Ayah 17:97جسے اللہ راہ پر لاتا ہے وہی راہ پاتا ہے اگر وہی بےراہ کر دے تو راہ کون دکھائے گا ؟
115۔ رد اگر ممکن تھی تو حق تعالیٰ ہی کی طرف سے ممکن تھی لیکن اس کی مدد سے تو ان کا کفر انہیں محروم ہی رکھے گا پھر ان کی مدد کئے جانے کی کوئی اور صورت ؟ کوئی نہیں ، بلاشبہ تکوینی حیثیت سے ہدایت وضلالت دونوں کے اسباب کا آخری سرا بس اسی کے ہاتھ میں ہے کیونکہ اس کے قانون سے ہدایت ہے اور اسی کے قانون کے مطابق ضلالت پھر جس کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے باعث اللہ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیئے ہوں اور جسے اللہ ہی نے اپنے قانون کے مطابق ان گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتا تھا تو اب اور کون ہے جو اس کو راہ راست پر لاسکے ؟ جس شخص نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا اور جس کی اس خباثت کو دیکھ کر اللہ نے بھی اس کے لئے وہ اسباب فراہم کردیئے جن سے سچائی کے خلاف اس کی نفرت میں اور جھوٹ پر اس کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے اسے آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ قانون نہیں ہے جو خود بھٹکنا چاہے اسے زبردستی ہدایت دے اور کسی دوسری ہستی میں یہ طاقت نہیں کہ لوگوں کے دل بدل دے ، اللہ تعالیٰ نے ہدایت وضلالت کا قانون بنادیا ہے لیکن کون ہے جو اس قانون کی طرف دیکھے یا اپنا تجزیہ کرکے دیکھے کہ میں ہدایت پر ہوں یا گمراہی پر ؟ یہاں تو ہدایت وگمراہی کا معیار آباؤ اجداد کی مذہبی اور مدنی صورت ہے انسان عادتا اکثر وہی کرتا ہے جو اس نے اپنے ماں باپ اور بزرگوں کو کرتے دیکھا اور پھر اگر کوئی دوسرا اس کو راہ دکھانے کی کوشش کرے تو وہ اس کی مخالفت پر تل جاتا ہے اور آباؤاجداد اور ماحول سے حاصل کئے ہوئے راستہ پر قائم رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور مشیت ایزدی کا قانون پہلے ہی یہ موجود ہے کہ جو شخص جس کے لئے کوشش کرتا ہے اس کو حاصل کرلیتا ہے پھر یہ کیونکر ممکن ہو کہ چاہنے والا اور حاصل کرنے والا تو ضلالت وگمراہی چاہے اور حاصل کرے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت دے کر سیدھی راہ پر لگا دے ۔
Ayah 17:98ان کے اعمال کا بدلہ ان کو پورا پورا دیا جائے گا کمی و زیادتی نہیں ہوگی :
116۔ ہاں ! اس دنیا میں ضلالت وگمراہی پر صبر کرنے والوں کا جی آخرت میں ہدایت کا ثمرہ چاہے تو اب ان کی چاہت کے مطابق معاملہ نہیں ہوگا بلکہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ان کو چکایا جائے گا اور ان کو مجبور کردیا جائے گا کہ وہ اپنے کئے کا بدلہ اٹھائیں اگر وہ نہیں چاہیں گے اور یقینا نہیں چائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اوندھے منہ اس طرف پھیر لائے گا کیونکہ یہ بھی وہی قانون خداوندی ہے جس اپنے قانون کے مطابق دنیا میں ان کو ڈھیل دی تھی کہ وہ آزادی سے جو کچھ کرنا چاہیں کریں کیونکہ وہ دارالعمل تھا اور یہ دارالجزاء ہے اب وہ اپنی چاہت سے نہیں بلکہ اپنے اعمال کی جزاء حاصل کرنے کے لئے مجبور محض ہوں گے ، دنیا میں انہوں نے اندھے ‘ بہرے اور گونگے ہو کر اللہ کی ہدایت کو ٹھکرایا اور اب وہ اندھے بہرے اور گونگے کرکے اپنے اعمال کے بدلے مین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے اور پھر ایسے بھی ہوں گے جو ایندھن کا کام دیں گے کہ جلنے والوں پر جب آگ مدھم پڑے گی تو ان کو آگ میں جھونک کر اس کو مزید بھڑکا دیا جائے گا اور یہ انہی کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ہوگا ۔ جس طرح وہ دنیا میں بن کر رہے کہ نہ حق دیکھتے تھے ‘ نہ حق سنتے تھے اور نہ حق بولتے تھے ویسے ہی قیامت کے روز ناحق دیکھنے ‘ ناحق سننے اور ناحق بولنے کے نتیجہ پر مجبور محض کردیئے جائیں گے ، اسی طرح ان کے ساتھ جو کچھ ہوگا انہی کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ ہوگا ۔
ہاں ! دنیا میں وہ جس چیز کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے اور مذاق کیا کرتے تھے کہ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ، اس وقت ان کا مذاق جب حقیقت کا روپ دھارے گا اور واقعتا ان کو اٹھا کر کھڑا کیا جائے گا تو وہ اس سے انکار کیونکر کریں گے اسی طرح ان کا اپنا ہی مذاق کیا ہوا ان کے سامنے لایا جائے گا تو آخر وہ کیونکر آنکھ اٹھا سکیں گے ظاہر ہے کہ اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی ، خیال رہے کہ یہ مادیت جس کا چرچا آج ہے کوئی نوزائیدہ نہیں اس وقت بھی موجود تھی جس وقت قرآن کریم کا نزول ہوا یونان قدیم میں بڑے بڑے ” روشن خیال “ پیدا ہوچکے تھے اور اس کی صدائے بازگشت عرب میں بھی پہنچ چکی تھی ۔ عرب ظہور اسلام سے قبل جس طرح یہودیت ‘ نصرانیت ‘ مجوسیت ‘ صابئیت اور بت پرستی ہر مذہب وملت کا نمائندہ تھا اس طرح مذہب مادیت اور روشن خیالی کے نمائندے بھی موجود تھے اور اسی طرح کی کج بحثیاں اس گروہ کے لوگ کیا کرتے تھے اور اپنے زعم میں روشن خیالی کی کوڑی بہت دور سے لا کر کہتے تھے کہ یہ ممکن کیونکر ہے کہ جب ہڈیاں تک چور چور اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور سارے جسم سڑ گل چکیں گے اس کے بعد از سر نو پیدا کئے جائیں گے ، ایک بڑ نہیں تو آخر اور کیا ہے ؟ قرآن کریم میں ان کی اس ” روشن خیالی “ نہیں بلکہ خبث کا بار بار ذکر کیا گیا ہے لیکن تعجب ہے کہ آج بھی ان لوگوں کی کوئی کمی موجود نہیں اور خصوصا مسلمانوں کے اندر اس وقت یہ لوگ کثرت سے موجود ہیں اگرچہ وہ اس کا اقرار نہ کرتے ہوں لیکن ان اعمال ان کے اس عقیدہ کی مکمل تصدیق کر رہے ہیں اور عمل کی تصدیق بعض اوقات اقرار باللسان کو بہت پیچھے چھوڑ جاتی ہے بلکہ اس کو دوہرا مجرم بنا دیتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے بچائے ۔
Ayah 17:99کیا پہلی بار پیدا کرنے والا دوسری بار پیدا نہیں کرسکتا ؟ آخر اس کی وجہ ؟
117۔ زیرنظر آیت اور قرآن کریم کے دوسرے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں زمین و آسمان بالکل نیست ونابود نہیں ہوجائیں گے بلکہ صرف موجودہ نظام طبعی کو درہم برہم کر ڈالا جائے گا اور اس کے بعد نفخ صدر اول اور نفخ صدر دوم کے درمیان ایک خاص مدت میں جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے زمین و آسمان کی موجودہ ہئیت بدل جائے گی اور ایک دوسرا نظام طبیعت دوسرے قانون فطرت کے ساتھ بنادیاجائے گا اور وہی عالم آخرت ہوگا چناچہ زیر نظر آیت میں فرمایا ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ (ان کو تباہ کر کے) پھر پیدا کر دے اور بلاشبہ اس نے ان کے لئے ایک میعاد مقرر کر رکھی ہے اس میں ذرا بھر بھی شک نہیں ہے ۔ “ اور سورة ابراہیم میں ارشاد فرمایا کہ ” وہ دن جب کہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے اور سب کے سب اللہ واحد وقہار کے سامنے بےنقاب حاضر ہوجائیں گے ۔ “ (ابراہیم 14 : 48)
