Ayah 17:41قرآن کریم میں درس توحید کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے لیکن ان پر اثر الٹا ہی ہوا۔
54۔ قرآن کریم کی کوئی سورت اور کوئی صفحہ ایسا نہیں ہے جس میں توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل نہ دیئے گئے ہوں اور پھر بات کو ذہن نشین کرانے کے لئے مختلف مثالوں ‘ ضرب المثلوں ‘ محاوروں اور استعاروں سے کام لیا گیا ہے اور توحید کی تکرار سے قرآن کریم لبریز ہے تاکہ بات ان کے ذہن نشین ہوجائے لیکن مشرکین کا حال یہ ہے کہ ان کی ضد اور کج فہمی میں کچھ مزید اضافہ ہی ہوا ہے اور ان کی الٹی نفرت ہی بڑھی ہے اس کو کہتے ہیں کہ ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔ “
آپ ذرا غور کریں کہ ہم نے قرآن کریم میں جو دلائل توحید کو مختلف اسلوبوں اور متعدد پیرایوں میں بیان کیا ہے تاکہ ہر طبیعت اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق اس سے استفاد کرسکے دیکھو ‘ کہیں رحمت کا وعدہ اور کہیں قہر و عذاب کی وعید ‘ کہیں بشارتیں اور کہیں دھمکیاں ‘ کہیں نیک لوگوں کی کامیاب زندگیوں کا تذکرہ اور کہیں نافرمان افراد اور سرکش اقوام کے ہولناک انجام کا بیان لیکن ان ساری باتوں کے باوجود جنہوں نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ رکھی ہے وہ قریب آنے کی بجائے اور زیاد دور بھاگے چلے جارے ہیں ۔
Ayah 17:42اللہ کے ساتھ معبود ہوتے تو سب معبودوں کی طرف سے بھاگ کر لوگ اللہ کی طرف بڑھتے :
55۔ زیر نظر آیت کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں اور توحید الہی ہی کا سبق ان آیات کریمات میں دیا جارہا ہے ، ایک مفہوم یہ کہ یہ لوگ اللہ وحدہ کا نام سن کر خوش نہیں اور اس کے ساتھ اور خداؤں کو مان کر بہت خوش ہیں اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگر اس کائنات میں ایک سے زیادہ معبود ہوتے اور ہر معبود ان سے اپنی بندگی کراتا تو ان کو سمجھ آجاتی کیونکہ دو آقاؤں کا غلام مشکل میں پھنس کر رہ جاتا ہے تو دو یا دو سے زیادہ خداؤں کے بندہ کا کیا حال ہوتا ؟ اس طرح انکی اپنی حالت یہ بتا رہی ہے کہ یہ ایک ہی خدائے رحمن کے بندے ہیں تب ہی تو یہ اپنے حال میں مست ہیں اور باتیں بنا رہے ہیں اگر اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو انکی یہ ساری مستی ہوا ہوجاتی اور مدت سے انکی تکا بوٹی ہوچکا ہوتا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک اللہ کے سوا اور معبود بھی ہوتے تو دو معبود آپس میں مل کر صاحب عرش کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے اس لئے کہ کبھی نہ کبھی ان کی رائے اللہ تعالیٰ سے ضرور ٹکراتی اور وہ انتہائی کوشش کرتے کہ اپنی خدائی کی لاج رکھنے کے لئے آپس میں مل کر ایک متحدہ محاذ بناتے اور عرش کے مالک پر چڑھائی کردیتے اور کوشش کرتے کہ اس کو مغلوب کردیں تاکہ وہ انکی مخالفت نہ کرسکے ، حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا اور ایسا نہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ رب ذوالجلال والاکرام وحدہ لا شریک لہ ہے اور وہ تمہارے وہمی معبود کہیں چھپے بیٹھے نہیں ہیں اگر ہیں تو ان کی قوت و شوکت کا کوئی ایک مظاہرہ ہی دکھا دو اور اگر نہیں دکھا سکتے تو پھر ایسے بےبسوں کو اپنا خدا تسلیم کرنا کتنی نادانی اور لغویت ہے کیا تم حقیقت سمجھنا نہیں چاہتے یا سمجھ بوجھ کر شرارتا ایسا کر رہے ہو ؟ سوہ الانبیآء 21 : 22 ، اور سورة المؤمنون 23 : 9 میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے غور کرو کہ جس کائنات میں گیہوں کا ایک دانہ اور گھاس کا ایک پتہ اور تنکا بھی اس وقت تک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا جب تک کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں مل کر اس کے لئے کام نہ کریں اس کے متعلق صرف ایک انتہاء درجے کا جاہل اور کند ذہن آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ اس کی فرمانروائی ایک سے زیادہ مختار یا نیم خود مختار خدا کر رہے ہوں گے ورنہ جس شخص نے کچھ بھی اس نظام کے مزاج اور طبیعت کو سمجھنے کی کوشش کی ہو وہ تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ خدائی اور الوہیت صرف اور صرف ایک ہی الہ کی ہے اور اس کے ساتھ کسی درجے میں بھی کسی اور کے شریک ہونے کا قطعی امکان نہیں ہے ، کتنی عام فہم بات ہے جس کے سمجھنے سے یہ لوگ قاصر ہیں ۔
Ayah 17:43اللہ رب العزت ان کے وہمی مفروضوں سے بہت بلند وبالا ہے :
56۔ قرآن کریم کی آیات ‘ جاہلیت کے اشعار ‘ اسلام سے پہلے عربوں کے حالات وواقعات بلکہ عرب کے آثار قدیمہ کے کتبات سے یہ واضح طور پر ثابت ہے کہ عربوں کے ذہن میں ایک بالا تر ہستی کا تخیل ضرور موجود تھا جس کا نام ان کے ہاں ” اللہ “ تھا مگر اللہ کیا ہے ؟ کیسا ہے ؟ اس کی صفات کیا ہیں ؟ اس کی طرف کیا کیا باتیں منسوب کی جاسکتی ہیں ؟ کن کن باتوں سے وہ پاک ہے ؟ اس کے ہاں دعا کس طرح کرنی چاہئے ، اگر کی جاسکتی ہے تو کیونکر کی جاسکتی ہے ؟ اس سے محبت کرنے کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی قدرت کہاں تک ہے ؟ اس کے علم کی حیثیت کیا ہے ؟ کیا وہ ہم سے دور ہے یا قریب ہے ؟ اگر قریب ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتا ؟ اس کے تقدس ‘ بڑائی اور عظمت کی کوئی حد ہے ؟ اس پر ہم توکل وبھروسہ کریں تو کیونکر کریں ؟ کیا وہ انسانوں سے کلام بھی کرتا ہے ؟ کیا اس کے کچھ احکام بھی ہیں ؟ اور وہ احکام ہم پر واجب الاطاعت بھی ہیں ؟ وہ کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کن سے ناخوش ہوتا ہے ؟ وہ جن باتوں سے ناخوش ہوتا ہے انسانوں کو کیونکر کرنے دیتا ہے ؟ کیا وہ ہمارے دلوں میں چھپے رازوں سے بھی واقف ہے ؟ کیا اس کی اجازت کے بغیر زمین کا ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا ؟ اس کی مشیت اور ارادہ کیوں کر آسمانوں سے زمین تک ہرچیز کو محیط ہے ؟ کیا اس کے بنائے ہوئے قاعدے اور قانون بھی ہیں ؟ انسانوں کی تعلیم اور اصلاح کے لئے پیغمبروں کو بھی مبعوث کرتا ہے ؟ کیا ہم اس کی بارگاہ میں اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں ؟ ہم سے وہ کیوں اور کیسے ہماری اعمال کا مواخذہ کرے گا ؟ یہ اور اس طرح کے بیسیوں سوالات ہیں جن سے عرب جاہلیت کا دل و دماغ بالکل عاری اور خالی تھا اور اس کے متعلق ان کے ذہن میں کوئی تخیل نہ تھا ، وہ جو چاہتے تھے اس کی طرف منسوب کردیتے تھے ، عرب جاہلیت کا ایک ایک حرف پڑھتے جاؤ اور ایک ایک کام دیکھتے جاؤ جو وہ کرتے تھے ان کے مذہب اور اعتقادات کا مطالعہ کرو اس سے زیادہ کچھ نہ پاؤ گے کہ اللہ ایک طاقتور اعلی ہستی ہے جس نے سب کو پیدا کیا ہے اور اس کے کچھ پیارے ہیں جن کی وساطت سے وہ بندوں کی دعائیں منظور کرتا ہے مصیبتوں اور بلاؤں میں اس کو بلاوسطہ یا واسطہ کے ساتھ پکارنا چاہئے ۔
نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنی زبانی تعلیمات سے ان کو اللہ تعالیٰ کی حقیقی عظمت سے آشنا کیا ، اس کی دعوت اور بےمثالی سے ان کو باخبر کیا ‘ اس کی مشیت و ارادہ اور قدرت ووسعت سے آگاہ کیا ، ایک ایسی ہستی کے اعتقاد کی انکو تعلیم دی جس کی قدرت بےانتہا ، جس کی وسعت محدود ہے ‘ جس کی مشیت کائنات کے ہر ذرہ میں نافذ ہے اور ان کو مذکورہ سوالات اور اس سے بہت بڑے بڑے سوالات کے ایسے جواب دیئے جو رہتی دنیا تک کے سارے سوالوں کے جواب ہو سکتے ہیں ، ان کو بتایا کہ اللہ وہ ذات ہے جس کے علم کے احاطہ میں اندھیرے اور اجالے کی ہرچیز داخل ہے ، دلوں کے اسرار اور زبانوں کے الفاظ اور ہاتھ پاؤں کے اعمال سب کے سب ہر لحظہ اور ہر لمحہ اس کے روبرو ہیں اس کے سامنے انسان اپنے ہر عمل سے جواب دہ ہیں ، اس کے مواخذہ کا خوف اور اس کی رحمت کی امید ہے ، مختصر یہ کہ ان کو صاف صاف وار واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ انسانوں کے وہم و گمان سے بالاتر ہے کوئی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی اور کوئی ہاتھ اس کو چھو نہیں سکتا ، اس کا نظام اس کی پہچان ہے وہ محبوب ازل ہے ۔ اس کی محبت کا نشہ ہمارے دلوں کی ہوشیاری ہے ۔ اس کے فضل و کرم اور لطف و محبت کی تیرنیاں اوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی ہیں ، اس کی قوت ہر قوت پر غالب ہے اور اس کا حکم ہر حکم سے بالاتر ہے ، اس کی تسبیح و عبادت ہر مخلوق پر فرض ہے اور اس کی اطاعت ہر مکلف پر واجب ہے ‘ وہ ہر عیب سے پاک ومنزہ ہے ، ساری ستائشیں اسی کے لئے ہیں ، اس نے انسانوں کو اپنی یاد دلانے کے لئے رسولوں کا سلسلہ جاری کیا اور انسانیت کے بلوغ کے بعد اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی اعظم وآخر ﷺ بنا کر اس سلسلہ کو ختم کردیا ، وہ ہر اندھیرے کی روشنی ہے ۔ وہ بھوکوں کی سیری ‘ مایوسوں کی امید ‘ زخمیوں کا مرہم ‘ بےقراروں کی تسلی ‘ بےکسوں کا سہارا ہے وہ ہم سے ہماری گردن کی رگ سے بھی قریب تر ہے ہم اس کو جب پکاریں وہ سنتا ہے ، وہ نیکیوں کو پسند کرتا ہے اور گناہوں سے نفرت کرتا ہے ، وہ وہی ہے جس نے اس پورے نظام دنیا کو بنایا اور چلایا ہوا ہے اور جب چاہے گا اس کو ختم کر دے گا ، انسانوں کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اس نظام کو درہم برہم کرنے کے بعد وہ لوگوں کے اعمال کے نتیجہ کے مطابق دارالآخرت میں مقام ادا کرے گا ۔ اس کی یاد ہمارے دلوں کی راحت ہے جو اس دنیا اور اس دارالآخرت میں ہمارا سہارا ہے ۔ (آیت) ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “۔ اس کا فرمان ہے ۔
Ayah 17:44ساتوں آسمانوں میں بھی مخلوق موجود ہے جیسے زمین میں ہے جو اللہ کی تسبیح خواں ہے :
57۔ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان ساتوں آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اسی کی تسبیح کرتا ہے اس لئے کہ کسی چیز کا موجود ہونا خواں وہ کوئی ہے اور کون ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح خواں ہونا ہے اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے حتی کہ مجسمہ برائی شیطان بھی اس کی مخلوق ہے گویا انسان ‘ جنات ‘ حیوانات ‘ نباتات و جمادات سب اس میں آگئے ۔ تسبیح کیا ہے ؟ (تسبیح) بروزن (تفعیل) مصدر ہے ، تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ اور اس کی پاکیزگی بیان کرنا جو (سبح) سے ماخوذ ہے جس کے معنی پانی یا ہوا میں تیز گزرنے کے ہیں اس لحاظ سے تسبیح کے اصل معنی ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں تیز روی کرنا اور بسرعت مصروف ہوجانا ، عربی زبان میں جس طرح ” ایعاد “ کا لفظ شر کے لئے استعمال ہوتا ہے تسبیح خیر کے لئے مستعمل ہے جو قول ہو یا فعل یا نیت تسبیح کا لفظ سب پر حاوی ہے اور سب عبادات کے لئے عام ہے (تسبح) وہ تسبیح کرتی ہے ۔ وہ پاکیزگی بیان کرتی ہے ۔ مضاعر کا صیغہ واحد مؤنث غائب ، ساتوں آسمان (والارض مثلھن) ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ آسمانوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو چلتی پھرتی ہے اور جس کو اس دنیا کی مخلوق کے ساتھ ملا دینے کا وعدہ الہی قرآن کریم میں موجود ہے ، وہ کب ملے گی اور کیسے ملے گی اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور وہی جانتا ہے ، ہاں یہ یقینی بات ہے کہ اس حقیقت کو ضرور کھلنا ہے اور اس چیز کو علم کی روشنی میں آنا ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” ومن ایتہ خلق السموات والارض وما بث فیھا من دآبۃ وھو علی جمعھم اذا یشآء قدیر “۔ (الشوری 42 : 29)
” اس کی نشانیوں میں سے ہے اس زمین میں اور آسمان کی مخلوق اور یہ جاندار مخلوق جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہے وہ جب چاہئے کا انہیں اکٹھا کر دے گا ۔ “
یہ کھلا اشارہ ہے اس طرح کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں پائی جاتی بلکہ دوسروں سیاروں میں بھی موجود ہے اور جس اللہ نے ان کو الگ الگ کر رکھا ہے وہ ان کو جمع کردینے پر بھی قدرت رکھتا ہے بلکہ ان کا جمع ہونا ایک یقینی امر ہے کسی کے ماننے اور انکار کرنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں جس کا ہونا ہے اس کو ہونا ہی ہے اگرچہ ہم طفل مکتب ہی رہیں اور ہمیں بلوغت کا پتہ ہی نہ چلے ، جو لوگ اس طرف کوشاں ہیں ان کی کامیابی یقینی ہے اور یہ قرآن کریم کی صداقت نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کو علمائے کرام کی لٹھ روک نہیں سکتی ۔
یہاں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس رب ذوالجلال کی زمزمہ سنج نہ ہو :
58۔ کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی حمد وتسبیح نہ کر رہی ہو لیکن تم میں سمجھ نہیں کہ ان کی تسبیح و تقدیس پر غور کرو۔ یہ تسبیح جو کائنات کی ہرچیز کر رہی ہے کیا محض صداؤں کی تسبیح ہے ؟ نہیں وہ اپنی ہستی میں اپنی بناوٹ میں ‘ اپنی شکل و صورت میں ‘ اپنے افعال و خواص میں مجسمہ تسبیح و تقدیس ہیں ۔ ان کی ہستی میں تسبیح کا ترانہ اور ان کی موجودگی میں سرتا سر حمد وثنا ہے ، وہ اپنی ہر بات میں کسی بنانے والے کی صنعت کسی پرورش کرنے والے کی پرورش اور کسی سرچشمہ حسن و کمال کی حسن افروزیاں ہیں اور اس لئے زبان حال سے اس کی خالقیت و حکمت اور ربوبیت ورحمت کی تحمید وتسبیح کر رہی ہیں ۔
