17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور ہم نے کتاب میں (یعنی توراۃ میں) بنی اسرائیل کو اس فیصلہ کی خبر دے دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی پھیلاؤ گے اور بڑی ہی (زبردست) سرکشی کرو گے

6۔ قضینا اے اعلمنا واخبرنا (قرطبی) فرمایا ہم نے بنی اسرائیل کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ان مناجات بےپایاں پر سجدہ ریز ہونے کے بجائے تم شر و فساد کی راہ اختیار کرو گے اور تم کو اس کی پاداش میں دردناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور جس طرح آج ہم ایک قوم کو تمہاری آنکھوں کے سامنے عذاب دے رہے ہیں بالکل دوسروں کی آنکھوں کے سامنے تم بھی اپنے کئے کی سزا پاؤ گے گوش ہوش سے سن لو اور یاد رکھو کہ ہم سارے مفسدوں کو ایک ہی طرح کسی نہ کسی سزا میں مبتلا کردیتے ہیں اور اس طرح اس وقت بنی اسرائیل کا ذکر کرکے قوم مسلم کی متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ کی سنت کبھی بدلا نہیں کرتی ، آنکھوں سے دیکھ لو کہ آج اگر بنی اسرائیل عذاب الہی کی زد میں ہیں تو اپنے اعمال کے نتیجہ میں ہیں اور کل اگر تم نے وہی کام کئے جو وہ کر رہے ہیں تو تمہارے ساتھ بھی وہ کچھ ہوگا اور آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ قوم مسلم کی وہی حالت ہو رہی ہے جو اس وقت قوم بنی اسرائیل کی تھی ۔ قرآن کریم کے اس معجزانہ کلام پر غور کرو کہ جس بات کی بنی اسرائیل کو اطلاع دی فی الواقعہ وہ بیانات آج بھی تورات میں موجود ہیں اور جو بات مسلمانوں کو سمجھائی گئی اس بات میں آج مسلمان من حیث القوم مبتلا ہیں اور جن وجوہ کے باعث بیت المقدس کی پاسبانی یہود کے ہاتھ سے لے کر قوم مسلم کے ہاتھ میں دی گئی تھی آج انہیں وجوہات کے باعث بیت المقدس کی پاسبانی واپس لوٹائی جا رہی ہے اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ بڑے پر فریب انداز سے بیت اللہ کی پاسبانی سے مسلمانوں کو ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن مسلمان ہیں کہ وہ من حیث القوم ایسی گہری نیند میں مبتلا ہیں کہ ان مکاریوں اور فریب کاریوں کی بھنک بھی ان کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہم اللہ ملتجی ہیں کہ اے اللہ ! اے ہمارے رب ! قوم مسلم کے ان شاہوں اور مملکتوں کے سربراہوں کو اس گہری نیند سے جگا دے اور ان سب کو عقل وفکر سے کام لینے کی توفیق عطا فرما اور ان کی مدد کے لئے کوئی غیبی طاقت نازل فرما۔ اب تورات میں اس قرآنی دعوے میں سے چند ایک کو بگوش ہوش سن لو اور عبرت حاصل کرو ، موسیٰ (علیہ السلام) احکام شریعت کی تبلیغ اور ان پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کرنے کے بعد قوم سے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم نے سرکشی کی اور میری حکم عدولی کی تو تم پر سکت عذاب آئے گا چناچہ تورات میں ہے کہ : ” اگر تم ان سب باتوں پر بھی میری نہ سنو اور میرے خلاف ہی چلتے رہو تو میں اپنے غضب سے تمہارے برخلاف چلوں گا اور تمہارے گناہوں کے باعث تم کو سات گنی سزا بھی دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ اور میں تمہاری پرستش کے بلند مقاموں کو ڈھا دوں گا اور تمہاری سورج کی مورتوں کو کاٹ ڈالوں گا اور تمہاری لاشیں تمہارے شکستہ بتوں پر ڈال دوں گا اور میں تمہارے شہروں کو ویران کر ڈالوں گا اور تمہارے مقدسوں کو اجاڑ بنا دوں گا ۔ “ (احبار 26 : 27 تا 31) ” اور جو تم میں سے بچ جائیں گے اور دشمن کے ملکوں میں ہوں گے ان کے دل کے اندر میں بےہمتی پیدا کر دوں گا اور اور اڑتی ہوئی پتی کی آواز ان کو کھدیڑے گی اور وہ ایسے جاگیں گے جیسے کوئی تلوار سے بھاگتاہو اور حالانکہ کوئی پیچھا بھی نہ کرتا ہوگا تو بھی وہ گر پڑیں گے اور وہ تلوار کے خوف سے ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا جائیں گے باوجود اس کے کوئی کھلا پڑتا نہ ہوگا اور تم کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ کی تاب نہ ہوگی اور تم غیر قوموں کے درمیان پراگندہ ہو کر ہلاک ہوجاؤ گے اور تمہارے دشمنوں کی زمین تم کو کھا جائے گی اور تم میں سے جو باقی بچیں گے وہ اپنی بدکاری کے سبب ہلاک ہو جاؤگے اور تمہارے دشمنوں کے ملکوں میں گھلتے رہیں گے اور اپنے باپ دادا کی بدکاری کے سبب سے بھی اور انہی کی طرح گھلتے جائیں گے ۔ “ (احبار 46 : 37 تا 40) ” خداوند دور سے بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے اس قوم کی زبان کو تو نہیں سمجھے گا اس قوم کے لوگ ترش رو ہو گے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ نوجوانوں پر ترس کھائیں گے اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے ۔ “ (استثناء 28 : 49 ‘ 50) ایک جگہ ان کے نافرمان ہونے کی پیش گوئی اس طرح کی گئی : ” تم اپنے قبیلے کے سب بزرگوں اور منصب داروں کو میرے پاس جمع کرو تاکہ میں یہ باتیں ان کانوں میں ڈال دوں اور آسمانوں اور زمین کو ان کے خلاف گواہ بناؤں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تم اپنے کو بگاڑ لو گے اور اس طریق کو جس کا میں نے تم کو حکم دیا ہے پھر جاؤ گے ۔ “ (استثناء 31 : 28 تا 29) ” اور تم یہ گیت اپنے لئے لکھ لو اور تو اسے بنی اسرائیل کو سکھانا اور ان کو حفظ کرا دینا تاکہ یہ گیت بنی اسرائیل کے خلاف میرا گواہ رہے اس لئے کہ جب میں ان کو اس ملک میں جس کی قسم میں نے ان کے باپ دادا سے کھائی اور جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے پہنچا دوں گا اور وہ خوب کھا کھا کر موٹے ہوجائیں گے تب وہ اور معبودوں کی طرف پھرجائیں گے اور انکی عبادت کریں گے اور مجھے حقیر جانیں گے اور میرے عہد کو توڑ ڈالیں گے ۔ “ (استثناء 31 : 20 تا 21) یہ باتیں تو خود موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم بنی اسرائیل سے کہیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جتنے نبی بھی آئے انہوں نے بڑے اثر انگیز پیرایہ میں انہیں آنے والے عذاب سے ڈرایا کبھی حضرت یسعیاعلیہ السلام کے صحیفہ کو دیکھنے کا اتفاق ہو تو بھی اور اگر حضرت یرسیاہ نبی کے صحیفہ پر نظر پڑے تو بھی اس درد وسوز کے گیت آپ کو نظر آئیں گے بلکہ جوں جوں زمانہ قریب آتا گیا ان کے سچے رہنما بےچین اور مضطرب ہوتے گئے ان کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس خوف ناک ہلاکت و بربادی کا وقت قریب آپہنچا ہے ۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن قوم بنی اسرائیل کو جو کچھ کہا گیا وہ عبرت کا باعث ہے خصوصا باب 106 آیت 34 تا 41 تورات میں ایک جگہ اس طرح بیان ہے کہ ” سن اے آسمان اور کان لگا اے زمین ! کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں نے لڑکوں کو پالا اور پوسا پر انہوں نے مجھ سے سرکشی کی ۔ بیل اپنے مالک کو پہچانتا ہے اور گدھا اپنے صاحب کی چرنی کو لیکن بنی اسرائیل نہیں جانتے ، میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے ، آہ خطا کار گروہ ۔ بدکرداری سے لدی ہوئی قوم ‘ بدکرداروں کی نسل ، مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا ، اسرائیل کے قدوس کو حقیر جانا اور گمراہ وبرگشتہ ہوگئے۔ “ (یسعیاہ باب اول : 2 تا 5) ” وفادار بستی کیسی بدکار ہوگئی ! وہ تو انصاف سے معمور تھی اور راست بازی اس میں بستی تھی لیکن اب خونی رہتے ہیں ، تیری چاندی میلی ہوگئی ، تیری قے میں پانی مل گیا ، تیرے سردار گردن کش اور چوروں کے ساتھی ہیں ان میں سے ہر ایک رشوت دوست اور انعام کا طالب ہے ۔ وہ یتیموں کا انصاف نہیں کرتے اور بیواؤں کی فریاد ان تک نہیں پہنچتی ۔ “ (یسعیاہ باب اول : 21 تا 23) یہ قوم بنی اسرائیل کے لوگوں کے اس وقت کے حالات بیان کئے گئے ہیں جب ابھی نبی اعظم وآخر ﷺ کی بعثت بھی نہیں ہوئی تھی اس کے بعد بنی اسرائیل پر عذاب پر عذاب آیا اور پوری قوم کو اس نے تہ وبالا کر کے رکھ دیا لیکن ذرا غور کرو کہ آج اتنی بڑی مدت کے بعد قوم مسلم کے افراد کا کیا حال ہے کیا وہی کچھ آج وہ نہیں کر رہے جو اس وقت قوم بنی اسرائیل کے لوگ کر رہے تھے اگر جواب ہاں میں ہو تو اس بات پر غور کرو کہ آج ہماری قومی پستی کا کیا حال ہے ؟ اور ہمارے مذہبی رہنما اور سیاسی لیڈر کیا کر رہے ہیں ؟ بنی اسرائیل کی اس وقت کی حالت دکھانے کے لئے ہم مزید کوشش کرتے ہیں آپ تورات کے حوالہ جات سمجھ کر ناک بھوں نہ چڑھا دیں کہ اہل حدیث کہلا کر کن حوالہ جات پر اکتفا کرلیا بلکہ بنی اسرائیل کی اس وقت کی حالت کے ساتھ اپنی آج کی قوم مسلم کا موازنہ کرتے جائیے اور جو کچھ سمجھ میں آئے اس کو سمجھ لینے کے بعد اگر چاہیں تو ہماری گوشمالی کرلیں کہ یہ ہم نے کیا غضب ڈھایا تورات واناجیل کے حوالے دینے شروع کردیئے ۔ ” اے یعقوب کے گھرانے آؤ ہم خداوند کی روشنی میں چلیں تو نے اپنے لوگوں یعنی یعقوب کے گھرانے کو ترک اس لئے کہ وہ اہل مشرق کی رسوم سے پر ہیں اور فلسفیوں کی مانند شگون لیتے اور بیگانوں کی اولاد کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں اور ان کا ملک سونے چاندی سے مالا مال ہے اور ان کے خزانوں کی کچھ انتہا نہیں اور ان کا ملک گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے اور ان کے رقبوں کا کچھ شمار نہیں اور ان کی سرزمین بتوں سے بھی پر ہے وہ اپنے ہی ہاتھوں کی صنعت یعنی اپنی ہی انگلیوں کی کاری گری کو سجدہ کرتے ہیں۔ اسی سبب سے چھوٹا آدمی پست کیا جاتا ہے اور بڑا آدمی ذلیل ہوتا ہے اور تو ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ “ (یسعیاہ : 2 : 5 تا 10) ” کیونکہ یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں جو خداوند کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں ، جو غیب بینوں سے کہتے ہیں غیب بنی نہ کرو اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر نہ کرو ۔ ہم کو خوشگوار باتیں سناؤ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو ۔ راہ سے باہر جاؤ ، راستہ سے برگشتہ ہو اور اسرائیل کے قدوس کو ہمارے درمیان سے موقوف کرو ، پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے اور ظلم اور کج روی پر بھروسہ رکھتے اور اس پر قائم ہو اس لئے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے پھٹی ہوئی دیوار جو گرا چاہتی ہے ۔ “ (یسعیاہ 30 : 9 تا 13) ان اقتباسات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضھ اور عیاں ہے کہ مرور وقت کے ساتھ بنی اسرائیل نے شریعت موسوی سے اپنا رشتہ بالکل منقطع کرلیا تھا اور اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا وہ بنی اسرائیل کہلاتے تھے اور شریعت موسوی کے دعویدار تھے لیکن احکام الہی کی پابندی ‘ اخلاق کی بلندی ‘ معاملات میں دیانت وصداقت جس کی تعلیم کلیم اللہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہی دی تھی اور سب سے بڑھ کر اہم عقیدہ توحید جو سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی بعثت کا مقصد اولین تھا ان تمام امور کو انہوں نے یکسر فراموش کردیا تھا اس کا اصل سبب کیا تھا ؟ قوم بنی اسرائیل کے مذہبی راہنما جنہوں نے اپنے پیٹ کی خاطر سارے کا سارا دین بدل کر رکھ دیا اور اخروی نجات کے خود ٹھیکہ دار بن گئے دین میں انہوں نے ایسی ایسی رسومات جاری کردیں جن کی بجا آوری کا نام مذہب رکھ دیا اور آہستہ آہستہ ان شیرازہ بکھرتا ہی گیا ۔
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب ان دو وقتوں میں سے پہلا وقت آگیا تو ہم نے تم پر اپنے ایسے بندے بھیج دیئے جو بڑے ہی خوفناک تھے پس وہ تمہاری آبادیوں کے اندر پھیل گئے اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہا

زیر نظر آیت میں پہلے حملے سے مراد بخت نصر کا حملہ ہے : 7۔ آپ سورة بقرہ میں طالوت کا ذکر پڑھ چکے کہ طالوت نے 1020 قبل مسیح ان کی گرتی ہوئی سلطنت کو سہارا دے کر دوبارہ کھڑا کردیا اور اس کے بعد داؤد (علیہ السلام) 1000 سے 961 قبل مسیح تخت سلطنت پر متمکن ہوئے اور آپ نے اپنے تدبر اور حسن انتظام سے سارے ملک میں امن وامان قائم کیا اس کے بعد ان کے فرزند ارجمند حضرت سلیمان (علیہ السلام) سربراہ حکومت ہوئے آپ کا عہد 961 تا 922 قبل مسیح بنی اسرائیل قبل مسیح بنی اسرائیل کے لئے ایک زریں عہد تھا لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد ہماری اس حکومت کا شیرازہ منتشر ہو گا ے اور یہ دن بدن راہ ہدایت سے دور ہوتے چلے گئے ، ہر عہد کے نبی نے ان کو راہ راست پر لانے کی انتہائی کوشش کی لیکن ان کی حالت پھر بھی دن بدن بگڑتی ہی چلی گئی ، حضرت یسعیاہ ‘ (علیہ السلام) حضرت یرمیاہ عیہہ السلام اور حضرت حزقائیل (علیہ السلام) نے انہیں اپنے اپنے دور میں عذاب الہی سے ڈرایا لیکن یہ اپنی بےروی سے باز نہ آئے اور اسی طرح جب ان کی مہلت کی گھڑیاں ختم ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بابل کے جابر اور سفاک بادشاہوں کے حملوں کی صورت میں ظاہر ہوا 598 اور 599 قبل مسیح بابلیوں نے ان پر حملے کر کے ان کے ملک میں تباہی مچائی اور ان کے بڑے بڑے شہروں کو پیوند خاک کردیا لیکن یہ بدبخت پھر بھی بیدار نہ ہوئے اگست 587 قبل مسیح میں بخت نصر ایک لشکر جرار کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوا اور یہی ان پر پہلا حملہ تھا جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں کیا گیا ۔ بخت نصر نے شہر یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کر کے رکھ دیا بیشمار یہودی بھیڑ بکری کی طرح ذبح کئے گئے جن میں مرد زن ‘ بچے اور بوڑھے ہر طرح کے لوگ تھے ۔ اس نے ان کے شاندار محلات کو جلا خاکستر کا ڈھیر بنا دیا جو یہودی زندہ بچ گئے ان کی زیادہ تعداد کو وہ پابہ زنجیر بابل لے گیا اور وہاں ان کو غلام کی حیثیت سے رکھا گیا اور اپنے لوگوں میں اس نے ان کو تقسیم کردیا ۔ (آیت) ” بعثنا علیکم عبادالنا “۔ سے بلاشبہ مراد سب مفسرین نے بخت نصر اور اس کے لشکر ہی کو لیا ہے اگرچہ وہ کوئی دیندار اور خدا ترس انسان نہ تھا بلکہ نہایت سفاک قسم کا بادشاہ تھا جس نے ظلم وستم کی انتہاکر دی لیکن اس عالم اسباب میں سزا اور غضب الہی کا نفاذ بھی ہمیشہ کسی نہ کسی مخلوق ہی کے ذریعہ اور واسطہ سے طے ہے اور جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنا مقصود ہوتا ہے ان پر ظالم و جابر حکمران مقرر کردیا جاتا ہے اور وہ ان کے سارے ظلم وستم سے بڑھ کر ظلم وستم ڈھانے لگتا ہے اور اس طرح بھی کہ انسان خواہ کتنا ہی ظالم اور سفاک کیوں نہ ہو آخر مخلوق ہے اور پھر مخلوق بھی اللہ تعالیٰ ہی میں سے ہے اس لئے ایسے ظالموں اور فاسقوں کو بھی (آیت) ” عبادالنا “۔ کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے اور اس میں ان لوگوں کے لئے درس عبرت بھی ہے جو معمولی لفظ کے ایر پھیر سے چکر دے کر کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں جیسے ہمارے ہاں ” سید “ ” اہل بیت “ ” آل رسول “ ” اولاد علی “ ” علوی “ ” فاطمی “ اور ” حسینی “ جیسے ناموں کی بحث اٹھائی جاتی ہے اور اس طرح ” عبد ‘ ’ اور ” عبدہ “ کی نسبت سے کچھ کا کچھ بنا دیا جاتا ہے ۔ قرآن کریم کی زبان میں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ۔ جس طرح اس جگہ بخت نصر اور اس کے لشکر کے سارے ظالموں کو (آیت) ” عبادالنا “۔ کہا گیا اس لئے کہ انہوں نے بنی اسرائیل جیسی قوم کے سارے ظلموں پر بیک قلم پانی پھیر دیا اور ان پر وہ ظلم ڈھائے کہ ان ظالموں کے ہوش و حواس خطا ہوگئے اور اس طرح ان کے سارے ظلم اس ظالم نے ملیا میٹ کردیئے ، اس طرح یہاں بعثت سے مراد تشریعی بعثت نہیں محض بعثت مراد ہے اور جو کچھ زیر نظر آیت میں بیان ہوا بالکل اسی طرح کا بیان خود صحیفہ یرمیاہ میں بھی ہے ” یہ خداوند فرماتا ہے تم نے میری نہ سنی تاکہ اپنے ہاتھوں کے کاموں سے اپنی زبان کے لئے مجھے غضب ناک کرو اس لئے رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میری بات نہ سنی دیکھو میں تمام شمالی قبائل کو اور اپنے خدمت گزار شاہ بابل بند کروفر کو بلا بھیجوں گا۔ “ (یرمیاہ 25 : 8 ، 9) اس لئے (آیت) ” عبادالنا “۔ وہی لوگ ہیں جن کو ” اپنے خدمت گزار “ کہا گیا ہے لہذا ان لوگوں کو جو بعثت تکوینی کے طور پر عذاب الہی کے کارندوں کی حیثیت سے ان پر مسلط کئے گئے تھے ان کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ خود بھی مومنین صالحین میں سے ہوں ۔ بخت نصر کی خون آشامی کی داستانیں آج تک صفحات تاریخ میں درج چلی آرہی ہیں اور قرآن کریم نے (آیت) ” فجاسوا خلال الدیار “۔ کہ وہ گھروں میں گھس پڑے کے الفاظ سے وہ سب کچھ کہہ دیا جو بیسیویں صفحات میں بھی نہیں سما سکتا اور یہی وہ اس کلام الہی کا کمال ہے جو کسی دوسرے کلام میں ممکن نہیں ہے یہ کو زے میں دریا بند کرنا نہیں بلکہ پورا سمندر ہی کو زہ میں بند کردینا ہے ۔ فرمایا یہی وہ ہمارا پہلا وعدہ تھا جس کا ہم نے تورات میں بار بار اعلان کیا۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے زمانہ کی گردش تمہارے دشمنوں کے خلاف اور تمہارے موافق کردی اور مال و دولت اور اولاد کی کثرت سے تمہاری مدد کی اور تمہیں ایسا بنا دیا کہ بڑے جتھے والے ہو گئے

8۔ بنی اسرائیل کی پہلی تباہی اور اس کے بعد ان کی دوبارہ حالت کی ذرا درستگی میں ایک مدت خرچ ہوئی اور بخت نصر کی موت کے بعد حالات نے دوبارہ پلٹا کھایا اور بابل کی سلطنت زوال پذیر ہوئی ، سیرس دوم شاہ فارس نے جسے بائبل میں خورس کے نام سے موسوم کیا گیا ہے نے سرایا اور بابل پر 549 قبل مسیح حملہ کیا اور اس کو فتح کرلیا اور فتح کے بعد سب سے پہلا کام جو اس نے سرانجام دیا وہ یہی تھا کہ یہودا کی سلطنت کو بحال کرنے اور یروشلم کے ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فرمان جاری کیا اور بیشمار یہودی جو بابل میں جلا وطنی کی ذلیل زندگی بسر کر رہے تھے انہیں فلسطین واپس جانے کی اجازت دی چناچہ کتاب عزراء میں اس طرح درج ہے کہ : ” اور شاہ فارس خورس کی سلطنت کے پہلے سال میں اس لئے کہ خداوند کا کلام جو یرمیاہ کی زبانی آیا تھا پورا ہو خداوند نے شاہ فارس خورس کا دل ابھارا سو اس نے اپنی مملکت میں منادی کرائی اور اس مضمون کا فرمان بھی لکھا کہ شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشی ہیں اور مجھے تاکید کی ہے کہ میں یروشلم میں جو یہودا میں ہے اس کے لئے ایک مسکن بناؤں ۔ “ (عزراباب اول : 1 تا 3) بنی اسرائیل کے قافلے جب طویل جلاوطنی کے بعد فلسطین واپس پہنچے اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر شروع کی تو وہاں مقامی آبادی نے ان کی مزاحمت کی لیکن جب اول فارس کا بادشاہ بنا تو اس نے حجی نبی کے اصرار پر فرمان صادر کیا کہ منہدم شدہ ہیکل سلیمانی کے مقام پر فورا دوسرا ہیکل تعمیر کیا جائے چناچہ 515 قبل مسیح میں اس ہیکل کی تعمیر کا کام ختم ہوا لیکن اس کے باوجود 445 قبل مسیح تک وہاں کے حالات بنی اسرائیل کے لئے تشویش ناک ہی بنے رہے یہاں تک کہ نحیمہ کی کوششوں سے 445 قبل مسیح شاہ فارس کے حکم سے ایک وفد یروشلم بھیجا گیا اور عزیر (علیہ السلام) کو دین موسوی کی ترویج وتنفیذ کا کام سپرد کردیا گیا آپ نے یروشلم پہنچ کر اپنی مساعی جمیلہ اور خداداد لیاقت سے سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ اصلاح عقائد اور تربیت اخلاق کی نعمت سے ایک بار پھر بنی اسرائیل کو بہرہ اندوز کیا اور اس طرح ایک غم والم کے طویل دور کا خاتمہ ہوا اور بنی اسرائیل کو چین کا سانس لینا نصیب ہوا ۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا صفحات 126۔ 127 ج 17)
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر تم نے بھلائی کے کام کیے تو اپنے ہی لیے کیے اور اگر برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لیے کیں ، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور وہ اسی طرح مسجد میں داخل ہوگئے جس طرح پہلی مرتبہ حملہ آور گھسے تھے اور جو کچھ پایا توڑ پھوڑ کر برباد کر دیا

جب تم نے نیکی کی تو نیکی کا فائدہ بھی حاصل کیا اور برائی کرو گے تو اس کا وبال بھی تم ہی پر ہوگا : 9۔ یہودیوں کی پہلی تباہی جو بخت نصر کے ہاتھوں ہوئی اور یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو انکے علاقے سے نکال کر کئی ایک ملکوں میں تتربتر کردیا اور جو یہودی اپنے علاقہ میں رہ گئے وہ بھی ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بری طرح ذلیل اور پامال ہو کر رہ گئے تھے ۔ زیر نظر آیت کے اس حصہ اول میں بتایا جارہا ہے کہ جب تک تم درست رہے نتیجہ بھی درست رہا لیکن جب تم خراب ہوگئے تو نتیجہ درست کیسے نکل سکتا تھا ؟ اصول خداوندی اپنی جگہ امٹ اور اٹل ہے کہ اگر تم نیکی کرو گے تو اس کی جزاء تم کو ملے گی اور اگر تم برائی کرو گے تو اس کا وبال بھی تم ہی پر ہوگا ۔ گویا پہلی تباہی آئی تو وہ ہماری پیش گوئی اس کو نہیں لائی بلکہ تمہارے اعمال کے نتیجہ میں وہ آئی اور اب دوسری تباہی آئے گی تو وہ بھی تمہارے ہی کرتوتوں سے آئے گی اور یہی کچھ ہوا جو کہا گیا تھا ۔ پہلی تباہی کے بعد یہود کو سنبھل نے کا جو موقع ملا تھا اس سے انہوں نے صرف وقتی فائدہ اٹھایا لیکن وہ فائدہ دیرپا ثابت نہ ہوا کیونکہ ایرانی زوال اور سکندر اعظم کی فتوحات کے بعد یہودیوں کو پھر ایک سخت دھکا لگا اور سکندر کی وفات کے بعد اس کی سلطنت جب تین حصوں میں بٹ گئی تو شام کا علاقہ اس سلجوتی سلطنت کے حصے میں آیا جس کا پایہ تخت انطاکیہ تھا اور اس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198 ق م میں فلسطین پر قبضہ کرلیا یہ یونانی فاتح جو مذہبا مشرک اور اخلاقا اباحیت پسند تھے ، یہودی مذہب کو اور یہودی تہذیب کو سخت ناگوار محسوس کرتے تھے ، انہوں نے اس کے مقابلہ میں سیاسی اور معاشی دباؤ سے یونانی تہذیب کو فروغ دینا شروع کردیا اور خود یہودیوں میں سے ایک اچھا خاصہ عنصر ان کا آلہ کار بن گیا ۔ اس خارجی مداخلت نے یہودی قوم میں تفرقہ ڈال دیا اور ایک گروہ نے یونانی لباس ‘ یونانی زبان ‘ یونانی طرز معاشرت اور یونانی کھیلوں کو اپنا لیا اور دوسرا گروہ اپنی تہذیب پر سختی کے ساتھ قائم رہا ۔ 175 ق م میں انٹیکوس چہارم جس کا لقب ایپی فانیس یعنی مظہر خدا تھا جب تخت نشین ہوا تو اس نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لے کر یہودی مذہب وتہذیب کی بیخ کنی کرنی چاہی اس نے بیت المقدس کے ہیکل میں زبردستی بت رکھوائے اور یہودیوں کو مجبور کیا کہ انکو سجدہ کریں اس نے یہودیوں کی قربان گاہیں بند کرا دیں اور ان کو مشرکانہ قربان گاہوں پر قربانیاں کرنے کا حکم دیا ، اس نے ان سب لوگوں کے لئے سزائے موت مقرر کی جو اپنے گھروں میں تورات کا نسخہ رکھیں یا سبت کے احکام پر عمل کریں یا اپنے بچوں کے ختنے کرائیں ، تاہم یہودی مکمل طور پر اس سے مغلوب نہ ہو سکے اور ان کے اندر ایک زبردست تحریک اٹھی جو تاریخ میں مکابی بغاوت کے نام سے یاد کی جاتی ہے اگرچہ اس کشمکش میں یونانیت زدہ یہودیوں کی ساری ہمداردیاں یونانیوں کے ساتھ تھیں اور انہوں نے عملی طور پر مکابی بغاوت کو کچلنے میں انطاکیہ کے ظالموں کا پورا ساتھ دیا لیکن عام یہودیوں میں عزیر (علیہ السلام) کی پھونکی ہوئی روح کا اتنا زبردست اثر تھا کہ وہ سب مکابیوں کے ساتھ ہوگئے اور انجام کار انہوں نے یونانیوں کو نکال کر اپنی ایک آزاد دینی ریاست قائم کرلی جو 67 ق م تک قائم رہی اس ریاست کے حدود پھیل کر رفتہ رفتہ اس پورے رقبہ پر حاوی ہوگئے جو کبھی یہودیہ اور اسرائیل کی ریاستوں کے زیر نگیں تھے بلکہ فلستیہ کا بھی ایک بڑا حصہ اس کے قبضے میں آگیا جو سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی مسخر نہ ہوا تھا لیکن یہیں سے اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر شروع ہوگیا ۔ اقتدار وزوال کی داستان ہی کچھ اس طرح کی ہے اور اقتدار کے عروج ہی سے اس کا زوال بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ قوم بنی اسرائیل کی دوسری تباہی کا بیان جو پہلی تباہی سے بھی بڑھ کی تھی : 10۔ سیدنا عزیر (علیہ السلام) کی کوششوں سے اصلاح عقائد واخلاق کی جو نئی روح ان میں پھونکی گئی تھی وہ بھی زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوئی اور آپ کے بعد بہت جلد یہ قوم پھر دنیا پرستی ‘ لذت کوشی اور جاہ طلبی کی لعنت میں گرفتار ہوگئی اور مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی ودینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی اور انجام کار ان میں پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دے دی چناچہ پومپی 63 ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کرکے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی رہی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم ونسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعہ سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے اس لئے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک سایہ ایک دیسی ریاست قائم کردی جو بالآخر 40 ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرودنامی کے قبضے میں آئی ، یہ شخص ہیرود اعظم کے نام سے تاریخ میں مشہور ہے اس کی فرمانروائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر 40 ق م سے 4 ق م تک رہی ۔ اس نے ایک مذہبی پیشواؤں کی سرپرستی کرکے یہودیوں کو خوش رکھا اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کرکے قیصر کی خوشنودی حاصل کی ، اس زمانہ میں یہودیوں کی دینی واخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی ، ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ اس کا ایک بیٹا خلاؤس سامریہ یہودیہ اور شمالی ادومیہ کا فرمانروا ہوا مگر 6 ء میں قیصر اگسٹس نے اس کو معزول کرکے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کردی اور 41 ء تک یہی انتظام قائم رہا اور یہی وہ زمانہ تھا کہ مسیح (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے اٹھے اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور رومی گورنر پونتس پیلاٹس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی سرتوڑ کوشش کی اس کا مختصر ذکر عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ میں کیا گیا ہے ۔ ہیرود کا دوسرا بیٹا ہیرود اینٹی پاس شمالی فلسطین کے علاقہ کلیل اور شرق اردن کا مالک ہوا اور یہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا سرقلم کر کے اس کی نذر کیا۔ اس کا تیسرا بیٹا فلپ کوہ حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک تھا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی ویونانی تہذیب میں غرق تھا اس کے علاقے میں کسی کلمہ خیر کے پنپنے کی اتنی گنجائش ہی نہ تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی ۔ 41 عیسوی میں رومیوں نے ہیرود اعظم کے پوتے ہیرود اگر پا کو ان تمام علاقوں کا فرما نروا مان لیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا ، اس شخص نے برسراقتدار آنے کے بعد مسیح (علیہ السلام) کے پیرو وں پر مظالم کی انتہا کردی اور اپنا پورا زور خدا ترسی اور اصلاح اخلاق کی اس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی راہنمائی میں چل رہی تھی ۔ اس دور میں عام یہودیوں اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی جو حالت تھی اس کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے ان تنقیدوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جو مسیح (علیہ السلام) نے اپنے خطبوں میں ان پر کی ہیں اور ان کا ذکر ہم پیچھے کتنے ہی مقام پر کر آئے ہیں اور زیادہ قریب سے دیکھنے کے لئے آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بالکل یہی حالت تھی جو اس وقت ہمارے مذہبی فرقوں کی آپس میں ہے اور خصوصا سواد اعظم کہلانے والے جو کچھ دوسروں کے ساتھ کر رہے ہیں اور خصوصا ان باتوں میں جو سارے مکاتب فکر کے خلاف کہی جائیں اگرچہ وہ کتنی ہی سچی کیوں نہ ہوں اور سارے مکاتب فکر ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی جن نظریات کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے ہوں ، پھر بھی اگر بات واضح نہ ہو تو یہ خیال کرلیا جائے کہ اس قوم کی آنکھوں کے سامنے یحییٰ (علیہ السلام) جیسے پاکیزہ انسان کا سرقلم کیا گیا جس کو وہ اللہ کا نبی بھی مانتے اور تسلیم کرتے تھے لیکن ایک آواز بھی اس ظلم عظیم کے خلاف نہ اٹھ سکی اور پھر پوری قوم کے مذہبی پیشواؤں نے مسیح (علیہ السلام) کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا اور چند معدودے آدمیوں کے سوا کوئی نہ تھا جو اس بدبختی پر ماتم کرتا ۔ حد یہ ہے کہ جب پونتس پیلاطس نے ان شامت زدہ لوگوں سے پوچھا کہ آج تمہاری عید کا دن ہے اور قاعدے کے مطابق میں سزائے موت کے مستحق مجرموں میں سے ایک کو چھوڑ دینے کا مجاز ہوں بتاؤ یسوع کو چھوڑوں یا برابا ڈاکو کو ؟ تو ان کے پورے مجمع نے بیک آواز ہو کر کر کہا کہ برابا کو چھوڑ دے یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری حجت تھی جو اس قوم پر قائم کی گئی ۔ ازیں بعد زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ رومیوں اور یہودیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہوگئی اور 64 سے 66 عیسوی کے درمیان یہودیوں نے کھلی بغاوت کردی ۔ ہیرود اگر پاثانی رومی پر وکیوریٹر فلورس دونوں اس بغاوت کو فرو کرنے میں ناکام رہے اور بالآ 70 عیسوی میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کرلیا اور اس قتل عام میں ایک ڈیڑھ لاکھ یہودی مارے گئے اور پون لاکھ کے قریب گرفتار کر کے غلام بنائے گئے اور ان کی عورتوں کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو فاتح قومیں کرتی آئی ہیں اور ہیکل سلیمانی کو بھی مسمار کرکے پیوند خاک کردیا گیا ۔ اس کے بعد تقریبا دو ہزار برس تک یہودیوں کو سر اٹھانے کا موقع ہی نہ ملا پھر بعد میں قیصر ہیڈ ریان نے یروشلم کو دوبارہ آباد کیا اور اس شہر کا نام یروشلم کی بجائے ایلیا رکھا گیا جس میں مدت ہائے دراز تک یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت ہی نہ تھی ، یہی وہ دوسری سزا تھی جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا اور انکو ان کی پوری تاریخ سے چند الفاظ میں آگاہ کردیا اور بھولی بسری یادیں ان کی آنکھوں کے سامنے آسمان کے تاروں کی طرح صاف صاف دکھا دیں ۔ تعجب ہے کہ آج وہی قوم نصاری جن کے خدا ‘ خدا کا بیٹا اور خدا کا تیسرا جزء تسلیم کئے گئے ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ یہود نے وہ سب کچھ کیا جو وہ اس وقت کرسکتے تھے اور اس اللہ کے بندہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صرف یہی نہیں کہ ماننے اور تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اس کو نعوذ باللہ حلال زادہ ماننے کے لئے بھی تیار نہ ہوئے اور نہ ہی آج تیار ہیں وہ اس قوم کے محافظ ونگہبان بن کر پشت پناہی کے لئے میدان میں ہیں اور مسلمانوں کے لئے آزاد بنے ہوئے ہیں جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی وہی پذیرائی کی جو دوسرے سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی کی بلکہ اس سے بڑھ کر انکے اختراعی عیدمہ (علیہ السلام) کی بےپدری پیدائش کو بھی بالکل اسی طرح تسلیم کرلیا جس طرح وہ کرتے آرہے تھے اور اس سلسلہ میں اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو بھی تجزیہ کرکے دیکھنے کی کوشش نہ کی اور نصاری کی اندھی محبت میں وہ سب کچھ مان لیا جو کتاب وسنت میں بھی موجود نہ تھا۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ وہ وقت یقینا آنے والا ہے جب یہود اپنی عادت کے مطابق عیسائیوں کو شہ رگ سے پکڑیں گے اور ان کے ساتھ وہی سلوک کرنے کی کوشش کریں گے جو اس وقت ان کے آباء و اجداد نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا اس وقت قوم نصاری کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ اپنے کئے پر یقینا پچھتائیں گے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ وقت کب آتا ہے جس کا آنا روز روشن کی طرح یقینی ہے ۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

کچھ عجب نہیں کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم فرمائے لیکن اگر تم پھر سرکشی و فساد کی طرف لوٹے تو ہماری طرف سے بھی پاداش عمل لوٹ آئے گی اور ہم نے منکرین حق کے لیے جہنم کا قید خانہ تیار کر رکھا ہے

جزائے عمل کے متعلق جو کچھ کہا جاسکتا ہے اس آیت میں کہہ دیا گیا ہے : 11۔ زیر نظر آیت کے مختصر الفاظ میں وہ سب کچھ کہہ دیا گیا جو جزائے عمل کے بارے میں کہا جاسکتا ہے فرمایا (آیت) ” ان عدتم عدنا “۔ اگر تم دوبارہ انہی شرارتوں کی طرف لوٹے تو ہم بھی لوٹیں گے ، بلاشبہ بظاہر خطاب یہود ہی سے ہے کیونکہ ان ہی کی حالت کا بیان اس جگہ ہورہا ہے تاہم اصول سارے انسانوں کے لئے ہے جو اس دھرتی کے منہ پر بستے ہیں ان الفاظ سے قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ مطلب بالکل واضح ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی انسان بدعملیوں کی طرف لوٹیں گے تو اللہ کا قانون مکافات بھی پاداش و عقوبت کی طرف لوٹے گا ، جونہی تم نے بڑائی کا رخ کیا نتائج عمل کا قانون بھی پاداش و عقوبت میں سرگرم ہوگیا۔ ” عمل “ اور ” نتیجہ “ دو ایسی لازم ملزوم حقیقتیں ہیں جو کسی حال میں بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں ” نتیجہ “ عمل کا سایہ ہے ۔ جہاں عمل آیا اس کا سایہ بھی ساتھ آگیا ۔ تم نے اچھے عمل کی طرف رخ کیا اور اچھے نتائج بھی تمہاری طرف دیکھے لگے ۔ تم نے برے عمل کی طرف قدم اٹھایا تو ساتھ ہی برے نتائج کے بھی قدم اٹھ گئے ۔ اس راہ میں جتنے بڑھتے جاؤ اور جس قدر بھی غور کرو حقیقت ہر جگہ یہی نظر آئے گی کہ (آیت) ” ان عدتم عدنا “۔ کاش کہ آج قوم مسلم بھی اس حقتقک کو سمجھنے کی کوشش کرتی اور قرآن کریم کی تلاوت کے وقت ان کے پیش نظر بھی یہ اصول ہوتا اور وہ واقعات کو قصہ پارینہ کی طرح نہ پڑھ جاتے بلکہ ان ” ماضی “ کے واقعات سے اپنا ” حال “ درست کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے ۔ اے اللہ ! ہماری حالت پر بھی رحم فرما اور ہمیں قرآن کریم کا مفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرما کہ ہم تیرے اس کلام ” غیرمخلوق “ سے وہ استفادہ حاصل کرسکیں جس کے لئے تو نے اس کو نازل فرمایا ۔ مختصر یہ کہ قوم یہود سے کہا جارہا ہے کہ تمہاری قومی دو ہلاکتیں ہوچکی ہیں اب تیسری مہلت تمہیں ملی ہے یعنی دعوت حق کے ظہور نے رحمت الہی کی بخشائشوں کا دروازہ کھول دیا ہے اگر انکار وسرکشی سے باز آجاؤ تو تمہارے لئے سعادت و کامرانی ہے اور اگر باز نہ آؤ گے تو پھر جس طرح دو مرتبہ نتائج عمل کا قانون اپنی عقوبتیں دکھلا چکا ہے تیسری مرتبہ بھی دکھلائے گا ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا یہودیوں نے جس طرح پہلی دونوں مہلتوں سے فائدہ نہ اٹھایا جو ” ظہور مسیح “ (علیہ السلام) نے انہیں دی تھیں اسی طرح دعوت اسلام سے بھی انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا اور محرومی ونامرادی کی مہر ہمیشہ کے لئے ان کی قسمت پر لگ گئی اس وقت جو انہوں نے سرنکالنا شروع کیا ہے وہ یقینا عیسائیت کے سہارے پر ہے لیکن یہودیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی سہارے کو سہارا نہیں سمجھا بلکہ وہ جس ٹہنی پر بیٹھتے ہیں اس کو کاٹنے کے عادی ہیں اور اب بھی وہ یہی کچھ کریں گے ، قرآن کریم کی روشنی میں یہ ہمارا ایمان ہے تاہم اس بات کا ہمیں اعتراف ہے کہ یہ موقع بھی ان کو اہل اسلام کی بدعملیوں اور ناعقبت اندیشیوں سے میسر آیا ہے ۔ اللہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کا غیبی ہاتھ آگے بڑھ کر ان حالات کو اپنے قابو میں لے لے ، آمین ۔ لیکن افسوس کے کہ اس وقت یعنی نزول قرآن کے وقت یہودیوں کو جو اس طرح کی اصلاحی تقریر کی گئی اس سے انہوں نے سبق حاصل نہ کیا اور ان آیات کے نزول کے فورا ہی بعد مدینے سے نکال باہر کردیا گیا جو ان کی اپنی شرارتوں ہی کے باعث تھا جو وہ اس وقت کر رہے تھے لیکن آج وہی کچھ قوم مسلم کے لیڈر خود کر رہے ہیں اور زمرہ علماء ان شرارتوں میں قوم مسلم کے لیڈروں کے ساتھ برابر کا شریک ہے اس لئے ظاہری طور پر اس کی حالت نہایت مخدوش نظر آتی ہے لیکن قدرت الہی کا غیبی ہاتھ اپنی مایوسیوں کے وقت آگے بڑھتا ہے اور ” سنت اللہ “ کبھی تبدیل نہیں ہوتی ۔