اس بحث پر بھی لوگوں نے قیامت برپا کر رکھی ہے کہ یہ دوبارہ زندگی اسی گوشت و پوست کے ساتھ ہوگی یا صرف روحانی ہوگی جہاں جسم وجسمانیت کا مطلق گزر نہ ہوگا ؟ قرآن کریم کی مختلف آیتیں ، مختلف پہلوؤں کو پیش کرتی ہیں جن میں اشارتا ہر قسم کی باتیں آجاتی ہیں تاہم قیامت کے متعلق ان آیتوں میں سے ہر ایک پر غور کرو تو تم دیکھو گے کہ کفار کو تعجب ہے کہ کیا ہمارا یہ جسم مر کر پھر جئے گا ؟ کیا ہماری ان گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑے گی ؟ کیا ہم قبروں سے اٹھ کر دوبارہ نکل کھڑے ہوں گے ؟ ان سوالات اور ان جیسے سارے دوسرے سوالات سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی زندگی کے علاوہ زندگی کا کوئی دوسرا مفہوم ان کے حاشیہ خیال میں موجود ہی نہیں ہے مگر ان سوالات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم تعجب نہ کرو اور انکار پر آمادہ نہ ہو کہ تمہارے یہ فنا شدہ جسم نہیں اٹھائے جائیں گے اور نہ تمہاری ان بوسیدہ ہڈیوں میں روح پھونکی جائے گی بلکہ وہ تو سراسر روحانی زندگی ہوگی کیونکہ جب دوبارہ جسمانی زندگی کا تخیل ان کے لئے ناقابل فہم تھا تو خالص روحانی زندگی کا تخیل تو اور بھی ان کے فہم سے بالاتر تھا اور اب بھی ہے کہ ہم اس مادی زندگی کے جاننے والے سرتاپا روحانی زندگی سے بالکل عاجز ہیں ، اس لئے مصلحت الہی اس کی مقتضی تھی کہ وہ اصل واقعہ پر زور دے اور کیسے اور کیوں سے تعرض نہ کرے اور صاحب فہم کو اس کے فہم کے مطابق اس راز کو سمجھنے دے ، چناچہ قرآن کریم کے اس اسلوب بیان کو اگر سمجھنا ہے تو ان آیتوں پر غور کرنا چاہئے :
(آیت) ” وقالواء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید بل ھم بلقآء ربھم کفرون “۔ (السجدہ 32 : 10)
اور انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں کھو جائیں گے کیا ہم نئی پیدائش میں پھر ہوں گے (خدا فرماتا ہے یہ کچھ نہیں بلکہ) یہ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں۔
غور کرو کہ ان کی مادی معدومیت کے بعد مادی پیدائش کے پر تعجب انکار پر اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ یہ شکوک و شبہات اس لئے ان کو پیش آتے ہیں کہ مرنے کے بعد اللہ کی ملاقات اور اس کے سامنے ہونے سے ان کو انکار ہے اور حواشی کو چھوڑ کر اصل مقصود یہی ہے کہ موت کے بعد اور آخرت میں اللہ کے سامنے حاضر ہونے پر یقین رکھا جائے اس سے ان کو کیا مطلب کہ وہ کس طرح ہوگا ؟ چناچہ اس کے بعد فرمایا :
(آیت) ” قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون “۔ (السجدہ 32 : 11)
جواب میں کہہ دے کہ ملک الموت جو تم پر متعین ہے وہ تم کو موت دے گا پھر تم اپنے پروردگا کی طرف لوٹا دیئے جاؤ گے ۔
یہی ملاقات اور رجوع الی اللہ ‘ اس عقیدہ حشر کی اصل روح ہے ۔
بات یہ ہے کہ ہم انہی باتوں کو سمجھ بوجھ سکتے ہیں ، جن کی مثالیں اور نظریں اس مادی دنیا میں ہماری نگاہوں سے گزرتی رہتی ہیں اور وہ عالم جو نگاہوں سے مستور بلکہ تصور سے بھی دور ہے ‘ اس کی باتوں کو اس طرح سمجھنا کہ ہر سوال اور تکرار سوال سے ہم بےنیاز ہوجائیں ، تقریبا ناممکن ہے ‘ ان کے متعلق جو کچھ کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس دیدہ شہرستان وجود یعنی دنیا کے قیاس پر اس نادیدہ شہرستان بقا یعنی آخرت کا ہر نقشہ اور خاکہ بتایا اور سمجھایا جائے اور یہی محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم نے کیا ہے ۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی قدرت پر یقین رکھتے ہیں ان سے تو کچھ کہنا ہی نہیں لیکن جو شخص جسمانی حشر کا تصور اس لئے محال سمجھتا ہے کہ عام انسانوں نے کسی مردہ جسم کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو اس کے نزدیک تنہا روحانی زندگی کا تخیل تو اور بھی زیادہ محال ہونا چاہئے کیونکہ کسی انسانی زندگی کا تصور کرے گا تو جسم وشکل واعضاء کے ساتھ ہی کرے گا ‘ ان سے مجرد ہو کر نہیں کرے گا ۔
موت جسم سے روح کی مفارقت کا نام ہے اس لئے اگر یہ سچ ہے کہ قیامت میں نئی زندگی ملے گی تو ظاہر ہے کہ موت کے بعد کی کیفیت اور صورت سے کوئی الگ صورت اور کیفیت ہوگی جس کا نام حات ثانیہ رکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ روح کا دوبارہ تعلق جسم کے ساتھ تسلیم کیا جائے ورنہ غیر جسمانی زندگی تو قیامت کے پہلے بھی تھی اب نئی بات کیا بڑھ گئی جس کا نام حیات ثانیہ رکھ دیا گیا ۔
گو روح انسانی جسم کے اندر ہر فعل کی فاعل ہے ، مگر فاعل کے فاعل بننے کے آلات اور اوزار کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن کے بغیر وہ اپنے فعل کے بجا لانے سے مجبور رہتا ہے ‘ اسی طرح روح اپنے فعل لذت والم کے انجام دینے لئے جسمانی آلات اور اوزار کی محتاج ہے کہ لذت والم کا کوئی روحانی احساس ‘ جسمانیت کے شائبہ سے مبرا ہو کر ہو ہی نہیں سکتا ‘ اس بناء پر روح محض کا جنت کی لذتوں سے متمتع یا دوزخ کی تکلیفوں سے متالم ہونا ، کسی جسمانی وساطت کے بغیر تصور میں نہیں آتا ‘ خواب میں دیکھو کہ روح کو جو لذت یا تکلیف پہنچتی ہے اس میں بھی جسمانی پیکروہیکل کی صورت نمودار ہوتی ہے ۔
جسم وجسد :
حشر جسمانی ماننے کے بعد یہ بحث بےسود ہے کہ آیا وہی جسم دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ‘ جس کے قابل میں وہ روح پہلے دنیا میں رہی تھی یا کسی دوسرے نئے جسمانی پیکر میں وہ روح پھونکی جائے گی یا یہ کہ آئندہ جسم اپنی مادیت اور ترکیب میں سای دنیاوی جسم کے مماثل ہوگا جبکہ یہ حقیقت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اعمال کی ذمہ داری روح پر ہے جسم پر نہیں اور اسی طرح جزا وسزا کی راحت و تکلیف کا اصلی مورد روح ہے جسم نہیں تو پھر اب وہ کسی قالب میں بھی ہو اور کسی رنگ میں بھی ہو روح پر مواخذہ اور ثواب و عذاب کی لذت والم کا احساس یکساں ہوگا ‘ البتہ یہ ضروری ہے کہ جو جسم ہم کو دوسری دنیا میں ملے گا اس کی خصوصیات ولوازم اس خاکی جسم کے خصوصیات ولوازم سے بالکل الگ ہوں گے ‘ چناچہ خود ہمارے تخیل اور تصور اور نیز خواب ورؤیا میں جو جسم ہم کو نظر آتا ہے وہ جسم ہو کر نظر آنے کے باوجود مادی جسمانیت سے سراسر پاک ہوتا ہے اس لئے لفظ جسم کے بولنے سے ان ہی خصوصیات کا جسم سمجھ لینا ضروری نہیں ہے اور نہ اس جسم پر قیاس کرکے اس جسم پر اشکالات وارد کئے جاسکتے ہیں ۔
خلق جدید :
چناچہ جو جسم قیامت میں عنایت ہوگا وہ نئی خلقت اور نئی آفرنیش کا ممنون ہوگا ‘ اسی لئے قرآن نے منکروں کے جواب میں یہ کہا ہے کہ :
(آیت) ” بل ھم فی لبس من خلق جدیدہ “۔ (ق 50 : 15)
بلکہ یہ لوگ نئی آفرنیش سے شک میں ہیں۔
منکرین کی زبان سے کہلوایا :
(آیت) ” انا لمبعوثون خلقا جدیدا “۔ (بنی اسرائیل 17 : 49)
کیا ہم درحقیقت نئی آفرنیش کرکے اٹھائے جائیں گے ۔
ایک دوسری سورة میں یہ تلقین ہے :
(آیت) ” انکم لفی خلق جدید “۔ (سباء 34 : 7)
بیشک تم ایک نئی آفرنیش میں ہونے والے ہو ۔
پھر تمثیل دے کر فرمایا :