عربی میں زبان میں ” من “ ذوی العقول کے لئے آتا ہے اس لئے پہلے فرمایا آسمانوں اور زمین میں جتنی ذوی العقول ہستیاں ہیں سب تسبیح الہی میں سرگرم ہیں پھر فرمایا (ان من شیء) اور کائنات ہستی میں کوئی شے نہیں جو اس تسبیح میں انکی شریک نہ ہو عربی میں ” شئے “ کا اطلاق نہ صرف ان چیزوں پر ہوتا ہے جو جسم وحجم رکھتی ہوں بلکہ ہر بات اور ہر حادثہ پر ہوتا ہے حتی کہ دروازہ کھلنے کی آواز کو بھی شے کہیں گے پس مطلب یہ ہوا کہ کائنات ہستی کا ہر وجود ہر ہستی ‘ ہرچیز ‘ ہر حالت ‘ ہر حادثہ اپنے بنانے والے کی یکتائی اور صنعت گری کی تصویر ہے اور خود تصویر سے بڑھ کر اور کس کی زبان ہو سکتی ہے جو مصور کی صنعت و کمال کا اعلان کرے ؟ اگر ایک باکمال سنگ تراش موجود ہے تو اس کی صناعی و کمال کی تعریف تم زبانوں سے نہیں کرسکتے ، اس کی مجسم تعریف و توصیف خود اس کی بنائی ہوئی مورتی ہوتی ہے ، اس مورتی کا حسن ‘ اس کا تناسب ‘ اس کا انداز ‘ اس کی ساری باتیں اپنے سنگ تراش کے دست صنائی کی ابھرتی ہوئی تعریف اور ابلتی ہوئی مدح وثنا ہوتی ہے ۔
اس آیت نے یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ کارخانہ ہستی میں جو کچھ ہے سرتا سر حسن و خوبی ہی ہے کیونکہ حمد کے معنی ثنائے جمیل کے ہیں اور تمام چیزوں کا صدائے حمد ہونا اس کا امر کا ثبوت ہے کہ بنانے والے نے جتنی چیزیں بنائی ہیں حسن و خوبی ہی کی بنائی ہیں اگرچہ تمہاری کو تہ بینی اسے نہ پا سکے ۔ لیکن کیا کائنات ہستی کی یہ تسبیح محض صدائے حال ہی کی تسبیح ہے ‘ صدائے قال کا اس میں کوئی حصہ نہیں ؟ کون ہے جو ایسا کہنے کی جرات کرسکتا ہے ؟ ہمیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے اور یہی اعلان الہی ہے کہ (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “۔
Ayah 17:45جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں :
59۔ گزشتہ آیت میں منکرین حق کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ (لاتفقھون تسبیحھم) تم انکی تسبیح کو سمجھتے نہیں ۔ زیر نظر ؤیت میں فرما دیا کہ یہی حال ان کا قرآن کریم میں بارے میں ہے کہ اس کی طرف رخ نہیں ‘ اسے سننا نہیں چاہتے ۔ اس کا سننا ان سننا کردیتے ہیں ۔ اسے سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون اس سلسلہ میں یہ ہے کہ اگر تم آنکھیں نہیں کھولوگے تو تمہارے آگے ایک سیاہ پردہ حائل ہوجائے گا ، اگر تم سننا نہیں چاہو گے تو تمہارے کان بہروں کے کان ہوجائیں گے ، اگر تم سوچنے سے انکار کر دو گے تو تمہاری عقل پر پردے چڑھ جائیں گے اس کی روشنی کام نہیں دے سکے گی ، قرآن کریم نے انکار واعراض کی یہ حالت جا بجا بتلائی ہے اور یہاں بھی اس طرح اشارہ کیا ہے ۔ (حجابا مستورا) یعنی ایسا پردہ جو حائل ہوجاتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا اور دکھائی دے کس طرح ؟ وہ لکڑی ‘ اینٹ ‘ پتھر یا لوہے کا تو ہوتا نہیں وہ تو اعراض غفلت کا پردہ ہوتا ہے جسے ظاہر میں نگائیں پا نہیں سکتیں ۔
Ayah 17:46منکرین کی یہ حالت ان کی اپنی اختیار کردہ ہے وہ اکیلے اللہ کا نام سننا نہیں چاہتے :
60۔ منکروں کی یہ حالت دراصل ان کی اپنی ہی پسند کی ہوئی ہے ، یہ قانون اللہ تعالیٰ کا ٹھہرایا ہوا ہے کہ نہ دیکھنے والوں کی آنکھوں پر پردہ پڑجاتا ہے ۔ لیکن یہ پردہ کب پڑتا ہے ؟ اس وقت جب دیکھنے والا دیکھنے سے انکار کردیتا ہے یہاں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ، آنکھوں کے آگے حجاب ، کانوں میں گرانی اور عقل پر تہ بہ تہ غلافوں کا چڑھ جانا لیکن یہ وہی تین حالتیں ہیں جو خود منکرین نے اپنے لئے پسند کرلی تھیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” وقالوا قلوبنا اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقرومن بیننا وبینک حجاب “۔ ( سورة فصلت : 41 : 5)
” اور وہ کہنے لگے جس چیز کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اس کے لئے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ‘ ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا ہے ۔ “ اور ان کی اس بات کو سورة الانعام میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی “ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 25 اور جب اے پیغمبر اسلام ! تو قرآن کریم میں تنہا اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر نفرت سے بھرے ہوئے چل دیتے ہیں گویا انکی دلچسپی اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ اس کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں ‘ دیویوں اور دیوتاؤں سے ہے مشرک افراد ہوں یا قومیں اللہ تعالیٰ کا اقرار زبان سے تو کرتی ہیں لیکن حقیقتا وعملا ان کا قلبی تعلق جھوٹے خداؤں یعنی دیویوں ‘ دیوتاؤں ‘ پیروں ‘ مرشدوں اور وہمی مفروضوں سے رہتا ہے اگرچہ وہ زبان سے کلمہ توحید کے اقرار بھی ہوں ان کا تعلق غیر اللہ میں سے جس کے ساتھ جڑ گیا اور جس بزرگ سے اعتقاد ہوگیا ‘ بس ساری توجہ وعقیدت کا مرکز اس کی ذات ہوگئی اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام کے ساتھ ان کا تعلق برائے نام ہی رہ جاتا ہے اس کی تفصیل سورة الزمر میں آئے گی ۔
Ayah 17:47جب یہ کان لگا کر سنتے ہیں تو وہ حالت بھی ہم ان کی خوب جانتے ہیں :
61۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کے وقت بھی اور آج بھی بلکہ رہتی دنیا تک سامعین کی کئی اقسام تھیں ‘ ہیں اور رہیں گی ۔