Ayah 17:9

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن اس راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی راہ ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عملی میں سرگرم عمل رہتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ انہیں بہت بڑا اجر ملنے والا ہے

قرآن کریم کی ہدایت ہی صاف اور سیدھی ہدایت ہے بشرطیکہ کوئی حاصل کرنا چاہئے : 12۔ گزشتہ آیت میں فرمایا تھا کہ عجب نہیں پروردگار عالم تم پر رحم فرمائے اگر سرکشی و فساد سے باز آجاؤ اور دعوت حق پر لبیک کہو اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” قرآن کریم ہدایت کی ایسی راہ دکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی راہ ہے اور ان لوگوں کے لئے جو اس راہ پر چلیں ہر طرح کی کامیابیوں کی بشارت ہے ۔ “ قرآن کریم نے اپنے جس قدر اوصاف بیان کئے ہیں ان سب میں جامع ترین وصف یہی ہے کہ زندگی اور سعادت کے ہر گوشہ میں اس کی راہنمائی سیدھی بات کے لئے ہے ۔ کسی طرح کی کجی ‘ کسی طرح کا پیچ وخم کسی طرح کا الجھاؤ ‘ کسی طرح کی افراط وتفریط اس کی راہنمائی میں نہیں ہو سکتی یہی حقیقت دوسری جگہ ” صراط مستقیم “ اور ” دین القیم “ سے تعبیر کی گئی ہے ۔ (اقوم) سے اس طرف اشارہ فرمایا دیا کہ سابق کتب آسمانی کی بتائی ہوئی راہیں بھی اپنی جگہ سیدھی اور واضح ہیں لیکن بہرحال وہ بلوغت انسانیت سے قبل ہیں بلوغت انسانی کے بعد کی سب سے پہلی اور آخر راہ قرآن کریم ہی کی شاہراہ ہے جو کہ مخصوص فرقہ اور گروہ کی راہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی راہ ہے لیکن افسوس کہ اس حقیقت کو سمجھنے کی بہت کم کوشش کی گئی اور صدر اول کے بعد بہت جلد اس کو بھلا دیا گیا۔
Ayah 17:10

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے عذاب دردناک تیار کر رکھا ہے

قرآن کریم کی ہدایت کی طرف رغبت نہ کرنے والے کو سزا کے لئے تیاررہنا چاہئے : 13۔ موت کیا ہے ؟ ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف انتقال ہونے کا نام ہے ، دارفانی سے دارالخلد کی طرف منتقل ہونا موت کہلاتا ہے ۔ جس طرح انسانی زندگی کے حالات اس دنیا میں ایک دوسرے دور سے وابستہ ہیں گویا عالم طفولیت کی بداعتدالیاں عالم شباب میں اپنا اثر دکھاتی ہیں اور اسی طرح عالم شباب کی بداعتدالیاں عالم ضعیفی میں رونما ہوجاتے ہیں بالکل اسی طرح عالم دنیا کی بداعتدالیاں عالم آخرت میں بھی اپنا اثر دکھائیں گی ۔ زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے فرمایا جو شخص ‘ گروہ یا قوم قرآن کریم کی ان تنبیہات اور فہمائشات سے راہ راست کی طرف نہیں آتا اسے اس سزا کے لئے تیار رہنا چاہئے جو بنی اسرائیل دو بار قرآن کریم کے نزول سے قبل بھگت چکے ہیں اور ازیں بعد بھی بار بار بھگتیں گے کیونکہ وہ ان تنبہیات سے سبق حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہود کو یوم آخرت کا انکار تھا لنکن نہ ہونے کے برابر گویا بالکل انکی اس وقت یہی حالت تھی جو اس وقت عالم اسلام کے اور خصوصا اس ملک عزیز پاکستان کے لوگوں کی ہے کہ منہ سے تو اقرار ہے لیکن عملی طور پر مکمل انکار ” الا ماشاء اللہ “ لیکن اس صورت نے نہ ہی یہود کو کچھ فائدہ دیا اور نہ ہی مسلمانوں کو کوئی فائدہ دے گی ۔ جس طرح موت افراد کا معاملہ ہے کہ ایک مرتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ پیدا ہوجاتا ہے قومیں بھی باری باری اس بازیگاہ کے تختہ پر آتی ہیں اور ایک قوم اپنی کھیل ختم کرکے دوسری کے لئے جگہ خالی کر جاتی ہے ، یہ سلسلہ ازل سے قائم ہے اور آج تک چل رہا ہے کہ کائنات جس نظام پر پیدا ہوئی تھی وہ بعینہ قائم ہے اور اس محفل کی جو رونق اول روز تھی وہ اب تک اسی طرح باقی ہے ۔ ہزار شمع بکشتندوانجمن باقی است : لیکن ایک روز ایسا بھی آئے گا جب یہ ساری بساط ہستی الٹ جائے گی کائنات کی یہ مجلسیں درہم برہم ہوجائے گی اور آسمان و زمین کے کرے ٹکرا کر چور چور ہوجائیں گے اور ازیں بعد سب کا کیا ان کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا ایس طرح بداعمال اپنی بداعمالیوں کا پورا پورا حصہ پالیں گے ۔ زیر نظر آیت میں یہی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ” جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے عذاب درد ناک تیار کر رکھا ہے ، “ اس کی تفصیل قرآن کریم نے جگہ جگہ ارشاد فرمایا ہے ۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور جس طرح انسان اپنے لیے بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے اسی طرح (بعض اوقات) برائی بھی مانگنے لگتا ہے اور انسان بڑا ہی جلد باز ہے

انسانی کمزوری کہ وہ بعض اوقات خیر وشر میں امتیاز نہیں کرسکتا : (الانسان) اس جگہ خاص قسم کا انسان ہے جس کو اسلام کی زبان میں ’ کافر “ کہا جاتا ہے ، زیر نظر آیت میں ایسے انسان کی اس کمزوری کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ وہ خیر وشر میں امتیاز نہیں کرتا اور بسا اوقات شر کا اسی طرح طالب ہوجاتا ہے جس طرح اس کو خیر کا خواستگار ہونا چاہئے ، یہ حالت اسے کیوں پیش آتی ہے ؟ اس لئے کہ اس کی طیبعت میں جلدبازی ہے یعنی ایسی خواہشیں ہیں جو فورا پورا ہونا چاہتی ہیں اور جب وہ اس پر چھا جاتی ہیں تو ایک لمحہ کے لئے بھی وہ صبر وانتظار نہیں کرسکتیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اچھائی کی طلب گاری کرتے ہوئے برائیوں کا طلبگار ہوجاتا ہے اور نہیں جانتا کہ اس کی طلبگاری اسے برائیوں کی طرف لے جا رہی ہے ۔ معلوم ہوا کہ اسے ایسی راہنمائی کی ضرورت ہے جو خیر وشر کا امیتاز سکھلائے اور خواہشوں کی ٹھوکروں سے اس کی حفاظت کرے ، یہی راہنمائی ہدایت وحی کی راہنمائی ہے اور اسی طرح انسان کسی ایسی راہنمائی کا بالطبع محتاج ہے ۔ قرآن کریم نے اس کی بہت وضاحت فرمائی ہے کہ اگر تدریج وامہال کی یہ فرصتیں اور بخششیں نہ ہوتیں تو دنیا میں ایک وجود بھی فرصت حیات سے فائدہ نہ اٹھا سکتا ، ہر غلطی ‘ ہر کمزوری ‘ ہر نقصان ‘ ہر فساد اچانک ‘ بیک دفعہ بربادی وہلاکت کا باعث ہوجاتا ۔ چناچہ ارشاد الہی اس طرح ہے کہ : ” اور انسان جو کچھ اپنے اعمال سے کمائی کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ اس پر فورا مواخذہ کرتا تو یقین کرو زمین کی سطح پر ایک جاندار بھی باقی نہ رہتا لیکن اس نے ایک مقررہ وقت تک فرصت حیات دے رکھی ہے البتہ جب وہ مقرر وقت آجائے گا تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ‘ اس کی آنکھیں ہر وقت اور ہر حال میں سب کچھ دیکھ رہی ہیں ۔ “ (فاطر 35 : 45) قدرت نے یہ ڈھیل اچھائی اور برائی دونوں کے لئے رکھی ہے ، اچھائی کے لئے اس لئے تاکہ زیادہ نشو ونما پائے برائی کے لئے اس لئے تاکہ متنبہ اور خبردار ہو کر اصلاح وتلافی کا سامان کرلے ۔ چناچہ ارشاد الہی ہے کہ : ” ان لوگوں کو بھی اور ان لوگوں کو بھی یعنی اچھوں کو بھی اور بروں کو بھی سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش میں سے حصہ مل رہا ہے اور تمہارے پروردگار کی بخشش کسی پر بند نہیں ہے ۔ “ (الکہف 17 : 21) 14۔ انسان اگر ذرا غور وفکر سے کام لے تو وہ خود بخود سمجھ سکتا ہے کہ یہی حال کائنات کے تمام تغیرات وانفعالات کا ہے ، کوئی تغیر ایسا نہیں جو اپنا تدریجی دور نہ رکھتا ہو ، ہرچیز بتدریج بنتی ہے اور اسی طرح بتدریج بگڑتی ہے ، بناؤ ہو یا بگاڑ ممکن نہیں کہ ایک خاص مدت گزرے بغیر کوئی حالت بھی اپنی کامل صورت میں ظاہر سکے ، یہ مدت جو ہر حالت کے ظہور کے لئے اس کی (اجل) یعنی مقررہ وقت ہے مختلف گوشوں اور مختلف حالتوں میں مختلف مقدار رکھتی ہے اور بعض حالتوں میں اس کی مقدار اتنی طویل ہوتی ہے کہ ہم اپنے نظام اوقات سے اس کا حساب بھی نہیں لگا سکتے اس لئے قرآن کریم نے اسے یوں تعبیر کیا ہے کہ جس مدت کو تم اپنے حساب میں ایک دن سمجھتے ہو اگر اس کو ایک ہزار برس یا پچاس ہزار برس تصویر کرلو تو ایسے دنوں سے جو مہینے اور دن ہوں گے انکی مقدار کتنی ہوگی ؟ زیر نظر آیت کفار مکہ کی اس احمقانہ باتوں کا بھی جواب ہے جو وہ بار بار نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ بس لے آؤ وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرایا کرتے ہو ؟ ان کو گویا کہا جا رہا ہے کہ بیوقوفو ! خیر مانگنے کی بجائے عذاب مانگتے ہو ؟ تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب کسی قوم پر آتا ہے تو اس کی کیا گت بنتی ہے ؟ محاورہ ہے ” ’ ایک پنتھ دو کاج “ کفار کو مخاطب فرما کر جو بات کہی گئی ہے اس میں ایک لطیف تنبیہ مسلمانوں کے لئے بھی موجود ہے جو کفار کے ظلم وستم اور ان کی ہٹ دھرمیوں سے تنگ آکر کبھی ان کے حق میں نزول عذاب کی دعا کرنے لگتے تھے حالانکہ ابھی انہی کفار میں کتنے لوگ تھے جن کو ایمان نصیب ہونا تھا اور جنہوں نے اسلام میں بہت کارہائے نمامیاں سرانجام دیتے تھے ۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے رات اور دن کو ایسا بنایا کہ دو نشانیاں ہوگئیں سو رات کی نشانی دھیمی کردی اور دن کی نشانی روشن کردی کہ اپنے پروردگار کا فضل ڈھونڈو نیز برسوں کی گنتی اور حساب بھی معلوم کرلو ، ہم نے ہرچیز کا بیان کھول کھول کر الگ الگ واضح کردیا ہے

رات اور دن نشانات الہی میں سے دو نشانیاں ہیں : 15۔ یہ دن اور رات کیا ہیں ؟ نشانات الہی میں سے دو نشانیاں ہی تو ہیں ۔ حکمت وعرفان کی نظر سے دیکھا جائے تو رات اور دن کے طلوع و غروب میں ‘ ان کی مسلسل پابندیوں میں حکمتوں اور صنعتوں کی ایک دنیا پوشیدہ نظر آئے گی ، قرآن کریم نے تسکین حیات کے مختلف پہلوؤں پر جابجا توجہ دلائی ہے ازاں جملہ کائنات خلقت کے مناظر واشیاء کا اختلاف وتنوع ہے ۔ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ یکسانی سے اکتاتی ہے اور تبدیلی وتنوع میں خوشگواری کی کیفیت محسوس کرتی ہے ۔ پس اگر کائنات ہستی میں محض یسانی دیک رنگی ہی ہوتی تو یہ دلچسپی اور خوش گواری پیدا نہ ہو سکتی جو اس کے ہر گوشہ میں ہمیں نظر آرہی ہے اوقات اختلاف ‘ موسموں کا اختلاف ‘ خشکی وتری کا اختلاف ‘ مناظر طبیعت اور اشیائے خلقت کا اختلاف جہاں بیشمار مصلحتیں اور فوائد رکھتا ہے وہاں ایک بڑی مصلحت دنیا کی زیب وزینت اور معیشت کی تسکین و راحت بھی ہے ۔ گلہائے رنگا سے ہے زینت چمن اے ذوق اس جہاں میں ہے زیب اختلاف سے ۔ چناچہ اس سلسلہ میں وہ رات اور دن کے اختلاف کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر غور کرو تو اس اختلاف میں حکمت الہی کیکتنی ہی نشانیاں پوشیدہ ہیں ۔ یہ بات کہ شب وروز کی آمد وشہ کی دو مختلف حالتیں ٹھہرا دی گئی ہیں اور وقت کی نوعیت ہر معین مقدار کے بعد بدلتی رہتی ہے زندگی کے لئے بڑی ہی تسکین ودل بستگی کا ذریعہ ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا اور وقت ہمیشہ ایک ہی حالت پر برقرار رہتا تو دنیا میں زندہ رہنا دشوار ہوجاتا ۔ اگر تم قطبین کے اطراف میں جاؤ جہاں شب وروز کا اختلاف اپنی نمود نہیں رکھتا تو تمہیں رکھتا تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ یہ اختلاف گزران حیات کے لئے کیسی عظیم الشان نعمت ہے ، قرآن کریم میں ہے کہ : ” بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ایک کے بعد ایک کے آتے رہنے میں ارباب دانش کے لئے حکمت الہی کی بڑی ہی نشانیاں ہیں ۔ “ (آل عمران 3 : 187) رات اور دن کے اختلاف نے معیشت کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے دن کی روشنی جدوجہد کی سرگرمی پیدا کرتی ہے ۔ رات کی تاریکی راحت و سکون کا بستر بچھا دیتی ہے ، ہر دن کی محنت کے بعد رات کا سکون ہوتا ہے اور ہر رات کے سکون کے بعد نئے دن کی نئی سرگرمی ۔ چناچہ ایک جگہ فرمایا : ” اور یہ اس رحمت کی کارسازی ہے کہ تمہارے لئے رات اور دن الگ الگ ٹھہرا دیئے گئے تاکہ رات کے وقت راحت پور اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو ۔ “ (یعنی کاروبار معیشت میں سرگرم ہو) (القصص 28 : 73) رات اور دن کی ترکیب وترتیب اللہ تعالیٰ کی کاریگری کا ثمرہ ہے : 16۔ رات اور دن محض اللہ ٹپ نہیں بلکہ وہ ایک خاص بندھن میں بندھا ہوا ہے پھر رات اور دن کا اختلاف صرف رات اور دن ہی کا اختلاف نہیں ہے بلکہ ہر دن مختلف حالتوں سے گزرتا اور ہر رات مختلف منزلیں طے کرتی ہے اور ہر حالت ایک خاص طرح کی تاثیر رکھتی ہے اور ہر منزل کے لئے ایک خاص طرح کا منظر ہوتا ہے ، صبح طلوع ہوتی ہے اور اس کی ایک خاص تاثیر ہوتی ہے ، دن ڈھلتا ہے اور اس کا ایک خاص منظر ہوتا ہے ، اوقات کا یہ روزانہ اختلاف ہمارے احساسات کا ذائقہ بدلتا رہتا ہے اور یکسانیت کی افسردگی کی جگہ تبدل وتجرد کی لذت اور سرگرمی پیدا ہوتی رہتی ہے ایک جگہ ارشاد الہی اس طرح ہے کہ : ” پس پاکیزگی ہے اللہ کے لئے اور آسمانوں زمین میں اس کے لئے ستائش ہے جب کہ تم پر شام آتی ہے جب تم پر صبح ہوتی ہے اور جب دن کا آخری وقت ہوتا ہے اور جب تم پر دوپہر آتی ہے ۔ “ (الروم 30 : 17) اسی طرح انسان خود اپنے وجود کو دیکھے اور دوسرے تمام حیوانات کو دیکھے ، فطرت نے کس طرح ، طرح طرح کے اختلاف سے اس میں تنوع اور دل پیذیری پیدا کردی ہے ۔ اس وضاحت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اختلاف سے گھبرا کر یکسانی ویک رنگی کے لئے بےچین ہو اس دنیا کا تو سارا کارخانہ ہی اختلاف اور امتیاز اور تنوع کی بدولت چل رہا ہے ۔ دیکھو دن رات کے اختلاف میں کتنی عظیم الشان مصلحتیں موجود ہیں اگر تم پر دائما ایک ہی حالت طاری رہتی تو کیا یہ ہنگاہہ وجود چل سکتا تھا ؟ پس جس طرح تم دیکھ رہے ہو کہ عالم طبیعات میں فرق واختلاف اور امتیاز کے ساتھ بیشمار مصلحتیں وابستہ ہیں اسی طرح انسانی مزاجوں اور خیالات اور رجحانات میں بھی جو فرق و امتیاز پایا جاتا ہے وہ بڑی مصلحتوں کا حامل ہے ، خیر اسی طرح انسانی مزاجوں اور خیالت اور رجحانات میں بھی جو فرق و امتیاز پایا جاتا ہے وہ بڑی مصلحتوں کا حامل ہے ۔ خیر اس میں نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی فوق الفطری مداخلت سے اس کو مٹا کر سب انسانوں کو جبرا نیک اور مومن بنا دے یا کافروں اور فاسقوں کو ہلاک کر کے دنیا میں صرف اہل ایمان وطاعت ہی کو باقی رکھا کرے اس کی خواہش کرنا تو اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ خواہش کرنا کہ صرف دن ہی دن رہا کرے اور رات کی تاریکی کبھی طاری ہی نہ ہو یا زفاف کی رات اتنی لمبی ہوجائے کہ دن کبھی نمایاں ہی نہ ہو ۔ نہیں نہیں ‘ خیروبرکت جس چیز میں ہے وہ یہ ہے کہ ہدایت کی روشنی جن لوگوں کے پاس ہے وہ اسے لے کر ضلالت کی تاریکی دور کرنے کے لئے مسلسل سعی کرتے رہیں اور جب رات کی طرح کوئی تاریکی کا دور آئے تو وہ سورج کی طرح اس کا پیچھا کریں یہاں تک کہ روز روشن نمودار ہوجائے ۔ ہاں ! اس بات کو اچھی طرح رکھنا ہے کہ دن جیسا کہ وہ ہے اور رات جیسی کہ وہ ہے ان کی ترتیب ‘ ترکیب سب کچھ اللہ ہی کی کاریگری کا ثمرہ ہے یہ نہیں کہ یہ محض اتفاق سے خود بخود وجود میں آگئے ہوں یا کسی دیوی دیوتا نے انہیں خلعت وجود سے مشرف کیا ہو اور یہ کہ سورج ہو کہ چاند ‘ دن ہو کہ رات ‘ سب کی خلقت کی غایت انسان کی خدمت ہے نہ یہ کہ انسان ہی الٹی ان کی پرستش میں لگ جائے ۔
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر انسان کی شامت خود اس کی گردن سے باندھ دی ہے قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکال کر پیش کردیں گے وہ اسے اپنے سامنے کھلا دیکھ لے گا

ہر انسان کا عمل اس کے گلے کا ہار ہے جو بطور جزغیر منفک کے لازم ہے ۔ 17۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالم گیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا محض اللہ رب العزت کی خوشنودی اور اس کے قہر وغضب کا نتیجہ ہے اعمال کے نتائج کو اس میں داخل نہیں ۔ الوہیت اور شاہیت کا نشانہ تمام مذہبی تصورات کی طرح اس معاملے میں بھی گمراہی فکر کا موجب ہوا تھا لوگ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام واکرام دینے لگتا ہے کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لئے خیال کرتے تھے کہ اللہ رب العزت کا بھی ایسا ہی حال ہے وہ کبھی ہم سے خوش ہوجاتا ہے کبھی غیظ وغضب میں آجاتا ہے طرح طرح کی قربانیوں اور چڑھادوں کی رسم اس اعتقاد سے پڑی تھی دیوتاؤں کا جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے لئے قربانیاں کرتے اور انکی نظر التفات حاصل کرنے کے لئے نذریں چڑھاتے ، یہودی بہت سے دیوتاؤں کی جگہ خاندان اسرائلت کا ایک خدا مانتے تھے لیکن پرانے دیوتاؤں کی طرح یہ خدا بھی شاہی اور مطلق العنانی کا خدا تھا وہ کبھی خوش ہو کر انہیں ایسی چہیتی قوم بنا لیتا کبھی جوش انتقام میں آکر بربادی وہلاکت کے حوالے کردیتا عیسائیوں کا اعتقاد تھا کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی پوری نسل مغضوب ہوگئی اور جب تک اللہ میاں نے اپنی صفت ابنیت کو بشکل مسحا قربان نہیں کردیا اس کی نسل گناہ اور مغضوبیت کا کفارہ نہ ہوسکا ۔ لیکن قرآن کریم نے جزا وسزا کا اعتقاد ایک دوسری ہی شکل ونوعیت کا پیش کیا ہے وہ اسے اللہ کا کوئی ایسا فعل قرار نہیں دیتا جو کائنات ہستی کے عام قوانین ونظام سے الگ ہو بلکہ اس کا ایک قدرتی گوشہ قرار دیتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ کائنات ہستی کا عالم گیر قانون یہ ہے ہر حالت کوئی نہ کوئی اثر رکھتی ہے اور ہرچیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ ہے ممکن نہیں یہاں کوئی شے اپنا وجود رکھتی ہو اور اثرات ونتائج کے سلسلہ سے باہر ہو پس جس طرح اللہ تعالیٰ نے اجسام ومواد میں خواص ونتائج رکھے ہیں اسی طرح اعمال میں بھی خواص ونتائج ہیں اور جس طرح جسم انسانی کے قدرتی انفعالات ہیں اسی طرح روح انسانی کے لئے بھی قدرتی انفعالات ہیں جسمانی موثرات جسم پر موثر ہوتے ہیں مصنوعی موثرات سے روح متاثر ہوتی ہے اعمال کے یہی قدرتی خواص وانتائج ہیں جنہیں جزا وسزا سے تعبیر کیا گیا ہے اچھے عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور یہ ثواب ہے برے عمل کا نتیجہ برائی ہے اور یہ عذاب ہے ، ثواب و عذاب کے ان اثرات کی نوعیت کیا ہوگی ؟ وحی الہی میں ہماری فہم و استعداد کے مطابق اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے اس نقشہ میں ایک مرقع بہشت کا ہے ، ایک دوزخ کا ، بہشت کے نعائم ان کے لئے ہیں جن کے اعمال بہشتی ہوں گے ، دوزخ کی عقوبتیں ان کے لئے ہیں جن کے اعمال دوزخی ہوں گے ، اس مضمون کو زیر نظر آیت میں اس طرح بیان کیا گیا کہ ہر انسان کی نیک بختی اور بدبختی اور اس کے انجام کی برائی اور بھلائی کے اسباب ووجوہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں ۔ اپنے اوصاف ‘ اپنی سیرت وکردار ‘ اپنی قوت تمیز اور قوت فیصلہ وانتخاب کے استعمال سے وہ خود ہی اپنے آپ کو سعادت کا مستحق بھی بناتا ہے اور شقاوت کا مستحق بھی ۔ ن نادان لوگ اپنی قسمت کے شگون باہر سے لیتے پھرتے ہیں اور ہمیشہ خارجی اسباب ہی کو اپنی بدبختی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا پروانہ خیر وشر ان کے اپنے گلے کا ہار ہے وہ اپنے گریبان میں منہ ڈالیں تو دیکھ لیں کہ جب چیز نے ان کو بگاڑ اور تباہی کے راستے پر ڈالا اور آخرت کار خائب و خاسر بنا کر چھوڑا وہ ان کے اپنے ہی برے اوصاف اور برے فیصلے تھے ‘ نہ یہ کہ باہر سے آکر کوئی چیز زبردستی ان پر مسلط ہوگئی تھی۔ ادہام پرستوں میں آج تک یہ وہم چلے آ رہے ہیں کہ کسی کام کو نکلے ‘ راستہ میں بلی وغیرہ کوئی جانور خود سامنے سے گزرا تو یقین کرلیا کہ یہ کام نہیں ہوگا اور راستہ ہی سے واپس لوٹ آئے ، صبح ہی صبح کسی پرندے کی آواز کانوں میں پڑگئی تو سارا دن طرح طرح کے اندیشوں کی نظرہو جاتا ہے ، زیر نظر آیت میں یہ واضح فرما دیا کہ انسان کی فلاح و خسران کا انحصار طوطے ‘ کوے اور بلی ‘ چوہے پر نہیں بلکہ اسے کے ان اعمال پر ہے جن کو وہ اپنے اختیار سے بجا لاتا ہے وہی اسے سرفراز کرتے ہیں اور وہی اس کی ذلت کا سبب بنتے ہیں وہ اپنے اعمال کے نتائج سے دستگاری حاصل نہیں کرسکتا وہ مکافات عمل کے قانون کو نہیں بدل سکتا اور اس کے اعمال کا رشتہ اتنا گہرا اور مضبوط ہے جیسے کوئی چیز گلے میں لٹک رہی ہو اور وہ اس سے جدا بھی نہ وہ سکتی ہو ” الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ محاورہ عرب میں شدت لزوم اور کمال ربط کے اظہار کے لئے بولا جاتا ہے جیسے اردو زبان میں ” گلے کا ہار ہونا “ بولا جاتا ہے ۔