(آیت) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ “۔ (الانبیاء : 21 : 104)
جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا ‘ اسی طرح ہم اس کو دوبارہ بنائیں گے ۔
اسی لئے اس عالم کی اس نئی خلقت وپیدائش والے جسم کو بعینہ اسی جسم کے مطابق سمجھنا صحیح نہیں ہے اور نہ اس خاکی جسم کی تمام خصوصیات کا بعینہ اس جسم میں ہونا ضروری ہے اس کو اگر اس عالم کے لفظ ” جسم “ سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اس لئے کہ ہماری زبان میں روح کے غلاف و قالب کے لئے جسم سے بہتر ‘ قریب تر اور مشابہ تر کوئی دوسرا لفظ نہیں ۔
یہ بات کہ حشر میں بعینہ گزشتہ گوشت و پوست کا ہونا اس لئے ضروری سمجھا جائے کہ وہ بھی عذاب وثواب میں شریک ہوں ‘ تصریح قرآنی پر اضافہ ہے ‘ قرآن میں تو یہ تصریح ہے کہ :
(آیت) ” ان الذین کفروا باتینا سوف نصلیھم نارا کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا لیذوقوا ال عذاب ان اللہ کان عزیزا حکیما “۔ (النسآء 4 : 56)
بلاشبہ جو لوگ ہماری آیتوں کے منکر ہوئے ‘ ہم ان کو آگ میں ڈالیں گے ‘ جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کو اور کھالیں دیں گے ‘ جو پہلی کھالوں کی غیر ہوں گی تاکہ وہ عذاب چکھیں بیشک اللہ غالب اور حکمت والا ہے ۔
جب کھالیں یکے بد دیگرے بدلتی جائیں گی تو پہلا حصہ جسم جو گناہ میں شریک تھا ‘ کہاں باقی رہا ؟ اسی طرح یہ تصریح ہے کہ انسان کے ہاتھ ‘ پاؤں اور کھالیں اس کے اعمال پر شہادت دیں گی ‘ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اصلی مجرم جو ان اعمال کا ذمہ دار اور اس مقدمہ کا مدعا علیہ ہے ‘ ان جسمانی اعضاء کے علاوہ ہے اور وہ روح انسانی ہے ۔
ذمہ داری روح پر ہے :
یہی سبب ہے کہ موت وحیات ‘ عذاب وثواب کے مواخذہ کا اسلام نے جس سے تعلق بنایا ہے وہ نفس یعنی روح ہے ۔
(آیت) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت فی جنب اللہ “۔ (الزمر 39 : 56)
تو (قیامت میں) کوئی نفس یہ کہنے لگے کہ اے افسوس اس پر کہ میں نے اللہ کے پہلو میں کمی کی ۔
(آیت) ” ولتنظر نفس ما قدمت لغد “۔ (الحشر 59 : 18)
اور چاہئے کہ ہر نفس دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے لئے کیا آگے بھیجا ۔
(آیت) ” علمت نفس ما احضرت “۔ (التکویر 81 : 14)
(اس دن) ہر نفس جان لے گا جو اس نے حاضر کیا ۔
(آیت) ” علمت نفس ما قدمت واخرت “۔ (الانفطار 82 : 5)
(اس دن) ہر نفس جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا۔
(آیت) ” فلا تظلم نفس شیئا “۔ (الانبیآء 21 : 47)
(تو اس دن) کسی نفس پر کوئی ظلم نہ ہوگا ۔
جنت کی نسبت ہے :
(آیت) ” فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین “۔ (السجدہ 32 : 17)
کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے (جنت میں) کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے ۔
ان آیتوں میں دیکھو کہ علم کی ذمہ داری اور اس کے اچھے اور برے نتیجوں کا بار جسم پر نہیں بلکہ روح اور نفس پر ڈالا گیا ہے اور اسی کو تکلیف ولذت سے آشنا کیا گیا ہے ، جنت میں داخلہ کی خوشخبری بھی اسی کو دی گئی ہے ۔
(آیت) ” فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی “۔ (الفجر 89 : 29 ، 30)
اے مطمئن روح ! میرے بندوں میں شامل اور میری جنت میں داخل ہوجا۔
دنیاوی جسم بدلتے رہنے پر بھی وہی جسم رہتا ہے :
غرض اعمال اور ان کے نتائج کے اصل ذمہ دار اور جنت و دوزخ کی لذت والم کی اصل احساس کرنے والی ہستی صرف روح ہے اور جسم کی حیثیت صرف ایک لباس وآلہ احساس کی ہے ‘ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ جسم لاکھ بار بدلے مگر روح اگر وہی ہے تو وہ انسان وہی ہے اور اس کو اپنی ذمہ داری کی جزا وسزا مل رہی ہے ۔
لوگ اپنی ظاہر بنی سے اصل زور جسم پر دیتے ہیں حالانکہ اس مٹی کے ڈھیر میں اگر روح کا خزانہ چھپا نہ ہو تو پھر اس مشت خاک میں دھرا کیا ہے دیکھو انسان بچپن سے لے کر بڑھاپے تک وہی ایک شخص ہے جو پہلے تھا حالانکہ اس کی جسمانی ہئیت اور اس کے جسم کا مادہ ہر آن اور ہر لمحہ فنا ہو کر بدلتا رہتا ہے ‘ بیماریوں میں وہ سوکھ کر کانٹا ہوگیا ، پھر تندرستی کے بعد نئے ذرات داخل ہو کر لہلہائے ‘ تم غلطی سے یہ سمجھتے ہو کہ ہر حال میں وہی جسم یکساں طور پر قائم ہے حالانکہ حکیم سے پوچھو تو وہ بتائے کہ اس کے ذرے کیونکر ہر آن جھڑتے اور گھستے رہے اور جو خوراک وہ کھاتا رہا وہ خون ہو کر کیونکر بدل ما یتحلل بنی ‘ ان کی جگہ لیتی رہی ‘ پھر کیا ایسے ہر آن فنا ہوتے رہنے والے اور چند سال کے بعد بالکل بدل جانے والے کو دائم الوجود اعمال کا ذمہ دار اور ان کے نیک وبد کی اصلی جزا یا سزا پانے کا مستحق ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ لیکن جس طرح دنیا میں اگر کوئی مجرم آج بھاگ گیا اور چند سال کے بعد پکڑ کر جب لایا گیا تو یہ عذر نہیں کرسکتا کہ چونکہ وہ ہاتھ جس سے اس نے چوری کی تھی اور وہ پاؤں جن سے وہ مال لے کر بھاگا تھا اس عرصہ دراز میں بدل گئے ہیں اس لئے وہ لائق تعزیر نہیں کیونکہ وہ روح جس نے اپنے ارادہ ونیت سے اس کام کو اس کے ہاتھوں اور پاؤں کے ذریعہ کرایا تھا جس طرح کل تھی بعینہ آج بھی ہے اور جو تکلیف اس کو اپنے پہلے جسم کے ذریعہ کل پہنچ سکتی تھی بعینہ آج بھی پہنچ سکتی ہے اور اس جسمانی تغیر سے اس کی روحانی شخصیت میں اصلا کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا ، اس لئے پہلے ہی جسم کے ضروری ہونے پر زور دینا بےسود ہے ‘ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ جسم اگر بدل بھی جائے تو اعضاء کی شہادت کا مسئلہ اپنی جگہ پر صحیح ہوگا ، جسم کے اعضاء دنیا میں بدلتے جاتے ہیں مگر جو بیماری اگلے اجزاء میں پیدا ہوگئی تھی وہ ان کے فنا ہوجانے کے بھی قائم رہتی ہے ‘ مٹ نہیں جاتی بلکہ وہی ان کے بعد کے آنے والے اجزاء میں برابر سرایت کرتی رہتی ہے ۔
اخروی جسم کیسا ہوگا ؟
روحوں کو آخرت میں جو جسم ملیں گے وہ حقیقت میں ان کے اعمال ہی کے ظل وعکس ہوں گے یعنی جیسے اعمال ہوں گے ویسے ہی ان کو جسم عنایت ہوں گے ‘ چناچہ اس دنیا کے جسمانی رنگ کے لحاظ سے خواہ کوئی کالا ہو یا گورا مگر اس دنیا میں اس کا یہ کالا پن اعمال کی سیاہی وسپیدی کی صورت میں بدل جائے گا اللہ نے فرمایا :
(آیت) ” وجوہ یومئذ مسفرۃ ضاحکۃ مستبشرۃ ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ترھقھا قترۃ “۔ (عبس 80 : 38 تا 41)
کتنے چہرے اس دن روشن ہنستے اور شاد ہوں گے اور کتنے چہروں پر اس دن کدورت ہوگی اور ان پر سیاہی چھائی ہوگی ۔
(آیت) ” یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکْفَرْتُم بَعْدَ إِیْمَانِکُمْ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ (106) وَأَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوہُہُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّہِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (107) (آل عمران 3 : 106)