سارے سامعین ہدایت حاصل کرنے کے لئے نہ سنتے تھے ‘ نہ سنتے ہیں اور نہ کبھی سنیں گے ، ان اقسام میں سے ایک قسم ان لوگوں کو بھی تھی اور ہے کہ وہ محض اس لئے سنتے ہیں کہ کوئی اعتراض کی بات ہاتھ لگے جس کی خوب شہرت کریں اور اس میں جہاں تک ہو سکے اپنی طرف سے نمک مصالحہ بھی خوب لگائیں تاکہ لوگ اس سے نفرت کریں اور قریب نہ آئیں ۔ ایسے لوگ اس وقت بھی موجود تھے وہ آپ کی باتیں بڑی دل لگا کر سنتے اور ساتھ ہی ساتھ اگر کسی بات کا ان سے توڑ ہو سکتا تو وہ کرتے جاتے اور پھر جب راتوں کو اپنی مخصوص مجلسوں میں جم کر بیٹھتے تو نمک مصالحہ لگا کر اپنی مجلسوں میں ان باتوں کو پیش کرتے اور کبھی وہیں سننے کے دوران میں آپس میں کانا پھوسی بھی کر جاتے تاکہ مجلس میں بیٹھ کر ان اشاروں ‘ کنایوں کی بڑھ چڑھا کر تفصیل کریں اور ہنسی و مذاق بناتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بات کریں ، اس طرح خود اپنی منافقت سے محفوظ ہوں اور دوسروں منافقوں کو محفوظ کریں اور یہ بھی کہ وہ چھپ چھپ کر قرآن کریم سنتے اور پھر آپس میں مشورے کرتے کہ اس کا توڑ کیا ہونا چاہئے اور بعض اوقات ان کو اپنے ہی آدمیوں پر کچھ شبہ ہوجاتا کہ شاید اس پر کچھ اثر ہو رہا ہے تو وہ سب ملک کر اس کی خوب گت بناتے اور مل کر سمجھانے کی کوشش بھی کرتے کہ تم کس پھیر میں آرہے ہو ۔ یہ شخص تو سحر زدہ ہے کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے یا اس کو ہمارے بزرگوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے اور وہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے جو سارے مکاتب فکر کے ہی خلاف ہیں کیا سارے غلط ہوگئے اور بس یہی ایک سمجھ بوجھ والا آدمی رہ گیا ہے ۔
Ayah 17:48اے پیغمبر اسلام ! آپ کی نسبت ان لوگوں نے کیا کچھ ہے جو نہیں کہا ؟
62۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے متعلق ان لوگوں نے کبھی ایک رائے قائم نہیں کی بلکہ مختلف اوقات میں جو ان کے منہ میں آیا کہہ دیا گویا آپ کے معاملہ میں یہ مکمل طور پر بوکھلا گئے ہیں اور کوئی ایک رائے قائم نہیں کرسکے ، یہ لوگ کبھی تو کہتے ہیں کہ اس پر کسی جن کا سایہ ہوگیا ہے ، کبھی کہتے ہیں کسی نے اس پر جادو کردیا ہے کبھی کہنے لگتے ہیں کہ یہ خود جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے دیوی دیوتاؤں اور بزرگون میں سے کسی کی مار اس کو لگ گئی ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ بہت ہوشیار آدمی ہے اس نے کوئی دارالترجمہ کھول رکھا ہے اور پرانی پرانی کتابوں کے اقتباسات نکلوا کر کسی سے سنتا ہے اور یہ بھی کہ یہ کوئی بہت سمجھ دار شاعر ہے ، ان کی جو باتیں یہاں بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس پر سنجیدگی سے بحث کی جائے یہ کتنی لچر اور پوچ باتوں سے ایک مدلل اور اصولی دعوت کا مقابلہ کر رہے ہیں ، ایک شخص کہتا ہے کہ لوگو ! یہ مذہب (شرک) جس پر تمہارے مذہب و تمدن کی بنیاد قائم ہے سراسر غلط اور بےدلیل عقیدہ ہے اور اس کے غلط اور بےدلیل ہونے کے یہ یہ دلائل ہیں لیکن اس کے جواب میں کوئی دلیل نہیں پیش کی جاتی بلکہ آوازہ کس دیا جاتا ہے کہ یہ شخص تو جادو کا مارا ہوا ہے ۔
وہ کہتا ہے کہ کائنات کا سارا نظام توحید پر چل رہا ہے اور یہ یہ حقائق ہیں جو اس کی کھلی شہادت دے رہے ہیں جواب آتا ہے کہ نہیں یہ تو جادوگر ہے جو ایسا کہہ رہا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ تم اس دنیا میں شتر بےمہار بنا کر نہیں چھوڑ دیئے گئے تمہیں اپنے رب کے پاس جانا ہے اور اپنے کئے کا جواب دہ ہونا ہے اور اس حقیقت پر یہ اخلاقی ‘ تاریخی اور علمی وعقلی امور دلالت کر رہے ہیں ، جواب ملتا ہے کہ یہ آدمی تو ایک شاعر ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے یہ تعلیم لے کر آیا ہوں اور وہ جواب میں اس تعلیم پر کوئی بحث وتنقید نہیں کرتے اور فورا ایک الزام لگا دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس نے کہیں سے نقل کرلیا ہے ، وہ اپنی رسالت کے ثبوت میں اپنے اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزانہ کلام کو پیش کرتا ہے خود اپنی زندگی اور اپنے کردار کو پیش کرتا ہے مگر مخالفت کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ تم کھاتے کیوں ہو ؟ بازاروں میں کیوں جاتے ہیں ؟ تمہاری خدمت کے لئے کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوتا ؟ ان باتوں کا تجزیہ کرکے فیصلہ خود کرسکتے ہو کہ فریقین میں سے حق پر قائم کون ہے ؟ اور کون ہے جو بےتکیاں ہانک رہا ہے ۔
Ayahs 17:49–50اگر وہ بولے تو کہا کہ جب ہم مرکر چورا چورا ہوجائیں گے تو دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں ؟
63۔ آخرت پر ایمان اسلام کے سلسلہ ایمانیات کی آخری کڑی ہے ۔ اس سے مراد پچھلے دن ‘ پچھلی زندگی یا پچھلی دنیا پر یقین کرنا ہے ۔ کفار مکہ کی اکثریت اس وقت بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتی تھی ، ان کی نادانی کا یہ عالم تھا کہ وہ کائنات کو ایک کھلنڈرے کا گھروندا اور اپنے آپ کو اس کے جی بہلانے کا ایک کھلون اس مجھے بےٹھ تھے اور اس احمقانہ تصور میں اتنے مگن تھے کہ جب انہیں پیغمبر اسلام اس کار گاہ حیات کا سنجیدہ مقصد اور خود ان کے وجود کی معقول غرض وغایت سمجھاتے تو وہ ایک قہقہہ لگاتے اور پھبتی کستے کہ یہ شخص تو دراصل بہک گیا ہے اور بہکی بہکی باتیں کرتا ہے یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے اور اس طرح قرآن کریم نے جا بجا نشتہ اولی سے نشتہ الثانیہ پر استدلال کیا ہے یعنی جس خالق وقدیر نے تمہیں پہلی مرتبہ زندگی دی ہے کیا وہ تمہیں دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ۔ ہاں ! یہ اس کا وعدہ ہے کہ ایک بار مارنے کے بعد دوبارہ ایک ہی بار زندہ کروں گا اس لئے ایک بار دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا ۔ ہاں ! یہ اس کا وعدہ ہے کہ ایک بار مارنے کے بعد دوبارہ ایک ہی بار زندہ کروں گا اس لئے ایک بار دوبارہ اٹھائے جانے پر ہمارا ایمان ہے اگر وہ بار بار مارنے اور زندہ کرنے کے متعلق ارشاد فرما دیتے تو ہمیں قطعا لیت ولعل نہ ہوتی لیکن اس نے ایک بار مارنے کے بعد دوبارہ ایک بار زندہ کرنے کا ارشاد فرمایا جو ہمارے ایمان کا جزء قرار پایا اور موت کے بعد اس زندگی کو ہم اچنبھا نہیں سمجھتے نہ ہی ایسا سمجھ سکتے ہیں اور یہی بات ان سے کہی جا رہی ہے ۔ نہ ان سے بار بار زندہ کرنا اور مارنا منوایا جا رہا ہے اور نہ ہی اسلام میں ایسی خرافات کا کوئی جواز ہے ۔ یہ زندگی دنیوی زندگی کہلاتی ہے اور وہ زندگی آخرت کی زندگی کی زندگی ہوگی جس کے بعد موت ممکن نہیں ہے جیسے اس دنیا میں کسی انسان کا ہمیشہ زندہ رہنا ممکن نہیں ۔ آخرت کی زندگی پر نہ یقین لانے والوں کو ہمیشہ یہ جواب دیا گیا کہ جس ذات نے تم کو پہلی بار پیدا کیا وہی خالق کل تم کو دو بار پیدا کر دے گا ، عدم سے وجود میں لانے والا آخر تم کو دوبارہ کیوں زندہ نہیں کرسکتا ؟ جب تمہارا نام ونشان بھی نہیں تھا تو اس نے تم کو بنا کھڑا کیا اور اب اس کو دوبارہ پیدا کرتے آخر مشکل کیا ہے ؟
Ayah 17:51اگر تم لوہا یا پتھر ہو سکتے ہو تو ہوجاؤ وہ خالق کائنات پھر بھی تم کو دوبارہ پیدا کر دے گا :
