب لے آتی ہے اس کے برعکس اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے اکثر نیک لوگوں پر تنگی اس کے باوجود رہتی ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں بلکہ بارہا یہی تنگی ان کے لئے اللہ کی رحمت ہوتی ہے اس حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ان لوگوں کی خوشحالی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو دراصل اللہ کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے نفع وضرر کو خوب جانتا ہے اس لئے حرام ذرائع سے روپیہ کما کر امیر بننے کی کوشش نہ کرو مبادا یہ ثروت تمہیں دین و دنیا میں رسوا کر دے ، رزق کمانے کے حلال اور جائز ذرائع کو بیشک عقلمندی اور سلیقہ شعاری سے استعمال کرو اگر تمہاری سنجیدہ کوشش کے باوجود تمہاری مالی پریشانی دور نہ ہو تو بہرحال صبر کرو اور پھر صبر کا دامن مضبوطی سے تھام لو اور رحمت خداوندی پر توکل کرو اور جائز اور صحیح محنت میں ذرا برابر بھی سستی نہ کرو اور یقین رکھو کہ وہ اپنے بندوں کے نفع ومصلحت کو خوب جانتا ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ، انسان کو پوری دیانت داری کے ساتھ جس جائز کام میں لگا ہے محنت کرتے جانا چاہئے لیکن کبھی رزق اس کام میں نہیں سمجھنا چاہئے جس کو وہ دیانت وامانت سے کر رہا ہے بلکہ رزق کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے پاس سمجھتے رہنا چاہئے اور رزق حلال کی طلب اللہ تعالیٰ سے کرتے رہنا چاہئے اور پھر جو کچھ ملے اس کو اللہ کی رضا کے مطابق صرف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور کچھ نہ کچھ حصہ اس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ کرتے رہنا چاہئے ۔ قرآن کریم میں قارون کا ذکر آپ پڑھ چکے اور تفصیل اس کی سورة القصص میں آئے گی چناچہ ارشاد الہی ہے کہ ” یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا ایک آدمی تھا پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہو گای اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے کہ ان کی کنجیاں طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی ، ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ پھول نہ جا اللہ تعالیٰ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر ‘ احسان کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر ‘ اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا تو اس نے اس نے کہا یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے ۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے ؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے ، ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ سے نکلا ‘ جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے ، کاش کہ ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے یہ تو بڑے نصیبے والا ہے ، مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے افسوس تمہارے مال پر اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا (تباہ وبرباد کردیا) پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کرسکا ‘ اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے افسوس ! ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہے نپا تلا دیتا ہے ، اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا (تباہ وبرباد کردیتا) افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے ۔ ‘ ؓ اس مضمون کو ہم نے عروۃ الوثقی “ جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 26 میں بیان کردیا ہے وہاں ملاحظہ کریں اور اس کے بعد سورة العنکبوت کی آیت 62 ‘ سورة الروم کی آیت 37 ‘ سورة سبا کی آیت 36 تا 39 ‘ سورة الزمر کی آیت 52 اور سورة الشوری کی آیت 12 میں بھی ملے گا ۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور (لوگو ! ) دیکھو افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو ہلاک نہ کرو ، ہم ہی ہیں کہ انہیں بھی اور تمہیں بھی روزی دیتے ہیں انہیں ہلاک کرنا بڑے ہی گناہ کی بات ہے

منشور اسلامی کی ساتویں شق اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل کرنے کی ممانعت : 41۔ افلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا عربوں کے بعض قبیلون میں موجود تھا اور خصوصا دختر کشی کی وبا عام تھی ، بلاشبہ جزیرہ عرب ایک ایسا ملک تھا جہاں چار سو ریگزار ہی ریگزار پھیلے ہوئے تھے اور معاشی وسائل ان کے پاس بہت کم تھے ، پانی کی قلت اور زمین کی ناہمواری ان کی سب سے بڑی مجبور تھی یہی وجہ تھی کہ مرفہ الحال کا وہاں تصور تک نہ تھا ایسے حالات میں جب کہ اپنا پیٹ بھرنا مشکل تھا وہاں اولاد کی خوراک کا بندوبست کرنا بڑا ہی دشوار تھا اس لئے معاشی خستہ حالی کے باعث ان کے ہاں اولاد کے قتل کرنے کا رواج پایا جاتا تھا اور لڑکیوں کو قتل کرنے کا رویہ تو بہت ہی سنگدلانہ تھا ایک تو وہ انہیں بوجھ سمجھتے تھے اور کچھ غلط قسم کی نخوت نے ان کے دل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اگر وہ کسی کو اپنی لڑکی کا رشتہ دیں گے تو ان کی ناک کٹ جائے گی ان تمام محرکات کے باعث ان میں لڑکیوں کا قتل ایک عام معمول ہوگیا تھا یہ حالت صرف عرب کے بادیہ نشنیوں ہی کی نہ تھی بلکہ کئی دوسری قومیں بھی اپنی اولاد کو اپنے لئے ناقابل برداشت بار گراں تصور کرتی تھیں اور ان سے رہائی حاصل کرنے کے ہر ممکن تدابیر عمل میں لاتی تھیں اور آج بھی یہ ضبط ولادت کی تحریک اٹھی ہوئی ہے وہ یہی کچھ ہے ہمارے اس ملک عزیز میں جس چیز کو خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے وہ کیا ہے ؟ وہ یہی کچھ ہے یعنی اولاد کو قتل کرنا منع حمل کی جتنی تدبیریں کا جا رہی ہیں ایک سے ایک بڑھ کر اسلامی معاشرے کے خلاف ہے کھانے والوں کو گھٹانے والوں کو گھٹانے کی جتنی تدبیریں بھی کی جائیں گی وہ سب تخریبی ہوں گی اور قوم کو سنوارنے کی بجائے بگاڑیں گی ‘ گھٹانے کی بجائے بڑھائیں گی لیکن یہ بات دنیا داروں کے ذہن میں آئے گی نہیں ۔ قوم کے دانش وروں اور علم معاشیات کے جاننے والوں کو ان تخریبی کوششوں کو چھوڑ کر تعمیری مساعی میں اپنی قوتیں اور قابلتیں صرف کرنی چاہئیں اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے مطابق رزق میں افزائش ہوتی ہے یہ انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے کہ وہ بار بار معاشی ذرائع کی تنگی کے اندیشے سے افزائش نسل کا سلسلہ روک دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے اور وہ بھی ان طریقوں سے جو غیر فطری ہیں وہ فطری طریقے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بنائے ہیں ان سے منہ موڑتا ہے اور خود ساختہ طریقوں کی طرف دوڑتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ غیر فطری عمل کا طریقہ کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرسکتا ، عمل برا ہو تو نتیجہ کیسے اچھا نکل سکتا ہے ، اچھا نتیجہ حاصل کرنے کے لئے اچھا عمل کرنا ضروری ہے تارخ کا تجزیہ کرکے دیکھو کہ آج تک مختلف ملکوں میں کمانے والی آبادی جتنی بڑھتی گئی اتنے ہی بلکہ بارہا اس سے بھی زیادہ معاشی ذرائع وسیع ہوتے چلے گئے ۔ کسی گھر کو ابتدائی یونٹ آپ تصور کرلیں اور دیکھیں کہ اس گھر میں جتنے افراد بڑھے اس کے مطابق ان کا رزق بھی بڑھتا چلا گیا اور جتنے افراد گھٹائے گئے اتنی ہی رزق میں بھی کمی آتی چلی گئی ۔ خاندانی منصبوبہ بندی نے ہم کو جو کچھ دیا ہے وہ یہ ہے کہ بےحیائی بڑھی ‘ فحاشی نے جنم لیا ‘ لوگوں کی صحت خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی ، آبادی بجائے کم ہونے کے اور زیادہ بڑھ گئی اس نے عورتوں کی تعداد کو بڑھا دیا ‘ لڑکوں کی ذہانت کو بہت حد تک کم کردیا ‘ انسان کو دن بدن کمزور کار ‘ مختلف بیماریوں کو جنم دیا ‘ ایمان باللہ کو نہایت ہی کمزور کردیا ‘ صبر و تحمل کو ہم سے چھین کر جرائم میں بہت حد تک اضافہ کردیا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر کے معاشرہ کو لعنت الہی کا مستحق کردیا ، یہ اشارات ہیں جو اس جگہ کردیئے گئے ہیں اور پیچھے ہم کرتے آرہے ہیں ان میں سے ایک ایک کا تجزیہ کرتے جاؤ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ ان میں کتنی صداقت ہے اور خاندانی منصوبہ بندی کتنی بڑی حماقت ہے ۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زناکاری کے قریب بھی نہ جاؤ یقین کرو وہ بڑی بےحیائی کی بات اور بڑی ہی برائی کا چلن ہے

زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ یہ بڑی ہی بےحیائی کی بات ہے ۔ 42۔ منشور اسلامی کی ساتویں شق میں زنا کی حرمت بیان کی گئی جس کے حرام ہونے کی دو وجہ بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ وہ بےحیائی ہے اور انسان میں حیا نہ رہی تو وہ انسانیت ہی سے محروم ہوگیا کیونکہ بےحیاء وہی ہے جس میں برے بھلے کی تمیز نہ رہے اس لئے نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا ” اذا فاتک الحیاء فافعل ماشئت “ یعنی جب تیری حیا جاتی رہی تو کسی برائی سے رکاوٹ کا کوئی پردہ نہ رہا تو پھر جو چاہے کرتا رہ اور یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے حیاء کو ایمان کا ایک اہم شعبہ قرار دیا اور فرمایا والحیاء شعبہ من ال ایمان “۔ (بخاری) حیاء ایمان کا حصہ ہے ، دوسری وجہ معاشرتی فساد ہے جو زنا کی وجہ سے اتنا پھیلتا ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں رہتی اور اس کے نتائج بعض اوقات پورے قبیلے اور قوموں کو برباد کردیتے ہیں ، فتنے ‘ چوری ڈاکہ زنی اور قتل و غارت کی جتنی کثرت آج دنیا میں بڑھ گئی ہے اس کے حالات کی اگر تحقیق کی جائے تو آدھے سے زیادہ واقعات کا سبب کوئی عورت ومرد نکلتے ہیں جو اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اس جرم کا تعلق اگرچہ براہ راست حقوق العباد سے نہیں مگر اس جگہ حقوق العباد میں اس کا ذکر کرنا شاید اسی بنا پر ہو کہ یہ جرم بہت سے ایسے جرائم ساتھ لاتا ہے جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہیں اور قتل و غارت کے ہنگامے برپا ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس جرم کو تمام جرائم سے اشد قرار دیا اور اس کی سزا بھی سارے جرائم سے زیادہ سخت رکھتی ہے کیونکہ یہ ایک جرم دوسرے سکڑروں جرائم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمینیں شادی شدہ زناکار پر لعنت کرتی ہیں اور جہنم میں ایسے لوگوں کی شرمگاہوں سے ایسی سخت بدبو آئے گی کی اہل جہنم بھی اس سے پریشان ہوں گے اور آگ کے عذاب کے ساتھ ان کی رسوائی جہنم میں بھی ہوتی رہے گی ، (رواہ البزاء عن بریدہ) ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زنا کرنے والا زنا کے وقت مومن نہیں ہوتا اور اسی طرح چوری کرنے والا چوری کرتے وقت مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا شراب پینے کے وقت مومن نہیں ہوتا ۔ (بخاری ومسلم) زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں قرآن کریم نے ہدایت دی ہے کہ ” زنا کے قریب بھی مت پھٹکو “ اس حکم کے مخاطب افراد بھی ہیں اور اسلامی جماعت کے لوگ بھی اور حکم یہ ہے کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی زنا کرنا تو درکنار جو کام جو باتیں زنا کے قریب لے جاتی ہوں ان سے بھی پرہیز کرو اور اسلامی معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسباب زنا کا سدباب کرے ۔ چناچہ معاشرہ اسلامی نے اس کے سدباب کرے ، چناچہ معاشرہ اسلامی نے اس کے سدباب کے لئے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ سب کچھ کیا ۔ پردہ کے احکامات نافذ کئے ۔ گھروں میں بےاجازت اور بلا جھجھک آنے جانے سے روکا ۔ بلوغت کے بعد مردوں اور عورتوں کا مخلوط رہنا پسند نہ کیا ، مردوں اور عورتوں کو اپنی اپنی راہ چلتے ہوئے نیچی رکھنے کی ہدایت کی ، عورتوں کو اپنے زیور کی چھنکار اور خوشبو کے استعمال سے منع کیا خصوصا جو بھڑکیلی قسم کی اور تیز ہو ۔ انسانی رذائل میں اس کو سرفہرست رکھا ، فحشاء یعنی منکر قرار دیا ‘ اس کی تفصیل ہم سورة النحل کی آیت 90 میں بیان کرچکے ہیں جو اس جلد میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرا دیا ہے جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا) اختیار دے دیا ہے ، پس چاہیے کہ خونریزی میں زیادتی نہ کرے (حق سے زیادہ بدلا نہ لے) اس کی مدد کی جائے گی

ناحق قتل نہ کرو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرا دیا ہے : 43۔ منشور اسلامی کی یہ آٹھویں شق بیان کی جا رہی ہے جو ناحق قتل کی حرمت کے بیان میں ہے جس کا جرم عظیم ہونا دنیا کی ساری ہی جماعتوں ‘ مذہبوں اور فرقوں میں مسلم ہے حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ساری دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مومن کو ناحق قتل کیا جائے اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے لوگ کسی مومن کے قتل ناحق میں شریک ہوجائیں تو ان سب کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کر دے گا ۔ (ابن ماجہ بسند حسن والبیھقی) قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور جس نے ایک مسلمان کو غلطی سے قتل کردیا ہو تو چاہئے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو اس کا خون بہا دے اگر مقتول کے وارث خون بہا معاف کردیں تو کرسکتے ہیں اور اگر مقتول اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور مومن بھی ہے تو چاہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے اور اگر مقتول ان لوگوں سے ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ صلح ہے تو چاہئے کہ قاتل مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی دے اور ایک مسلمان غلام بھی آزاد کرے اور جو کوئی غلام نہ پائے تو اسے چاہئے کہ لگا تار دو مہینے روزے رکھے اس لئے کہ اللہ کی طرف سے یہ توبہ ہے (قاتل کی) اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ‘ حکمت رکھنے والا ہے اور جو مسلمان کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوا اور اس کی پھٹکار پڑی اور اس کے لئے اللہ نے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ “ (النساء : 4 : 92 ‘ 93) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہیں پکارتے ‘ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ‘ قیامت کے روز اس کو مزید عذاب دیا جائے گا اور اس میں وہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا ۔ مگر ہاں ! وہ جو توبہ کرچکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ‘ ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا ۔ وہ بہت ہی بخشنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے ۔ “ (الفرقان 25 : 68 تا 70) حدیث میں ہے کہ : ” عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بڑے گناہوں میں یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا ‘ کسی شخص کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا “۔ (بخاری) ایک حدیث میں ہے کہ : ” ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سات مہلک گناہوں سے بچو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرانا ‘ کسی پر جادو کرنا ‘ ناحق کسی کو قتل کرنا جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرایا ہو ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھا جانا ‘ جہاد میں پیٹھ پھیر کر میدان جنگ سے بھاگ جانا اور مسلمان پارسا عورتوں پر تہمت لگانا ۔ “ (بخاری ومسلم) ایک حدیث میں ہے کہ : ” ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ایماندار ہمیشہ اپنے دین کی طرف سے آسانی میں رہے گا تاوقتیکہ ناجائز اور حرام خونریزی کا مرتکب نہ ہو۔ “ (بخاری) ایک حدیث میں ہے کہ : ” عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” قیامت کے روز سب سے پہلے لوگوں میں خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔ “ (بخاری ومسلم) مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی “ جلد دوم سورة النساء 92 ‘ 93 کی تفسیر ملاحظہ کریں اور سورة مائدہ کی آیت 45 اور سورة البقرہ کی آیت 178 ، 179 جلد اول ملاحظہ کریں ۔ ناحق قتل کئے جانے والے کے ورثاء کو قتل کے بدلے قتل یا خون بہا کا حق ہے : 44۔ ناحق قتل کے بدلے میں قاتل کو قتل کرنے کا حکم سورة البقرہ کی آیت 178 میں بیان کیا گیا ہے مقتول کے ورثاء کو حق ہے کہ وہ حکومت سے اپنے مقتول کے قصاص کا مطالبہ کریں اور حکومت کا حق ہے کہ مقتول کے ورثا کے لئے قاتل کو پکڑ لے اور اس طریقہ سے اس کو قتل کر دے جس طریقہ سے اس نے ایک کو ناحق قتل کیا تھا ہاں اگر مقتول کے ورثا خون بہا پر راضی ہوجائیں تو خون بہا لے سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو قاتل کو معاف بھی کرسکتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ قتل میں اسراف نہ کیا جائے تو اس کی کئی صورتیں ممکن ہیں اور سب کی سب ممنوع ہیں مثلا جوش انتقام میں مجرم کے علاوہ اس خاندان یا پارٹی کے کسی آدمی کو قتل کردینا یا زیادہ کو قتل کرنا ، قاتل کو عذاب دے دے کر مارنا یا مار دینے کے بعد اس کی لاش پر غصہ نکالنا یا خون بہا کے بعد پھر قاتل کو قتل کردینا یا معاف کردینے کے بعد پھر بدلہ لینا وغیرہ ۔ مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ 2 : 178 ، 179۔ جلد دوم سورة النساء 4 : 92 ‘ 93 آیات ملاحظہ کریں ۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جانا ، مگر ہاں ! ایسے طریقہ پر جو بہتر ہو یہاں تک کہ یتیم جوان ہوجائیں اور اپنا عہد پورا کیا کرو ، عہد کے بارے میں تم سے باز پرس کی جائے گی

منشور اسلامی کی نویں اور دسویں شق یتیموں کے مال اور عہد کے پورا کرنے کے متعلق : 45۔ زیر نظر آیت میں منشور اسلامی کی نویں اور دسویں شق بیان کی گئی ہے ، نویں شق میں بےباپ بچوں کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانے کی ممانعت ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان ہے اور دسویں شق میں عہد کی پابندی کو نبھانے کا حکم ہے بےباپ بچے جو باپ کے سایہ محبت سے محروم ہیں جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ ان کی دیکھ بھال کرے اور ان کو آغوش محبت سے ‘ پیار سے ان کی نگرانی و حفاظت کرے اور خصوصا وہ لوگ جو کسی ایسے بچے کے کفیل ونگران مقرر ہوں وہ پوری دیانت وامانت سے اس کی کفالت ونگرانی کریں ، اس کی متروکہ جائیداد کی حفاظت کرتے ہوئے جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کی آزمائش کرے کہ یہ مال کی حفاظت کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ مال کی حفاظت کا اہل ہے تو اس کا مال اس کی طرف لوٹا دے ، پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ خود بھی بےباپ تھے ، آپ ﷺ سے اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے بےباپ بچوں کی حفاظت ونگرانی کے جو احکام دیئے گئے آپ ﷺ نے آپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں نے اس معاملہ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ، عربوں میں روزانہ کی قتل و غارت اور بدامنی کے باعث ایسے بچوں کی کثرت تھی مگر جیسا کہ چاہئے ان کے غور وپرداخت کا سامان نہ تھا وہ اپنے مرحوم والد کی وارثت سے محروم رہتے تھے کیونکہ چھوٹے بچوں کو وہ وراثت نہیں دیا کرتے تھے اور نہ ہی ان سنگ دل عربوں میں عام طور پر ان کے ساتھ رحمت و شفقت کا جذبہ تھا ، قرآن کریم میں ان کی اس بدسلوکی کا ذکربار بار کیا گیا ہے ، چناچہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” ارایت الذی یکذب بالدین فذلک الذی یدع الیتیم “۔ (الماعون 107 : 1 ، 2) کیا تو نے اس کو دیکھا جو انصاف کو جھٹلاتا ہے سو وہی ہے جو یتیم کو دکھے دیتا ہے ۔ ایک اور آیت میں ان متولیوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو یتیموں کے جوان ہوجانے کے ڈر سے انکے باپوں کی متروکہ وراثت کو جلد جلد کھا کر ہضم کر جانا چاہتے ہیں ۔ (آیت) ” کلا بل لا تکرمون الیتیم ولا تحضون علی طعام المسکین وتاکلون التراث اکلا لما وتحبون المال حبا جما “۔ (الفجر 89 : 17 تا 20) ” نہیں یہ بات نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ایک دوسرے کو مسکین کے کھانے پر آمادہ کرتے ہو اور مردے کا مال پورا سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور دنیا کے مال و دولت پر جی بھر کر ریجھتے ہو۔ “ اسلام سے پہلے کے مذاہب میں اس واجب الرحم گروہ کے ساتھ رحم و شفقت اور انکی امداد وپرورش کا ذکر بہت کم ملتا ہے ، تورات میں عشر اور زکوۃ کے مستحقین میں دوسرے لوگوں کے ساتھ یتیم کا نام بھی دو ایک جگہ ملتا ہے کہ شہر کے پھاٹک کے اندر جو یتیم ہوں وہ آئیں اور کھائیں اور سیر ہوں ۔ “ (استثناء 14 : 29 ، 26 ، 12) انجیل نے ان بیچاروں کی کوئی داد رسی نہیں کی ہے اور نہ کسی تعلیم میں ان کا ذکر کیا ہے ۔ اس مظلوم فرقہ کی داد رسی کا وقت اس وقت آیا جب مکہ کا یتیم دین کامل کی شریعت لے کر دنیا میں آیا ۔ وحی الہی نے سب سے پہلے خود اسی کو خطاب کرکے یاد دلا دیا ۔ (آیت) ” الم یجدک یتیما فاوی فاما الیتیم فلا تقھر “۔ (الضحی 93 : 6 اور 9) کیا تجھ کو خدا نے یتیم نہیں پایا تو اس نے پناہ دی پس تو جب یتیم کو دیکھے تو مت ڈانٹ ڈپٹ کر۔ آنحضرت ﷺ جب تک مکہ مکرمہ میں بےبسی کے عالم میں رہے ‘ یتیموں کے متعلق اخلاقی ہداتیں فرماتے رہے اور قریش کے جفا پیشہ رئیسوں کو اس بےکس گروہ پر رحم وکرم کی دعوت دیتے رہے ۔ چناچہ مکی آیتوں میں یہ تعلیمات وحی ہوتی رہیں ‘ دولت مندوں کو غریبوں کے ساتھ فیاضی کی تلقین کے سلسلہ میں فرمایا گیا کہ انسانی زندگی کی گھاٹی کو پار کرنا اصلی کامیابی ہے ۔ اس گھاٹی کو تم کیونکر پار کرسکتے ہو ؟ ظلم وستم کے گرفتاروں کی گردنوں کو چھڑا کر ‘ بھوکوں کو کھلا کر اور یتیموں کی خدمت کر کے ۔ (آیت) ” اواطعام فی یوم ذی مسغبۃ یتیما ذا مقربۃ “۔ (بلد 90 : 14 : 15) یا بھوک والے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھلانا ۔ نیکوں اور نیک بختوں کی تعریف میں فرمایا کہ وہ یہ ہیں جو (آیت) ” ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما “۔ (الدھر 76 : 8) اور اس کی محبت کے ساتھ کھانا کسی غریب اور یتیم کو کھلاتے ہیں ۔ مدینہ میں آنے کے بعد ان اخلاقی ہدایتوں نے قانون کی صورت اختیار کی ۔ سورة نساء میں اس بےکس گروہ کے متعلق خاص احکام آئے ۔ ان کو وراثت کا حق دلایا گیا اور متولی جو جاہلیت میں طرح طرح کی بددیانتی کرتے تھے ان سے کہا گیا ۔ (آیت) ” واتوالیتمی اموالھم ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم انہ کان حوبا کبیرا “۔ (النساء : 4 : 2) اور یتیموں کو ان کے وارثوں کا چھوڑا ہوا مال دے دو اور ان کے اچھے مال کو اپنے برے مال سے بدلا نہ کرو اور نہ اپنے مال کے ساتھ ملا کر ان کا مال کھا جاؤ ، یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔ دولت مند یتیم لڑکیوں کو ان کی جائیداد پر قبضہ کرلینے کی غرض سے متولی اپنے نکاح میں لے آتے تھے اور بےوالی ووارث بنا کر ان کو ستاتے تھے ۔ اس پر حکم آیا ۔ (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النسآء “۔ (النساء : 4 : 3) اگر تم کو ڈر ہے کہ ان یتیم بچیوں کے حق میں انصاف نہ کرسکو گے تو (ان کو چھوڑو اور) عورتوں سے جو تمہیں پسند ہو نکاح کرلو۔ یتیم بچوں کے مال کو بددیانتی اور اسراف سے خرچ بھی نہیں کردینا چاہئے اور نہ جب تک ان کو پورا شعور آئے وہ ان کے سپرد کیا جائے بلکہ ان کے سن رشد کو پہنچنے کے بعد ان کی عقل کو دیکھ بھال کر انکی یہ امانت ان کو واپس کی جائے ، فرمایا : (آیت) ” وَلاَ تُؤْتُواْ السُّفَہَاء أَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّہُ لَکُمْ قِیَاماً وَارْزُقُوہُمْ فِیْہَا وَاکْسُوہُمْ وَقُولُواْ لَہُمْ قَوْلاً مَّعْرُوفاً (5) وَابْتَلُواْ الْیَتَامَی حَتَّیَ إِذَا بَلَغُواْ النِّکَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْہُمْ رُشْداً فَادْفَعُواْ إِلَیْْہِمْ أَمْوَالَہُمْ “۔ (النساء 4 : 5 ، 6) اور بیوقوفوں کو اپنے مال جس کو خدا نے تمہارے قیام کا ذریعہ بنایا ہے نہ پکڑا دو اور ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو ، اور ان سے معقول بات کہو اور ییتموں کو جانچتے رہو جب وہ نکاح کی (طبعی) عمر کو پہنچیں تو ان میں اگر ہوشیاری دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالہ کر دو ۔ ان آیات پاک میں بلاغت کا ایک عجیب نکتہ ہے غور کرو کہ آیت کے شروع میں جہاں متولیوں کو ناسمجھ یتیموں کے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھنے کا حکم ہے وہاں مال کی نسبت متولیوں کی طرف کی ہے کہ تم اپنا مال ان کو نہ دو ۔ اور آیت کے آخر میں جہاں بلوغ اور سن رشد کے بعد متولیوں کو یتیموں کو مال واپس کردینے کا حکم ہے وہاں اس مال کی نسبت یتیموں کی طرف کی گئی کہ ” تم ان کا مال انکو واپس کر دو “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جبتک یہ امانت متولیوں کے پاس رہے تو اس کی ایسی ہی حفاظت ونگہداشت کرنی چاہئے جیسی اپنے مال کی اور جب واپسی کی نوبت آئے تو اس طرح ایک ایک تنکا تک چن کر واپس کیا جائے ‘ جیسا کہ کسی غیر کا مال دیانت کے ساتھ واپس کیا جاتا ہے جس پر تمہارا کوئی حق نہیں ‘ متولیوں کو جو یتیموں کے مال کو اس ڈر سے جلد جلد خرچ کرکے برابر کردیتے تھے کہ یہ بڑے ہو کر تقاضا نہ کریں ۔ اس بدیانتی پر تنبیہہ فرمائی گئی ۔ (آیت) ” ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبروا “۔ (النساء : 4 : 6) اور اڑا کر اور جلدی کرکے ان کا مال نہ کھاجاؤ کہ کہیں یہ بڑے نہ ہوجائیں ۔ صاحب جائیداد ییتموں کے متولی اگر خود کھاتے پیتے ہوں تو انکے لئے ان یتیموں کی جائیداد کی دیکھ بھال اور نگرانی کا معاوضہ قبول کرنا بھی خلاف اخلاق قرار دیا گیا اور اگر تنگ دست ہوں تو منصفانہ معاوضہ لینے کی اجازت دی گئی ۔ (آیت) ” ومن کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف “۔ (النساء : 4 : 6) اور جو (متولی) بےنیاز ہے اس کو چاہئے کہ بچتا رہے اور جو محتاج ہے تو منصفانہ دستور کے مطابق کھائے ۔ اور آخر میں یہ جامع تعلیم دی گئی ۔ (آیت) ” وان تقوموا للیتمی بالقسط “۔ (النساء 4 : 127) اور یہ کہ ییتموں کیلئے انصاف پر قائم رہو۔ سورة انعام میں یہودیوں کی ظاہری شریعت نوازی اور جانوروں کی حلت و حرمت میں بےمعنی جزئیات پرستی اور روحانی گناہوں سے بےپرواہی دکھا کر جن اصلی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کی طرف توجہ دلائی ان میں ایک یہ ہے کہ : (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلغ اشدہ “۔ (الانعام 6 : 152) اور بہتری کی غرض کے سوا یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنی طاقت کی عمر کو پہنچ جائیں ۔ سورة اسراء کے آٹھ اخلاقی اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سوائے بہترین کی نیت اور اصلاح کے خیال کے صاحب جائیداد یتیموں کی جائیداد کے پاس کسی اور غرض سے نہ پھٹکنا چاہئے اور دیانتداری کے ساتھ ہمیشہ اپنا دامن بچائے رکھناچاہئے ۔ یہ تو صاحب جائیداد یتیموں کی نسبت تعلیم ہے جو یتیم غریب ومفلس ہوں ان کی مناسب پرورش اور امداد عام مسلمانوں کا فرض ہے ، چناچہ قرآن پاک نے سورة بقرہ ‘ انساء الانفال اور حشر میں بار بار ان کی پرورش اور ان کے ساتھ نیک سلوک اور احسان کرنے کی ہدایت کی ۔ (آیت) ” والیتمی والمساکین) خیرات وصدقات کے بہترین مصرف قرار دیئے گئے ۔ اپنی اس متواتر وحی کی تشریح میں بےوالی ووارث امت کے سرپرست ﷺ نے اپنی امت کے ان نیک دلوں کو جو بےوالی ووارث یتیموں کے کفیل ہوں خود اپنے برابر جگہ دی ‘ فرمایا ” میں اور کسی یتیم کی کفالت کرنے والا ‘ جنت میں یوں دو انگلیوں کی طرح قریب ہوں گے۔ “ (صحیح بخاری باب فضل من یغول یتیما) یہ بھی فرمایا کہ جو کسی یتیم بچہ کو اپنے گھر بلا کر لائے اور اس کو کھلائے پلائے گا تو اللہ اس کو جنت کی نعمت عطا فرمائے گا بشرطیکہ اس نے کوئی ایسا گناہ نہ کیا ہو جو بخشائش کے لائق نہ ہو ۔ (ترغیب وترھیب منذری ج 2 ، ص 132) نیز ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ ” مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بھلائی کی جارہی ہو اور سب سے بدتر گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو “۔ (ترغیب وترھیب منذری ج 2 : ص 132) آنحضرت ﷺ کی ان تعلیمات نے عرب کی فطرت بدل دی ، وہی جو بےکس وناتواں یتیموں کے لئے پتھر سے زیادہ سخت تھے وہ موم سے زیادہ نرم ہوگئے ۔ ہر صحابی کا گھر ایک یتیم خانہ بن گیا ، ایک ایک ییتم کے لطف و شفقت کیلئے کئی کئی ہاتھ ایک ساتھ بڑھنے لگے اور ہر ایک اس کی پرورش اور کفالت کیلئے اپنے آغوش محبت کو پیش کرنے لگا ۔ (ابو داؤد) بدر کے یتیموں کے مقابلہ میں جگر گوشہ رسول فاطمہ ؓ اپنے دعوی کو اٹھا لیتی ہے (صحیح بخاری باب عمرۃ القضا) حضرت عائشہ ؓ اپنے خاندان اور انصار وغیرہ کی یتیم لڑکیوں کو اپنے گھر لے جا کر دل وجان سے پالتی ہیں ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا یہ حال تھا کہ وہ کسی یتیم بچہ کو ساتھ لئے بغیر کبھی کھانا نہیں کھاتے تھے ۔ (مسند احمد ‘ موطاء امام مالک تذکرۃ الحفاظ ‘ ادب المفرد بخاری) صحابہ نے نے صرف یہی نہیں کیا کہ یتیموں کو انکا حصہ دینے اور انکے مال و دولت کی تولیت اور نگرانی میں دیانتداری برتنے لگے بلکہ ان کی جائیدادوں کی حفاظت میں فیاضی اور سیر چشمی کا پورا ثبوت دیا ، ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی عدالت میں ایک یتیم نے ایک شخص پر ایک نخلستان کے متعلق دعوی پیش کی مگر وہ دعوی ثابت نہ ہوسکا اور آپ ﷺ نے وہ نخلستان مدعاعلیہ کو دلادیا ، وہ یتیم اس پر رو پڑا ‘ آپ ﷺ کو رحم آیا اور مدعا علیہ سے فرمایا کہ تم یہ نخلستان اس کو دے دو ، خدا تم کو اس کے بدلہ جنت دے گا ۔ وہ اس ایثار پر راضی نہ ہوا ۔ ابو الدحداح ؓ حاضر تھے انہوں نے اس شخص سے کہا کیا تم اپنا یہ نخلستان میرے فلاں باغ سے بدلتے ہو اس نے آمادگی ظاہر کی انہوں نے فورا بدل دیا اور وہ نخلستان اپنی طرف سے اس یتیم کو ہبہ کردیا ۔ آج دنیا کے شہر شہر میں یتیم خانے قائم ہیں مگر اگر یہ سوال کیا جائے کیا محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے بھی یہ بدقسمت گروہ اس نعمت سے آشنا تھا تو تاریخ کی زبان سے جواب نفی میں ملے گا ، اسلام پہلا مذہب ہے جس نے اس مظلوم فرقہ کی داد رسی کی ، عرب پہلی سرزمین ہے جہاں کسی یتیم خانہ کی بنیاد پڑی اور اسلام کی حکومت دنیا کی پہلی حکومت ہے جس نے اس ذمہ داری کو محسوس کیا اور عرب ‘ مصر ‘ شام ‘ عراق ‘ ہندوستان جہاں جہاں مسلمانوں نے اپنی حکومتوں کی بنیادیں ڈالیں ساتھ ساتھ ان مظلوموں کے لئے بھی امن و راحت کے گھر بنائے ، ان کے وظیفے مقرر کئے ، مکتب قائم کئے جائیدادیں وقف کیں اور دنیا میں ایک نئے ادارے lnstitution کی طرح ڈالی اور قانون اپنے قاضیوں کا یہ فرض قرار دیا کہ وہ بےوالی و سرپرست یتیموں کے سرپرست ہوں ، ان کی جائیدادوں کی نگرانی ‘ ان کے معاملات کی دیکھ بھال اور ان کی شادی بیاہ کا انتظام کریں اور یہ وہ دستور ہے جس کی پیروی آج یورپ کے ملکوں میں کی جاتی ہے اور لندن کے لارڈ میئر یا آرفس کورٹ کے حکام مسلمان قاضیوں کے ان فرائض کی نقل کرتے ہیں ۔ دسویں شق میں عہد کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے اور عہد کی پابندی کیا ہے ؟ یہی کہ کسی شخص سے جو وعدہ یا کسی قسم کا قول وقرار کرلیا جائے اس کو پورا کرنا ایک راست باز انسان کا شعار ہے اور خود اللہ تعالیٰ اپنے عہد کا پابند ہے اور وہ کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی خلاف ورزی ہونے دیتا ہے اگرچہ ہمارے علماء اس بات کو کفر قرار دیتے ہیں کہ اللہ کو عہد کا پابند کہنا سخت گناہ ہے جو انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے اللہ پابند ہوجاتا ہے جو محتاجی کی ایک صورت ہے اور اس طرح کہنے سے اس کی قدرت کا انکار نکلتا ہے ، حالانکہ یہ ساری بات بالکل فرضی ہے اللہ تعالیٰ کو وعدہ کا پابند کہنے سے نہ اس کی محتاجی کا اظہار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی قدرت کا انکار یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ہمارے کچھ بھائی یہ کہتے ہیں کہ ” اجی اللہ اپنے رسول کو بشر کہے اور رسول بھی اپنے آپ کو بشر کہے تو کہہ سکتا ہے لیکن چونکہ ہم نہ اللہ ہیں اور نہ رسول اس لئے ہم رسول کو بشر نہیں کہہ سکتے اگر ایسا کہیں گے تو یہ کفر ہوگا ۔ “ اللہ اپنے وعدوں کا پابند ہے لیکن اس کو مجبور کرکے کسی نے پابند نہیں کیا بلکہ اس نے خود یہ اعلان فرمایا ہے کہ میں اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کروں گا اور یہ بھی کہ کسی غلط یا برے کام کی قدرت ہونے کے باوجود اس کو نہ کرنا خوب ہے نقص نہیں اور نقص سے اللہ پاک ہے اس لئے اس طرح کہنے سے اس کی قدرت کا مطلق انکار نہیں ہوتا ، یہ خود ناقص العقل لوگوں کی عقل کا نقص ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو علماء کہتے ہوں اور لوگ ان کو علماء مانتے اور سمجھتے ہوں ، مختصر یہ کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت بار بار اعلان فرمایا ہے کہ : (آیت) ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ الرعد 3 : 31) ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ (آیت) ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر 39 : 20) ” اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ (آیت) ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران 3 : 194) ” (اے ہمارے پروردگار) بلاشبہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ (آیت) ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم 30 : 6) ” اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ “ (آیت) ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج 22 : 47) ” اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ ۔ “ (آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : 2 : 80) ” پس اللہ تعالیٰ اپنے قول وقرار کے خلاف نہ کرے گا۔ “ (آیت) ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ 9 : 111) ” اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے ۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے ‘ اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ‘ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول وقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ۔ عام طور پر لوگ عہد کے معنی صرف قول وقرار کے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی نگاہ میں اس کی حقیقت بہت وسیع ہے وہ اخلاق ‘ معاشرت ‘ مذہب اور معاملات کی ان تمام صورتوں پر مشتمل ہے جن کی پابندی انسان پر عقلا شرعا قانونا اور اخلاقا فرض ہے اور اس لحاظ سے یہ مختصر سا لفظ انسان کے بہت سے عقلی ‘ شرعی قانونی اخلاقی اور معاشرتی فضائل کا مجموعہ ہے اسی لئے قرآن مجید میں بار بار اس کا ذکر آیا ہے اور مختلف حیثیتوں سے آیا ہے ، ایک جگہ اصلی نیکی کے اوصاف کے تذکرہ میں ہے ۔ (آیت) ” والموفون بعھدھم اذا عاھدوا “۔ (البقرہ 2 : 177) اور اپنے قول وقرار اور عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ۔ بعض آیتوں میں اس کو کامل ال ایمان مسلمانوں کے مخصوص اوصاف میں شمار کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المومنون 23 : 8) اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔ ایک دوسرے سورة میں جنتی مسلمانوں کے اوصاف کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس کی تصویر کا ایک رخ یہ ہے : (آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدہم راعون “۔ (المعارج 70 : 32) اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں ۔ کسی کی امانت کو رکھ کر بلاکم وکاست ٹھیک وقت پر ادا کردینا ‘ معاملات حیثیت سے ایک قسم کے عہد کی پابندی ہے جو عہد کے وسیع معنی میں داخل ہے ‘ اس لئے پہلے عہد کی اس خاص قسم کا ذکر کیا اور اس کے بعد عہد کا عام ذکر کیا یعنی تاکیدا پہلے ایک خاص عہد کی پابندی کو مسلمانوں کا مخصوص وصف قرار دیا ‘ اس کے بعد عہد کا ذکر کیا یعنی تاکیدا پہلے ایک خاص عہد کی پابندی کو مسلمانوں کا مخصوص وصف قرار دیا ‘ اس کے بعد عہد کی ایک خاص قسم کی پابندی کا حکم دیا کہ : (آیت) ” واوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلک خیر واحسن تاویلا “۔ (بنی اسرائیل 17 : 34 ‘ 35) اور عہد و پورا کرو کیونکہ (قیامت میں) عہد کی باز پرس ہوگی اور جب ناپ کرو تو پیمانہ کو پورا بھر دیا کرو اور (تول کردینا ہو تو) ڈنڈی سیدھی رکھ کر تولا کرو (معاملہ کا) یہ بہتر (طریق ہے) اور (اس کا) انجام بھی اچھا ہے ۔ قانون یارسم و رواج سے جو وزن یا پیمانہ مقرر ہوجاتا ہے ، وہ درحقیقت ایک معاہدہ ہوتا ہے جس کی پابندی بائع اور خریدار پر فرض ہوتی ہے ‘ اس لئے تاکیدا پابندی عہد کے عام حکم کے بعد اس خاص عہد کی پابندی کا ذکر کیا اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد کے لئے زبانی قول وقرار کی ضرورت نہیں بلکہ عرف عام کے سارے مسلمات سوسائٹی کے قول وقرار ہیں۔ تمام عہدوں میں سے سب سے پہلے انسان پر اس عہد کو پورا کرنا واجب ہے جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے ‘ یہ عہد ایک تو وہ فطری معاہدہ ہے جو روز الست کو بندوں نے اپنے خدا سے باندھا اور جس کو پورا کرنا اس کی زندگی کا پہلا فرض ہے اور دوسر وہ عہد ہے جو خدا کا نام لے کر کسی بیعت اور اقرار کی صورت میں کیا گیا ہے ، تیسرا عہد وہ ہے جو عام طور پر قول وقرار کی شکل میں بندوں میں آپس میں ہوا کرتا ہے اور چوتھا عہد وہ ہے جو اہل حقوق کے درمیان فطرتا قائم ہے اور جن کے ادا کرنے کا خدا نے حکم دیا ہے ۔ ارشاد ہے : (آیت) ” الذین یوفون بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ (الرعد 13 : 20 ، 21) جو اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے اور جو خدا نے جن تعلقات کے جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے ہیں ۔ اس آیت میں پہلے اس فطری عہد کے ایفاء کا ذکر ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہے پھر اس قول وقرار کا جو باہم انسانوں میں ہوا کرتا ہے ‘ اس کے بعد اس فطری عہد کا ہے جو خاص کر اہل قرابت کے درمیان قائم ہے ۔ سورة نحل میں اللہ کے عہد کا مقدس نام اس معاہدہ کو بھی دیا گیا ہے جو خدا کو حاضر وناظر بتا کر یا خدا کی قسمیں کھا کھا کر بندے آپس میں کرتے ہیں ، فرمایا : (آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عاھدتم ولا تنقضو ال ایمان بعد توکیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ (النحل 16 : 91) اور اللہ کا نام لے کر جب تم آپس میں ایک دوسرے سے اقرار کرو تو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکی کرکے توڑا نہ کرو اور اللہ کو تم نے اپنے پر ضامن ٹھہرایا ہے ۔ اس معاہدہ کے عموم میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے وہ عہد میں داخل ہیں جو اسلام لاتے وقت انہوں نے رسول اللہ سے کئے اور وہ نیک معاہدے بھی اس کے اندر شامل ہیں جو جاہلیت میں کسی اچھی غرض سے کئے گئے تھے ‘ ساتھ ہی وہ سب معاہدے بھی اس میں آجاتے ہیں جو خدا کا واسطہ دے کر اور خدا کی قسمیں کھاکر بھی مسلمان ایک دوسرے سے کریں ۔ سورة انعام میں ایک اور عہد الہی کے ایفا کی نصیحت کی گئی ہے ، فرمایا : (آیت) ” وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون “۔ (الانعام 6 : 152) اور اللہ کا اقرار پورا کرو ‘ یہ اس نے تم کو نصیحت کردی ہے تاکہ تم دھیان رکھو۔ اس عہد الہی میں خدا کے دو فطری احکام بھی داخل ہیں ‘ جن کے بجا لانے کا اقرار تم نے خدا سے کیا ہے یا خدا نے تم سے لیا ہے اسی طرح اس نذر اور منت کو مشتمل ہے جس کو خدا کے مقدس نام سے تم نے مانا ہے اور انسانوں کے اس باہمی قول وقرار کو بھی شامل ہے جو خدا کی قسمیں کھا کھا کر لوگ کیا کرتے ہیں ۔ صلح حدیبیہ میں مسلمانوں نے کفار سے جو معاہدہ کیا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کارسازی نے یہ موقع بہم پہنچایا کہ فریق مخالف کی قوت روز بروز گھٹتی اور اسلام کی قوت بڑھتی گئی اس حالت میں اس معاہدہ کو توڑ دینا کیا مشکل تھا مگر یہی وہ وقت تھا جس میں مسلمانوں کے مذہبی اخلاق کی آزمائش کی جاسکتی تھی کہ اپنی قوت اور دشمنوں کی کمزوری کے باوجود وہ کہاں تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتے ہیں ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بار بار اس معاہدہ کی استواری اور پابندی کی یاد دلائی اور فرمایا کہ تم اپنی طرف سے کسی حال میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی نہ کرو جن مشرکوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا ان سے لڑنے کی گو اجازت دے دی گئی تھی اور مکہ فتح بھی ہوچکا تھا پھر بھی یہ حکم ہوا کہ انکو چار مہینوں کی مہلت دو ۔ (آیت) ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فسیحوا فی الارض اربۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “۔ (التوبہ 9 : 1) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو پورا جواب ہے جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا تو پھر لو (تم اے مشرکو) ملک میں چار مہینے اور یقین مانو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے ۔ آگے چل کر جب یہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ان مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان کسی قسم کے معاہدہ کی ذمہ داری نہیں رہی تو ساتھ ہی ان مشرکوں کے ساتھ ایفائے عہد کی تاکید کی گئی جنہوں نے حدیبیہ کے معاہدہ کی حرمت کو قائم رکھا تھا فرمایا : (آیت) ” الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ 9 : 4) مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے تم سے کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کو مدد دی تو ان سے ان کے عہد کو ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو ‘ بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں تقوی والے ۔ اور ان مشرکوں کے ساتھ اس ایفائے عہد کو اللہ تعالیٰ تقوی بتاتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کریں ان کو متقی فرمایا اور ان سے اپنی محبت اور خوشی کا اظہار فرمایا آگے بڑھ کر ان مشرکوں سے اپنی براءت کا اعلان کرتے وقت جنہوں نے اس معاہدہ کو توڑا تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پھر تاکید فرماتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جوش میں ان عہد شکن مشرکوں کے ساتھ ان مشرکوں کے ساتھی بھی خلاف ورزی کی جائے جنہوں نے اس معاہدہ کو قائم رکھا ہے ۔ (آیت) ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین “۔ (التوبہ 9 : 7) مشرکوں کے لئے ان کے پاس اور اس کے لئے رسول کے پاس کوئی عہد ہو ‘ مگر وہ جن سے تم نے مسجد حرام کے نزدیک معاہدہ کیا جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو تقوی والے پسند آتے ہیں ۔ سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی اس عہد کو پورا کرتے رہو اور جو لوگ اپنے عہد کو اس احتیاط سے پورا کریں ان کا شمار تقوی والوں میں ہے جو قرآن پاک کے محاورہ میں تعریف کا نہایت اہم لفظ ہے اور تقوی والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضامندی کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ معاہدہ کا ایفا اللہ تعالیٰ کی خوشی اور پیار کا موجب ہے اور یہ وہ آخری انعام ہے جو کسی نیک کام پر بارگاہ الہی سے استعمال کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ : 5 : 1) مسلمانو ! (اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ (عقد) کے لفظی معنی گرہ اور گرہ لگانے کے ہیں اور اس سے مقصود لین دین اور معاملات کی باہمی پابندیوں کی گرہ ہے اور اصطلاح شرعی میں یہ لفظ معاملات کی ہر قسم کو شامل ہے چناچہ امام رازی تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں ” اوفوا بالعھد “۔ خداوند تعالیٰ کے اس قول کے مشابہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود “۔ اور اس قول میں تمام عقد مثلا عقد بیع ‘ عقد شرکت ‘ عقد یمین ‘ عقد نذر ‘ عقد صلح ‘ اور عقد نکاح داخل ہیں ، خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کا اقتضاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو عقد اور جو عہد قرار پایا جائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد 2 ص 505) لیکن (عقد) کا لفظ جیسا کہ کہا گیا صرف معاملات سے تعلق رکھتا ہے اور عہد کا لفظ اس سے بہت زیادہ عام ہے یہاں تک کہ تعلقات کو اس ہمواری کے ساتھ قائم رکھنا جس کی توقع ایک دوسرے سے ایک دو دفعہ ملنے جلنے سے ہوجاتی ہے حسن عہد میں داخل ہے ، صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھ کو حضرت خدیجہ ؓ سے زیادہ کسی عورت پر رشک نہیں آیا ‘ میرے نکاح سے تین سال پیشتر انکا انتقال ہوچکا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ ان کا ذکر کیا کرتے تھے اور بکری ذبح کرتے تھے تو اس کا گوشت ان کی سہیلیوں کے پاس ہدیتا بھیجا کرتے تھے یعنی حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیون کے ساتھ وہی سلوک قائم رکھا جو ان کی زندگی میں جاری تھا ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الادب میں ایک باب باندھا ہے جس کی سرخی یہ ہے ” حسن العھد من ال ایمان “ اور اس باب کے تحت میں اسی حدیث کا ذکر کیا ہے ۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں حاکم اور بیہقی کے حوالہ سے یہ روایت کیا ہے کہ ” ایک بڑھیا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ تم کیسی رہیں ‘ تمہارا کیا حال ہے ‘ ہمارے بعد تمہارا کیا حال رہا ؟ اس نے کہا اچھا حال رہا ۔ جب وہ چلی گئی تو حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ آپ ﷺ نے اس بڑھیا کی طرف اس قدر توجہ فرمائی ؟ فرمایا عائشہ ‘ یہ خدیجہ کے زمانہ میں ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور حسن عہد ایمان سے ہے ۔ “ یعنی اپنے ملنے جلنے والوں سے حسب توقع یکساں سلوک قائم رکھنا ایمان کی نشانی ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی ایک مشہور حدیث میں فرمایا ہے اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ہر خطبہ میں اس کو ضرور فرمایا کرتے تھے : لا دین لمن لا عھد لہ “۔ (احمد طبرانی وابن حبان) جس میں عہد نہیں اس میں دین نہیں۔ یعنی اس قول وقرار کو جو بندہ خدا سے کرتا ہے یا بندہ بندہ سرے کرتا ہے پورا کرنا حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنا ہے جس کے مجموعہ کا نام دین ہے ‘ اب اس عہد کو پورا نہیں کرتا وہ دین کی روح سے محروم ہے۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب کوئی چیز ماپو تو پیمانہ بھرپور رکھا کرو اور جب تولو تو درست ترازو سے تولو یہ بہتر طریقہ ہے اور اچھا انجام لانے والا ہے

ماپ اور تول کے پیمانے درست رکھنے اور پورا ماپنے اور تولنے کا حکم : 46۔ ماپ تول میں کمی بیشی کا اسلام میں سختی سے نوٹس لیا گیا اور کم تولنے یا کم ماپنے کو معاشرہ اسلام میں جرم قرار دیا گیا کم تولنے اور کم ماپنے کی بات تو عام طور پر سمجھ میں آجاتی ہے لیکن زیادہ تولنے اور زیادہ ماپنے کی صورت کیا ہے ؟ دینے والا جب دیتا ہے تو اس کی کوشش ہوسکتی ہے کہ کم ماپے اور کم تولے تو جب اس کے لینے کا وقت آئے گا تو وہ یہ بھی کوشش کرے گا کہ زیادہ ماپے اور زیادہ تولے پھر تول میں کمی یا بیشی کرنے والے اس طرح نہیں کرتے کہ دیکھنے والے ان کو کم ماپتے یا تولتے دیکھ لیتے ہیں ، نہیں یہ ان کا فن ہوتا ہے کہ تولتے وقت معلوم ہوتا ہے کہ دینے والے کو جھکتا دے رہے ہیں لیکن وہی وزن کوئی دوسرا کرے تو وہ پورا بھی نہیں ہوتا اس طرح جب وہ لین گے تو دیکھنے والا دیکھے گا کہ پورا تول ہے لیکن جب اس وزن کو کوئی دوسرا کرے گا تو وہ زیادہ نکلے گا اور یہ بھی کہ ماپ تول کردینے کے باٹ اور آلات الگ الگ رکھتے ہیں لینے کے باٹ اور آلات بڑے اور دینے کے باٹ اور آلات چھوٹے رکھے جاتے ہیں ۔ چوری کی عام قسم تو وہی ہے جس کو سرقہ کہتے ہیں اور جس کی پاداش میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم شریعت نے دیا ہے اور جس کی برائی ہر مذہب اور اخلاقی مسلک نے یکساں کی ہے لیکن اسلام کی تکمیل تعلیم یہ ہے کہ اس نے ان نازک سے نازک ناجائز معاملوں کی بھی جن کو عام طور سے چوری نہیں سمجھا جاتا تشریح کی اور ان کی برائیوں کی تشہیر کی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی عملی تعلیم سے ان کی اہمیت کو ظاہر کردیا ہے اور پھر ان سے بچنے کی تاکیدفرمائی ہے اس سلسلہ میں سب سے اہم چیز ماپ تول میں کمی بیشی ہے جس سے ہر شخص کو ہر وقت کام پڑتا ہے اور جس میں خاص طور سے تاجر اور بیوپاری مبتلا رہتے ہیں اور جس سے سب سے زیادہ غریب عوام کو نقصان پہنچتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے فطری قوانین میں سے ایک بڑا قانون عدل ہے جس کا منشاء یہ ہے کہ جس کی جو چیز ہو وہ اس کو دے دی جائے یہی وہ میزان یا ترازو ہے جسے اللہ نے دنیا میں قائم کیا ہے اور جس سے تول تول کر ہر شخص کو اس کا حق دینا چاہئے جو شخص دوسرے کا جو حق ہے اس کو نہیں دیتا یا دینے میں کمی کرتا ہے وہ اس ترازو سے کام نہیں لیتا چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : (آیت) ” والسمآء رفعھا ووضع المیزان الا تطغوا فی المیزان واقیمو الوزن بالقسط ولا تخسروالمیزان “۔ (الرحمن 55 : 7 تا 9) اور آسمان کو اونچا کیا اور ترازو رکھی کہ مت زیادتی کرو ، ترازو میں اور انصاف کے ساتھ سیدھی ترازو تولو اور مت گھٹاؤ تول ۔ اس ترازو سے انسان کا ہر قول وفعل تلتا ہے اور اس کی برابری سے عالم کا نظام قائم رہتا ہے ۔ ناپ تول میں کمی بیشی کرنا حقیقت میں دوسرے کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے جو کوئی لینے میں تول کو بڑھاتا اور دینے میں گھٹاتا ہے وہ دوسرے کی چیز پر بےایمانی سے قبضہ کرتا ہے اور یہ بھی چوری ہی ہے اس لئے قرآن پاک میں اس سے بچنے کی خاص طور پر تاکیدیں آئی ہیں ‘ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم سوداگری کرتی تھی ، اسی لئے ان کی دعوت میں ناپ تول میں ایمان داری کی تاکید بار بار کی گئی ہے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) سمجھاتے ہیں : (آیت) ” اوفوا الکیل ولا تکونوا من المخسرین وزنوا بالقسطاس المستقیم ولا تبخسوالناس اشیآء ھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین “۔ (الشعراء : 26 : 181 تا 183) اور پورا بھردو ناپ اور نہ ہو نقصان دینے والے اور تولو سیدھی ترازو سے اور مت گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت پھرو ملک میں فساد پھیلاتے ۔ یہی حضرت شعیب (علیہ السلام) مدین والوں کو سمجھا کر کہتے جو مشرق ومغرب کے تجارتی قافلوں کے راہ گزر میں آباد تھے : (آیت) ” ولا تنقصوا المکیال والمیزان انی اراکم بخیر وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط ویقوم اوفوالمکیال والمیزان بالقسط ولا تبخسوالناس اشیآء ھم ولا تعشوا فی الارض مفسدین “۔ (ھود 11 : 84 ، 85) اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو ‘ میں تم کو آسودگی میں دیکھتا ہوں اور گھیر لینے والے دن کی آفت کو تم پر ڈرتا ہوں اور میرے لوگو ! ناپ اور تول کو انصاف سے پورا کرو اور لوگوں کی چیزیں ان کو گھٹا کر مت دو اور ملک میں فساد پھیلاتے مت پھرو۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ ناپ اور تول کی بےایمانی سے خیر و برکت جاتی رہتی ہے یا ظاہری نظر سے دیکھئے تو یوں کہئے کہ بازار میں ایسے لوگوں کی جو ناپ تول میں کمی بیشی کرتے ہیں ساکھ جاتی رہتی ہے اور یہ بالآخر ان کی بیوپار کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے ‘ یہ چاہتے تو ہیں کہ اس بےایمانی سے کچھ اپنا سرمایہ اور نفع بڑھا لیں گے مگر ہوتا یہ ہے کہ ان کی یہ اخلاقی برائی انکی اقتصادی اور معاشی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہی نصیحت پھر سورة الاعراف میں دہرائی گئی ہے : (آیت) ” فاوفوا الکیل والمیزان ولا تبخسوالناس اشیآء ھم ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا ذالکم خیر لکم ان کنتم مؤمنین “۔ (الاعراف 7 : 85) تو ناپ اور تول پوری کرو اور مت گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد خرابی مت ڈالو ‘ یہ تمہارے لئے بھلا ہے اگر تم کو یقین ہے ۔ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہ پرانی تعلیم پھر زندہ ہوئی ، اسلام میں جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا گیا ہے ۔ اس کے بعد ہے : (آیت) ” واوفوالکیل والمیزان “۔ (الانعام : 6 : 152) ا سورة بنی اسرائیل میں جو اخلاقی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے : (آیت) ” واوفوالکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلک خیر واحسن تاویلا “۔ (الاسراء 17 : 35) اور جب تم ناپو تو ناپ پورا بھر دو اور سیدھی ترازو سے تولو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام اچھا ہے ۔ آیت کا آخری ٹکڑا بتاتا ہے کہ بےایمانی کی ناپ تول کو شروع میں کتنا ہی فائدہ پہنچائے مگر آخر کار وہ بیوپار کی تباہی کا باعث ہو کر رہتی ہے ۔ خوب غور کر کے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس بداخلاقی کے پیدا کا اصلی سبب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں سے یہ یقین گم ہوجاتا ہے کہ ان کے اس چھپے ہوئے کرتوت کی دیکھنے والی آنکھیں ہر طرف کھلی ہیں اور ایک دن آئے گا جب ان کو خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے ہر کام کا حساب دینا ہوگا ۔ سورة مطففین میں جہاں اس بداخلاقی کی ممانعت کی گئی ہے اس بیماری کا یہ علاج بھی بتایا گیا ہے ، فرمایا : (آیت) ” ویل للمطففین الذین اذا اکتالوا علی الناس یستوفون واذا کالوھم اوزنوھم یخسرون الایظن اولئک انھم مبعوثون لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العلمین “۔ (التطفیف 83 : 1 تا 6) خرابی ہے اس گھٹا کردینے والوں کی جو اوروں سے جب ناپ کرلیں تو پورا لیں اور جب انکو نباپ کر یا تول کردیں تو گھٹا کردیں ‘ کیا ان کو یہ خیال نہیں کہ ایک بڑے بھاری دن کے لئے ان کو اٹھایا جائے گا جس دن سب لوگ دنیا کے مالک کے لئے کھڑے ہوں گے ۔ اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے ہیں ماپ اور تول میں کمی بیشی کی بیماری عام ہے اور اس فن میں لوگوں نے انتی مہارت اختیار کرلی ہے کہ شاید ہی کسی زمانہ میں اس فن میں کبھی اتنی ترقی ہوئی ہو ۔ قرآن کریم نے شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا خصوصا ذکر فرمایا ہے لیکن ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں ایسے طریقے جو لوگوں نے آج ایجاد کئے ہیں ایسے اس وقت یقینا نہیں تھے اور خصوصا یہ کہ اس بیماری کو کچھ لوگوں نے اس وقت بھی برا کہا لیکن آج اس فن کو کوئی برا کہنے والا بھی نظر نہیں آتا ، مجمل طور پر کم تولنے اور ماپنے کی برائی کو اگرچہ برا کہا جاتا ہے لیکن اس فن کو کوئی برا کہنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ مثلا آج کل ہمارے میں ماپ کے آلات اور تول کے باٹ تبدیل ہوئے تقریبا تیس سال ہونے کو ہیں آج کسی بھی شہر یا دیہات میں چلے جائیے تو دکاندار میڑ کی بجائے گز سے دے گا ، لیتے وقت میٹر اور دیتے وقت گز لیتے وقت کلو اور دیتے وقت سیر عام چلتا ہے ، چھٹانک ‘ آدھ پاؤ ‘ پاؤ کے نام عام ہیں اور اس کے لئے دکانداروں نے عمدا یہ نام جاری رکھے ہیں اور وہ باٹ بھی پچاس گرام کو چھٹانک ، سوگرام کو آدھ پاؤ اور دو سو گرام کو پاؤ کہیں گے جب دین گے لیکن وہی تاجر جب لیں گے تو میٹر اور کلو گرام سے لیں گے ، ہمارے رواج میں ایک معروف طریقہ ہے کہ کھل ایک بوری بنولہ ایک بوری ، کھاد ایک بوری ، گھی ایک کنستر ، گھی ایک ڈبہ وغیرہ لیکن بوری ‘ کنستر ‘ ڈبہ کے نام معروف رہیں گے اور ان کے اوزان وقتا فوقتا کم ہوتے رہیں گے ، قیمت بڑھے گی کس کی بوری کی ‘ کنستر کی ‘ ڈبہ کی قیمت کے ساتھ ساتھ ان کے اوزان بھی کم کرتے رہیں گے ، چھوٹے تاجر جب بڑے تاجروں کے پاس جائیں گے تو بول دیں گے کہ ہزار بوری کھل بھرنی 39 کلو جب کہ معروف طریقہ پر اس کا وزن ایک من ہوگا یہ ایک مثال ہے اسی طرح ہزار بوری کے پیچھے پچیس پوری اس نے بچائی اور یہ اس کا ایک فن ہے منافع اس کے علاوہ ہے ، ایک تاجر نے ہزار تھان کپڑا خریدا وہ تھان 20 میڑ کا تھا گویا اس نے بیس ہزار میٹر کپڑا خریدا اور گز کے ساتھ دیتے وقت اس نے دس میٹر کے 11 گیارہ گز بنائے گویا بیس ہزار میٹر میں سے دو ہزار گز کپڑا اس نے بچایا یہ اس کا فن ہے اور منافع اس کے علاوہ ہے ، یہ ایک مثال ہے جو ہزاروں اشیاء میں چسپاں ہوگی لیکن اس کو کوئی شخص کم ماپ تول میں نہیں لائے گا اور نہ ہی یہ بات کسی کے دھیان میں جائے گی ، اسلامی قانون کی یہ گیارہویں شق ہے اور اس میں اس قدر اصلاح کی ضرورت ہے کہ شاید ہی کسی دوسری شق میں اتنی اہم ضرورت ہے اور اس میں اتنی وسعت ہے کہ شاید ہی کوئی ہوگا جو اس کی زد میں نہ آتا ہو ۔