جس دن کتنے چہرے سپید ہوں گے اور کتنے کالے لیکن جن کے چہرے کالے ہوئے کیا تم وہ ہو جو ایمان کے بعد پھر کافر ہوگئے تھے ‘ تو اپنے کفر کرنے کے بدلہ عذاب کا مزہ چکھو اور جن کے چہرے سپید ہوئے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اسی میں سدا رہیں گے ۔
صحیح حدیثوں میں ہے کہ جنت میں سب لوگ جوان بن کر داخل ہوں گے اور جسم پر کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا ، ان کا قدم حضرت آدم (علیہ السلام) کے اولین بہشتی قد کے مطابق ہوگا ‘ دوزخیوں میں سے کسی کا سر پہاڑ کے برابر ہوگا ‘ کسی کا ایک پہلو مفلوج ہوگا ‘ کسی کے ہونٹ لٹکے ہوں گے ‘ دل کے اندھے ‘ آنکھوں کے اندھے بن کر اٹھیں گے ‘ سزاؤں کے بعد جب ان کے جسم چور چور ہوجائیں گے ‘ تو پھر صحیح وسالم نئے جسم نمودار ہوں گے اور پھر ان کی وہی کیفیت ہوگی ‘ یہ بھی آیا ہے کہ جو اپنے کو بڑا سمجھتے ہیں ‘ وہ چیونٹی بن کر قیامت میں اٹھیں گے ‘ ان تمام شواہد سے ہویدا ہے کہ اس دنیا کے جسمانی قالب ہمارے اس دنیاوی جسم کے مطابق نہیں بلکہ ہمارے دنیاوی اعمال کے مطابق ہوں گے ۔
Ayah 17:100حیات اخروی پر رحمت الہی کی وسعت سے استدلال کیا ہے اس کی حقیقت ؟ :
118۔ انسان کی زندگی کیا ہے ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا فیضان ہے ، یہ رحمت ہے جو چاہتی تھی کہ وجود ہو ‘ بناؤ ہو ‘ حسن ہو ‘ کمال ہو ‘ اور اس لئے سب کچھ ظہور میں آگیا ۔ اچھا اگر رحمت الہی کا یہ مقتضی ہوا کہ انسان کو زندگی ملی تو کیا اس رحمت کا مقتضی یہ نہ ہونا چاہئے تھا کہ زندگی صرف اتنی ہی نہ ہو اس کے بعد بھی ہو اور رحمت کا فیضان برابر جاری وساری رہے ؟ اس کی رحمت ابدی ہے پھر کیا اس کا فیضان رحمت دائمی نہ ہوگا ؟ اگر دائمی ہونا چاہئے تو کیوں انسانی زندگی اس سے محروم رہ جائے ؟ کیوں اس گوشہ میں کہ مخلوقات ارضی کا سب سے بلند گوشہ ہے وہ ایک بہت ہی محدود اور حقیر حد سے محروم رہ جائے ؟ کیوں اس گوشہ میں کہ مخلوقات ارضی کا سب سے بلند گوشہ ہے وہ ایک بہت ہی محدود اور حقیر حد سے آگے نہ بڑھے ؟ انسان کی دنیوی زندگی کی مقدار کیا ہے ؟ محض چند گنے ہوئے دنوں کی زندگی پھر کیا اللہ کی رحمت کا فیضان اتنا ہی تھا کہ چار دن کی زندگی پیدا کر دے اور وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے ؟ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں دے سکتی تھی ؟ چناچہ زیر نظر آیت میں فرمایا (آیت) ” قل لوانتم تملکون خزآئن رحمۃ ربی اذا ال مسکنتم خشیۃ الانفاق “۔ ” ان منکروں سے کہہ دو اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضہ میں ہوتے تو ضرور تم ہاتھ روک کر خرچ کرتے کہ کہیں خرچ نہ ہوجائیں ۔ “ لیکن وہ تمہارے قبضہ میں نہیں ہیں وہ اس کے قبضہ میں ہیں جس کی بخشش کی کوئی انتہا نہیں ‘ جس کے خزانے کبھی ختم ہونے والے نہیں جس کا فیضان دائمی اور لگا تار ہے ۔
Ayah 17:101موسیٰ (علیہ السلام) پر اتاری گئی نونشانیوں کا ذکر اور قوم کا جادو قرار دینا :
119۔ زیر نظر آیت میں کفار مکہ کے معجزات کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے ، کفار کہتے تھے کہ ہم تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تم یہ کام کر کے نہ دکھاؤ اور اب جواب میں ان کو کہا جارہا ہے کہ تم سے پہلے فرعون کو ایسے ہی صریح معجزات پے درپے 9 تک دکھائے گئے لیکن نہ ماننے والوں نے کیا ان کو مان لیا ؟ اگر نہیں تو کیا ہم نے نہ ماننے والوں کو پھر چھوڑ دیا تھا ؟ نہیں ‘ تو ہماری سنت یہی چلی آرہی ہے کہ ہم نشانیاں اتار دیتے ہیں جب چاہتے ہیں اور پھر وہ قوم جس کو کوئی نشانی دکھائی جاتی ہے اگر اس نشانی کو دیکھ کر باز نہ آئے تو ہم اس کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں ، کیا ہم نے فرعون کو جب کہ وہ ساری نشانیوں کو جھٹلا چکا تھا چھوڑ دیا ؟ ہم نے نہ تو اس کو چھوڑا اور نہ ہی اس کی قوم کو بلکہ سب کو بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے غرق کردیا ، تو پھر اس وقت نشانیان طلب کرنے والوں کو ہماری یہ سنت یاد نہیں رہی ۔
ان نشانیوں کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے اگر دیکھنا منظور ہوں تو ” عروۃ الوثقی “ جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 131 تا 135 میں بیان کی گئی ہیں وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ، انجام کار صرف یہی نہیں کہ فرعون نے ان کو تسلیم نہ کیا بلکہ الٹا موسیٰ (علیہ السلام) پر سحر زدہ ہونے کا الزام لگا دیا ۔
ان نشانیوں کا ذکر چونکہ قرآن کریم میں آچکا ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا اس لئے ہم نے ان کا ذکر کردیا ورنہ احادیث میں تو ان نشانیوں کی تفصیل اس طرح کی گئی ہے کہ ” ایک یہودی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ مجھے اس نبی کے پاس لے چلو ، ساتھی نے اس کو کہا کہ نبی نہ کہو اگر اس کو خبر ہوگئی کہ ہم بھی اس کو نبی کہتے ہیں تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی یعنی ان کو فخر ومسرت کا موقع مل جائے گا پھر یہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو آیات بینات دی گئی تھیں وہ کیا ہیں ؟ اس کے جواب میں نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا :
1۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔
2۔ چوری نہ کرو ۔
3۔ زنا مت کرو ۔
4۔ جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرو ۔
5۔ کسی بےگناہ پر جھوٹا الزام لگا کر قتل وسزا کے لئے پیش نہ کرو ۔
6۔ جادو نہ کرو ۔
7۔ سود نہ کھاؤ ۔
8۔ پاک دامن عورتوں پر بدکاری کا بہتان نہ باندھو۔
9۔ میدان جہاد سے جان بچا کر نہ بھاگو اور اے یہود خاص کر تمہارے لئے یہ بھی حکم ہے کہ یوم السبت کے جو خاص احکام تم کو دیئے گئے ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو ۔ نبی کریم ﷺ سے یہ بات سن کر دونوں نے آپ ﷺ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کے نبی ہیں ۔ (ابوداؤد ‘ نسائی ‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں بسند صحیح عن صفوان بن عسال)
Ayah 17:102موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی فرعون کے الزام کا فورا جواب سنا دیا :
120۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو واضح اور کھرا جواب سنا دیا کہ اے فرعون تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب السموات کے سو کسی نے نازل نہیں کی اور نہ ہی کوئی نازل کرسکتا تھا ، یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کے اور زور دے کر فرمائی اس لے کہ کسی ملک پر قحط آجانا یا لاکھوں مربع میل زمین پر پھیلے ہوئے علاقے میں مینڈکوں کا ایک بلا کی طرح نکلنا اور تمام ملک کے غلے کے گوداموں میں گھن لگ جانا یا ٹڈی دل کا اٹھنا اور سارے ملک کی ہریاول کو دیکھتے ہی دیکھتے چٹ کرجانا یا سارے ملک میں ہر طرح کے پانیوں کا بدبودار اور جراثیم ہی جراثیم ہو کر رہ جانا اور جوؤں کی وبا اٹھنا تو سارے ملک کے لوگوں کو ان کپڑوں ‘ بستروں اور چارپایوں کا جوئیں ہی جوئیں ہوجانا طوفان کا اٹھنا اور پورے ملک کے حالات کو تہ وبالا کے کے رکھ دینا اور ایسے دوسرے سارے مصائب کسی جادوگر کے جادو یا کسی انسان طاقت کے کرتب سے رونما نہیں ہوسکتے تھے پھر خصوصا جب ہر بلا کے نزول سے قبل موسیٰ (علیہ السلام) وحی کا اعلان عام بھی کردیتے کہ اگر تم اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو اس صورت حال سے تم دوچار ہوجاؤ گے اور پھر ٹھیک ان کے اعلان کے مطابق وہی بلا پورے ملک مصر کو اپنے نرغے میں لے لیتی تھی تو صورت حال پر ایک دیوانہ یا ایک سخت ہٹ دھرم آدمی ہی یہ کہہ سکتا تھا کہ ان بلاؤں کا نزول رب السموات والارض کے سوا کسی اور کی کارستانی کا نتیجہ ہے ، اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے مزید فرعون کو یہ بھی کہہ دای کہ اے فرعون ! میرا خیال تو یہ ہے کہ تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے کیونکہ تیرا ان نشانیوں کو پے درپے دیکھنے کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنا صاف بتا رہا ہے کہ تیری شامت آج نہیں تو کل ضرور آنے والی ہے اور تیرا حشر یقینا عبرتناک ہوگا ۔
Ayah 17:103فرعون نے موسیٰ اور اسکے ماننے والوں سے ملک کو پاک کردینا چاہا تو ہم نے اسکو غرق کردیا :
121۔ جب فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور دوسرے بنی اسرائیل کو ملک سے نکل جانے کی اجازت بھی نہ دی اور ان کو اپنے ملک کے اندر ہی رکھ کر مجبور محض بنا دینا چاہا تو ہمارا قانون غیرت جاگ پڑا جس کا نتجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس کے اور اس کے ماننے والوں کے غرق کردینے کا پختہ ارادہ کرلیا پھر کوئی نہ ہوا جو ہمارے ارادہ کو روک سکتا ، اسی طرح ہم نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون کو مع اس کے لاؤلشکر کے آن کی آن میں غرق کرکے رکھ دیا اور ہمارے قانون کی گرفت جب آتی ہے تو وہ بہت ہی سخت آتی ہے اس طرح فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا مختصر ذکر کرکے مکہ والوں کو یہ بات سمجھا دی گئی کہ اگر تم نے بھی وہی روشن اختیار کی جو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اختیار کی تھی تو یاد رکھو تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو فرعون اور اس کے لوگوں کا ہوا اور پھر جو بات اس جگہ بطور پیش کی گئی اس بات نے مکہ والوں کو آگھیرا اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی ہجرت کا وقت آیا تو آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دے کر مدینہ طیبہ میں محفوظ جگہ پہنچا دیا اور آپ ﷺ کے نکلنے کی دیر تھی کہ ہم نے مکہ والوں کو قحط اور میدان جنگ میں نہتوں سے ہتھوں والوں کو مروا کر ثابت کردیا کہ مکہ والے عذاب الہی کی زد میں ہیں ۔ مکہ والوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی مخالفت کے باوجود اس پیش گوئی کو مان لیا اور آپ ﷺ سے قحط اٹھائے جانے کی عرض رب العزت کی بارگاہ میں پہنچانے کی درخواست کردی اور آپ ﷺ نے ان کی یہ درخواست رب ذوالجلال والا کرام کی خدمت میں پیش کردی اور مکہ والوں کی مدد واعانت بھی فرمائی ۔
Ayah 17:104فرعونیوں کو غرق کرکے ہم نے اس زمین کو بنی اسرائیل کے سپرد کردیا :
122۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ مصر سے ہجرت کر گئے تھے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے ان کا پیچھا کیا اور واپس نہ آسکے وہیں غرق کرکے رکھ دیئے گئے بعد ازیں اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کا واپس آکر مصر میں رہنا ثابت نہیں اور یقینا وہ دوبارہ مصر تشریف لا کر آباد بھی نہ ہوئے تھے تاہم مصر کا انتظام بنی اسرائیل ہی کے سپرد کیا گیا جس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ ہجرت کے بعد واپس مکہ مکرمہ جا کر رہائش پذیر نہ ہوئے لیکن اللہ نے مکہ فتح کرا دیا اور وہاں کا سارا نتظام آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں ہی کے سپرد کردیا گیا ، اسی طرح مصر کا انتظام موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم بنی اسرائیل ہی کے سپرد ہونا چاہئے تھا اور آپ ہی کے سپرد ہوا (آیت) ” فاذا جآء وعد الاخرۃ “۔ سے مراد کیا ہے ؟ اس وعدہ سے کئی ایک احتمالات بیان کئے گئے ہیں اور اپنی اپنی جگہ سارے ہی صحیح ہیں مطلب یہ ہے کہ جس کو بھی مان لیا جائے مانا جاسکتا ہے ۔ آخرت کے وعدہ سے مراد قیامت تو عام طور پر جانا پہچانا ہے کیونکہ اس کا وعدہ ہر ایک نبی کی امت سے واضح اور بین ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کہانی کو چونکہ اس جگہ ختم کیا گیا اس لئے یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ اب تو دونوں فریقوں کے ساتھ جو کچھ ہونا طے تھا ہوگیا اب تو سب کو میدان حشر میں ایک بار پھر آمنے سامنے کھڑا کردیا جائے گا تم میں سے ہر قسم کے لوگ مومن ‘ کافر ‘ نیک وبد سب کو مخلوط کر کے لائیں گے تاکہ تمہارا فیصلہ کیا جائے ، لیکن آنے والی آیت میں چونکہ (آیت) ” وبالحق انزلناہ وبالحق نزل “۔ کے الفاظ آرہے ہیں جس سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ ہی کی تشریف آوری اور آپ ﷺ پر پیغام الہی کا نزول ہے اس لئے (آیت) ” وعدالاخرۃ “۔ سے مراد آپ کا آنا بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی کہ ؤپ کی بعثت کا ایک خاص وعدہ تھا جو دوسرے انبیاء کرام کی طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی لیا گیا تھا اور اس کی تصدیق وتائید آنے والی آیت 108 بھی کررہی ہے جہاں (ان کان وعد ربنا مفعولا) کے الفاظ آئے ہیں ۔ اس صورت میں اکٹھا کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم کو پاک سرزمین یعنی ارض مقدس سے آنے والے وقت میں بےدخل کردیا جائے گا اور یہ بھی کہ اس سلسلہ بنی اسرائیل کو ختم کرکے بنی اسمعیل کی طرف منتقل کردیا جائے گا اور وہاں لے جاکر اس سلسلہ نبوت کو بالکل ختم کردیا جائے گا ، گویا نبی اعظم وآخر ﷺ پر یہ وعدہ اپنے انجام اور اختتام کو پہنچ جائے گا اور یہی ہوا جس کا موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا گیا تھا :
Ayah 17:105قرآن کریم کا نزول حق کے ساتھ ہوا اور حق ہی اس میں بیان کیا گیا :