64۔ ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر نبی اعظم وآخر ﷺ کے سامنے لا کر کہنے والوں کو یہ کہنے والے کہ ” ان ہڈیوں کو جب وہ بوسیدہ ہوجائیں گی تو کون ہے جو زندہ کرے ؟ فرمایا اے رسول ! ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جانتا ہے ، “ وہ کہتا ہے کہ ہر انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ذکر کی گئی چیز نہیں تھا اور جب وہ کچھ بھی نہیں تھا نہ اس کی ہڈیاں خواہ وہ کتنی بوسیدہ ہوں نہ اس کے وجود کا کوئی اور حصہ خواہ وہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو تو پھر اس قادر مطلق نے ایک قطرہ پانی بلکہ ایک ان دیکھے خلیہ سے کردی تو اب تو وہ کچھ نہ کچھ موجود ہے جس کو وہ ہاتھ میں پکڑ کردکھا رہا ہے کیا تعجب کی پیدائش پہلی ہوئی یا دوسری ؟ اگر زیادہ تعجب کی پیدائش پہلی ہے تو وہ دوسری پر تعجب کا اظہار کیوں کرتے ہیں ؟ کیا اتنی بات کو بھی وہ نہیں سمجھتے ؟ اچھا اگر تمہارے اپنے اختیار میں ہے تو تم ہڈیاں اور وہ بھی بھربھری ہڈیاں نہ بنو بلکہ لوہا یا پتھر بن جاؤ اللہ تعالیٰ پھر بھی تم کو لاکھڑا کر دے گا کیونکہ تمہارا پیدا کرنا اس کے اختیار میں ہے اور تمہارا لوہا یا پتھر ہوجانا تمہارے اختیار میں نہیں پھر ایسے بےاختیار اور بےبس ہو کر اس صاحب اختیار کے بااختیار ہونے پر تعجب کر رہے ہو ‘ تف ہے تم پر ‘ کتنے ناسمجھ ہو تم ۔
نادان یہ سن کر اگر پھر یہی کہیں کہ ہمیں کون زنادہ کرے گا ؟ وہی جو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے :
65۔ ضدی اور جھوٹے کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے دراصل اس کو اس کے اندر کے شیطان نے مبہوت کردیا ہوتا ہے اور وہ بےتکیاں ہانکنے لگتا ہے اور جو کچھ اس کے منہ پر آتا ہے بغیر سوچے سمجھے کہے جاتا ہے یہی حال ان لوگوں کا ہے جو دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کر رہے ہیں ، آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ دوبارہ پیدا کرنے والا بھی وہی ہوگا جو پہلے ایک بار تم کو پیدا کرچکا ہے ، پہلی زندگی سے مراد نوع کی زندگی بھی ہو سکتی ہے اور فرد کی بھی ، ہر فرد اپنی ہستی میں غور کرسکتا ہے اس کا وجود نہ تھا مگر ظہور میں آگیا اور کس طرح ظہور میں آیا ؟ محض نطفہ کے ایک خورد بینی کیڑے سے جو (علقہ ) کی طرح ہوتا ہے یعنی جونک کی طرح پر اگر کیڑے کے ایک ذرہ سے اس کا وجود بن سکتا ہے تو کیا اس کے پورے وجود کے ذرات سے دو بار وجود نہیں بن سکتا ؟ (مالکم کیف تحکمون ؟ ) یہ بھی فقط ایک حجت قائم کرنے کے کہا گیا ورنہ انسان اس وقت بھی انسان ہی بنا تھا جب کیڑے اور علقہ کا نام ونشان بھی نہ تھا ۔
اے پیغمبر اسلام ! پھر وہ آپ ﷺ کے سامنے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ زندہ کب ہوگا ؟ آپ ﷺ ان کو جواب دیجئے کہ شاید یہ قریب ہی ہو کیونکہ ” من مات قد قامت قیامتہ “۔ جو مر گیا اس کی قیامت تو آگئی ۔ اب اس کو کب آنا ہے اس وقت جب پہلے گئے ہوئے آئیں گے پھر ان کو اپنے انکار کرنے کا مزہ چکھا دیا جائے گا اور ان کے سرہلانے کا جواب ان کو مل جائے گا اگرچہ اس وقت وہ ان کے لئے مفید نہ ہوا۔
Ayah 17:52جب وہ تم کو حاضر کرنے کے لئے بلائے گا تو تم حمد کے گیت گاتے حاضر ہوجاؤ گے :
66۔ کوئی انسان پنی سرکشی کی بنا پر کتنا ہی ہٹ دھرم کیوں نہ ہو کسی نہ کسی وقت اس کی فطرت جاگ ہی پڑتی ہے اور یہ بھی کہ بعض اوقات انسان بھیڑ چال میں وہ کام بھی کرجاتا ہے جس کو وہ تسلیم نہیں کرتا ، انسان ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بہت کچھ کرنے کا عادی ہے ۔ کبھی یہ منظر دیکھنا ہو تو بیت اللہ میں جا کر دیکھیں امام آمین پکارتا ہے تو ساتھ ہی آمین پکار کر کہنے والے جب پکارتے ہیں تو بڑے بڑے مخالفین کی زبانیں حرکت میں آجاتی ہیں اور وہ پکار کر آمین کہہ دیتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح میدان حشر میں جمع ہونے الے جب اللہ کے حکم سے اٹھیں گے مطلب یہ ہے کہ حاضر ہوں گے تو ان کی زبانوں پر حمد کا گیت ہوگا تو اس آواز پر دوسرے بھی وہی آواز نکالیں گے اور یہ حمد سب کی زبانوں پر ہوگی مومنوں کی زبان پر اس لئے کہ وہ اعتقاد رکھتے تھے اور مرنے سے پہلے ان کو دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین تھا اور کافروں کی زبان پر اس لئے کہ ان کی فطرت میں یہ چیز ودیعت تھی مگر اپنی حماقت سے وہ اس پر پردہ ڈالے ہوئے تھے یا ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ان کی زبانیں بھی وہی حرکت کرتی ہوں گی اور یہ حرکت ان کی بلا ارادہ ہوگی ، اس وقت ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ بس تھوڑی دیر ہی ہم اس حالت میں رہے ہیں اس لئے گزرا ہوا جس میں برس ہاربر گزر جاتے ہیں ہیں لیکن کبھی خیال پیچھے جائے تو انسان کہتا ہے کہ ابھی کل کی بات ہے اگرچہ یہ کل بیسیوں برس کا کیوں نہ ہو ۔ آج بھی جب اپنے بچپنے پر غور کیا جائے تو بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا ہے اور یہ ” کل “ ہی کا لفظ زبان پر آتا ہے ۔
Ayah 17:53مسلمانوں کے لئے ہدایت کہ ایک دوسرے کو مخاطب کرتے وقت اچھا طریقہ استعمال کرو :
67۔ کون ہدایات الہی کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون ہدایات کی پروا نہیں کرتا ، دونوں طرح کی طبیعتیں موجود ہیں اور موجود رہیں گی جس نے ہدایات کے مطابق عمل کیا اس نے اپنا آپ سنوار لیا اور جس نے مخالفت کی اس نے اپنے آپ کو خود بگاڑ لیا ، اب سنورنے والے کا اپنا فائدہ ہے اور بگڑنے والے کا اپنا نقصان ۔ آپ نے ایک کو اچھا جانا دوسرے کو برا تو اچھا کیا لیکن اپنا نقصان کرنے والے نے آپ کا بھی کوئی نقصان کیا ؟ بس اس بات کو ذہن نشین کرتے ہوئے جب منکرین اسلام سے گفتگو کرو تو پسندیدہ طریقہ پر کرو اس طرح کی باتیں نہ کہو کہ ان کا نقصان تو ہوا جو ہوا تمہارا بھی نقصان ہونا شروع ہوجائے ، ایسی بات اور اس طرح سے بات نہ کرو کہ اس سے فتنہ و فساد پیدا ہو اور بجائے تمہاری طرف بڑھنے کے لوگ آپ سے متنفر ہونا شروع ہوجائیں ، روایات میں آتا ہے کہ مسلمانوں نے مشرکوں سے کہا تھا ” انکم من اھل النار “ تم تو جہنمی ہو ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اس بات سے روکا گیا کہ وہ اس طرح مخاطب کرکے مخالفین کے ساتھ پیش نہ آئیں اور کسی انسان یا جامعت کو اس طرح مخاطب کرکے نہ کہیں بلکہ عام طریقہ سے بات کریں کہ ایسے افعال و اعمال کا یہ انجام ہوگا ۔ کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ کسی آدمی کا خاتمہ کس حال پر ہونے والا ہے ؟ بہت ممکن ہے جسے تم جہنمی کہہ رہے ہو اسے ہدایت کی توفیق ملنے والی ہو اور اس کی جگہ جنتیوں میں ہو ، بلاشبہ تم کہہ سکتے ہو یہ بات حق نہی لیکن کسی خاص فرد یا جماعت کی نسبت حکم نہیں لگا سکتے کہ یہ ضرور ہی جہنمی ہیں۔ ایسا کہنے کا کسی انسان کو کوئی حق نہیں لیکن اس وقت قرآن کریم کی اس ہدایت پر شاید ہی کوئی فرد یا جماعت عمل کرنے کے لئے تیار ہو اگر ہے تو بہت کم ورنہ ہر ایک دوسرے کے لئے دوزخ تیار کرکے بیٹھا ہے ، اللہ سمجھ کی توفیق دے ۔
اس موقعہ پر سورة الانعام کی یہ آیت بھی ایک بار نگاہ میں لائیں جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں تم ان کے معبودوں کو گالیاں نہ دو ایسا ہوگا کہ وہ بھی حد سے متجاوز ہو کر بےسمجھے بوجھے اللہ رب العزت کو برابھلا کہنے لگیں گے ، ہم نے اس طرح ہر قوم کے لئے اس کے کاموں کو خوشنما بنا دیا ہے پھر بالآخر سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے اس وقت وہ ان سب پر انکے کاموں کی حقیقت کھول دے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں ۔ “ (الانعام 6 : 108) مزید تفصیل کے لئے عروۃ الوثقی “۔ جلد سوم میں سورة الانعام کی محولہ آیت کا مطالعہ کریں۔
ایک بار پھر غور کرو کہ کسی طرح قرآن کریم قدم قدم پر یہ بات یاد دلاتا رہتا ہے کہ انسان کے فکر میں رواداری ہونی چاہئے حکم میں احتیاط ہونی چاہئے ‘ تم جس بات کو حق سمجھتے ہو اس پر جم جاؤ اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دو مگر یہ نہ بھولو کہ انسان کی نجات وعدم نجات کی ٹھیکہ داری تمہیں نہیں دے دی گئی ہے کون نجات پانے والا ہے اور کس کے لئے بالآخر محرومی ہے ؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے تمہیں حق نہیں کہ اس طرح کا حکم لگاتے پھرو علاوہ ازیں اگر ایک انسان غلط رہ چل رہا ہے تو تمہارے جنتی کہہ دینے سے وہ جنتی نہیں بن جائے گا بلکہ بہت ممکن ہے کہ اپنی غلطی میں وہ اور زیادہ ضدی ہوجائے پس جو کچھ بھی زبان سے نکالو حسن و خوبی کی بات ہو ‘ سختی وخشونت کی بات نہ ہو ۔ چناچہ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ شیطان تو چاہتا ہے کہ لوگوں کے درمیان تفرقہ و فساد ڈالے گویا اس طرح کا کلام تفرقہ و فساد پیدا کرتا ہے اور اصل مقصود جو ہدایت و ارشاد ہے وہ مفقود ہوجاتا ہے اس کے بعد کی ہدایت آنے والی آیت میں بیان کی جارہی ہے اس پر غور کرو۔
Ayah 17:54عذاب وثواب کے لئے قانون الہی کام کرتا جارہا ہے اس سے تمہارا کچھ پوشیدہ نہیں :
68۔ گزشتہ حکم کے ساتھ اس کو بھی ملا کر پڑھو اس آیت میں اعلان فرمایا کہ (آیت) ” ربکم اعلم بکم “ تمہارا پروردگار تمہاری حالت سے خوب واقف ہے اور یہ کام اس کا ہے کہ جس کو چاہے اپنے قانون کے مطابق ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے قانون کے مطابق آگ میں ڈال دے ، جس طرح بندہ کا کام اللہ کے ذمہ نہیں اسی طرح اللہ کا کام بندہ کو اپنے ذمہ نہیں لینا چاہئے یقینا اللہ کے ہاں اندھیر کھاتہ نہیں وہ ہدایت دے گا تو اس کو جو ہدایت کے قابل ہوگا اور آگ میں ڈالے گا تو اس کو جو آگ کا مسحق ٹھہرا (آیت) ” وما ارسلنک علیھم وکیلا “۔ اے پیغمبر اسلام ! ہم نے تجھے لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ لوگوں کی نجات وعدم نجات کے لئے تم ذمہ دار ہو اور ظاہر ہے کہ جب خود پیغمبر کو یہ منصب حاصل نہیں تو اور کسی کے لئے کب جائز ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جنت و دوزخ کا داروغہ سمجھنے لگے آج اہل اسلام کی جو حالت ہے وہ سراسر اس آیت کے مخالف ہے اور خصوصا وہ لوگ جو اہل اسلام کے قائد ورہنما ہیں اور مذہبی پیشوا کہلاتے ہیں ان کی حالت تو زیر نظر آیت کے بالکل خلاف ہے وہ مستقل گروہ بندیوں میں تقسیم ہوچکے ہیں اور لوگوں کو تقسیم کر بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے جنت کے دروازے مکمل طور پر بند کر بیٹھے ہیں اور ہر ایک گروہ دوسرے گروہ کے جہنمی ہونے کا کھلا اعلان کرتا ہے اور جو اس اعلان میں شریک نہ ہو اس کو بھی اپنے گروہ بندی سے خارج کر رہے ہیں اور یہود ونصاری کی پیروی میں وہی کچھ کر رہے ہیں جو اس وقت ان کے احبارو رہبان کر رہے تھے ، کیا یہ حالت قرآن کریم کو پڑھ کر سن کر اس کے خلاف کرنے کی نہیں ہے ؟
Ayah 17:55ہر چیز کا جاننے والا اللہ ہے اور انبیاء میں بعض کو بعض پر فضیلت دینے والا بھی :
69۔ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے معاصرین انبیاء کرام (علیہم السلام) کو دیکھتے تھے اور ان کو انسان پاتے تھے اور ساری ضروریات زندگی بھی ان کے ساتھ تھیں ، بازاروں میں جاتے ‘ سودا سلف خریدتے ‘ اپنے ہاتھوں سے کام کاج کرتے اور محنت کر کے حلال رزق سے گزر اوقات کرتے تھے اور پھر اکثر انبیاء کرام (علیہم السلام) دنیوی مال و دولت کی ریل پیل بھی نہیں رکھتے تھے ، اسی طرح نبی اعظم وآخر ﷺ کے معاصرین کا حال تھا ۔ معاصرین کی نگاہ میں آپ ﷺ کی کوئی فضیلت دوسرے لوگوں پر نظر نہ آتی تھی وہ آپ ﷺ کو اپنی بستی کا ایک بالکل معمولی آدمی سمجھتے تھے اور انسانوں کی یہ بھول آج تک چلی آرہی ہے کہ وہ مرے ہوؤں کی تو عزت و توقیر کرتے اور ان کو اچھے ناموں سے یاد کرتے ہیں لیکن جو لوگ ان کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ کتنے ہی صاحب کردار ہوں وہ اکثر انکی طرف سے غفلت سے کام لیتے ہیں ، جب نبی کریم ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا تو انکے دلوں میں یہ بات جچتی نظر نہ آئی اور انہوں نے طرح طرح کے اعتراض کرنے شروع کردیئے کہ یہ آدمی نہ معلوم اپنے آپ کو کیا سمجھ بیٹھا ہے ؟ کہاں نبوت اور کہاں یہ شخص اگر یہ نبی ہوتا تو اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو اس کے لئے حالات سازگار کرتا ‘ گزشتہ نبی تو انسان نہ تھے انکی بزرگی کا سکہ تو دنیا مانتی ہے ، ان ساری باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ ” آسمان و زمین میں جو کوئی ہے تیرا پروردگار سب کا حال بہتر جاننے والا ہے ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ “ سب کو ایک جیسا مرتبہ نہیں دیا لیکن یہ مرتبہ معاصرین کو کم ہی نظر آتا ہے مگر ہاں ! وہ لوگ جو سچے دل سے نبی کی تعلیم کو مانتے ہیں اور دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) سے اس کا موازنہ کرسکتے ہیں ، اس کے بعد خصوصا داؤد (علیہ السلام) کا نام لے کر فرمایا کہ ” ہم نے داؤد کو زبور دی تھی ۔ “ داؤد (علیہ السلام) کا ذکر خاص کرکے اس لئے کیا گیا کہ وہ نبی ہونے کے ساتھ وقت کے بادشاہ اور حاکم بھی تھے اور عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ حکومت عطا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے دوری ہی اختیار کرتے ہیں لیکن داؤد (علیہ السلام) وقت کے بادشاہ ہونے کے باوجود اللہ کے برگزیدہ نبی ورسول بھی تھے یہ بات اس لئے بیان فرمائی کہ آج کل کے جاہلوں کی طرح اس وقت کے جاہلوں کا بھی یہی حال تھا کہ رسول عام انسانوں کی طرح انسان تو نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ساتھ دنیا داری کی حوائج اور ضروریات ہوتی ہیں وہ تو اللہ کا برگزیدہ انسان ہوتا ہے جو کسی ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتا رہتا ہے بلکہ اس کو تو اپنے تن بدن کا بھی ہوش نہیں ہوتا ، اس طرح ان کو بتایا جارہا ہے کہ یہ ساری باتیں تمہاری واہمی مفروضے ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے گھڑ لئے ہیں نبی ورسول بظاہر شکل و صورت کے اعتبار سے عام انسانوں جیسا ایک انسان نظر آتا ہے لیکن اس کی معصومیت کے سامنے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، وہ دنیا کی ساری ضروریات رکھتے ہیں لیکن ان کو پورا کرنے کے لئے وہ قانون خداوندی سے سرمو بھی انحراف نہیں کرتے اور یہی ان کی وہ شان ہے جو دوسرے انسانوں سے انکو ممیز کردیتی ہے ان کے ہاتھ اللہ کے حکم کے خلاف نہیں اٹھتے اور پاؤں حکم خداوندی کے خلاف ہرگز نہیں چلتے ، وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک سایہ ہوتے ہیں لیکن ظاہر میں آنکھیں ان کی حیثیت وکیفیت کو نہیں دیکھ سکتیں ۔
Ayah 17:56جن جن کے معبود ہونے کا تم کو گمان ہے انکو پکار دیکھو بھلا وہ تمہارے کام آتے ہیں ؟
70۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جن کو پکارا جا رہا ہے اور جن جن کے نام کی لوگ دہائی دیتے ہیں وہ قطعا ان کی بات کا جواب نہیں دیتے کیونکہ (وانہ غافل عن داعیہ) ان کو معلوم نہیں ہے کہ کوئی انکو پکار رہا ہے وہ اپنے داعی سے بالکل غافل ہیں ۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ہی شرک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسری ہستی سے دعا مانگنا یا اس کو مدد کے لئے پکارنا بھی شرک ہے خصوصا جب کہ وہ ہستی پاس موجود بھی نہ ہو اور اس دارفانی سے منتقل بھی ہوچکی ہو اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دعاء استبداد اور استعانت اپی حقیقت کے اعتبار سے عبادت ہی ہیں اور غیر اللہ سے مناجات کرنے والا ویسا ہی مشرک ہے جیسا کہ ایک بت پرست مشرک ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیارات حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا مصیبت کو ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی بری حالت کو اچھی حالت سے بدل سکتا ہے ، اس طرح کا اعتقاد سوائے اللہ تعالیٰ کے جس ہستی کے متعلق بھی رکھا جائے گا وہ مشرکانہ اعتقاد ہوگا ۔
زیر نظر آیت کی رو سے تمام پکارنے والے اور تمام معبود من دون اللہ میں شامل ہیں یہی وجہ ہے کہ علامہ ابن جریر رقم طراز ہیں کہ ” جب لوگ قیامت کے دن اپنے حساب کی جگہ پر اکٹھے کئے جائیں گے تو جن لوگوں کو یہ دنیا میں پکارتے تھے وہ ان سے اپنی برات کا اظہار کریں گے اور اب بات کا انکار کردیں گے کہ وہ کبھی انکی عبادت کرتے تھے ۔ “ یعنی دنیا میں جن جن کی عبادت کی جا رہی ہے یہ لوگ اپنی عبادت کی جانے سے انکاری ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے ان کو یہ نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو اور نہ ہی ہمیں ان کی عبادت کا علم ہے اور ہمیں معلوم بھی نہیں کہ یہ لوگ ہمیں پکارتے رہے ہیں اے اللہ کریم ہم ان کی عبادت سے تیری بارگاہ میں اظہار بیزاری کرتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری جگہ خود اس کی وضاحت فرما دی کہ :
(آیت) ” وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّہِ فَیَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ ہَؤُلَاء أَمْ ہُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ (17) قَالُوا سُبْحَانَکَ مَا کَانَ یَنبَغِیْ لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِکَ مِنْ أَوْلِیَاء وَلَکِن مَّتَّعْتَہُمْ وَآبَاء ہُمْ حَتَّی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوا قَوْماً بُوراً (18) (الفرقان 25 : 17 ‘ 18)
” اور وہی دن ہوگا جب کہ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے معبودوں کو بھی بلا لے گا جنہیں آج یہ لوگ اللہ کے سوا پوج رہے ہیں پھر وہ ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا ؟ یا یہ خود ہی راہ راست سے بھٹک گئے تھے ؟ وہ عرض کریں گے کہ پاک ہے آپ کی ذات ہماری تو یہ مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا کار ساز بنائیں لیکن آپ نے ان لوگوں کو ان کے باپ دادوں کو خوب سامان زندگی دیا حتی کہ یہ حقیقت کو بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہ گئے ۔ “
علامہ ابن جریر (رح) لکھتے ہیں کہ (آیت) ” من دون اللہ “ سے انسان ‘ فرشتے اور جن مراد ہیں اور وہ سب جن جن کی یہ لوگ پوجا کرتے رہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے جن کو یہ لوگ اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اس کی مزید تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الانعام کی آیت 63 عروۃ الوثقی جلد سوم سے ملاحظہ کریں ۔ جلد چہارم میں سورة یونس کی آیت 21 کی تفسیر دیکھیں ۔
Ayah 17:57جن کی تم پر پرستش کرتے ہو وہ تو خود رب کریم کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے میں کوشاں ہیں :
71۔ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت فرما دی گئی اس لئے کہ اس میں جن معبودوں اور فریاد رسوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ لکڑی ‘ پتھر اور کسی دھات کے بت تو مراد نہیں ہوسکتے بلکہ اس سے مراد فرشتے ‘ جن اور اللہ کے برگزیدہ نبی ورسول ہی ہو سکتے ہیں ۔ بات واضح ہوگئی کہ انبیاء ورسل ہوں یا فرشتے اور جن ان میں سے کسی کو بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ تمہاری دعائین سنیں اور تمہاری مدد کر پہنچیں ، تم حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے ان کو وسیلہ بنا رہے ہو اور ان کا یہ حال ہے کہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ہر وقت خائف ہیں اور اس کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔
خیال رہے کہ شرک کا اصل ضرر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انسان کو جس درجہ کا تعلق ‘ جس قسم کا عجز ونیاز ‘ جس مرتبہ کی محبت ‘ جس درجہ کی التجا درکار ہے اس کا رخ دوسری جانب بدل جاتا ہے ، ہزاروں لاکھوں آدمی ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ دیوتا ‘ داتا یا کوئی جن اور فرشتہ یا نبی ورسول کائنات اور زمین و آسمان کے خالق نہیں تاہم وہ ہر قسم کی حاجتیں اور مرادیں انہی دیوتاؤں ‘ داتاؤں ‘ جنوں اور فرشتے یا نبیوں اور رسولوں اور دوسرے معبودوں سے مانگتے ہیں ۔ ان ہی کو حاجت روا جانتے ہیں ۔ اٹھتے بیٹھتے ان ہی کا نام لیتے ہیں ، انہی پر نذر ونیاز چڑھاتے ہیں۔ غرض براہ راست ان کا جو تعلق ہوتا ہے انہیں معبودوں سے ہوتا ہے خود مسلمانوں میں ہزاروں ‘ لاکھوں آدمیوں کا طرز عمل انبیاء وصلحا بلکہ ان کے مزارات کی نسبت اسی کے قریب قریب ہے ، اسی بناء پر مقدم ترین امر یہ ہے کہ معبودوں کی نسبت اس قسم کا خیال نہ پیدا ہونے پائے بلکہ صاف صاف بتا دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی کچھ نہیں چل سکتی اور اس کی مرضی میں نہ پیدا ہونے پائے بلکہ صاف صاف بتا دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کی کچھ نہیں چل سکتی اور اس کی مرضی میں کوئی دست اندازی نہیں کرسکتا اور یہ بات تفہیم کرانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ اس کو پکارنے کے لئے اس سے محبت کرنے کے لئے ، اس سے کچھ طلب کرنے کے لئے واسطوں اور وسیلوں کی ضرورت ہو۔ نہیں ! یہ تصور بالکل غلط ہے وہ بغیر واسطوں اور وسیلوں کے اپنے بندوں کی عرض معروض سنتا ہے اور قبول کرتا ہے ، جن کو تم واسطہ اور وسیلہ کے طور پر استعمال کرتے ہو یا کرنا چاہتے ہو وہ تو خود اس کے حضور زیادہ تقریب کے لئے وسائل تلاش کرتے ہیں جو نیک اعمال کی صورت میں ہیں اور اطاعت وفرمانبرداری کے ذریعہ سے ، وسیلہ کے معنی رغبت کے ساتھ کسی چیز تک پہنچنے کے ہیں ، وسیلہ الی اللہ سے مراد ہے علم وعمل کے لحاظ سے اللہ کی قائم کی ہوئی راہ کی نگہداشت اور مکارم شریعت کے حصول کا ارادہ اور کوشش اور اس کو قرب خداوندی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ (وسل الی اللہ توسلا) ” ایسا عمل کیا جسے اللہ کے قرب میں پہنچ گیا ۔ “ (ایھم اقرب) یعنی ان میں سے جو سب سے زیادہ قربت رکھنے والے ہیں وہ خود بھی وسیلہ کے طلبگار ہیں پھر قربت نہ رکھنے والوں کا تو ذکر ہی کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے وہی ہیں جو اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں بلاشبہ تیرے رب کا عذاب حقیقت میں ہے ہی ڈرنے کی چیز ، علامہ بیضاوی (رح) نے کہا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن کو تم معبود خیال کرتے ہو جیسے فرشتے ‘ مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) ان میں سے کوئی بھی تمہارا دکھ دور نہیں کرسکتا یہ تو خود اللہ کے مقرب ترین بندے بننے کے لئے وسیلہ کے خواستگار ہیں ۔
تعجب ہے کہ پیر کرم شاہ صاحب اس اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں رقم طراز ہیں کہ ” مطلب یہ ہے کہ مشرکین جن کو خدائے بنائے ہوئے ہیں اور جن کو اپنی تکالیف اور مصائب میں پکارتے ہیں یہ خدا نہیں بلکہ وہ تو خود ہر لمحہ ‘ ہر لحظہ اپنے رب کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مصروف عمل رہتے ہیں اگر واقعی وہ خدا ہوتے جیسے مشرکین کا خیال ہے تو پھر انہیں کسی کی عبادت اور رضا جوئی کی کیا ضرورت تھی ۔ “ پھر اس عبارت سے استنباط کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ” مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ مقرب بندوں کو بارگاہ الہی میں وسیلہ بنانا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی غیر کی عبادت کرنا ممنوع ہے لیکن مقبولان بارگاہ ایزدی کا وسیلہ پکڑنا اور ان سے التماس دعا کرنا جائز ہے ، “ قرآن کریم جس بات کی نفی کر رہا ہے پیر صاحب نے جماعتی ہمدردی میں اس کا اثبات آیت سے نکال دیا ہے تاکہ جماعت کو خوش کرکے اس سے عزت افزائی حاصل کریں اور یہ بیماری ہمارے ہاں عام ہے جو سارے مکاتب فکر کو لاحق ہے ۔
Ayah 17:58بداعمال گروہوں کو پاداش عمل میں مبتلا ہونا دنیوی زندگی میں بھی ضروری ہے ۔
72۔ اس آیت میں افراد کا نہیں بلکہ جماعتوں اور قوموں کی بستیوں کا ذکر ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر بداعمال گروہ کو اس کے اعمال کی پاداش کا مال جانا ضروری ہے خواہ ہلاکت کی صورت میں ہو ‘ خواہ کسی دوسرے عذاب کی صورت میں ۔ اس طرح کا عذاب ہوتا آیا ہے ۔ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ لیکن افسوس کہ اب قوم مسلم نے اس عذاب الہی کو عذاب ہی نہیں سمجھا جس عذاب الہی میں وہ ایک مدت سے مبتلا ہے اور دن بدن ہوتی ہی چلی جارہی ہے ، کاش کہ کوئی بینا آنکھ اس عذاب الہی کو دیکھ سکے اور آنکھ ان لوگوں کی ہو جو اس کے دفاع کے لئے آواز بلند کرسکیں ۔
Ayah 17:59انبیاء کرام کو جو نشانیاں عطا کی جاتی رہیں ان کا ماحصل کیا تھا ؟
73۔ اس آیت نے قطعی طور پر یہ حقیقت واضح کردی کہ پیغمبروں کہ پیغمبروں نے جو نشانیاں تھیں ان کی حقیقت کیا تھی ؟ فرمایا (آیت) ” وما نرسل بالایات الا تخویفا “۔ نشانیاں اس لئے نہیں دی گئیں کہ سچائی کی دلیل تھیں یا ہدایت کا معاملہ ان پر موقوف ہوتا تھا بلکہ صرف اس لئے کہ وہ ظہور عذاب کا مقدمہ تھیں یعنی جو قومیں سرکشی سے باز نہیں آئیں ‘ انہیں ظہور نتائج کی خبر دیدی گئی اور اس خبر کا ظہور ایک نشانی یا زائد از ایک نشانیوں کی صورت ہوا۔ چناچہ قوم ثمود جب سرکشی سے باز نہ آئی تو اونٹنی کا معاملہ اس کے لئے ایک فیصلہ کن نشانی ہوگیا اور اس نشانی کے بعد موعود عذاب ظہور میں آگیا ۔ آیت میں خطاب منکرین عرب سے ہے جو اپنی بات بنانے کے لئے نشانیوں کی فرمائش کرتے تھے فرمایا جو طالب حق ہیں ان کے لئے سچائی کی دعوت ہی سب سے بڑی نشانی ہے اور جو ماننے والے نہیں اس کے لئے کوئی نشانی بھی سود مند نہیں ہوتی چناچہ پچھلے عہدوں میں ہمیشہ ایسا ہوچکا ہے کہ کوئی نشانی بھی سرکشوں کے لئے سود مند نہ ہو سکتی ، نیز فرمایا کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ اس طرح کی نشانیوں تخویف وانذار ہی کے لئے نمودار ہوتی ہیں پس اگر اب بھی ان کی نبوت پہنچی تو منکروں کے لئے ظہور عذاب ناگزیر ہوگا اور مشیت الہی کا یہ فیصلہ نہیں ہے کہ عذاب ظہور میں آئے ۔