123۔ نبی ورسول کی تعلیم کی حفاظت اس کے صحیفہ الہی کی حفاظت پر موقوف ہے ، قرآن کریم سے پہلے کوئی کتاب الہی دانستہ اور نادانستہ لفظی تحریفات اور تصرفات سے پوری طرح ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں رہی لاکھوں پیغمبروں میں سے چند کے سوا کسی کا کوئی صحیفہ آج دنیا میں باقی نہیں اور جو باقی ہے وہ فنا ہو کر نئے نئے قالب میں بدلتا رہا ہے ، تورات جل جل کر خاک ہوئی پھر ان سوختہ اوراق اور یادداشتوں سے تحریر کی گئی اور ترجموں کی تحریفات سے اپنی اصل کھو بیٹھی ، انجیل میں تحریف وجعل تو اس وقت شروع ہوچکا تھا پھر مترجموں کی کتروبیونیت نے حقیقت بالکل مشتبہ کردی زردشت کا صحیفہ سکندر کی نذر ہوا اب صرف گا تھا کا ایک حصہ بچا کھچا رہ گیا ، ان کتابوں کا یہ حال اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی اور آخری کتابیں بنا کر نہیں بھیجا تھا لہذا ان کتابوں کی دائمی حفاظت کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا لیکن قرآن کریم کی نسبت یہ وعدہ ہوا کہ وہ ہمیشہ کے لئے باقی اور محفوظ رہے گا ، اس کی بقا اور حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی اور فرمایا اور کس وثوق سے فرمایا ۔
(آیت) ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون “۔ (الحجر 15 : 9)
ہم نے اس نصیحت (کی کتاب) کو اتارا اور بلاشبہ ہم ہیں اس کی حفاظت کرنے والے ۔
یہ وعدہ الہی ایک اور آیت میں ان الفاظ میں دہرایا گیا ہے :
(آیت) ” ان علینا جمعہ وقرانہ فاذا قرانہ فاتبع قرانہ ثم ان علینا بیانہ “۔ (القیامہ 75 : 17 تا 19)
بیشک ہمارے ذمہ ہے اس (قرآن) کو سمیٹ کر رکھنا اور اس کا پڑھنا پھر جب ہم پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کے ساتھ رہ ‘ پھر بلاشبہ ہم پر ہے اس کو کھول کر بتانا ۔
اس آیت میں قرآن کی قرات یعنی لفظ وعبارت اور بیان یعنی معنی دونوں کی ذمہ داری خدائے تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی ہے تیسری آیت میں اس کی تصریح ہے کہ اس حق میں باطل کی آمیزش کبھی راہ نہ پا سکے گی ، فرمایا :
(آیت) ” وانہ لکتب عزیز لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمیدہ “۔ (حم السجدہ 41 : 41 ، 42)
اور بیشک یہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو غالب ہے ‘ باطل نہ اس کے سامنے سے اور نہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آئے گا ‘ ایک حکمت والے اور خوبیوں والے کی طرف سے اترا۔
اس کتاب کو غالب فرمایا گیا یعنی جو اپنے ہر حریف کو اپنے دلائل کے زور سے پست کرے گی ‘ باطل نہ اس کے سامنے سے اس میں مل سکتا ہے اور نہ پیچھے سے یعنی نہ لفظ وعبارت کی طرف سے اور نہ حقیقت ومعنی کی جہت سے کیونکہ وہ ایک حکمت والے کی طرف سے اتری ہے ‘ اس لئے وہ اپنی حکمت و دانائی کی تعلیم سے غالب رہے گی اور چونکہ وہ ایک سراسر خوبیوں والے کی جانب سے عطا ہوئی ہے اس لئے ہر باطل کے عیب سے پاک رہے گی ۔
یہ قرآن کا اپنا دعوی ہے اور ساڑھے چودھے سو برس کی تاریخ اس کی صداقت پر گواہ ہے ۔
ختم نبوت :
مقدمات بالاکا نتیجہ گو خود یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی کی قرآن کے بعد کسی صحیفہ کی اور اسلام کے بعد کسی دین کی ضرورت نہ ہو لیکن وحی محمدی نے ہر شک کے ازالہ کے لئے آگے بڑھ کر یہ تصریح بھی کردی کہ اب نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا اور اب آپ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں کہ دین کامل اور صحیفہ الہی محفوظ ہوچکا اور ہدایت ربانی کے دروازہ کے بند ہونے کا خطرہ دور ہوگیا ‘ چناچہ خود تاریخ انسانی گواہ ہے کہ بعثت محمدی کے بعد دنیا کی حالت بدل گئی ‘ متفرق قومیں پیوستہ ہوگئیں ‘ زمین کے کونے ایک دوسرے سے مل گئے اور توحید کامل کا غلغلہ عرش سے فرش تک بلند ہوگیا اور خدا کے تمام رسولوں کو سچا اور صادق ماننے کا ولولہ آہستہ آہستہ ترقی پانے لگا یہاں تک کہ ان قوموں نے بھی جو مسلمان نہیں ہوئیں ان دونوں صداقتوں کو اصولا تسلیم کرلیا ۔
وحدت ادیان اور دین اسلام :
تفصیل بالا کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ وحدت ادیان کا منشا کیا ہے یعنی یہ کہ اصل میں ایک ہی دین ہے جو تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا مذہب رہا لیکن وہ بعد کو ان کے پیروں کے صحائف میں تحریف و تصرف کے سبب بگڑتا رہا ‘ اسی دین ازلی کو لے کر محمد رسول اللہ ﷺ آئے اور اسی کا نام اسلام ہے جو اپنے صحیفہ کی بقاء و حفاظت اور دین کی تکمیل اور نبوت کے اتمام کے سبب سے ہمیشہ قائم و باقی رہے گا ، اگر تمام مذاہب سابقہ اپنے اپنے اس اصل دین پر آجائیں ‘ جس کی تعلیم ان کے پیغمبروں نے دی تھی تو وہ وہی دین ازلی ہوگا جس کا نام اسلام ہے اور نوحی ، ابراہیمی ، عیسوی ، اور محمدی دینوں میں سوائے اجمال کے کوئی فرق نہ رہے گا ‘ اسی لئے فرمایا گیا :
(آیت) ” یا ایھا الذین اوتوا ال کتاب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا اونعلعنھم کما لعنا اصحب السبت “۔ (النساء : 4 : 47)
اے وہ لوگو جن کو پہلے کتاب دی گئی اس سے پہلے کہ ہم چہروں کا بگاڑ دیں اور ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا سبت کے گنہگاروں پر جس طرح لعنت کی تھی ‘ ہم ان پر لعنت کریں اس وحی پر ایمان لاؤ جو ہم نے اب اتاری (قرآن) جو ان تعلیمات کی جو تمہارے پاس ہیں تصدیق کرتی ہے ۔
مشرکین عرب سے زیادہ اہل کتاب کو اس حقیقت کے سمجھنے کا استحقاق تھا ‘ اس لئے انہی کو سب سے پہلے اس کا منکر نہ ہو چاہئے ۔
(آیت) ” وامنوا بما انزلت مصدقالما معکم ولا تکونوا اول کافر بہ “۔ (البقرہ : 2 : 41)
اور جو کتاب ہم نے اب اتاری جو تمہارے پاس والی کتاب کو سچا بتاتی ہے اس پر ایمان لاؤ اور تم ہی پہلے کافر نہ بنو۔
لیکن ان کی حالت یہ ہوئی کہ :
(آیت) ” واذاقیل لھم امنوا بما انزل اللہ قالوا نؤمن بما انزل علینا ویکفرون بما ورآء ہ وھو الحق مصدقالما معھم “۔ (البقرہ : 2 : 91)
اور جب ان سے کہا گیا کہ خدا نے جو بھی اتارا اس پر ایمان لاؤ تو جواب دیا کہ جو ہم پر اترا ہم اس کو مانتے ہیں اور وہ اس کے سوا کا انکار کرتے ہیں حالانکہ یہی (قرآن) حق ہے اور جو ان کے پاس ہے اس کی تصدیق کرتا ہے ۔
اس کے برخلاف محمد رسول اللہ ﷺ نے جس دن کو پیش کیا اس کی بنیاد تمام اگلی نبوتوں اور کتابوں کی صداقت کے تسلیم کرنے پر رکھی گئی ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام نے مسلمان ہونے کے لئے صرف یہی ضروری نہیں قرار دیا کہ وہ تنہا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان لائے بلکہ یہ بھی قرار دیا کہ وہ تمام اگلی نبوتوں اور صحیفوں پر بھی ایمان لائے چناچہ خود قرآن کی شہادت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو صرف اسی کی تکلیف نہ تھی کہ آپ ﷺ کے ہم وطن آپ ﷺ کے صحیفہ کو نہیں مانتے تھے بلکہ اس کی بھی تھی کہ وہ اگلے صحیفون کو بھی نہیں مانتے تھے ، سورة سباء میں ہے :
(آیت) ” وقال الذین کفروا لن نؤمن بھذا القران ولا بالذی بین یدیہ “۔ (سباء 34 : 31)
اور منکروں نے کہا کہ ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے اور نہ اس سے اگلی کتاب پر (یعنی تورات پر)
اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے تصریح کے ساتھ فرمایا کہ جو میری عبدیت اور رسالت کے ساتھ عیسیٰ بن مریم کو بھی اللہ کا بندہ اور اس کا رسول اور کلمہ اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی روح تسلیم کرے گا ‘ وہ جنت میں جائے گا (بخاری کتاب الانبیاء ذکر عیسیٰ )
الغرض وہ ازلی ‘ ابدی دین صرف ایک ہی تھا اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) اسی ایک پیغام کو لے دنیا میں آئے تھے ‘ یہی وحدت دین کی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن نے اپنے الفاظ میں ادا کیا ہے :
(آیت) ” یایھا الرسل کلو من الطیبت واعملوا صالحا انی بما تعملون علیم وانہ ھذہ امتکم امۃ واھدۃ وانا ربکم فاتقون فتقطعوا امرھم بینھم زبرا کل حزب بما لدیھم فرحون “۔ (المؤمنوں 23 : 51 تا 53)
اے پیغمبر ! ستھری چیزیں کھاؤ اور بھلا کام کرو میں تمہارے کاموں سے آگاہ ہوں اور بیشک تم سب کی امت ایک امت ہے اور میں تم سب کا (ایک) پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرتے رہو ‘ تو ان کے پیروں نے اپنے مذہب کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ‘ ہر فرقہ اپنے پاس کے خیال پر نازاں ہے ۔
اس حقیقت کی مزید تشریح آنحضرت ﷺ نے اپنے ان الفاظ میں فرمائی ہے :
(الانبیا اخوۃ لعلات امھاتھم شی ودینھم واحد) (بخاری کتاب الانبیاء ‘ ذکر عیسیٰ علیہ السلام)
تمام انبیاء ایسے بھائی ہیں جن کا باپ ایک ہے اور مائیں مختلف ہیں اور انکا دین ایک ہے ۔
Ayah 17:106قرآن کریم کو نجما نجما نازل کیا گیا تاکہ آپ بھی ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں :
124۔ قرآن کریم کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے متفرق طور پر اتارا ہے اور اس طرح پورا قرآن کریم 23 سال کے عرصہ میں نازل ہوا اس لئے کہ آپ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور یہ بھی کہ ہم نے قرآن کریم میں حق و باطل کو بالکل جدا اور الگ الگ کردیا جس سے حق و باطل میں فرق واضح اور عیاں ہوتا ہے اور اس میں حکمت یہ رکھی گئی ہے کہ لوگوں کو سمجھنے اور یاد کرنے میں آسانی ہو۔ بات واضح اور صاف ہوگئی کہ قرآن کریم کو تیز تیز روا دواں نہ پڑھو بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ہر ایک آیت پر ٹھہرو تاکہ ذہن پوری طرح کلام الہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت وہیبت دل پر طاری ہو ‘ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے تو دل جذبات تشکر سے لبریز ہوجائے کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو ۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے ۔ غرض یہ قرات محض قرآن کریم کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لئے نہیں بلکہ غور وفکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہئے نبی اعظم وآخر ﷺ کی قرات کا طریقہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا آپ ﷺ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے مثال کے طور پر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپ ﷺ اللہ ‘ رحمن اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے ، (بخاری ومسلم) سیدہ ام سلمہ ؓ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صیا اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک آیت کو الگ الگ کر کے پڑھا کرتے تھے اور ہر آیت پر ٹھہر جاتے تھے مثلا (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ پڑھ کر رک جاتے پھر ” الرحمن الرحیم “ پڑ ٹھہرتے اور اس کے بعد رک کر ” ملک یوم الدین “ کہتے ۔ (مسند احمد ‘ ابو داؤد ‘ ترمذی)
ایک دوسری روایت میں سیدہ ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ایک ایک لفظ واضح طور پر پڑھا کرتے تھے ، (ترمذی ‘ نسائی) حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ کی قرات کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے اور جہاں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کا موقع آتا وہاں پناہ مانگتے ۔ (مسلم ونسائی) ابوذر ؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب نبی اعظم وآخر ﷺ اس مقام پر پہنچے کہ
(آیت) ” ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم “۔ (المائدہ 5 : 118)
اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو غالب آنے والا حکمت والا ہے ۔ “
تو اس آیت کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی ، (مسند احمد بخاری)
اس بات کو قبل ازیں ہم کتنے ہی مقامات پر تحریر کرتے آئے ہیں اور یہاں بھی بیان کردی ہے اس لئے کہ قارئین کرام اپنے قاریوں ‘ مولویوں اور حافظوں سے قرآن کریم کی تلاوت سنتے ہی رہتے ہیں کیا ان شرطوں میں سے کوئی ایک شرط بھی پوری ہوتی نظر آتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کی ہدایات دوبارہ ‘ تلاوت قرآن کریم کیا ہیں اور ہم کر کیا رہیں ؟ صلوۃ التراویح میں ‘ رات کی نمازوں میں ‘ صبح کی نمازیں اور جمعہ کی نمازیں تلاوت آج بھی ہوتی ہے کی نبی اعظم وآخر ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق یا اپنے رواج کے مطابق ؟ پھر اگر رواج واقعتا طریقہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہے تو ہمارا فرض کیا بنتا ہے اور ہم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟ کیا ہم نے کبھی اس کے متعلق غور وفکر اور تدبر کیا بھی ہے ؟ اگر کسی عمل میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ کیا کسی دوسری حدیث میں ان احادیث کے خلاف بھی کچھ بیان موجود ہے جس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اور ہوتا چلا جا رہا ہے ؟ اگر ہے تو وہ حدیث کہاں ہے اور کس کتاب میں ہے ؟ یہ حدر اور تدویر پڑھنے کی تلقین کہاں سے آئی ہے ؟ اگر آج ” سبح اسم ربک الاعلی “ کے جواب میں ” سبحان رب الاعلی “ نکل جائے تو اس کے لئے کیا فتوی ہے ؟ پھر صرف یہی نہیں بلکہ جن آیات کریمات کے اختتام پر آیت کے ۔۔۔۔۔ پر ” لا “ ڈال دیا گیا ہے وہاں اگر کوئی رک جائے تو اس کو کیا کہا جاتا ہے ؟ اگر کوئی ایک ہی سورت کو یا آیت کو دوبارہ پڑھ دے تو کیا قیامت آجاتی ہے ؟ کیا ہم نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی رسالت ونبوت کو جاری وساری کیا ہوا ہے ؟ جس کی ہدایات کے مطابق عمل پیرا ہیں کیا رسول کی پیروی اسی چیز کا نام ہے ؟ آج ان سارے سوالوں کا آخر جواب کیا ہے ؟ یہی کہ جب لوگ ایسا کر رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ طریقہ وہی صحیح ہے جو سب کر رہے ہیں کتنے بڑے علامہ حضرات ہیں اور نامور قراء حضرات اسی طرح پڑھتے ہیں کی ان میں سے کسی کو بھی یہ بات معلوم نہیں ہے جو یہ کہا جا رہا ہے دراصل ایسا کہنے والوں کی اپنی مت ماری گئی ہے ۔ ان کو تو بس مخالفت کرنا ہے گویا ان کا باوا آدم ہی نرالا ہے ، ساون کے اندھے کو بس ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے یہ اور اس طرح کی کتنی باتیں ہیں جو بنائی جائیں گی لیکن حقیقت کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔
Ayah 17:107اے پیغمبر اسلام ! کہہ دیجئے کہ مانو یا نہ مانو علم والے اس کو ہدایات تسلیم کریں گے :
125۔ علم والے کون ہیں ؟ مذہبی پیشواؤں کے نزدیک علم والے وہ ہیں جو کسی اونچی دینی درسگاہ سے فارغ التحصیل ہوں پھر سارے مکاتب فکر کی اپنی اپنی دینی درسگاہیں ہیں اور ان کے نزدیک عالم بھی وہی ہے جو ان کی دینی درسگاہ کا سند یافتہ بلکہ انعام یافتہ ہو اس کے علاوہ جتنے لوگ کالجوں ‘ یونیورسیٹوں سے فارغ التحصیل ہو کر آتے ہیں سب کے سب جاہل ہیں گویا ڈاکٹر ‘ انجینئر ‘ پروفیسر ‘ پر نسپل سارے شعبوں کے ڈائریکڑ اور سیکرٹری سب کے سب جاہل ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے باقاعدہ جاہلوں کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے جب وہ کٹر جا ہو وں کا نام لینا چاہتے ہیں تو ان ناموں سے دو چار نام پڑھ دیتے ہیں تاکہ لوگ جاہلوں سے متعارف ہوجائیں اس وقت ہمارے ملک میں مذہبی پشواؤں کے نزدیک سب سے زیادہ جاہل بلکہ جہالت کے باپ یا دادا کا نام لینا ہو تو سرفہرست سیداحمد خاں (رح) کا اسم گرامی آئے گا یا علامہ اقبال (رح) پر نظر جم جائے گی ذرا نیچے اتریں گے تو ابو الکلام آزاد (رح) پر نظرے پڑے گی اور ان ان پڑھوں کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ اگر اس کو درج کرنے لگیں تو بیسیوں صفحات کالے کرنے پڑیں گے کیونکہ انہی ان پڑھوں میں مولانا مودودی (رح) امین احسن اصلاحی (رح) ، تمناعمادی (رح) نیاز فتح پوری (رح) اور ڈکٹر اسرار (رح) ، جیسے سارے لوگ باری باری آتے جائیں گے ۔
ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ جب پر صغیر میں سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کا وجود نہیں تھا اس وقت مذہبی اور دینی درسگاہیں فی الواقع نور علم کا منبع تھیں اور انہی درسگاہوں کے نتیجہ میں قوم مسلم کو مالک (رح) ، ابوحنیفہ (رح) ، شافعی (رح) احمد بن حنبل (رح) ، بخاری (رح) ، مسلم ، (رح) ابو داؤد ، (رح) ، ترمذی (رح) ، رازی (رح) ، ابن تیمیہ (رح) ، ابن قیم (رح) ، شاہ عبدالرحیم (رح) ، شاہ ولی اللہ (رح) ، شاہ عبدالقادر (رح) ، شاہ رفیع الدین (رح) ، اور شاہ عبدالغنی (رح) ، جیسے لوگ مہیا ہوئے تھے ، لیکن جب سے مذہبی درس گاہیں تقسیم ہو کر سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نام سامنے آئے ، دینی درسگاہوں نے فرقہ بندی کا لبادہ پہن لیا اور اب درسگاہیں نہیں بلکہ جہالت گاہیں اور فرقہ بندی کی تعلیم گاہیں ہو کر رہ گئیں ۔
لیکن قرآن کریم کی زبان میں جس چیز کا نام ” علم “ رکھا گیا وہ ایک بات کو جان لینے کے بعد اس کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے اور جس علم کے مطابق عمل نہ ہو اس علم کا علم تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کو عین جہالت قرار دیا ۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت بھی کتنے صاحب علم موجود تھے لیکن قرآن کریم نازل ہوا تو جن لوگوں نے اس کلام کو سن کر اپنی اگلی کتابوں کو پیش گوئیوں اور پیش خبریوں کی تصدیق کی وہ صاحب علم قرار دیئے گئے اور جن لوگوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے اسے ماننے اور تسلیم کرنے سے انکار کردیا ان کو جاہل قرار دیا گا ے ہے ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا کہ ” تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ یاد رکھو کہ جو لوگ صاحب علم ہیں ان کے سامنے جب قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو وہ اس کو سمجھ کر کہ یہ کلام فی الواقعہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے عاجزانہ طور پر بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ۔
(اذقان) ” ذقن “ کی جمع ہے اور ذقن ٹھوڑی کو کہتے ہیں اور قرآن کریم میں جزء کا نام لے کر کل مراد لینا عام ہے اس طرح یہاں بھی (ذقن) ٹھوڑی کا نام لے کر سجدہ کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جیسے ہمارے ہاں ناک سے لکیریں نکلوانے کے الفاظ بولے جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص (آیت) ” اوتوالعلم “۔ کا مصداق ہے وہ علم کی بات کے سامنے نفس کی ہوا ہوس آباواجداد کے رسم و رواج اور دوسری معاشرتی اور سماجی اور خاندانی پابندیوں کو چھوڑ دیتا ہے اس کی نگاہ فقط حکم الہی کی پابندی پر لگی ہوتی ہے ، مختصر یہ کہ علم ہمیشہ دلیل چاہتا ہے اور جہالت ضد ‘ ہٹ دھرمی اور بعض وعناد جیسی چیزیں پسند کرتی ہے اس لئے علم اور جہالت کی پہچان تقریبا آسان ہے بشرطیکہ کوئی پہچان کرنا چاہئے ۔
Ayah 17:108سجدہ میں گرنے والوں کی زبان کا ورد کیا ہے ؟ اللہ کی پاکیزگی اور ایفائے عہد کا تذکرہ :
126۔ ایسے لوگ جب سربسجود ہوتے ہیں تو ان کے دلوں اور دماغوں کی آواز اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ ہمارے پروردگار کا وعدہ پوراہو کر رہتا ہے اور ہمارے رب کی ہر بات جھوٹ کی آمیزش سے بالکل پاک ہے ۔ (سبحان ربنا) یعنی ہمارا رب ہر عیب سے پاک ہے ۔ وعدہ خلافی کا اس کے ہاں گزر نہیں ، سو جس کتاب کے نازل کرنے کا وعدہ اس نے جس نبی سے کیا تھا اس کو پورا کردیا ۔ اسلام میں عہد کی پابندی کو لازم اور ضروری قرار دیا گیا اور کہا کہ کسی سے جو وعدہ یا کسی قسم کا قول وقرار کرلیا جائے اس کو پورا کرنا ایک راست باز کا شعار ہے خود اللہ تعالیٰ نے اپنی نسبت یہ بار بار فرمایا کہ :
(آیت) ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ (آل عمران : الرعد)
(آیت) ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ (الزمر)
(آیت) ” انک لا تخلف المیعاد “ (آل عمران)
(آیت) ” وعداللہ لا یخلف اللہ وعدہ “۔ (الروم)
(آیت) ” ولن یخلف اللہ وعدہ “۔ (الحج)
(آیت) ” فلن یخلف اللہ عہدہ “۔ (البقرہ : )
(آیت) ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “۔ (التوبہ)
بس جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے عہد کا پکا ہے اسی طرح اس کے بندوں کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی سے جو وعدہ کریں وہ پورا کریں اور جو قول وقرار کریں اس کے پابند رہیں ۔ سمندر اپنا رخ پھیر دے تو پھیر دے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو ٹل جائے مگر کسی مسلمان کی یہ شان نہ ہو کہ منہ سے جو کہے وہ اس کو پورا نہ کرے اور کسی سے جو قول واقرار کرے اس کا پابند نہ رہے ، لیکن افسوس کہ اب مسلمانوں کی حالت بگڑی اور ہو جس طرح عہد کی پابندی کی اس وقت کوئی پروا نہیں کرتے اس طرح یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ اور عہد کی پابندی آخر کیوں ؟ بھلا زور آور کا بھی کوئی عہد ہوتا ہے ؟ کیا وہ قادر وقدیر نہیں ؟ اس طرح وہ خود تو عہد پورا کرنے سے رہ چکے تھے لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی کسی عہد کا پابند ماننے سے انکار کردیا اس کی تفصیل پیچھے سورة آل عمران کی آیت 9 ، سورة الرعد کی آیت 31 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور آگے سورة الحج کی آیت 48 ‘ سورة الروم کی آیت 6 ‘ سورة الزمر کی آیت 20 میں بھی اس کو دیکھیں ۔